Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani

Ayahs 71–80 of 120

71

وَحَسِبُوٓا۟ أَلَّا تَكُونَ فِتْنَةٌۭ فَعَمُوا۟ وَصَمُّوا۟ ثُمَّ تَابَ ٱللَّهُ عَلَيْهِمْ ثُمَّ عَمُوا۟ وَصَمُّوا۟ كَثِيرٌۭ مِّنْهُمْ ۚ وَٱللَّهُ بَصِيرٌۢ بِمَا يَعْمَلُونَ

اور خیال کرتے تھے کہ (اس سے ان پر) کوئی آفت نہیں آنے کی تو وہ اندھے اور بہرے ہو گئے پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی (لیکن) پھر ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہو گئے اور خدا ان کے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے

[١١٨] بخت نصر کے بعد سیدنا زکریا ویحییٰ کو قتل کروانا :۔ انہوں نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم چونکہ انبیاء کی اولاد ہیں لہذا ہم جو کچھ کرلیں ہم پر عذاب الٰہی نہیں آسکتا۔ اس عقیدہ نے انہیں ہر طرح کے جرائم پر دلیر بنادیا تھا۔ پھر ان پر بخت نصر کی صورت میں قہر الٰہی نازل ہوا۔ جس نے ان کی سلطنت کو تہس نہس کردیا اور بیشمار افراد کو قیدی بنا کر اپنے ساتھ بابل لے گیا۔ مدتوں وہ قید و بند کی سختیاں جھیلتے رہے۔ آخر اللہ کی طرف رجوع کیا تو اللہ نے پھر ان کی خطائیں معاف کردیں اور ملوک فارس کی مدد سے انہیں بخت نصر کی قید سے رہائی ملی۔ پھر جب اللہ نے ان پر مہربانی فرمائی اور عیش و آرام سے زندگی گزارنے لگے تو پھر کفر و عصیان میں پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گئے۔ سیدنا زکریا اور سیدنا یحییٰ دونوں کو قتل کردیا اور سیدنا عیسیٰ کو صلیب پر چڑھوانے کی مقدور بھر کوشش کی اور بزعم خود انہیں سولی پر چڑھا کے چھوڑا۔

Al-Maaida 5:71Listen in Qur'an →
72

لَقَدْ كَفَرَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْمَسِيحُ ٱبْنُ مَرْيَمَ ۖ وَقَالَ ٱلْمَسِيحُ يَٰبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ رَبِّى وَرَبَّكُمْ ۖ إِنَّهُۥ مَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ ٱللَّهُ عَلَيْهِ ٱلْجَنَّةَ وَمَأْوَىٰهُ ٱلنَّارُ ۖ وَمَا لِلظَّٰلِمِينَ مِنْ أَنصَارٍۢ

وہ لوگ بےشبہ کافر ہیں جو کہتے ہیں کہ مریم کے بیٹے (عیسیٰ) مسیح خدا ہیں حالانکہ مسیح یہود سے یہ کہا کرتے تھے کہ اے بنی اسرائیل خدا ہی کی عبادت کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی (اور جان رکھو کہ) جو شخص خدا کے ساتھ شرک کرے گا خدا اس پر بہشت حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں

[١١٩] الوہیت مسیح اور سیدنا عیسیٰ کی تعلیم :۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق عیسائیوں کے مختلف فرقوں کے مختلف عقائد ہیں۔ کچھ انہیں عقیدہ تثلیث کا جزو یا تین خداؤں میں کا ایک مانتے ہیں۔ کچھ انہیں اللہ کا بیٹا مانتے ہیں اور کچھ انہیں اللہ ہی سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے جسم میں اللہ نے حلول کیا اور وہ اللہ ہی کا مظہر تھے۔ ان تینوں اقوال میں جو چیز قدر مشترک ہے وہ الوہیت مسیح کا عقیدہ ہے۔ یعنی سب فرقے انہیں کسی نہ کسی رنگ میں الٰہ مانتے ہیں اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) تو خود کہتے تھے کہ صرف اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا پروردگار ہے یعنی وہ خود اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ میں اللہ کی عبادت کرتا ہوں اور اس کا بندہ ہوں اب جو شخص کسی کا بندہ ہو، وہ اس کا شریک نہیں ہوسکتا اور جو شریک ہو وہ اس کا بندہ نہیں ہوسکتا۔ لہذا عقل کے ناخن لو اور انہیں اللہ کا شریک بنانے سے باز آجاؤ۔ کیونکہ جو شخص بھی کسی کو اللہ کا شریک بنائے گا اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں جلنا پڑے گا۔ پھر انہیں وہاں نہ عیسیٰ (علیہ السلام) بچا سکیں گے اور نہ ہی کوئی دوسرا شخص ان کی کسی طرح سے مدد کرسکے گا۔

