Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 81–90 of 120

81

وَلَوْ كَانُوا۟ يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلنَّبِىِّ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْهِ مَا ٱتَّخَذُوهُمْ أَوْلِيَآءَ وَلَٰكِنَّ كَثِيرًۭا مِّنْهُمْ فَٰسِقُونَ

اور اگر وہ خدا پر اور پیغمبر پر اور جو کتاب ان پر نازل ہوئی تھی اس پر یقین رکھتے تو ان لوگوں کو دوست نہ بناتے لیکن ان میں اکثر بدکردار ہیں

(آیت) ” وَلَوْ کَانُوا یُؤْمِنُونَ بِاللہ والنَّبِیِّ وَمَا أُنزِلَ إِلَیْْہِ مَا اتَّخَذُوہُمْ أَوْلِیَاء وَلَـکِنَّ کَثِیْراً مِّنْہُمْ فَاسِقُونَ (81)

” اگر فی الواقعہ یہ لوگ اللہ اور پیغمبر اور اس چیز کو ماننے والے ہوتے جو پیغمبر پر نازل ہوئی تھی تو کبھی کافروں کو اپنا رفیق نہ بناتے مگر ان میں سے بیشتر تو خدا کی اطاعت سے نکل چکے ہیں ۔

یہ ہے اصل سبب کہ وہ اللہ اور نبی اخر الزمان پر ایمان نہیں لائے ۔ ان کی اکثریت فسق وفجور میں مبتلا ہے ۔ یہ اپنے شعور اور اپنے رخ کے اعتبار سے کفار کے ہم جنس ہیں ۔ اس لئے یہ لوگ کفار کے دوست ہوگئے ہیں اور اہل ایمان سے دوستی نہیں کرتے ۔

اس قرآنی تبصرے سے ہمیں تبصرے سے ہمیں تین واضح طور پر ملتے ہیں ۔

پہلی حقیقت یہ ہے کہ اہل کتاب سب کے سب ‘ ماسوائے ان کے جو حضرت محمد ﷺ پر ایمان لائے ‘ مومن نہیں ہیں اس لئے کہ وہ رسول آخر الزمان پر ایمان نہیں لائے ۔ قرآن کریم نے یہ نہیں کہا کہ وہ نبی پر ایمان نہیں لائے بلکہ یہ بھی کے ساتھ دوستی و محبت نہ کرتے ۔ “ یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اس میں تاویل کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ چاہے زبانی طور پر اہل کتاب جس قدر دعوائے ایمان کریں ۔ اور اگر ہم خدا تعالیٰ کے بارے میں ان کے منحرف اور فاسد عقائد و تصورات پر بھی غور کریں جن کی تفسیر ہم نے اسی سبق میں ابھی ابھی دی ہے تو ان کے اندر اللہ پر بھی ایمان نہیں ہے ۔

دوسری حقیقت یہ ہے کہ تمام اہل کتاب کو اسلام دعوت دیتا ہے کہ وہ اسلام میں داخل ہوں ۔ اور یہ دعوت انہیں حضرت محمد ﷺ کی زبان سے دی گئی ہے ۔ اگر وہ اس دعوت کو قبول کریں تو مومن ہیں ورنہ نہیں ہیں ۔

اور تیسری حقیقت یہ سامنے آتی ہے کہ اہل اسلام اور اہل کتاب کے درمیان موالات اور دوستی کا تعلق قائم نہیں ہو سکتا ۔ اور یہ تعلق کسی بھی معاملے میں نہیں ہو سکتا اس لئے کہ مسلمان کے تمام حالات زندگی دین کے تابع ہوتے ہیں اور یہ لوگ دین اسلام کے دشمن ہیں ۔

رہی یہ بات کہ اسلام اہل کتاب کے ساتھ حسن معاشرت اور اچھا طرز عمل اختیار کرنے کی ہدایت کرتا ہے ان کے جان ومال اور ان کی عزت وآبرو کی حفاظت کا حکم دیتا ہے جب تک وہ دارالاسلام میں ہوں اور یہ کہ وہ انکو اجازت دیتا ہے کہ ان کے جو عقائد ہیں وہ ان پر قائم رہیں اور یہ کہ ان کو حکمت اور حسن ادا کے ساتھ اسلام کی طرف دعوت دی جائے اور ان سے بحث و مباحثہ بھی اچھی طرح ہو جب تک وہ اسلامی ریاست کے وفادار ہیں اور یہ کہ ان کو کسی حال میں بھی اپنے عقائد کو ترک کرنے کا حکم نہ دیا جائے تو یہ اسلام کی وہ پالیسی ہے جو اسلام نے دارالاسلام میں رہنے والی تمام اقلیتوں کے لئے وضع کی ہے ۔ یہ ہے اسلام بات واضح اور صاف ہے ۔ اسلام نیکی چاہتا ہے ۔ رواداری کو رائج کرتا ہے اور بات دوٹوک کرتا ہے کیونکہ یہ اللہ کا کلام ہے اور اللہ صحیح راہ دکھانے والا ہے ۔

Al-Maaida 5:81Listen in Qur'an →
82

۞ لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ ٱلنَّاسِ عَدَٰوَةًۭ لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱلْيَهُودَ وَٱلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ ۖ وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةًۭ لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّا نَصَٰرَىٰ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًۭا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ

(اے پیغمبرﷺ!) تم دیکھو گے کہ مومنوں کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی کرنے والے یہودی اور مشرک ہیں اور دوستی کے لحاظ سے مومنوں سے قریب تر ان لوگوں کو پاؤ گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی اور وہ تکبر نہیں کرتے

سورة المائدہ کا آخری حصہ ایک نظر میں :

اس پارے میں سورة مائدہ کا بقیہ حصہ ہے ‘ اس کے ابتدائی حصوں کے بارے میں تفصیلات پارہ ششم میں گزر چکی ہیں ۔ نیز اس میں سورة انعام کے آغاز سے لے کر آیت (آیت) ” ولو اننانزلنا الیھم الملئکۃ) تک کا حصہ بھی مذکور ہے جس کے بارے میں تفصیلی بحث سورة انعام کے آغاز میں ہوگی ۔ یہاں صرف اس حصے پر تبصرہ کیا جا رہا ہے جو سورة مائدہ سے رہ گیا تھا ۔

پارہ ششم میں اس سورة کے تعارف میں ہم نے کہا تھا :

” اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن کریم حضرت محمد ﷺ کے قلب مبارک پر اس لئے نازل فرمایا کہ اس کے ذریعے وہ ایک امت کو برپا کریں ‘ وہ امت ایک مملکت کی بنیاد رکھے ‘ ایک معاشرے کو منظم کرے اور یہ مملکت لوگوں کے ضمیر ‘ ان کے اخلاق سنوارے اور ان کی عقلی تربیت کرے ۔ اس قرآن کے ذریعے اس معاشرے کے اجتماعی تعلقات کے حدود وقیود وضع ہوں اور اس مملکت کے اندر لوگوں کے تعلقات بھی منضبط ہوں اور پھر دوسرے ممالک کے ساتھ بھی اس مملکت کے تعلقات استوار ہوں ۔ اس امت کے تعلقات دوسری امتوں اور ملتوں کے ساتھ قائم ہوں ۔ قرآن اس تمام پوری امت کو ایک مضبوط رسی کے اندر باندھ دے ‘ اس کے متفرق اجزاء کو جمع کر دے ‘ اس کے فرقوں کو جمع کر دے اور اسے ایک مضبوط محور کے اندر پختہ کر دے ‘ اسے اللہ کی اس بادشاہت کے اندر لے آئے اور اس کا رخ ایک سمت میں ہوجائے ۔ یہ ہے دین اسلام جیسا کہ درحقیقت وہ اللہ کے نزدیک ایسا ہی ہے اور جسے مسلمانوں نے ایسا ہی سمجھا جب وہ صحیح مسلمان ہوا کرتے تھے ۔

