Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 81–90 of 120

81

وَلَوْ كَانُوا۟ يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلنَّبِىِّ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْهِ مَا ٱتَّخَذُوهُمْ أَوْلِيَآءَ وَلَٰكِنَّ كَثِيرًۭا مِّنْهُمْ فَٰسِقُونَ

اور اگر وہ خدا پر اور پیغمبر پر اور جو کتاب ان پر نازل ہوئی تھی اس پر یقین رکھتے تو ان لوگوں کو دوست نہ بناتے لیکن ان میں اکثر بدکردار ہیں

کہہ دیجیے! اے اہل کتاب! نہ غلو کرو تم اپنے دین میں ناحق اور نہ پیروی کرو ان لوگوں کی خواہشات کی جو گمراہ ہو چکے اس سے پہلے اور گمراہ کیا انھوں نے بہت سوں کو اور بہک گئے وہ سیدھی راہ سے(77) لعنت کیے گئے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا بنی اسرائیل میں سے، بہ زبان داود اور عیسیٰ ابن مریم کے یہ بہ سبب اس کے جو نافرمانی کی انھوں نے اور تھے وہ حد سے گزر جاتے(78) نہیں تھے وہ ایک دوسرے کو منع کرتے برے کام سے کہ کیا ہوتا انھوں نے وہ ، البتہ برا تھا جو تھے وہ کرتے(79) آپ دیکھیں گے بہتوں کو ان میں سے، وہ دوستی کرتے ہیں ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا۔ البتہ برا ہے جو آگے بھیجا ان کے لیے ان کے نفسوں نے، یہ کہ ناراض ہوا اللہ اوپر ان کے اور عذاب میں وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں (80)اور اگر ہوتے وہ ایمان لاتے اللہ پر اور نبی پر اور (اس پر) جو نازل کیا گیا اس کی طرف تو نہ بناتے ان (کافروں )کو دوست لیکن زیادہ لوگ ان میں سے فاسق ہیں (81)

[77] اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ سے فرمایا ہے ﴿ قُلۡ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ لَا تَغۡلُوۡا فِيۡ دِيۡنِكُمۡ غَيۡرَ الۡحَقِّ ﴾ ’’اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو‘‘ یعنی حق سے تجاوز کر کے باطل میں نہ پڑو۔ ان کا یہ قول حضرت مسیح کے بارے میں ان کے اس قول کی مانند ہے جس کا ذکر گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔ یہ غلو بعض مشائخ کے بارے میں ان کے غلو کی مانند ہے۔ ایسا انھوں نے ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی کرتے ہوئے کیا، جن کی بابت کہا گیا تھا ﴿ وَلَا تَتَّبِعُوۡۤا اَهۡوَؔآءَؔ قَوۡمٍ قَدۡ ضَلُّوۡا مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’اور ایسے لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو (خود بھی) گمراہ ہوئے اس سے پہلے۔‘‘ یعنی ان کی گمراہی سامنے آچکی ہے۔ ﴿وَاَضَلُّوۡا كَثِيۡرًا ﴾ ’’اور (دوسرے) بہت سوں کو گمراہ کیا۔‘‘ یعنی جس دین پر یہ کاربند ہیں اس کی طرف دعوت دے کر بہت سے لوگوں کو گمراہ کر چکے ہیں ﴿وَّضَلُّوۡا عَنۡ سَوَآءِ السَّبِيۡلِ﴾ ’’اور سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔‘‘ یعنی راہ اعتدال سے بھٹک گئے پس گمراہ ہونے اور دوسروں کو گمراہ کرنے، دونوں برائیوں کو انھوں نے جمع کر لیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ائمہ ضلالت ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے ڈرایا ہے اور ان کی مہلک خواہشات اور گمراہ کن آراء سے بچنے کا حکم دیا ہے۔

[78]﴿ لُعِنَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۢۡ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ ﴾ ’’بنی اسرائیل کے کافروں پر لعنت کی گئی‘‘ یعنی ان کو دھتکار دیا گیا اور اللہ کی رحمت سے دور کر دیا گیا ﴿ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِيۡسَى ابۡنِ مَرۡيَمَ﴾ ’’داؤد اورعیسیٰ ابن مریم کی زبان پر‘‘ یعنی ان دونوں کی گواہی اور ان کے اقرار پر، بایں طور پر کہ ان پر حجت قائم ہو گئی اور انھوں نے اس حجت و دلیل سے عناد رکھا ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ کفر اور لعنت ﴿ بِمَا عَصَوۡا وَّكَانُوۡا يَعۡتَدُوۡنَ﴾ ’’اس لیے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے۔‘‘ یعنی اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں پر ظلم کرتے تھے۔ یہ چیز ان کے کفر اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری کا سبب بن گئی کیونکہ گناہوں اور ظلم کی سزا ملتی ہے۔

[79] ان کے وہ گناہ جن کی وجہ سے ان پر سزا ضروری ٹھہری اور جن کی بنا پر ان پر عقوبات واقع ہوئیں ، یہ تھے کہ وہ ﴿ كَانُوۡا لَا يَتَنَاهَوۡنَ عَنۡ مُّنۡؔكَرٍ فَعَلُوۡهُ﴾ ’’برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے کو روکتے نہیں تھے۔‘‘ یعنی وہ برائیوں کا ارتکاب کرتے تھے اور برائیوں سے ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے۔ پس وہ لوگ جو برائی کرتے تھے اور وہ جو برائی نہیں کرتے تھے مگر قدرت رکھنے کے باوجود برائی سے روکتے نہیں تھے۔ دونوں قسم کے لوگ اسی مشترک سزا کے مستحق قرار پائے۔یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو حقیر سمجھتے تھے اور گناہ کا ارتکاب ان کے لیے بہت معمولی بات تھی۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی …

Al-Maaida 5:81Listen in Qur'an →
82

۞ لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ ٱلنَّاسِ عَدَٰوَةًۭ لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱلْيَهُودَ وَٱلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ ۖ وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةًۭ لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّا نَصَٰرَىٰ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًۭا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ

(اے پیغمبرﷺ!) تم دیکھو گے کہ مومنوں کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی کرنے والے یہودی اور مشرک ہیں اور دوستی کے لحاظ سے مومنوں سے قریب تر ان لوگوں کو پاؤ گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی اور وہ تکبر نہیں کرتے

