سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :101
اشارہ ہے ان گمراہ قوموں کی طرف جن سے عیسائیوں نے غلط عقیدہ اور باطل طریقے اخذ کیے ۔ خصوصاً فلاسفہ یونان کی طرف ، جن کے تخیلات سے متاثر ہو کر عیسائی اس صراط مستقیم سے ہٹ گئے جس کی طرف ابتداءً ان کی رہنمائی کی گئی تھی ۔ مسیح کے ابتدائی پیرو جو عقائد رکھتے تھے وہ بڑی حد تک اس حقیقت کے مطابق تھے جس کا مشاہدہ انہوں نے خود کیا تھا اور جس کی تعلیم ان کے ہادی و رہنما نے ان کو دی تھی ۔ مگر بعد کے عیسائیوں نے ایک طرف مسیح کی عقیدت اور تعظیم میں غلو کر کے ، اور دوسری طرف ہمسایہ قوموں کے اوہام اور فلسفوں سے متاثر ہو کر ، اپنے عقائد کی مبالغہ آمیز فلسفیانہ تعبیریں شروع کر دیں اور ایک بالکل ہی نیا مذہب تیار کر لیا جس کو مسیح کی اصل تعلیمات سے دور کا واسطہ بھی نہ رہا ۔ اس باب میں خود ایک مسیحی عالم دینیات ( ریورینڈ چارلس اینڈرسن اسکاٹ ) کا بیان قابل ملاحظہ ہے ۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے چودھویں ایڈیشن میں”یسوع مسیح“ ( ) کے عنوان پر اس نے جو طویل مضمون لکھا ہے اس میں وہ کہتا ہے:
”پہلی تین انجیلوں ( متی ، مرقس ، لوقا ) میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس سے یہ گمان کیا جا سکتا ہو کہ ان انجیلوں کے لکھنے والے یسوع کو انسان کے سوا کچھ اور سمجھتے تھے ۔ ان کی نگاہ میں وہ ایک انسان تھا ، ایسا انسان جو خاص طور پر خدا کی روح سے فیض یاب ہوا تھا اور خدا کے ساتھ ایک ایسا غیر منقطع تعلق رکھتا تھا جس کی وجہ سے اگر اس کو خدا کا بیٹا کہا جائے تو حق بجانب ہے ۔ خود متی اس کا ذکر بڑھئی کے بیٹے کی حیثیت سے کرتا ہے اور ایک جگہ بیان کرتا ہے کہ پطرس نے اس کو ”مسیح“ تسلیم کرنے کے بعد” الگ ایک طرف لے جا کر اسے ملامت کی“ ( متی ۲۲ ، ۱٦ ) ۔ لوقا میں ہم دیکھتے ہیں کہ واقعہ صلیب کے بعد یسوع کے دو شاگرد اماؤس کی طرف جاتے ہوئے اس کا ذکر اس حیثیت میں کرتے ہیں کہ” وہ خدا اور ساری امت کے نزدیک کام اور کلام میں قدرت والا نبی تھا“ ( لوقا ۱۹ ، ۲٤ ) ۔ یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ اگرچہ”مرقس“ کی تصنیف سے پہلے مسیحیوں میں یسوع کے لیے لفظ”خداوند“ کا استعمال عام طور پر چل پڑا تھا ، لیکن نہ مرقس کی انجیل میں یسوع کو کہیں اس لفظ سے یاد کیا گیا ہے اور نہ متی کی انجیل میں ۔ بخلاف اس کے دونوں کتابوں میں یہ لفظ اللہ کے لیے بکثرت استعمال کیا گیا ہے ۔ یسوع کے ابتلاء کا ذکر تینوں انجیلیں پورے زور کے ساتھ کرتی ہیں جیسا کہ اس واقعہ کے شایان شان ہے ، مگر مرقس کی ” فدیہ“ والی عبارت ( مرقس ٤۵ ، ۱۰ ) اور آخری فسح کے موقع پر چند الفاظ کو مستثنیٰ کر کے ان کتابوں میں کہیں اس واقعہ کو وہ معنی نہیں پہنائے گئے ہیں جو بعد میں پہنائے گئے ۔ حتٰی کہ اس بات کی طرف کہیں اشارہ تک نہیں کیا گیا کہ یسوع کی موت کا انسان کے گناہ اور اس کے کفارہ سے کوئی تعلق تھا“ ۔
آگے چل کر وہ پھر لکھتا ہے:
”یہ بات کہ یسوع خود اپنے آپ کو ایک نبی کی حیثیت سے پیش کرتا تھا اناجیل کی متعدد عبارتوں سے ظاہر ہوتی ہے ۔ مثلاً یہ کہ”مجھے آج اور کل اور پرسوں اپنی راہ پر چلنا ضرور ہے کیونکہ ممکن نہیں کہ نبی یروشلم سے باہر ہلاک ہو“ ( لوقا ۲۳ ، ۱۳ ) ۔ وہ اکثر اپنا ذکر” ابن آدم“ کے نام سے کرتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یسوع کہیں اپنے آپ کو” ابن اللہ“ نہیں کہتا ۔ اس کے دوسرے ہم عصر جب اس کے متعلق یہ لفظ استعمال کرتے ہیں تو غالباً ان کا مطلب بھی اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ وہ اس کو خدا کا ممسوع سمجھتے ہیں ۔ البتہ وہ اپنے آپ کو مطلقاً ” بیٹے“ کے لفظ سے تعبیر کرتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مزید برآں وہ خدا کے ساتھ اپنے تعلق کو بیان کرنے کے لیے بھی” باپ“ کا لفظ اسی اطلاقی شان میں استعمال کرتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس تعلق کے بارے میں وہ اپنے آپ کو منفرد نہیں …