Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 21–30 of 120

21

يَٰقَوْمِ ٱدْخُلُوا۟ ٱلْأَرْضَ ٱلْمُقَدَّسَةَ ٱلَّتِى كَتَبَ ٱللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَرْتَدُّوا۟ عَلَىٰٓ أَدْبَارِكُمْ فَتَنقَلِبُوا۟ خَٰسِرِينَ

تو بھائیو! تم ارض مقدس (یعنی ملک شام) میں جسے خدا نے تمہارے لیے لکھ رکھا ہے چل داخل ہو اور (دیکھنا مقابلے کے وقت) پیٹھ نہ پھیر دینا ورنہ نقصان میں پڑ جاؤ گے

(آیت) ” نمبر 20 تا 26۔

یہ بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک حصہ ہے اور اسے یہاں تفصیل سے لیا گیا ہے ۔ یہ تفصیلات جس حکمت کے تحتی دی گئی ہیں اس کے کئی پہلو ہیں ۔

ان میں سے ایک یہ ہے کہ بنی اسرائیل ان لوگون میں سے ہیں جنہوں نے مدینہ طیبہ میں سب سے پہلے دعوت اسلامی کی مخالفت کی اس کے خلاف سازش کی ‘ مدینہ میں اس کے خلاف برسرپیکار رہے اور پورے جزیرۃ العرب میں اس کے ساتھ محاربت کرتے رہے ۔ وہ پہلے ہی دن سے جماعت مسلمہ کے خلاف برسرجنگ تھے ، انہوں نے مدینہ میں نفاق پیدا کیا اور منافقین کی پرورش کرتے رہے ۔ یہ لوگ ان منافقین کی امداد کرتے رہے اور یہ امداد اسلامی نظریہ حیات کے خلاف بھی تھی اور مسلمانوں کے خلاف بھی ۔ انہوں نے مشرکین کو مسلمانوں کے خلاف جنگ پر آمادہ کیا ‘ ان کے ساتھ لمبے چوڑے وعدے کئے اور ان کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کیں ۔ یہی لوگ تھے جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف افواہ سازی کا کام کیا ‘ خفیہ رویشہ دوانیاں کیں ‘ مکاریوں سے کام لیتے رہے اور اسلامی صفوں میں بےچینی پیدا کرتے رہے ۔ انہوں نے شکوک و شبہات بھی پھیلانے کی کوشش کی ۔ اسلامی عقائد میں بھی اور اسلامی قیادت کے خلاف بھی اور کچھ عرصہ بعد یہ لوگ مسلمانوں کے خلاف پوری طرح کھل کر سامنے آگئے ۔ اس لئے اس بات کی ضرورت تھی کہ جماعت مسلمہ کے سامنے انکی پوری حقیقت کو کھول کر رکھ دیا جائے تاکہ اسے معلوم ہو کہ اس کے دشمن کس قماش کے لوگ ہیں ‘ ان کا مزاج کیا ہے ‘ ان کی تاریخ کیا ہے ‘ ان کے وسائل عدوات کیا ہیں اور اس معرکے کی نوعیت کیا ہے جو انہوں نے مسلمانوں کے خلاف برپا کر رکھا ہے ۔

اللہ تعالیٰ کو اس بات کا علم تھا کہ یہ لوگ آنے والی پوری اسلامی تاریخ میں ملت اسلامیہ کہ دشمن رہیں گے بعینہ اسی طرح جس طرح یہ لوگ خود اپنی تاریخ میں ہمیشہ حق کے دشمن رہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی تاریخ ملت اسلامیہ کے سامنے رکھ دی اور اچھی طرح کھول کر رکھ دی اور ملت اسلامیہ کے خلاف یہ لوگ جو ذرائع کام میں لاتے تھے وہ بھی ان کے سامنے رکھ دیئے ۔

اس حکمت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ بنی اسرائیل اس دین کے حامل تھے جو حضرت محمد ﷺ کے آخری دین سے پہلے سچا دین تھا اور اسلام سے قبل بنی اسرائیل ایک طویل تاریخ رکھنے والی ملت تھے ، ان کے عقائد میں انحراف واقعہ ہوگیا تھا اور انہوں نے اس عہد و پیمان کی بار بار خلاف ورزی کی تھی جو انہوں نے اللہ کے ساتھ کیا ہوا تھا جو انہوں نے اللہ کے ساتھ کیا ہوا تھا ۔ اس نظریاتی انحراف اور اس عہد کی خلاف ورزی کی وجہ سے ان کی زندگی پر برے اثرات مرتب ہوگئے تھے اور ان تمام امور کا تقاضا یہ تھا کہ امت مسلمہ ان کو پوری تاریخ سے آگاہ ہو کیونکہ وہ اس سے قبل کی تمام رسالتوں کی امین اور وارث ہے اور ربانی نظریہ حیات اور صحیح عقائد کی نگہبان ہے ۔ ان وجوہات کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ امت مسلمہ کو ان تمام تاریخی انقلابات کا علم ہو اور اس کو معلوم ہو کہ کہاں کہاں ان لوگوں نے ٹھوکر کھائی اور اس کے کیا نتائج نکلے ۔ بنی اسرائیل کی زندگی اور ان کے اخلاق پر اس کے کیا نتائج مرتب ہوئے تاکہ اس تجربے کی وجہ سے تحریک اسلامی ان مقامات میں سنبھل کر چلے جہاں ٹھوکریں لگتی ہیں ‘ جہاں سے شیطان حملہ آور ہوتا ہے اور جہاں سے انحراف شروع ہوتا ہے تاکہ ان تاریخی تجربات کے نتیجے میں وہ صحیح راہ پر گامزن رہے ۔

اور اس حکمت کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ بنی اسرائیل کے تجربات کے کئی پہلو تھے ۔ یہ بہت طویل تجربات تھے اور اللہ تعالیٰ کو اس بات کا اچھی طرح علم تھا کہ جب اقوام وملل پر ایک طویل عرصہ گزر جاتا ہے تو وہ سنگدل ہوجاتی ہیں اور ان کی بعد کی نسلیں اصل راہ سے ہٹ جاتی ہیں اور یہ کہ امت مسلمہ کی تاریخ قیام قیامت تک طویل رہے گی اور اس پر ایسے ادوار آئیں گے جن مین وہ بعینہ بنی اسرائیل جیسے حالات میں مبتلا ہوجائے گی ، اس لئے اس …

