Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 11–20 of 120

11

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ هَمَّ قَوْمٌ أَن يَبْسُطُوٓا۟ إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ فَكَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنكُمْ ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُؤْمِنُونَ

اے ایمان والو! خدا نے جو تم پر احسان کیا ہے اس کو یاد کرو۔ جب ایک جماعت نے ارادہ کیا کہ تم پر دست درازی کریں تو اس نے ان کے ہاتھ روک دیئے اور خدا سے ڈرتے رہوں اور مومنو کو خدا ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے

(آیت) ” نمبر 11۔

اس آیت کے مفہوم میں اختلاف ہے لیکن راجح بات یہ ہے کہ اس سے مراد وہ واقعہ ہے جو یوم حدیبیہ پر پیش آیا جب ایک گروہ مسلمانوں اور رسول اللہ ﷺ کے خلاف غداری کر کے چاہتا تھا کہ غفلت میں ان پر حملہ کر دے مگر اللہ تعالیٰ نے انکو مسلمانوں کے ہاتھوں میں قیدی بنا دیا (تفصیلات کے لئے دیکھئے سورة فتح)

غرض حادثہ کیسا بھی ہو ‘ بہرحال یہاں اعتبار اور اہمیت اس بات کی ہے جو یہاں اسلام کے نظام تربیت میں پیش نظر ہے اور وہ یہ کہ غصے اور دشمنی کو فرو کرنا چاہئے اور اس طرح دشمنوں کے خلاف اپنے دلوں میں پائے جانے والے کئے اور دشمنی کو نکالنا چاہئے تاکہ مسلمانوں کے دل مطمئن ہوجائیں اور وہ ٹھنڈے دل سے سوچیں اور یہ یقین رکھیں کہ اللہ ان کا نگہبان ہے اور ان کا محافظ ہے ۔ اس نرمی ‘ سنجیدگی اور اطمینان کی وجہ سے مسلمانوں کو ضبط نفس حاصل ہوتا ہے ان کے دلوں میں رواداری پیدا ہوتی ہے اور وہ سہولت سے عدل و انصاف قائم کرتے ہیں ۔ مسلمان اس بارے میں ندامت محسوس کریں گے اگر وہ پھر بھی اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کو پورا نہ کریں ‘ حالانکہ وہ ہر وقت ان کا نگہبان اور محافظ ہے ‘ اور ان کی طرف بڑھنے والے ہاتھ کو پکڑ رہا ہے ۔ دوسری جگہ آیت یہ ہے :

(آیت) ” اذ ھم قوم ان یبسطوا الیکم ایدیھم فکف ایدیھم عنکم “۔ (5 : 11) (جب ایک قوم نے تم پر دست درازی کا ارادہ کرلیا تھا مگر اللہ نے ان کے ہاتھ تم پر اٹھنے سے روک دیئے)

ہاتھوں کا آگے بڑھنا اور پکڑنا اور پھر ان کا روک دیا جانا ‘ یہ انداز تعبیر ایک زندہ اور مصور انداز تعبیر ہے اور یہ معنوی انداز سے زیادہ موثر ہے ۔ اس تعبیر کے اندر تصویر اور حرکت اسکریں پر سامنے آجاتی ہے ۔ یہ انداز تعبیر بات کو زور دار اور وزنی بنا دیتا ہے ۔ یوں نظر آتا ہے کہ یہ بالکل ایک نیا اسلوب ہے جو پہلی مرتبہ استعمال ہوا ہے اور اس میں ایک محسوس صورت حال بھی نظروں کے سامنے آجاتی ہے ۔ اور وہ متحرک صورت میں تصور کے اسکرین پر دوڑتی ہے یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز بیان ہے اور اسی وجہ سے قرآن معجز ہے ۔

درس نمبر 47 ایک نظر میں :

سابقہ سبق کے آخر میں اس معاہدے کا تذکرہ ہوا تھا جو اللہ تعالیٰ اور مسلمانوں کے درمیاں طے پایا تھا اور یہ معاہدہ کر کے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر جو عظیم احسان کیا تھا وہ انہیں یاد دلایا تھا ۔ یہ اس لئے کہ وہ اس معاہدے کی رو سے ان پر عائد ہونے والی ڈیوٹیوں کو اچھی طرح ادا کریں اور اس بات سے ڈریں کہ وہ اس معاہدے کو توڑ نہ دیں اور اس کی خلاف ورزی نہ کریں ۔

اس پورے سبق میں وہ تفصیلات دی گئی ہیں جن میں اہل کتاب نے اپنے ان معاہدوں کی خلاف ورزیاں کیں جو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کئے تھے ، یہ بات بھی بتائی گئی ہے کہ ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں انہیں اس دنیا میں جو سزائیں دی گئیں وہ کس قدر سخت تھیں ، یہ اس لئے کہ ایک طرف تو یہ وضاحت جماعت مسلمہ کے لئے ایک تاریخی نصیحت اور عبرت کا کام کرے اور اہل کتاب کی حقیقی صورت حال کی تفصیلات ان کی آنکھوں کے سامنے آجائیں اور دوسری جانب انہیں بتایا جائے کہ اللہ کی سنت اٹل ہوتی ہے اور وہ اپنے فیصلوں میں کسی کے ساتھ کوئی رو رعایت نہیں کرتا ۔ تیسرے یہ کہ یہ معلوم ہوجائے کہ اہل کتاب کی اصل حقیقت کیا ہے اور تاریخ میں ہمیشہ ان کا موقف کیا رہا ہے ۔ تاکہ مسلمانوں کے خلاف ان کی جانب سے کی جانے والی سازشوں کا اچھی طرح دفعیہ کیا جائے اور ان کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کو ناکام کیا جاسکے ، یہ سازشیں اور اپنے دینی ثابت قدمی کے رنگ مین کرتے تھے حالانکہ وہ ہمیشہ ان معاہدوں کو توڑتے رہے تھے ۔

اس سبق میں اللہ کے اس معاہدے کا جائزہ بھی لیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے قوم موسیٰ کے ساتھ اس وقت کیا تھا ‘ جب اس کو مصر کی محکومانہ اور رسوا کن زندگی سے نجات دی گئی تھی ۔ اس میثاق کو بھی بنی اسرائیل نے توڑد یا تھا ۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس …

Al-Maaida 5:11Listen in Qur'an →
12

۞ وَلَقَدْ أَخَذَ ٱللَّهُ مِيثَٰقَ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ ٱثْنَىْ عَشَرَ نَقِيبًۭا ۖ وَقَالَ ٱللَّهُ إِنِّى مَعَكُمْ ۖ لَئِنْ أَقَمْتُمُ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَيْتُمُ ٱلزَّكَوٰةَ وَءَامَنتُم بِرُسُلِى وَعَزَّرْتُمُوهُمْ وَأَقْرَضْتُمُ ٱللَّهَ قَرْضًا حَسَنًۭا لَّأُكَفِّرَنَّ عَنكُمْ سَيِّـَٔاتِكُمْ وَلَأُدْخِلَنَّكُمْ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ ۚ فَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ مِنكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ

اور خدا نے بنی اسرائیل سے اقرار لیا اور ان میں ہم نے بارہ سردار مقرر کئے پھر خدا نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں اگر تم نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے رہو گے اور میرے پیغمبروں پر ایمان لاؤ گے اور ان کی مدد کرو گے اور خدا کو قرض حسنہ دو گے تو میں تم سے تمہارے گناہ دور کر دوں گا اور تم کو بہشتوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں پھر جس نے اس کے بعد تم میں سے کفر کیا وہ سیدھے رستے سے بھٹک گیا