یقینا پائیں گے آپ سخت ترین سب لوگوں سے، عداوت میں ، واسطے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، یہود کو اور ان کو جنھوں نے شرک کیا اور یقینا پائیں گے آپ قریب ترین ان (سب) سے دوستی میں ، واسطے ان کے جو ایمان لائے، ان کو جنھوں نے کہا، بے شک ہم نصاریٰ ہیں یہ اس سبب سے کہ بے شک ان میں کچھ پڑھے ہوئے ہیں اور کچھ زاہد اور یہ کہ وہ نہیں تکبر کرتے(82) اور جب سنا انھوں نے جو نازل کیا گیا رسول کی طرف تو دیکھتے ہیں آپ ان کی آنکھوں کو، بہتی ہیں آنسوؤں سے، اس وجہ سے کہ پہچان لیا انھوں نے حق کو، کہتے ہیں وہ، اے ہمارے رب! ایمان لائے ہم، پس لکھ لے تو ہمیں ساتھ شہادت دینے والوں کے(83) اور کیا ہے ہمیں کہ نہ ایمان لائیں ہم اللہ پراور (اس پر) جو آیا ہمارے پاس حق؟ اور ہم توقع رکھتے ہیں یہ کہ داخل کرے گا ہمیں ہمارا رب ساتھ قوم صالحین کے(84) پس بدلے میں دے گا ان کو اللہ بوجہ اس کے جو انھوں نے کہا، ایسے باغات کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں اور یہ جزا ہے نیکی کرنے والوں کی(85) اور جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو، یہ لوگ ہیں دوزخ والے(86)

[82] اللہ تعالیٰ اس گروہ کے بارے میں بیان فرماتا ہے جو محبت اور موالات میں مسلمانوں کے زیادہ قریب ہے اور دوسرا محبت اور موالات میں ان سے زیادہ دور ہے ﴿ لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الۡيَهُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡا﴾ ’’آپ پائیں گے سب لوگوں سے زیادہ دشمن مسلمانوں کا، یہودیوں کو اور مشرکوں کو‘‘ یہ دو گروہ علی الاطلاق اسلام اور مسلمانوں سے سب سے زیادہ عداوت اور ان کو نقصان پہنچانے کے لیے سب سے زیادہ بھاگ دوڑ کرنے والے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف شدید بغض و حسد اور سخت کفر و عناد رکھتے ہیں ۔ ﴿ وَلَتَجِدَنَّ اَقۡرَبَهُمۡ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰى﴾ ’’اور آپ پائیں گے سب سے نزدیک محبت میں مسلمانوں کے، ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ‘‘ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مودت و محبت کے متعدد اسباب ذکر فرمائے ہیں :(۱)﴿ مِنۡهُمۡ قِسِّيۡسِيۡنَ وَرُهۡبَانًا ﴾ ’’یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی۔‘‘ یعنی ان کے اندر علماء، زہاد اور گرجاؤں میں عبادت کرنے والے عباد ہیں ۔ کیونکہ زہد کے ساتھ علم اور اسی طرح عبادت کے ساتھ علم یہ ایسی چیز ہے جو قلب کو لطیف اور رقیق بنا دیتی ہے اور اس کے اندر موجود سختی اور جفا کشی کو زائل کر دیتی ہے۔ بنابریں ان کے اندر یہود کی سختی اور مشرکین کی سی شدت نہیں پائی جاتی۔ (۲)﴿ وَّاَنَّهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾ ’’اور وہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘ یعنی ان کے اندر اتباع حق کے بارے میں تکبر اور سرکشی نہیں پائی جاتی۔ اور یہ چیز مسلمانوں سے ان کی قربت اور محبت کا باعث ہے کیونکہ متواضع اور منکسر المزاج شخص، متکبر کی نسبت بھلائی کے زیادہ قریب ہے۔

[83] اس کا ایک سبب یہ بھی ہے ﴿ وَاِذَا سَمِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَى الرَّسُوۡلِ ﴾ ’’جب وہ اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو محمد رسول اللہﷺ پر نازل کی گئی‘‘ تو یہ کتاب ان کے دلوں پر اثر کرتی ہے اور وہ اس کے سامنے جھک جاتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے اس حق کے سننے کے مطابق جس پر وہ یقین لائے ہیں ، آنسو جاری ہو جاتے ہیں ، پس اسی لیے وہ ایمان لے آئے اور اس کا اقرار کیا اور کہا:﴿ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں گواہوں کے ساتھ لکھ لے۔‘‘اور یہ محمدﷺ کی امت کے لوگ ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے رسولوں کی رسالت اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں ، اس کی صحت کی گواہی دیتے ہیں ۔ نیز تصدیق و تکذیب کے ذریعے سے گزشتہ امتوں کی گواہی دیتے ہیں ۔ وہ عادل ہیں اور ان کی گواہی مقبول ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ …

Al-Maaida 5:82Listen in Qur'an →
83

وَإِذَا سَمِعُوا۟ مَآ أُنزِلَ إِلَى ٱلرَّسُولِ تَرَىٰٓ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ ٱلدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا۟ مِنَ ٱلْحَقِّ ۖ يَقُولُونَ رَبَّنَآ ءَامَنَّا فَٱكْتُبْنَا مَعَ ٱلشَّٰهِدِينَ

اور جب اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو (سب سے پہلے) پیغمبر (محمدﷺ) پر نازل ہوئی تو تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں اس لیے کہ انہوں نے حق بات پہچان لی اور وہ (خدا کی جناب میں) عرض کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم ایمان لے آئے تو ہم کو ماننے والوں میں لکھ لے

یقینا پائیں گے آپ سخت ترین سب لوگوں سے، عداوت میں ، واسطے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، یہود کو اور ان کو جنھوں نے شرک کیا اور یقینا پائیں گے آپ قریب ترین ان (سب) سے دوستی میں ، واسطے ان کے جو ایمان لائے، ان کو جنھوں نے کہا، بے شک ہم نصاریٰ ہیں یہ اس سبب سے کہ بے شک ان میں کچھ پڑھے ہوئے ہیں اور کچھ زاہد اور یہ کہ وہ نہیں تکبر کرتے(82) اور جب سنا انھوں نے جو نازل کیا گیا رسول کی طرف تو دیکھتے ہیں آپ ان کی آنکھوں کو، بہتی ہیں آنسوؤں سے، اس وجہ سے کہ پہچان لیا انھوں نے حق کو، کہتے ہیں وہ، اے ہمارے رب! ایمان لائے ہم، پس لکھ لے تو ہمیں ساتھ شہادت دینے والوں کے(83) اور کیا ہے ہمیں کہ نہ ایمان لائیں ہم اللہ پراور (اس پر) جو آیا ہمارے پاس حق؟ اور ہم توقع رکھتے ہیں یہ کہ داخل کرے گا ہمیں ہمارا رب ساتھ قوم صالحین کے(84) پس بدلے میں دے گا ان کو اللہ بوجہ اس کے جو انھوں نے کہا، ایسے باغات کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں اور یہ جزا ہے نیکی کرنے والوں کی(85) اور جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو، یہ لوگ ہیں دوزخ والے(86)

