إِنَّمَا يُرِيدُ ٱلشَّيْطَٰنُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ ٱلْعَدَٰوَةَ وَٱلْبَغْضَآءَ فِى ٱلْخَمْرِ وَٱلْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ ٱللَّهِ وَعَنِ ٱلصَّلَوٰةِ ۖ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ
شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے سبب تمہارے آپس میں دشمنی اور رنجش ڈلوا دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے تو تم کو (ان کاموں سے) باز رہنا چاہیئے
(آیت) ” نمبر 90 تا 93۔
شراب ‘ جوا آستانے اور پانسے جاہلی معاشرے کی سب سے بڑی علامات تھیں اور یہ ایسی عادات تھیں جن کا جاہلی معاشرے کے اندر بہت زیادہ رواج تھا ۔ یہ تمام عادات دراصل ایک معاشرتی کل تھیں اور باہم مربوط تھیں اور جاہلی معاشرے کی پہچان تھیں ۔ اہل جاہلیت بڑی مقدار میں شراب استعمال کرتے تھے اور اس میں وہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے اور اس پر فخر کیا کرتے تھے ۔ انکی فخریہ حکایات اور فخریہ اشعار کا موضوع کثرت شراب نوشی ہوا کرتی تھی ۔ مجالس شراب کے ساتھ پھر جانوروں کا ذبح کرنا اور شراب کے ساتھ کباب اور تکے کھلانا بھی لازم تھا ۔ اس میں پینے اور پلانے والے سب شریک ہوتے اور اس طرح اس قسم کی مجالس میں سب کے لئے دلچسپی کا سامان ہوتا ۔ یہ ذبیحے وہ بتوں کے نام اور آستانوں پر کرتے تھے اور ان ذبیحوں کا خون بتوں کا خون بتوں پر ڈالتے تھے ۔ نیز وہ اپنے الہوں اور کاہنوں کے نام پر بھی بعض جانوروں کو ذبح کرتے تھے ۔ شراب نوشی اور دوسرے مواقع پر جو جانور ذبح کرتے تھے ‘ ان کے گوشت کو پھر وہ پانسوں کے ذریعے تقسیم کرتے تھے ۔ ہر شخص اپنے پانسے کے مقررہ حصے کا گوشت لیتا تھا ‘ جس کا پانسہ اونچا نکلا اس کا حصہ بھی زیادہ ہوتا تھا ۔ اسی طرح گوشت تقسیم ہوتا تھا ۔ اسی طرح گوشت تقسیم ہوتا ‘ یہاں تک کہ بعض اوقات جانور ذبح کرنے والے کے حصے میں کچھ نہ آتا اور وہ مکمل خسارے میں پڑجاتا ۔
ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی رسوم اور عادات باہم مربوط اور متعلق تھیں اور یہ عادات انہیں جاہلی طریقوں پر جاری تھیں ۔۔۔ اسلامی نظام زندگی نے تحریک کا آغاز ان رسوم کی اصلاح سے شروع نہیں کیا اس لئے کہ یہ رسوم اور عادات بعض فاسد نظریاتی تصورات پر قائم تھیں ۔ اگر محض اصلاح رسوم کی سطحی تحریک شروع کردی جاتی اور اصل اعتقادی نظریات کی بیخ کنی نہ کی جاتی تو یہ کام نہایت ہی سطحی ہوتا ۔ اسلام سے ہر گز یہ توقع نہ کی جاسکتی تھی کہ وہ جڑوں کو چھوڑ کر محض سطحی امور تک اپنے آپ کو محدود کر دے ۔ اسلام نے سب سے پہلے نفس انسانی کی پہلی گرہ یعنی عقائد ونظریات پر کلام کیا ۔ اس نے سب سے پہلے جاہلی عقائد و تصورات کو لیا اور انہوں اور انہیں جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا ۔ ان کی جگہ پاک وصاف اسلامی نظریہ حیات دیا اور یہ تصور اور نظریہ فطرت انسانی کی گہرائیوں تک اتار دیا ۔ اسلام نے متعدد الہوں کے بارے میں ان کے تصورات کو لیا اور انہیں جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا ۔ ان کی جگہ پاک وصاف اسلامی نظریہ حیات دیا اور یہ تصور اور نظریہ فطرت انسانی کی گہرائیوں تک اتار دیا ۔ اسلام نے متعدد الہوں کے بارے میں ان کے تصورار کے فساد کو ظاہر کیا اور ان کو ایک الہ حق کے عقیدے پر مجتمع کردیا ۔ جب ان کے دل و دماغ پر یہ عقیدہ توحید چھا گیا تو اب وہ فطری طور پر سوچنے کے لئے تیار ہوگئے کہ انکا الہ الحق کس بات کو پسند نہیں کرتا ۔ اس نظریاتی اصلاح سے پہلے وہ کب اپنی عادات ورسومات کو چھوڑنے کے لئے تیار ہو سکتے تھے وہ نظریاتی تبدیلی کے بغیر اپنے جاہلی پسندیدہ طریقوں کو چھوڑنے کے لئے تیار نہ تھے ۔ اگرچہ انہیں بار بار نصیحت کی جاتی ۔ فطرت کی گرہ درحقیقت عقیدے کی گرہ ہوتی ہے ۔ جب تک سب سے پہلے اس گرہ اور عقدے کو حل نہ کیا جائے اس وقت تک کوئی اخلاقی تعلیم ‘ کوئی تہذیب اخلاق کا پروگرام اور کوئی اجتماعی اصلاحی سکیم کامیاب نہیں ہو سکتی ۔ نظریہ دراصل انسانی فطرت کی کنجی ہے ۔ جب تک یہ کنجی لگا کر فطرت انسانی کو کھول کر نہیں دیا جاتا اس وقت تک اس کے نہاں خانے اور اس کی راہ ورسم کی تہ تک رسائی ممکن نہ ہوگی ۔ جب ہم اس کی ایک تنگ گلی کو کھولیں گے تو کئی اور تنگ گلیاں سامنے آئیں گی اور اگر ہم اس کا ایک پہلو روشن کرلیں گے تو دس اور تاریک پہلو سامنے آئیں گے ۔ ہم ایک گرہ کھولیں گے اور مزید دس گرہیں لگ جائیں گی ۔ ہم ایک راہ کھولیں گے تو دس راہیں …