(آیت) ” نمبر 12 تا 14 ۔

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا وہ دو فریقوں کے درمیان معاہدہ تھا ۔ اس معاہدے کی عبارت شرط اور جزائے شرط کے انداز میں تھی ۔ قرآن کریم نے اس معاہدے کی شرط اور اجزاء کو بعینہ نقل کیا ہے ۔ یہ اصل عبارت عہد کے حالات اور واقعہ عقد کے ذکر کے بعد دی گئی ہے ۔ یہ عہد اللہ تعالیٰ اور بنی اسرائیل کے 12 نمائندوں کے درمیان ہوا تھا ۔ یہ نمائندے بنی اسرائیل کے 12 قبائل کے نمائندے تھے ۔ یہ 12 قبائل حضرت یعقوب (علیہ السلام) (جن کا نام اسرائیل تھا) کے پوتے اور ان کی اولاد تھے ۔ ان نمائندوں کی تعداد 12 تھی اور اس معاہدے کی عبارت یہ تھی :

(آیت) ” ً وَقَالَ اللّہُ إِنِّیْ مَعَکُمْ لَئِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلاَۃَ وَآتَیْْتُمُ الزَّکَاۃَ وَآمَنتُم بِرُسُلِیْ وَعَزَّرْتُمُوہُمْ وَأَقْرَضْتُمُ اللّہَ قَرْضاً حَسَناً لَّأُکَفِّرَنَّ عَنکُمْ سَیِّئَاتِکُمْ وَلأُدْخِلَنَّکُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الأَنْہَارُ فَمَن کَفَرَ بَعْدَ ذَلِکَ مِنکُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاء السَّبِیْلِ (12)

” اور ان سے کہا تھا کہ ” میں تمہارے ساتھ ہوں ، اگر تم نے نماز قائم رکھی اور زکوۃ دی اور میرے رسولوں کو مانا اور ان کی مدد کی اور اپنے خدا کو اچھا قرض دیتے رہے تو یقین رکھو کہ میں تمہاری برائیاں تم سے زائل کر دوں گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی مگر اس کے بعد جس نے تم میں سے کفر کی روش اختیار کی تو درحقیقت اس نے سواء السبیل گم کردی ۔ “

(انی معکم) میں تمہارے ساتھ ہوں ‘ کس قدر عظیم عہد ہے ۔ جس کی حمایت میں اللہ ہو ‘ اس کے خلاف کون ہو سکتا ۔ اور جو چیز بھی اس کے خلاف ہو ‘ نہ اس کی کوئی حقیقت ہوگی ‘ نہ اثر ہوگا اور جس کے ساتھ اللہ ہو اگا تو وہ ہر گز راستہ نہ بھولے گا ‘ اس لئے کہ اللہ جس کا ساتھی ہو وہ ہدایت پر ہی ہوگا ۔ پھر اللہ اس کے لئے کافی بھی ہوگا ۔

جس کے ساتھ اللہ ہو تو نہ ہو پریشان ہوگا اور نہ نامراد ہوگا کیونکہ اللہ کے ساتھ اس کی نزدیکی اور قرب اسے مطمئن کردیتا ہے اور اسے کامیاب کردیتا ہے ۔ غرض جو اللہ کا ساتھی ہو اور جس کا ساتھی اللہ ہوا تو اس کا ضامن اللہ ہوتا ہے ۔ وہ مراد کو پہنچ جاتا ہے ۔ اس مقام بلند پر اسے مزید کسی چیز کی ضرورت یا طلب نہیں رہتی ۔

لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی رفاقت کا یہ اعلان محض گپ اور مزاح میں نہیں کیا یا ان کے ساتھ کسی خاص دوستی کی وجہ سے نہیں کیا اور نہ یہ ان کی کوئی ذاتی بزرگی کا استحقاق ہے کہ جس کے نہ کوئی اسباب ہیں اور نہ اس کے لئے کچھ شرائط وقیود ہیں ۔ بلکہ یہ رفاقت ایک باقاعدہ معاہدے کے تحت طے پائی ہے ۔ یہ شرط وجزاء پر مبنی ہے ۔

وہ شرط یہ ہے کہ وہ نماز قائم کریں گے ۔ صرف نماز کی ادائیگی کافی نہیں ہے بلکہ اس کا قیام اس طرح ضروری ہے کہ اس کے پورے اصول اس کے اندر قائم ہوجائیں اور وہ اللہ اور اس کے بندے کے درمیان پورا رابطہ ہو ۔ نماز ان کے لئے ایک تہذیبی ‘ تربیتی عنصر ہو ‘ اللہ تعالیٰ کے سیدھے نظام تربیت اور نظام حیات کے مطابق ۔ اس طرح کہ یہ نماز نہیں تمام فحاشیوں سے روکتی ہو ‘ تمام برائیوں سے منع کرتی ہو اور نماز کو اس بات سے حیا آتی ہو کہ ہو فحاشی اور ناپسندیدہ افعال کے ذخیرے کے ساتھ اللہ کے دربار میں حاضر رہے ‘ منکرات لئے ہوئے ۔

اللہ نے انہیں جو رزق اور دولت دی ہے اس کا حق نعمت ادا کرتے ہوئے وہ زکوۃ کی ادائیگی باقاعدگی کے ساتھ کرتا ہو اور یہ خیال کرتا ہو کہ اصل مالک اللہ ہے اور وہ اس مال کے تصرف میں اللہ کی پیروی کر رہا ہے ۔ اس لئے کہ اللہ اصل مالک ہے اور اللہ کی مال میں لوگ بطوروکلاء اور ایجنٹ تصرفات کرتے ہیں ۔ پھر زکوۃ کی ادائیگی اس لئے بھی ضروری ہے تاکہ اسلامی معاشرے کی اجتماعی ضروریات کو اس کے ذریعے پورا کیا جاسکے ۔ نیز اسلامی نظام معیشت کے اس زریں اصول کو …

Al-Maaida 5:12Listen in Qur'an →
13

فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَٰقَهُمْ لَعَنَّٰهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَٰسِيَةًۭ ۖ يُحَرِّفُونَ ٱلْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِۦ ۙ وَنَسُوا۟ حَظًّۭا مِّمَّا ذُكِّرُوا۟ بِهِۦ ۚ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلَىٰ خَآئِنَةٍۢ مِّنْهُمْ إِلَّا قَلِيلًۭا مِّنْهُمْ ۖ فَٱعْفُ عَنْهُمْ وَٱصْفَحْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُحْسِنِينَ

تو ان لوگوں کے عہد توڑ دینے کے سبب ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت کر دیا یہ لوگ کلمات (کتاب) کو اپنے مقامات سے بدل دیتے ہیں اور جن باتوں کی ان کو نصیحت کی گئی تھی ان کا بھی ایک حصہ فراموش کر بیٹھے اور تھوڑے آدمیوں کے سوا ہمیشہ تم ان کی (ایک نہ ایک) خیانت کی خبر پاتے رہتے ہو تو ان کی خطائیں معاف کردو اور (ان سے) درگزر کرو کہ خدا احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

(آیت) ” فَبِمَا نَقْضِہِم مِّیْثَاقَہُمْ لَعنَّاہُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَہُمْ قَاسِیَۃً یُحَرِّفُونَ الْکَلِمَ عَن مَّوَاضِعِہِ وَنَسُواْ حَظّاً مِّمَّا ذُکِّرُواْ بِہِ ۔

” پھر یہ انکو اپنے عہد کو توڑ ڈالنا تھا جس کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دور پھینک دیا اور انکے دل کو سخت کردیا ، اب ان کا حال یہ ہے کہ الفاظ کا الٹ پھیر کر کے بات کو کہیں سے کہیں لے جاتے ہیں ۔ جو تعلیم انہیں دی گئی تھی اس کا بڑا حصہ بھول چکے ہیں ‘ ‘

