Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 91–100 of 120

91

إِنَّمَا يُرِيدُ ٱلشَّيْطَٰنُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ ٱلْعَدَٰوَةَ وَٱلْبَغْضَآءَ فِى ٱلْخَمْرِ وَٱلْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ ٱللَّهِ وَعَنِ ٱلصَّلَوٰةِ ۖ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ

شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے سبب تمہارے آپس میں دشمنی اور رنجش ڈلوا دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو تم کو (ان کاموں سے) باز رہنا چاہیئے

(آیت) ” نمبر 90 تا 93۔

شراب ‘ جوا آستانے اور پانسے جاہلی معاشرے کی سب سے بڑی علامات تھیں اور یہ ایسی عادات تھیں جن کا جاہلی معاشرے کے اندر بہت زیادہ رواج تھا ۔ یہ تمام عادات دراصل ایک معاشرتی کل تھیں اور باہم مربوط تھیں اور جاہلی معاشرے کی پہچان تھیں ۔ اہل جاہلیت بڑی مقدار میں شراب استعمال کرتے تھے اور اس میں وہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے اور اس پر فخر کیا کرتے تھے ۔ انکی فخریہ حکایات اور فخریہ اشعار کا موضوع کثرت شراب نوشی ہوا کرتی تھی ۔ مجالس شراب کے ساتھ پھر جانوروں کا ذبح کرنا اور شراب کے ساتھ کباب اور تکے کھلانا بھی لازم تھا ۔ اس میں پینے اور پلانے والے سب شریک ہوتے اور اس طرح اس قسم کی مجالس میں سب کے لئے دلچسپی کا سامان ہوتا ۔ یہ ذبیحے وہ بتوں کے نام اور آستانوں پر کرتے تھے اور ان ذبیحوں کا خون بتوں کا خون بتوں پر ڈالتے تھے ۔ نیز وہ اپنے الہوں اور کاہنوں کے نام پر بھی بعض جانوروں کو ذبح کرتے تھے ۔ شراب نوشی اور دوسرے مواقع پر جو جانور ذبح کرتے تھے ‘ ان کے گوشت کو پھر وہ پانسوں کے ذریعے تقسیم کرتے تھے ۔ ہر شخص اپنے پانسے کے مقررہ حصے کا گوشت لیتا تھا ‘ جس کا پانسہ اونچا نکلا اس کا حصہ بھی زیادہ ہوتا تھا ۔ اسی طرح گوشت تقسیم ہوتا تھا ۔ اسی طرح گوشت تقسیم ہوتا ‘ یہاں تک کہ بعض اوقات جانور ذبح کرنے والے کے حصے میں کچھ نہ آتا اور وہ مکمل خسارے میں پڑجاتا ۔

ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی رسوم اور عادات باہم مربوط اور متعلق تھیں اور یہ عادات انہیں جاہلی طریقوں پر جاری تھیں ۔۔۔ اسلامی نظام زندگی نے تحریک کا آغاز ان رسوم کی اصلاح سے شروع نہیں کیا اس لئے کہ یہ رسوم اور عادات بعض فاسد نظریاتی تصورات پر قائم تھیں ۔ اگر محض اصلاح رسوم کی سطحی تحریک شروع کردی جاتی اور اصل اعتقادی نظریات کی بیخ کنی نہ کی جاتی تو یہ کام نہایت ہی سطحی ہوتا ۔ اسلام سے ہر گز یہ توقع نہ کی جاسکتی تھی کہ وہ جڑوں کو چھوڑ کر محض سطحی امور تک اپنے آپ کو محدود کر دے ۔ اسلام نے سب سے پہلے نفس انسانی کی پہلی گرہ یعنی عقائد ونظریات پر کلام کیا ۔ اس نے سب سے پہلے جاہلی عقائد و تصورات کو لیا اور انہوں اور انہیں جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا ۔ ان کی جگہ پاک وصاف اسلامی نظریہ حیات دیا اور یہ تصور اور نظریہ فطرت انسانی کی گہرائیوں تک اتار دیا ۔ اسلام نے متعدد الہوں کے بارے میں ان کے تصورات کو لیا اور انہیں جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا ۔ ان کی جگہ پاک وصاف اسلامی نظریہ حیات دیا اور یہ تصور اور نظریہ فطرت انسانی کی گہرائیوں تک اتار دیا ۔ اسلام نے متعدد الہوں کے بارے میں ان کے تصورار کے فساد کو ظاہر کیا اور ان کو ایک الہ حق کے عقیدے پر مجتمع کردیا ۔ جب ان کے دل و دماغ پر یہ عقیدہ توحید چھا گیا تو اب وہ فطری طور پر سوچنے کے لئے تیار ہوگئے کہ انکا الہ الحق کس بات کو پسند نہیں کرتا ۔ اس نظریاتی اصلاح سے پہلے وہ کب اپنی عادات ورسومات کو چھوڑنے کے لئے تیار ہو سکتے تھے وہ نظریاتی تبدیلی کے بغیر اپنے جاہلی پسندیدہ طریقوں کو چھوڑنے کے لئے تیار نہ تھے ۔ اگرچہ انہیں بار بار نصیحت کی جاتی ۔ فطرت کی گرہ درحقیقت عقیدے کی گرہ ہوتی ہے ۔ جب تک سب سے پہلے اس گرہ اور عقدے کو حل نہ کیا جائے اس وقت تک کوئی اخلاقی تعلیم ‘ کوئی تہذیب اخلاق کا پروگرام اور کوئی اجتماعی اصلاحی سکیم کامیاب نہیں ہو سکتی ۔ نظریہ دراصل انسانی فطرت کی کنجی ہے ۔ جب تک یہ کنجی لگا کر فطرت انسانی کو کھول کر نہیں دیا جاتا اس وقت تک اس کے نہاں خانے اور اس کی راہ ورسم کی تہ تک رسائی ممکن نہ ہوگی ۔ جب ہم اس کی ایک تنگ گلی کو کھولیں گے تو کئی اور تنگ گلیاں سامنے آئیں گی اور اگر ہم اس کا ایک پہلو روشن کرلیں گے تو دس اور تاریک پہلو سامنے آئیں گے ۔ ہم ایک گرہ کھولیں گے اور مزید دس گرہیں لگ جائیں گی ۔ ہم ایک راہ کھولیں گے تو دس راہیں …

Al-Maaida 5:91Listen in Qur'an →
92

وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ وَٱحْذَرُوا۟ ۚ فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَا عَلَىٰ رَسُولِنَا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ

اور خدا کی فرمانبرداری اور رسولِ (خدا) کی اطاعت کرتے رہو اور ڈرتے رہو اگر منہ پھیرو گے تو جان رکھو کہ ہمارے پیغمبر کے ذمے تو صرف پیغام کا کھول کر پہنچا دینا ہے

