Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 81–90 of 120

81

وَلَوْ كَانُوا۟ يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلنَّبِىِّ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْهِ مَا ٱتَّخَذُوهُمْ أَوْلِيَآءَ وَلَٰكِنَّ كَثِيرًۭا مِّنْهُمْ فَٰسِقُونَ

اور اگر وہ خدا پر اور پیغمبر پر اور جو کتاب ان پر نازل ہوئی تھی اس پر یقین رکھتے تو ان لوگوں کو دوست نہ بناتے لیکن ان میں اکثر بدکردار ہیں

وَلَوْ كَانُوْا يُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ ۔ : یعنی اگر وہ واقعی اللہ تعالیٰ پر اور اپنے نبی (موسیٰ و عیسیٰ (علیہ السلام ) پر اور ان پر نازل شدہ کتاب (تورات و انجیل) پر ایمان رکھتے تو کبھی مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار سے دوستی قائم نہ کرتے، کیونکہ تورات میں اس کام کو حرام کہا گیا ہے، یا یہ کہ اگر وہ کفار صدق دل سے ایمان لائے ہوتے، نفاق کے مریض نہ ہوتے تو پھر یہ کبھی ان سے دوستی پیدا نہ کرتے۔

Al-Maaida 5:81Listen in Qur'an →
82

۞ لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ ٱلنَّاسِ عَدَٰوَةًۭ لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱلْيَهُودَ وَٱلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ ۖ وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةًۭ لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّا نَصَٰرَىٰ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًۭا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ

(اے پیغمبرﷺ!) تم دیکھو گے کہ مومنوں کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی کرنے والے یہودی اور مشرک ہیں اور دوستی کے لحاظ سے مومنوں سے قریب تر ان لوگوں کو پاؤ گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی اور وہ تکبر نہیں کرتے

لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً ۔۔ : اس لیے کہ یہودیوں میں عناد و انکار، حق سے دشمنی، تکبر اور اہل علم و ایمان کی تنقیص کا جذبہ بہت پایا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ نبیوں کو جھٹلانا بلکہ قتل کردینا ان کا شعار رہا ہے، حتیٰ کہ انھوں نے کئی مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قتل کی سازش کی، آپ پر جادو بھی کیا اور ہر طرح نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش کی۔ اس معاملے میں مشرکین کا حال بھی یہی ہے۔ یہ واقعی ایک حقیقت ہے جس کا اس زمانے میں بھی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے، آج بھی جو دشمنی یہودیوں اور مشرکوں (گائے اور بتوں کے پجاری ہندوؤں، دہریوں اور کمیونسٹوں) کو مسلمانوں سے ہے وہ بہرحال نصرانیوں کو نہیں ہے، ہاں جن نصرانیوں پر یہودیت غالب ہے وہ واقعی مسلمانوں کے سخت دشمن ہیں۔ - ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ ۔۔ : یہود و نصاریٰ کی مسلم دشمنی میں جو فرق مذکور ہوا یہ اس کی علت ہے، جس طرح یہود کے عالم کو حبر کہا جاتا ہے، جس کی جمع احبار ہے، اسی طرح نصاریٰ کے رئیس اور عالم قسیس کہلاتے ہیں، یعنی جن لوگوں نے کہا کہ ہم نصاریٰ ہیں، جو واقعی عیسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت پر چلنے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ مسلمانوں کے نسبتاً قریب ہیں، کیونکہ ان میں علم اور زہد یعنی دنیا سے بےرغبتی پائی جاتی ہے اور دین مسیحی میں نرمی اور عفو و درگزر کی تعلیم کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ پھر ان میں علماء، عبادت گزار اور زاہد لوگ بھی ہوتے ہیں، جو تواضع اختیار کرتے ہیں، یہودیوں کی طرح کبر و غرور میں مبتلا نہیں ہوتے۔ نصرانیوں میں رہبانیت (دنیا سے کنارہ کشی) کی بدعت رائج تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (لاَ رَھْبَانِیَّۃَ فِی الْاِسْلَامِ ) فرما کر اسے ممنوع قرار دے دیا۔ رہبانیت بیشک یہودیوں کی دنیا پرستی اور سخت دلی کے مقابلے میں قابل تعریف تھی، مگر اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ رہبانیت ہر لحاظ سے قابل تعریف اور اچھی چیز ہے۔ ان وجوہ کی بنا پر یہود اور مشرکین کی نسبت نصرانیوں کو مسلمانوں کے زیادہ قریب قرار دیا۔ ورنہ جہاں تک خود اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی کا تعلق ہے تو بغض و عناد نصرانیوں میں بھی موجود ہے، جیسا کہ صلیب و ہلال کی صدیوں پر محیط لڑائیوں سے واضح ہے اور جس کا سلسلہ اب تک جاری ہے اور اب تو اسلام کے خلاف مشرکین کے ساتھ یہودی اور نصرانی دونوں اکٹھے ہوگئے ہیں، اسی لیے قرآن نے مسلمانوں کو مشرکین کے ساتھ ساتھ یہود و نصاریٰ کی دوستی سے بھی منع فرمایا ہے۔