Al-Maaida 5:72Listen in Qur'an →
73

لَّقَدْ كَفَرَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ ثَالِثُ ثَلَٰثَةٍۢ ۘ وَمَا مِنْ إِلَٰهٍ إِلَّآ إِلَٰهٌۭ وَٰحِدٌۭ ۚ وَإِن لَّمْ يَنتَهُوا۟ عَمَّا يَقُولُونَ لَيَمَسَّنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

وہ لوگ (بھی) کافر ہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ خدا تین میں کا تیسرا ہے حالانکہ اس معبود یکتا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اگر یہ لوگ ایسے اقوال (وعقائد) سے باز نہیں آئیں گے تو ان میں جو کافر ہوئے ہیں وہ تکلیف دینے والا عذاب پائیں گے

[١٢٠] عقیدہ تثلیث اور اس کا رد :۔ متی، مرقس اور لوقا کی انجیلوں میں عیسیٰ (علیہ السلام) کے الٰہ ہونے کی گنجائش نہیں خود عیسیٰ (علیہ السلام) نے ہمیشہ اپنے آپ کو ایک انسان ہی کی حیثیت سے پیش کیا تھا۔ تثلیث اور الوہیت مسیح کا عقیدہ چوتھی صدی عیسوی میں رائج ہوا۔ اس عقیدہ کی بنیاد تو یونانی فلسفہ کے افکار و نظریات پر اٹھائی گئی تھی جیسا کہ آج کل بعض مسلمان بھی اسی فلسفہ کے مسئلہ عقول عشرہ پر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ کے نور کا حصہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایسے نظریات عموماً پیروں فقیروں میں فروغ پاتے ہیں۔ انبیاء کے متعلق ایسے نظریات عموماً ان کی عقیدت و محبت میں افراط کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں جو انسان کو اللہ کے مقام تک جا پہنچاتے ہیں یہ صریح شرک ہے اور اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو کہیں کافر فرمایا ہے اور کہیں مشرک۔ چناچہ رسول اللہ نے اپنی وفات سے پیشتر جو نہایت اہم وصیتیں اپنی امت کو کی تھیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ مجھے ایسا نہ بڑھانا جیسے نصاریٰ نے عیسیٰ ابن مریم کو بڑھایا تھا۔ میں تو بس اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ (بخاری۔ کتاب الانبیائ۔ باب قول اللہ واذکر فی الکتاب مریم )

Al-Maaida 5:73Listen in Qur'an →
74

أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى ٱللَّهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُۥ ۚ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

تو یہ کیوں خدا کے آگے توبہ نہیں کرتے اور اس سے گناہوں کی معافی نہیں مانگتے اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے

Explained together with ayah 73

Al-Maaida 5:74Listen in Qur'an →
75

مَّا ٱلْمَسِيحُ ٱبْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌۭ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ ٱلرُّسُلُ وَأُمُّهُۥ صِدِّيقَةٌۭ ۖ كَانَا يَأْكُلَانِ ٱلطَّعَامَ ۗ ٱنظُرْ كَيْفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ ٱلْءَايَٰتِ ثُمَّ ٱنظُرْ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ

مسیح ابن مریم تو صرف (خدا) کے پیغمبر تھے ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے اور ان کی والدہ (مریم خدا کی) ولی اور سچی فرمانبردار تھیں دونوں (انسان تھے اور) کھانا کھاتے تھے دیکھو ہم ان لوگوں کے لیے اپنی آیتیں کس طرح کھول کھول کر بیان کرتے ہیں پھر (یہ) دیکھو کہ یہ کدھر الٹے جا رہے ہیں