جیسا کہ سابقہ تین طویل سورتوں میں ہم نے دیکھا اس سورة میں بھی مختلف موضوعات کو لیا گیا ہے ۔ ان تمام موضوعات کے درمیان قدر مشترک کیا چیز ہے ؟ وہی جس کے حصول کے لئے اس دنیا میں پیغام اسلام کی ضرورت محسوس کی گئی ۔ یعنی ایک امت کی تشکیل ‘ ایک مملکت کا قیام اور ایک مثالی اسلامی معاشرے کا قیام ۔ اس معاشرے کا قیام بھی ایک خاص نظریہ کے مطابق ایک خاص تصور حیات کی روشنی میں اور بالکل جدید انداز میں مطلوب تھا ۔ اس معاشرے کی روح عقیدہ توحید تھی ۔ عقیدہ توحید اس کا پہلا اصول اقرار پایا اور عقیدہ توحید کے اہم عناصر یہ ہیں کہ الہ اور حاکم فقط اللہ ہے ‘ وہی اس کائنات کا تھامنے والا ہے ۔ اسی کا حکم چلتا ہے ‘ زندگی گزارنے کے طریقے صرف اسی سے اخذ کئے جاسکتے ہیں ‘ وہی شارع ہے ‘ وہی زندگی کی اعلی قدریں متعین کرنے کا حق رکھتا ہے اور حس وقبح کے پیمانے صرف وہی متعین کرسکتا ہے ۔ “

” اس سورة میں اعتقادی افکار کی توضیح کی گی ہے اور اسے بت پرستانہ خرافات اور انحرافات سے پاک کیا گیا ہے ۔ نیز اہل کتاب نے جو تحریفات کیں انہیں بھی دور کیا گیا ہے اور جماعت مسلمہ کے سامنے خود اس کا اپنا تعارف پیش کیا گیا ہے ۔ کہ اس کی حقیقت کیا ہے ‘ اس کا طریقہ کار کیا ہونا چاہئے ‘ اور اس کے راستے میں جو کانٹے ہیں اور جو جال بچھے ہوئے ہیں ان سے بچنے کا کیا طریقہ ہے ۔ کہاں کہاں اس دین کے دشمن گھات لگائے بیٹھے ہیں اور کہاں کہاں پھسلن ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ‘ اس سورة میں عبادات اسلام اور شعائر اسلام بھی بتائے گئے ہیں جن کے ذریعے ایک مسلم کی روح پاک ہوجاتی ہے اور اس کا رابطہ اس کے رب کے ساتھ قائم ہوجاتا ہے ۔ نیز اعتقادات و عبادات کے ساتھ ساتھ اس میں اجتماعی روابط ‘ حکومت کے لئے قانون سازی اور پھر دوسری حکومتوں کے ساتھ اسلامی حکومت کے تعلقات کے اصول بھی بتائے گئے ہیں ۔ نیز اسلامی معاشرے میں حلال و حرام کا بھی ذکر ہے کہ مسلمانوں کے لئے کن چیزوں کا کھانا حرام ہے کن مشروبات کا پینا حرام ہے اور کن عورتوں سے نکاح حرام ہے ۔ کیا کیا اعمال برے ہیں اور کیا کیا طرز ہائے عمل غیر اسلامی ہیں۔ غرضیکہ یہ سورة ایک مکمل گٹھڑی ہے جس کے اندر ‘ یہ تمام امور ایک ہی جگہ آگئے ہیں اور یہ گٹھڑی مجموعہ دین ہے ۔ اسی نقطہ نظر سے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو سمجھانا چاہتے ہیں کہ …

Al-Maaida 5:82Listen in Qur'an →
83

وَإِذَا سَمِعُوا۟ مَآ أُنزِلَ إِلَى ٱلرَّسُولِ تَرَىٰٓ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ ٱلدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا۟ مِنَ ٱلْحَقِّ ۖ يَقُولُونَ رَبَّنَآ ءَامَنَّا فَٱكْتُبْنَا مَعَ ٱلشَّٰهِدِينَ

اور جب اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو (سب سے پہلے) پیغمبر (محمدﷺ) پر نازل ہوئی تو تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں اس لیے کہ انہوں نے حق بات پہچان لی اور وہ (خدا کی جناب میں) عرض کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم ایمان لے آئے تو ہم کو ماننے والوں میں لکھ لے

(آیت) ” نمبر 83 تا 84 ۔

یہ ایک زندہ منظر ہے اور اس میں اس گروہ کی مکمل تصویر نظر آتی ہے ۔ یہ گروہ جو اہل ایمان کے ساتھ دوستی میں دوسرے کے مقابلے میں قریب تر ہے ۔ یہ ایسا گروہ ہے کہ جب قرآن مجید کا تازہ ترین حصہ نازل ہوتا ہے تو اس گروہ کے جذبات جوش میں آجاتے ہیں ۔ ان کے دل نرم ہوجاتے اور وہ اس قدر متاثر ہوتے ہیں کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بھرجاتی ہیں ۔ یہ بات اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہیں کہ وہ اس قرآن سے نہایت ہی گہرا اثر لیتے ہیں ۔ وہ اس تاثر کا اظہار صرف آنسوؤں کی زبان میں کرتے ہیں اور اس قسم کا اظہار اس وقت کیا جاتا ہے جب انسان کے لئے الفاظ میں اپنے تاثرات کا اظہار ممکن نہیں ہوتا ۔ اس لئے اس تاثر کا اظہار آنسوؤں کے ذریعے کیا جاتا ہے اور اس طرح دباؤ اور گھٹن ختم ہوجاتی ہے کیونکہ جذبات کا دباؤ نہایت ہی سخت اور گہرا ہوتا ہے ۔

یہ لوگ محض آنسو بہا کر رک نہیں جاتے بلکہ قرآن کو سن کر جس سچائی سے وہ متاثر ہوچکے ‘ اس کے بارے میں منفی رویہ اختیار نہیں کرتے ۔ قرآن کریم میں جس سچے شعور کا حامل ہے ‘ اور جو شدید احساس وہ پیدا کرتا ہے ‘ اس کے مقابلے میں خاموش نہیں رہتے ۔ وہ صرف اتنا ہی نہیں کرتے کہ بس سن کر متاثر ہوئے اور آنسو بہا کر رک گئے بلکہ وہ اس سے آگے بڑھتے ہیں اور مثبت رویہ اختیار کرکے اس سچائی اس شعور اور احساس کو قبول کرلیتے ہیں ۔ وہ ایمان لاتے ہیں یقین کرلیتے ہیں اور یہ بھی نہیں بلکہ وہ اپنے ایمان اور یقین کا اعلان بھی کرتے ہیں اور یہ اعلان وہ بڑے جوش و خروش سے کرتے ہیں ۔