Al-Maaida 5:82Listen in Qur'an →
83

وَإِذَا سَمِعُوا۟ مَآ أُنزِلَ إِلَى ٱلرَّسُولِ تَرَىٰٓ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ ٱلدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا۟ مِنَ ٱلْحَقِّ ۖ يَقُولُونَ رَبَّنَآ ءَامَنَّا فَٱكْتُبْنَا مَعَ ٱلشَّٰهِدِينَ

اور جب اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو (سب سے پہلے) پیغمبر (محمدﷺ) پر نازل ہوئی تو تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں اس لیے کہ انہوں نے حق بات پہچان لی اور وہ (خدا کی جناب میں) عرض کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم ایمان لے آئے تو ہم کو ماننے والوں میں لکھ لے

وَاِذَا سَمِعُوْا مَآ اُنْزِلَ ۔۔ : مفسرین کے بیان کے مطابق ان سے مراد نصاریٰ کے وہ لوگ ہیں جو مسلمان ہوگئے تھے، سلمان (رض) سے روایت ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں تشریف لائے تو میں نے کھانا تیار کیا اور اسے لے کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” سلمان یہ کیا ہے ؟ “ میں نے کہا : ” صدقہ ہے۔ “ تو آپ نے اپنے اصحاب سے کہا کھاؤ اور خود نہیں کھایا۔ چناچہ میں واپس آگیا، پھر کچھ کھانا اکٹھا کیا اور اسے لے کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، آپ نے فرمایا : ” سلمان یہ کیا ہے ؟ “ میں نے کہا : ” ہدیہ ہے۔ “ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ بڑھایا اور کھایا اور (ساتھ ہی) اپنے ساتھیوں سے بھی فرمایا کہ کھاؤ۔ میں نے کہا : ” آپ مجھے نصاریٰ کے متعلق بتائیں ؟ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” ان میں کوئی خیر نہیں ہے۔ “ میں بوجھل دل کے ساتھ اٹھ آیا، تو اللہ عزوجل نے یہ آیات نازل کیں : (لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ ۔۔ تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ ) تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری طرف پیغام بھیجا اور مجھے فرمایا : ” سلمان یہ ( آنسوؤں والے) تیرے وہ ساتھی ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔ “ [ المعجم الکبیر : ٦؍٤٩، ح : ٦١٢١ ] سلیم الہلالی اور ان کے ساتھی نے اس حدیث کو ” کتاب الاستیعاب فی بیان الاسباب “ میں صحیح کہا ہے۔- ان لوگوں میں نجاشی (رض) اور ان کے ساتھی بھی شامل ہیں کہ جب مکہ میں مسلمان ہونے والے صحابہ ہجرت کر کے نجاشی کے ملک حبشہ میں گئے اور انھیں کفار مکہ کے سفیروں کی شکایت پر بادشاہ کے دربار میں بلایا گیا تو جعفر (رض) نے اس کے سامنے تقریر کی اور اس میں سورة مریم کی تلاوت کی، جس میں مسیح (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کا ذکر ہے، تو نجاشی اور اس کے ساتھیوں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور نجاشی ( رض ) مسلمان ہوگئے، اگرچہ وہ مدینہ نہیں جاسکے مگر ان کی وفات پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا غائبانہ جنازہ پڑھایا۔ اس کے علاوہ ایسے مسلمان ہونے والے نصاریٰ کا ذکر دوسرے مقامات پر بھی فرمایا ہے۔ دیکھیے سورة آل عمران (١٩٩) اور سورة قصص (٥٢ تا ٥٥) اہل کتاب میں سے مسلمان ہونے والوں کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوہرے اجر کی بشارت دی۔ [ بخاری، العلم، باب تعلیم الرجل أمتہ وأھلہ : ٩٧ ]- فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِيْنَ : یعنی ہمیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت میں داخل فرما کر ان کی طرح شہادت دینے والوں میں شامل فرما۔ امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شہادت سے متعلق دیکھیں سورة بقرہ (١٤٣) یا یہ کہ انبیاء اور مومنین جو توحید کی گواہی دیتے ہیں، ان کی جماعت میں شامل فرما۔