(آیت) ” نمبر 90 تا 93۔

شراب ‘ جوا آستانے اور پانسے جاہلی معاشرے کی سب سے بڑی علامات تھیں اور یہ ایسی عادات تھیں جن کا جاہلی معاشرے کے اندر بہت زیادہ رواج تھا ۔ یہ تمام عادات دراصل ایک معاشرتی کل تھیں اور باہم مربوط تھیں اور جاہلی معاشرے کی پہچان تھیں ۔ اہل جاہلیت بڑی مقدار میں شراب استعمال کرتے تھے اور اس میں وہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے اور اس پر فخر کیا کرتے تھے ۔ انکی فخریہ حکایات اور فخریہ اشعار کا موضوع کثرت شراب نوشی ہوا کرتی تھی ۔ مجالس شراب کے ساتھ پھر جانوروں کا ذبح کرنا اور شراب کے ساتھ کباب اور تکے کھلانا بھی لازم تھا ۔ اس میں پینے اور پلانے والے سب شریک ہوتے اور اس طرح اس قسم کی مجالس میں سب کے لئے دلچسپی کا سامان ہوتا ۔ یہ ذبیحے وہ بتوں کے نام اور آستانوں پر کرتے تھے اور ان ذبیحوں کا خون بتوں کا خون بتوں پر ڈالتے تھے ۔ نیز وہ اپنے الہوں اور کاہنوں کے نام پر بھی بعض جانوروں کو ذبح کرتے تھے ۔ شراب نوشی اور دوسرے مواقع پر جو جانور ذبح کرتے تھے ‘ ان کے گوشت کو پھر وہ پانسوں کے ذریعے تقسیم کرتے تھے ۔ ہر شخص اپنے پانسے کے مقررہ حصے کا گوشت لیتا تھا ‘ جس کا پانسہ اونچا نکلا اس کا حصہ بھی زیادہ ہوتا تھا ۔ اسی طرح گوشت تقسیم ہوتا تھا ۔ اسی طرح گوشت تقسیم ہوتا ‘ یہاں تک کہ بعض اوقات جانور ذبح کرنے والے کے حصے میں کچھ نہ آتا اور وہ مکمل خسارے میں پڑجاتا ۔

ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی رسوم اور عادات باہم مربوط اور متعلق تھیں اور یہ عادات انہیں جاہلی طریقوں پر جاری تھیں ۔۔۔ اسلامی نظام زندگی نے تحریک کا آغاز ان رسوم کی اصلاح سے شروع نہیں کیا اس لئے کہ یہ رسوم اور عادات بعض فاسد نظریاتی تصورات پر قائم تھیں ۔ اگر محض اصلاح رسوم کی سطحی تحریک شروع کردی جاتی اور اصل اعتقادی نظریات کی بیخ کنی نہ کی جاتی تو یہ کام نہایت ہی سطحی ہوتا ۔ اسلام سے ہر گز یہ توقع نہ کی جاسکتی تھی کہ وہ جڑوں کو چھوڑ کر محض سطحی امور تک اپنے آپ کو محدود کر دے ۔ اسلام نے سب سے پہلے نفس انسانی کی پہلی گرہ یعنی عقائد ونظریات پر کلام کیا ۔ اس نے سب سے پہلے جاہلی عقائد و تصورات کو لیا اور انہوں اور انہیں جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا ۔ ان کی جگہ پاک وصاف اسلامی نظریہ حیات دیا اور یہ تصور اور نظریہ فطرت انسانی کی گہرائیوں تک اتار دیا ۔ اسلام نے متعدد الہوں کے بارے میں ان کے تصورات کو لیا اور انہیں جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا ۔ ان کی جگہ پاک وصاف اسلامی نظریہ حیات دیا اور یہ تصور اور نظریہ فطرت انسانی کی گہرائیوں تک اتار دیا ۔ اسلام نے متعدد الہوں کے بارے میں ان کے تصورار کے فساد کو ظاہر کیا اور ان کو ایک الہ حق کے عقیدے پر مجتمع کردیا ۔ جب ان کے دل و دماغ پر یہ عقیدہ توحید چھا گیا تو اب وہ فطری طور پر سوچنے کے لئے تیار ہوگئے کہ انکا الہ الحق کس بات کو پسند نہیں کرتا ۔ اس نظریاتی اصلاح سے پہلے وہ کب اپنی عادات ورسومات کو چھوڑنے کے لئے تیار ہو سکتے تھے وہ نظریاتی تبدیلی کے بغیر اپنے جاہلی پسندیدہ طریقوں کو چھوڑنے کے لئے تیار نہ تھے ۔ اگرچہ انہیں بار بار نصیحت کی جاتی ۔ فطرت کی گرہ درحقیقت عقیدے کی گرہ ہوتی ہے ۔ جب تک سب سے پہلے اس گرہ اور عقدے کو حل نہ کیا جائے اس وقت تک کوئی اخلاقی تعلیم ‘ کوئی تہذیب اخلاق کا پروگرام اور کوئی اجتماعی اصلاحی سکیم کامیاب نہیں ہو سکتی ۔ نظریہ دراصل انسانی فطرت کی کنجی ہے ۔ جب تک یہ کنجی لگا کر فطرت انسانی کو کھول کر نہیں دیا جاتا اس وقت تک اس کے نہاں خانے اور اس کی راہ ورسم کی تہ تک رسائی ممکن نہ ہوگی ۔ جب ہم اس کی ایک تنگ گلی کو کھولیں گے تو کئی اور تنگ گلیاں سامنے آئیں گی اور اگر ہم اس کا ایک پہلو روشن کرلیں گے تو دس اور تاریک پہلو سامنے آئیں گے ۔ ہم ایک گرہ کھولیں گے اور مزید دس گرہیں لگ جائیں گی ۔ ہم ایک راہ کھولیں گے تو دس راہیں …

Al-Maaida 5:92Listen in Qur'an →
93

لَيْسَ عَلَى ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ جُنَاحٌۭ فِيمَا طَعِمُوٓا۟ إِذَا مَا ٱتَّقَوا۟ وَّءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ ثُمَّ ٱتَّقَوا۟ وَّءَامَنُوا۟ ثُمَّ ٱتَّقَوا۟ وَّأَحْسَنُوا۟ ۗ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلْمُحْسِنِينَ

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان پر ان چیزوں کا کچھ گناہ نہیں جو وہ کھا چکے جب کہ انہوں نے پرہیز کیا اور ایمان لائے اور نیک کام کیے پھر پرہیز کیا اور ایمان لائے پھر پرہیز کیا اور نیکو کاری کی اور خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے

(آیت) ” نمبر 90 تا 93۔

شراب ‘ جوا آستانے اور پانسے جاہلی معاشرے کی سب سے بڑی علامات تھیں اور یہ ایسی عادات تھیں جن کا جاہلی معاشرے کے اندر بہت زیادہ رواج تھا ۔ یہ تمام عادات دراصل ایک معاشرتی کل تھیں اور باہم مربوط تھیں اور جاہلی معاشرے کی پہچان تھیں ۔ اہل جاہلیت بڑی مقدار میں شراب استعمال کرتے تھے اور اس میں وہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے اور اس پر فخر کیا کرتے تھے ۔ انکی فخریہ حکایات اور فخریہ اشعار کا موضوع کثرت شراب نوشی ہوا کرتی تھی ۔ مجالس شراب کے ساتھ پھر جانوروں کا ذبح کرنا اور شراب کے ساتھ کباب اور تکے کھلانا بھی لازم تھا ۔ اس میں پینے اور پلانے والے سب شریک ہوتے اور اس طرح اس قسم کی مجالس میں سب کے لئے دلچسپی کا سامان ہوتا ۔ یہ ذبیحے وہ بتوں کے نام اور آستانوں پر کرتے تھے اور ان ذبیحوں کا خون بتوں کا خون بتوں پر ڈالتے تھے ۔ نیز وہ اپنے الہوں اور کاہنوں کے نام پر بھی بعض جانوروں کو ذبح کرتے تھے ۔ شراب نوشی اور دوسرے مواقع پر جو جانور ذبح کرتے تھے ‘ ان کے گوشت کو پھر وہ پانسوں کے ذریعے تقسیم کرتے تھے ۔ ہر شخص اپنے پانسے کے مقررہ حصے کا گوشت لیتا تھا ‘ جس کا پانسہ اونچا نکلا اس کا حصہ بھی زیادہ ہوتا تھا ۔ اسی طرح گوشت تقسیم ہوتا تھا ۔ اسی طرح گوشت تقسیم ہوتا ‘ یہاں تک کہ بعض اوقات جانور ذبح کرنے والے کے حصے میں کچھ نہ آتا اور وہ مکمل خسارے میں پڑجاتا ۔

ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی رسوم اور عادات باہم مربوط اور متعلق تھیں اور یہ عادات انہیں جاہلی طریقوں پر جاری تھیں ۔۔۔ اسلامی نظام زندگی نے تحریک کا آغاز ان رسوم کی اصلاح سے شروع نہیں کیا اس لئے کہ یہ رسوم اور عادات بعض فاسد نظریاتی تصورات پر قائم تھیں ۔ اگر محض اصلاح رسوم کی سطحی تحریک شروع کردی جاتی اور اصل اعتقادی نظریات کی بیخ کنی نہ کی جاتی تو یہ کام نہایت ہی سطحی ہوتا ۔ اسلام سے ہر گز یہ توقع نہ کی جاسکتی تھی کہ وہ جڑوں کو چھوڑ کر محض سطحی امور تک اپنے آپ کو محدود کر دے ۔ اسلام نے سب سے پہلے نفس انسانی کی پہلی گرہ یعنی عقائد ونظریات پر کلام کیا ۔ اس نے سب سے پہلے جاہلی عقائد و تصورات کو لیا اور انہوں اور انہیں جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا ۔ ان کی جگہ پاک وصاف اسلامی نظریہ حیات دیا اور یہ تصور اور نظریہ فطرت انسانی کی گہرائیوں تک اتار دیا ۔ اسلام نے متعدد الہوں کے بارے میں ان کے تصورات کو لیا اور انہیں جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا ۔ ان کی جگہ پاک وصاف اسلامی نظریہ حیات دیا اور یہ تصور اور نظریہ فطرت انسانی کی گہرائیوں تک اتار دیا ۔ اسلام نے متعدد الہوں کے بارے میں ان کے تصورار کے فساد کو ظاہر کیا اور ان کو ایک الہ حق کے عقیدے پر مجتمع کردیا ۔ جب ان کے دل و دماغ پر یہ عقیدہ توحید چھا گیا تو اب وہ فطری طور پر سوچنے کے لئے تیار ہوگئے کہ انکا الہ الحق کس بات کو پسند نہیں کرتا ۔ اس نظریاتی اصلاح سے پہلے وہ کب اپنی عادات ورسومات کو چھوڑنے کے لئے تیار ہو سکتے تھے وہ نظریاتی تبدیلی کے بغیر اپنے جاہلی پسندیدہ طریقوں کو چھوڑنے کے لئے تیار نہ تھے ۔ اگرچہ انہیں بار بار نصیحت کی جاتی ۔ فطرت کی گرہ درحقیقت عقیدے کی گرہ ہوتی ہے ۔ جب تک سب سے پہلے اس گرہ اور عقدے کو حل نہ کیا جائے اس وقت تک کوئی اخلاقی تعلیم ‘ کوئی تہذیب اخلاق کا پروگرام اور کوئی اجتماعی اصلاحی سکیم کامیاب نہیں ہو سکتی ۔ نظریہ دراصل انسانی فطرت کی کنجی ہے ۔ جب تک یہ کنجی لگا کر فطرت انسانی کو کھول کر نہیں دیا جاتا اس وقت تک اس کے نہاں خانے اور اس کی راہ ورسم کی تہ تک رسائی ممکن نہ ہوگی ۔ جب ہم اس کی ایک تنگ گلی کو کھولیں گے تو کئی اور تنگ گلیاں سامنے آئیں گی اور اگر ہم اس کا ایک پہلو روشن کرلیں گے تو دس اور تاریک پہلو سامنے آئیں گے ۔ ہم ایک گرہ کھولیں گے اور مزید دس گرہیں لگ جائیں گی ۔ ہم ایک راہ کھولیں گے تو دس راہیں …

Al-Maaida 5:93Listen in Qur'an →
94

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَيَبْلُوَنَّكُمُ ٱللَّهُ بِشَىْءٍۢ مِّنَ ٱلصَّيْدِ تَنَالُهُۥٓ أَيْدِيكُمْ وَرِمَاحُكُمْ لِيَعْلَمَ ٱللَّهُ مَن يَخَافُهُۥ بِٱلْغَيْبِ ۚ فَمَنِ ٱعْتَدَىٰ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَلَهُۥ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

مومنو! کسی قدر شکار سے جن کو تم ہاتھوں اور نیزوں سے پکڑ سکو خدا تمہاری آزمائش کرے گا (یعنی حالت احرام میں شکار کی ممانعت سے) تا کہ معلوم کرے کہ اس سے غائبانہ کون ڈرتا ہے تو جو اس کے بعد زیادتی کرے اس کے لیے دکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے

(آیت) ” نمبر 94 تا 100۔

ذرا پیچھے دیکھ کر اس سورة کی ابتدائی آیات کو ایک بار پھر پڑھئے ۔

(آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ أَوْفُواْ بِالْعُقُودِ أُحِلَّتْ لَکُم بَہِیْمَۃُ الأَنْعَامِ إِلاَّ مَا یُتْلَی عَلَیْْکُمْ غَیْْرَ مُحِلِّیْ الصَّیْْدِ وَأَنتُمْ حُرُمٌ إِنَّ اللّہَ یَحْکُمُ مَا یُرِیْدُ (1) یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تُحِلُّواْ شَعَآئِرَ اللّہِ وَلاَ الشَّہْرَ الْحَرَامَ وَلاَ الْہَدْیَ وَلاَ الْقَلآئِدَ وَلا آمِّیْنَ الْبَیْْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِّن رَّبِّہِمْ وَرِضْوَاناً وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُواْ (2) (5 : 1۔ 2)

” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ بندشوں کی پوری پابندی کرو۔ تمہارے لئے مویشی کی قسم کے سب جانور حلال کئے گئے سوائے ان کے جو آگے چل کر تم کو بتائے جائیں گے لیکن احرام کی حالت میں شکار کو اپنے لئے حلال نہ کرلو ‘ بیشک اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ خدا پرستی کی نشانیوں کو بےحرمت نہ کرو ، ۔۔۔۔۔ حرام مہینوں میں کسی کو حلال نہ کرلو ‘ قربانی کے جانوروں پر دست درازی نہ کرو ‘ ان جانوروں پر ہاتھ نہ ڈالو جن کی گردنوں میں نذر خداوندی کی علامت کے طور پر پٹے پڑے ہوئے ہوں اور نہ انکو چھیڑو جو اپنے رب کے فضل اور خوشنودی کی تلاش میں مکان محترم (کعبہ) کی طرف جارہے ہوں ۔ ہاں جب احرام کی حالت ختم ہوجائے تو شکار تم کرسکتے ہو۔

