Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 81–90 of 120

81

وَلَوْ كَانُوا۟ يُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلنَّبِىِّ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْهِ مَا ٱتَّخَذُوهُمْ أَوْلِيَآءَ وَلَٰكِنَّ كَثِيرًۭا مِّنْهُمْ فَٰسِقُونَ

اور اگر وہ خدا پر اور پیغمبر پر اور جو کتاب ان پر نازل ہوئی تھی اس پر یقین رکھتے تو ان لوگوں کو دوست نہ بناتے لیکن ان میں اکثر بدکردار ہیں

ایمان آدمی کو ظلم اور برائی کے بارے میں حسّاس بنا دیتاہے۔ وہ کسی کو ظلم اور برائی کرتے دیکھتا ہے تو تڑپ اٹھتا ہے اور چاہتا ہے کہ فوراً اسے روک دے۔ برے لوگوں سے اس کا تعلق جدائی کا ہوتا ہے، نہ کہ دوستی کا۔ مگر جب ایمانی جذبہ کمزور پڑجائے تو آدمی صرف اپنی ذات کے بارے میں حساس ہو کر رہ جاتاہے۔ اب اس کو صرف وہ بر ائی برائی معلوم ہوتی ہے جس کی زد اس کے اپنے اوپر پڑے۔ جس برائی کا رخ دوسروں کی طرف ہو اس کے بارے میں وہ غیر جانب دار ہوجاتا ہے۔

بنی اسرائیل جو اس زوال کا شکار ہوئے اس کا مطلب یہ نہ تھا کہ انھوں نے اپنی زبان سے اچھی بات بولنا چھوڑ دیا تھا۔ ان کے خواص اب بھی خوبصورت تقریریں کرتے تھے مگر اس معاملہ میں وہ اتنے سنجیدہ نہ تھے کہ جب کسی کو ظلم اور برائی کرتے دیکھیں تو وہاں کود پڑیں اور اس کو روکنے کی کوشش کریں۔ حضرت داؤد اپنے زمانے کے یہود کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان میں كوئي نیکو کار نہیں، ایک بھی نہیں (زبور، 14:3 ) ۔ مگر اسی کے ساتھ آپ کے کلام سے اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہود اپنے ہمسایوں سے صلح کی باتیں کرتے تھے جب کہ ان کے دلوں میں بدی ہوتی تھی (زبور، 28:3 )وہ خدا کے آئین کو بیان کرتے اور خدا کے عہد کو زبان پر لاتے جب كه وه خدا كي باتوں كو پيٹھ پيچھے پھينك ديتے هيں(زبور 50:16-17 )حضرت مسیح اپنے زمانہ کے یہودیوں کے بارے میں فرماتے ہیں اے ریاکار فقیہو تم پر افسوس، تم بیواؤں کے گھروں کو دبا بیٹھے ہو اور دکھاوے کے لیے نماز کو طول دیتے ہو۔ تم پودینہ اور سونف اور زیرہ پر تودسواں حصه دیتے ہو پر تم نے شریعت کی زیادہ بھاری باتوں یعنی انصاف، رحم اور ایمان کو چھوڑ دیا ہے۔ اے اندھے راہ بتانے والو، مچھر کو چھانتے ہو اور اونٹ نگل جاتے ہو۔ اے ریا کار فقیہو تم ظاہر میں تو لوگوں کو راست باز دکھائی دیتے ہو مگر باطن میں ریاکاری اور بے دینی سے بھرے ہوئے ہو (متّی 23:23-26 )۔

یہود خدا کا آئین بیان کرتے تھے۔ وہ لمبی نمازیں پڑھتے اور فصلوں میں دسواں حصہ نکالتے۔ مگر ان کی باتیں صرف کہنے کے لیے ہوتی تھیں۔ وہ بے ضرر احکام پر نمائشی اہتمام کے ساتھ عمل کرتے تھے مگر جب صاحب معاملہ سےانصاف كرنے كا سوال هوتا، جب ايك كم زور پر رحم كا تقاضا هوتا، جب اپنے نفس كو كچل كر الله كے حكم كو ماننے كي ضرورت ہوتی تو وہ پھسل جاتے۔ حتی کہ اگر کوئی خدا کا بندہ ان کی غلطیوں کو بتاتا تو وہ اس کے دشمن ہوجاتے۔ یہی چیز هے جس نے ان کو لعنت اور غضب کا مستحق بنادیا۔

Al-Maaida 5:81Listen in Qur'an →
82

۞ لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ ٱلنَّاسِ عَدَٰوَةًۭ لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱلْيَهُودَ وَٱلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ ۖ وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةًۭ لِّلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّا نَصَٰرَىٰ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًۭا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ

(اے پیغمبرﷺ!) تم دیکھو گے کہ مومنوں کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی کرنے والے یہودی اور مشرک ہیں اور دوستی کے لحاظ سے مومنوں سے قریب تر ان لوگوں کو پاؤ گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی اور وہ تکبر نہیں کرتے

اس آیت میں جنت کو ’’قول‘‘ کا بدلہ قرار دیاگیا۔ مگر وہ قول کیا تھا جس نے اس کے قائلین کو ابدی جنت کا مستحق بنایا۔ وہ قول ان كي پوری ہستی کا نمائندہ تھا۔ وہ ان کی شخصیت کی پھٹن کی آواز تھا۔ انھوں نے اللہ کے کلام کو اس طرح سنا کہ اس کے اندر جو حق تھا اس کو وہ پوری طرح پاگئے۔ وہ ان کے دل و دماغ میں اتر گیا۔ اس نے ان کے اندر ایسا انقلاب برپا کیا کہ ان کے حوصلوں اور تمناؤں کا مرکز بدل گیا۔ تعصب اور مصلحت کی تمام دیواریں ڈھ پڑیں۔ انھوں نے حق کے ساتھ اپنے آپ کو اس طرح شامل کیا کہ اس سے الگ ان كي کو ئی ہستی باقی نہ رہی۔ وہ اس کے گواہ بن گئے، اور گواہ بننا ایک حقیقت کا انسان کی صورت میں مجسم ہونا ہے۔ قرآن اب ان کے لیے محض ایک کتاب نہ رہا بلکہ مالک کائنات کی زنده نشانی بن گیا۔ یہ ربانی تجربہ جو ان پر گزرا بظاہر اس کا اظہار اگر چہ لفظوں کی صورت میں ہوا تھا مگر ان کے یہ الفاظ نہ تھے بلکہ وہ ایک زلزلہ تھا جس نے ان کے پورے وجود کو ہلا دیا۔ حتی کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بہ پڑیں۔

قول اپنی حقیقت کے اعتبار سے کسی قسم کے لسانی تلفظ کا نام نہیں۔ وہ آدمی کے عمل کو معنویت کا روپ دینے کی اعلیٰ ترین صورت ہے جس کا اختیار معلوم کائنات میں صرف انسان کو حاصل ہے۔ ایک حقیقی قول سب سے زیادہ لطیف اور سب سے زیادہ با معنی واقعه ہے۔ قول آدمی کی ہستی کا سب سے بڑا اظہار ہے۔ قول ناطقِ عمل ہے۔ اس لیے جب کوئی شخص قول کی سطح پر اپنی عبدیت کا ثبوت دے دے تو وہ جنت کا یقینی استحقاق حاصل کرلیتا ہے۔

حق کو نہ ماننے کی سب سے بڑی وجہ ہمیشہ کبر ہوتاہے۔ جن کے دلوں میں کبر چھپا ہوا ہو وہ حق کی دعوت کے مقابلہ میں سب سے زیادہ سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔ اور جن لوگوں کے اندر کبر نہ ہو، خواہ وہ دوسری کسی گمراہی میں مبتلا ہوں، وہ حق کی مخالفت میں کبھی اتنا آگے نہیں جاسکتے کہ اس کے جانی دشمن بن جائیں۔ اور کسی حال میں اس کو قبول نہ کریں۔

Al-Maaida 5:82Listen in Qur'an →
83

وَإِذَا سَمِعُوا۟ مَآ أُنزِلَ إِلَى ٱلرَّسُولِ تَرَىٰٓ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ ٱلدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا۟ مِنَ ٱلْحَقِّ ۖ يَقُولُونَ رَبَّنَآ ءَامَنَّا فَٱكْتُبْنَا مَعَ ٱلشَّٰهِدِينَ

اور جب اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو (سب سے پہلے) پیغمبر (محمدﷺ) پر نازل ہوئی تو تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں اس لیے کہ انہوں نے حق بات پہچان لی اور وہ (خدا کی جناب میں) عرض کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم ایمان لے آئے تو ہم کو ماننے والوں میں لکھ لے

