سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :108
آستانوں اور پانسوں کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ مائدہ ، حاشیہ نمبر ۱۲ و ۱٤ ۔ اس سلسلہ میں جوئے کی تشریح بھی حاشیہ نمبر ۱٤ میں مل جائے گی ۔ اگرچہ پانسے ( جوئے ) ہی کی ایک قسم ہیں ۔ لیکن ان دونوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ عربی زبان میں ازلام فال گیری اور قرعہ اندازی کی اس صورت کو کہتے ہیں کہ جو مشرکانہ عقائد اور وہمیات سے آلودہ ہو ۔ اور میسر کا اطلاق ان کھیلوں اور ان کاموں پر ہوتا ہے جن میں اتفاقی امور کو کمائی اور قسمت آزمائی اور تقسیم اموال و اشیاء کا ذریعہ بنایا جاتا ہے ۔
سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :109
اس آیت میں چار چیزیں قطعی طور پر حرام کی گئی ہیں ۔ ایک شراب ۔ دوسرے قمار بازی ۔ تیسرے وہ مقامات جو خدا کے سوا کسی دوسرے کی عبادت کرنے یا خدا کے سوا کسی اور کے نام پر قربانی اور نذر و نیاز چڑھانے کے لیے مخصوص کیے گئے ہوں ۔ چوتھے پانسے ۔ مؤخر الذکر تینوں چیزوں کی ضرورت تشریح پہلے کی جا چکی ہے ۔ شراب کے متعلق احکام کی تفصیل حسب ذیل ہے:
شراب کی حرمت کے سلسلہ میں اس سے پہلے دو حکم آچکے تھے ، جو سورہ بقرہ آیت ۲۱۹ اور سورہ نساء آیت ٤۳ میں گزر چکے ہیں ۔ اب اس آخری حکم کے آنے سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خطبہ میں لوگوں کو متنبہ فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کو شراب سخت ناپسند ہے ، بعید نہیں کہ اس کی قطعی حرمت کا حکم آجائے ، لہٰذا جن جن لوگوں کے پاس شراب موجود ہو وہ اسے فروخت کر دیں ۔ اس کے کچھ مدت بعد یہ آیت نازل ہوئی اور آپ نے اعلان کرایا کہ اب جن کے پاس شراب ہو وہ نہ اسے پی سکتے ہیں ، نہ بیچ سکتے ہیں ، بلکہ وہ اسے ضائع کر دیں ۔ چنانچہ اسی وقت مدینہ کی گلیوں میں شراب بہادی گئی ۔ بعض لوگوں نے پوچھا ہم یہودیوں کو تحفۃً کیوں نہ دے دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” جس نے یہ چیز حرام کی ہے اس نے اسے تحفۃً دینے سے بھی منع کر دیا ہے“ ۔ بعض لوگوں نے پوچھا ہم شراب کو سرکے میں کیوں نہ تبدیل کر دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی منع فرمایا اور حکم دیا کہ” نہیں ، اسے بہا دو“ ۔ ایک صاحب نے باصرار دریافت کیا کہ دواء کے طور پر استعمال کی تو اجازت ہے؟ فرمایا” نہیں ، وہ دوا نہیں ہے بلکہ بیماری ہے“ ۔ ایک اور صاحب نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم ایک ایسے علاقے کے رہنے والے ہیں جو نہایت سرد ہے ، اور ہمیں محنت بھی بہت کرنی پڑتی ہے ۔ ہم لوگ شراب سے تکان اور سردی کا مقابلہ کرتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا جو چیز تم پیتے ہو وہ نشہ کرتی ہے؟ انہوں نے عرض کیا ہاں ۔ فرمایا تو اس سے پرہیز کرو ۔ انہوں نے عرض کیا مگر ہمارے علاقے کے لوگ تو نہیں مانیں گے ۔ فرمایا” اگر وہ نہ مانیں تو ان سے جنگ کرو“ ۔
ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لعَن اللہ الخمر و شاربھا و ساقیھا و بائعھا و مبتاعھا و عاصرھا و معتصرھا و حاملھا و المحمولۃ الیہ ۔ ” اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے شراب پر اور اس کے پینے والے پر اور پلانے والے پر اور بیچنے والے پر اور خریدنے والے پر اور کشید کرنے والے پر اور کشید کرانے والے پر اور ڈھو کر لے جانے والے پر اور اس شخص پر جس کے لیے وہ ڈھو کر لے جائی گئی ہو“ ۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دسترخوان پر کھانا کھانے سے منع فرمایا جس پر شراب پی جا رہی ہو ۔ ابتداءً آپ نے ان برتنوں کے استعمال کو منع فرما دیا تھا جس میں شراب بنائی اور پی جاتی تھی ۔ بعد میں جب شراب کی حرمت کا حکم پوری طرح نافذ ہو گیا تب آپ نے برتنوں پر سے یہ قید اٹھا دی ۔
خمر کا لفظ عرب میں انگوری شراب کے لیے استعمال ہوتا تھا اور مجازاً گیہوں ، جو ، کشمش ، کھجور اور شہد کی شرابوں کے لیے بھی یہ …