Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 91–100 of 120

91

إِنَّمَا يُرِيدُ ٱلشَّيْطَٰنُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ ٱلْعَدَٰوَةَ وَٱلْبَغْضَآءَ فِى ٱلْخَمْرِ وَٱلْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ ٱللَّهِ وَعَنِ ٱلصَّلَوٰةِ ۖ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ

شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے سبب تمہارے آپس میں دشمنی اور رنجش ڈلوا دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو تم کو (ان کاموں سے) باز رہنا چاہیئے

اس کے بعد دوسری آیت میں شراب اور جوئے کے دنیوی اور ظاہری مفاسد کا بیان اس طرح فرمایا گیا : - اِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّوْقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاۗءَ ۔ ” یعنی شیطان یہ چاہتا ہے کہ تمہیں شراب اور جوئے میں مبتلا کرکے تمہارے درمیان بغض و عداوت کی بنیادیں ڈال دے “۔- ان آیات کا نزول بھی کچھ ایسے ہی واقعات کے بارے میں ہوا ہے کہ شراب کے نشہ میں ایسی حرکات صادر ہوئیں جو باہمی غیظ و غضب اور پھر جنگ و جدل کا سبب بن گئیں اور یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں تھا بلکہ شراب کے نشہ میں جب آدمی عقل کھو بیٹھتا ہے تو اس سے ایسی حرکات کا صدور لازمی جیسا ہوجاتا ہے۔- اسی طرح جوئے کا معاملہ ہے کہ ہارنے والا اگرچہ اپنی ہار مان کر اس وقت نقصان اٹھا لیتا ہے، مگر اپنے حریف پر غیظ و غضب اور بغض و عداوت اس کے لازمی اثرات میں سے ہے، حضرت قتادہ رحمة اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ بعض عرب کی عادت تھی کہ جوئے میں اپنے اہل و عیال اور مال و سامان سب کو ہرا کر انتہائی رنج و غم کی زندگی گزارتے تھے۔- آخر آیت میں پھر ان چیزوں کی ایک اور خرابی ان الفاظ میں ارشاد فرمائی : وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَعَنِ الصَّلٰوةِ ۔ ” یعنی یہ چیزیں تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے غافل کردیتی ہیں “۔- یہ خرابی روحانی اور اخروی خرابی ہے، جس کو دنیوی خرابی کے بعد مکرر ذکر فرماتے ہیں، اس میں اشارہ ہوسکتا ہے کہ اصل قابل نظر اور قابل فکر وہ زندگی ہے جو ہمیشہ رہنے والی ہے، عقل مند کے نزدیک اسی کی خوبی مطلوب و مرغوب ہونی چاہئے، اور اسی کی خرابی سے ڈرنا چاہئے، دنیا کی چند روزہ زندگی کی خوبی نہ کوئی قابل فخر چیز ہے، نہ خرابی زیادہ قابل رنج و غم ہے، کہ اس کی دونوں حالتیں چند روز میں ختم ہوجانے والی ہیں - دوران بقا چو باد صحرا بگذشت - تلخی و خوشی وزشت و زیبا بگذشت - اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ذکر اللہ اور نماز سے غفلت یہ دنیا و آخرت اور جسم و روح دونوں کے لئے مضر ہے، آخرت اور روح کے لئے مضر ہونا تو ظاہر ہے کہ اللہ سے غافل، بےنماز کی آخرت تباہ اور روح مردہ ہے، اور ذرا غور سے دیکھا جائے تو اللہ سے غافل کی دنیا بھی وبال جان ہوتی ہے کہ جب اللہ سے غافل ہو کر اس کا انتہائی مقصود مال و دولت اور عزت و جاہ ہوجائے تو وہ اتنے بکھیڑے اپنے ساتھ لاتے ہیں کہ وہ خود ایک مستقل غم ہوتے ہیں جس میں مبتلا ہو کر انسان اپنے مقصود المقاصد یعنی راحت و آرام اور اطمینان و سکون سے محروم ہوجاتا ہے، اور ان اسباب راحت میں ایسا مست ہوجاتا ہے کہ خود راحت کو بھی بھول جاتا ہے، اور اگر کسی وقت یہ مال و دولت یا عزت و جاہ جاتے رہیں یا ان میں کمی آجائے تو ان کے غم اور رنج کی انتہاء نہیں رہتی، غرض یہ خالص دنیا دار انسان دونوں حالتوں میں رنج و فکر اور غم واندوہ میں گھرا رہتا ہے، - اگر دنیا نباشد درد مندیم - وگرباشد بمہرش پائے بندیم - بخلاف اس شخص کے جس کا دل اللہ کی یاد سے روشن اور نور نماز سے منوّر ہے، دنیا کے مال و منال اور جاہ و منصب اس کے قدموں پر گرتے ہیں، اور ان کی صحیح راحت و آرام پہنچاتے ہیں، اور اگر یہ چیزیں جاتی رہیں تو ان کے قلوب اس سے متا ثر نہیں ہوتے، ان کا یہ حال ہوتا ہے کہ - نہ شادی داد سامانے نہ غم آورد نقصانے - بہ پیش ہمت ما ہرچہ آمد بود مہمانے - خلاصہ یہ ہے کہ ذکر اللہ اور نماز سے غفلت اگر غور دیکھا جائے تو اخروی اور دنیوی دونوں طرح کی خرابی ہے، اس لئے ممکن ہے کہ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ سے خالص اخروی اور روحانی مضرت بیان کرنا مقصود ہو، اور اَنْ يُّوْقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاۗءَ سے خالص دنیوی اور جسمانی خرابی بتلانا ہو، اور وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَعَنِ الصَّلٰوةِ سے دین و دنیا کی مشترک تباہی و بربادی کا ذکر کرنا مقصود ہو۔ - یہاں یہ …