اس آیت میں جنت کو ’’قول‘‘ کا بدلہ قرار دیاگیا۔ مگر وہ قول کیا تھا جس نے اس کے قائلین کو ابدی جنت کا مستحق بنایا۔ وہ قول ان كي پوری ہستی کا نمائندہ تھا۔ وہ ان کی شخصیت کی پھٹن کی آواز تھا۔ انھوں نے اللہ کے کلام کو اس طرح سنا کہ اس کے اندر جو حق تھا اس کو وہ پوری طرح پاگئے۔ وہ ان کے دل و دماغ میں اتر گیا۔ اس نے ان کے اندر ایسا انقلاب برپا کیا کہ ان کے حوصلوں اور تمناؤں کا مرکز بدل گیا۔ تعصب اور مصلحت کی تمام دیواریں ڈھ پڑیں۔ انھوں نے حق کے ساتھ اپنے آپ کو اس طرح شامل کیا کہ اس سے الگ ان كي کو ئی ہستی باقی نہ رہی۔ وہ اس کے گواہ بن گئے، اور گواہ بننا ایک حقیقت کا انسان کی صورت میں مجسم ہونا ہے۔ قرآن اب ان کے لیے محض ایک کتاب نہ رہا بلکہ مالک کائنات کی زنده نشانی بن گیا۔ یہ ربانی تجربہ جو ان پر گزرا بظاہر اس کا اظہار اگر چہ لفظوں کی صورت میں ہوا تھا مگر ان کے یہ الفاظ نہ تھے بلکہ وہ ایک زلزلہ تھا جس نے ان کے پورے وجود کو ہلا دیا۔ حتی کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بہ پڑیں۔

قول اپنی حقیقت کے اعتبار سے کسی قسم کے لسانی تلفظ کا نام نہیں۔ وہ آدمی کے عمل کو معنویت کا روپ دینے کی اعلیٰ ترین صورت ہے جس کا اختیار معلوم کائنات میں صرف انسان کو حاصل ہے۔ ایک حقیقی قول سب سے زیادہ لطیف اور سب سے زیادہ با معنی واقعه ہے۔ قول آدمی کی ہستی کا سب سے بڑا اظہار ہے۔ قول ناطقِ عمل ہے۔ اس لیے جب کوئی شخص قول کی سطح پر اپنی عبدیت کا ثبوت دے دے تو وہ جنت کا یقینی استحقاق حاصل کرلیتا ہے۔

حق کو نہ ماننے کی سب سے بڑی وجہ ہمیشہ کبر ہوتاہے۔ جن کے دلوں میں کبر چھپا ہوا ہو وہ حق کی دعوت کے مقابلہ میں سب سے زیادہ سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔ اور جن لوگوں کے اندر کبر نہ ہو، خواہ وہ دوسری کسی گمراہی میں مبتلا ہوں، وہ حق کی مخالفت میں کبھی اتنا آگے نہیں جاسکتے کہ اس کے جانی دشمن بن جائیں۔ اور کسی حال میں اس کو قبول نہ کریں۔

Al-Maaida 5:83Listen in Qur'an →
84

وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِٱللَّهِ وَمَا جَآءَنَا مِنَ ٱلْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَن يُدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ ٱلْقَوْمِ ٱلصَّٰلِحِينَ

اور ہمیں کیا ہوا ہے کہ خدا پر اور حق بات پر جو ہمارے پاس آئی ہے ایمان نہ لائیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ پروردگار ہم کو نیک بندوں کے ساتھ (بہشت میں) داخل کرے گا

اس آیت میں جنت کو ’’قول‘‘ کا بدلہ قرار دیاگیا۔ مگر وہ قول کیا تھا جس نے اس کے قائلین کو ابدی جنت کا مستحق بنایا۔ وہ قول ان كي پوری ہستی کا نمائندہ تھا۔ وہ ان کی شخصیت کی پھٹن کی آواز تھا۔ انھوں نے اللہ کے کلام کو اس طرح سنا کہ اس کے اندر جو حق تھا اس کو وہ پوری طرح پاگئے۔ وہ ان کے دل و دماغ میں اتر گیا۔ اس نے ان کے اندر ایسا انقلاب برپا کیا کہ ان کے حوصلوں اور تمناؤں کا مرکز بدل گیا۔ تعصب اور مصلحت کی تمام دیواریں ڈھ پڑیں۔ انھوں نے حق کے ساتھ اپنے آپ کو اس طرح شامل کیا کہ اس سے الگ ان كي کو ئی ہستی باقی نہ رہی۔ وہ اس کے گواہ بن گئے، اور گواہ بننا ایک حقیقت کا انسان کی صورت میں مجسم ہونا ہے۔ قرآن اب ان کے لیے محض ایک کتاب نہ رہا بلکہ مالک کائنات کی زنده نشانی بن گیا۔ یہ ربانی تجربہ جو ان پر گزرا بظاہر اس کا اظہار اگر چہ لفظوں کی صورت میں ہوا تھا مگر ان کے یہ الفاظ نہ تھے بلکہ وہ ایک زلزلہ تھا جس نے ان کے پورے وجود کو ہلا دیا۔ حتی کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بہ پڑیں۔