Al-Maaida 5:21Listen in Qur'an →
22

قَالُوا۟ يَٰمُوسَىٰٓ إِنَّ فِيهَا قَوْمًۭا جَبَّارِينَ وَإِنَّا لَن نَّدْخُلَهَا حَتَّىٰ يَخْرُجُوا۟ مِنْهَا فَإِن يَخْرُجُوا۟ مِنْهَا فَإِنَّا دَٰخِلُونَ

وہ کہنے لگے کہ موسیٰ! وہاں تو بڑے زبردست لوگ (رہتے) ہیں اور جب تک وہ اس سرزمین سے نکل نہ جائیں ہم وہاں جا نہیں سکتے ہاں اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو ہم جا داخل ہوں گے

(آیت) ” قَالُوا یَا مُوسَی إِنَّ فِیْہَا قَوْماً جَبَّارِیْنَ وَإِنَّا لَن نَّدْخُلَہَا حَتَّیَ یَخْرُجُواْ مِنْہَا فَإِن یَخْرُجُواْ مِنْہَا فَإِنَّا دَاخِلُونَ (22)

” انہوں نے جواب دیا ” اے موسیٰ وہاں تو بڑے زبردست لوگ رہتے ہیں ‘ ہم وہاں ہر گز نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں ، ہاں اگر وہ نکل آئے تو ہم داخل ہونے کیلئے تیار ہیں ۔ ‘

یہاں آکر یہودیوں کی اصل سامنے آتی ہے وہ بالکل ننگے ہوجاتے ہیں اور ان پر بالکل مہین سا پردہ بھی نہیں رہتا ۔ یہ اس لئے کہ اب وہ ایک حقیقی خطرے کے سامنے کھڑے تھے ۔ اب وہ کسی قسم کی ظاہر داری بھی نہ کرسکتے تھے ۔ نہ وہ جھوٹی بہادری کا مظاہرہ اور بڑھکیں مار سکتے تھے ‘ نہ منافقت کرسکتے تھے ۔ خطرہ ان کی آنکھوں کے سامنے مجسم تھا اور قریب تھا ۔ اس لئے ان کو یہ بات بھی بچا نہ سکی کہ وہ اس سرزمین کے مالک ہیں اور یہ کہ اللہ نے وہ انکی قسمت میں لکھ دی ہے ‘ اس لئے کہ وہ تو نہایت ہی سستی فتح چاہتے تھے ‘ جس کی انہیں کوئی قیمت ادا کرنی نہ پڑے نہ اس کی راہ میں کوئی جدوجہد کرنی پڑے ۔ وہ اس قدر آرام دہ فتح چاہتے تھے جو ان پر من اور سلوی کی طرح نازل ہو کہتے ہیں :

(آیت) ” ۔۔۔۔۔۔ قَوْماً جَبَّارِیْنَ وَإِنَّا لَن نَّدْخُلَہَا حَتَّیَ یَخْرُجُواْ مِنْہَا فَإِن یَخْرُجُواْ مِنْہَا فَإِنَّا دَاخِلُونَ (22) لیکن فتح اور نصرت کی ذمہ داریاں وہ نہیں ہیں جو بنی اسرائیل کے زہن میں تھی ۔ ان کے دل تو ایمان سے فارغ تھے ۔ ان کے رجال مومن ان کو کہتے ہیں : ۔

Al-Maaida 5:22Listen in Qur'an →
23

قَالَ رَجُلَانِ مِنَ ٱلَّذِينَ يَخَافُونَ أَنْعَمَ ٱللَّهُ عَلَيْهِمَا ٱدْخُلُوا۟ عَلَيْهِمُ ٱلْبَابَ فَإِذَا دَخَلْتُمُوهُ فَإِنَّكُمْ غَٰلِبُونَ ۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَتَوَكَّلُوٓا۟ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

جو لوگ (خدا سے) ڈرتے تھے ان میں سے دو شخص جن پر خدا کی عنایت تھی کہنے لگے کہ ان لوگوں پر دروازے کے رستے سے حملہ کردو جب تم دروازے میں داخل ہو گئے تو فتح تمہارے ہے اور خدا ہی پر بھروسہ رکھو بشرطیکہ صاحبِ ایمان ہو

(آیت) ” قَالَ رَجُلاَنِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُونَ أَنْعَمَ اللّہُ عَلَیْْہِمَا ادْخُلُواْ عَلَیْْہِمُ الْبَابَ فَإِذَا دَخَلْتُمُوہُ فَإِنَّکُمْ غَالِبُونَ وَعَلَی اللّہِ فَتَوَکَّلُواْ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِیْنَ (23)

”(ان ڈرنے والوں میں دو شخص ایسے بھی تھے جن کو اللہ نے اپنی نعمت سے نوازا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ان جباروں کے مقابلے میں دروازے کے اندر گھس جاؤ ‘ جب تم اندر پہنچ جاؤ گے تو تم ہی غالب رہو گے ‘ اللہ پر بھروسہ رکھو اگر تم مومن ہو)

یہاں آکر معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ پر بھروسے اور خدا خوفی کی قدر و قیمت کیا ہے ؟ یہ دو شخص وہ تھے جو اللہ سے ڈرتے تھے اور ان کی خدا خوفی ان کے اندر اس قدر جرات پیدا کر رہی تھی کہ وہ جباروں کو خاطر میں نہ لاتے تھے ۔ اور ان کے اندر ایک موہوم خطرے کے مقا بے میں بےمثال شجاعت تھی ، یہ دونوں یہ شہادت دیتے تھے کہ شدت اور خطرات کے اوقات میں ایمان اور یقین کی کیا اہمیت ہوتی ہے ۔ ان دونوں کا موقف یہ بتاتا ہے کہ اللہ سے ڈرنے والے لوگوں کا موقف جباروں سے ڈر کے مواقع پر کیا ہوتا ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کے دل میں دو ڈر نہیں ڈالتا کہ ایک شخص اللہ جل شانہ سے بھی ڈرے اور وہ لوگوں سے بھی ڈرے ۔ پس جو شخص اللہ ڈرتا ہے وہ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا ۔ وہ کس جرات سے کہتے ہیں۔

