Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 91–100 of 120

91

إِنَّمَا يُرِيدُ ٱلشَّيْطَٰنُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ ٱلْعَدَٰوَةَ وَٱلْبَغْضَآءَ فِى ٱلْخَمْرِ وَٱلْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ ٱللَّهِ وَعَنِ ٱلصَّلَوٰةِ ۖ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ

شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے سبب تمہارے آپس میں دشمنی اور رنجش ڈلوا دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو تم کو (ان کاموں سے) باز رہنا چاہیئے

اِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّوْقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ ۔۔ : جوئے اور شراب کی حرمت کا حکم دے کر اب ان کے دینی اور دنیاوی نقصانات بیان فرمائے ہیں، دینی نقصان تو یہ کہ شراب اور جوا نماز اور ذکر الٰہی سے روکنے اور غافل کرنے کا سبب بنتے ہیں اور دنیاوی نقصان یہ کہ آپس میں عداوت اور کینہ پیدا کرتے ہیں اور ان دونوں میں ان خرابیوں کا پایا جانا بالکل واضح ہے۔ - سعد بن ابی وقاص (رض) سے روایت ہے کہ میں انصار اور مہاجرین کے کچھ لوگوں کے پاس آیا تو انھوں نے کہا، آؤ تمہیں کھلائیں اور شراب پلائیں۔ یہ شراب کی حرمت سے پہلے کی بات ہے، چناچہ میں ان کے پاس ایک باغ میں گیا، وہاں ان کے پاس اونٹ کی بھنی ہوئی سری اور شراب کا ایک مشکیزہ تھا۔ میں نے ان کے ساتھ کھایا اور پیا، ان کے پاس مہاجرین و انصار کا ذکر ہوا تو میں نے کہا، مہاجرین انصار سے بہتر ہیں، تو ایک آدمی نے سری کا ایک جبڑا پکڑا اور مجھے دے مارا، جس سے میری ناک زخمی ہوگئی، میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور آپ کو یہ بات بتائی تو اللہ تعالیٰ نے شراب کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی : (اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ ) [ مسلم، فضائل الصحابۃ، باب فی فضل سعد بن أبی وقاص، قبل ح : ١٧٤٨ ]

Al-Maaida 5:91Listen in Qur'an →
92

وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ وَٱحْذَرُوا۟ ۚ فَإِن تَوَلَّيْتُمْ فَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَا عَلَىٰ رَسُولِنَا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ

اور خدا کی فرمانبرداری اور رسولِ (خدا) کی اطاعت کرتے رہو اور ڈرتے رہو اگر منہ پھیرو گے تو جان رکھو کہ ہمارے پیغمبر کے ذمے تو صرف پیغام کا کھول کر پہنچا دینا ہے

وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ : یعنی جوئے اور شراب سے باز رہنا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی مخالفت سے بچ جاؤ۔ (رازی، قرطبی) یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے مراد قرآن و سنت کی پیروی ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( أَلاَ اِنِِّیْ أُوْتِیْتُ الْکِتَابَ وَ مِثْلَہُ مَعَہُ ) ” مجھے کتاب یعنی قرآن دیا گیا ہے اور اس جیسی ایک اور چیز (حدیث) بھی۔ “ [ أبو داوٗد، السنۃ، باب فی لزوم السنۃ : ٤٦٠٤ وصححہ الألبانی ]- فَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ ۔۔ : اس میں ان لوگوں کے لیے وعید ہے جو اس حکم قطعی کے باوجود شراب نوشی اور جوئے سے باز نہیں آتے۔ (کبیر)

Al-Maaida 5:92Listen in Qur'an →
93

لَيْسَ عَلَى ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ جُنَاحٌۭ فِيمَا طَعِمُوٓا۟ إِذَا مَا ٱتَّقَوا۟ وَّءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ ثُمَّ ٱتَّقَوا۟ وَّءَامَنُوا۟ ثُمَّ ٱتَّقَوا۟ وَّأَحْسَنُوا۟ ۗ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلْمُحْسِنِينَ

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان پر ان چیزوں کا کچھ گناہ نہیں جو وہ کھا چکے جب کہ انہوں نے پرہیز کیا اور ایمان لائے اور نیک کام کیے پھر پرہیز کیا اور ایمان لائے پھر پرہیز کیا اور نیکو کاری کی اور خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے

لَيْسَ عَلَي الَّذِيْنَ ۔۔ : یعنی اس کی حرمت سے پہلے ایمان اور عمل صالح والے جو لوگ شراب پیتے رہے اور جوا کھیلتے رہے، ان پر اس سے کوئی مؤاخذہ نہیں ہوگا۔ یہ آیت اس وقت اتری جب شراب کی حرمت نازل ہونے کے بعد بعض صحابہ یہ کہنے لگے کہ ہمارے ان بھائیوں کا کیا حال ہوگا جو شراب پیتے اور جوا کھیلتے تھے اور ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے ہاں سے کیا بدلہ ملے گا جو جنگ احد میں شہید ہوگئے، حالانکہ شراب ان کے پیٹوں میں تھی۔ (کبیر، ابن کثیر) - اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّاٰمَنُوْا۔۔ : یہاں تقویٰ کا حکم تین دفعہ دینے سے مراد یا تو تاکید ہے یا پہلے ” اتقوا “ سے مراد شرک سے بچے، دوسرے تقویٰ سے مراد شراب سے بچے اور تیسرے تقویٰ سے مراد سب بری باتوں سے بچے یا تقویٰ پر قائم رہے۔ - بعض نے لکھا ہے کہ پہلے ” آمنوا “ سے مراد شرک سے بچے، دوسرے سے مراد گناہوں سے بچے اور تیسرے سے مراد صغیرہ گناہوں سے بچے۔ اسی طرح ” اٰمَنُوْا “ میں پہلے ایمان سے مراد اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا ہے اور دوسرے سے مراد ایمان پر ثابت رہنا ہے۔ تیسری مرتبہ ’ آمنوا “ کے بجائے ” احسنوا “ فرمایا یعنی لوگوں کے ساتھ احسان کریں اور عبادت میں احسان حاصل کریں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان کے مطابق یہ ہے کہ اللہ کی عبادت کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، پھر اگر تم اسے نہیں دیکھتے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔

Al-Maaida 5:93Listen in Qur'an →
94

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَيَبْلُوَنَّكُمُ ٱللَّهُ بِشَىْءٍۢ مِّنَ ٱلصَّيْدِ تَنَالُهُۥٓ أَيْدِيكُمْ وَرِمَاحُكُمْ لِيَعْلَمَ ٱللَّهُ مَن يَخَافُهُۥ بِٱلْغَيْبِ ۚ فَمَنِ ٱعْتَدَىٰ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَلَهُۥ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

مومنو! کسی قدر شکار سے جن کو تم ہاتھوں اور نیزوں سے پکڑ سکو خدا تمہاری آزمائش کرے گا (یعنی حالت احرام میں شکار کی ممانعت سے) تا کہ معلوم کرے کہ اس سے غائبانہ کون ڈرتا ہے تو جو اس کے بعد زیادتی کرے اس کے لیے دکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے

يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَيَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ ۔۔ : اس سے پہلے آیت : ( لَا تُحَرِّمُوْا طَيِّبٰتِ مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ ) [ المائدۃ : ٨٧ ] میں حلال چیزوں کو حرام ٹھہرانے سے منع کیا تھا، اب اس آیت میں وہ حلال چیزیں ذکر کی ہیں جو کچھ وقت کے لیے بطور امتحان حرام فرمائی ہیں، یعنی احرام کی حالت میں خشکی کے جانوروں کا شکار کرنا منع کردیا، تاکہ فرماں برداروں اور نافرمانوں کی آزمائش ہوجائے کہ بن دیکھے اللہ سے کون ڈرتا ہے۔ - تَـنَالُهٗٓ اَيْدِيْكُمْ وَرِمَاحُكُمْ : یعنی چھوٹے جانور یا جانوروں کے بچے جنھیں تم ہاتھ سے پکڑ سکتے ہو، یا بڑے جانور جن کا تم نیزوں سے شکار کرسکتے ہو۔ - فَمَنِ اعْتَدٰي بَعْدَ ذٰلِكَ ۔۔ : یعنی اب جبکہ احرام کی حالت میں خشکی کے جانوروں کا شکار منع کردیا گیا ہے۔ (قرطبی) - یہ اور اگلی آیات اس وقت نازل ہوئیں جب مسلمان حدیبیہ میں احرام باندھے ہوئے تھے اور خلاف معمول چھوٹے بڑے جنگلی جانور ان کے خیموں میں گھس آئے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ان کے شکار سے منع فرما دیا۔ (ابن کثیر)