[82] اللہ تعالیٰ اس گروہ کے بارے میں بیان فرماتا ہے جو محبت اور موالات میں مسلمانوں کے زیادہ قریب ہے اور دوسرا محبت اور موالات میں ان سے زیادہ دور ہے ﴿ لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الۡيَهُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡا﴾ ’’آپ پائیں گے سب لوگوں سے زیادہ دشمن مسلمانوں کا، یہودیوں کو اور مشرکوں کو‘‘ یہ دو گروہ علی الاطلاق اسلام اور مسلمانوں سے سب سے زیادہ عداوت اور ان کو نقصان پہنچانے کے لیے سب سے زیادہ بھاگ دوڑ کرنے والے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف شدید بغض و حسد اور سخت کفر و عناد رکھتے ہیں ۔ ﴿ وَلَتَجِدَنَّ اَقۡرَبَهُمۡ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰى﴾ ’’اور آپ پائیں گے سب سے نزدیک محبت میں مسلمانوں کے، ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ‘‘ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مودت و محبت کے متعدد اسباب ذکر فرمائے ہیں :(۱)﴿ مِنۡهُمۡ قِسِّيۡسِيۡنَ وَرُهۡبَانًا ﴾ ’’یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی۔‘‘ یعنی ان کے اندر علماء، زہاد اور گرجاؤں میں عبادت کرنے والے عباد ہیں ۔ کیونکہ زہد کے ساتھ علم اور اسی طرح عبادت کے ساتھ علم یہ ایسی چیز ہے جو قلب کو لطیف اور رقیق بنا دیتی ہے اور اس کے اندر موجود سختی اور جفا کشی کو زائل کر دیتی ہے۔ بنابریں ان کے اندر یہود کی سختی اور مشرکین کی سی شدت نہیں پائی جاتی۔ (۲)﴿ وَّاَنَّهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾ ’’اور وہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘ یعنی ان کے اندر اتباع حق کے بارے میں تکبر اور سرکشی نہیں پائی جاتی۔ اور یہ چیز مسلمانوں سے ان کی قربت اور محبت کا باعث ہے کیونکہ متواضع اور منکسر المزاج شخص، متکبر کی نسبت بھلائی کے زیادہ قریب ہے۔

[83] اس کا ایک سبب یہ بھی ہے ﴿ وَاِذَا سَمِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَى الرَّسُوۡلِ ﴾ ’’جب وہ اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو محمد رسول اللہﷺ پر نازل کی گئی‘‘ تو یہ کتاب ان کے دلوں پر اثر کرتی ہے اور وہ اس کے سامنے جھک جاتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے اس حق کے سننے کے مطابق جس پر وہ یقین لائے ہیں ، آنسو جاری ہو جاتے ہیں ، پس اسی لیے وہ ایمان لے آئے اور اس کا اقرار کیا اور کہا:﴿ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں گواہوں کے ساتھ لکھ لے۔‘‘اور یہ محمدﷺ کی امت کے لوگ ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے رسولوں کی رسالت اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں ، اس کی صحت کی گواہی دیتے ہیں ۔ نیز تصدیق و تکذیب کے ذریعے سے گزشتہ امتوں کی گواہی دیتے ہیں ۔ وہ عادل ہیں اور ان کی گواہی مقبول ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ …

Al-Maaida 5:83Listen in Qur'an →
84

وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَمَا جَآءَنَا مِنَ ٱلْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَن يُدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ ٱلْقَوْمِ ٱلصَّٰلِحِينَ

اور ہمیں کیا ہوا ہے کہ خدا پر اور حق بات پر جو ہمارے پاس آئی ہے ایمان نہ لائیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ پروردگار ہم کو نیک بندوں کے ساتھ (بہشت میں) داخل کرے گا

یقینا پائیں گے آپ سخت ترین سب لوگوں سے، عداوت میں ، واسطے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، یہود کو اور ان کو جنھوں نے شرک کیا اور یقینا پائیں گے آپ قریب ترین ان (سب) سے دوستی میں ، واسطے ان کے جو ایمان لائے، ان کو جنھوں نے کہا، بے شک ہم نصاریٰ ہیں یہ اس سبب سے کہ بے شک ان میں کچھ پڑھے ہوئے ہیں اور کچھ زاہد اور یہ کہ وہ نہیں تکبر کرتے(82) اور جب سنا انھوں نے جو نازل کیا گیا رسول کی طرف تو دیکھتے ہیں آپ ان کی آنکھوں کو، بہتی ہیں آنسوؤں سے، اس وجہ سے کہ پہچان لیا انھوں نے حق کو، کہتے ہیں وہ، اے ہمارے رب! ایمان لائے ہم، پس لکھ لے تو ہمیں ساتھ شہادت دینے والوں کے(83) اور کیا ہے ہمیں کہ نہ ایمان لائیں ہم اللہ پراور (اس پر) جو آیا ہمارے پاس حق؟ اور ہم توقع رکھتے ہیں یہ کہ داخل کرے گا ہمیں ہمارا رب ساتھ قوم صالحین کے(84) پس بدلے میں دے گا ان کو اللہ بوجہ اس کے جو انھوں نے کہا، ایسے باغات کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں اور یہ جزا ہے نیکی کرنے والوں کی(85) اور جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو، یہ لوگ ہیں دوزخ والے(86)

[82] اللہ تعالیٰ اس گروہ کے بارے میں بیان فرماتا ہے جو محبت اور موالات میں مسلمانوں کے زیادہ قریب ہے اور دوسرا محبت اور موالات میں ان سے زیادہ دور ہے ﴿ لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الۡيَهُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡا﴾ ’’آپ پائیں گے سب لوگوں سے زیادہ دشمن مسلمانوں کا، یہودیوں کو اور مشرکوں کو‘‘ یہ دو گروہ علی الاطلاق اسلام اور مسلمانوں سے سب سے زیادہ عداوت اور ان کو نقصان پہنچانے کے لیے سب سے زیادہ بھاگ دوڑ کرنے والے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف شدید بغض و حسد اور سخت کفر و عناد رکھتے ہیں ۔ ﴿ وَلَتَجِدَنَّ اَقۡرَبَهُمۡ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰى﴾ ’’اور آپ پائیں گے سب سے نزدیک محبت میں مسلمانوں کے، ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ‘‘ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مودت و محبت کے متعدد اسباب ذکر فرمائے ہیں :(۱)﴿ مِنۡهُمۡ قِسِّيۡسِيۡنَ وَرُهۡبَانًا ﴾ ’’یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی۔‘‘ یعنی ان کے اندر علماء، زہاد اور گرجاؤں میں عبادت کرنے والے عباد ہیں ۔ کیونکہ زہد کے ساتھ علم اور اسی طرح عبادت کے ساتھ علم یہ ایسی چیز ہے جو قلب کو لطیف اور رقیق بنا دیتی ہے اور اس کے اندر موجود سختی اور جفا کشی کو زائل کر دیتی ہے۔ بنابریں ان کے اندر یہود کی سختی اور مشرکین کی سی شدت نہیں پائی جاتی۔ (۲)﴿ وَّاَنَّهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾ ’’اور وہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘ یعنی ان کے اندر اتباع حق کے بارے میں تکبر اور سرکشی نہیں پائی جاتی۔ اور یہ چیز مسلمانوں سے ان کی قربت اور محبت کا باعث ہے کیونکہ متواضع اور منکسر المزاج شخص، متکبر کی نسبت بھلائی کے زیادہ قریب ہے۔