(آیت) ” ادخلوا علیھم الباب ، فاذا دخلتموہ فانکم غلبون (5 : 23) (ان جباروں کے مقابلے میں دروازے میں گھس جاؤ جب تم اندر پہنچ جاؤ گے تو تم ہی غالب رہو گے) دلوں کی دنیا اور پھر معرکہ آرائی کی دنیا کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ اقدام کرو اور گھس جاؤ جب تم کسی قوم پر خود ان کے گھر کے اندر جا پہنچے تو ان کے دل ٹوٹ جائیں گے اور اسی قدر تمہارے حوصلے بڑھ جائیں گے ۔ اس طرح ان لوگوں کی نفسیات کے اندر شکست داخل ہوجائے گی اور تمہارے لئے فتح مقدر ہوجائے گی ۔

رہے اہل ایمان تو ان کا بھروسہ صرف اللہ پر ہوتا ہے ۔ (آیت) ” وعلی اللہ فتوکلوا ان کنتم مومنین “ (5 : 23) (اور صرف اللہ پر بھروسہ رکھو اگر تم مومن ہو) یہ ایمان کی خاصیت اور ایمان کی علامت ہے اور یہی ایمان کی منطق اور ایمان کا تقاضا ہے ۔

لیکن سوال یہ ہے کہ یہ دو مومن یہ بات کس سے کہہ رہے ہیں ۔ افسوس کہ ان کے مخاطب بنی اسرائیل ہیں۔

Al-Maaida 5:23Listen in Qur'an →
24

قَالُوا۟ يَٰمُوسَىٰٓ إِنَّا لَن نَّدْخُلَهَآ أَبَدًۭا مَّا دَامُوا۟ فِيهَا ۖ فَٱذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَٰتِلَآ إِنَّا هَٰهُنَا قَٰعِدُونَ

وہ بولے کہ موسیٰ! جب تک وہ لوگ وہاں ہیں ہم کبھی وہاں نہیں جا سکتے (اگر لڑنا ہی ضرور ہے) تو تم اور تمہارا خدا جاؤ اور لڑو ہم یہیں بیٹھے رہیں گے

(آیت) ” قَالُواْ یَا مُوسَی إِنَّا لَن نَّدْخُلَہَا أَبَداً مَّا دَامُواْ فِیْہَا فَاذْہَبْ أَنتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلا إِنَّا ہَاہُنَا قَاعِدُونَ (24)

(لیکن انہوں نے پھر یہی کہا کہ ” اے موسیٰ ہم تو وہاں کبھی نہ جائیں گے ‘ جب تک وہ وہاں موجود ہیں ۔ بس تم اور تمہارا رب ‘ دونوں جاؤ اور لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں) یوں بزدل صفوں سے نکل جاتے ہیں اور شرمندہ ہوجاتے ہیں ۔ وہ خطرات سے ڈر کر پانبر نجیر ہوجاتے ہیں ‘ جس طرح گدھوں کے پاؤں باندھ دیئے جاتے ہیں اور پھر وہ کوئی اقدام نہیں کرتے ۔ بزدلی اور بےشرمی آپس میں متضاد نہیں ہیں نہ ایک دوسرے سے دور ہیں ۔ یہ اوصاف بعض اوقات اکٹھے ہوجاتے ہیں ۔ ایک بزدل جب اپنے فرائض کی طرف آگے بڑھتا ہے تو وہ بزدلی دکھا کر پیچھے ہٹ جاتا ہے ۔ وہ اس طرح نکل جاتا ہے جس طرح اس نے فرض کو ترک کردیا ۔ پھر وہ اس مقصد ہی کو برا کہتا ہے ‘ اس دعوت کو بھی برا بھلا کہتا ہے ‘ جو اس سے بات کا مطالبہ کرتی ہے جو وہ کرنا نہیں چاہتا ۔

(آیت) ” فاذھب انت وربک فقاتلا انا ھھنا قعدون “۔ (5 : 24) (بس تم اور تمہارا رب دونوں جاؤ اور لڑو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں) یہ تھی ایک کمزور اور بزدل کی عاجزی اس کی زبان سے بہت ہی تیز ہے لیکن مقصد کی طرف بڑھنے کے لئے اس کے قدم بوجھ ہیں اور وہ تیروں کی چبھن محسوس کرتا ہے ۔ (آیت) ” فاذھب انت وربک “۔ (5 : 24) (جاؤ تم اور تمہارا رب) اگر وہ اب ہمیں جنگ پر مجبور کرتا ہے تو ہم اس کی الوہیت کو قبول نہیں کرتے ، یہ تمہارا رب ہے ۔ (آیت) ” انا ھھنا قعدون “۔ (5 : 24) (ہم تو یہاں ہی بیٹھے ہیں) ہمیں نہ تو مملکت کی ضرورت ہے ‘ نہ عزت کی ضرورت ہے ‘ نہ ارض موعودہ کی ضرورت ہے ۔ اس وقت تک اس میں جبار قوم موجود ہے ۔۔۔۔ یہ تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عظیم جدوجہد کا انجام ۔۔۔۔ طویل سفر ‘ اس میں ذلت و خواری ‘ اور بنی اسرائیل کی جانب سے بار بار انحراف ‘ پہلوتہی اور قدم قدم پر نافرمانی ۔۔۔۔۔ یقینا یہ ان کا انجام ہے کہ وہ ارض مقدس کی فتح سے الٹے پھرتے ہیں ، حالانکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے ساتھ ہیں اور وہ اس سرزمین کی دہلیز پر ہیں ۔ وہ اس سرزمین کی دہلیز پر ہیں ۔ وہ اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہدوپیمان سے پھرتے ہیں ۔ حالانکہ اس عہد قدیم کا اس عہد یعنی فتح بیت المقدس سے گہرا ربط تھا ۔ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس مایوسی کے عالم میں کریں تو کیا کریں ؟