Al-Maaida 5:91Listen in Qur'an →
92

وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ وَٱحْذَرُوا۟ ۚ فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَا عَلَىٰ رَسُولِنَا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ

اور خدا کی فرمانبرداری اور رسولِ (خدا) کی اطاعت کرتے رہو اور ڈرتے رہو اگر منہ پھیرو گے تو جان رکھو کہ ہمارے پیغمبر کے ذمے تو صرف پیغام کا کھول کر پہنچا دینا ہے

تیسری آیت میں اس حکم کو آسان کرنے اور اس پر عمل کو سہل بنانے کے لئے قرآن کریم نے اپنے خاص اسلوب بیان کے تحت ارشاد فرمایا :- وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاحْذَرُوْا۔- جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کا حکم تمہارے فائدہ کے لئے ہے، اگر تم نہ مانو تو نہ اللہ جل شانہ کا کوئی نقصان ہے نہ اس کے رسول کا، اللہ تعالیٰ کا اس نفع و نقصان سے بالاتر ہونا تا ظاہر تھا، رسول کے متعلق کسی کو یہ خیال ہوسکتا تھا کہ جب ان کی بات نہ مانی گئی تو ان کے اجر وثواب یا قدر ومنزلت میں شاید کچھ فرق آجائے، اس شبہ کے ازالہ کے لئے ارشاد فرمایا : فَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَا عَلٰي رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ ، یعنی اگر تم میں سے کوئی بھی ہمارے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات نہ مانے جب بھی اس کی قدرومنزلت میں کوئی فرق نہیں آتا، کیونکہ جتنا کام ان کے سپرد تھا وہ کرچکے، یعنی صاف صاف طور پر واضح کرکے اللہ تعالیٰ کے احکام پہنچا دینا، اس کے بعد جو شخص نہیں مانتا وہ اپنا نقصان کرتا ہے ہمارے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اس سے کچھ نہیں بگڑتا۔

Al-Maaida 5:92Listen in Qur'an →
93

لَيْسَ عَلَى ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ جُنَاحٌۭ فِيمَا طَعِمُوٓا۟ إِذَا مَا ٱتَّقَوا۟ وَّءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ ثُمَّ ٱتَّقَوا۟ وَّءَامَنُوا۟ ثُمَّ ٱتَّقَوا۟ وَّأَحْسَنُوا۟ ۗ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلْمُحْسِنِينَ

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان پر ان چیزوں کا کچھ گناہ نہیں جو وہ کھا چکے جب کہ انہوں نے پرہیز کیا اور ایمان لائے اور نیک کام کیے پھر پرہیز کیا اور ایمان لائے پھر پرہیز کیا اور نیکو کاری کی اور خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے

ربط آیات - لباب میں مسند احمد سے بروایت ابی ہریرہ (رض) منقول ہے کہ جب اوپر کی آیت میں تحریم خمرو میسر نازل ہوچکی تو بعض لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہت سے آدمی جو کہ شراب پیتے تھے اور قمار کا مال کھاتے تھے تحریم سے پہلے مر گئے، اور اب معلوم ہوا کہ وہ حرام ہے ان کا کیا حال ہوگا، اس پر آیت ليْسَ عَلَي الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا الخ نازل ہوئی۔- اور پیچھے (آیت) یایھا الذین امنوا لا تحرموا طیبت میں تحریم طیبات کی ممانعت کا ذکر تھا، اب آیت يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَيْء الخ سے بیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ خاص حالات میں خاص خاص چیزوں کو حرام قرار دیدیں (بیان القرآن) ۔- خلاصہ تفسیر - ایسے لوگوں پر جو ایمان رکھتے ہوں اور نیک کام کرتے ہوں اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جس کو وہ کھاتے پیتے ہوں (اور اس وقت وہ حلال ہوگی بعد میں حرام ہوجاوے اور ان کو گناہ کیسے ہوتا) جبکہ (گناہ کا کوئی امر مقتضی نہ ہو بلکہ ایک امر مانع موجود ہو وہ یہ کہ) وہ لوگ (خدا کے خوف سے اس وقت کی ناجائز چیزوں سے) پرہیز رکھتے ہوں اور (دلیل اس خوف کی یہ ہو کہ وہ لوگ) ایمان رکھتے ہوں (جو کہ خدا سے ڈرنے کا سبب ہے) اور نیک کام کرتے ہوں (جو کہ خوف خدا کی علامت ہے، اور اسی حالت پر وہ عمر بھر رہیں، چناچہ اگر وہ حلال چیز جس کو پہلے کھاتے پیتے تھے آگے کبھی چل کر حرام ہوجائے تو) پھر (اسے سے بھی اسی خوف خدا کے سبب) پرہیز کرنے لگتے ہوں اور (اس خوف کی بھی دلیل مثل سابق یہی ہو کہ وہ لوگ) ایمان رکھتے ہوں اور خوب نیک عمل کرتے ہوں ( جو کہ موقوف ہیں ایمان پر، پس یہاں بھی سبب اور علامت خوف خدا کے مجتمع ہیں، مطلب یہ کہ ہر بار کی مکرر سہ کرّر تحریم میں ان کا یہی عمل درآمد ہو کچھ دو تین بار کی خصوصیت نہیں، پس باوجود مانع اور استمرار مانع کے ہمارے فضل سے بعید ہے کہ وہ گناہ گار ہوں) اور (ان کی یہ خاص طریقہ مذکور کی نیکوکاری صرف لزوم گناہ سے مانع ہی نہیں بلکہ وجود ثواب و محبوبیت کو مقتضی بھی ہے، کیونکہ) اللہ تعالیٰ ایسے نیکوکاروں سے محبت رکھتے ہیں (پس ان میں مبغوض ہونے کا احتمال تو کب ہوسکتا ہے، یہ تو غیر مبغوض ہونے سے گزر کر محبوب ہونے کا درجہ رکھتے ہیں) ۔- اے ایمان والو اللہ تعالیٰ قدرے شکار سے تمہارا امتحان کرے گا جن تک (بوجہ تم سے دور دور نہ بھاگنے کے) تمہارے ہاتھ اور تمہارے نیزے پہنچ سکیں گے (مطلب امتحان کا یہ کہ حالت احرام میں وحوش کے شکار کرنے کو تم پر حرام کر کے جیسا آگے تصریحاً آتا ہے ان وحوش کو تمہارے آس پاس پھراتے رہیں گے) تاکہ اللہ تعالیٰ (ظاہر طور پر بھی) معلوم کرے کہ کون شخص اس (حرمت) کے بعد (جس پر ابتلاء بھی دلالت کر رہا ہے) حدّ (شرعی) سے نکلے گا (یعنی شکار ممنوع کا مرتکب ہوگا) اس کے واسطے دردناک سزا (مقرر) ہے (چنانچہ شکاری جانور اسی طرح آس پاس لگے پھرتے تھے، چونکہ صحابہ میں بہت سے شکار کے عادی تھے اس میں ان کی اطاعت کا امتحان ہو رہا تھا، جس میں وہ پورے اترے، آگے ممانعت کی زیادہ تصریح ہے کہ) اے ایمان والو وحشی شکار کو (باستثناء ان کے کہ جن کو شرع نے مستثنیٰ کردیا) قتل مت کرو، جبکہ تم حالت احرام میں ہو (اسی طرح جبکہ وہ شکار حرم میں ہو گو شکاری احرام میں نہ ہو اس کا بھی یہی حکم ہے) اور جو شخص تم میں اس کو جان بوجھ کر قتل کرے گا تو اس پر (اس کے فعل کی) پاداش واجب ہوگی جو کہ (باعتبار قیمت کے) مساوی ہوگی اس جانور کے جس کو اس نے قتل کیا ہے جس (کے تخمینہ) کا فیصلہ تم میں سے دو معتبر شخص کردیں (کہ دینداری میں بھی قابل اعتبار ہوں، اور تجربہ و بصیرت میں بھی، پھر اس قاتل کو تخمینہ قیمت کے بعد اختیار ہے) خواہ (اس قیمت کا کوئی ایسا جانور خرید لے کہ) وہ پاداش (کا جانور) خاص چوپاؤں میں سے ہو (یعنی اونٹ، گائے، بھینس، …