[83] اس کا ایک سبب یہ بھی ہے ﴿ وَاِذَا سَمِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَى الرَّسُوۡلِ ﴾ ’’جب وہ اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو محمد رسول اللہﷺ پر نازل کی گئی‘‘ تو یہ کتاب ان کے دلوں پر اثر کرتی ہے اور وہ اس کے سامنے جھک جاتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے اس حق کے سننے کے مطابق جس پر وہ یقین لائے ہیں ، آنسو جاری ہو جاتے ہیں ، پس اسی لیے وہ ایمان لے آئے اور اس کا اقرار کیا اور کہا:﴿ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں گواہوں کے ساتھ لکھ لے۔‘‘اور یہ محمدﷺ کی امت کے لوگ ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے رسولوں کی رسالت اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں ، اس کی صحت کی گواہی دیتے ہیں ۔ نیز تصدیق و تکذیب کے ذریعے سے گزشتہ امتوں کی گواہی دیتے ہیں ۔ وہ عادل ہیں اور ان کی گواہی مقبول ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ …

Al-Maaida 5:84Listen in Qur'an →
85

فَأَثَٰبَهُمُ ٱللَّهُ بِمَا قَالُوا۟ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ جَزَآءُ ٱلْمُحْسِنِينَ

تو خدا نے ان کو اس کہنے کے عوض (بہشت کے) باغ عطا فرمائے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اور نیکو کاروں کا یہی صلہ ہے

یقینا پائیں گے آپ سخت ترین سب لوگوں سے، عداوت میں ، واسطے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، یہود کو اور ان کو جنھوں نے شرک کیا اور یقینا پائیں گے آپ قریب ترین ان (سب) سے دوستی میں ، واسطے ان کے جو ایمان لائے، ان کو جنھوں نے کہا، بے شک ہم نصاریٰ ہیں یہ اس سبب سے کہ بے شک ان میں کچھ پڑھے ہوئے ہیں اور کچھ زاہد اور یہ کہ وہ نہیں تکبر کرتے(82) اور جب سنا انھوں نے جو نازل کیا گیا رسول کی طرف تو دیکھتے ہیں آپ ان کی آنکھوں کو، بہتی ہیں آنسوؤں سے، اس وجہ سے کہ پہچان لیا انھوں نے حق کو، کہتے ہیں وہ، اے ہمارے رب! ایمان لائے ہم، پس لکھ لے تو ہمیں ساتھ شہادت دینے والوں کے(83) اور کیا ہے ہمیں کہ نہ ایمان لائیں ہم اللہ پراور (اس پر) جو آیا ہمارے پاس حق؟ اور ہم توقع رکھتے ہیں یہ کہ داخل کرے گا ہمیں ہمارا رب ساتھ قوم صالحین کے(84) پس بدلے میں دے گا ان کو اللہ بوجہ اس کے جو انھوں نے کہا، ایسے باغات کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں اور یہ جزا ہے نیکی کرنے والوں کی(85) اور جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو، یہ لوگ ہیں دوزخ والے(86)

[82] اللہ تعالیٰ اس گروہ کے بارے میں بیان فرماتا ہے جو محبت اور موالات میں مسلمانوں کے زیادہ قریب ہے اور دوسرا محبت اور موالات میں ان سے زیادہ دور ہے ﴿ لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الۡيَهُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡا﴾ ’’آپ پائیں گے سب لوگوں سے زیادہ دشمن مسلمانوں کا، یہودیوں کو اور مشرکوں کو‘‘ یہ دو گروہ علی الاطلاق اسلام اور مسلمانوں سے سب سے زیادہ عداوت اور ان کو نقصان پہنچانے کے لیے سب سے زیادہ بھاگ دوڑ کرنے والے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف شدید بغض و حسد اور سخت کفر و عناد رکھتے ہیں ۔ ﴿ وَلَتَجِدَنَّ اَقۡرَبَهُمۡ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰى﴾ ’’اور آپ پائیں گے سب سے نزدیک محبت میں مسلمانوں کے، ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ‘‘ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مودت و محبت کے متعدد اسباب ذکر فرمائے ہیں :(۱)﴿ مِنۡهُمۡ قِسِّيۡسِيۡنَ وَرُهۡبَانًا ﴾ ’’یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی۔‘‘ یعنی ان کے اندر علماء، زہاد اور گرجاؤں میں عبادت کرنے والے عباد ہیں ۔ کیونکہ زہد کے ساتھ علم اور اسی طرح عبادت کے ساتھ علم یہ ایسی چیز ہے جو قلب کو لطیف اور رقیق بنا دیتی ہے اور اس کے اندر موجود سختی اور جفا کشی کو زائل کر دیتی ہے۔ بنابریں ان کے اندر یہود کی سختی اور مشرکین کی سی شدت نہیں پائی جاتی۔ (۲)﴿ وَّاَنَّهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾ ’’اور وہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘ یعنی ان کے اندر اتباع حق کے بارے میں تکبر اور سرکشی نہیں پائی جاتی۔ اور یہ چیز مسلمانوں سے ان کی قربت اور محبت کا باعث ہے کیونکہ متواضع اور منکسر المزاج شخص، متکبر کی نسبت بھلائی کے زیادہ قریب ہے۔

[83] اس کا ایک سبب یہ بھی ہے ﴿ وَاِذَا سَمِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَى الرَّسُوۡلِ ﴾ ’’جب وہ اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو محمد رسول اللہﷺ پر نازل کی گئی‘‘ تو یہ کتاب ان کے دلوں پر اثر کرتی ہے اور وہ اس کے سامنے جھک جاتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے اس حق کے سننے کے مطابق جس پر وہ یقین لائے ہیں ، آنسو جاری ہو جاتے ہیں ، پس اسی لیے وہ ایمان لے آئے اور اس کا اقرار کیا اور کہا:﴿ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں گواہوں کے ساتھ لکھ لے۔‘‘اور یہ محمدﷺ کی امت کے لوگ ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے رسولوں کی رسالت اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں ، اس کی صحت کی گواہی دیتے ہیں ۔ نیز تصدیق و تکذیب کے ذریعے سے گزشتہ امتوں کی گواہی دیتے ہیں ۔ وہ عادل ہیں اور ان کی گواہی مقبول ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ …

Al-Maaida 5:85Listen in Qur'an →
86

وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَآ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلْجَحِيمِ

اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ جہنمی ہیں

یقینا پائیں گے آپ سخت ترین سب لوگوں سے، عداوت میں ، واسطے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، یہود کو اور ان کو جنھوں نے شرک کیا اور یقینا پائیں گے آپ قریب ترین ان (سب) سے دوستی میں ، واسطے ان کے جو ایمان لائے، ان کو جنھوں نے کہا، بے شک ہم نصاریٰ ہیں یہ اس سبب سے کہ بے شک ان میں کچھ پڑھے ہوئے ہیں اور کچھ زاہد اور یہ کہ وہ نہیں تکبر کرتے(82) اور جب سنا انھوں نے جو نازل کیا گیا رسول کی طرف تو دیکھتے ہیں آپ ان کی آنکھوں کو، بہتی ہیں آنسوؤں سے، اس وجہ سے کہ پہچان لیا انھوں نے حق کو، کہتے ہیں وہ، اے ہمارے رب! ایمان لائے ہم، پس لکھ لے تو ہمیں ساتھ شہادت دینے والوں کے(83) اور کیا ہے ہمیں کہ نہ ایمان لائیں ہم اللہ پراور (اس پر) جو آیا ہمارے پاس حق؟ اور ہم توقع رکھتے ہیں یہ کہ داخل کرے گا ہمیں ہمارا رب ساتھ قوم صالحین کے(84) پس بدلے میں دے گا ان کو اللہ بوجہ اس کے جو انھوں نے کہا، ایسے باغات کہ بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں اور یہ جزا ہے نیکی کرنے والوں کی(85) اور جنھوں نے کفر کیا اور جھٹلایا ہماری آیتوں کو، یہ لوگ ہیں دوزخ والے(86)

[82] اللہ تعالیٰ اس گروہ کے بارے میں بیان فرماتا ہے جو محبت اور موالات میں مسلمانوں کے زیادہ قریب ہے اور دوسرا محبت اور موالات میں ان سے زیادہ دور ہے ﴿ لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الۡيَهُوۡدَ وَالَّذِيۡنَ اَشۡرَؔكُوۡا﴾ ’’آپ پائیں گے سب لوگوں سے زیادہ دشمن مسلمانوں کا، یہودیوں کو اور مشرکوں کو‘‘ یہ دو گروہ علی الاطلاق اسلام اور مسلمانوں سے سب سے زیادہ عداوت اور ان کو نقصان پہنچانے کے لیے سب سے زیادہ بھاگ دوڑ کرنے والے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف شدید بغض و حسد اور سخت کفر و عناد رکھتے ہیں ۔ ﴿ وَلَتَجِدَنَّ اَقۡرَبَهُمۡ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰى﴾ ’’اور آپ پائیں گے سب سے نزدیک محبت میں مسلمانوں کے، ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ‘‘ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مودت و محبت کے متعدد اسباب ذکر فرمائے ہیں :(۱)﴿ مِنۡهُمۡ قِسِّيۡسِيۡنَ وَرُهۡبَانًا ﴾ ’’یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی۔‘‘ یعنی ان کے اندر علماء، زہاد اور گرجاؤں میں عبادت کرنے والے عباد ہیں ۔ کیونکہ زہد کے ساتھ علم اور اسی طرح عبادت کے ساتھ علم یہ ایسی چیز ہے جو قلب کو لطیف اور رقیق بنا دیتی ہے اور اس کے اندر موجود سختی اور جفا کشی کو زائل کر دیتی ہے۔ بنابریں ان کے اندر یہود کی سختی اور مشرکین کی سی شدت نہیں پائی جاتی۔ (۲)﴿ وَّاَنَّهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠﴾ ’’اور وہ تکبر نہیں کرتے۔‘‘ یعنی ان کے اندر اتباع حق کے بارے میں تکبر اور سرکشی نہیں پائی جاتی۔ اور یہ چیز مسلمانوں سے ان کی قربت اور محبت کا باعث ہے کیونکہ متواضع اور منکسر المزاج شخص، متکبر کی نسبت بھلائی کے زیادہ قریب ہے۔

[83] اس کا ایک سبب یہ بھی ہے ﴿ وَاِذَا سَمِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَى الرَّسُوۡلِ ﴾ ’’جب وہ اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو محمد رسول اللہﷺ پر نازل کی گئی‘‘ تو یہ کتاب ان کے دلوں پر اثر کرتی ہے اور وہ اس کے سامنے جھک جاتے ہیں اور ان کی آنکھوں سے اس حق کے سننے کے مطابق جس پر وہ یقین لائے ہیں ، آنسو جاری ہو جاتے ہیں ، پس اسی لیے وہ ایمان لے آئے اور اس کا اقرار کیا اور کہا:﴿ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكۡتُبۡنَا مَعَ الشّٰهِدِيۡنَ﴾ ’’اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہمیں گواہوں کے ساتھ لکھ لے۔‘‘اور یہ محمدﷺ کی امت کے لوگ ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کی توحید، اس کے رسولوں کی رسالت اور جو کچھ یہ رسول لے کر آئے ہیں ، اس کی صحت کی گواہی دیتے ہیں ۔ نیز تصدیق و تکذیب کے ذریعے سے گزشتہ امتوں کی گواہی دیتے ہیں ۔ وہ عادل ہیں اور ان کی گواہی مقبول ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ …

Al-Maaida 5:86Listen in Qur'an →
87

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تُحَرِّمُوا۟ طَيِّبَٰتِ مَآ أَحَلَّ ٱللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْمُعْتَدِينَ

مومنو! جو پاکیزہ چیزیں خدا نے تمہارے لیے حلال کی ہیں ان کو حرام نہ کرو اور حد سے نہ بڑھو کہ خدا حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! مت حرام ٹھہراؤ وہ پاکیزہ چیزیں جن کو حلال کیا اللہ نے تمھارے لیےاور نہ حد سے گزرو یقینا اللہ نہیں پسند کرتا حد سے گزرنے والوں کو(87) اور کھاؤ اس میں سے جو رزق دیا تمھیں اللہ نے حلال پاکیزہ اور ڈرو اللہ سے، جس پر تم ایمان رکھتے ہو(88)

[87]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحَرِّمُوۡا طَيِّبٰؔتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمۡ ﴾ ’’اے ایمان والو! جن پاکیزہ چیزوں کو اللہ نے تمھارے لیے حلال کیا ہے، تم انھیں حرام مت کرو‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ماکولات و مشروبات میں جو چیزیں حلال ٹھہرا رکھی ہیں ، انھیں حرام نہ ٹھہراؤ۔ کیونکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں جو اس نے تمھیں عطا کی ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرو کیونکہ اس نے تمھارے لیے ان نعمتوں کو حلال ٹھہرایا اور اس کا شکر ادا کرو۔ کفران نعمت، عدم قبول اور ان کی تحریم کا اعتقاد رکھتے ہوئے ان نعمتوں کو نہ ٹھکراؤ۔ ورنہ تم اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی، کفران نعمت اور حلال کو حرام اور ناپاک قرار دینے کے مرتکب ٹھہرو گے… اور یہ حد سے تجاوز ہے اور اللہ تعالیٰ نے حد سے بڑھنے سے منع فرمایا ہے ﴿ وَلَا تَعۡتَدُوۡا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡمُعۡتَدِيۡنَ﴾ ’’اور حد سے نہ بڑھو، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا‘‘ بلکہ ان سے ناراض ہو تا ہے اور اس پر ان کو سزا دے گا۔