(آیت) ” قال رب انی لا املک الا نفسی واخی فافرق بیننا وبین القوم الفسقین “۔ (5 : 25) (اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ” اے میرے رب ‘ میرے اختیار میں کوئی نہیں مگر میری اپنی ذات یا میرا بھائی ‘ پس تو ہمیں ان نافرمان لوگوں سے الگ کر دے ۔ “

یہ ایک ایسی پکار ہے جو رنج والم سے بھری ہوئی ہے ۔ اس میں ایک طرف التجاء ہے تو دوسری جانب مکمل تسلیم ورضا ہے اور اس کے بعد فیصلہ کن پختگی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اچھی طرح علم تھا اور یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ان کے بھائی کے سوا اور کوئی کا حامی نہیں رہا ہے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک شرمندہ انسان کے ضعف اور ایک نبی جو کلیم اللہ ہے ‘ اس کے ایمان کے بیچ میں کھڑے ہیں اور ایک راست باز مومن کی طرح عزم صمیم کئے ہوئے ہیں ۔ ان کے سامنے اس کے سوا اور کوئی راہ نہیں ہے کہ صرف اللہ کی متوجہ ہوں اور اس کے سامنے اپنے درد و دکھ کا اظہار بشکل سرگوشی کریں اور یہ مطالبہ کریں کہ اے اللہ مجھے اجازت دے دے کہ میں اس فاسق قوم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جدا ہوجاؤں اس لئے کہ جب انہوں نے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے اپنے پختہ عہد سے روگردانی اختیار کرلی تو اب ان کے ساتھ نبی کلیم کا تعلق ہی کیا رہ گیا ہے ؟ وہ ان کے ساتھ بوجہ نسب نامہ مربوط نہ تھے ‘ نہ یہ کہ ان کی تاریخ ایک ہے ‘ نہ ان کا واسطہ ان کے ساتھ اس اساس پر تھا کہ انہوں نے ایک جگہ مل …

Al-Maaida 5:24Listen in Qur'an →
25

قَالَ رَبِّ إِنِّى لَآ أَمْلِكُ إِلَّا نَفْسِى وَأَخِى ۖ فَٱفْرُقْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ ٱلْقَوْمِ ٱلْفَٰسِقِينَ

موسیٰ نے (خدا سے) التجا کی کہ پروردگار میں اپنے اور اپنے بھائی کے سوا اور کسی پر اختیار نہیں رکھتا تو ہم میں اور ان نافرمان لوگوں میں جدائی کردے

(آیت) ” قَالُواْ یَا مُوسَی إِنَّا لَن نَّدْخُلَہَا أَبَداً مَّا دَامُواْ فِیْہَا فَاذْہَبْ أَنتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلا إِنَّا ہَاہُنَا قَاعِدُونَ (24)

(لیکن انہوں نے پھر یہی کہا کہ ” اے موسیٰ ہم تو وہاں کبھی نہ جائیں گے ‘ جب تک وہ وہاں موجود ہیں ۔ بس تم اور تمہارا رب ‘ دونوں جاؤ اور لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں) یوں بزدل صفوں سے نکل جاتے ہیں اور شرمندہ ہوجاتے ہیں ۔ وہ خطرات سے ڈر کر پانبر نجیر ہوجاتے ہیں ‘ جس طرح گدھوں کے پاؤں باندھ دیئے جاتے ہیں اور پھر وہ کوئی اقدام نہیں کرتے ۔ بزدلی اور بےشرمی آپس میں متضاد نہیں ہیں نہ ایک دوسرے سے دور ہیں ۔ یہ اوصاف بعض اوقات اکٹھے ہوجاتے ہیں ۔ ایک بزدل جب اپنے فرائض کی طرف آگے بڑھتا ہے تو وہ بزدلی دکھا کر پیچھے ہٹ جاتا ہے ۔ وہ اس طرح نکل جاتا ہے جس طرح اس نے فرض کو ترک کردیا ۔ پھر وہ اس مقصد ہی کو برا کہتا ہے ‘ اس دعوت کو بھی برا بھلا کہتا ہے ‘ جو اس سے بات کا مطالبہ کرتی ہے جو وہ کرنا نہیں چاہتا ۔

(آیت) ” فاذھب انت وربک فقاتلا انا ھھنا قعدون “۔ (5 : 24) (بس تم اور تمہارا رب دونوں جاؤ اور لڑو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں) یہ تھی ایک کمزور اور بزدل کی عاجزی اس کی زبان سے بہت ہی تیز ہے لیکن مقصد کی طرف بڑھنے کے لئے اس کے قدم بوجھ ہیں اور وہ تیروں کی چبھن محسوس کرتا ہے ۔ (آیت) ” فاذھب انت وربک “۔ (5 : 24) (جاؤ تم اور تمہارا رب) اگر وہ اب ہمیں جنگ پر مجبور کرتا ہے تو ہم اس کی الوہیت کو قبول نہیں کرتے ، یہ تمہارا رب ہے ۔ (آیت) ” انا ھھنا قعدون “۔ (5 : 24) (ہم تو یہاں ہی بیٹھے ہیں) ہمیں نہ تو مملکت کی ضرورت ہے ‘ نہ عزت کی ضرورت ہے ‘ نہ ارض موعودہ کی ضرورت ہے ۔ اس وقت تک اس میں جبار قوم موجود ہے ۔۔۔۔ یہ تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عظیم جدوجہد کا انجام ۔۔۔۔ طویل سفر ‘ اس میں ذلت و خواری ‘ اور بنی اسرائیل کی جانب سے بار بار انحراف ‘ پہلوتہی اور قدم قدم پر نافرمانی ۔۔۔۔۔ یقینا یہ ان کا انجام ہے کہ وہ ارض مقدس کی فتح سے الٹے پھرتے ہیں ، حالانکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے ساتھ ہیں اور وہ اس سرزمین کی دہلیز پر ہیں ۔ وہ اس سرزمین کی دہلیز پر ہیں ۔ وہ اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہدوپیمان سے پھرتے ہیں ۔ حالانکہ اس عہد قدیم کا اس عہد یعنی فتح بیت المقدس سے گہرا ربط تھا ۔ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس مایوسی کے عالم میں کریں تو کیا کریں ؟