یہ ممانعت اس شکار کے بارے میں تھی جب شکاری حالت احرام میں ہو ‘ اور یہ ممانعت خدا پرستی کی نشانیوں (شعائر) کی بےحرمتی کے بارے میں تھی ‘ قربانی کے جانوروں ‘ پٹے ڈالے ہوئے نذر کے جانوروں ‘ حاجیوں کے ساتھ چھیڑ کی ممانعت کی گئی تھی ‘ لیکن ان مموعات پر دنیا میں کوئی سزا نہ سنائی گئی تھی ۔ صرف یہ کہا گیا تھا کہ یہ کام گناہ گاری کے کام ہیں ۔ اب دنیا میں بطور سزا کفارے کا بیان کیا جاتا ہے تاکہ خلاف ورزی کرنے والا اپنے کئے کا مزہ چکھے ۔ البتہ سابقہ غلطیوں کی معافی کا اعلان کیا جاتا ہے ۔ اگر کسی نے پہلے ان ممنوعات کا ارتکاب کیا ہو تو وہ معاف ہیں لیکن آئندہ اس ہدایت کے اعلان ویبان کے بعد جو دوبارہ اس کا ارتکاب کرے گا اسے سخت سزاد دی جائے گی اور وہ انتقام الہی سے بچ نہ سکے گا ۔ آیات کے اس مجموعے کا آغاز بھی اسی شناسا آواز کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔

(آیت) ” (یایھا الذین امنوا) اس خطاب کے بعد ان کو کہا جاتا ہے کہ اب تمہاری آزمائیش ہونے والی ہے ۔ یعنی اس شکار کے بارے میں جس سے تم کو حالت احرام میں منع کیا گیا ہے ۔

(آیت) ” یایھا الذین امنوا لیبلونکم اللہ بشیء من الصید تنالہ ایدیکم ورماحکم لیعلم اللہ من یخافہ بالغیب فمن اعتدی بعد ذلک فلہ عذاب الیم “۔ (94)

” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ اللہ تمہیں اس شکار کے ذریعے سے سخت آزمائش میں ڈالے گا جو بالکل تمہارے ہاتھوں اور نیزوں کی زد میں ہوگا ۔ یہ دیکھنے کے لئے کہ تم میں سے کون اس سے غائبانہ ڈرتا ہے ‘ پھر جس نے اس تنبیہ کے بعد اللہ کی مقرر کی ہوئی حد سے تجاوز کیا اس کے لئے درد ناک سزا ہے ۔

یہ بہت ہی آسان شکار ہوتا ہے اللہ اسے خود انکی طرف چلاتا ہے ‘ ایسا شکار ہوتا ہے کہ وہ اسے ہاتھوں کے ساتھ بھی پکڑ سکتے ہیں ‘ ان کے نیزے اور تیر بھی اسے بسہولت مار سکتے ہیں ۔ ایسے واقعات سامنے آئے ہیں کہ حرم میں شکار خود خیموں کے اندر آجاتا ہے ‘ ان کے گھروں کے اندر آجاتا ہے اور یہ اللہ کی جانب سے آزمائش ہوتی ہے اور یہ وہی آزمائش ہے جس میں بنی اسرائیل فیل ہوئے اور پھر وہ اپنے پاؤں پر کھڑے نہ رہ سکے ۔ انہوں نے پہلے اپنے نبی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے باصرار یہ مطالبہ کیا کہ ان کے لئے ایک ایسا دن مقرر کریں جس میں ان کے لئے معاشی سرگرمیوں میں مشغول ہونا ممنوع ہو ۔ اس دن وہ مکمل آرام کریں ‘ نماز پڑھیں اور کسی دنیاوی اور معاشی کام میں مشغول نہ …

Al-Maaida 5:94Listen in Qur'an →
95

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَقْتُلُوا۟ ٱلصَّيْدَ وَأَنتُمْ حُرُمٌۭ ۚ وَمَن قَتَلَهُۥ مِنكُم مُّتَعَمِّدًۭا فَجَزَآءٌۭ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ ٱلنَّعَمِ يَحْكُمُ بِهِۦ ذَوَا عَدْلٍۢ مِّنكُمْ هَدْيًۢا بَٰلِغَ ٱلْكَعْبَةِ أَوْ كَفَّٰرَةٌۭ طَعَامُ مَسَٰكِينَ أَوْ عَدْلُ ذَٰلِكَ صِيَامًۭا لِّيَذُوقَ وَبَالَ أَمْرِهِۦ ۗ عَفَا ٱللَّهُ عَمَّا سَلَفَ ۚ وَمَنْ عَادَ فَيَنتَقِمُ ٱللَّهُ مِنْهُ ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌۭ ذُو ٱنتِقَامٍ

مومنو! جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار نہ مارنا اور جو تم میں سے جان بوجھ کر اسے مارے تو (یا تو اس کا) بدلہ (دے اور وہ یہ ہے کہ) اسی طرح کا چارپایہ جسے تم میں دو معتبر شخص مقرر کردیں قربانی (کرے اور یہ قربانی) کعبے پہنچائی جائے یا کفارہ (دے اور وہ) مسکینوں کو کھانا کھلانا (ہے) یا اس کے برابر روزے رکھے تاکہ اپنے کام کی سزا (کا مزہ) چکھے (اور) جو پہلے ہو چکا وہ خدا نے معاف کر دیا اور جو پھر (ایسا کام) کرے گا تو خدا اس سے انتقام لے گا اور خدا غالب اور انتقام لینے والا ہے

(آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَقْتُلُواْ الصَّیْْدَ وَأَنتُمْ حُرُمٌ وَمَن قَتَلَہُ مِنکُم مُّتَعَمِّداً فَجَزَاء مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْکُمُ بِہِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنکُمْ ہَدْیْاً بَالِغَ الْکَعْبَۃِ أَوْ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسَاکِیْنَ أَو عَدْلُ ذَلِکَ صِیَاماً لِّیَذُوقَ وَبَالَ أَمْرِہِ عَفَا اللّہُ عَمَّا سَلَف وَمَنْ عَادَ فَیَنتَقِمُ اللّہُ مِنْہُ وَاللّہُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ (95)

” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ احرام کی حالت میں شکار نہ مارو ‘ اور اگر تم میں سے کوئی جان بوجھ کر ایسا کر گزرے تو جو جانور اس نے مارا ہو اسی کے ہم پلہ ایک جانور اسے مویشیوں میں سے نذر دینا ہوگا جس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل آدمی کریں گے اور یہ نذرانہ کعبہ پہنچایا جائے گا ‘ یا نہیں تو اسے گناہ کے کفارے میں چند مسکینوں کو کھانا کھلانا ہوگا ‘ یا اس کے بقدر روزے رکھنے ہوں گے ‘ تاکہ وہ اپنے کئے کا مزا چکھے ۔ پہلے جو کچھ ہوچکا اسے اللہ نے معاف کردیا ‘ لیکن اب اگر کسی نے اس حرکت کا اعادہ کیا تو اس سے اللہ بدلہ لے گا ‘ اللہ سب پر غالب ہے اور بدلہ لینے کی طاقت رکھتا ہے ۔

ممانعت اس بات کی کی گئی ہے کہ کوئی محرم عمدا کسی شکار کو قتل نہ کرے ۔ اگر غلطی سے اس کے ہاتھوں کوئی شکار ہوجائے تو نہ وہ گنہگار ہے اور نہ اس پر کفار ہے ۔ اگر عمدا اس سے شکار کیا تو اس پر جانور ذبح کرنا فرض ہے ۔ اور یہ اس قدر ہو کہ شکار کی قیمت کے برابر ہو ‘ مثلا ہرن کے شکار کے بدلے اونٹنی کا بچہ یا بکری۔ اگر اونٹ کو شکار کرے تو گائے ذبح کرے ۔ لومڑی اور زرافہ کے شکار میں اونٹ کا بچہ ‘ بلی اور خرگوش کے بدلے خرگوش ۔ اور جس جانور کے مقابلے میں خانگی جانور نہ ہو تو اس کی قیمت کا جانور ذبح کرے ۔