Al-Maaida 5:94Listen in Qur'an →
95

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَقْتُلُوا۟ ٱلصَّيْدَ وَأَنتُمْ حُرُمٌۭ ۚ وَمَن قَتَلَهُۥ مِنكُم مُّتَعَمِّدًۭا فَجَزَآءٌۭ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ ٱلنَّعَمِ يَحْكُمُ بِهِۦ ذَوَا عَدْلٍۢ مِّنكُمْ هَدْيًۢا بَٰلِغَ ٱلْكَعْبَةِ أَوْ كَفَّٰرَةٌۭ طَعَامُ مَسَٰكِينَ أَوْ عَدْلُ ذَٰلِكَ صِيَامًۭا لِّيَذُوقَ وَبَالَ أَمْرِهِۦ ۗ عَفَا ٱللَّهُ عَمَّا سَلَفَ ۚ وَمَنْ عَادَ فَيَنتَقِمُ ٱللَّهُ مِنْهُ ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌۭ ذُو ٱنتِقَامٍ

مومنو! جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار نہ مارنا اور جو تم میں سے جان بوجھ کر اسے مارے تو (یا تو اس کا) بدلہ (دے اور وہ یہ ہے کہ) اسی طرح کا چارپایہ جسے تم میں دو معتبر شخص مقرر کردیں قربانی (کرے اور یہ قربانی) کعبے پہنچائی جائے یا کفارہ (دے اور وہ) مسکینوں کو کھانا کھلانا (ہے) یا اس کے برابر روزے رکھے تاکہ اپنے کام کی سزا (کا مزہ) چکھے (اور) جو پہلے ہو چکا وہ خدا نے معاف کر دیا اور جو پھر (ایسا کام) کرے گا تو خدا اس سے انتقام لے گا اور خدا غالب اور انتقام لینے والا ہے

يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ ۭ : محرم نہ شکار کرے نہ شکار میں کسی طرح مدد کرے، فرمایا : (وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَي الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ) [ المائدۃ : ٢ ] ” اور گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔ “ ہاں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” پانچ جانور فاسق ہیں، انھیں حرم میں بھی قتل کیا جاتا ہے، یعنی چوہا، بچھو، چیل، کوا اور کاٹنے والا کتا۔ “ [ بخاری، بدء الخلق، باب إذا وقع الذباب أحدکم۔۔ : ٣٣١٤ ]- اہل علم نے فواسق، یعنی خواہ مخواہ ایذا دینے والے جانوروں میں ” اَلْکَلْبُ الْعَقُوْرُ “ شامل ہونے کی بنا پر سانپ، بھیڑیے، چیتے اور شیر وغیرہ کو مارنے کی اجازت اخذ کی ہے۔ - وَمَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا۔۔ : یعنی احرام کی حالت میں جیسا شکار مارے اسی کی ” مثل “ کا فدیہ دے۔ مثل سے مراد یہ ہے کہ تن و توش، قد و قامت اور شکل و صورت میں اس سے ملتا جلتا ہو، جیسے ہرن کی جگہ بکرا۔ - يَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ ۔۔ : یعنی دو عادل مسلمان مل کر فیصلہ کریں کہ اس شکار کی مثل کون سا جانور ہوسکتا ہے۔ - هَدْيًۢا بٰلِــغَ الْكَعْبَةِ : یعنی اس جانور کو مکہ معظمہ میں لے جا کر ذبح کیا جائے اور وہیں اس کا گوشت مسکینوں میں تقسیم کیا جائے، اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں۔ - اَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِيْنَ ۔۔ : اس آیت میں ” اَوْ “ اختیار کے لیے ہے، یعنی شکار کرنے والے کو اختیار ہے کہ ان تینوں میں سے جو کفارہ چاہے ادا کر دے، شکار کردہ جانور کی مثل جانور کعبہ، یعنی حرم میں لے جا کر قربان کیا جائے، یا اس کی مثل کے مساوی قیمت کا غلہ بطور کفارہ مسکینوں میں تقسیم کیا جائے، یا اس کے برابر روزے رکھے جائیں۔ قاموس اور دوسری کتب لغت میں ” مُد “ کی تعریف یہ لکھی ہے کہ ایک معتدل قد والا آدمی دونوں ہاتھ پھیلا کر کوئی چیز اٹھائے تو وہ ایک مد ہے۔ صاحب قاموس کہتے ہیں میں نے تجربہ کرکے دیکھا تو اسے درست پایا۔ صاع چار مد کا ہوتا ہے، آپ خود تجربہ کرکے دیکھ لیں، ایک مد میں گندم آدھ کلو سے زیادہ نہیں آتی، ظاہر ہے دوسری اجناس کا وزن مختلف ہوگا۔ یعنی ہر دو مد غلے ( یعنی ایک کلو) کے بدلے میں ایک روزہ رکھے۔ جیسا کہ سورة بقرہ کی آیت (١٩٦) میں مذکور کعب بن عجرہ (رض) کی روایت ہے، جو صحیح بخاری (٤٥١٧، ٤١٩١، ٥٩١٦) میں آئی ہے۔ - عَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَ ۭ: یعنی زمانۂ جاہلیت میں یا اس حکم کے آنے سے پہلے احرام کی حالت میں جو شکار تم کرچکے ہو اسے اللہ تعالیٰ نے معاف فرمادیا، اب اس کا بدلہ دینا ضروری نہیں۔