(آیت) ” یَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاہِدِیْنَ (83) وَمَا لَنَا لاَ نُؤْمِنُ بِاللّہِ وَمَا جَاء نَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَن یُدْخِلَنَا رَبَّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِیْنَ (84)

” وہ بول اٹھتے ہیں کہ ” پروردگار ‘ ہم ایمان لائے ‘ ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے ۔ اور وہ کہتے ہیں کہ ” آخر کیوں نہ ہم اللہ پر ایمان لائیں اور جو حق ہمارے پاس آیا ہے اسے کیوں نہ مان لیں جب کہ ہم اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں میں شامل کرے ؟ ۔

دیکھئے یہ لوگ اس سچائی کا اعلان کرتے ہیں جو ان تک پہنچی اور وہ اسے پہنچان گئے ۔ اس کے بعد وہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ہمیں گواہوں کی فہرست میں شامل فرما دے اور ہمیں اس لڑی میں شامل کر دے اور ہمیں اس لڑی میں شامل کر دے جو اس کرہ ارض پر اس سچائی کو قائم کرنے کی جدوجہد کر رہی ہے ۔ اس امت میں داخل کر دے جس پر یہ قرآن گواہ ہے کہ وہ امت حقہ ہے اور جو اپنی زبان اپنے عمل اور اپنی جدوجہد کے ذریعے فریضہ شہادت حق ادا کر رہی ہے اور لوگوں کی زندگیوں میں اس سچائی کو جاری وساری دیکھنا چاہتی ہے ۔ چناچہ یہ لوگ فریضہ شہادت حق ادا کرنے والوں میں خود شامل ہوجاتے ہیں۔ وہ اللہ کو اس بات پر گواہ ٹھہراتے ہیں کہ وہ اس امت میں داخل ہوگئے ہیں اور پھر یہ درخواست بھی کرتے ہیں کہ ہمارا نام رجسٹر کرلیا جائے ۔

یہ سب کچھ کرنے کے بعد وہ خود آپ سے بطور استفہام انکاری پوچھتے ہیں کہ اب ہماری راہ قبولیت میں کیا رکاوٹ ہو سکتی ہے ؟ کہ سنیں ‘ یقین کریں اور ایمان نہ لائیں تاکہ ان کا رب ان کی دعا قبول کرے ‘ ان کو درجات بلند عطا کرے اور انہیں صالح لوگوں میں درج کرے ‘ کیوں اور وہ ایسا نہ کریں ؟ اس کا کوئی جواز نہیں ہے ۔

(آیت) ” وَمَا لَنَا لاَ نُؤْمِنُ بِاللّہِ وَمَا جَاء نَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَن یُدْخِلَنَا رَبَّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِیْنَ (84)

” آخر کیوں نہ ہم اللہ پر ایمان لائیں اور جو حق ہمارے پاس آیا ہے اسے کیوں نہ مان لیں جب کہ ہم اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں میں شامل کرے ؟ ‘

یہ ایک صریح ‘ دو ٹوک اور فیصلہ کن موقف ہے ‘ جس میں وہ علی الاعلان قرآن کریم میں جو سچائی اتری ہے اس کو قبول کرتے ہیں ۔ …

Al-Maaida 5:83Listen in Qur'an →
84

وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَمَا جَآءَنَا مِنَ ٱلْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَن يُدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ ٱلْقَوْمِ ٱلصَّٰلِحِينَ

اور ہمیں کیا ہوا ہے کہ خدا پر اور حق بات پر جو ہمارے پاس آئی ہے ایمان نہ لائیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ پروردگار ہم کو نیک بندوں کے ساتھ (بہشت میں) داخل کرے گا

(آیت) ” نمبر 83 تا 84 ۔

یہ ایک زندہ منظر ہے اور اس میں اس گروہ کی مکمل تصویر نظر آتی ہے ۔ یہ گروہ جو اہل ایمان کے ساتھ دوستی میں دوسرے کے مقابلے میں قریب تر ہے ۔ یہ ایسا گروہ ہے کہ جب قرآن مجید کا تازہ ترین حصہ نازل ہوتا ہے تو اس گروہ کے جذبات جوش میں آجاتے ہیں ۔ ان کے دل نرم ہوجاتے اور وہ اس قدر متاثر ہوتے ہیں کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بھرجاتی ہیں ۔ یہ بات اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہیں کہ وہ اس قرآن سے نہایت ہی گہرا اثر لیتے ہیں ۔ وہ اس تاثر کا اظہار صرف آنسوؤں کی زبان میں کرتے ہیں اور اس قسم کا اظہار اس وقت کیا جاتا ہے جب انسان کے لئے الفاظ میں اپنے تاثرات کا اظہار ممکن نہیں ہوتا ۔ اس لئے اس تاثر کا اظہار آنسوؤں کے ذریعے کیا جاتا ہے اور اس طرح دباؤ اور گھٹن ختم ہوجاتی ہے کیونکہ جذبات کا دباؤ نہایت ہی سخت اور گہرا ہوتا ہے ۔

یہ لوگ محض آنسو بہا کر رک نہیں جاتے بلکہ قرآن کو سن کر جس سچائی سے وہ متاثر ہوچکے ‘ اس کے بارے میں منفی رویہ اختیار نہیں کرتے ۔ قرآن کریم میں جس سچے شعور کا حامل ہے ‘ اور جو شدید احساس وہ پیدا کرتا ہے ‘ اس کے مقابلے میں خاموش نہیں رہتے ۔ وہ صرف اتنا ہی نہیں کرتے کہ بس سن کر متاثر ہوئے اور آنسو بہا کر رک گئے بلکہ وہ اس سے آگے بڑھتے ہیں اور مثبت رویہ اختیار کرکے اس سچائی اس شعور اور احساس کو قبول کرلیتے ہیں ۔ وہ ایمان لاتے ہیں یقین کرلیتے ہیں اور یہ بھی نہیں بلکہ وہ اپنے ایمان اور یقین کا اعلان بھی کرتے ہیں اور یہ اعلان وہ بڑے جوش و خروش سے کرتے ہیں ۔

(آیت) ” یَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاہِدِیْنَ (83) وَمَا لَنَا لاَ نُؤْمِنُ بِاللّہِ وَمَا جَاء نَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَن یُدْخِلَنَا رَبَّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِیْنَ (84)

” وہ بول اٹھتے ہیں کہ ” پروردگار ‘ ہم ایمان لائے ‘ ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے ۔ اور وہ کہتے ہیں کہ ” آخر کیوں نہ ہم اللہ پر ایمان لائیں اور جو حق ہمارے پاس آیا ہے اسے کیوں نہ مان لیں جب کہ ہم اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں میں شامل کرے ؟ ۔