[١٢١] اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی الوہیت کی تردید میں تین واضح دلائل پیش فرمائے ہیں جو درج ذیل ہیں :- (١) عیسیٰ کی الوہیت کی تردید میں دلائل :۔ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے رسول تھے، اللہ نہیں تھے۔ یہ ناممکن ہے کہ ایک ہی ذات اللہ بھی ہو اور اللہ کا رسول بھی۔ علاوہ ازیں یہ کہ ان سے پہلے کئی رسول انہیں جیسے گزر چکے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان رسولوں کے بعد آئے بالفاظ دیگر وہ حادث تھے قدیم نہ تھے جبکہ اللہ کی ذات قدیم ازلی، ابدی اور حوادث زمانہ یا اس کے تغیرات سے ماوراء ہے لہذا جو چیز یا جو ذات حادث ہو وہ الٰہ یا اللہ نہیں ہوسکتی۔- (٢) الوہیت مسیح اور والدہ مسیح کی تردید میں چار دلائل :۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ ان کی ماں راست باز تھی اس سے ایک تو یہ بات معلوم ہوئی جو یہودی ان پر زنا کا الزام لگاتے ہیں وہ جھوٹے اور بکواسی ہیں اور دوسرے یہ کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی ماں بھی تھی جس نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو جنم دیا۔ آپ اس کے پیٹ سے پیدا ہوئے تھے ان کی ماں کو وضع حمل کے وقت ایسی ہی دردیں شروع ہوئیں جو عام عورتوں کو ہوا کرتی ہیں اور عیسیٰ (علیہ السلام) اسی فطری اور عادی طریقہ سے ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے ہیں جیسے عام انسان پیدا ہوتے ہیں۔ لہذا عیسیٰ (علیہ السلام) نہ خود الٰہ ہوسکتے ہیں اور نہ ان کی والدہ کیونکہ اس قسم کی باتیں اللہ کے لیے سزاوار نہیں۔- (٣) تیسری دلیل یہ ہے کہ وہ دونوں کھانا کھاتے تھے یعنی وہ اپنی زندگی کو قائم اور باقی رکھنے کے لیے کھانے کے محتاج تھے اور جو خود محتاج ہو وہ الٰہ یا اللہ نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اللہ ہر طرح کی احتیاج سے بےنیاز ہے۔ پھر جو شخص کھانا کھاتا ہے اس کے اندر سے پاخانہ، پیشاب اور گندی ہوا جیسے فضلات اور نجاستوں کا اخراج بھی ہوتا ہے اور یہ سب ایسی نجاستیں ہیں جن سے طہارت لازم آتی ہے۔ پھر اگر یہی کھانا کسی انسان کے اندر جا کر رک جاتا ہے یا کوئی اور خرابی پیدا کردیتا ہے تو انسان بیمار اور پریشان حال ہوجاتا ہے جب تک ایسے عوارضات کا علاج نہ کیا جائے۔ لہذا جو شخص کھانا کھاتا ہے وہ اللہ یا الٰہ نہیں ہوسکتا۔ اس لحاظ سے بھی سیدنا عیسیٰ اور ان کی والدہ دونوں کی الوہیت کا عقیدہ غلط ثابت ہوتا ہے۔ ان عام فہم اور موٹی موٹی باتوں کے باوجود بھی اگر یہ لوگ سیدنا عیسیٰ کو الٰہ سمجھیں تو پھر یہی کہا جاسکتا ہے کہ ان کی عقل جواب دے گئی ہے۔ واضح رہے کہ جب عقیدہ تثلیث وضع کیا گیا تو اس کے تین ارکان یا عیسائیوں کی اصطلاحی زبان میں تین اقنوم باپ، بیٹا اور روح القدس تھے لیکن کچھ مدت بعد ان میں سے روح القدس کو خارج کر کے اس کی جگہ مریم کو داخل کیا گیا گویا نئے عقیدہ تثلیث کے مطابق اس کے تین اقنوم۔ باپ، بیٹا اور ماں قرار پا گئے۔

Al-Maaida 5:75Listen in Qur'an →
76

قُلْ أَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّۭا وَلَا نَفْعًۭا ۚ وَٱللَّهُ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ

کہو کہ تم خدا کے سوا ایسی چیز کی کیوں پرستش کرتے ہو جس کو تمہارے نفع اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں؟ اور خدا ہی (سب کچھ) سنتا جانتا ہے

[١٢٢] اس آیت میں عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کی الوہیت کی تردید میں چوتھی دلیل بیان کی گئی ہے یعنی وہ دونوں اپنے بھی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے تھے۔ یہود نے انہیں ایذائیں اور دکھ پہنچائے وہ از خود ان کی مدافعت بھی نہ کرسکتے تھے۔ یہود نے سیدہ مریم پر زنا کی تہمت لگائی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بریت بیان فرمائی اور ان کی معجزانہ پیدائش کو واضح طور پر بیان کیا لیکن یہود پھر بھی باز نہ آئے۔ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی بھر ان کے درپے آزار رہے حتیٰ کہ حکومت سے ساز باز کر کے انہیں سولی پر چڑھوا دیا۔ لیکن یہ دونوں نہ اپنے آپ کی مدافعت کرسکے نہ یہود کا کچھ بگاڑ سکے پھر کیا وہ اللہ یا الٰہ یا الوہیت میں شریک قرار دیئے جاسکتے ہیں ؟