اس کفارے کا فیصلہ دو عادل مسلمان کریں گے ۔ اگر دو منصفوں نے کسی جانور کے ذبح کے بارے میں فیصلہ کیا تو جنایت کرنے والا اس جانور کو چھوڑ دے گا کہ وہ کعبے تک پہنچے اور وہاں اسے ذبح کرکے مساکین کو کھلایا جائے ۔ اگر کوئی جانور نہ ملے تو دو منصف پھر مساکین کے کھانیکے بارے بھی فیصلہ کریں گے اور یہ کھانا اس شکار کی قیمت کے برابر ہونا چاہئے اگرچہ اس کے بارے میں فقہی اختلافات ہیں ۔ اگر طعام مساکین کی قدرت بھی نہ ہو تو جنایت کرنے والے محرم کو روزے رکھنے ہوں گے ۔ یعنی ایک مسکین کے مقابلے میں ایک روزہ ۔ اب مسکین کے کھانے کی قیمت کیا ہوگی اس میں فقہی اختلافات ہیں ۔ بہرحال اصل بات یہ ہے کہ اس کا تعین ہر زمانے میں الگ ہوگا ۔

اور اس کفارے کی حکمت بھی قرآن کریم نے منصوص طور پر بتلا دی ہے ۔ (آیت) ” (لیذوق وبال امرہ) ” تاکہ وہ اپنے کئے کا مزہ چکھے ۔ “ کفارہ عائد کرنے میں سزا دہی کا پہلو بھی موجود ہے اس لئے کہ اس شخص نے جس حرمت کی ہتک کی ہے ‘ اسلام اس کے بارے میں سخت متشدد ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں حکم دیا جاتا ہے کہ جو ہوچکا سو ہوچکا اور آئندہ کے لئے جو باز نہ آئے گا اسے سخت انتقام کا سامنا کرنا ہوگا ۔

(آیت) ” عَفَا اللّہُ عَمَّا سَلَف وَمَنْ عَادَ فَیَنتَقِمُ اللّہُ مِنْہُ وَاللّہُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ (95)

” لیکن اب اگر کسی نے اس حرکت کا اعادہ کیا تو اس سے اللہ بدلہ لے گا ‘ اللہ سب پر غالب ہے اور بدلہ لینے کی طاقت رکھتا ہے ۔

یہ تو تھے احکام خشکی کے شکار سے متعلق ۔ رہا سمندری شکار تو وہ حالت احرام اور حالت غیر احرام دونوں میں جائز ہے ۔

Al-Maaida 5:95Listen in Qur'an →
96

أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ ٱلْبَحْرِ وَطَعَامُهُۥ مَتَٰعًۭا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ ۖ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ ٱلْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًۭا ۗ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ٱلَّذِىٓ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

تمہارے لیے دریا (کی چیزوں) کا شکار اور ان کا کھانا حلال کر دیا گیا ہے (یعنی) تمہارے اور مسافروں کے فائدے کے لیے اور جنگل (کی چیزوں) کا شکار جب تک تم احرام کی حالت میں رہو تم پر حرام ہے اور خدا سے جس کے پاس تم (سب) جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہو

(آیت) ” أُحِلَّ لَکُمْ صَیْْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہُ مَتَاعاً لَّکُمْ وَلِلسَّیَّارَۃِ ۔

” تمہارے لئے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کردیا گیا ‘ جہاں تم ٹھہرو وہاں بھی اسے کھا سکتے ہو اور قافلے کے لئے زاد راہ بھی بنا سکتے ہو ۔

سمندری حیوانات محرم اور غیر محرم دونوں کیلئے جائز ہیں ۔ شکار بھی کیا جاسکتا ہے اور سٹاک بھی کیا جاسکتا ہے ۔ یہاں چونکہ سمندری حیوانات کے شکار اور استعمال کی اجازت دی گئی تھی اس لئے بری حیوانات کے شکار کی دوبارہ ممانعت کردی گئی ۔

(آیت) ” وَحُرِّمَ عَلَیْْکُمْ صَیْْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُماً ۔ البتہ خشکی کا شکار ‘ جب تک تم احرام کی حالت میں ہو ‘ تم پر حرام کیا گیا ہے ۔ “

جس بات پر اجماع ہے وہ یہ ہے کہ محرم کے لئے بری شکار کرنا حرام ہے ۔ لیکن اگر کوئی غیر محرم کوئی شکار کرے تو آیا اس کا کھانا بھی جائز ہے یا نہیں ۔ نیز شکار کے معنی بھی اختلاف ہے ۔ پھر یہ بھی ایک اختلافی مسئلہ ہے کہ اس سے مراد وہی جانور ہیں جن کا عموما شکار کیا جاتا ہے یا تمام حیوانوں کا شکار حرام ہے ۔ چاہے ان کا شکار کیا جاتا ہو یا نہ کیا جاتا ہو یا یہ کہ یہ نہی تمام حیوانات کے لئے ہے ۔

حلال و حرام کی اس بحث کو پھر اس بات پر ختم کیا جاسکتا ہے کہ اصل مدار تقوی پر ہے ۔ چناچہ یہاں بھی خدا ترسی اور خدا خوفی کے جذبات کو ابھارا جاتا ہے ۔

(آیت) ” ً وَاتَّقُواْ اللّہَ الَّذِیَ إِلَیْْہِ تُحْشَرُونَ (96)

” پس بچو اس خدا کی نافرمانی سے جس کی پیشی میں تم سب کو گھیر کر حاصل کیا جائے گا ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حرم کے اندر اور محرم کے لئے یہ پابندیاں کیوں ہیں ؟ اصل میں یہ دنیا جو لوگوں کے لئے کشمکش کا ایک میدان ہے اس میں اللہ تعالیٰ حرم کو ایک منطقہ امن قرار دینا چاہتے ہیں اور یہ منطقہ امن اور امن خانہ کعبہ اور اشہر حرام ہیں ۔ اس دنیا میں باہم کشمکش جاری رہتی ہے ۔ دشمن ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے رہتے ہیں ۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی سعی ہر وقت جاری رہتی ہے ۔ یہ کشمکش تمام زندہ چیزوں میں جاری ہے اور سب کیلئے یہ خطہ امن اور زمانہ امن اسلام مہیا کرتا ہے جس کی وجہ سے خوف کے بجائے اطمینان ملتا ہے ‘ جنگ کے بجائے امن ملتا ہے اور تمام لوگوں کے سروں پرامن ‘ آتشی اطمینان اور سلامتی کا سایہ آجاتا ہے ۔ نفس انسانی ایک عملی دنیا میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھتا ہے ‘ محض آئیڈیل نہیں بلکہ عملی ۔ اب وہ محض تخیلات اور خوابوں کی دنیا میں نہیں ہوتا جو واقعی دنیا پر بہت بھاری ہوتی ہے ۔

Al-Maaida 5:96Listen in Qur'an →
97

۞ جَعَلَ ٱللَّهُ ٱلْكَعْبَةَ ٱلْبَيْتَ ٱلْحَرَامَ قِيَٰمًۭا لِّلنَّاسِ وَٱلشَّهْرَ ٱلْحَرَامَ وَٱلْهَدْىَ وَٱلْقَلَٰٓئِدَ ۚ ذَٰلِكَ لِتَعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ وَأَنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ

خدا نے عزت کے گھر (یعنی) کعبے کو لوگوں کے لیے موجب امن مقرر فرمایا ہے اور عزت کے مہینوں کو اور قربانی کو اور ان جانوروں کو جن کے گلے میں پٹے بندھے ہوں یہ اس لیے کہ تم جان لو کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے خدا سب کو جانتا ہے اور یہ کہ خدا کو ہر چیز کا علم ہے