[88] پھر اللہ تعالیٰ نے اہل شرک کے طریقے کے برعکس جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرایا، حکم دیا ﴿ وَؔكُلُوۡا مِمَّؔا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا﴾’’اور جو حلال طیب روزی اللہ نے تمھیں دی ہے اسے کھاؤ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے اس رزق میں سے کھاؤ جو اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کے ذریعے سے تمھاری طرف بھیجا ہے جو تمھیں میسر ہیں ۔ بشرطیکہ یہ رزق حلال ہو اور چوری یا غصب شدہ وغیرہ مال میں سے نہ ہو جو ناحق حاصل کیا گیا ہوتا ہے۔ نیز وہ پاک بھی ہو، یعنی اس میں کوئی ناپاکی نہ ہو۔ اس طرح درندے اور دیگر ناپاک چیزیں اس دائرے سے نکل جاتی ہیں ۔﴿ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اور اللہ سے ڈرتے رہو۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور اس کی منہیات کے اجتناب میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو ﴿الَّذِيۡۤ اَنۡتُمۡ بِهٖ مُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’وہ اللہ جس پر تم ایمان رکھتے ہو‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان تم پر تقویٰ اور حقوق اللہ کی رعایت و حفاظت واجب کرتا ہے کیونکہ اس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی حلال چیز ، مثلاً: ماکولات، مشروبات یا لونڈی وغیرہ کو حرام ٹھہرا لیتا ہے تو یہ چیز اس کے حرام ٹھہرا لینے سے حرام نہیں ہو جاتی، البتہ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو قسم کا کفارہ واجب ہو جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ﴾(التحریم: 66؍1) ’’اے نبی! آپ اس چیز کو کیوں حرام ٹھہراتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال قرار دی ہے۔‘‘مگر بیوی کو اپنے آپ پر حرام ٹھہرانے سے ظہار کا کفارہ لازم آئے گا۔( اس مسئلے میں کافی اختلاف ہے‘ ایک رائے یہ بھی ہے جس کا اظہارفاضل مفسر رحمۃ اللہ علیہ نے کیا ہے‘ دوسری رائے یہ ہے کہ اس میں کفارۂ یمین ہے (اور یہی زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے‘ واللہ اعلم) اور تیسری رائے ہے کہ اس میں سرے سے کوئی کفارہ ہی نہیں ہے۔ امام ابن قیم اور امام ابن کثیر کا رجحان دوسری رائے کی طرف اور امام شوکانی کا تیسری رائے کی طرف ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے تفسیر فتح القدیر‘ آیت زیر بحث۔ زاد المعاد، ج : 5؍ 302۔312، فتح الباري، کتاب الطلاق، والروضۃ الندیۃ، ج : 2، کتاب الطلاق وغیرھا من الکتب ( ص ۔ ی) اس آیت کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ انسان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ پاک چیزوں سے اجتناب کرے اور انھیں اپنے آپ پر حرام ٹھہرا لے بلکہ وہ انھیں استعمال کرے اور اس طرح …

Al-Maaida 5:87Listen in Qur'an →
88

وَكُلُوا۟ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ حَلَٰلًۭا طَيِّبًۭا ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ٱلَّذِىٓ أَنتُم بِهِۦ مُؤْمِنُونَ

اور جو حلال طیّب روزی خدا نے تم کو دی ہے اسے کھاؤ اور خدا سے جس پر ایمان رکھتے ہو ڈرتے رہو

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! مت حرام ٹھہراؤ وہ پاکیزہ چیزیں جن کو حلال کیا اللہ نے تمھارے لیےاور نہ حد سے گزرو یقینا اللہ نہیں پسند کرتا حد سے گزرنے والوں کو(87) اور کھاؤ اس میں سے جو رزق دیا تمھیں اللہ نے حلال پاکیزہ اور ڈرو اللہ سے، جس پر تم ایمان رکھتے ہو(88)

[87]﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحَرِّمُوۡا طَيِّبٰؔتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمۡ ﴾ ’’اے ایمان والو! جن پاکیزہ چیزوں کو اللہ نے تمھارے لیے حلال کیا ہے، تم انھیں حرام مت کرو‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ماکولات و مشروبات میں جو چیزیں حلال ٹھہرا رکھی ہیں ، انھیں حرام نہ ٹھہراؤ۔ کیونکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں جو اس نے تمھیں عطا کی ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرو کیونکہ اس نے تمھارے لیے ان نعمتوں کو حلال ٹھہرایا اور اس کا شکر ادا کرو۔ کفران نعمت، عدم قبول اور ان کی تحریم کا اعتقاد رکھتے ہوئے ان نعمتوں کو نہ ٹھکراؤ۔ ورنہ تم اللہ تعالیٰ پر افترا پردازی، کفران نعمت اور حلال کو حرام اور ناپاک قرار دینے کے مرتکب ٹھہرو گے… اور یہ حد سے تجاوز ہے اور اللہ تعالیٰ نے حد سے بڑھنے سے منع فرمایا ہے ﴿ وَلَا تَعۡتَدُوۡا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡمُعۡتَدِيۡنَ﴾ ’’اور حد سے نہ بڑھو، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا‘‘ بلکہ ان سے ناراض ہو تا ہے اور اس پر ان کو سزا دے گا۔

[88] پھر اللہ تعالیٰ نے اہل شرک کے طریقے کے برعکس جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام ٹھہرایا، حکم دیا ﴿ وَؔكُلُوۡا مِمَّؔا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا﴾’’اور جو حلال طیب روزی اللہ نے تمھیں دی ہے اسے کھاؤ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے اس رزق میں سے کھاؤ جو اللہ تعالیٰ نے ان اسباب کے ذریعے سے تمھاری طرف بھیجا ہے جو تمھیں میسر ہیں ۔ بشرطیکہ یہ رزق حلال ہو اور چوری یا غصب شدہ وغیرہ مال میں سے نہ ہو جو ناحق حاصل کیا گیا ہوتا ہے۔ نیز وہ پاک بھی ہو، یعنی اس میں کوئی ناپاکی نہ ہو۔ اس طرح درندے اور دیگر ناپاک چیزیں اس دائرے سے نکل جاتی ہیں ۔﴿ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ﴾ ’’اور اللہ سے ڈرتے رہو۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور اس کی منہیات کے اجتناب میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو ﴿الَّذِيۡۤ اَنۡتُمۡ بِهٖ مُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’وہ اللہ جس پر تم ایمان رکھتے ہو‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان تم پر تقویٰ اور حقوق اللہ کی رعایت و حفاظت واجب کرتا ہے کیونکہ اس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی حلال چیز ، مثلاً: ماکولات، مشروبات یا لونڈی وغیرہ کو حرام ٹھہرا لیتا ہے تو یہ چیز اس کے حرام ٹھہرا لینے سے حرام نہیں ہو جاتی، البتہ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو قسم کا کفارہ واجب ہو جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ﴾(التحریم: 66؍1) ’’اے نبی! آپ اس چیز کو کیوں حرام ٹھہراتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال قرار دی ہے۔‘‘مگر بیوی کو اپنے آپ پر حرام ٹھہرانے سے ظہار کا کفارہ لازم آئے گا۔( اس مسئلے میں کافی اختلاف ہے‘ ایک رائے یہ بھی ہے جس کا اظہارفاضل مفسر رحمۃ اللہ علیہ نے کیا ہے‘ دوسری رائے یہ ہے کہ اس میں کفارۂ یمین ہے (اور یہی زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے‘ واللہ اعلم) اور تیسری رائے ہے کہ اس میں سرے سے کوئی کفارہ ہی نہیں ہے۔ امام ابن قیم اور امام ابن کثیر کا رجحان دوسری رائے کی طرف اور امام شوکانی کا تیسری رائے کی طرف ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے تفسیر فتح القدیر‘ آیت زیر بحث۔ زاد المعاد، ج : 5؍ 302۔312، فتح الباري، کتاب الطلاق، والروضۃ الندیۃ، ج : 2، کتاب الطلاق وغیرھا من الکتب ( ص ۔ ی) اس آیت کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ انسان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ پاک چیزوں سے اجتناب کرے اور انھیں اپنے آپ پر حرام ٹھہرا لے بلکہ وہ انھیں استعمال کرے اور اس طرح …