Al-Maaida 5:95Listen in Qur'an →
96

أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ ٱلْبَحْرِ وَطَعَامُهُۥ مَتَٰعًۭا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ ۖ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ ٱلْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًۭا ۗ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ٱلَّذِىٓ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

تمہارے لیے دریا (کی چیزوں) کا شکار اور ان کا کھانا حلال کر دیا گیا ہے (یعنی) تمہارے اور مسافروں کے فائدے کے لیے اور جنگل (کی چیزوں) کا شکار جب تک تم احرام کی حالت میں رہو تم پر حرام ہے اور خدا سے جس کے پاس تم (سب) جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہو

اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ ۔۔ :” الْبَحْرِ “ سے مراد پانی ہے، اس میں سمندر اور غیر سمندر سب پانی برابر ہیں اور اس میں وہ تمام جانور شامل ہیں جو پانی سے باہر زندہ نہیں رہ سکتے، وہ مچھلی ہو یا کوئی اور جانور۔ زندہ بھی پکڑے جائیں تو ذبح کی ضرورت ہی نہیں۔ قرآن و حدیث میں پانی کے شکار کو حلال کہا گیا ہے اور کسی صحیح حدیث میں یہ نہیں کہ مچھلی کے سوا سب حرام ہیں۔ ” صَيْدُ الْبَحْرِ “ سے مراد پانی کا ہر وہ جانور ہے جو زندہ پکڑا جائے اور ” طَعَام “ سے مراد پانی کا وہ جانور ہے جو وہیں مرجائے اور سمندر یا دریا اسے باہر پھینک دے، یا مر کر پانی کے اوپر آجائے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی یہ تفسیر آئی ہے۔ ابن جریر (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ( طَعَامُہُ مَا لَفِظَہُ الْبَحْرُ مَیْتًا ) یعنی اس آیت میں ” طَعَام “ سے مراد وہ جانور ہے جسے سمندر مردہ حالت میں کنارے پر پھینک دے۔ ” ہدایۃ المستنیر “ کے مصنف نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ ابن جریر نے بہت سے صحابہ سے یہی معنی نقل فرمایا ہے۔ بعض لوگوں نے صرف مچھلی کو حلال اور پانی کے دوسرے تمام جانوروں کو حرام کہہ دیا ہے اور وہ بھی صرف وہ جو زندہ پکڑی جائے، اگر مر کر پانی کے اوپر آجائے تو اسے حرام کہتے ہیں۔ یہ دونوں باتیں درست نہیں، کیونکہ وہ اس آیت کے خلاف ہیں۔ صحابہ کرام (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سمندر کے پانی کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا : ( ھُوَ الطَّھُوْرُ مَاؤُہُ ، الْحِلُّ مَیْتَتُہُ ) ” سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے۔ “ [ الموطأ، الطہارۃ، باب الطھور للوضوء : ١٢۔ أبوداوٗد : ٨٣۔ ترمذی : ٦٩، صححہ الألبانی ] اسی طرح کچھ صحابہ کرام (رض) کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک جنگی مہم پر بھیجا، ان کے پاس کھانے کی چیزیں ختم ہوگئیں تو انھوں نے ٹیلے جیسی ایک بہت بڑی مچھلی دیکھی، جسے سمندر کا پانی کنارے پر چھوڑ کر ہٹ چکا تھا۔ ابو عبیدہ (رض) امیر تھے، انھوں نے اسے کھانے کی اجازت دے دی، ایک ماہ تک تین سو آدمی اسے کھاتے رہے اور خشک کر کے ساتھ بھی لے آئے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تمہارے پاس اس کا کچھ گوشت ہے تو ہمیں بھی دو ۔ “ چناچہ صحابہ نے کچھ گوشت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف بھیجا تو آپ نے تناول فرمایا۔ [ مسلم، الصید والذبائح،- باب إباحۃ میتات البحر : ١٩٣٥ ] - مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ ۚ : اس سے یہ اشارہ فرمایا کہ یہ رخصت تمہارے فائدے کے لیے ہے، تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ حج کے طفیل حلال ہوئی ہے، یعنی سمندر کا جانور محرم و غیر محرم سب کے لیے حلال ہے۔