(آیت) ” جَعَلَ اللّہُ الْکَعْبَۃَ الْبَیْْتَ الْحَرَامَ قِیَاماً لِّلنَّاسِ وَالشَّہْرَ الْحَرَامَ وَالْہَدْیَ وَالْقَلاَئِدَ ذَلِکَ لِتَعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ یَعْلَمُ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الأَرْضِ وَأَنَّ اللّہَ بِکُلِّ شَیْْء ٍ عَلِیْمٌ(97) اعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَأَنَّ اللّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(98) مَّا عَلَی الرَّسُولِ إِلاَّ الْبَلاَغُ وَاللّہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَکْتُمُونَ (99)

” اللہ نے مکان محترم کعبہ کو لوگوں کے لئے (اجتماعی زندگی کے) قیام کا ذریعہ بنایا اور ماہ حرام اور قربانی کے جانوروں اور قلادوں کو بھی (اس کام میں معاون بنادیا) تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کے سب حالات سے باخبر ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے ۔ خبردار ہوجاؤ ۔ ! اللہ سزادینے میں بھی سخت ہے اور اسکے ساتھ بہت درگزر اور رحم بھی کرنے والا ہے ۔ رسول پر تو پیغام پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے ‘ آگے تمہارے کھلے اور چھپے سب حالات کا جاننے والا ہے ۔

بیت الحرام کے اندر یہ حرمتیں اس قدر وسیع ہیں کہ ان کے دائرے میں انسان ‘ پرندے ‘ حیوان اور حشرات الارض سب آتے ہیں اور اگر کوئی احرام کی حالت میں حرم کے حدود میں پہنچا ہو ‘ تب بھی اس کے لئے یہ سب چیزیں ممنوع ہیں۔ اس کے علاوہ چار مہینوں کو بھی اشہر حرام قرار دیا گیا ہے ۔ ان میں قتل و قتال سخت ممنوع ہے ۔ یہ چار مہینے ذوالقعدہ ‘ ذوالحجہ ‘ محرم اور رجب ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عربوں کے دل میں ان چار مہینوں کا احترام بٹھا دیا تھا ‘ یہاں تک کہ ہو دور جاہلیت میں بھی ان مہینوں کا احترام کرتے تھے ۔ ان مہینوں میں وہ کسی نفس کا ڈراتے دھمکاتے بھی نہ تھے ۔ ان مہینوں میں وہ خون کا بدلہ بھی نہ لیتے تھے اور نہ ہی ان میں کوئی شخص انتقام کی توقع کرتا تھا یہاں تک کہ ایک شخص اپنے باپ بیٹے اور بھائی کے قاتل کو پاتا مگر اسے کوئی اذیت نہ دیتا ۔ چناچہ اس عرصے میں لوگ کھلے بندوں پھرتے اور تجارتی سفر کرتے اور رزق حلال تلاش کرتے ۔ یہ امن کے احکامات اللہ نے اس لئے بھی جاری کئے کہ اللہ تعالیٰ خانہ کعبہ کو خطہ امن وسلامتی قرار دینا چاہتے تھے جہاں لوگوں کے اندر ٹھہراؤ پیدا ہو اور کوئی خوف اور بےچینی نہ ہو ۔ کعبے کی طرح ان چار مہینوں کو اللہ نے زمانہ امن قرار دیا تھا جس طرح کعبہ مقام امن تھا ۔ اس کے بعد اس امن کی حدود کے اندر مزید توسیع کردی گئی اور اس ہدی کو بھی مامون اور محفوظ کردیا گیا ہے جسے خانہ کعبہ کی طرف روانہ کردیا گیا ہو ۔ یہ جانور حج اور عمرہ کے موقع پر چلائے جاتے تھے ۔

چناچہ دور جاہلیت میں بھی ان جانوروں کو نہ چھیڑا جاتا تاھ ۔ اسی طرح اس شخص کو بھی ماموں قرار دے دیا گیا جو خانہ کعبہ میں پناہ لے لیتا ہے اور اپنے گلے میں بیت الحرام کے درختوں کا ہار ڈالتا ہے ۔

خانہ کعبہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ حرمت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے ہاتھوں اس کے تعمیر کے وقت ہی سے رکھی تھی اور اللہ نے اس وقت سے خانہ کعبہ کو لوگوں کے آنے جانے کی جگہ قرار دے دیا تھا ۔ یہ اللہ کا وہ عظیم فضل و احسان تھا ‘ جس کی یاد دہانی اللہ نے مشرکین کو بھی کرائی اس لئے کہ ان کے لئے بھی بیت اللہ گھومنے پھرنے اور امن کی جگہ تھا ۔ اس کے اردگرد بسنے والے لوگوں کی حالت یہ تھی کہ وہ اچک لئے جاتے تھے جبکہ مشرکین یہاں نہایت ہی امن سے رہتے تھے لیکن اس کے باوجود وہ اللہ کا شکریہ ادا نہ کرتے تھے ۔ اس خانہ توحید میں الہ واحد کی بندگی نہ کرتے تھے اور حضور ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ اگر ہم عقیدہ توحید کو اپنائیں تو ہمیں اپنی جا اور جاگیر چھوڑنی پڑے گی ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ بات نقل کر کے اس کی تردید کی اور انہیں بتایا کہ امن اور خوف ہوتا کیا ہے ۔

(آیت) ” وقالوا ان نتبع الھدی معک نتخطف من ارضنا اولم نمکن لھم حرما …

Al-Maaida 5:97Listen in Qur'an →
98

ٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ وَأَنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

جان رکھو کہ خدا سخت غداب دینے والا ہے اور یہ کہ خدا بخشنے والا مہربان بھی ہے

(آیت) ” جَعَلَ اللّہُ الْکَعْبَۃَ الْبَیْْتَ الْحَرَامَ قِیَاماً لِّلنَّاسِ وَالشَّہْرَ الْحَرَامَ وَالْہَدْیَ وَالْقَلاَئِدَ ذَلِکَ لِتَعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ یَعْلَمُ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الأَرْضِ وَأَنَّ اللّہَ بِکُلِّ شَیْْء ٍ عَلِیْمٌ(97) اعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَأَنَّ اللّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(98) مَّا عَلَی الرَّسُولِ إِلاَّ الْبَلاَغُ وَاللّہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَکْتُمُونَ (99)

” اللہ نے مکان محترم کعبہ کو لوگوں کے لئے (اجتماعی زندگی کے) قیام کا ذریعہ بنایا اور ماہ حرام اور قربانی کے جانوروں اور قلادوں کو بھی (اس کام میں معاون بنادیا) تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کے سب حالات سے باخبر ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے ۔ خبردار ہوجاؤ ۔ ! اللہ سزادینے میں بھی سخت ہے اور اسکے ساتھ بہت درگزر اور رحم بھی کرنے والا ہے ۔ رسول پر تو پیغام پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے ‘ آگے تمہارے کھلے اور چھپے سب حالات کا جاننے والا ہے ۔