قول اپنی حقیقت کے اعتبار سے کسی قسم کے لسانی تلفظ کا نام نہیں۔ وہ آدمی کے عمل کو معنویت کا روپ دینے کی اعلیٰ ترین صورت ہے جس کا اختیار معلوم کائنات میں صرف انسان کو حاصل ہے۔ ایک حقیقی قول سب سے زیادہ لطیف اور سب سے زیادہ با معنی واقعه ہے۔ قول آدمی کی ہستی کا سب سے بڑا اظہار ہے۔ قول ناطقِ عمل ہے۔ اس لیے جب کوئی شخص قول کی سطح پر اپنی عبدیت کا ثبوت دے دے تو وہ جنت کا یقینی استحقاق حاصل کرلیتا ہے۔

حق کو نہ ماننے کی سب سے بڑی وجہ ہمیشہ کبر ہوتاہے۔ جن کے دلوں میں کبر چھپا ہوا ہو وہ حق کی دعوت کے مقابلہ میں سب سے زیادہ سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔ اور جن لوگوں کے اندر کبر نہ ہو، خواہ وہ دوسری کسی گمراہی میں مبتلا ہوں، وہ حق کی مخالفت میں کبھی اتنا آگے نہیں جاسکتے کہ اس کے جانی دشمن بن جائیں۔ اور کسی حال میں اس کو قبول نہ کریں۔

Al-Maaida 5:84Listen in Qur'an →
85

فَأَثَٰبَهُمُ ٱللَّهُ بِمَا قَالُوا۟ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ جَزَآءُ ٱلْمُحْسِنِينَ

تو خدا نے ان کو اس کہنے کے عوض (بہشت کے) باغ عطا فرمائے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے اور نیکو کاروں کا یہی صلہ ہے

اس آیت میں جنت کو ’’قول‘‘ کا بدلہ قرار دیاگیا۔ مگر وہ قول کیا تھا جس نے اس کے قائلین کو ابدی جنت کا مستحق بنایا۔ وہ قول ان كي پوری ہستی کا نمائندہ تھا۔ وہ ان کی شخصیت کی پھٹن کی آواز تھا۔ انھوں نے اللہ کے کلام کو اس طرح سنا کہ اس کے اندر جو حق تھا اس کو وہ پوری طرح پاگئے۔ وہ ان کے دل و دماغ میں اتر گیا۔ اس نے ان کے اندر ایسا انقلاب برپا کیا کہ ان کے حوصلوں اور تمناؤں کا مرکز بدل گیا۔ تعصب اور مصلحت کی تمام دیواریں ڈھ پڑیں۔ انھوں نے حق کے ساتھ اپنے آپ کو اس طرح شامل کیا کہ اس سے الگ ان كي کو ئی ہستی باقی نہ رہی۔ وہ اس کے گواہ بن گئے، اور گواہ بننا ایک حقیقت کا انسان کی صورت میں مجسم ہونا ہے۔ قرآن اب ان کے لیے محض ایک کتاب نہ رہا بلکہ مالک کائنات کی زنده نشانی بن گیا۔ یہ ربانی تجربہ جو ان پر گزرا بظاہر اس کا اظہار اگر چہ لفظوں کی صورت میں ہوا تھا مگر ان کے یہ الفاظ نہ تھے بلکہ وہ ایک زلزلہ تھا جس نے ان کے پورے وجود کو ہلا دیا۔ حتی کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بہ پڑیں۔

قول اپنی حقیقت کے اعتبار سے کسی قسم کے لسانی تلفظ کا نام نہیں۔ وہ آدمی کے عمل کو معنویت کا روپ دینے کی اعلیٰ ترین صورت ہے جس کا اختیار معلوم کائنات میں صرف انسان کو حاصل ہے۔ ایک حقیقی قول سب سے زیادہ لطیف اور سب سے زیادہ با معنی واقعه ہے۔ قول آدمی کی ہستی کا سب سے بڑا اظہار ہے۔ قول ناطقِ عمل ہے۔ اس لیے جب کوئی شخص قول کی سطح پر اپنی عبدیت کا ثبوت دے دے تو وہ جنت کا یقینی استحقاق حاصل کرلیتا ہے۔

حق کو نہ ماننے کی سب سے بڑی وجہ ہمیشہ کبر ہوتاہے۔ جن کے دلوں میں کبر چھپا ہوا ہو وہ حق کی دعوت کے مقابلہ میں سب سے زیادہ سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔ اور جن لوگوں کے اندر کبر نہ ہو، خواہ وہ دوسری کسی گمراہی میں مبتلا ہوں، وہ حق کی مخالفت میں کبھی اتنا آگے نہیں جاسکتے کہ اس کے جانی دشمن بن جائیں۔ اور کسی حال میں اس کو قبول نہ کریں۔

Al-Maaida 5:85Listen in Qur'an →
86

وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَآ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلْجَحِيمِ

اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ جہنمی ہیں

اس آیت میں جنت کو ’’قول‘‘ کا بدلہ قرار دیاگیا۔ مگر وہ قول کیا تھا جس نے اس کے قائلین کو ابدی جنت کا مستحق بنایا۔ وہ قول ان كي پوری ہستی کا نمائندہ تھا۔ وہ ان کی شخصیت کی پھٹن کی آواز تھا۔ انھوں نے اللہ کے کلام کو اس طرح سنا کہ اس کے اندر جو حق تھا اس کو وہ پوری طرح پاگئے۔ وہ ان کے دل و دماغ میں اتر گیا۔ اس نے ان کے اندر ایسا انقلاب برپا کیا کہ ان کے حوصلوں اور تمناؤں کا مرکز بدل گیا۔ تعصب اور مصلحت کی تمام دیواریں ڈھ پڑیں۔ انھوں نے حق کے ساتھ اپنے آپ کو اس طرح شامل کیا کہ اس سے الگ ان كي کو ئی ہستی باقی نہ رہی۔ وہ اس کے گواہ بن گئے، اور گواہ بننا ایک حقیقت کا انسان کی صورت میں مجسم ہونا ہے۔ قرآن اب ان کے لیے محض ایک کتاب نہ رہا بلکہ مالک کائنات کی زنده نشانی بن گیا۔ یہ ربانی تجربہ جو ان پر گزرا بظاہر اس کا اظہار اگر چہ لفظوں کی صورت میں ہوا تھا مگر ان کے یہ الفاظ نہ تھے بلکہ وہ ایک زلزلہ تھا جس نے ان کے پورے وجود کو ہلا دیا۔ حتی کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بہ پڑیں۔

قول اپنی حقیقت کے اعتبار سے کسی قسم کے لسانی تلفظ کا نام نہیں۔ وہ آدمی کے عمل کو معنویت کا روپ دینے کی اعلیٰ ترین صورت ہے جس کا اختیار معلوم کائنات میں صرف انسان کو حاصل ہے۔ ایک حقیقی قول سب سے زیادہ لطیف اور سب سے زیادہ با معنی واقعه ہے۔ قول آدمی کی ہستی کا سب سے بڑا اظہار ہے۔ قول ناطقِ عمل ہے۔ اس لیے جب کوئی شخص قول کی سطح پر اپنی عبدیت کا ثبوت دے دے تو وہ جنت کا یقینی استحقاق حاصل کرلیتا ہے۔

حق کو نہ ماننے کی سب سے بڑی وجہ ہمیشہ کبر ہوتاہے۔ جن کے دلوں میں کبر چھپا ہوا ہو وہ حق کی دعوت کے مقابلہ میں سب سے زیادہ سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔ اور جن لوگوں کے اندر کبر نہ ہو، خواہ وہ دوسری کسی گمراہی میں مبتلا ہوں، وہ حق کی مخالفت میں کبھی اتنا آگے نہیں جاسکتے کہ اس کے جانی دشمن بن جائیں۔ اور کسی حال میں اس کو قبول نہ کریں۔

Al-Maaida 5:86Listen in Qur'an →
87

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تُحَرِّمُوا۟ طَيِّبَٰتِ مَآ أَحَلَّ ٱللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوٓا۟ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْمُعْتَدِينَ

مومنو! جو پاکیزہ چیزیں خدا نے تمہارے لیے حلال کی ہیں ان کو حرام نہ کرو اور حد سے نہ بڑھو کہ خدا حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا

بندہ اور خدا کا تعلق ایک زندہ تعلق ہے جو نفسیات کی سطح پر قائم ہوتاہے۔ یہ تمام تر ایک اندرونی واقعہ ہے۔ مگر مذہب کے زوال کے زمانہ میں جب یہ اندرونی تعلق کمزور پڑتا ہے تو لوگوں میں یہ ذہن ابھرتا ہے کہ اس کو خارجی ذرائع سے حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ انھیں میں سے دنیوی لذتوں کو چھوڑنا بھی ہے جس کو رہبانیت کہاجاتاہے۔ یہ خیال کرلیا جاتا ہے کہ مادی چیزوں سے دوری آدمی کو خدا سے قریب کرنے کا باعث بنے گی۔ صحابہ میں سے بعض افراد اس قسم کے رہبانی خیالات سے متاثر ہوئے۔ انھوںنے ارادہ کیا کہ وہ گوشت نہ کھائیں۔ راتوں کونہ سوئیں۔ اپنے آپ کو خصی کرالیں اور گھروں کو چھوڑ کر درویشی کی زندگی اختیار کرلیں۔ حتی کہ بعض نے اس کی قسمیں بھی کھالیں۔ اس پر انھیں منع کیاگیا اور کہاگیا کہ حلال کو حرام کرنے سے کوئی شخص خدا کی قربت حاصل نہیں کرسکتا۔ آدمی جو کچھ حاصل کرتا ہے فطرت کے حدود میں رہ کر حاصل کرتاہے، نہ کہ اس سے آزاد ہو کر۔