اللہ کا فرمان کس قدر سچا ہے ۔ آج بھی یہودیوں کی خصوصیات یہی ہیں ۔ یہ وہ لعنت ہے جو ان کے ماتھے سے ہو ہر وقت عیاں ہے ۔ اس سے ان کی اصل فطرت اور جبلت ظاہر ہوتی ہے ۔ جس پر خدا کی لعنت ہے وہ درگاہ ہدایت سے راندہ ہے ۔ ان کے خدوخال میں بدبختی چمکتی ہے ۔ ان کے چہرے پر اللہ کی رحمت کا نشان نہیں ہوتا ہے ۔ ان کے معاملات انسانی جذبات سے خالی ہوتے ہیں ‘ اگرچہ وہ مکاری سے یا خوف کی وجہ سے زبردستی اپنے چہروں پر مسکراہٹ لائیں اور بات میں نرمی پیدا کریں اور باہم ملاقات میں نہایت فطرت اور جبلت ظاہر ہوتی ہے ۔ جس پر خدا کی لعنت ہے وہ درگاہ ہدایت سے راندہ ہے ۔ ان کے خدوخال میں بدبختی چمکتی ہے ۔ ان کے چہرے پر اللہ کی رحمت کا نشان نہیں ہوتا ہے ۔ ان کے معاملات انسانی جذبات سے خالی ہوتے ہیں ‘ اگرچہ وہ مکاری سے یا خوف کی وجہ سے زبردستی اپنے چہروں پر مسکراہٹ لائیں اور بات میں نرمی پیدا کریں اور باہم ملاقات میں نہایت شرافت سے کام لیں ۔ اس لئے کہ چہرے مہرے کی سختی اور خدوخال میں خشکی اس بات کا اظہار کرتی ہے کہ اس شخص کا دل خشک اور اس کا مزاج کرخت ہے ۔ اس کے علاوہ ان کی اصل خصوصیت یہ ہے کل وہ بات کو اپنی جگہ سے ہٹاتے ہیں ۔ انہوں نے پہلے اپنی کتاب تورات میں تحریف کی اور اس کی وہ شکل بگاڑ دی جس پر وہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل فرمائی تھی ۔ یہ تحریف یا تو اس طرح کی گئی کہ انہوں نے اس کتاب میں اپنی مرضی کی چیزوں کا اضافہ کردیا اور یہ ظاہر کیا کہ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے اور یا یہ تحریف اس طرح ہوئی کہ آیات تو اصلی ہی باقی رہیں لیکن انہوں نے ان کا مفہوم اپنی مرضی کے ساتھ بدل دیا اور اپنے گھٹیا مقاصد کے حصول کے لئے ان آیات کے مفہوم کے اندر زبردست تبدیلی کردی اور اس طرح انہوں نے اللہ پر افتراء باندھا ، یا تحریف اس طرح کی کہ انہوں نے اللہ کے احکام کو بھلا دیا ‘ اسلامی نظام حیات اور شریعت کو موقوف کردیا اور اپنی زندگیوں میں شریعت عمل کرنا بند کردیا اپنے معاشرے کو آزاد کردیا اس لئے کہ اسلامی نظام کے نفاذ کے بعد ان کو اللہ تعالیٰ کے اس پاک وصاف اور سیدھے دین کے مطابق سیدھا طرز عمل اختیار کرنا پڑتا تھا ۔ جس کے وہ عادی نہ تھے ۔

(آیت) ” ولا تزال تطلع علی خائنۃ منھم الا قلیلا منھم “۔ (5 : 13) (اور آئے دن تمہیں ان کی کسی نہ کسی خیانت کا پتہ چلتا رہتا ہے ان میں سے بہت کم لوگ اس عیب سے بچے ہوئے ہیں۔ )

یہ حضور اکرم ﷺ کو خطاب ہے ۔ آپ ﷺ کو بتایا جاتا ہے کہ مدینہ کے اسلامی معاشرے میں یہودیوں کے حالات کیا ہیں۔ وہ ہمیشہ خائن رہیں گے اور نبی ﷺ کے ساتھ خیانت سے کبھی بھی باز نہ آئیں گے ۔ وہ بارہا عملا خیانت کا ارتکاب کرتے رہے ۔ جب تک وہ مدینہ میں رہے وہ آئے دن کچھ نہ کچھ کرتے رہے۔ اس کے بعد وہ جزیرۃ العرب میں جب تک رہے ان کی سازشیں جاری رہیں ۔ اور اس کے بعد پوری تاریخ میں اسلامی معاشرہ کے ساتھ یہودی اسی خیانت پر گامزن رہے حالانکہ اسلامی معاشرہ وہ واحد معاشرہ تھا جس نے ان کو پناہ دی ۔ اور ان کو دوسرے کے مظالم سے نجات دی ‘ ان کے ساتھ حسن سلوک کیا اور اسلامی معاشرے میں وہ ہمیشہ خوشحالی کی زندگی گزارتے رہے ۔ لیکن انہوں نے ہمیشہ بعینہ انہی خطوط پر جن پر وہ حضرت محمد ﷺ کے ساتھ معاملے کرتے رہے ‘ وہی معاملہ اسلامی معاشرے کے ساتھ کیا بچھوؤں ‘ سانپوں ‘ …

Al-Maaida 5:13Listen in Qur'an →
14

وَمِنَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّا نَصَٰرَىٰٓ أَخَذْنَا مِيثَٰقَهُمْ فَنَسُوا۟ حَظًّۭا مِّمَّا ذُكِّرُوا۟ بِهِۦ فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ ٱلْعَدَاوَةَ وَٱلْبَغْضَآءَ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ ۚ وَسَوْفَ يُنَبِّئُهُمُ ٱللَّهُ بِمَا كَانُوا۟ يَصْنَعُونَ

اور جو لوگ (اپنے تئیں) کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ہم نے ان سے بھی عہد لیا تھا مگر انہوں نے بھی اس نصیحت کا جو ان کو کی گئی تھی ایک حصہ فراموش کر دیا تو ہم نے ان کے باہم قیامت تک کے لیے دشمنی اور کینہ ڈال دیا اور جو کچھ وہ کرتے رہے خدا عنقریب ان کو اس سے آگاہ کرے گا

(آیت) ” وَمِنَ الَّذِیْنَ قَالُواْ إِنَّا نَصَارَی أَخَذْنَا مِیْثَاقَہُمْ فَنَسُواْ حَظّاً مِّمَّا ذُکِّرُواْ بِہِ فَأَغْرَیْْنَا بَیْْنَہُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَاء إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَسَوْفَ یُنَبِّئُہُمُ اللّہُ بِمَا کَانُواْ یَصْنَعُونَ (14)

” اسی طرح ہم نے ان لوگوں سے بھی پختہ عہد لیا تھا جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاری ہیں مگر ان کو بھی جو سبق یاد کرایا گیا تھا اس کا ایک بڑا حصہ انہوں نے فراموش کردیا ۔ آخر کار ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کیلئے دشمنی اور آپس میں بغض وعناد کا بیج بو دیا اور ضرور ایک وقت آئے گا جب اللہ انہیں بتائے گا کہ یہ دنیا میں کیا کیا بناتے رہے ہیں ۔ ‘

یہاں ایک خاص انداز تعبیر ہے اور اس کے اندر ایک خاص اشارہ ہے ۔ (آیت) ” ومن الذین قالوا انا نصری “۔ (5 : 14) ” اسی طرح ان لوگوں سے بھی عہد لیا تھا جنہوں نے کہا ہم نصاری ہیں۔ “

اس انداز کے اندر اشارہ یہ ہے کہ انہوں نے نصاری ہونے کا دعوی تو کیا تھا ‘ لیکن عملا انہوں نے اس عہد کو پورا نہ کیا تھا ۔ اس عہد وپیماں کی اساس یہ تھی کہ ہم اللہ کو صرف وحدہ لاشریک سمجھیں گے ۔ لیکن انہوں نے اپنی گمراہی کا آغاز ہی اپنے اساسی عقیدہ توحید سے کیا ۔ اس لائن پر وہ آگے بڑھ گئے اور یہ وہ سبق (حظ) تھا جو انہوں نے بھلا دیا حالانکہ یہ سبق انہیں اچھی طرح یاد کرایا گیا تھا ۔ اور اس سبق کو بھلانے کے نتیجے میں وہ غلط راہ پر دور نکل گئے اور ان کے درمیان فرقہ ورانہ اور گروہی اختلاف پیدا ہوئے اور پھر ان کے اندر بہت سے مذاہب اور مکاتب فکر پیدا ہوگئے ۔

