إِنَّمَا يُرِيدُ ٱلشَّيْطَٰنُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ ٱلْعَدَٰوَةَ وَٱلْبَغْضَآءَ فِى ٱلْخَمْرِ وَٱلْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ ٱللَّهِ وَعَنِ ٱلصَّلَوٰةِ ۖ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ
شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے سبب تمہارے آپس میں دشمنی اور رنجش ڈلوا دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو تم کو (ان کاموں سے) باز رہنا چاہیئے
اِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّوْقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ ۔۔ : جوئے اور شراب کی حرمت کا حکم دے کر اب ان کے دینی اور دنیاوی نقصانات بیان فرمائے ہیں، دینی نقصان تو یہ کہ شراب اور جوا نماز اور ذکر الٰہی سے روکنے اور غافل کرنے کا سبب بنتے ہیں اور دنیاوی نقصان یہ کہ آپس میں عداوت اور کینہ پیدا کرتے ہیں اور ان دونوں میں ان خرابیوں کا پایا جانا بالکل واضح ہے۔ - سعد بن ابی وقاص (رض) سے روایت ہے کہ میں انصار اور مہاجرین کے کچھ لوگوں کے پاس آیا تو انھوں نے کہا، آؤ تمہیں کھلائیں اور شراب پلائیں۔ یہ شراب کی حرمت سے پہلے کی بات ہے، چناچہ میں ان کے پاس ایک باغ میں گیا، وہاں ان کے پاس اونٹ کی بھنی ہوئی سری اور شراب کا ایک مشکیزہ تھا۔ میں نے ان کے ساتھ کھایا اور پیا، ان کے پاس مہاجرین و انصار کا ذکر ہوا تو میں نے کہا، مہاجرین انصار سے بہتر ہیں، تو ایک آدمی نے سری کا ایک جبڑا پکڑا اور مجھے دے مارا، جس سے میری ناک زخمی ہوگئی، میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور آپ کو یہ بات بتائی تو اللہ تعالیٰ نے شراب کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی : (اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ ) [ مسلم، فضائل الصحابۃ، باب فی فضل سعد بن أبی وقاص، قبل ح : ١٧٤٨ ]