Al-Maaida 5:76Listen in Qur'an →
77

قُلْ يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ لَا تَغْلُوا۟ فِى دِينِكُمْ غَيْرَ ٱلْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعُوٓا۟ أَهْوَآءَ قَوْمٍۢ قَدْ ضَلُّوا۟ مِن قَبْلُ وَأَضَلُّوا۟ كَثِيرًۭا وَضَلُّوا۟ عَن سَوَآءِ ٱلسَّبِيلِ

کہو کہ اے اہل کتاب! اپنے دین (کی بات) میں ناحق مبالغہ نہ کرو اور ایسے لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو (خود بھی) پہلے گمراہ ہوئے اور اَور بھی اکثروں کو گمراہ کر گئے اور سیدھے رستے سے بھٹک گئے

[١٢٣] فلسفہ گمراہی ؟ یہ لوگ وہی یونانی فلاسفر ہیں جن کے افکار و نظریات سے متاثر ہو کر عیسائیوں کے علماء و مشائخ نے چوتھی صدی عیسوی میں تثلیث کا عقیدہ ایجاد کیا۔ پھر حکومت کی سرپرستی کی بنا پر اس عقیدہ کو فروغ حاصل ہوگیا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فلاسفر قسم کے لوگ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بھی بنتے ہیں۔ مسلمانوں میں غلو کی مثالوں کے لیے (دیکھئے سورة فرقان کا حاشیہ نمبر ٢)- اور سیدنا عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : بال کی کھال اتارنے والے (فرقہ پرستی کی بنا پر) تباہ ہوئے۔ آپ نے یہ بات تین بار فرمائی۔ (مسلم۔ کتاب العلم۔ باب النہی عن اتباع متشابہ القرآن)

Al-Maaida 5:77Listen in Qur'an →
78

لُعِنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنۢ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ عَلَىٰ لِسَانِ دَاوُۥدَ وَعِيسَى ٱبْنِ مَرْيَمَ ۚ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوا۟ وَّكَانُوا۟ يَعْتَدُونَ

جو لوگ بنی اسرائیل میں کافر ہوئے ان پر داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی یہ اس لیے کہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے

[١٢٤] بندر اور خنزیر والے کون لوگ تھے ؟ داؤد (علیہ السلام) کا زمانہ بعثت عیسیٰ (علیہ السلام) سے کم و بیش ایک ہزار سال پہلے کا ہے اس لیے آیت میں لفظ کفر کا اطلاق صرف اس بات پر نہیں ہوگا کہ بنی اسرائیل جو سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہیں لائے تھے وہ کافر ہوگئے بلکہ یہاں ان کے کفر سے مراد ان کی نافرمانیاں۔ عہد شکنیاں اور حدود اللہ سے تجاوز کرنا ہے۔ اور انہیں جرائم کی بنا پر انہیں کافر کہا گیا ہے اور ایسے لوگ زبور میں بھی ملعون قرار دیئے گئے ہیں اور انجیل میں بھی۔ اور یہ اسی لعنت کا اثر تھا کہ ان میں سے کچھ لوگ بندر بنا دیئے گئے تھے اور کچھ خنزیر۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ داؤد (علیہ السلام) کی بعثت سے قبل ہفتہ کے دن کی بےحرمتی کرنے والے لوگ بندر بنائے گئے تھے اور یہ اسی دور کا واقعہ ہے اور جن لوگوں نے سیدنا عیسیٰ سے آسمان سے دستر خوان اترنے کا مطالبہ کیا تھا۔ پھر دسترخوان اترنے کے باوجود بھی ایمان نہ لائے تھے انہیں خنزیر بنایا گیا تھا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ بہرحال یہ تو قرآن کریم سے ثابت ہے کہ بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں کو بندر اور کچھ لوگوں کو سور بنادیا گیا تھا اور یہ اسی لعنت کا اثر تھا۔

Al-Maaida 5:78Listen in Qur'an →
79

كَانُوا۟ لَا يَتَنَاهَوْنَ عَن مُّنكَرٍۢ فَعَلُوهُ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُوا۟ يَفْعَلُونَ

(اور) برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے کو روکتے نہیں تھے بلاشبہ وہ برا کرتے تھے