یہ مکاتب فکر اس قدر بڑھے کہ آج ان کا شمار ممکن نہیں ہے ۔ قدیم زمانے میں بھی ان کے بیشمار فرقے تھے اور جدید دور میں بھی ان کے بیشمار فرقے ہیں ۔ (اجمالی بحث عنقریب آئے گی ) ان فرقوں کے درمیان اس قدر بغض وعداوت پیدا ہوگیا جس کی کوئی مثال تاریخ مذاہب میں نہیں ہے اور جس طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ اختلافات قیامت تک رہیں گے اور اس لئے رہیں گے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کئے ہوئے اپنے عہد کا کوئی پاس نہ رکھا ۔ انہوں نے اس سبق اور نظریہ حیات ہی کو بھلا دیا جو انہیں اچھی طرح یاد کرایا گیا تھا ۔ آخرت میں جب ان کو اللہ وہ تفصیلات بتائے گا کہ اس دنیا میں وہ کیا کیا کرتے رہے ہیں تب ان کی جزاء کا وہاں ہی فیصلہ ہوگا ۔ اس وقت اللہ کو ان کی تمام صنعت کاریوں کو ان کے سامنے رکھ کر ان کو خوب شرمندہ کرے گا اور پھر سزا دے گا ۔

جو لوگ نصاری (مددگار) ہونے کا دعوی کرتے تھے ان کے درمیان اس قدر اختلافات ‘ تفرقہ بازی اور بغض وعداوت پیدا ہوئی جس کی مثال ملنی مشکل ہے ۔ ان کی تاریخ قدیم میں بھی اور جدید تاریخ میں بھی جس کی حکایت اللہ تعالیٰ یہاں اپنی کتاب کریم میں فرماتے ہیں ۔ ان فرقہ وارانہ جنگوں میں اس قدر خون بہا کہ اس قدر خونریزی ان کی ان تمام تاریخی جنگوں میں نہ ہوئی جو انہوں نے اپنی پوری تاریخ میں لڑیں ، چاہے دینی عقائد سے پیدا ہونے والے اختلافات کے نتیجے میں یہ خونریزی ہوئی یا دینی سربراہی کے حصول کے لئے ہوئی یا سیاسی ‘ اقتصادی اور اجتماعی اختلافات کے نتیجے میں ہوئی ۔ یہ خونریز آویزش اس قدر طویل اور اس قدر گہری تھی کہ اس کے آثار صدیوں تک باقی رہے اور وہ زخم صدیوں بعد بھی مندمل نہ ہوئے اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو اصدق القائلین ہیں ۔ یہ اختلاف قیامت تک رہیں گے اور ان کا سبب حقیقی صرف یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے اپنے عہد کو پس پشت ڈال دیا اور انہوں نے اس نظریاتی سبق کو بالکل بھلا دیا جو انہیں اچھی طرح یاد کرایا گیا تھا ، اس عہدوپیمان کی پہلی دفعہ یہ تھی کہ وہ عقیدہ توحید پر قائم رہیں گے ‘ جس سے انہوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے اٹھنے کے بہت تھوڑے عرصے بعد ہی انحراف کرلیا تھا اور اس کے اسباب اور واقعات کی تفصیلات یہاں پیش کرنا مشکل ہے ۔ …

Al-Maaida 5:14Listen in Qur'an →
15

يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًۭا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ ٱلْكِتَٰبِ وَيَعْفُوا۟ عَن كَثِيرٍۢ ۚ قَدْ جَآءَكُم مِّنَ ٱللَّهِ نُورٌۭ وَكِتَٰبٌۭ مُّبِينٌۭ

اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے

(آیت) ” نمبر 15 تا 19۔

اہل کتاب اس بات کو پسند نہ کرتے تھے کہ ان کو اسلام کی طرف دعوت ایک ایسا نبی دے جو ان میں سے نہ ہو ۔ پھر یہ ان کوکب گوارا تھا کہ ان کے پاس نبی ایک ایسی امت سے آجائے جو ایک امی امت ہے اور جس کے مقابلے میں وہ اپنے آپ کو برتر اور ان کے مقابلے میں اپنے آپ کو زیادہ عالم سمجھتے تھے ۔ اس لئے کہ وہ اہل کتاب تھے اور یہ عرب امی تھے ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان امیوں کو سربلند کرنا چاہا تو ان میں ایک نبی مبعوث فرمایا ‘ اے خاتم النبین اور آخری رسول قرار دیا اور اس کی رسالت کو خاتم الرسالات قرار دیا ۔ اسے تمام انسانیت کے لئے عام رسالت قرار دیا گیا ۔ اللہ نے ان ان پڑھ لوگوں کو تعلیم دی اور ایک مختصر عرصے میں وہ تمام انسانیت کے مقابلے میں سب سے اونچے علمی مقام پر فائز ہوگئے وہ اپنے تصورات اور اعتقادات کے لحاظ سے ترقی یافتہ اور اپنے طریقہ کار اور نظام حیات کے لحاظ سے سب سے زیادہ درست ‘ اپنے نظم ونسق اور قانون کے اعتبار سے سب سے زیادہ افضل اور اپنے اخلاق اور معاشرت کے لحاظ سے سب سے زیادہ صالح تھے ۔ اور یہ سب باتیں اس میں شامل ہیں کہ یہ ان پر اللہ کا فضل وکرم تھا ۔ یہ دین ان کو بطور انعام دیا گیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے دین پسند فرمایا تھا ۔ اگر عرب کے امیوں کو یہ نعمت نہ ملتی تو وہ ہر گز پوری انسانیت کے نگہبان نہ بن سکتے تھے ۔ اگر اس دین کو الگ کردیا جائے پھر عربوں کے پاس اور کیا تحفہ ہے جو وہ اس انسانیت کو دیں گے ۔

ان حالات میں اللہ تعالیٰ اہل کتاب کو پکارتا ہے ۔ یہ بات ریکارڈ پر لائی جاتی ہے کہ ان کو خصوصی طور پر اسلام قبول کرنے کی دعوت دی جارہی ہے ۔ اس رسول پر ایمان لانے اور اس کی مدد کرنے کی دعوت ان کو دی جارہی ہے ۔ اس عہد و پیمان کے عین مطابق جو ان سے لیا گیا تھا کہ وہ نبی آخر الزمان کی مدد اور نصرت کریں گے ۔ اللہ تعالیٰ یہ بات بھی ریکارڈ پر لاتا ہے کہ یہ رسول امی اللہ نے ان کے پاس بھیجا ہے ۔ وہ عربوں کا بھی رسول ہے ۔ اہل کتاب کے لئے بھی رسول ہے اور پھر پوری انسانیت کے لئے بھی رسول ہے ۔ اس لئے تم اس کی رسالت کا انکار نہیں کرسکتے اور نہ یہ کہہ سکتے ہو کہ آپ کی رسالت صرف عربوں کے لئے ہے یا یہ کہ اس رسالت میں اہل کتاب کو خصوصیت کے ساتھ کوئی دعوت نہیں دی گئی ہے ۔

(آیت) ” یاھل الکتب قد جآء کم رسولنا یبین لکم کثیرا مما کنتم تخفون من الکتب ویعفوا عن کثیر “ (4 : 15)

(اے اہل کتاب ‘ ہمارا رسول تمہارے پاس آگیا ہے جو کتاب الہی کی بہت سی ان باتوں کو تمہارے سامنے کھول رہا ہے جن پر تم پردہ ڈالا کرتے تھے اور بہت سی باتوں سے درگزر بھی کرجاتا ہے)