Al-Maaida 5:93Listen in Qur'an →
94

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَيَبْلُوَنَّكُمُ ٱللَّهُ بِشَىْءٍۢ مِّنَ ٱلصَّيْدِ تَنَالُهُۥٓ أَيْدِيكُمْ وَرِمَاحُكُمْ لِيَعْلَمَ ٱللَّهُ مَن يَخَافُهُۥ بِٱلْغَيْبِ ۚ فَمَنِ ٱعْتَدَىٰ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَلَهُۥ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

مومنو! کسی قدر شکار سے جن کو تم ہاتھوں اور نیزوں سے پکڑ سکو خدا تمہاری آزمائش کرے گا (یعنی حالت احرام میں شکار کی ممانعت سے) تا کہ معلوم کرے کہ اس سے غائبانہ کون ڈرتا ہے تو جو اس کے بعد زیادتی کرے اس کے لیے دکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے

Explained together with ayah 93

Al-Maaida 5:94Listen in Qur'an →
95

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَقْتُلُوا۟ ٱلصَّيْدَ وَأَنتُمْ حُرُمٌۭ ۚ وَمَن قَتَلَهُۥ مِنكُم مُّتَعَمِّدًۭا فَجَزَآءٌۭ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ ٱلنَّعَمِ يَحْكُمُ بِهِۦ ذَوَا عَدْلٍۢ مِّنكُمْ هَدْيًۢا بَٰلِغَ ٱلْكَعْبَةِ أَوْ كَفَّٰرَةٌۭ طَعَامُ مَسَٰكِينَ أَوْ عَدْلُ ذَٰلِكَ صِيَامًۭا لِّيَذُوقَ وَبَالَ أَمْرِهِۦ ۗ عَفَا ٱللَّهُ عَمَّا سَلَفَ ۚ وَمَنْ عَادَ فَيَنتَقِمُ ٱللَّهُ مِنْهُ ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌۭ ذُو ٱنتِقَامٍ