[١٢٥] برائی سے منع نہ کرنے والوں پر لعنت :۔ کسی معاشرہ میں جب کوئی برائی رواج پاتی ہے تو ابتدائ ً چند ہی لوگ اس کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اگر ایسے لوگوں کا بروقت اور سختی سے محاسبہ کیا جائے تو وہ برائی رک بھی جاتی ہے لیکن اگر اس سلسلہ میں نرم گوشہ اختیار کیا جائے تو اس بدی کا ارتکاب کرنے والوں میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور ایک وقت ایسا بھی آجاتا ہے کہ اس بدی سے بچنے والے لوگ نہ صرف یہ کہ بدی کرنے والوں کو روکتے نہیں، بلکہ ان سے میل ملاپ رکھنے اور شیر و شکر بن کر رہنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے اور بدی عام پھیل جاتی ہے یہی وہ وقت ہوتا ہے جب عذاب الٰہی نازل ہوتا ہے پھر اس عذاب سے نہ بدی کرنے والے بچتے ہیں اور نہ اس بدی سے اجتناب کرنے والے۔ اس آیت میں بتایا یہ گیا ہے کہ جس طرح بدی کا ارتکاب کرنا جرم ہے اسی طرح بدی سے نہ روکنا بھی جرم ہے اور جرم کے لحاظ سے دونوں برابر ہوتے ہیں اور اللہ کی لعنت یا عذاب الٰہی کا اثر اور نقصان دونوں کو یکساں پہنچتا ہے۔- خ برائی سے منع نہ کرنے والوں کی مثال :۔ ایسے تباہ ہونے والے معاشرہ کی مثال رسول اللہ نے یہ بیان فرمائی جیسے کچھ لوگوں نے جہاز میں سوار ہونے کے لیے قرعہ ڈالا اور قرعہ کی رو سے کچھ لوگ نچلی منزل میں بیٹھے اور کچھ اوپر والی منزل میں۔ نچلی منزل والوں کو پانی اوپر کی منزل سے حاصل کرنا پڑتا تھا جس سے اوپر کی منزل والے تنگ پڑتے تھے۔ اب نچلی منزل والوں نے اس کا حل یہ سوچا کہ کیوں نہ جہاز کے نچلے تختہ میں سوراخ کر کے پانی نیچے سمندر سے حاصل کرلیا جائے۔ پھر اگر نچلی منزل والے اور اوپر کی منزل والے دونوں مل کر ان سوراخ کرنے والوں کا ہاتھ نہ روکیں گے تو نچلے اور اوپر والے سب غرق ہوجائیں گے۔ (بخاری۔ کتاب المظالم۔ ابو اب الشرکۃ ھل یقرع فی القسمۃ) اس حدیث کی رو سے بدی سے نہ روکنے والوں کا جرم بدی کرنے والے سے بھی زیادہ ثابت ہوتا ہے۔ نیز سیدنا ابوبکر صدیق (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو یہ کہتے سنا ہے کہ جب لوگ ظالم کو دیکھیں اور اس کے ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ اللہ کی طرف سے ان پر عام عذاب نازل ہو۔ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر۔ زیر آیت ٥ : ١٠١)

Al-Maaida 5:79Listen in Qur'an →
80

تَرَىٰ كَثِيرًۭا مِّنْهُمْ يَتَوَلَّوْنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۚ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ أَنفُسُهُمْ أَن سَخِطَ ٱللَّهُ عَلَيْهِمْ وَفِى ٱلْعَذَابِ هُمْ خَٰلِدُونَ

تم ان میں سے بہتوں کو دیکھو گے کہ کافروں سے دوستی رکھتے ہیں انہوں نے جو کچھ اپنے واسطے آگے بھیجا ہے برا ہے (وہ یہ) کہ خدا ان سے ناخوش ہوا اور وہ ہمیشہ عذاب میں (مبتلا) رہیں گے

[١٢٦] یہود کی مشرکوں سے دوستی :۔ یہاں کافروں سے مراد مشرکین ہیں کیونکہ ان نافرمانوں، حد سے تجاوز کرنے والوں اور بدی سے نہ روکنے والوں کو سابقہ آیت میں پہلے ہی کافر قرار دیا جا چکا ہے اور ایسے یہود کا مشرکین سے دوستی گانٹھنا بھی اسی لعنت کا باطنی اثر تھا جو ان پر کی گئی تھی۔ ظاہری اثر تو یہ ہوا کہ ان کی صورتیں مسخ کر کے انہیں بندر اور سور بنادیا گیا تھا اور باطنی یہ کہ اللہ پر، اس کے انبیاء پر، اس کی کتاب پر اور روز آخرت پر ایمان رکھنے کے باوجود وہ دوستی ایسے لوگوں سے گانٹھتے ہیں جن کا نہ روز آخرت پر ایمان ہے نہ کسی کتاب پر اور نہ انبیاء پر بلکہ انبیاء کی تعلیم کے بجائے وہ دیوی دیوتاؤں کے معتقد ہیں اور انہی کی پرستش کرتے ہیں۔

Al-Maaida 5:80Listen in Qur'an →

Commentary: Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.