یعنی حضرت محمد ﷺ تمہاری جانب ایک رسول ہیں اور تمہارے بارے میں اس کے فرائض میں یہ بات شامل ہے کہ تم نے صدیوں تک جن حقائق کو چھپایا ‘ جو تمہاری کتابوں میں تھے ‘ وہ ان کا کھل کر بیان کرے ۔ رازوں کا انکشاف کرے اور مجمل باتوں کی وضاحت کرے اور اس باب میں یہود ونصاری دونوں برابر ہیں ۔ نصاری نے تو دین کی پہلی اساس ہی کو چھپا دیا تھا یعنی عقیدہ توحید کو ۔ اسی طرح یہودیوں نے کئی شرعی احکام کو چھپا دیا تھا ۔ مثلا زانی کے لئے رجم کی سزا اور تمام لوگوں کے لئے سود کی حرمت ، نیز انہوں نے نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کے بارے میں وارد ہونے والی بشارت کو بھی چھپا دیا تھا جس کے بارے میں قرآن کہتا ہے ۔ (آیت) ” الذی یجدونہ مکتوبا عندھم فی التوراۃ والانجیل) ” وہ جسے وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں “۔ اور یہ کہ رسول کریم ﷺ نے بہت سی ایسی باتوں کو نہیں چھیڑا جو انہوں نے چھپائی تھیں ۔ لیکن چونکہ وہ اسلامی شریعت میں داخل نہ تھیں یعنی انکو اللہ نے سابقہ شریعتوں کی دوسری چیزوں کی طرح منسوخ کردیا ‘ جو انسانی معاشروں سے متروک ہوگئی تھیں اگرچہ وہ کبھی مشروع تھیں لیکن انبیائے سابقہ کے چھوٹے چھوٹے معاشروں میں ‘ جن …

Al-Maaida 5:15Listen in Qur'an →
16

يَهْدِى بِهِ ٱللَّهُ مَنِ ٱتَّبَعَ رِضْوَٰنَهُۥ سُبُلَ ٱلسَّلَٰمِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ بِإِذْنِهِۦ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ

جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے

(آیت) ” یھدی بہ اللہ من اتبع رضوانہ سبل السلم ویخرجھم من الظلمت الی النور باذنہ یھدیھم الی صراط مستقیم (4 : 16)

(جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے طالب ہیں سلامتی کے طریقے بتاتا ہے اور اپنے اذن سے ان کو اندھیروں سے نکال کر اجالے کی طرف لاتا ہے اور راہ راست کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے ۔ )

اللہ نے اسلام کو بطور دین پسند کرلیا ہے اور جو لوگ اللہ کی اس رضا مندی اور پسند کے تابع ہوں گے اور اسے اپنے لئے پسند کریں گے تو اللہ ایسے لوگوں کو سلامتی کے راستوں پر ڈال دیتا ہے ۔

” یہ انداز اظہار قرآن پر سو فیصدی منطبق ہے اور قرآن اس بات کا نہایت ہی صحیح مصداق ہے کہ وہ سلامتی کا واسطہ ہے ۔ اسلام ایک فرد کے لئے جو راہ متعین کرتا ہے وہ سلامتی کا راستہ ہے ۔ وہ ضمیر کی سلامتی ہے ‘ وہ عقل کی سلامتی ہے ‘ وہ اعضاء کی سلامتی ہے ۔ وہ گھر اور خاندان کی سلامتی ہے ۔ وہ معاشرے کی سلامتی ہے ‘ وہ بشریت و انسانیت کی سلامتی ہے ۔ وہ اس زندگی کے ساتھ سلامتی ہے ‘ وہ اس کائنات کے ساتھ سلامتی ہے ‘ وہ اللہ رب کائنات کے ساتھ سلامتی ہے ‘ وہ اللہ رب کائنات کے ساتھ سلامتی ‘ غرض ہمہ گیر اور ہمہ جہت سلامتی ہے جسے اس انسانیت نے نہ کبھی پایا ہے اور نہ کبھی پا سکے گی مگر صرف اسلامی نظام حیات میں ‘ صرف منہاج میں صرف اسلامی شریعت کے قانون میں اور صرف اس معاشرے میں جو اسلامی شریعت اور اسلامی نظریہ حیات کی اساس پر قائم ہو۔

یہ عظیم سچائی ہے کہ اللہ اس دین کی طرف اس شخص کی راہنمائی کرتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوا ہو ۔ اور وہ شخص ہوتا ہے جو خود بھی اللہ ہی کی مرضی کا خیال کرتا ہے اور اللہ ہی کی مرضی میں سلامتی کے راستے ہیں یعنی اسلام ۔ سلامتی کے تمام راستے اسلام میں ہیں ۔ اور اس سچائی کی گہرائی اور عمق کا ادراک وہی کرسکتا ہے جس نے جاہلیت قدیمہ اور جاہلیت جدیدہ کے وہ تمام راستے دیکھے ہوں جو جنگ جدال کے راستے ہیں ۔ اس حقیقت کی گہرائی کا ادراک وہی شخص کرسکتا ہے جس نے جاہلیت کی وجہ سے ضمیر کی گہرائیوں میں پیدا ہونے والی بےچینی کو خود دیکھا ہو اور اس کا مزہ چکھا ہو ۔ اسی طرح جس نے جاہلی رسم و رواج اور جاہلی نظامہائے حیات اور طور طریقوں سے پیدا ہونے والی بےچینوں کو دیکھا ہو اور اس افراتفری کو دیکھا ہو جو یہ نظام انسانی زندگی کے معاملات میں پیدا کردیتا ہے ۔

ان آیات کے ساتھ سب سے جن لوگوں کو خطاب کیا گیا تھا وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ سبل السلام کا مفہوم کیا ہے کیونکہ جاہلیت میں رہ کر ان لوگوں کو اچھی طرح تجربہ تھا کہ سلامتی کیا چیز ہے ؟ اس لئے وہ ذاتی طور پر سبل السلام کے مفہوم سے واقف تھے ۔ وہ ذاتی طور پر اس کے مزے لے رہے تھے اس لئے کہ وہ جاہلیت کی اس ناآشنا زندگی سے نکلے تھے ۔

اس وقت ہمیں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اسلام کے امن وسلامتی کے اس پہلو کا ادراک کریں کیونکہ ہمارے اردگرد پھیلی ہوئی جاہلیت میں انسانیت ظلم وستم کا شکار ہو رہی ہے صدیوں سے ہر قسم کی جنگ برپا ہے ‘ میدان میں بھی اور انسانی ضمیر میں بھی اور معاشروں کے اندر بھی ۔

ہم لوگ جو اسلام کی سلامتی کے زیر سایہ تاریخ اسلام کے ایک دور میں زندگی بسر کرچکے ہیں اب اس سلامتی کو ترک کرکے ‘ اس نہ ختم ہونے والی کشمکش اور جنگ میں داخل ہوگئے ہیں جس نے ہمارے دلوں اور ارواح کو توڑ پھوڑ دیا ہے ‘ جس نے ہمارے اخلاق اور طرز عمل کو شکست وریخت سے دو چار کردیا ہے ‘ جس نے ہمارے معاشرے اور ہماری اقوام کو تہس نہس کردیا ہے ۔ حالانکہ ہم بڑی سہولت سے دوبارہ اس سلامتی میں داخل ہو سکتے ہیں اس لئے کہ اس سلامتی کا پیغام ہمارے پاس محفوظ ہے ۔ یہ اس وقت اپنا معجزہ دکھا سکتا ہے کہ جب ہم اللہ کی مرضی پر راضی ہوجائیں اور اپنے لئے اس کو پسند کرلیں کیونکہ اسے اللہ نے ہمارے لئے پسند کرلیا ہے ۔

ہم اس وقت جاہلیت کے مصائب جھیل رہے ہیں حالانکہ اسلام …

Al-Maaida 5:16Listen in Qur'an →
17

لَّقَدْ كَفَرَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْمَسِيحُ ٱبْنُ مَرْيَمَ ۚ قُلْ فَمَن يَمْلِكُ مِنَ ٱللَّهِ شَيْـًٔا إِنْ أَرَادَ أَن يُهْلِكَ ٱلْمَسِيحَ ٱبْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُۥ وَمَن فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًۭا ۗ وَلِلَّهِ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ ۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ

جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ عیسیٰ بن مریم خدا ہیں وہ بےشک کافر ہیں (ان سے) کہہ دو کہ اگر خدا عیسیٰ بن مریم کو اور ان کی والدہ کو اور جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کو ہلاک کرنا چاہے تو اس کے آگے کس کی پیش چل سکتی ہے؟ اور آسمان اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب پر خدا ہی کی بادشاہی ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

(آیت) ” لقد کفرا لذین قالوا ان اللہ ھو المسیح ابن مریم ، (قل فمن یملک من اللہ شیئا ان اراد ان یھلک المسیح ابن مریم وامہ ومن فی الارض جمیعا وللہ ملک السموت والارض وما بینھما یخلق ما یشآء واللہ علی کل شیء قدیر (17)

” یقینا کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ مسیح ابن مریم خدا ہے ۔ اے نبی ! ان سے کہو کہ اگر خدا مسیح ابن مریم کو اور اس کی ماں اور تمام زمین والوں کو ہلاک کردینا چاہے تو کس کی مجال ہے کہ اس کو اس ارادے سے باز رکھ سکے ؟ اللہ تو زمین اور آسمانوں کا اور ان سب چیزوں کا مالک ہے جو زمین اور آسمان کے درمیان پائی جاتی ہے ۔ جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور اس کی قدرت ہر چیز پر حاوی ہے ۔

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کی طرف سے جو عقیدہ لے کر آئے تھے وہ وہی عقیدہ توحید تھا جسے ہر رسول لے کر آیا ۔ صرف اللہ وحدہ کی بندگی کرنا وہ اقرار ہے جو ہر رسول نے کیا ہے لیکن اس صاف اور ممتاز عقیدے کے اندر تحریفات کرلی گئیں ۔ یہ تحرفات اس وقت ہوئیں جب عیسائیت کے اندر بت پرستی داخل ہوئی اور عیسائیوں نے بت پرستی کے غلط مواد کو لا کر عقیدہ توحید کا جزء بنا دیا اور اس کو اس کے اندر اس قدر گڈ مڈ کردیا کہ عیسائیوں کے عقیدہ توحید کا اصلی جوہر نکالنا ممکن ہی نہ رہا ۔

عیسائیت کے اندر یہ انحرافات اچانک ایک ہی دفعہ نہیں آگئے ۔ یہ شرکیہ عقائد آہستہ آہستہ عیسائیت کے اندر داخل ہوتے رہے ۔ ایک ایک کرکے عیسائیوں کی مذہبی مجالس نے انکو دین میں داخل کیا جو یکے بعد دیگرے منعقد ہوتی رہیں ۔ عیسائیوں کے عقائد عجیب و غریب شکل اختیار کر گئے جن میں دیو مالائی کہانیاں داخل ہوگئیں ‘ جن کو سن کر انسان حیرت زدہ ہوجاتا ہے ۔ یہاں تک کہ خود عیسائیوں میں سے اہل ایمان لوگوں کے لئے اس عقیدے کی تشریح مشکل ہوگئی ۔

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اٹھالئے جانے کے بعد کچھ عرصے تک آپ کے شاگردوں اور متبعین کے اندر عقیدہ توحید رائم رہا ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حالات کے بارے میں جو اناجیل لکھی گئیں ان میں سے ایک اہم انجیل ‘ انجیل برناباس ہے ۔ یہ انجیل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں یہ کہتی ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے رسول تھے ۔ اس کے بعد ان کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے ۔ بعض نے یہ کہا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تمام رسولوں کی طرح ایک رسول تھے ، بعض نے کہا کہ ٹھیک ہے وہ رسول ہیں لیکن ان کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک خاص تعلق ہے ۔ بعض لوگ کہتے تھے کہ وہ اللہ کے بیٹھے ہیں اس لئے کہ وہ بن باپ کے پیدا ہوئے ہیں ۔ لیکن اس قول کے مطابق وہ اللہ کی مخلوق ہیں ۔ بعض کا قول یہ تھا کہ وہ اللہ کے بیٹے تھے مگر مخلوق نہ تھے ‘ بلکہ وہ باپ کی طرح قدیم تھے ۔

ان اختلافات کو ختم کرنے کے لئے 325 ء میں بمقام نیقیا ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس میں 48 ہزار مذہبی لیڈر اور علماء شامل ہوئے ۔ انکے بارے میں ایک مذہبی لیڈر جو تاریخ عیسائیت کے مشہور ماہر ہیں ، کہتے ہیں :

یہ لوگ آراء و مذاہب میں مختلف تھے بعض یہ کہتے تھے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور انکی ماں اللہ کے علاوہ دو خدا ہیں۔ ان کو بربری کہا جاتا تھا اور عام طور پر ریمنین کے نام سے مشہور تھے ۔ بعض یہ کہتے تھے کہ مسیح باپ سے اس طرح پیدا ہوئے جس طرح آگ کے ایک شعلے سے دوسرا شعلہ پیدا ہوتا ہے ۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اصل شعلہ دوسرے جدا ہونے والے شعلے کی وجہ سے کم ہوگیا ہے ۔ یہ قول سابلیوس اور اس کے متبعین نے اختیار کیا ہے ۔ بعض یہ کہتے ہیں کہ مریم حاملہ نہیں ہوئی یعنی دس ماہ تک ۔ حضرت عیسیٰ آپ کے پیٹ سے اس طرح ہوکر نکل آئے جس طرح پانی پرنالے سے نکل آتا ہے ۔ اس لئے کہ کلمہ آپ کے کان میں داخل ہوا اور وہاں سے نکلا جہا سے بچہ پیدا ہوتا ہے اور یہ عمل فورا ہوا ۔ یہ قول الیان اور اس کے ساتھیوں کا ہے ۔ ان میں سے بعض کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ انسان تھے اور وہ انسانی جوہری سے …

Al-Maaida 5:17Listen in Qur'an →
18

وَقَالَتِ ٱلْيَهُودُ وَٱلنَّصَٰرَىٰ نَحْنُ أَبْنَٰٓؤُا۟ ٱللَّهِ وَأَحِبَّٰٓؤُهُۥ ۚ قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُم بِذُنُوبِكُم ۖ بَلْ أَنتُم بَشَرٌۭ مِّمَّنْ خَلَقَ ۚ يَغْفِرُ لِمَن يَشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ ۚ وَلِلَّهِ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ وَإِلَيْهِ ٱلْمَصِيرُ

اور یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں کہو کہ پھر وہ تمہاری بداعمالیوں کے سبب تمھیں عذاب کیوں دیتا ہے (نہیں) بلکہ تم اس کی مخلوقات میں (دوسروں کی طرح کے) انسان ہو وہ جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب دے اور آسمان زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب پر خدا ہی کی حکومت ہے اور (سب کو) اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

یہودی اور عیسائی کہتے تھے کہ وہ اللہ کے بیٹے اور محبوب ہیں۔ (آیت) ” وقالت الیھود والنصری نحن ابنوا اللہ واحبآؤہ “۔ (5 : 18) (یہود اور نصاری کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں) انہوں نے اللہ تعالیٰ کے لئے ابوت (والد ہونا) کا عقیدہ اپنایا ‘ اگرچہ اس ابوت کے لئے وہ کئی تصورات کے قائل ہوں ‘ اس کا پر تو عقیدہ توحید پر بہرحال پڑتا ہے اور اللہ کی الوہیت اور مسیح کی عبدیت کے درمیان فیصلہ کن فرق کمزور پڑجاتا ہے اور جب تک اللہ اور بندوں کے درمیان واضح فرق نہ ہو اس وقت تک نہ عقائد درست ہو سکتے ہیں اور نہ زندگی درست راہ پر استوار ہو سکتی ہے ۔ یہ ضروری ہے کہ وہ سمت متعین ہوجائے جس کی طرف تمام بندوں کا رخ ہو اور وہ اس ایک ہی سمت کی بندگی کریں اور اس قبلے اور ماخذ کا بھی تعین ہوجائے جس سے انسان اپنے لئے قانون اور تمدن کے اصول اخذ کریں ۔ اور اس سے وہ اقدار حیات اور حسن وقبح کے پیمانے اخذ کریں ۔ بغیر اس کے کہ ان جہات میں کوئی التباس اور باہم تداخل ہو یا بندے اور خدا کے اوصاف باہم گڈمڈ ہوں اور بندے اور خدا کے درمیان امتزاج کا کوئی تصور پیدا ہو ۔ لہذا شرک صرف نظریاتی مسئلہ ہی نہیں ہے بلکہ شرکیہ عقائد کے نتیجے میں پوری زندگی کے اندر ٹیڑھ پیدا ہوجاتی ہے ۔