(آیت) ” قال رب انی لا املک الا نفسی واخی فافرق بیننا وبین القوم الفسقین “۔ (5 : 25) (اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ” اے میرے رب ‘ میرے اختیار میں کوئی نہیں مگر میری اپنی ذات یا میرا بھائی ‘ پس تو ہمیں ان نافرمان لوگوں سے الگ کر دے ۔ “

یہ ایک ایسی پکار ہے جو رنج والم سے بھری ہوئی ہے ۔ اس میں ایک طرف التجاء ہے تو دوسری جانب مکمل تسلیم ورضا ہے اور اس کے بعد فیصلہ کن پختگی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اچھی طرح علم تھا اور یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ان کے بھائی کے سوا اور کوئی کا حامی نہیں رہا ہے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک شرمندہ انسان کے ضعف اور ایک نبی جو کلیم اللہ ہے ‘ اس کے ایمان کے بیچ میں کھڑے ہیں اور ایک راست باز مومن کی طرح عزم صمیم کئے ہوئے ہیں ۔ ان کے سامنے اس کے سوا اور کوئی راہ نہیں ہے کہ صرف اللہ کی متوجہ ہوں اور اس کے سامنے اپنے درد و دکھ کا اظہار بشکل سرگوشی کریں اور یہ مطالبہ کریں کہ اے اللہ مجھے اجازت دے دے کہ میں اس فاسق قوم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جدا ہوجاؤں اس لئے کہ جب انہوں نے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے اپنے پختہ عہد سے روگردانی اختیار کرلی تو اب ان کے ساتھ نبی کلیم کا تعلق ہی کیا رہ گیا ہے ؟ وہ ان کے ساتھ بوجہ نسب نامہ مربوط نہ تھے ‘ نہ یہ کہ ان کی تاریخ ایک ہے ‘ نہ ان کا واسطہ ان کے ساتھ اس اساس پر تھا کہ انہوں نے ایک جگہ مل …

Al-Maaida 5:25Listen in Qur'an →
26

قَالَ فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ ۛ أَرْبَعِينَ سَنَةًۭ ۛ يَتِيهُونَ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ فَلَا تَأْسَ عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْفَٰسِقِينَ

خدا نے فرمایا کہ وہ ملک ان پر چالیس برس تک کے لیے حرام کر دیا گیا (کہ وہاں جانے نہ پائیں گے اور جنگل کی) زمین میں سرگرداں پھرتے رہیں گے تو ان نافرمان لوگوں کے حال پر افسوس نہ کرو

(آیت) ” قَالُواْ یَا مُوسَی إِنَّا لَن نَّدْخُلَہَا أَبَداً مَّا دَامُواْ فِیْہَا فَاذْہَبْ أَنتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلا إِنَّا ہَاہُنَا قَاعِدُونَ (24)

(لیکن انہوں نے پھر یہی کہا کہ ” اے موسیٰ ہم تو وہاں کبھی نہ جائیں گے ‘ جب تک وہ وہاں موجود ہیں ۔ بس تم اور تمہارا رب ‘ دونوں جاؤ اور لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں) یوں بزدل صفوں سے نکل جاتے ہیں اور شرمندہ ہوجاتے ہیں ۔ وہ خطرات سے ڈر کر پانبر نجیر ہوجاتے ہیں ‘ جس طرح گدھوں کے پاؤں باندھ دیئے جاتے ہیں اور پھر وہ کوئی اقدام نہیں کرتے ۔ بزدلی اور بےشرمی آپس میں متضاد نہیں ہیں نہ ایک دوسرے سے دور ہیں ۔ یہ اوصاف بعض اوقات اکٹھے ہوجاتے ہیں ۔ ایک بزدل جب اپنے فرائض کی طرف آگے بڑھتا ہے تو وہ بزدلی دکھا کر پیچھے ہٹ جاتا ہے ۔ وہ اس طرح نکل جاتا ہے جس طرح اس نے فرض کو ترک کردیا ۔ پھر وہ اس مقصد ہی کو برا کہتا ہے ‘ اس دعوت کو بھی برا بھلا کہتا ہے ‘ جو اس سے بات کا مطالبہ کرتی ہے جو وہ کرنا نہیں چاہتا ۔

(آیت) ” فاذھب انت وربک فقاتلا انا ھھنا قعدون “۔ (5 : 24) (بس تم اور تمہارا رب دونوں جاؤ اور لڑو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں) یہ تھی ایک کمزور اور بزدل کی عاجزی اس کی زبان سے بہت ہی تیز ہے لیکن مقصد کی طرف بڑھنے کے لئے اس کے قدم بوجھ ہیں اور وہ تیروں کی چبھن محسوس کرتا ہے ۔ (آیت) ” فاذھب انت وربک “۔ (5 : 24) (جاؤ تم اور تمہارا رب) اگر وہ اب ہمیں جنگ پر مجبور کرتا ہے تو ہم اس کی الوہیت کو قبول نہیں کرتے ، یہ تمہارا رب ہے ۔ (آیت) ” انا ھھنا قعدون “۔ (5 : 24) (ہم تو یہاں ہی بیٹھے ہیں) ہمیں نہ تو مملکت کی ضرورت ہے ‘ نہ عزت کی ضرورت ہے ‘ نہ ارض موعودہ کی ضرورت ہے ۔ اس وقت تک اس میں جبار قوم موجود ہے ۔۔۔۔ یہ تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عظیم جدوجہد کا انجام ۔۔۔۔ طویل سفر ‘ اس میں ذلت و خواری ‘ اور بنی اسرائیل کی جانب سے بار بار انحراف ‘ پہلوتہی اور قدم قدم پر نافرمانی ۔۔۔۔۔ یقینا یہ ان کا انجام ہے کہ وہ ارض مقدس کی فتح سے الٹے پھرتے ہیں ، حالانکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے ساتھ ہیں اور وہ اس سرزمین کی دہلیز پر ہیں ۔ وہ اس سرزمین کی دہلیز پر ہیں ۔ وہ اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہدوپیمان سے پھرتے ہیں ۔ حالانکہ اس عہد قدیم کا اس عہد یعنی فتح بیت المقدس سے گہرا ربط تھا ۔ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس مایوسی کے عالم میں کریں تو کیا کریں ؟