مومنو! جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار نہ مارنا اور جو تم میں سے جان بوجھ کر اسے مارے تو (یا تو اس کا) بدلہ (دے اور وہ یہ ہے کہ) اسی طرح کا چارپایہ جسے تم میں دو معتبر شخص مقرر کردیں قربانی (کرے اور یہ قربانی) کعبے پہنچائی جائے یا کفارہ (دے اور وہ) مسکینوں کو کھانا کھلانا (ہے) یا اس کے برابر روزے رکھے تاکہ اپنے کام کی سزا (کا مزہ) چکھے (اور) جو پہلے ہو چکا وہ خدا نے معاف کر دیا اور جو پھر (ایسا کام) کرے گا تو خدا اس سے انتقام لے گا اور خدا غالب اور انتقام لینے والا ہے

Explained together with ayah 93

Al-Maaida 5:95Listen in Qur'an →
96

أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ ٱلْبَحْرِ وَطَعَامُهُۥ مَتَٰعًۭا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ ۖ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ ٱلْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًۭا ۗ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ٱلَّذِىٓ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

تمہارے لیے دریا (کی چیزوں) کا شکار اور ان کا کھانا حلال کر دیا گیا ہے (یعنی) تمہارے اور مسافروں کے فائدے کے لیے اور جنگل (کی چیزوں) کا شکار جب تک تم احرام کی حالت میں رہو تم پر حرام ہے اور خدا سے جس کے پاس تم (سب) جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہو

Explained together with ayah 93

Al-Maaida 5:96Listen in Qur'an →
97

۞ جَعَلَ ٱللَّهُ ٱلْكَعْبَةَ ٱلْبَيْتَ ٱلْحَرَامَ قِيَٰمًۭا لِّلنَّاسِ وَٱلشَّهْرَ ٱلْحَرَامَ وَٱلْهَدْىَ وَٱلْقَلَٰٓئِدَ ۚ ذَٰلِكَ لِتَعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ وَأَنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ

خدا نے عزت کے گھر (یعنی) کعبے کو لوگوں کے لیے موجب امن مقرر فرمایا ہے اور عزت کے مہینوں کو اور قربانی کو اور ان جانوروں کو جن کے گلے میں پٹے بندھے ہوں یہ اس لیے کہ تم جان لو کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے خدا سب کو جانتا ہے اور یہ کہ خدا کو ہر چیز کا علم ہے