یہودیوں اور عیسائیوں نے جب یہ دعوے کیے کہ وہ اللہ کے بیٹے اور محبوب ہیں تو پھر ان تصورات کے لازمی نتیجے کے طور پر یہ عقیدہ بھی وہ رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے گناہوں پر کوئی عذاب نہ دے گا ‘ اگرچہ وہ گناہ کریں ۔ وہ آگ میں داخل نہ ہوں گے اور اگر داخل بھی ہوں تو وہ صرف چند دن آگ میں رہیں گے ۔ اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ کا انصاف صحیح طرح کام نہ کرے گا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے بعض کے ساتھ خصوصی دوستانہ تعلق رکھتا ہے ‘ اس لئے وہ ان کو کھلا چھوڑتا ہے کہ وہ اس زمین میں جو فساد چاہیں پھیلاتے پھیریں ۔ اور ان کو دوسرے مفسدوں کی طرح سزا نہ دی جائے گی ۔ ہر انسان سوچ سکتا ہے کہ اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے تو اس کی وجہ سے کسی سوسائٹی میں کیا کیا فسادات ہوں گے اور یہ غلط نظریہ حیات کسی سوسائٹی میں کیسے کیسے اضطراب پیدا کرے گا ۔

یہاں اسلام اس غلط تصور پر ایک فیصلہ کن وار کرکے اس کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا ہے ۔ اور ان تمام فسادات کا دروازہ بند کردیتا ہے جس سے یہ فسادات کسی معاشرے میں داخل ہو سکتے تھے اور فیصلہ کرتا ہے کہ اللہ کے عدل میں کوئی رورعایت نہیں ہے اور بجائے خود یہ عقیدہ بھی غلط ہے ۔

(آیت) ” قل فلم یعذبکم بذنوبکم بل انتم بشر ممن خلق یغفر لمن یشاء ویعذب من یشآء “۔ (5 : 18)

(ان سے پوچھو پھر وہ تمہارے گناہوں پر تمہیں سزا کیوں دیتا ہے ؟ درحقیقت تم بھی ویسے ہی انسان ہو جیسے اور انسان خدا نے پیدا کئے ہیں ۔ وہ جسے چاہتا ہے معاف کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ‘ سزا دیتا ہے ۔

اس کے ذریعے عقیدے اور ایمان کے زاوے سے ایک فیصلہ کن حقیقت سامنے آجاتی ہے ۔ یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ ابن ہونے کا دعوی سرے سے باطل ہے بلکہ انبیاء اسی طرح کے مخلوق بندے ہیں جس طرح اور لوگ ہیں اور یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ اللہ کے ہاں عدالت اور انصاف اور سزا وجزاء اور مغفرت صرف ایک اصول کے مطابق ہے ۔ اس میدان میں اللہ نے ڈبل معیار نہیں رکھے ۔ یہ اللہ کی مشیت کا کام ہے جس میں سزا بھی کچھ اسباب اور اصول کے مطابق ہوتی ہے اور خرابی کے لئے بھی اسباب اور اصول ہیں۔

یہ جزاء اور سزا نہ تو ذاتی تعلقات کے اصول پر ہو گی اور نہ ابن ہونے کی کوئی حقیقت ہے ۔ اس کے بعد اس بات کو تکرار لایا جاتا ہے کہ اللہ ہی ہر چیز کا مالک ہے اور تمام چیزوں کو اس کی طرف لوٹنا ہے ۔

(آیت) ” وللہ ملک السموت والارض وما بینھما والیہ المصیر (5 : 18) (زمین اور آسمان اللہ کی ساری موجودات اس کی ملک ہیں ‘ اور اس کی طرف سب کو جانا ہے ۔

یقینا مالک اپنے غلام سے علیحدہ …

Al-Maaida 5:18Listen in Qur'an →
19

يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلَىٰ فَتْرَةٍۢ مِّنَ ٱلرُّسُلِ أَن تَقُولُوا۟ مَا جَآءَنَا مِنۢ بَشِيرٍۢ وَلَا نَذِيرٍۢ ۖ فَقَدْ جَآءَكُم بَشِيرٌۭ وَنَذِيرٌۭ ۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ

اے اہلِ کتاب پیغمبروں کے آنے کا سلسلہ جو (ایک عرصے تک) منقطع رہا تو (اب) تمہارے پاس ہمارے پیغمبر آ گئے ہیں جو تم سے (ہمارے احکام) بیان کرتے ہیں تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی خوشخبری یا ڈر سنانے والا نہیں آیا سو (اب) تمہارے پاس خوشخبری اور ڈر سنانے والے آ گئے ہیں اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

(آیت) ” یاھل الکتب قد جاء کم رسولنا یبین لکم علی فترۃ من الرسل ان تقولوا ما جآء نا من بشیر ولا نذیر فقد جاء کم بشیر ونذیر واللہ علی کل شیء قدیر “۔ (19)

اے اہل کتاب ‘ یہ رسول ایسے وقت تمہارے پاس آیا اور دین کی واضح تعلیم دے رہا ہے جبکہ رسولوں کی آمد کا سلسلہ ایک مدت سے بند تھا تاکہ تم یہ بات کہ سکو کہ ہمارے پاس کوئی بشارت دینے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا ۔ سو دیکھو اب وہ بشارت دینے اور ڈرانے والا آگیا ۔۔۔۔۔۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ “

اس فیصلہ کن مقابلے کی وجہ سے اب اہل کتاب کے پاس کوئی حجت نہیں رہتی کہ یہ رسول امی انکی طرف نہیں بھیجا گیا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ :

(آیت) ” یاھل الکتب فقد جاء کم رسولنا “۔ (5 : 19) اے اہل کتاب ہمارا رسول تمہارے پاس آچکا ہے ۔

اور ان کی یہ حجت ختم ہوجاتی ہے کہ ایک طویل عرصہ گزر گیا کہ انہیں کوئی یاد دہانی نہیں کرائی گئی نہ کوئی بشارت دی گئی ہے اور نہ کوئی ڈراوا ان تک پہنچا ہے اس لئے ہم بھول گئے اور بےراہ روی اختیار کرلی ۔ اب ان کے پاس بشیر ونذیر آچکا ہے ۔

یہاں ان کو یہ یاد دلایا جاتا ہے کہ اللہ کو کوئی چیز بھی شکست نہیں دے سکتی ۔ اور اس کے لئے یہ بات بھی کوئی مشکل نہیں ہے کہ وہ امیین میں سے رسول بھیج دے اور یہ بات بھی اسے عاجز نہیں بنا سکتی کہ وہ اہل کتاب کا ان گناہوں پر مواخذہ کرے جن کا وہ ارتکاب کرتے ہیں۔

(آیت) ” واللہ علی کل شیء قدیر “۔ (5 : 19) (بےشک اللہ پر چیز پر قادر ہے) اہل کتاب کے ساتھ یہ نشست اب ختم ہوتی ہے ‘ جس میں ان کے تمام انحرافات اور بےراہ رویاں کھل کر سامنے آجاتی ہیں جن کے مطابق انہوں نے اپنے صحیح دین کو ترک کردیا جو خود ان کی قوم کے رسول لے کر ان کے پاس آئے تھے ان اعتقاقدی تصورات کا بھی فیصلہ کردیا جاتا ہے ‘ جو اللہ نے ایمان ایمان کے لئے پسند فرمائے ہیں اور نبی ﷺ کے بارے میں انہوں نے جو موقف اختیار کیا ہے وہ باطل ہوجاتا ہے اور قیامت میں وہ جو عذر لنگ پیش کرسکتے تھے اللہ نے دنیا ہی میں اس کا راستہ بند کردیا۔