(آیت) ” قال رب انی لا املک الا نفسی واخی فافرق بیننا وبین القوم الفسقین “۔ (5 : 25) (اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ” اے میرے رب ‘ میرے اختیار میں کوئی نہیں مگر میری اپنی ذات یا میرا بھائی ‘ پس تو ہمیں ان نافرمان لوگوں سے الگ کر دے ۔ “

یہ ایک ایسی پکار ہے جو رنج والم سے بھری ہوئی ہے ۔ اس میں ایک طرف التجاء ہے تو دوسری جانب مکمل تسلیم ورضا ہے اور اس کے بعد فیصلہ کن پختگی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اچھی طرح علم تھا اور یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ان کے بھائی کے سوا اور کوئی کا حامی نہیں رہا ہے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک شرمندہ انسان کے ضعف اور ایک نبی جو کلیم اللہ ہے ‘ اس کے ایمان کے بیچ میں کھڑے ہیں اور ایک راست باز مومن کی طرح عزم صمیم کئے ہوئے ہیں ۔ ان کے سامنے اس کے سوا اور کوئی راہ نہیں ہے کہ صرف اللہ کی متوجہ ہوں اور اس کے سامنے اپنے درد و دکھ کا اظہار بشکل سرگوشی کریں اور یہ مطالبہ کریں کہ اے اللہ مجھے اجازت دے دے کہ میں اس فاسق قوم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جدا ہوجاؤں اس لئے کہ جب انہوں نے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے اپنے پختہ عہد سے روگردانی اختیار کرلی تو اب ان کے ساتھ نبی کلیم کا تعلق ہی کیا رہ گیا ہے ؟ وہ ان کے ساتھ بوجہ نسب نامہ مربوط نہ تھے ‘ نہ یہ کہ ان کی تاریخ ایک ہے ‘ نہ ان کا واسطہ ان کے ساتھ اس اساس پر تھا کہ انہوں نے ایک جگہ مل …

Al-Maaida 5:26Listen in Qur'an →
27

۞ وَٱتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ٱبْنَىْ ءَادَمَ بِٱلْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًۭا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ ٱلْءَاخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّكَ ۖ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ ٱللَّهُ مِنَ ٱلْمُتَّقِينَ

اور (اے محمد) ان کو آدم کے دو بیٹوں (ہابیل اور قابیل) کے حالات (جو بالکل) سچے (ہیں) پڑھ کر سنا دو کہ جب ان دونوں نے خدا (کی جناب میں) کچھ نیازیں چڑھائیں تو ایک کی نیاز تو قبول ہو گئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی (تب قابیل ہابیل سے) کہنے لگا کہ میں تجھے قتل کروں گا اس نے کہا کہ خدا پرہیزگاروں ہی کی (نیاز) قبول فرمایا کرتا ہے

(آیت) ” نمبر 27 تا 31۔

یہ ایک قصہ ہے جو بطور نمونہ شر اور ظلم یہاں لایا گیا ہے ۔ یہ ایک ایسے صریح ظلم کا نمونہ ہے جس کے لئے کوئی وجہ جواز نہ ہو اور یہی قصہ ایک ایسا نمونہ بھی پیش کرتا ہے جو نیک نفسی اور رواداری کا اعلی نمونہ ہے اور یہ نمونہ نہایت ہی پاک طینت اور صلح کل نمونہ ہے ۔ اس قصے میں یہ دونوں نمونے ایک دوسرے کے بالمقابل پیش کئے جاتے ہیں ۔ ہر اک اپنے مزاج کے مطابق اور اپنی فطرت کے مطابق عمل کرتا ہے ۔ یہ قصہ اس جرم کی نقشہ کشی کرتا ہے ‘ جو بدی اور صریح ظلم کا مظہر ہے اور اسے پڑھ کر انسانی ضمیر میں جوش آتا ہے اور وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ ایسے صریح ظلم کے خلاف قانون قصاص ضروری ہے ۔ ایک عادلانہ قانون نظام ہی اس بدی صریح ظلم کے ارتکاب سے روکتا ہے جس کے بعد یہ بدی ظلم کے ارتکاب سے رک جائے گی اور اسے ارتکاب جرم سے خوفزدہ کرکے باز رکھا جاسکے گا ۔ اگر اس تخویف کے بعد بھی بدی جرم کا ارتکاب کرتی ہے تو اسے منصفانہ سزا کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ وہی سزا جو اس بدی کے جرم کے بالکل مناسب ہو ‘ تاکہ معاشرے کے نیک نفس لوگوں کو بچایا جائے اور نیک نفس لوگوں کی جان ومال محفوظ ہوں اس کے لئے اس قصے میں جس قسم کے نیک نفس لوگوں کا نمونہ پیش کیا گیا ہے وہ اس کے مستحق ہیں کہ انہیں تحفظ دیا جائے ‘ وہ زندہ رہ سکیں ‘ امن سے رہیں اور ایک عادلانہ قانونی نظام وانتظام کے تحت رہیں ۔

قرآن کریم نے ان دو بھائیوں کے نام اور زمان ومکان کے بارے میں تفصیلات نہیں دی ہیں ‘ اگرچہ بعض روایات اس سلسلے میں ہابیل اور قابیل کے بارے میں وارد ہیں ۔ یہ دونوں حضرت آدم کے بیٹے تھے اور ان کے درمیان تنازعہ کی تفصیلات بھی ان روایات میں دی گئی ہیں کہ ان دونوں کا تنازعہ دو بہنوں کے سلسلے میں تھا ۔ لیکن ہم اس قصے کو اسی طرح مجمل چھوڑنے ہی کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہ تمام روایات قطعی الثبوت نہیں ہیں ۔ یہ اہل کتاب سے لی گئی ہیں ۔ یہ قصہ عہد قدیم میں آیا ہے جہاں دونوں کے نام بھی لئے گئے ہیں اور اس میں اس واقعہ کا زمان ومکان بھی دیا گیا ہے جیسا کہ روایات میں آتا ہے ۔ اس قصے کے متعلق جو ایک صحیح حدیث وارد ہے اس میں بھی تفصیلات نہیں دی گئیں ۔ یہ روایت حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ” کہ کوئی شخص بھی اگر ظلما قتل ہوگا تو حضرت آدم کے پہلے بیٹے پر اس خون کی ذمہ داری میں سے ایک حصہ ہوگا کیونکہ اس نے سب سے پہلے قتل انسان کا رواج ڈالا ۔ “ (روایت امام احمد) اس کا سلسلہ سند یہ ہے اعمش ‘ عبداللہ ابن مرہ ‘ مسروق ‘ عبداللہ ابن مسعود ؓ ابو داؤد کے سوا دوسرے محدثین نے بھی اسے روایت کیا ہے ۔ اس کے بارے میں ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ واقعہ حضرت انسان کی زندگی کے ابتدائی دنوں میں پیش آیا ۔ اور یہ قتل عمل کا پہلا واقعہ تھا اور قاتل کو اس قدر بھی معلوم نہ تھا کہ وہ اب میت کو کس طرح دفنائے ۔