اسلام کے مطابق اصل ’’رہبانیت‘‘ تقویٰ اور شکر ہے۔ تقویٰ یہ ہے کہ آدمی خدا کی منع کی ہوئی چیزوں سے بچے۔ اس کے اندر یہ خواہش ابھرتی ہے کہ ایک حرام چیز سے لذت حاصل کرے مگر وہ خدا کے ڈر سے رُک جاتاہے۔ کسی کے اوپر غصہ آجاتا ہے اور وہ چاہنے لگتا ہے کہ اس کو تہس نہس کردے مگر خدا کا ڈر اسے اپنے بھائی کے خلاف تخریبی کارروائی سے روک دیتا ہے۔ اس کا دل کہتا ہے کہ بے قید زندگی گزارے مگر خدا کی پکڑ کا اندیشہ اس کو مجبور کرتاہے کہ وہ اپنے کو خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں کا پابند بنالے۔ یہی معاملہ شکر کا ہے۔ آدمی کو کوئی دنیوی چیز حاصل ہوتی ہے۔ صحت، دولت، عہدہ، سازوسامان، مقبولیت کا کوئی حصہ اس کو ملتاہے۔ مگر وہ خود پسندی اور گھمنڈ میں مبتلا نہیںہوتا بلکہ ہر چیز کو خدا کا عطیہ سمجھ کر اس کے احسان کا اعتراف کرتاہے۔ وہ تواضع اور ممنونیت کے جذبات میں ڈھل جاتاہے۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو آدمی کو خدا سے جوڑتی ہیں۔ خدا سے ڈرنے اور اس کا شکر ادا کرنے سے آدمی اس کی قربت حاصل کرتاہے۔ مادی چیزوں سے دوری یقیناً مطلوب ہے۔ مگر وہ ذہنی وقلبی دوري ہے، نہ کہ جسمانی دوری۔

Al-Maaida 5:87Listen in Qur'an →
88

وَكُلُوا۟ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ حَلَٰلًۭا طَيِّبًۭا ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ٱلَّذِىٓ أَنتُم بِهِۦ مُؤْمِنُونَ

اور جو حلال طیّب روزی خدا نے تم کو دی ہے اسے کھاؤ اور خدا سے جس پر ایمان رکھتے ہو ڈرتے رہو

بندہ اور خدا کا تعلق ایک زندہ تعلق ہے جو نفسیات کی سطح پر قائم ہوتاہے۔ یہ تمام تر ایک اندرونی واقعہ ہے۔ مگر مذہب کے زوال کے زمانہ میں جب یہ اندرونی تعلق کمزور پڑتا ہے تو لوگوں میں یہ ذہن ابھرتا ہے کہ اس کو خارجی ذرائع سے حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ انھیں میں سے دنیوی لذتوں کو چھوڑنا بھی ہے جس کو رہبانیت کہاجاتاہے۔ یہ خیال کرلیا جاتا ہے کہ مادی چیزوں سے دوری آدمی کو خدا سے قریب کرنے کا باعث بنے گی۔ صحابہ میں سے بعض افراد اس قسم کے رہبانی خیالات سے متاثر ہوئے۔ انھوںنے ارادہ کیا کہ وہ گوشت نہ کھائیں۔ راتوں کونہ سوئیں۔ اپنے آپ کو خصی کرالیں اور گھروں کو چھوڑ کر درویشی کی زندگی اختیار کرلیں۔ حتی کہ بعض نے اس کی قسمیں بھی کھالیں۔ اس پر انھیں منع کیاگیا اور کہاگیا کہ حلال کو حرام کرنے سے کوئی شخص خدا کی قربت حاصل نہیں کرسکتا۔ آدمی جو کچھ حاصل کرتا ہے فطرت کے حدود میں رہ کر حاصل کرتاہے، نہ کہ اس سے آزاد ہو کر۔