اس طرح اللہ تعالیٰ ایک طرف انکو راہ ہدایت کی طرف دعوت دیتے ہیں اور دوسری جانب اسلامی صفوں کے اندر ان کی ریشہ دوانیوں کی راہ بند ہوجاتی ہے ۔ جماعت مسلمہ کی راہ روشن ہوجاتی ہے اور تمام طالبان ہدایت کو سیدھی راہ صاف صاف نظر آنے لگتی ہے ۔

ٍ اس سبق کے آخر میں بات اس طرف رخ کرتی ہے کہ بنی اسرائیل کا رویہ اپنے نبی اور نجات دہندہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کیا رہا اور یہ رویہ انہوں نے عین اس وقت اختیار کیا جب وہ اس سرزمین کی دہلیز پر تھے جس کا وعدہ انکے ساتھ خود اللہ تعالیٰ نے کیا تھا اور اس طرح انہوں نے خود اپنے رب کے ساتھ جو پیمان کیا تھا ‘ اس کا حشر انہوں نے کیا کیا ؟ کس طرح انہوں نے اسے توڑا اور اس نقص عہد پر پھر اللہ تعالیٰ پر پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں کیسی سزا دی ؟ ۔

Al-Maaida 5:19Listen in Qur'an →
20

وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِۦ يَٰقَوْمِ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَةَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنۢبِيَآءَ وَجَعَلَكُم مُّلُوكًۭا وَءَاتَىٰكُم مَّا لَمْ يُؤْتِ أَحَدًۭا مِّنَ ٱلْعَٰلَمِينَ

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ بھائیو تم پر خدا نے جو احسان کئے ہیں ان کو یاد کرو کہ اس نے تم میں پیغمبر پیدا کیے اور تمہیں بادشاہ بنایا اور تم کو اتنا کچھ عنایت کیا کہ اہل عالم میں سے کسی کو نہیں دیا

(آیت) ” نمبر 20 تا 26۔

یہ بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک حصہ ہے اور اسے یہاں تفصیل سے لیا گیا ہے ۔ یہ تفصیلات جس حکمت کے تحتی دی گئی ہیں اس کے کئی پہلو ہیں ۔

ان میں سے ایک یہ ہے کہ بنی اسرائیل ان لوگون میں سے ہیں جنہوں نے مدینہ طیبہ میں سب سے پہلے دعوت اسلامی کی مخالفت کی اس کے خلاف سازش کی ‘ مدینہ میں اس کے خلاف برسرپیکار رہے اور پورے جزیرۃ العرب میں اس کے ساتھ محاربت کرتے رہے ۔ وہ پہلے ہی دن سے جماعت مسلمہ کے خلاف برسرجنگ تھے ، انہوں نے مدینہ میں نفاق پیدا کیا اور منافقین کی پرورش کرتے رہے ۔ یہ لوگ ان منافقین کی امداد کرتے رہے اور یہ امداد اسلامی نظریہ حیات کے خلاف بھی تھی اور مسلمانوں کے خلاف بھی ۔ انہوں نے مشرکین کو مسلمانوں کے خلاف جنگ پر آمادہ کیا ‘ ان کے ساتھ لمبے چوڑے وعدے کئے اور ان کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کیں ۔ یہی لوگ تھے جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف افواہ سازی کا کام کیا ‘ خفیہ رویشہ دوانیاں کیں ‘ مکاریوں سے کام لیتے رہے اور اسلامی صفوں میں بےچینی پیدا کرتے رہے ۔ انہوں نے شکوک و شبہات بھی پھیلانے کی کوشش کی ۔ اسلامی عقائد میں بھی اور اسلامی قیادت کے خلاف بھی اور کچھ عرصہ بعد یہ لوگ مسلمانوں کے خلاف پوری طرح کھل کر سامنے آگئے ۔ اس لئے اس بات کی ضرورت تھی کہ جماعت مسلمہ کے سامنے انکی پوری حقیقت کو کھول کر رکھ دیا جائے تاکہ اسے معلوم ہو کہ اس کے دشمن کس قماش کے لوگ ہیں ‘ ان کا مزاج کیا ہے ‘ ان کی تاریخ کیا ہے ‘ ان کے وسائل عدوات کیا ہیں اور اس معرکے کی نوعیت کیا ہے جو انہوں نے مسلمانوں کے خلاف برپا کر رکھا ہے ۔

اللہ تعالیٰ کو اس بات کا علم تھا کہ یہ لوگ آنے والی پوری اسلامی تاریخ میں ملت اسلامیہ کہ دشمن رہیں گے بعینہ اسی طرح جس طرح یہ لوگ خود اپنی تاریخ میں ہمیشہ حق کے دشمن رہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی تاریخ ملت اسلامیہ کے سامنے رکھ دی اور اچھی طرح کھول کر رکھ دی اور ملت اسلامیہ کے خلاف یہ لوگ جو ذرائع کام میں لاتے تھے وہ بھی ان کے سامنے رکھ دیئے ۔

اس حکمت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ بنی اسرائیل اس دین کے حامل تھے جو حضرت محمد ﷺ کے آخری دین سے پہلے سچا دین تھا اور اسلام سے قبل بنی اسرائیل ایک طویل تاریخ رکھنے والی ملت تھے ، ان کے عقائد میں انحراف واقعہ ہوگیا تھا اور انہوں نے اس عہد و پیمان کی بار بار خلاف ورزی کی تھی جو انہوں نے اللہ کے ساتھ کیا ہوا تھا جو انہوں نے اللہ کے ساتھ کیا ہوا تھا ۔ اس نظریاتی انحراف اور اس عہد کی خلاف ورزی کی وجہ سے ان کی زندگی پر برے اثرات مرتب ہوگئے تھے اور ان تمام امور کا تقاضا یہ تھا کہ امت مسلمہ ان کو پوری تاریخ سے آگاہ ہو کیونکہ وہ اس سے قبل کی تمام رسالتوں کی امین اور وارث ہے اور ربانی نظریہ حیات اور صحیح عقائد کی نگہبان ہے ۔ ان وجوہات کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ امت مسلمہ کو ان تمام تاریخی انقلابات کا علم ہو اور اس کو معلوم ہو کہ کہاں کہاں ان لوگوں نے ٹھوکر کھائی اور اس کے کیا نتائج نکلے ۔ بنی اسرائیل کی زندگی اور ان کے اخلاق پر اس کے کیا نتائج مرتب ہوئے تاکہ اس تجربے کی وجہ سے تحریک اسلامی ان مقامات میں سنبھل کر چلے جہاں ٹھوکریں لگتی ہیں ‘ جہاں سے شیطان حملہ آور ہوتا ہے اور جہاں سے انحراف شروع ہوتا ہے تاکہ ان تاریخی تجربات کے نتیجے میں وہ صحیح راہ پر گامزن رہے ۔

اور اس حکمت کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ بنی اسرائیل کے تجربات کے کئی پہلو تھے ۔ یہ بہت طویل تجربات تھے اور اللہ تعالیٰ کو اس بات کا اچھی طرح علم تھا کہ جب اقوام وملل پر ایک طویل عرصہ گزر جاتا ہے تو وہ سنگدل ہوجاتی ہیں اور ان کی بعد کی نسلیں اصل راہ سے ہٹ جاتی ہیں اور یہ کہ امت مسلمہ کی تاریخ قیام قیامت تک طویل رہے گی اور اس پر ایسے ادوار آئیں گے جن مین وہ بعینہ بنی اسرائیل جیسے حالات میں مبتلا ہوجائے گی ، اس لئے اس …

Al-Maaida 5:20Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.