بیت الحرام کے اندر یہ حرمتیں اس قدر وسیع ہیں کہ ان کے دائرے میں انسان ‘ پرندے ‘ حیوان اور حشرات الارض سب آتے ہیں اور اگر کوئی احرام کی حالت میں حرم کے حدود میں پہنچا ہو ‘ تب بھی اس کے لئے یہ سب چیزیں ممنوع ہیں۔ اس کے علاوہ چار مہینوں کو بھی اشہر حرام قرار دیا گیا ہے ۔ ان میں قتل و قتال سخت ممنوع ہے ۔ یہ چار مہینے ذوالقعدہ ‘ ذوالحجہ ‘ محرم اور رجب ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عربوں کے دل میں ان چار مہینوں کا احترام بٹھا دیا تھا ‘ یہاں تک کہ ہو دور جاہلیت میں بھی ان مہینوں کا احترام کرتے تھے ۔ ان مہینوں میں وہ کسی نفس کا ڈراتے دھمکاتے بھی نہ تھے ۔ ان مہینوں میں وہ خون کا بدلہ بھی نہ لیتے تھے اور نہ ہی ان میں کوئی شخص انتقام کی توقع کرتا تھا یہاں تک کہ ایک شخص اپنے باپ بیٹے اور بھائی کے قاتل کو پاتا مگر اسے کوئی اذیت نہ دیتا ۔ چناچہ اس عرصے میں لوگ کھلے بندوں پھرتے اور تجارتی سفر کرتے اور رزق حلال تلاش کرتے ۔ یہ امن کے احکامات اللہ نے اس لئے بھی جاری کئے کہ اللہ تعالیٰ خانہ کعبہ کو خطہ امن وسلامتی قرار دینا چاہتے تھے جہاں لوگوں کے اندر ٹھہراؤ پیدا ہو اور کوئی خوف اور بےچینی نہ ہو ۔ کعبے کی طرح ان چار مہینوں کو اللہ نے زمانہ امن قرار دیا تھا جس طرح کعبہ مقام امن تھا ۔ اس کے بعد اس امن کی حدود کے اندر مزید توسیع کردی گئی اور اس ہدی کو بھی مامون اور محفوظ کردیا گیا ہے جسے خانہ کعبہ کی طرف روانہ کردیا گیا ہو ۔ یہ جانور حج اور عمرہ کے موقع پر چلائے جاتے تھے ۔

چناچہ دور جاہلیت میں بھی ان جانوروں کو نہ چھیڑا جاتا تاھ ۔ اسی طرح اس شخص کو بھی ماموں قرار دے دیا گیا جو خانہ کعبہ میں پناہ لے لیتا ہے اور اپنے گلے میں بیت الحرام کے درختوں کا ہار ڈالتا ہے ۔

خانہ کعبہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ حرمت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے ہاتھوں اس کے تعمیر کے وقت ہی سے رکھی تھی اور اللہ نے اس وقت سے خانہ کعبہ کو لوگوں کے آنے جانے کی جگہ قرار دے دیا تھا ۔ یہ اللہ کا وہ عظیم فضل و احسان تھا ‘ جس کی یاد دہانی اللہ نے مشرکین کو بھی کرائی اس لئے کہ ان کے لئے بھی بیت اللہ گھومنے پھرنے اور امن کی جگہ تھا ۔ اس کے اردگرد بسنے والے لوگوں کی حالت یہ تھی کہ وہ اچک لئے جاتے تھے جبکہ مشرکین یہاں نہایت ہی امن سے رہتے تھے لیکن اس کے باوجود وہ اللہ کا شکریہ ادا نہ کرتے تھے ۔ اس خانہ توحید میں الہ واحد کی بندگی نہ کرتے تھے اور حضور ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ اگر ہم عقیدہ توحید کو اپنائیں تو ہمیں اپنی جا اور جاگیر چھوڑنی پڑے گی ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ بات نقل کر کے اس کی تردید کی اور انہیں بتایا کہ امن اور خوف ہوتا کیا ہے ۔

(آیت) ” وقالوا ان نتبع الھدی معک نتخطف من ارضنا اولم نمکن لھم حرما …

Al-Maaida 5:98Listen in Qur'an →
99

مَّا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ۗ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَكْتُمُونَ

پیغمبر کے ذمے تو صرف پیغام خدا کا پہنچا دینا ہے اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ مخفی کرتے ہو خدا کو سب معلوم ہے

(آیت) ” جَعَلَ اللّہُ الْکَعْبَۃَ الْبَیْْتَ الْحَرَامَ قِیَاماً لِّلنَّاسِ وَالشَّہْرَ الْحَرَامَ وَالْہَدْیَ وَالْقَلاَئِدَ ذَلِکَ لِتَعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ یَعْلَمُ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الأَرْضِ وَأَنَّ اللّہَ بِکُلِّ شَیْْء ٍ عَلِیْمٌ(97) اعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَأَنَّ اللّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(98) مَّا عَلَی الرَّسُولِ إِلاَّ الْبَلاَغُ وَاللّہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَکْتُمُونَ (99)

” اللہ نے مکان محترم کعبہ کو لوگوں کے لئے (اجتماعی زندگی کے) قیام کا ذریعہ بنایا اور ماہ حرام اور قربانی کے جانوروں اور قلادوں کو بھی (اس کام میں معاون بنادیا) تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کے سب حالات سے باخبر ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے ۔ خبردار ہوجاؤ ۔ ! اللہ سزادینے میں بھی سخت ہے اور اسکے ساتھ بہت درگزر اور رحم بھی کرنے والا ہے ۔ رسول پر تو پیغام پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے ‘ آگے تمہارے کھلے اور چھپے سب حالات کا جاننے والا ہے ۔

بیت الحرام کے اندر یہ حرمتیں اس قدر وسیع ہیں کہ ان کے دائرے میں انسان ‘ پرندے ‘ حیوان اور حشرات الارض سب آتے ہیں اور اگر کوئی احرام کی حالت میں حرم کے حدود میں پہنچا ہو ‘ تب بھی اس کے لئے یہ سب چیزیں ممنوع ہیں۔ اس کے علاوہ چار مہینوں کو بھی اشہر حرام قرار دیا گیا ہے ۔ ان میں قتل و قتال سخت ممنوع ہے ۔ یہ چار مہینے ذوالقعدہ ‘ ذوالحجہ ‘ محرم اور رجب ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عربوں کے دل میں ان چار مہینوں کا احترام بٹھا دیا تھا ‘ یہاں تک کہ ہو دور جاہلیت میں بھی ان مہینوں کا احترام کرتے تھے ۔ ان مہینوں میں وہ کسی نفس کا ڈراتے دھمکاتے بھی نہ تھے ۔ ان مہینوں میں وہ خون کا بدلہ بھی نہ لیتے تھے اور نہ ہی ان میں کوئی شخص انتقام کی توقع کرتا تھا یہاں تک کہ ایک شخص اپنے باپ بیٹے اور بھائی کے قاتل کو پاتا مگر اسے کوئی اذیت نہ دیتا ۔ چناچہ اس عرصے میں لوگ کھلے بندوں پھرتے اور تجارتی سفر کرتے اور رزق حلال تلاش کرتے ۔ یہ امن کے احکامات اللہ نے اس لئے بھی جاری کئے کہ اللہ تعالیٰ خانہ کعبہ کو خطہ امن وسلامتی قرار دینا چاہتے تھے جہاں لوگوں کے اندر ٹھہراؤ پیدا ہو اور کوئی خوف اور بےچینی نہ ہو ۔ کعبے کی طرح ان چار مہینوں کو اللہ نے زمانہ امن قرار دیا تھا جس طرح کعبہ مقام امن تھا ۔ اس کے بعد اس امن کی حدود کے اندر مزید توسیع کردی گئی اور اس ہدی کو بھی مامون اور محفوظ کردیا گیا ہے جسے خانہ کعبہ کی طرف روانہ کردیا گیا ہو ۔ یہ جانور حج اور عمرہ کے موقع پر چلائے جاتے تھے ۔

چناچہ دور جاہلیت میں بھی ان جانوروں کو نہ چھیڑا جاتا تاھ ۔ اسی طرح اس شخص کو بھی ماموں قرار دے دیا گیا جو خانہ کعبہ میں پناہ لے لیتا ہے اور اپنے گلے میں بیت الحرام کے درختوں کا ہار ڈالتا ہے ۔