دیکھئے یہ لوگ اس سچائی کا اعلان کرتے ہیں جو ان تک پہنچی اور وہ اسے پہنچان گئے ۔ اس کے بعد وہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ہمیں گواہوں کی فہرست میں شامل فرما دے اور ہمیں اس لڑی میں شامل کر دے اور ہمیں اس لڑی میں شامل کر دے جو اس کرہ ارض پر اس سچائی کو قائم کرنے کی جدوجہد کر رہی ہے ۔ اس امت میں داخل کر دے جس پر یہ قرآن گواہ ہے کہ وہ امت حقہ ہے اور جو اپنی زبان اپنے عمل اور اپنی جدوجہد کے ذریعے فریضہ شہادت حق ادا کر رہی ہے اور لوگوں کی زندگیوں میں اس سچائی کو جاری وساری دیکھنا چاہتی ہے ۔ چناچہ یہ لوگ فریضہ شہادت حق ادا کرنے والوں میں خود شامل ہوجاتے ہیں۔ وہ اللہ کو اس بات پر گواہ ٹھہراتے ہیں کہ وہ اس امت میں داخل ہوگئے ہیں اور پھر یہ درخواست بھی کرتے ہیں کہ ہمارا نام رجسٹر کرلیا جائے ۔

یہ سب کچھ کرنے کے بعد وہ خود آپ سے بطور استفہام انکاری پوچھتے ہیں کہ اب ہماری راہ قبولیت میں کیا رکاوٹ ہو سکتی ہے ؟ کہ سنیں ‘ یقین کریں اور ایمان نہ لائیں تاکہ ان کا رب ان کی دعا قبول کرے ‘ ان کو درجات بلند عطا کرے اور انہیں صالح لوگوں میں درج کرے ‘ کیوں اور وہ ایسا نہ کریں ؟ اس کا کوئی جواز نہیں ہے ۔

(آیت) ” وَمَا لَنَا لاَ نُؤْمِنُ بِاللّہِ وَمَا جَاء نَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَن یُدْخِلَنَا رَبَّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِیْنَ (84)

” آخر کیوں نہ ہم اللہ پر ایمان لائیں اور جو حق ہمارے پاس آیا ہے اسے کیوں نہ مان لیں جب کہ ہم اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں میں شامل کرے ؟ ‘

یہ ایک صریح ‘ دو ٹوک اور فیصلہ کن موقف ہے ‘ جس میں وہ علی الاعلان قرآن کریم میں جو سچائی اتری ہے اس کو قبول کرتے ہیں ۔ …

Al-Maaida 5:84Listen in Qur'an →
85

فَأَثَٰبَهُمُ ٱللَّهُ بِمَا قَالُوا۟ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ جَزَآءُ ٱلْمُحْسِنِينَ

تو خدا نے ان کو اس کہنے کے عوض (بہشت کے) باغ عطا فرمائے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اور نیکو کاروں کا یہی صلہ ہے

(آیت) ” نمبر 85۔

اللہ کے علم میں یہ بات تھی کہ ان کے دل سچے ہیں اور ان کی زبان صداقت شعار ہے ۔ وہ صراط مستقیم پرچلنے کا عزم کئے ہوئے ہیں ‘ وہ اس دین کے لئے فریضہ شہادت حق ادا کرنے کے لئے تیار ہیں جس میں وہ داخل ہوئے ہیں ۔ وہ صداقت کے ساتھ اسلامی صفوں میں داخل ہوئے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ شہادت حق کی ادائیگی اللہ کا ایک احسان ہے جو اپنے بندوں میں سے کسی پر وہ کرتا ہے ۔ یہ بات اللہ کے علم میں تھی کہ اب وہ صرف اسلامی راہ پر ہی چلنا چاہتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ اللہ انکو نیکوں میں شامل کرے گا ۔ چونکہ یہ سب باتیں اللہ کے علم میں تھیں اس لئے اللہ نے ان کی اس بات کو قبول کرلیا اور ان کے لئے جزائے آخرت لکھ دی ۔ اس پر اپنی گواہی قائم کردی کہ یہ لوگ نیک ہیں اور یہ ہے جزائے محسنین :

(آیت) ” فَأَثَابَہُمُ اللّہُ بِمَا قَالُواْ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا وَذَلِکَ جَزَاء الْمُحْسِنِیْنَ (85)

” ان کے اس قول کی وجہ سے اللہ نے ان کو ایسی جنتیں عطا کیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہ جزاء ہے نیک رویہ اختیار کرنے والوں کے لئے ۔ “

احسان ایمان اور اسلام کے اعلی درجات کو کہتے ہیں اور اللہ بذات خود شہادت دیتے ہیں کہ یہ لوگ گروہ محسنین میں سے ہیں ۔ لہذا یہ آیات ایک خاص گروہ کے بارے میں ہیں ‘ جس کے خدوخال بالکل واضح ہیں اور ایسے ہی لوگوں کے بارے میں یہ حکم ہے :

(آیت) ” وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَہُمْ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیْنَ آمَنُواْ الَّذِیْنَ قَالُوَاْ إِنَّا نَصَارَی )

” اور ایمان لانے والوں کے لئے دوستی میں قریب ترتم ان لوگوں کو پاؤ گے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاری ہیں “۔ یہ ایک ایسا گروہ ہے کہ جب وہ حق بات کو سنتا ہے تو سرکشی نہیں کرتا بلکہ وہ دل کی گرائیوں سے اسے قبول کرتا ہے اور اس قبولیت کا برملا اعلان کرتا ہے ۔ یہ ایک ایسا فریق ہے کہ وہ اپنے اعلان اسلام میں ایک لمحے کے لئے بھی تردد نہیں کرتا ‘ فورا اسلامی صفوں میں شامل ہوجاتا ہے ۔ وہ اس نظریہ حیات کے حوالے سے عائد ہونے والے تمام فرائض کی ادائیگی کے لئے بھی تیار ہوجاتا ہے اور وہ اسلامی نظام حیات کے قیام کی راہ میں جدوجہد کرنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے ۔ نیز یہ ایک ایسا فریق ہے کہ جن کی باتوں کی تصدیق اللہ کرتا ہے اور اعلان کردیتا ہے کہ یہ محسنین ہیں اور یہ ہے ان کی جزائ۔

لیکن قرآن مجید اس پر اکتفا نہیں کرتا ‘ وہ اس گروہ کے خدوخال میں مزید اضافہ کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ یہ کون ہیں جو اہل ایمان کے لئے محبت کے جذبات رکھتے ہیں ۔ یہ وضاحت اب اس طرح کی جاتی ہے کہ وہ اس گروہ نصاری کے بالمقابل ایک دوسرے گروہ نصاری کا ذکر کرتا ہے جن کے خدوخال یہ ہیں کہ وہ سچائی کو سن کر ‘ سمجھ کر اس کا انکار کرتے ہیں وہ اس پر لبیک نہیں کہتے اور وہ گواہی دینے والوں کے ساتھ شامل نہیں ہوتے ۔

Al-Maaida 5:85Listen in Qur'an →
86

وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَآ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلْجَحِيمِ

اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ جہنمی ہیں

(آیت) ” نمبر 86۔

یہاں (آیت) ” (والذین کفروا) سے مراد قطعیت کے ساتھ وہی لوگ ہیں ‘ جو نصاری میں سے سچائی کو سنتے ہیں لیکن مان کر نہیں دیتے ۔ سچائی کو سن کر نہ ماننے والے نصاری کے بارے میں قرآن یہاں کافرین کا لفظ استعمال کرتا ہے ‘ لہذا نصاری جب بھی ایسا موقف اختیار کریں گے ان پر کفر کا اطلاق ہوگا ۔ اس میں یہود ونصاری کے درمیان کوئی امتیاز نہیں ہے اور جب تک وہ حضرت محمد ﷺ پر نازل شدہ کلام کو تسلیم نہیں کرتے جو کلام برحق ہے ہے ان میں اور مشرکین اور یہودیوں میں کوئی فرق نہیں ہوگا ۔ جب تک وہ منکر رہیں گے اور اسلام میں داخل نہ ہوں گے ‘ اس لئے کہ اب اللہ کے ہاں دین اسلام کے سوا کوئی اور دین مقبول نہیں ہے اور یہ مضمون قرآن مجید کی متعدد آیات میں دہرایا گیا ہے ۔