Al-Maaida 5:96Listen in Qur'an →
97

۞ جَعَلَ ٱللَّهُ ٱلْكَعْبَةَ ٱلْبَيْتَ ٱلْحَرَامَ قِيَٰمًۭا لِّلنَّاسِ وَٱلشَّهْرَ ٱلْحَرَامَ وَٱلْهَدْىَ وَٱلْقَلَٰٓئِدَ ۚ ذَٰلِكَ لِتَعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ وَأَنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ

خدا نے عزت کے گھر (یعنی) کعبے کو لوگوں کے لیے موجب امن مقرر فرمایا ہے اور عزت کے مہینوں کو اور قربانی کو اور ان جانوروں کو جن کے گلے میں پٹے بندھے ہوں یہ اس لیے کہ تم جان لو کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے خدا سب کو جانتا ہے اور یہ کہ خدا کو ہر چیز کا علم ہے

جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ ۔۔ : اوپر کی آیت میں محرم کے لیے شکار کو حرام قرار دیا، اب اس آیت میں بتایا کہ جس طرح حرم کو اللہ تعالیٰ نے وحشی جانوروں اور پرندوں کے لیے سبب امن قرار دیا ہے اسی طرح اسے لوگوں کے لیے بھی جائے امن بنادیا ہے اور دنیوی اور اخروی سعادتیں حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا ہے۔ (کبیر) دیکھیے سورة آل عمران (٩٧) ، سورة قصص (٥٧) اور سورة بقرہ (١٢٥) یعنی اہل مکہ کی معاش ( روزی) کا مدار اسی پر ہے کہ لوگ دور دراز سے حج اور تجارت کے ارادے سے یہاں پہنچتے ہیں اور ہر قسم کی ضروریات ساتھ لاتے ہیں، جس سے اہل مکہ رزق حاصل کرتے ہیں اور لوگ یہاں پہنچ کر امن و امان پاتے ہیں، حتیٰ کہ زمانۂ جاہلیت میں بھی حرم کے اندر کوئی شخص اپنے باپ یا بیٹے کے قاتل تک کو کچھ نہیں کہتا تھا اور عبادت و ثواب کے اعتبار سے یہ بہترین جگہ ہے۔ الغرض یہ تمام چیزیں لوگوں کے قیام کا باعث ہیں۔ (کبیر، فتح القدیر) کعبۃ اللہ لوگوں کے قائم رہنے کا ایک ذریعہ ہے، کیونکہ قیامت کے قریب جب ایک حبشی کعبۃ اللہ کو گرا دے گا تو اس کے بعد بہت جلد قیامت آجائے گی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” کعبہ کو دو پتلی پنڈلیوں والا حبشی گرائے گا۔ “ [ بخاری، الحج، باب ہدم الکعبۃ : ١٥٩٦۔ مسلم : ٢٩٠٩ ]- وَالشَّهْرَ الْحَرَامَ : حرمت والے مہینے چار ہیں، ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب۔ ان چار مہینوں میں لوگ امن سے سفر اور تجارت کرتے اور سال بھر کی ضروریات جمع کرلیتے تھے، اس اعتبار سے یہ مہینے بھی گویا لوگوں کی زندگی قائم رہنے کا ذریعہ ہیں۔ - وَالْهَدْيَ وَالْقَلَاۗىِٕدَ : ان کا لوگوں کے لیے قیام کا سبب ہونا اس اعتبار سے ہے کہ ہدی (قربانی) کا گوشت مکہ کے فقراء میں تقسیم ہوتا اور ہدی اور قلادہ والے جانور کوئی شخص لے کر چلتا تو اس کا تمام عرب احترام کرتے۔ مقصد کعبہ کی عظمت کو بیان کرنا تھا، اس کے ساتھ ان چیزوں کا بھی ذکر کردیا، کیونکہ ان کا تعلق بھی بیت اللہ سے ہے۔ (کبیر) - ذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ ۔۔ : ”ۭذٰلِكَ “ (یہ) یعنی اللہ تعالیٰ کا ان چیزوں کو لوگوں کے قیام کا باعث بنانا اس لیے ہے کہ تم جان لو کہ اللہ تعالیٰ تمام معاملات کی تفصیل جانتا ہے اور اس نے اپنے علم کے مطابق لوگوں کے قیام اور فائدے کے لیے یہ احکام جاری فرمائے ہیں۔ ( وَاَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ ) یعنی اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کی تمام تفصیلات جانتا ہے اور اسے خوب معلوم ہے کہ تمہاری دینی اور معاشی بہتری کس چیز میں ہے اور کس چیز میں نہیں۔