خانہ کعبہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ حرمت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے ہاتھوں اس کے تعمیر کے وقت ہی سے رکھی تھی اور اللہ نے اس وقت سے خانہ کعبہ کو لوگوں کے آنے جانے کی جگہ قرار دے دیا تھا ۔ یہ اللہ کا وہ عظیم فضل و احسان تھا ‘ جس کی یاد دہانی اللہ نے مشرکین کو بھی کرائی اس لئے کہ ان کے لئے بھی بیت اللہ گھومنے پھرنے اور امن کی جگہ تھا ۔ اس کے اردگرد بسنے والے لوگوں کی حالت یہ تھی کہ وہ اچک لئے جاتے تھے جبکہ مشرکین یہاں نہایت ہی امن سے رہتے تھے لیکن اس کے باوجود وہ اللہ کا شکریہ ادا نہ کرتے تھے ۔ اس خانہ توحید میں الہ واحد کی بندگی نہ کرتے تھے اور حضور ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ اگر ہم عقیدہ توحید کو اپنائیں تو ہمیں اپنی جا اور جاگیر چھوڑنی پڑے گی ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ بات نقل کر کے اس کی تردید کی اور انہیں بتایا کہ امن اور خوف ہوتا کیا ہے ۔

(آیت) ” وقالوا ان نتبع الھدی معک نتخطف من ارضنا اولم نمکن لھم حرما …

Al-Maaida 5:99Listen in Qur'an →
100

قُل لَّا يَسْتَوِى ٱلْخَبِيثُ وَٱلطَّيِّبُ وَلَوْ أَعْجَبَكَ كَثْرَةُ ٱلْخَبِيثِ ۚ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ يَٰٓأُو۟لِى ٱلْأَلْبَٰبِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

کہہ دو کہ ناپاک چیزیں اور پاک چیزیں برابر نہیں ہوتیں گو ناپاک چیزوں کی کثرت تمہیں خوش ہی لگے تو عقل والو خدا سے ڈرتے رہو تاکہ رستگاری حاصل کرو

(آیت) ” جَعَلَ اللّہُ الْکَعْبَۃَ الْبَیْْتَ الْحَرَامَ قِیَاماً لِّلنَّاسِ وَالشَّہْرَ الْحَرَامَ وَالْہَدْیَ وَالْقَلاَئِدَ ذَلِکَ لِتَعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ یَعْلَمُ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الأَرْضِ وَأَنَّ اللّہَ بِکُلِّ شَیْْء ٍ عَلِیْمٌ(97) اعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَأَنَّ اللّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(98) مَّا عَلَی الرَّسُولِ إِلاَّ الْبَلاَغُ وَاللّہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَکْتُمُونَ (99)

” اللہ نے مکان محترم کعبہ کو لوگوں کے لئے (اجتماعی زندگی کے) قیام کا ذریعہ بنایا اور ماہ حرام اور قربانی کے جانوروں اور قلادوں کو بھی (اس کام میں معاون بنادیا) تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کے سب حالات سے باخبر ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے ۔ خبردار ہوجاؤ ۔ ! اللہ سزادینے میں بھی سخت ہے اور اسکے ساتھ بہت درگزر اور رحم بھی کرنے والا ہے ۔ رسول پر تو پیغام پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے ‘ آگے تمہارے کھلے اور چھپے سب حالات کا جاننے والا ہے ۔

بیت الحرام کے اندر یہ حرمتیں اس قدر وسیع ہیں کہ ان کے دائرے میں انسان ‘ پرندے ‘ حیوان اور حشرات الارض سب آتے ہیں اور اگر کوئی احرام کی حالت میں حرم کے حدود میں پہنچا ہو ‘ تب بھی اس کے لئے یہ سب چیزیں ممنوع ہیں۔ اس کے علاوہ چار مہینوں کو بھی اشہر حرام قرار دیا گیا ہے ۔ ان میں قتل و قتال سخت ممنوع ہے ۔ یہ چار مہینے ذوالقعدہ ‘ ذوالحجہ ‘ محرم اور رجب ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عربوں کے دل میں ان چار مہینوں کا احترام بٹھا دیا تھا ‘ یہاں تک کہ ہو دور جاہلیت میں بھی ان مہینوں کا احترام کرتے تھے ۔ ان مہینوں میں وہ کسی نفس کا ڈراتے دھمکاتے بھی نہ تھے ۔ ان مہینوں میں وہ خون کا بدلہ بھی نہ لیتے تھے اور نہ ہی ان میں کوئی شخص انتقام کی توقع کرتا تھا یہاں تک کہ ایک شخص اپنے باپ بیٹے اور بھائی کے قاتل کو پاتا مگر اسے کوئی اذیت نہ دیتا ۔ چناچہ اس عرصے میں لوگ کھلے بندوں پھرتے اور تجارتی سفر کرتے اور رزق حلال تلاش کرتے ۔ یہ امن کے احکامات اللہ نے اس لئے بھی جاری کئے کہ اللہ تعالیٰ خانہ کعبہ کو خطہ امن وسلامتی قرار دینا چاہتے تھے جہاں لوگوں کے اندر ٹھہراؤ پیدا ہو اور کوئی خوف اور بےچینی نہ ہو ۔ کعبے کی طرح ان چار مہینوں کو اللہ نے زمانہ امن قرار دیا تھا جس طرح کعبہ مقام امن تھا ۔ اس کے بعد اس امن کی حدود کے اندر مزید توسیع کردی گئی اور اس ہدی کو بھی مامون اور محفوظ کردیا گیا ہے جسے خانہ کعبہ کی طرف روانہ کردیا گیا ہو ۔ یہ جانور حج اور عمرہ کے موقع پر چلائے جاتے تھے ۔

چناچہ دور جاہلیت میں بھی ان جانوروں کو نہ چھیڑا جاتا تاھ ۔ اسی طرح اس شخص کو بھی ماموں قرار دے دیا گیا جو خانہ کعبہ میں پناہ لے لیتا ہے اور اپنے گلے میں بیت الحرام کے درختوں کا ہار ڈالتا ہے ۔

خانہ کعبہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ حرمت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے ہاتھوں اس کے تعمیر کے وقت ہی سے رکھی تھی اور اللہ نے اس وقت سے خانہ کعبہ کو لوگوں کے آنے جانے کی جگہ قرار دے دیا تھا ۔ یہ اللہ کا وہ عظیم فضل و احسان تھا ‘ جس کی یاد دہانی اللہ نے مشرکین کو بھی کرائی اس لئے کہ ان کے لئے بھی بیت اللہ گھومنے پھرنے اور امن کی جگہ تھا ۔ اس کے اردگرد بسنے والے لوگوں کی حالت یہ تھی کہ وہ اچک لئے جاتے تھے جبکہ مشرکین یہاں نہایت ہی امن سے رہتے تھے لیکن اس کے باوجود وہ اللہ کا شکریہ ادا نہ کرتے تھے ۔ اس خانہ توحید میں الہ واحد کی بندگی نہ کرتے تھے اور حضور ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ اگر ہم عقیدہ توحید کو اپنائیں تو ہمیں اپنی جا اور جاگیر چھوڑنی پڑے گی ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ بات نقل کر کے اس کی تردید کی اور انہیں بتایا کہ امن اور خوف ہوتا کیا ہے ۔

(آیت) ” وقالوا ان نتبع الھدی معک نتخطف من ارضنا اولم نمکن لھم حرما …

Al-Maaida 5:100Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.