Al-Maaida 5:83Listen in Qur'an →
84

وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَمَا جَآءَنَا مِنَ ٱلْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَن يُدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ ٱلْقَوْمِ ٱلصَّٰلِحِينَ

اور ہمیں کیا ہوا ہے کہ خدا پر اور حق بات پر جو ہمارے پاس آئی ہے ایمان نہ لائیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ پروردگار ہم کو نیک بندوں کے ساتھ (بہشت میں) داخل کرے گا

مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِيْنَ اور یہ طمع نہ رکھیں کہ ہمارا رب ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ داخل کرے گا، یعنی ہمارا حشر مسلمانوں کے ساتھ فرمائے گا۔ اس صورت میں ” وَنَطْمَعُ “ کا عطف ” لَا نُؤْمِنُ “ پر ہوگا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” نَطْمَعُ “ کا جملہ ” لَا نُؤْمِنُ ‘ کی ضمیر سے حال ہو اور مطلب یہ ہو کہ ہم کیوں ایمان نہ لائیں، حالانکہ ہم طمع رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں اپنے نیک بندوں کے ساتھ داخل کرے، یعنی ہمیں ضرور ایمان لانا چاہیے، ایمان لائے بغیر قیامت کے دن نیک بندوں کے ساتھ داخل ہونے کی توقع اور طمع سراسر جہالت اور حماقت ہے۔

Al-Maaida 5:84Listen in Qur'an →
85

فَأَثَٰبَهُمُ ٱللَّهُ بِمَا قَالُوا۟ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ جَزَآءُ ٱلْمُحْسِنِينَ

تو خدا نے ان کو اس کہنے کے عوض (بہشت کے) باغ عطا فرمائے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اور نیکو کاروں کا یہی صلہ ہے

Explained together with ayah 84

Al-Maaida 5:85Listen in Qur'an →
86

وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَآ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلْجَحِيمِ

اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ جہنمی ہیں

Explained together with ayah 84

Al-Maaida 5:86Listen in Qur'an →
87

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تُحَرِّمُوا۟ طَيِّبَٰتِ مَآ أَحَلَّ ٱللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْمُعْتَدِينَ

مومنو! جو پاکیزہ چیزیں خدا نے تمہارے لیے حلال کی ہیں ان کو حرام نہ کرو اور حد سے نہ بڑھو کہ خدا حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا

لَا تُحَرِّمُوْا طَيِّبٰتِ مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ ۔ : عہد توڑنے کے سلسلہ میں یہود و نصاریٰ سے مباحثہ کے بعد اب اصل موضوع کی طرف پھر توجہ کی ہے، یعنی ” اَوفُو بالعقُودِ “ کی تشریح جو اس سورت کا بنیادی موضوع ہے۔ (قرطبی، رازی) نصاریٰ کے راہبوں کی تعریف کے بعد پاکیزہ چیزوں کو حرام ٹھہرانے سے منع کرنا اس لیے بھی زیادہ مناسب تھا کہ انھوں نے ان باتوں کو نیکی میں داخل کر رکھا تھا، لہٰذا مومنین کو اس سے منع فرما دیا۔ اللہ تعالیٰ نے رہبانیت سے متعلق فرمایا : (وَرَهْبَانِيَّةَۨ ابْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَيْهِمْ ) [ الحدید : ٢٧ ] ” اور دنیا سے کنارہ کشی تو انھوں نے خود ہی ایجاد کرلی، ہم نے اسے ان پر نہیں لکھا تھا۔ “- شاہ عبد القادر (رض) فرماتے ہیں کہ جو چیز شرع میں صاف حلال ہو اس سے پرہیز کرنا برا ہے، یہ دو طرح سے ہوتا ہے، ایک زہد سے، یہ رہبانیت ہے جو ہمارے دین میں پسندیدہ نہیں ہے، اس کے بجائے تقویٰ اختیار کیا جائے، یعنی ممنوع چیز کے قریب نہ جائے۔ دوم یہ کہ کسی مباح (جائز) کام کے نہ کرنے کی قسم کھالے، یہ بھی بہتر نہیں، اسے چاہیے کہ قسم توڑے اور کفارہ ادا کرے۔ “ (موضح) انس (رض) سے روایت ہے کہ تین آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں کے گھروں میں آئے، وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عبادت کے متعلق دریافت کر رہے تھے، جب انھیں اس کے متعلق بتایا گیا تو جیسے انھوں نے اسے کم سمجھا اور کہنے لگے، ہماری رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا نسبت ؟ آپ کے تو پہلے اور پچھلے تمام گناہ معاف کردیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا، میں تو ہمیشہ رات بھر نماز پڑھوں گا۔ دوسرے نے کہا، میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا، کبھی افطار نہیں کروں گا۔ تیسرے نے کہا، میں عورتوں سے علیحدہ رہوں گا، کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو فرمایا : ” تمھی لوگوں نے اس اس طرح کہا ہے ؟ اللہ کی قسم میں تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور اس سے بچنے والا ہوں، لیکن روزہ رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا اور نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے نکاح کرتا ہوں، تو جو میری سنت سے بےرغبتی کرے وہ مجھ سے نہیں۔ “ [ مسلم، النکاح، باب استحباب النکاح لمن تاقت نفسہ۔۔ : ١٤٠١۔ بخاری : ٥٠٦٣ ] اس سلسلے میں اور بھی کئی روایات ہیں جن میں سے بعض میں یہ تصریح ہے کہ یہ آیت ایسے ہی کسی موقع پر نازل ہوئی۔ چناچہ عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ جنگ کرتے تھے، ہمارے ساتھ بیویاں نہیں تھیں تو ہم نے عرض کیا، ہم خصی نہ ہوجائیں، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اس سے منع فرما دیا، پھر ہمیں رخصت دے دی کہ ہم کپڑے کے ساتھ عورت سے نکاح کرلیں، پھر یہ آیت پڑھی : (يٰٓاَيُّھَاالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَيِّبٰتِ ) [ بخاری، التفسیر، باب قولہ تعالیٰ : ( یأیہا الذین آمنوا ۔۔ ) : ٤٦١٥ ] واضح رہے کہ اس کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے متعہ ہمیشہ کے لیے حرام فرما دیا، چناچہ سبرہ (بن معبد) (رض) سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اے لوگو میں نے تمہیں عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت دی تھی اور بیشک اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت کے دن تک حرام فرما دیا ہے تو جس شخص کے پاس ایسی عورتوں میں سے کوئی موجود ہو وہ اسے چھوڑ دے اور تم نے انھیں جو کچھ دیا ہے اس میں سے کوئی چیز واپس نہ لو۔ “ [ مسلم، النکاح، باب نکاح المتعۃ و بیان أنہ ۔۔ : ٢١؍١٤٠٦ ]

Al-Maaida 5:87Listen in Qur'an →
88

وَكُلُوا۟ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ حَلَٰلًۭا طَيِّبًۭا ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ٱلَّذِىٓ أَنتُم بِهِۦ مُؤْمِنُونَ

اور جو حلال طیّب روزی خدا نے تم کو دی ہے اسے کھاؤ اور خدا سے جس پر ایمان رکھتے ہو ڈرتے رہو

یعنی حلال کو حرام تو نہ ٹھہراؤ، ہاں ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ تقویٰ اختیار کرو اور جو چیزیں حرام ہیں ان کے قریب نہ جاؤ۔

Al-Maaida 5:88Listen in Qur'an →
89

لَا يُؤَاخِذُكُمُ ٱللَّهُ بِٱللَّغْوِ فِىٓ أَيْمَٰنِكُمْ وَلَٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ ٱلْأَيْمَٰنَ ۖ فَكَفَّٰرَتُهُۥٓ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَٰكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍۢ ۖ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَٰثَةِ أَيَّامٍۢ ۚ ذَٰلِكَ كَفَّٰرَةُ أَيْمَٰنِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ ۚ وَٱحْفَظُوٓا۟ أَيْمَٰنَكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمْ ءَايَٰتِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

خدا تمہاری بےارادہ قسموں پر تم سے مواخذہ نہیں کرے گا لیکن پختہ قسموں پر (جن کے خلاف کرو گے) مواخذہ کرے گا تو اس کا کفارہ دس محتاجوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے اہل وعیال کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑے دینا یا ایک غلام آزاد کرنا اور جس کو میسر نہ ہو وہ تین روزے رکھے یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھا لو (اور اسے توڑ دو) اور (تم کو) چاہئے کہ اپنی قسموں کی حفاظت کرو اس طرح خدا تمہارے (سمجھانے کے) لیے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم شکر کرو