(آیت) ” لم یکن الذین کفروا من اھل الکتب والمشرکین منفکین حتی تاتیھم البینۃ (98 : 1) ” اہل کتاب اور مشرکین سے جو لوگ کافر تھے ‘ وہ باز آنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے پاس دلیل روشن نہ آجائے ۔ “

(آیت) ” ان الذین کفروا من اھل الکتب والمشرکین فی نار جھنم خلدین فیھا اولئک ھم شرالبریۃ “۔ (98 : 2) ” اہل کتاب اور مشرکین میں سے جن لوگوں کے کفر کیا ہے وہ یقینا جہنم کی آگ میں جائیں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے یہ لوگ بدترین خلائق ہیں۔ “

(آیت) ” لقد کفر الذین قالو ان اللہ ثالثۃ “ (5 : 73) ” یقینا کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا ایک ہے ۔ “

(آیت) ” لقد کفر الذین قالو ان اللہ ھو المسیح ابن مریم “ (5 : 72) ” یقینا کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ مسیح ابن مریم ہی ہے ۔ “

(آیت) ” لعن الذین کفروا من بنی اسرآء یل علی لسان داؤد و عیسیٰ ابن مریم “۔ (5 : 87) ’

” بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ان پر داؤد اور عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کی زبان سے لعنت کی گئی۔ “ غرض قرآن کریم کا ایک عام انداز بیان ہے اور یہ بات معہود فی الذہن ہے لیکن یہاں جو بات ہو رہی ہے وہ نصاری میں سے دو فریقوں کے رویے کے بارے میں ہے ، اصل میں یہ بتانا مقصود ہے کہ نصاری میں سے دو فریقوں کا موقف اسلام اور اہل اسلام کے بارے میں بالکل مختلف ہے اس لئے ان دونوں کا انجام بھی مختلف ہوگا ۔ ایک گروہ کے لئے جو ایمان لائے گا ایسے باغات ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور دوسروں کا انجام یہ ہوگا کہ وہ جہنمی ہوں گے ۔ اس بحث سے معلوم ہوگیا کہ وہ تمام لوگ جو اپنے آپ کو نصاری کہتے ہیں اس آیت میں داخل نہیں جس میں کہا گیا ہے :

(آیت) ” ولتجدن اقربھم مودۃ للذین امنوا) ” تم اہل ایمان کے ساتھ دوستی میں زیادہ قریب ان لوگوں کو پاؤ گے ۔ “ آیات کا یہ مفہوم وہی لوگ لیتے ہیں جو ہر آیت کو علیحدہ لے کر پڑھتے ہیں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ آیت زیر بحث کا حکم محدود ہے ‘ اور اس سے متعین طور پر وہ لوگ مراد ہیں جو ایمان لاتے ہیں ۔ قرآن کریم نے ان لوگوں کی اچھی طرح وضاحت کردی ہے اور کوئی غلط فہمی نہیں چھوڑی ۔ دونوں فریقوں کو نکھار کر رکھ دیا ہے۔

قرآن کریم کے علاوہ اس مفہوم کی وضاحت اور تائید میں بہت سی روایات بھی آئی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت سے مراد نصاری کے چند متعین لوگ تھے ۔

قرطبی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے : ” یہ آیت نجاشی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں ہے ‘ اور یہ اس وقت نازل ہوئی تھی جب ہجرت اول میں مسلمان حبشہ کو گئے تھے ‘ جیسا کہ ابن اسحاق اور دوسرے اہل سیر نے لکھا ہے ۔ یہ لوگ مشرکین کے خوف اور تشدد کی وجہ سے گئے تھے اور بڑی تعداد میں تھے ۔ اس کے بعد حضور نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو یہ لوگ ہجرت کرنے مدینہ مدینہ نہ آسکے ‘ اس لئے کہ جنگوں کی وجہ سے حالات ایسے ہوگئے کہ وہ حضور سے نہ مل سکے جب بدر کی جنگ ہوئی اور اس میں کفار کے بڑے بڑے لیڈر مارے گئے تو قریش کے لوگوں نے کہا کہ کہ ہم ان لوگوں سے انتقام لے سکتے ہیں جو حبشہ …

Al-Maaida 5:86Listen in Qur'an →
87

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تُحَرِّمُوا۟ طَيِّبَٰتِ مَآ أَحَلَّ ٱللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْمُعْتَدِينَ

مومنو! جو پاکیزہ چیزیں خدا نے تمہارے لیے حلال کی ہیں ان کو حرام نہ کرو اور حد سے نہ بڑھو کہ خدا حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا

درس نمبر 53 تشریح آیات :

87۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 108۔

(آیت) ” نمبر 87 تا 89۔

” اے ایمان لانے والو ! تمہارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ تم انسان اور اللہ کے غلام ہوتے ہوئے ‘ اللہ کی الوہیت اور حاکمیت کے حقوق پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش نہ کرو ‘ اس لئے تمہارے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ کاموں اور اشیاء کو حرام قرار دو ‘ خصوصا پاکیزہ چیزوں کو۔ اس لئے تم پاک چیزوں کے کھانے اور پینے سے اس طرح نہ رکو کہ تم ان کو اپنے لئے حرام قرار دے لو ۔ اس لئے کہ اللہ نے یہ پاک چیزیں تمہارے لئے ہی تو پیدا کی ہیں اور پھر یہ کہ حلال و حرام کے حدود کا تعین کرنے والا تو اللہ ہی ہے ۔

(آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تُحَرِّمُواْ طَیِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللّہُ لَکُمْ وَلاَ تَعْتَدُواْ إِنَّ اللّہَ لاَ یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ (87) وَکُلُواْ مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّہُ حَلاَلاً طَیِّباً وَاتَّقُواْ اللّہَ الَّذِیَ أَنتُم بِہِ مُؤْمِنُونَ (88)

” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ جو پاک چیزیں اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہیں انہیں حرام نہ کرلو اور حد سے تجاوز نہ کرو ‘ اللہ کو زیادتی کرنے والے سخت ناپسند ہیں ۔ جو کچھ حلال وطیب رزق اللہ نے تم کو دیا ہے اسے کھاؤ پیو اور اس اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو ۔ A