Al-Maaida 5:97Listen in Qur'an →
98

ٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ وَأَنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

جان رکھو کہ خدا سخت غداب دینے والا ہے اور یہ کہ خدا بخشنے والا مہربان بھی ہے

اِعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ ۔۔ : لہٰذا تم ایک طرف اس کے عذاب سے بھی پناہ مانگتے رہو اور دوسری طرف اس کی رحمت کے بھی امید وار رہو۔ اصل ایمان یہ ہے کہ بندے پر خوف و رجا ( ڈر اور امید) کی حالت طاری رہے، فرمایا : (وَادْعُوْهُ خَوْفًا وَّطَمَعًا) [ الأعراف : ٥٦ ]” اور اسے خوف اور طمع سے پکارو۔ “ ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اگر مومن کو اللہ تعالیٰ کی تیار کردہ سزا ( عذاب کا علم ہوجائے تو کوئی جنت کی طمع نہ کرے اور اگر کافر کو اللہ تعالیٰ کی رحمت (کی وسعت) کا علم ہوجائے تو کوئی اس کی جنت سے مایوس نہ ہو۔ “ [ مسلم، التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اللہ ۔۔ : ٢٧٥٥ ]

Al-Maaida 5:98Listen in Qur'an →
99

مَّا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ۗ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَكْتُمُونَ

پیغمبر کے ذمے تو صرف پیغام خدا کا پہنچا دینا ہے اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ مخفی کرتے ہو خدا کو سب معلوم ہے

مَا عَلَي الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ ۭ: یعنی جب انھوں نے یہ حکم پہنچا دیا تو اپنا فریضہ ادا کردیا اور تم پر حجت قائم ہوگئی، اب کسی شخص کا کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگا۔ (ابن کثیر)

Al-Maaida 5:99Listen in Qur'an →
100

قُل لَّا يَسْتَوِى ٱلْخَبِيثُ وَٱلطَّيِّبُ وَلَوْ أَعْجَبَكَ كَثْرَةُ ٱلْخَبِيثِ ۚ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ يَٰٓأُو۟لِى ٱلْأَلْبَٰبِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

کہہ دو کہ ناپاک چیزیں اور پاک چیزیں برابر نہیں ہوتیں گو ناپاک چیزوں کی کثرت تمہیں خوش ہی لگے تو عقل والو خدا سے ڈرتے رہو تاکہ رستگاری حاصل کرو

قُلْ لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيْثُ وَالطَّيِّبُ ۔۔ : یعنی حرام اور حلال یا کافر اور مومن برابر نہیں ہوسکتے۔ حرام رزق کی فراوانی اور اس پر عیش و عشرت گو بظاہر کتنی ہی خوش کن کیوں نہ ہو، انسان پر لازم ہے کہ وہ رزق حلال پر قناعت کرے، خواہ وہ ظاہر میں کتنا ہی حقیر ہو۔ اسی طرح کافر کتنا بھی اچھا نظر آئے مومن کے برابر نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ رزق حلال اور مومن طیب ہیں اور رزق حرام اور کافر خبیث ہیں، خبث نے ان کی اچھائی کو ختم کردیا ہے۔

Al-Maaida 5:100Listen in Qur'an →

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.