خلاصہ تفسیر - خدا تعالیٰ نے کعبہ کو جو کہ ادب کا مکان ہے، لوگوں (کی مصلحتوں) کے قائم رہنے کا سبب قرار دے دیا ہے اور (اسی طرح) عزت والے مہینہ کو بھی اور (اسی طرح) حرم میں قربانی ہونے والے جانور کو بھی اور (اسی طرح) ان جانوروں کو بھی جن کے گلے میں (اس نشانی کے لئے) پٹے ہوں (کہ یہ اللہ کی نیاز ہیں حرم میں ذبح ہوں گے) یہ (قرارداد علاوہ اور دنیوی مصلحتوں کے) اس (دینی مصلحت کے) لئے (بھی) ہے تاکہ (تمہارا اعتقاد درست اور پختہ ہو اس طرح سے کہ تم ان مصالح سے استدلال کرکے) اس بات کا یقین (ابتدائً یا کمالاً ) کرلو کہ بیشک اللہ تعالیٰ تمام آسمانوں اور زمین کے اندر کی چیزوں کا علم (کامل) رکھتے ہیں (کیونکہ ایسا حکم مقرر کرنا جس میں آئندہ کے ایسے مصالح مرعی ہوں کہ عقول بشریہ ان کو نہ سوچ سکیں دلیل ہے کمال صفت علمیہ کی) اور (ان معلومات مذکورہ کے ساتھ تعلق علم کامل سے استدلال کرکے یقین کر لو کہ) بیشک اللہ تعالیٰ سب چیزوں کو خوب جانتے ہیں، (کیونکہ ان معلومات کے علم پر کسی چیز نے مطلع نہیں کیا، معلوم ہوا کہ علم ذاتی کی نسبت جمیع معلوم کے ساتھ یکساں ہوتی ہے) تم یقین سے جان لو کہ اللہ تعالیٰ سزا بھی سخت دینے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت اور رحمت والے بھی ہیں (تو ان کے احکام کی خلاف مت کیا کرو اور جو احیاناً ہوگیا ہو، موافق قواعد شرعیہ کے توبہ کرلو) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمہ تو صرف پہنچانا ہے، (سو وہ خوب پہنچا چکے اب تمہارے پاس کوئی عذر و حیلہ نہیں رہا) اور اللہ تعالیٰ سب جانتے ہیں جو کچھ تم (زبان یا جوارح سے) ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ (دل میں) پوشیدہ رکھتے ہو (سو تم کو چاہیے کہ اطاعت ظاہر و باطن دونوں سے کرو) آپ (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے یہ بھی) فرما دیجئے کہ ناپاک اور پاک (یعنی گناہ اور اطاعت یا گناہ کرنے والا اور اطاعت کرنے والا) برابر نہیں، (بلکہ خبیث مبغوض ہے اور طیب مقبول ہے، پس اطاعت کرکے مقبول بننا چاہئے، معصیت کرکے مبغوض نہ ہونا چاہئے، اگرچہ اے دیکھنے والے) تجھ کو ناپاک کی کثرت (جیسا اکثر دنیا میں یہی واقع ہوتا ہے) تعجب میں ڈالتی ہو (کہ باوجود ناپسندیدہ ہونے کے یہ کثیر کیوں ہے، مگر یہ سمجھ لو کہ کثرت جو کسی حکمت سے ہے دلیل محمود ہونے کی نہیں، جب کثرت پر مدار نہیں یا یہ کہ جب اللہ تعالیٰ کے علم و عقاب پر بھی مطلع ہوگئے) تو (اس کو مت دیکھو بلکہ) خدا تعالیٰ (کے خلاف حکم کرنے) سے ڈرتے رہو تاکہ تم (پورے طور سے) کامیاب ہو (کہ وہ جنت اور رضائے حق ہے)- معارف و مسائل - امن و اطمینان کے چار ذرائع - پہلی آیت میں حق تعالیٰ نے چار چیزوں کو لوگوں کے قیام وبقاء اور امن و اطمینان کا سبب بتلایا ہے۔- اول کعبہ، لفظ کعبہ عربی زبان میں ایسے مکان کو کہتے ہیں جو مربع یعنی چوکور ہو، عرب میں قبیلہ خثعم کا بنایا ہوا ایک اور مکان بھی اسی نام سے موسوم تھا، جس کو کعبہ یمانیہ کہا جاتا تھا، اسی لئے بیت اللہ کو اس کعبہ سے ممتاز کرنے کے لئے لفظ کعبہ کے ساتھ البیت الحرام کا لفظ بڑھایا گیا۔- لفظ قیام اور قوام اسم مصدر ہے، اس چیز کو کہا جاتا ہے جس پر کسی چیز کا قیام وبقاء موقوف ہو، اس لئے قیمٰاً للناس کے معنے یہ ہوئے کہ کعبہ اور اس کے متعلقات لوگوں کے قیام وبقاء کا سبب اور ذریعہ ہیں۔- اور لفظ ناس لغت میں عام انسانوں کے لئے بولا جاتا ہے، اس جگہ قرینہ مقام کی وجہ سے خاص مکہ والے یا اہل عرب بھی مراد ہوسکتے ہیں اور عام دنیا کے انسان بھی، اور ظاہر یہی ہے کہ پورے عالم کے انسان اس میں داخل ہیں، البتہ مکہ اور عرب والے ایک خاص خصوصیت رکھتے ہیں، اس لئے مطلب آیت کا یہ ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے کعبہ بیت اللہ اور جن چیزوں کا ذکر آگے آتا ہے، ان کو پورے عالم انسانیت کے لئے قیام وبقاء اور امن و سکون کا ذریعہ بنادیا ہے، جب تک دنیا کا ہر ملک، ہر خطہ اور ہر سمت کے …