الْاَيْمَانَ ۚ ” یہ ” یَمِیْنٌ“ کی جمع ہے، بمعنی قسم۔ اس مقام پر یہ دوسرا حکم ہے کہ اگر کوئی طیبات ( پاکیزہ چیزیں) چھوڑنے کی قسم کھالے تو اس کا کیا حکم ہے۔ قسم کی تین قسمیں ہیں : 1 یمین لغو، جو بےساختہ عادت کے طور پر زبان سے یوں ہی نکل جاتی ہے، جیسے ” لَاوَاللّٰہِ وَبَلٰی وَاللّٰہِ “ ( نہیں اللہ کی قسم، یا کیوں نہیں اللہ کی قسم) ایسی قسموں پر نہ کفارہ ہے نہ سزا۔ 2 یمین غموص، یعنی جھوٹی قسم، جو انسان نیت اور ارادہ کے ساتھ دھوکا و فریب دینے کے لیے جھوٹ بول کر قسم اٹھائے کہ ایسا ہوا ہے یا نہیں ہوا، حالانکہ اس کی قسم واقعہ کے خلاف ہو۔ یہ کبیرہ گناہ ہے، اس کا کوئی کفارہ نہیں، اس کا علاج یہی ہے کہ سچے دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کرے، کیونکہ اس نے بہت بڑے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ 3 منعقد ہونے والی قسم، یعنی ارادے اور نیت کے ساتھ قسم کھائے کہ میں ایسا کروں گا یا نہیں کروں گا، پھر اگر وہ قسم پوری نہ کرسکے تو اس آیت میں اس کا کفارہ بیان ہوا ہے۔ جو یہ ہے کہ تین کاموں میں سے جو چاہے اختیار کرلے، یعنی دس مسکینوں کو اوسط (درمیانے) درجے کا کھانا کھلانا، یا انھیں کپڑے پہنانا، یا ایک گردن آزاد کرنا، اگر ان تینوں ہی کی طاقت نہ ہو تو تین روزے رکھے۔ بعض اہل علم نے اوسط کا معنی افضل لکھا ہے، لغت میں یہ معنی بھی موجود ہے، فرمایا : (جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا) [ البقرۃ : ١٤٣] اور آیت : ( جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا) [ البقرۃ : ٢٣٨] یہ تین روزے خواہ پے درپے رکھے یا الگ الگ، دونوں طرح درست ہے۔ - حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى ۤ: یعنی قسم توڑنے سے پرہیز کرو، لیکن اگر اسے توڑ دو تو اس کا کفارہ ادا کرو۔ ہاں، اگر وہ قسم کوئی ناجائز کام کرنے کی ہے تو وہ ہرگز پوری نہ کرو بلکہ توڑ دو ، اس کا کفارہ ہے یا نہیں، اہل علم کا اس میں اختلاف ہے، بہتر ہے کہ ادا کر دو اور اگر یہ قسم کسی جائز کام کے چھوڑنے کی ہے تو اسے توڑ کر کفارہ ادا کر دو ۔ عبدالرحمان بن سمرہ (رض) کی حدیث ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” جب تم کسی کام پر قسم کھاؤ اور اس کے علاوہ دوسرے کام کو بہتر سمجھو تو بہتر کام کرلو اور قسم کا کفارہ ادا کر دو ۔ “- [ بخاری، الأیمان والنذور، باب قول اللہ تعالیٰ : (لا یؤاخذکم اللہ۔۔ ) : ٦٦٢٢ ]- اگر کسی نے کوئی نذر مانی ہو اور اسے پورا نہ کرسکے تو اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا ہے۔ [ مسلم، النذر، باب فی کفارۃ النذر : ١٦٤٥، عن کعب بن عجرۃ ]

Al-Maaida 5:89Listen in Qur'an →
90

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِنَّمَا ٱلْخَمْرُ وَٱلْمَيْسِرُ وَٱلْأَنصَابُ وَٱلْأَزْلَٰمُ رِجْسٌۭ مِّنْ عَمَلِ ٱلشَّيْطَٰنِ فَٱجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پاسے (یہ سب) ناپاک کام اعمال شیطان سے ہیں سو ان سے بچتے رہنا تاکہ نجات پاؤ

اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ ۔ : یہ شراب کے سلسلے میں تیسرا اور آخری حکم ہے، جس کے بعد وہ قطعی حرام قرار دے دی گئی، اس سے پہلے دو حکم آ چکے تھے، پہلا حکم سورة بقرہ (٢١٩) میں اور دوسرا سورة نساء (٤٣) میں، مگر ان دونوں آیتوں میں قطعی حرمت کا ذکر نہیں تھا، اس لیے عمر بن خطاب (رض) نے سورة بقرہ اور سورة نساء کی آیات نازل ہونے کے بعد کہا : ” یا اللہ ہمارے لیے شراب کے بارے میں واضح حکم فرما۔ “ آخر صریح حرمت کی یہ آیت تین مزید چیزوں کی حرمت کے ساتھ اتری۔- [ نسائی، الأشربۃ، باب تحریم الخمر : ٥٥٤٢ ]- ’ الْخَمْر “ کی تفسیر خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمائی، چناچہ صحیح مسلم میں عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( کُلُّ مُسْکِرٍ خَمْرٌ وکُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ ) ” ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور حرام ہے (خواہ کسی بھی چیز سے بنی ہو) ۔ “ [ مسلم، الأشربۃ، باب بیان أن کل مسکر خمر۔۔ : ٢٠٠٣ ] خلافت اسلامیہ کو برباد کرنے کے اسباب میں سے یہ بھی ایک بڑا سبب ہے کہ بعض علماء نے صرف انگور اور کھجور کی شراب پینے پر حد لازم قرار دی، باقی ہر نشہ آور چیز پینے پر حد ختم کردی، خواہ وہ کسی چیز سے بنی ہو اور خواہ اس سے نشہ کیوں نہ آجائے۔ اب جن اسلامی خلافتوں میں ام الخبائث کی کئی قسمیں پینے پر حد معاف ہو وہاں رعایا، لشکر اور خلفاء کا کیا حال ہوگا ؟ - اس آیت اور اس سے اگلی آیت سے شراب اور جوئے کی حرمت سات وجہوں سے ثابت ہوتی ہے، اسی لیے اسے ” ام الخبائث “ قرار دیا گیا ہے : 1 ” رِجْسٌ“ گندی چیز ہے۔ 2 عمل شیطان ہے۔ ” فَاجْتَنِبُوْهُ “ امر کا صیغہ فرض کے لیے ہوتا ہے، چناچہ اس سے اجتناب فرض ہے، لہٰذا پینا حرام ہے۔ 4 ” لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ “ اس کے ترک سے فلاح کی امید ہے، ورنہ نہیں۔ 5 شیطان اس کے ذریعے سے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈالنا چاہتا ہے اور عداوت اور بغض پیدا کرنے والا ہر کام حرام ہے۔ 6 اور تمہیں اللہ کے ذکر اور نماز سے روکنا چاہتا ہے۔ یہ بھی اس کی حرمت کی ایک وجہ ہے۔ 7 ” تو کیا تم باز آنے والے ہو ؟ “ یہ سوال کی صورت میں امر ہے اور امر فرض کے لیے ہوتا ہے۔ لہٰذا صحابہ (رض) نے سن کر کہا ” اِنْتَھَیْنَا اِنْتَھَیْنَا “ یعنی ہم باز آگئے، ہم باز آگئے۔ چناچہ صحابہ نے شراب کے مٹکے توڑ دیے اور شراب گلیوں میں بہنے لگ گئی۔ اتنی صراحتوں کے باوجود کفار کے نمائندے کئی لوگ کہتے ہیں کہ قرآن میں شراب کہاں حرام ہے ؟ - ” الْمَيْسِر “ علماء نے لکھا ہے کہ جس چیز میں بھی ہار جیت پر شرط لگائی جائے وہ جوا ہے، لاٹری، قسمت کی پڑی، انعامی بانڈ، انعامی معمے، انعامی سکیمیں سب جوئے کی قسمیں ہیں۔ کئی ظالم جوئے والی سکیموں پر عمرے یا حج کا انعام رکھ کر لوگوں کو پھنساتے ہیں، یاد رکھیں حرام مال اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرتا نہ حرام کے ساتھ کی ہوئی عبادت قبول ہے۔ انشورنش (بیمہ) سود اور جوئے کا بدترین مرکب ہے، بولی والی کمیٹی سراسر سود ہے اور شطرنج وغیرہ میں گو شرط نہ بھی لگائی جائے، پھر بھی یہ حرام ہے، کیونکہ یہ نماز سے غفلت کا سبب بنتی ہے۔

Al-Maaida 5:90Listen in Qur'an →

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.