اس قصے کو اسی مجمل چھوڑنا جس طرح قرآن کریم میں آیا ہے ۔ مقصد قصہ پر کوئی اثر نہیں ڈالتا ۔ جس غرض کے لئے اسے لایا گیا ہے وہ اچھی طرح سے پوری ہوجاتی ہے اور اس کے اشارات وہدایات پوری طرح سمجھ میں آجاتے ہیں ۔ قصے کے جو بنیادی مقاصد ہیں ‘ روایات کی تصیلات ان پر کوئی چیز زیادہ نہیں کرتی اس لئے ہم بھی اسے یہاں چھوڑ دیتے ہیں۔ نہ تفصیلات کی ضرورت ہے اور نہ اختصار کی ۔

(آیت) ” وَاتْلُ عَلَیْْہِمْ نَبَأَ ابْنَیْْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَاناً فَتُقُبِّلَ مِن أَحَدِہِمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الآخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّکَ قَالَ إِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّہُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ (27)

” اور ذرا انہیں آدم کے دو بیٹوں کا قصہ بھی بےکم وکاست سنا دو ۔ جب ان دونوں نے قربانی کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول کی گئی اور دوسرے کی نہ کی گئی۔ اس نے کہا ” میں تجھے مار ڈالوں گا ۔ “ اس نے جواب دیا ” اللہ تو متقیوں ہی کی نذریں قبول …

Al-Maaida 5:27Listen in Qur'an →
28

لَئِنۢ بَسَطتَ إِلَىَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِى مَآ أَنَا۠ بِبَاسِطٍۢ يَدِىَ إِلَيْكَ لِأَقْتُلَكَ ۖ إِنِّىٓ أَخَافُ ٱللَّهَ رَبَّ ٱلْعَٰلَمِينَ

اور اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے مجھ پر ہاتھ چلائے گا تو میں تجھ کو قتل کرنے کے لئے تجھ پر ہاتھ نہیں چلاؤں گا مجھے تو خدائے رب العالمین سے ڈر لگتا ہے

(آیت) ” لَئِن بَسَطتَ إِلَیَّ یَدَکَ لِتَقْتُلَنِیْ مَا أَنَاْ بِبَاسِطٍ یَدِیَ إِلَیْْکَ لَأَقْتُلَکَ إِنِّیْ أَخَافُ اللّہَ رَبَّ الْعَالَمِیْنَ (28)

” اگر تو مجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ اٹھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ نہ اٹھاؤں گا ۔ میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں ۔

یوں امن تقوی اور صلح کل کے نمونے کو مصور انداز میں یہاں پیش کردیا جاتا ہے ۔ یہ نمونہ ایک ایسے وقت میں پیش کیا جاتا ہے ‘ جس میں ایک عام انسانی ضمیر بھی نہایت اشتعال میں آجاتا ہے اگرچہ وہ بہت ٹھنڈا ہو۔ ایسے حالات میں ہر غیر جانبدار انسان ‘ ہر باضمیر انسان ضمیر بھی نہایت اشتعال میں آجاتا ہے اگرچہ وہ بہت ٹھنڈا ہو ۔ ایسے حالات میں ہر غیر جانبدار انسان ‘ ہر باضمیر انسان ظالم کے مقابلے میں اور مظلوم کے حق میں اٹھ جاتا ہے ۔ ان حالات میں بھی یہ مظلوم ‘ نہایت سنجیدہ ‘ نہایت مطمئن ہے حالانکہ وہ کھلی جارحیت کے خطرے سے دو چار ہے لیکن اس کا دل رب العالمین کے خوف سے بھرا ہوا ہے ‘ اس لئے وہ مطمئن ہے ۔

یہ نرم اور دلنواز بات اس کے لئے کافی تھی کہ اس دشمنی کو دوستی میں بدل دے ۔ حسد کو ٹھنڈا کرے ‘ شر کا جوش کم کردے ‘ ہیجان زدہ اعصاب کو ٹھنڈا کرکے اس شخص کو بھائی چارے کی محبت کے اندر لے آئے اور اس کے دل میں تقوی کا احساس پیدا ہوجائے ۔ ہاں یہ طرز عمل اس کے لئے بالکل کافی تھا لیکن یہ شخص باز نہیں آیا چناچہ نیک بھائی اسے متنبہ کرتا ہے اور آخرت کے برے انجام سے اسے ڈراتا ہے ۔

Al-Maaida 5:28Listen in Qur'an →
29

إِنِّىٓ أُرِيدُ أَن تَبُوٓأَ بِإِثْمِى وَإِثْمِكَ فَتَكُونَ مِنْ أَصْحَٰبِ ٱلنَّارِ ۚ وَذَٰلِكَ جَزَٰٓؤُا۟ ٱلظَّٰلِمِينَ

میں چاہتا ہوں کہ تو میرے گناہ میں بھی ماخوذ ہو اور اپنے گناہ میں بھی پھر (زمرہ) اہل دوزخ میں ہو اور ظالموں کی یہی سزا ہے

(آیت) ” إِنِّیْ أُرِیْدُ أَن تَبُوء َ بِإِثْمِیْ وَإِثْمِکَ فَتَکُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ وَذَلِکَ جَزَاء الظَّالِمِیْنَ (29)

” میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ تو ہی سمیٹ لے اور دوزخی بن کر رہے ۔ ظالموں کے ظلم کا یہی ٹھیک بدلہ ہے ۔ “

اگر تم میری طرف قتل کیلئے ہاتھ بڑھاؤ تو میرا مزاج تو یہ نہیں ہے کہ میں یہی کام تمہارے ساتھ کروں ۔ نہ یہ میری طبیعت ہے اس لئے کہ میں یہ تصور بھی نہیں کرسکتا کہ میں اپنے بھائی کو قتل کر دو ۔ میرا ذہن ہی اس طرف نہیں جاتا۔ میں یہ کام اس لئے نہیں کرتا کہ میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں ۔ یہ بات نہیں ہے کہ میں اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دے سکتا ۔ اس لئے میں تمہیں چھوڑتا ہوں کہ تم اپنے سابقہ گناہوں کے ذخیرے میں جن کی وجہ سے تمہاری نذر ہی مسترد ہوئی میرے قتل کے گناہ کا اضافہ بھی کرلے ۔ اس طرح تمہارا گناہ بھی بڑھے گا اور پھر سزا بھی بڑھتی چلی جائے گی ۔ (آیت) ” وذلک جزاء الظلمین “۔ (ظالموں کا یہی انجام ہوتا ہے)

اس طرح اس صالح بھائی نے ظالم کے سامنے جرم قتل کے ارتکاب سے اپنے خوف کو مصور کرکے پیش کیا تاکہ یہ ظالم بھائی اس ظلم کے ارتکاب سے باز آجائے جس پر اس کا نفس اسے بار بار آمادہ کرتا ہے اور پھر اسے اس طرز عمل پر شرمندہ کر دے کہ ایک بھائی ‘ صلح کل بھائی ‘ خدا ترس بھائی کے خلاف وہ کس قدر بری طرح سوچ رکھتا ہے ۔

اس خدا ترس بھائی نے ظالم کے سامنے جرم قتل کے بھیانک نتائج پیش کئے تاکہ وہ اس گناہ سے متنفر ہوجائے اور اسے دو چند سہ چند گناہ سے نکل آنے میں بہتری نظر آجائے اور وہ اللہ رب العالمین کا خوف اپنے دل کے اندر رکھے ۔ اس سلسلے میں یہ خدا ترس بھائی اس مقام تک چلا جاتا ہے جہاں تک کوئی انسان نہیں جاسکتا اور اس سے آگے شرک کے دفعیہ کے لئے اور کوئی صورت ہی نہیں رہتی ۔

لیکن جب تک ہمیں معلوم نہ ہو کہ اس کا انجام کیا ہوا اس شریر بھائی اور مفسد بھائی کی تصویر مکمل نہیں ہو سکتی ۔ اس انتہائی مثبت طرز عمل کا جواب وہ کیا دیتا ہے ۔ ؟

Al-Maaida 5:29Listen in Qur'an →
30

فَطَوَّعَتْ لَهُۥ نَفْسُهُۥ قَتْلَ أَخِيهِ فَقَتَلَهُۥ فَأَصْبَحَ مِنَ ٱلْخَٰسِرِينَ

مگر اس کے نفس نے اس کو بھائی کے قتل ہی کی ترغیب دی تو اس نے اسے قتل کر دیا اور خسارہ اٹھانے والوں میں ہو گیا

(آیت) ” فَطَوَّعَتْ لَہُ نَفْسُہُ قَتْلَ أَخِیْہِ فَقَتَلَہُ فَأَصْبَحَ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ (30)

” آخرکا اس کے نفس نے اپنے بھائی کا قتل اس کے لئے آسان کردیا اور وہ اسے مار کر ان لوگوں میں شامل ہوگیا جو نقصان اٹھانے والے ہیں ۔

ان تمام کوششوں کے باوجود اس وعظ ‘ اس نصیحت اور ڈراوے کے باوجود یہ شریر شخصیت جرم پر آمادہ ہوجاتی ہے اور جرم کا ارتکاب ہوجاتا ہے ۔ اس کے نفس نے اس کے لئے تمام نتائج آسان کردیئے ۔ تمام رکاوٹیں دور کردیں ۔ قتل پر وہ آسانی سے آمادہ کردیا گیا ۔ اس نے قتل کر ہی دیا لیکن کسے ؟ اپنے بھائی کو اور اب وہ خوفناک انجام کا مستحق ہے ۔ (آیت) ” فاصبح من الاخسرین “۔ (5 : 30) (وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگیا)

اس نے اپنے نفس کا نقصان کیا ۔ اسے ہلاکت میں ڈال دیا ۔ وہ اپنے بھائی کا نقصان کر گیا ‘ جو اس کا ناصر اور ساتھی تھا ۔ اس نے دنیا کا نقصان اس طرح کیا کہ اس کی زندگی اس دنیا میں تلخ ہوگئی اور آخرت کا نقصان یوں ہوگا کہ آخرت میں اپنے اس قتل کا بھی بدلہ بھگتے گا اور بعد میں آنے والے تمام قاتلوں کے گناہ میں بھی حصہ دار ہوگا ۔

اب اس کے لئے اس کے جرم کو ایک نئی شکل میں لاتا جاتا ہے ۔ بھائی کا لاشہ پڑا ہے ‘ روح نکل چکی ہے ۔ گوشت کا ڈھیر ہے اور متعفن ہو رہا ہے ۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جو ناقابل برداشت ہے ‘ ایک لاش اس کا گناہ اب لاش کی صورت میں ہے ۔

اب اللہ کی مشیت یہ ہے کہ یہ ذات شریر اپنے کئے کے سامنے عاجز کھڑی ہو ‘ سمجھ نہ آئے کہ اب اس لاش کے ساتھ کیا کرے ۔ ابھی تو وہ قاتل ‘ خونریز اور سخت گیر تھا ۔ اور اب بےبس ۔ سمجھ نہیں آتی کہ اس لاش کو کس طرح ٹھکانے لگائے اب تو وہ ایک پرندے سے بھی عاجز ہے ۔

Al-Maaida 5:30Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.