Al-Maaida 5:97Listen in Qur'an →
98

ٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ وَأَنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

جان رکھو کہ خدا سخت غداب دینے والا ہے اور یہ کہ خدا بخشنے والا مہربان بھی ہے

دوسری آیت میں ارشاد فرمایا گیا اِعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ وَاَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ، یعنی ” سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ سخت عذاب والے ہیں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ بہت مغفرت کرنے والے رحم فرمانے والے ہیں “۔ اس میں بتلا دیا کہ جو احکام حلال و حرام کردیئے گئے ہیں، وہ عین حکمت و مصلحت ہیں، ان کی تعمیل ہی میں تمہارے لئے خیر ہے، ان کی خلاف ورزی سخت وبال و عذاب ہے، ساتھ ہی یہ بھی بتلا دیا کہ انسانی بھول اور غفلت سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو اللہ تعالیٰ فوراً عذاب نہیں دیتے، بلکہ توبہ کرنے والوں اور شرمندہ ہونے والوں کے لئے مغفرت کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔

Al-Maaida 5:98Listen in Qur'an →
99

مَّا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ۗ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَكْتُمُونَ

پیغمبر کے ذمے تو صرف پیغام خدا کا پہنچا دینا ہے اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ مخفی کرتے ہو خدا کو سب معلوم ہے

تیسری آیت میں ارشاد فرمایا : مَا عَلَي الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ ، یعنی ” ہمارے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذمہ تو اتنا ہی کام ہے کہ ہمارے احکام مخلوق کو پہنچادیں، پھر وہ مانیں نہ مانیں اس کا نفع و ضرر انہی کو پہنچتا ہے، ان کی نافرمانی سے ہمارے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کچھ نقصان نہیں، اور یہ بھی سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ کو کوئی فریب نہیں دیا جاسکتا، وہ تمہارے ظاہر و باطن اور کھلے اور چھپے ہر کام سے واقف ہیں۔

Al-Maaida 5:99Listen in Qur'an →
100

قُل لَّا يَسْتَوِى ٱلْخَبِيثُ وَٱلطَّيِّبُ وَلَوْ أَعْجَبَكَ كَثْرَةُ ٱلْخَبِيثِ ۚ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ يَٰٓأُو۟لِى ٱلْأَلْبَٰبِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

کہہ دو کہ ناپاک چیزیں اور پاک چیزیں برابر نہیں ہوتیں گو ناپاک چیزوں کی کثرت تمہیں خوش ہی لگے تو عقل والو خدا سے ڈرتے رہو تاکہ رستگاری حاصل کرو