” حقیقت یہ ہے کہ قانون سازی کے مسئلے کا تعلق خاص مسئلہ حاکمیت اور الوہیت کے ساتھ ہے ۔ قانون سازی کا حق اللہ کی حاکمیت کے ساتھ مخصوص اس لئے ہے کہ اللہ ہی انسانوں کا مالک اور خالق ہے اور وہی ہے جو انسانوں کو رزق فراہم کرتا ہے ۔ اس لئے یہ حق صرف اللہ کا ہے کہ وہ اپنی مخلوق کے لئے ‘ اپنے پیدا کردہ رزق میں سے بعض چیزوں کو حلال کر دے اور بعض کو حرام کر دے ۔ یہ ایک ایسی دلیل ہے جس کو انسانوں کی عقل بڑی آسانی سے مان لیتی ہے ۔ انسانوں کے نزدیک بھی کسی چیز کا مالک ہی یہ حق رکھتا ہے کہ وہ اپنی ممو کہ چیز میں جس طرح چاہے تصرف کرے اور جو شخص بھی کسی کے حق ملکیت پر دست درازی کرتا ہے تو اسے ظلم و زیادتی کا مرتکب تصور کیا جاتا ہے ۔ جو لوگ ایمان لا چکے ‘ ظاہر ہے کہ ان سے یہ توقع نہیں ہے کہ وہ اللہ کے حقوق پر دست درازی کریں گے اس لئے کہ اللہ پر ایمان اور پھر اللہ سے بغاوت دونوں ایک دل میں کس طرح جمع ہو سکتے ہیں ۔

یہ ہے وہ مسئلہ جسے یہ دو آیات ایسے واضح اسلوب میں پیش کرتی ہیں کوئی معقول شخص اس بارے میں کوئی مباحثہ اور مجادلہ نہیں کرسکتا اس لئے کہ اللہ دست درازی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ یہ مسئلہ ایک عام قاعدے اور اصول کو طے کرتا ہے کہ تمام لوگ اللہ کے بندے اور غلام ہیں اور اس مسئلے کے مطابق اپنا طرز عمل ڈھالنا تقاضائے ایمان ہے ۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ دو آیات اور ان سے آگلی آیت ایک خاص واقعہ میں نازل ہوئیں ۔ یہ واقعہ حضور ﷺ کے دور میں پیش آیا لیکن آیت عام ہے اور اسباب نزول کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ اسباب نزول کے ذریعے فہم قرآن میں اچھی مدد ملتی ہے ۔

ابن جریر نے نقل کیا ہے کہ ایک دن حضور ﷺ تشریف فرما تھے ۔ آپ نے لوگوں کو یاد دہانی کی ۔ آپ اٹھ کر چلے گئے اور آپ نے اس دن انہیں بہت نہ ڈرایا ۔ آپ کے جو ساتھی بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے کہا کہ ہم لوگ کچھ باتیں اور اعمال اپنی طرف سے کیوں نہ شروع کردیں ‘ نصاری نے تو ایسا کیا کہ بعض چیزوں کو اپنے اوپر حرام کرلیا ‘ ہمیں بھی چاہئے کہ ہم اپنے اوپر بعض چیزیں حرام کرلیں ۔ بعض نے کہا کہ وہ گوشت اور سرین نہ کھائے گا ۔ بعض نے کہا کہ وہ دن کو نہ کھائے گا ۔ بعض نے اپنے اوپر عورتیں حرام کرلیں ‘ یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی ۔ آپ نے فرمایا کہ لوگ بھی عجیب ہیں کوئی اپنے اوپر عورتوں کو حرام کرتا ہے کوئی کھانا حرام کرتا ہے کوئی نیند حرام کرتا ہے ۔ خبردار میں تو سوتا بھی ہوں کھڑا بھی ہوتا ہوں ‘ …

Al-Maaida 5:87Listen in Qur'an →
88

وَكُلُوا۟ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ حَلَٰلًۭا طَيِّبًۭا ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ٱلَّذِىٓ أَنتُم بِهِۦ مُؤْمِنُونَ

اور جو حلال طیّب روزی خدا نے تم کو دی ہے اسے کھاؤ اور خدا سے جس پر ایمان رکھتے ہو ڈرتے رہو

درس نمبر 53 تشریح آیات :

87۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 108۔

(آیت) ” نمبر 87 تا 89۔

” اے ایمان لانے والو ! تمہارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ تم انسان اور اللہ کے غلام ہوتے ہوئے ‘ اللہ کی الوہیت اور حاکمیت کے حقوق پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش نہ کرو ‘ اس لئے تمہارے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ کاموں اور اشیاء کو حرام قرار دو ‘ خصوصا پاکیزہ چیزوں کو۔ اس لئے تم پاک چیزوں کے کھانے اور پینے سے اس طرح نہ رکو کہ تم ان کو اپنے لئے حرام قرار دے لو ۔ اس لئے کہ اللہ نے یہ پاک چیزیں تمہارے لئے ہی تو پیدا کی ہیں اور پھر یہ کہ حلال و حرام کے حدود کا تعین کرنے والا تو اللہ ہی ہے ۔

(آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تُحَرِّمُواْ طَیِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللّہُ لَکُمْ وَلاَ تَعْتَدُواْ إِنَّ اللّہَ لاَ یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ (87) وَکُلُواْ مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّہُ حَلاَلاً طَیِّباً وَاتَّقُواْ اللّہَ الَّذِیَ أَنتُم بِہِ مُؤْمِنُونَ (88)

” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ جو پاک چیزیں اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہیں انہیں حرام نہ کرلو اور حد سے تجاوز نہ کرو ‘ اللہ کو زیادتی کرنے والے سخت ناپسند ہیں ۔ جو کچھ حلال وطیب رزق اللہ نے تم کو دیا ہے اسے کھاؤ پیو اور اس اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو ۔ A

” حقیقت یہ ہے کہ قانون سازی کے مسئلے کا تعلق خاص مسئلہ حاکمیت اور الوہیت کے ساتھ ہے ۔ قانون سازی کا حق اللہ کی حاکمیت کے ساتھ مخصوص اس لئے ہے کہ اللہ ہی انسانوں کا مالک اور خالق ہے اور وہی ہے جو انسانوں کو رزق فراہم کرتا ہے ۔ اس لئے یہ حق صرف اللہ کا ہے کہ وہ اپنی مخلوق کے لئے ‘ اپنے پیدا کردہ رزق میں سے بعض چیزوں کو حلال کر دے اور بعض کو حرام کر دے ۔ یہ ایک ایسی دلیل ہے جس کو انسانوں کی عقل بڑی آسانی سے مان لیتی ہے ۔ انسانوں کے نزدیک بھی کسی چیز کا مالک ہی یہ حق رکھتا ہے کہ وہ اپنی ممو کہ چیز میں جس طرح چاہے تصرف کرے اور جو شخص بھی کسی کے حق ملکیت پر دست درازی کرتا ہے تو اسے ظلم و زیادتی کا مرتکب تصور کیا جاتا ہے ۔ جو لوگ ایمان لا چکے ‘ ظاہر ہے کہ ان سے یہ توقع نہیں ہے کہ وہ اللہ کے حقوق پر دست درازی کریں گے اس لئے کہ اللہ پر ایمان اور پھر اللہ سے بغاوت دونوں ایک دل میں کس طرح جمع ہو سکتے ہیں ۔

یہ ہے وہ مسئلہ جسے یہ دو آیات ایسے واضح اسلوب میں پیش کرتی ہیں کوئی معقول شخص اس بارے میں کوئی مباحثہ اور مجادلہ نہیں کرسکتا اس لئے کہ اللہ دست درازی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ یہ مسئلہ ایک عام قاعدے اور اصول کو طے کرتا ہے کہ تمام لوگ اللہ کے بندے اور غلام ہیں اور اس مسئلے کے مطابق اپنا طرز عمل ڈھالنا تقاضائے ایمان ہے ۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ دو آیات اور ان سے آگلی آیت ایک خاص واقعہ میں نازل ہوئیں ۔ یہ واقعہ حضور ﷺ کے دور میں پیش آیا لیکن آیت عام ہے اور اسباب نزول کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ اسباب نزول کے ذریعے فہم قرآن میں اچھی مدد ملتی ہے ۔