Al-Maaida 5:88Listen in Qur'an →
89

لَا يُؤَاخِذُكُمُ ٱللَّهُ بِٱللَّغْوِ فِىٓ أَيْمَٰنِكُمْ وَلَٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ ٱلْأَيْمَٰنَ ۖ فَكَفَّٰرَتُهُۥٓ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَٰكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍۢ ۖ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَٰثَةِ أَيَّامٍۢ ۚ ذَٰلِكَ كَفَّٰرَةُ أَيْمَٰنِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ ۚ وَٱحْفَظُوٓا۟ أَيْمَٰنَكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمْ ءَايَٰتِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

خدا تمہاری بےارادہ قسموں پر تم سے مواخذہ نہیں کرے گا لیکن پختہ قسموں پر (جن کے خلاف کرو گے) مواخذہ کرے گا تو اس کا کفارہ دس محتاجوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے اہل وعیال کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑے دینا یا ایک غلام آزاد کرنا اور جس کو میسر نہ ہو وہ تین روزے رکھے یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھا لو (اور اسے توڑ دو) اور (تم کو) چاہئے کہ اپنی قسموں کی حفاظت کرو اس طرح خدا تمہارے (سمجھانے کے) لیے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم شکر کرو

نہیں مؤاخذہ کرے گا تمھارا اللہ تمھاری لغو قسموں پر لیکن وہ مؤاخذہ کرے گا تمھارا ان پر جو مضبوط باندھیں تم نے قسمیں ، پس کفارہ اس کا، کھانا کھلانا ہے دس مسکینوں کو اوسط درجے کا، جو کھلاتے ہو تم اپنے اہل و عیال کو یا کپڑے پہنانا ہے انھیں یا آزاد کرنا ایک گردن کا، پس جو نہ پائے تو روزے رکھنے ہیں تین دن کے۔ یہ کفارہ ہے تمھاری قسموں کا، جب قسم کھا بیٹھو تم اور حفاظت کرو تم اپنی قسموں کی۔ اسی طرح بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے اپنی آیتیں تاکہ تم شکر کرو(89)

[89] یعنی تمھاری ان قسموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ تمھارا مواخذہ نہیں کرے گا جو تم سے لغو صادر ہوتی ہیں ۔ اس سے مراد وہ قسمیں ہیں جو انسان بغیر کسی نیت اور ارادے کے کھا لیتا ہے یا یہ سمجھتے ہوئے اٹھاتا ہے کہ وہ سچا ہے مگر معاملہ اس کے برعکس نکلتا ہے ﴿ وَلٰكِنۡ يُّؤَاخِذُكُمۡ بِمَا عَقَّدۡتُّمُ الۡاَيۡمَانَ﴾ ’’لیکن پکڑتا ہے ان قسموں پر جن کو تم نے مضبوط باندھا‘‘ یعنی جس کا تم عزم کر لیتے ہو اور تمھارے دل جس پر جم جاتے ہیں ۔ جیسا کہ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلٰكِنۡ يُّؤَاخِذُكُمۡ بِمَا كَسَبَتۡ قُلُوۡبُكُمۡ﴾(البقرۃ: 2؍225)’’مگر وہ قسمیں جو تم دلی ارادے سے کھاتے ہو، ان پر تمھارا مواخذہ کرے گا۔‘‘﴿ فَؔكَـفَّارَتُهٗۤ ﴾ ’’تو اس کا کفارہ‘‘ یعنی ان قسموں کا کفارہ جو تم قصد اور ارادے سے کھاتے ہو ﴿ اِطۡعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِيۡنَ ﴾ ’’دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے‘‘ اور یہ کھانا ﴿ مِنۡ اَوۡسَطِ مَا تُطۡعِمُوۡنَ اَهۡلِيۡكُمۡ ﴾ ’’اوسط درجے کا کھانا جو تم کھلاتے ہو اپنے گھر والوں کو‘‘ ﴿ اَوۡ كِسۡوَتُهُمۡ ﴾ ’’یا ان دس مسکینوں کو لباس پہنانا ہے‘‘ اور یہاں لباس سے مراد کم از کم اتنا لباس ہے جس سے نماز ہو جاتی ہے ﴿ اَوۡ تَحۡرِيۡرُ رَقَبَةٍ﴾ ’’یا ایک گردن آزاد کرنی ہے‘‘ یعنی مومن غلام جیسا کہ بعض دیگر مقام پر اسے ایمان کے ساتھ مقید کیا گیا ہے۔جب ان مذکورہ تینوں صورتوں میں سے کسی ایک پر عمل کر لے تو اس کی قسم کا کفارہ ادا ہو جائے گا ﴿ فَمَنۡ لَّمۡ يَجِدۡ ﴾ ’’اور جس کو یہ میسر نہ ہو۔‘‘ یعنی جب کوئی ان تینوں صورتوں میں سے کسی پر بھی عمل کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو ﴿ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ﴾ ’’تو تین دن کے روزے رکھنے ہیں ‘‘ ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ مذکورہ صورت ﴿ كَفَّارَةُ اَيۡمَانِكُمۡ اِذَا حَلَفۡتُمۡ﴾’’تمھاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھالو۔‘‘ یہ ان کو مٹا دیتا ہے اور گناہ کو ختم کر دیتا ہے۔﴿ وَاحۡفَظُوۡۤا اَيۡمَانَكُمۡ﴾ ’’اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔‘‘ اللہ تعالیٰ کے نام پر جھوٹے اور کثرت سے حلف اٹھانے سے اپنی قسموں کی حفاظت کرو اور جب تم حلف اٹھا ہی لو پھر ٹوٹنے سے اس کو بچاؤ۔ سوائے اس کے کہ قسم توڑنے میں کوئی بھلائی ہو۔ پس قسم کی کامل حفاظت یہ ہے کہ انسان بھلائی پر عمل کرے اور اس کی قسم بھلائی کے راستے میں رکاوٹ نہ بنے۔ ﴿ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمۡ اٰيٰتِهٖ ﴾ ’’اسی طرح بیان کرتا ہے اللہ تمھارے لیے اپنی آیات‘‘ جو حلال و حرام کو بیان کرنے والی اور احکام کو واضح کرنے والی ہیں ﴿ لَعَلَّـكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ﴾ ’’شاید تم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بنو‘‘ کہ اس نے تمھیں وہ کچھ سکھایا جو تم نہیں جانتے تھے۔ پس بندۂ مومن پر اللہ تعالیٰ کا شکر واجب ہے کہ اس نے احکام شریعت کی معرفت اور ان کی توضیحات سے نوازا۔