اسلام کے مطابق اصل ’’رہبانیت‘‘ تقویٰ اور شکر ہے۔ تقویٰ یہ ہے کہ آدمی خدا کی منع کی ہوئی چیزوں سے بچے۔ اس کے اندر یہ خواہش ابھرتی ہے کہ ایک حرام چیز سے لذت حاصل کرے مگر وہ خدا کے ڈر سے رُک جاتاہے۔ کسی کے اوپر غصہ آجاتا ہے اور وہ چاہنے لگتا ہے کہ اس کو تہس نہس کردے مگر خدا کا ڈر اسے اپنے بھائی کے خلاف تخریبی کارروائی سے روک دیتا ہے۔ اس کا دل کہتا ہے کہ بے قید زندگی گزارے مگر خدا کی پکڑ کا اندیشہ اس کو مجبور کرتاہے کہ وہ اپنے کو خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں کا پابند بنالے۔ یہی معاملہ شکر کا ہے۔ آدمی کو کوئی دنیوی چیز حاصل ہوتی ہے۔ صحت، دولت، عہدہ، سازوسامان، مقبولیت کا کوئی حصہ اس کو ملتاہے۔ مگر وہ خود پسندی اور گھمنڈ میں مبتلا نہیںہوتا بلکہ ہر چیز کو خدا کا عطیہ سمجھ کر اس کے احسان کا اعتراف کرتاہے۔ وہ تواضع اور ممنونیت کے جذبات میں ڈھل جاتاہے۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو آدمی کو خدا سے جوڑتی ہیں۔ خدا سے ڈرنے اور اس کا شکر ادا کرنے سے آدمی اس کی قربت حاصل کرتاہے۔ مادی چیزوں سے دوری یقیناً مطلوب ہے۔ مگر وہ ذہنی وقلبی دوري ہے، نہ کہ جسمانی دوری۔

Al-Maaida 5:88Listen in Qur'an →
89

لَا يُؤَاخِذُكُمُ ٱللَّهُ بِٱللَّغْوِ فِىٓ أَيْمَٰنِكُمْ وَلَٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ ٱلْأَيْمَٰنَ ۖ فَكَفَّٰرَتُهُۥٓ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَٰكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍۢ ۖ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَٰثَةِ أَيَّامٍۢ ۚ ذَٰلِكَ كَفَّٰرَةُ أَيْمَٰنِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ ۚ وَٱحْفَظُوٓا۟ أَيْمَٰنَكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمْ ءَايَٰتِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

خدا تمہاری بےارادہ قسموں پر تم سے مواخذہ نہیں کرے گا لیکن پختہ قسموں پر (جن کے خلاف کرو گے) مواخذہ کرے گا تو اس کا کفارہ دس محتاجوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے اہل وعیال کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑے دینا یا ایک غلام آزاد کرنا اور جس کو میسر نہ ہو وہ تین روزے رکھے یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھا لو (اور اسے توڑ دو) اور (تم کو) چاہئے کہ اپنی قسموں کی حفاظت کرو اس طرح خدا تمہارے (سمجھانے کے) لیے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم شکر کرو

بندہ اور خدا کا تعلق ایک زندہ تعلق ہے جو نفسیات کی سطح پر قائم ہوتاہے۔ یہ تمام تر ایک اندرونی واقعہ ہے۔ مگر مذہب کے زوال کے زمانہ میں جب یہ اندرونی تعلق کمزور پڑتا ہے تو لوگوں میں یہ ذہن ابھرتا ہے کہ اس کو خارجی ذرائع سے حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ انھیں میں سے دنیوی لذتوں کو چھوڑنا بھی ہے جس کو رہبانیت کہاجاتاہے۔ یہ خیال کرلیا جاتا ہے کہ مادی چیزوں سے دوری آدمی کو خدا سے قریب کرنے کا باعث بنے گی۔ صحابہ میں سے بعض افراد اس قسم کے رہبانی خیالات سے متاثر ہوئے۔ انھوںنے ارادہ کیا کہ وہ گوشت نہ کھائیں۔ راتوں کونہ سوئیں۔ اپنے آپ کو خصی کرالیں اور گھروں کو چھوڑ کر درویشی کی زندگی اختیار کرلیں۔ حتی کہ بعض نے اس کی قسمیں بھی کھالیں۔ اس پر انھیں منع کیاگیا اور کہاگیا کہ حلال کو حرام کرنے سے کوئی شخص خدا کی قربت حاصل نہیں کرسکتا۔ آدمی جو کچھ حاصل کرتا ہے فطرت کے حدود میں رہ کر حاصل کرتاہے، نہ کہ اس سے آزاد ہو کر۔

اسلام کے مطابق اصل ’’رہبانیت‘‘ تقویٰ اور شکر ہے۔ تقویٰ یہ ہے کہ آدمی خدا کی منع کی ہوئی چیزوں سے بچے۔ اس کے اندر یہ خواہش ابھرتی ہے کہ ایک حرام چیز سے لذت حاصل کرے مگر وہ خدا کے ڈر سے رُک جاتاہے۔ کسی کے اوپر غصہ آجاتا ہے اور وہ چاہنے لگتا ہے کہ اس کو تہس نہس کردے مگر خدا کا ڈر اسے اپنے بھائی کے خلاف تخریبی کارروائی سے روک دیتا ہے۔ اس کا دل کہتا ہے کہ بے قید زندگی گزارے مگر خدا کی پکڑ کا اندیشہ اس کو مجبور کرتاہے کہ وہ اپنے کو خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں کا پابند بنالے۔ یہی معاملہ شکر کا ہے۔ آدمی کو کوئی دنیوی چیز حاصل ہوتی ہے۔ صحت، دولت، عہدہ، سازوسامان، مقبولیت کا کوئی حصہ اس کو ملتاہے۔ مگر وہ خود پسندی اور گھمنڈ میں مبتلا نہیںہوتا بلکہ ہر چیز کو خدا کا عطیہ سمجھ کر اس کے احسان کا اعتراف کرتاہے۔ وہ تواضع اور ممنونیت کے جذبات میں ڈھل جاتاہے۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو آدمی کو خدا سے جوڑتی ہیں۔ خدا سے ڈرنے اور اس کا شکر ادا کرنے سے آدمی اس کی قربت حاصل کرتاہے۔ مادی چیزوں سے دوری یقیناً مطلوب ہے۔ مگر وہ ذہنی وقلبی دوري ہے، نہ کہ جسمانی دوری۔