چوتھی آیت میں ارشاد فرمایا : قُلْ لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيْثُ وَالطَّيِّبُ ، عربی زبان میں طیّب اور خبیث دو متقابل لفظ ہیں، طیّب ہر چیز کے عمدہ اور جیّد کو اور خبیث ہر چیز کے ردی اور خراب کو کہا جاتا ہے، اس آیت میں اکثر مفسرین کے نزدیک خبیث سے مراد حرام یا ناپاک ہے، اور طیّب سے مراد حلال اور پاک، معنی آیت کے یہ ہوگئے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بلکہ ہر عقل سلیم کے نزدیک پاک و ناپاک یا حلال و حرام برابر نہیں ہوسکتے۔- اس جگہ لفظ خبیث اور طیّب اپنے عموم کے اعتبار سے حرام و حلال مال و دولت کو بھی شامل ہے، اور اچھے برے انسانوں کو بھی، اور بھلے برے اعمال و اخلاق کو بھی، مطلب آیت کا واضح ہے کہ کسی عقل سلیم کے نزدیک نیک و بد اور بھلا برا برابر نہیں ہوتا اسی فطری قانون کے مطابق اللہ تعالیٰ کے نزدیک حلال و حرام یا پاک و ناپاک چیزیں برابر نہیں اسی طرح اچھے اور برے اعمال و اخلاق برابر نہیں، اسی طرح نیک و بد انسان برابر نہیں۔- آگے ارشاد فرمایا وَلَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِيْثِ ، یعنی اگرچہ دیکھنے والوں کو بعض اوقات خراب اور خبیث چیزوں کی کثرت مرعوب کردیتی ہے، اور گردوپیش میں خبیث و خراب چیزوں کے پھیل جانے اور غالب آجانے کے سبب انہی کو اچھا سمجھنے لگتے ہیں، مگر یہ انسانی علم و شعور کی بیماری اور احساس کا قصور ہوتا ہے۔- آیت کا شان نزول - آیت کے شان نزول کے متعلق بعض روایات میں ہے کہ جب اسلام میں شراب کو حرام اور اس کی خریدو فروخت کو بھی ممنوع قرار دے دیا گیا تو ایک شخص نے جس کا کاروبار شراب فروشی کا تھا، اور اس ذریعہ سے اس نے کچھ مال جمع کر رکھا تھا، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا، کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ مال جو شراب کی تجارت سے میرے پاس جمع ہوا ہے اگر میں اس کو کسی نیک کام میں خرچ کروں تو کیا وہ میرے لئے مفید ہوگا ؟ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اگر تم اس کو حج یا جہاد وغیرہ میں خرچ کروگے تو وہ اللہ کے نزدیک مچھر کے ایک پر کے برابر بھی قیمت نہ رکھے گا، اللہ تعالیٰ پاک اور حلال چیز کے سوا کسی چیز کو قبول نہیں فرماتے۔- حرام مال کی یہ بےتوقیری تو آخرت کے اعتبار سے ہوئی اور اگر گہری نظر سے معائنہ کیا جائے اور سب کاموں کے آخری انجام کو سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ دنیا کے کاروبار میں بھی حلال و حرام مال برابر نہیں ہوتے، حلال سے جتنے فوائد اور اچھے نتائج اور حقیقی آرام و راحت نصیب ہوتی ہے وہ کبھی حرام سے نہیں ہوتی۔- تفسیر درمنثور میں بحوالہ ابن ابی حاتم نقل کیا ہے کہ زمانہ تابعین کے خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبد العزیز رحمة اللہ علیہ نے جب سابق امراء کے زمانہ کے عائد کئے ہوئے ناجائز ٹیکس بند کئے، اور جن لوگوں سے ناجائز طور پر اموال لئے گئے وہ واپس کئے اور سرکاری بیت المال خالی ہوگیا اور آمدنی بہت محدود ہوگئی، تو ایک صوبہ کے گورنر نے ان کی خدمت میں خط لکھا کہ بیت المال کی آمدنی بہت گھٹ گئی ہے، فکر ہے کہ حکومت کے کاروبار کس طرح چلیں گے، حضرت عمر بن عبد العزیز رحمة اللہ علیہ نے جواب میں یہی آیت تحریر فرما دی، لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيْثُ وَالطَّيِّبُ وَلَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِيْثِ اور لکھا کہ تم سے پہلے لوگوں نے ظلم و جور کے ذریعہ جتنا خزانہ بھرا تھا تم اس کے بالمقابل عدل و انصاف قائم کرکے اپنے خزانہ کو کم کرلو اور کوئی پرواہ نہ کرو ہماری حکومت کے کام اسی کم مقدار سے پورے ہوں گے۔- یہ آیت اگرچہ ایک خاص واقعہ میں نازل ہوئی ہے کہ اعداد و شمار کی کمی زیادتی کوئی چیز نہیں، کثرت و قلت سے کسی چیز کی اچھائی یا برائی کو نہیں جانچا جاسکتا، انسانوں کے سر پر ہاتھ شمار کرکے اکیاون (51) ہاتھوں کو اننچاس (49) کے مقابلہ میں حق و صداقت کا معیار نہیں کہا جاسکتا۔- بلکہ اگر دنیا کے ہر طبقہ کے حالات پر ذرا بھی …

Al-Maaida 5:100Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.