ابن جریر نے نقل کیا ہے کہ ایک دن حضور ﷺ تشریف فرما تھے ۔ آپ نے لوگوں کو یاد دہانی کی ۔ آپ اٹھ کر چلے گئے اور آپ نے اس دن انہیں بہت نہ ڈرایا ۔ آپ کے جو ساتھی بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے کہا کہ ہم لوگ کچھ باتیں اور اعمال اپنی طرف سے کیوں نہ شروع کردیں ‘ نصاری نے تو ایسا کیا کہ بعض چیزوں کو اپنے اوپر حرام کرلیا ‘ ہمیں بھی چاہئے کہ ہم اپنے اوپر بعض چیزیں حرام کرلیں ۔ بعض نے کہا کہ وہ گوشت اور سرین نہ کھائے گا ۔ بعض نے کہا کہ وہ دن کو نہ کھائے گا ۔ بعض نے اپنے اوپر عورتیں حرام کرلیں ‘ یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی ۔ آپ نے فرمایا کہ لوگ بھی عجیب ہیں کوئی اپنے اوپر عورتوں کو حرام کرتا ہے کوئی کھانا حرام کرتا ہے کوئی نیند حرام کرتا ہے ۔ خبردار میں تو سوتا بھی ہوں کھڑا بھی ہوتا ہوں ‘ …

Al-Maaida 5:88Listen in Qur'an →
89

لَا يُؤَاخِذُكُمُ ٱللَّهُ بِٱللَّغْوِ فِىٓ أَيْمَٰنِكُمْ وَلَٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ ٱلْأَيْمَٰنَ ۖ فَكَفَّٰرَتُهُۥٓ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَٰكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍۢ ۖ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَٰثَةِ أَيَّامٍۢ ۚ ذَٰلِكَ كَفَّٰرَةُ أَيْمَٰنِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ ۚ وَٱحْفَظُوٓا۟ أَيْمَٰنَكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمْ ءَايَٰتِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

خدا تمہاری بےارادہ قسموں پر تم سے مواخذہ نہیں کرے گا لیکن پختہ قسموں پر (جن کے خلاف کرو گے) مواخذہ کرے گا تو اس کا کفارہ دس محتاجوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے اہل وعیال کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑے دینا یا ایک غلام آزاد کرنا اور جس کو میسر نہ ہو وہ تین روزے رکھے یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھا لو (اور اسے توڑ دو) اور (تم کو) چاہئے کہ اپنی قسموں کی حفاظت کرو اس طرح خدا تمہارے (سمجھانے کے) لیے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم شکر کرو

درس نمبر 53 تشریح آیات :

87۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 108۔

(آیت) ” نمبر 87 تا 89۔

” اے ایمان لانے والو ! تمہارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ تم انسان اور اللہ کے غلام ہوتے ہوئے ‘ اللہ کی الوہیت اور حاکمیت کے حقوق پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش نہ کرو ‘ اس لئے تمہارے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ کاموں اور اشیاء کو حرام قرار دو ‘ خصوصا پاکیزہ چیزوں کو۔ اس لئے تم پاک چیزوں کے کھانے اور پینے سے اس طرح نہ رکو کہ تم ان کو اپنے لئے حرام قرار دے لو ۔ اس لئے کہ اللہ نے یہ پاک چیزیں تمہارے لئے ہی تو پیدا کی ہیں اور پھر یہ کہ حلال و حرام کے حدود کا تعین کرنے والا تو اللہ ہی ہے ۔

(آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تُحَرِّمُواْ طَیِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللّہُ لَکُمْ وَلاَ تَعْتَدُواْ إِنَّ اللّہَ لاَ یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ (87) وَکُلُواْ مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّہُ حَلاَلاً طَیِّباً وَاتَّقُواْ اللّہَ الَّذِیَ أَنتُم بِہِ مُؤْمِنُونَ (88)

” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ جو پاک چیزیں اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہیں انہیں حرام نہ کرلو اور حد سے تجاوز نہ کرو ‘ اللہ کو زیادتی کرنے والے سخت ناپسند ہیں ۔ جو کچھ حلال وطیب رزق اللہ نے تم کو دیا ہے اسے کھاؤ پیو اور اس اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو ۔ A

” حقیقت یہ ہے کہ قانون سازی کے مسئلے کا تعلق خاص مسئلہ حاکمیت اور الوہیت کے ساتھ ہے ۔ قانون سازی کا حق اللہ کی حاکمیت کے ساتھ مخصوص اس لئے ہے کہ اللہ ہی انسانوں کا مالک اور خالق ہے اور وہی ہے جو انسانوں کو رزق فراہم کرتا ہے ۔ اس لئے یہ حق صرف اللہ کا ہے کہ وہ اپنی مخلوق کے لئے ‘ اپنے پیدا کردہ رزق میں سے بعض چیزوں کو حلال کر دے اور بعض کو حرام کر دے ۔ یہ ایک ایسی دلیل ہے جس کو انسانوں کی عقل بڑی آسانی سے مان لیتی ہے ۔ انسانوں کے نزدیک بھی کسی چیز کا مالک ہی یہ حق رکھتا ہے کہ وہ اپنی ممو کہ چیز میں جس طرح چاہے تصرف کرے اور جو شخص بھی کسی کے حق ملکیت پر دست درازی کرتا ہے تو اسے ظلم و زیادتی کا مرتکب تصور کیا جاتا ہے ۔ جو لوگ ایمان لا چکے ‘ ظاہر ہے کہ ان سے یہ توقع نہیں ہے کہ وہ اللہ کے حقوق پر دست درازی کریں گے اس لئے کہ اللہ پر ایمان اور پھر اللہ سے بغاوت دونوں ایک دل میں کس طرح جمع ہو سکتے ہیں ۔

یہ ہے وہ مسئلہ جسے یہ دو آیات ایسے واضح اسلوب میں پیش کرتی ہیں کوئی معقول شخص اس بارے میں کوئی مباحثہ اور مجادلہ نہیں کرسکتا اس لئے کہ اللہ دست درازی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ یہ مسئلہ ایک عام قاعدے اور اصول کو طے کرتا ہے کہ تمام لوگ اللہ کے بندے اور غلام ہیں اور اس مسئلے کے مطابق اپنا طرز عمل ڈھالنا تقاضائے ایمان ہے ۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ دو آیات اور ان سے آگلی آیت ایک خاص واقعہ میں نازل ہوئیں ۔ یہ واقعہ حضور ﷺ کے دور میں پیش آیا لیکن آیت عام ہے اور اسباب نزول کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ اسباب نزول کے ذریعے فہم قرآن میں اچھی مدد ملتی ہے ۔