Al-Maaida 5:89Listen in Qur'an →
90

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِنَّمَا ٱلْخَمْرُ وَٱلْمَيْسِرُ وَٱلْأَنصَابُ وَٱلْأَزْلَٰمُ رِجْسٌۭ مِّنْ عَمَلِ ٱلشَّيْطَٰنِ فَٱجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پاسے (یہ سب) ناپاک کام اعمال شیطان سے ہیں سو ان سے بچتے رہنا تاکہ نجات پاؤ

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یقینا شراب اور جوا اور بت اور فال نکالنے کے تیر ناپاک ہیں عمل سے ہیں شیطان کے، پس بچو تم اس سے تاکہ تم فلاح پاؤ(90) یقینا چاہتا ہے شیطان کہ ڈال دے تمھارے درمیان عداوت اور بغض شراب اور جوئے کے ذریعے سےاور روک دے تمھیں اللہ کے ذکر سے اور نماز سے، پس کیا تم باز آتے ہو (ان شیطانی کاموں سے)؟ (91)

[91,90] اللہ تبارک و تعالیٰ ان مذکورہ قبیح اشیا کی مذمت کرتے ہوئے آگاہ فرماتا ہے کہ یہ شیطانی اور گندے کام ہیں ۔ ﴿ فَاجۡتَنِبُوۡهُ ﴾ ’’پس بچو ان سے‘‘ یعنی ان گندے کاموں کو چھوڑ دو ﴿ لَعَلَّـكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ﴾’’تاکہ تم فلاح پاؤ‘‘ کیونکہ فلاح اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک کہ ان چیزوں سے اجتناب نہ کیا جائے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔ خاص طور پر مذکورہ فواحش :(الف)خمر : ہر وہ چیز خمر ہے جو عقل کو ڈھانپ لے، یعنی عقل پر نشے کا پردہ ڈال دے۔(ب) جوا : وہ تمام مقابلے جن میں جانبین کی طرف سے جیتنے والے کے لیے عوض مقرر کیا گیا ہو ، مثلاً:گھوڑ دوڑ وغیرہ کی شرط۔(ج)انصاب : اس سے مراد وہ بت وغیرہ ہیں جن کو نصب کر دیا جاتا ہے اور اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کی جاتی ہے۔(د)پانسے : جن کے ذریعے سے لوگ اپنی قسمت کا حال معلوم کرتے ہیں ۔یہ وہ چار چیزیں ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے اور ان کے ارتکاب پر زجر و توبیخ کی ہے اور ان کے مفاسد سے آگاہ فرمایا جو ان کو ترک کرنے اور ان سے اجتناب کے داعی ہیں ۔(۱) یہ تمام امور (رجس)یعنی ناپاک ہیں ۔ اگرچہ حسی طور پر یہ ناپاک نہیں مگر معنوی طور پر ناپاک ہیں اور ناپاک امور سے بچنا اور ان کی گندگی میں ملوث ہونے سے اجتناب کرنا ہی مناسب ہے۔(۲)یہ تمام امور شیطانی اعمال ہیں اور شیطان انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ دشمن سے ہمیشہ دور رہا جاتا ہے اور اس کی گھاتوں اور سازشوں سے بچا جاتا ہے، خاص طور پر ان اعمال سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے جن میں دشمن ملوث کر کے ہلاک کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور سب سے بڑی احتیاط یہ ہے کہ اپنے کھلے دشمن کے اعمال سے دور رہ کر اس سے بچنا چاہیے اور ان اعمال میں پڑنے سے ڈرنا چاہیے۔(۳)ان مذکورہ امور سے اجتناب کیے بغیر بندے کی فلاح ممکن نہیں ۔ فلاح، امر مطلوب کے حصول میں کامیابی اور امر مرہوب سے نجات کا نام ہے اور یہ تمام امور فلاح سے مانع اور اس کے لیے رکاوٹ ہیں ۔(۴)یہ مذکورہ اعمال لوگوں کے درمیان بغض اور عداوت کے موجب ہیں ۔ شیطان ان اعمال کو لوگوں کے درمیان پھیلانے کا بڑا حریص ہے، خاص طور پر شراب اور جوا۔ تاکہ وہ اہل ایمان کے درمیان بغض اور عداوت کا بیج بو سکے۔ کیونکہ شراب پینا، عقل میں فتور آنے کا، ہوش و حواس کے چلے جانے کا اور مومن بھائیوں کے درمیان بغض اور عداوت کا سبب بنتا ہے خاص طور پر جبکہ اس کے ساتھ وہ اسباب بھی مقرون ہوں جو شراب پینے والے کے لوازم میں شمار ہوتے ہیں ۔ تب یہ شراب نوشی بسا اوقات قتل کے اقدام تک پہنچا دیتی ہے۔ جوئے میں ایک شخص کو جو دوسرے شخص پر جیت حاصل ہوتی ہے اور وہ بغیر کسی مقابلہ کے بہت سا مال حاصل کر لیتا ہے تو یہ چیز بغض اور عداوت کا سب سے بڑا سبب ہے۔(۵) یہ مذکورہ اعمال قلب کو ذکر الٰہی سے روکتے ہیں اور بدن کو ذکر اور نماز سے دور کر دیتے ہیں ۔ حالانکہ یہی وہ دو چیزیں ہیں جن کے لیے بندے کو تخلیق کیا گیا ہے اور انھی دو امور میں بندے کی سعادت ہے۔شراب اور جوا تو ذکر الٰہی اور نماز کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ قلب مشغول ہو جاتا ہے اور ذہن شراب اور جوئے میں مشغول ہو کر غافل ہو جاتا ہے یہاں تک کہ طویل مدت اس پر گزر جاتی ہے اور انسان کو ہوش تک نہیں رہتا کہ وہ کہاں ہے۔ پس کون سا گناہ اس گناہ سے بڑھ کر قبیح ہے جو انسان کو ناپاک کر کے ناپاک لوگوں میں شامل کر دے اور وہ اسے شیطان کے اعمال، اس کے مکر و فریب کے جال میں پھنسا دے ۔اور وہ شیطان کا اس …

Al-Maaida 5:90Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.