Al-Maaida 5:89Listen in Qur'an →
90

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِنَّمَا ٱلْخَمْرُ وَٱلْمَيْسِرُ وَٱلْأَنصَابُ وَٱلْأَزْلَٰمُ رِجْسٌۭ مِّنْ عَمَلِ ٱلشَّيْطَٰنِ فَٱجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پاسے (یہ سب) ناپاک کام اعمال شیطان سے ہیں سو ان سے بچتے رہنا تاکہ نجات پاؤ

شراب اور جوا اور وہ آستانے جو خدا کے سوا کسی دوسرے کو پوجنے یا کسی اور کے نام پر نذر اور قربانی چڑھانے کے لیے ہوں اور پانسہ یعنی فال گيري اور قرعہ اندازی کے وہ طریقے جن میں غیر اللہ سے استعانت کا عقیدہ شامل ہو، سب گندے شیطانی کام ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ چیزیں انسان کو ذہنی وعملی پستی کی طرف لے جاتی ہیں۔ شراب آدمی کے اندر لطیف انسانی احساسات کو ختم کردیتی ہے اور جوا بے غرضی کی نفسیات کے لیے قاتل ہے۔ اسی طرح تھان اور پانسے وہ چیزیں ہیں جن کی بنیاد یا تو سطحی جذبات پر قائم ہوتی ہے یا توہماتی خیالات پر۔

اسلام یہ چاہتا ہے کہ انسان اللہ کو یاد کرنے والا اور اس کی عبادت کرنے والا بن جائے۔ وہ خدا کی اور اس کے پیغمبر کی اطاعت میں اپنے کو ڈال دے۔ ان افعال کے لیے آدمی کا سنجیدہ ہونا ضروری ہے۔ مگر مذکورہ چیزیں آدمی کے اندر سے سب سے زیادہ جو چیز ختم کرتی ہیں، وہ سنجیدگی ہی ہے۔ اسلام وہ انسان بنانا چاہتا ہے جو حقیقتوں کا ادراک کرے، جب کہ شراب آدمی کو حقیقتوں سے غافل کردینے والی چیز ہے۔ اسلام کا مطلوب انسان وہ ہے جو مادیت سے بلند ہو کر جئے، جب کہ جوا آدمی کو مجرمانہ حد تک مادیت کی طرف مائل کردیتا ہے۔ اسلام وہ انسان بنانا چاہتا ہے جو واقعات کی بنیاد پر اپنے کو کھڑا کرے، جب کہ آستانے اور پانسے انسان کو توہمات کی وادیوں میں گم کردیتے ہیں۔

شراب بڑھی ہوئی بے حسی پیدا کرتا ہے اور جوا بڑھی ہوئی خود غرضی۔ اور یہ دونوں چیزیں باہمی فساد کی جڑ ہیں۔ جو لوگ بے حس ہوجائیں وہ دوسرے کی عزت کو عزت اور دوسرے کی چیز کو چیز نہیں سمجھتے، ایسے لوگ ظلم، بے انصافی، دوسروں کو ناحق ستانے میں آخری حد تک جری ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح جوا استحصال اور خود غرضی کی بدترین صورت ہے، جب کہ ایک آدمی یہ کوشش کرتا ہے کہ وہ بہت سے لوگوں کو لوٹ کر اپنے لیے ایک بڑی کامیابی حاصل کرے۔ شرابی آدمی دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرنے سے عاری ہوتا ہے اور جوئے باز کے لیے دوسرا آدمی صرف استحصال کا موضوع ہوتا ہے۔ ان خصوصیات کے لوگ جس معاشرہ میں جمع ہوجائیں وہاں آپس کی بے اعتمادی، ایک دوسرے سے شکايات، باہمی ٹکراؤ اور دشمنی کے سوا اور کیا چیز پرورش پائے گی۔

Al-Maaida 5:90Listen in Qur'an →

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.