ابن جریر نے نقل کیا ہے کہ ایک دن حضور ﷺ تشریف فرما تھے ۔ آپ نے لوگوں کو یاد دہانی کی ۔ آپ اٹھ کر چلے گئے اور آپ نے اس دن انہیں بہت نہ ڈرایا ۔ آپ کے جو ساتھی بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے کہا کہ ہم لوگ کچھ باتیں اور اعمال اپنی طرف سے کیوں نہ شروع کردیں ‘ نصاری نے تو ایسا کیا کہ بعض چیزوں کو اپنے اوپر حرام کرلیا ‘ ہمیں بھی چاہئے کہ ہم اپنے اوپر بعض چیزیں حرام کرلیں ۔ بعض نے کہا کہ وہ گوشت اور سرین نہ کھائے گا ۔ بعض نے کہا کہ وہ دن کو نہ کھائے گا ۔ بعض نے اپنے اوپر عورتیں حرام کرلیں ‘ یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی ۔ آپ نے فرمایا کہ لوگ بھی عجیب ہیں کوئی اپنے اوپر عورتوں کو حرام کرتا ہے کوئی کھانا حرام کرتا ہے کوئی نیند حرام کرتا ہے ۔ خبردار میں تو سوتا بھی ہوں کھڑا بھی ہوتا ہوں ‘ …

Al-Maaida 5:89Listen in Qur'an →
90

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِنَّمَا ٱلْخَمْرُ وَٱلْمَيْسِرُ وَٱلْأَنصَابُ وَٱلْأَزْلَٰمُ رِجْسٌۭ مِّنْ عَمَلِ ٱلشَّيْطَٰنِ فَٱجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پاسے (یہ سب) ناپاک کام اعمال شیطان سے ہیں سو ان سے بچتے رہنا تاکہ نجات پاؤ

(آیت) ” نمبر 90 تا 93۔

شراب ‘ جوا آستانے اور پانسے جاہلی معاشرے کی سب سے بڑی علامات تھیں اور یہ ایسی عادات تھیں جن کا جاہلی معاشرے کے اندر بہت زیادہ رواج تھا ۔ یہ تمام عادات دراصل ایک معاشرتی کل تھیں اور باہم مربوط تھیں اور جاہلی معاشرے کی پہچان تھیں ۔ اہل جاہلیت بڑی مقدار میں شراب استعمال کرتے تھے اور اس میں وہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے اور اس پر فخر کیا کرتے تھے ۔ انکی فخریہ حکایات اور فخریہ اشعار کا موضوع کثرت شراب نوشی ہوا کرتی تھی ۔ مجالس شراب کے ساتھ پھر جانوروں کا ذبح کرنا اور شراب کے ساتھ کباب اور تکے کھلانا بھی لازم تھا ۔ اس میں پینے اور پلانے والے سب شریک ہوتے اور اس طرح اس قسم کی مجالس میں سب کے لئے دلچسپی کا سامان ہوتا ۔ یہ ذبیحے وہ بتوں کے نام اور آستانوں پر کرتے تھے اور ان ذبیحوں کا خون بتوں کا خون بتوں پر ڈالتے تھے ۔ نیز وہ اپنے الہوں اور کاہنوں کے نام پر بھی بعض جانوروں کو ذبح کرتے تھے ۔ شراب نوشی اور دوسرے مواقع پر جو جانور ذبح کرتے تھے ‘ ان کے گوشت کو پھر وہ پانسوں کے ذریعے تقسیم کرتے تھے ۔ ہر شخص اپنے پانسے کے مقررہ حصے کا گوشت لیتا تھا ‘ جس کا پانسہ اونچا نکلا اس کا حصہ بھی زیادہ ہوتا تھا ۔ اسی طرح گوشت تقسیم ہوتا تھا ۔ اسی طرح گوشت تقسیم ہوتا ‘ یہاں تک کہ بعض اوقات جانور ذبح کرنے والے کے حصے میں کچھ نہ آتا اور وہ مکمل خسارے میں پڑجاتا ۔

ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی رسوم اور عادات باہم مربوط اور متعلق تھیں اور یہ عادات انہیں جاہلی طریقوں پر جاری تھیں ۔۔۔ اسلامی نظام زندگی نے تحریک کا آغاز ان رسوم کی اصلاح سے شروع نہیں کیا اس لئے کہ یہ رسوم اور عادات بعض فاسد نظریاتی تصورات پر قائم تھیں ۔ اگر محض اصلاح رسوم کی سطحی تحریک شروع کردی جاتی اور اصل اعتقادی نظریات کی بیخ کنی نہ کی جاتی تو یہ کام نہایت ہی سطحی ہوتا ۔ اسلام سے ہر گز یہ توقع نہ کی جاسکتی تھی کہ وہ جڑوں کو چھوڑ کر محض سطحی امور تک اپنے آپ کو محدود کر دے ۔ اسلام نے سب سے پہلے نفس انسانی کی پہلی گرہ یعنی عقائد ونظریات پر کلام کیا ۔ اس نے سب سے پہلے جاہلی عقائد و تصورات کو لیا اور انہوں اور انہیں جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا ۔ ان کی جگہ پاک وصاف اسلامی نظریہ حیات دیا اور یہ تصور اور نظریہ فطرت انسانی کی گہرائیوں تک اتار دیا ۔ اسلام نے متعدد الہوں کے بارے میں ان کے تصورات کو لیا اور انہیں جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا ۔ ان کی جگہ پاک وصاف اسلامی نظریہ حیات دیا اور یہ تصور اور نظریہ فطرت انسانی کی گہرائیوں تک اتار دیا ۔ اسلام نے متعدد الہوں کے بارے میں ان کے تصورار کے فساد کو ظاہر کیا اور ان کو ایک الہ حق کے عقیدے پر مجتمع کردیا ۔ جب ان کے دل و دماغ پر یہ عقیدہ توحید چھا گیا تو اب وہ فطری طور پر سوچنے کے لئے تیار ہوگئے کہ انکا الہ الحق کس بات کو پسند نہیں کرتا ۔ اس نظریاتی اصلاح سے پہلے وہ کب اپنی عادات ورسومات کو چھوڑنے کے لئے تیار ہو سکتے تھے وہ نظریاتی تبدیلی کے بغیر اپنے جاہلی پسندیدہ طریقوں کو چھوڑنے کے لئے تیار نہ تھے ۔ اگرچہ انہیں بار بار نصیحت کی جاتی ۔ فطرت کی گرہ درحقیقت عقیدے کی گرہ ہوتی ہے ۔ جب تک سب سے پہلے اس گرہ اور عقدے کو حل نہ کیا جائے اس وقت تک کوئی اخلاقی تعلیم ‘ کوئی تہذیب اخلاق کا پروگرام اور کوئی اجتماعی اصلاحی سکیم کامیاب نہیں ہو سکتی ۔ نظریہ دراصل انسانی فطرت کی کنجی ہے ۔ جب تک یہ کنجی لگا کر فطرت انسانی کو کھول کر نہیں دیا جاتا اس وقت تک اس کے نہاں خانے اور اس کی راہ ورسم کی تہ تک رسائی ممکن نہ ہوگی ۔ جب ہم اس کی ایک تنگ گلی کو کھولیں گے تو کئی اور تنگ گلیاں سامنے آئیں گی اور اگر ہم اس کا ایک پہلو روشن کرلیں گے تو دس اور تاریک پہلو سامنے آئیں گے ۔ ہم ایک گرہ کھولیں گے اور مزید دس گرہیں لگ جائیں گی ۔ ہم ایک راہ کھولیں گے تو دس راہیں …

Al-Maaida 5:90Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.