Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 71–80 of 120

71

وَحَسِبُوٓا۟ أَلَّا تَكُونَ فِتْنَةٌۭ فَعَمُوا۟ وَصَمُّوا۟ ثُمَّ تَابَ ٱللَّهُ عَلَيْهِمْ ثُمَّ عَمُوا۟ وَصَمُّوا۟ كَثِيرٌۭ مِّنْهُمْ ۚ وَٱللَّهُ بَصِيرٌۢ بِمَا يَعْمَلُونَ

اور خیال کرتے تھے کہ (اس سے ان پر) کوئی آفت نہیں آنے کی تو وہ اندھے اور بہرے ہو گئے پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی (لیکن) پھر ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہو گئے اور خدا ان کے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے

Explained together with ayah 70

Al-Maaida 5:71Listen in Qur'an →
72

لَقَدْ كَفَرَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْمَسِيحُ ٱبْنُ مَرْيَمَ ۖ وَقَالَ ٱلْمَسِيحُ يَٰبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ رَبِّى وَرَبَّكُمْ ۖ إِنَّهُۥ مَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ ٱللَّهُ عَلَيْهِ ٱلْجَنَّةَ وَمَأْوَىٰهُ ٱلنَّارُ ۖ وَمَا لِلظَّٰلِمِينَ مِنْ أَنصَارٍۢ

وہ لوگ بےشبہ کافر ہیں جو کہتے ہیں کہ مریم کے بیٹے (عیسیٰ) مسیح خدا ہیں حالانکہ مسیح یہود سے یہ کہا کرتے تھے کہ اے بنی اسرائیل خدا ہی کی عبادت کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی (اور جان رکھو کہ) جو شخص خدا کے ساتھ شرک کرے گا خدا اس پر بہشت حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں

خلاصہ تفسیر - بیشک وہ لوگ کافر ہوچکے جنہوں نے یہ کہا کہ اللہ عین مسیح بن مریم ہے (یعنی دونوں میں اتحاد ہے) حالانکہ (حضرت) مسیح نے خود فرمایا تھا کہ اے بنی اسرائیل تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے (اور اس قول میں اپنے مربوب اور بندہ ہونے کی تصریح ہے، پھر ان کو الٓہ کہنا وہی بات ہے کہ مدعی سست گواہ چست) بیشک جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ (خدائی میں یا خدائی خصوصیات میں) شریک قرار دے گا سو اس پر اللہ تعالیٰ جنت کو حرام کر دے گا، اور اس کا ٹھکانا (ہمیشہ کے لئے) دوزخ ہے، اور ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا (کہ دوزخ سے بچا کر جنت میں پہنچا سکے، اور جیسے عقیدہ اتحاد کفر ہے اسی طرح عقیدہ تثلیث بھی کفر ہے پس) بلا شبہ وہ لوگ بھی کافر ہیں، جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تین (معبودوں) میں کا ایک ہے۔ حالانکہ بجز ایک معبود (حق) کے اور کوئی معبود (حق) نہیں (نہ دو اور نہ تین۔ جب یہ عقیدہ بھی کفر و شرک ہے تو اِنَّهٗ مَنْ يُّشْرِكْ الخ میں جو سزا مذکور ہے وہ اس پر بھی مرتب ہوگی) اور اگر یہ (دونوں عقیدہ کے) لوگ اپنے اقوال (کفریہ) سے باز نہ آئے تو (سمجھ رکھیں کہ) جو لوگ ان میں کافر رہیں گے ان پر (آخرت میں) دردناک عذاب واقع ہوگا کیا (ان مضامین توحید و وعید کو سنکر) پھر بھی (اپنے ان عقائد و اقوال سے) خدا تعالیٰ کے سامنے توبہ نہیں کرتے اور اس سے معافی نہیں چاہتے، حالانکہ اللہ تعالیٰ (جب کوئی توبہ کرتا ہے تو) بڑی مغفرت کرنے والے (اور) بڑی رحمت فرمانے والے ہیں (حضرت) مسیح ابن مریم (عین خدا یا جزِو خدا) کچھ بھی نہیں صرف ایک پیغمبر ہیں جس سے پہلے اور بھی پیغمبر (اہل معجزات) گزر چکے ہیں (جن کو عیسائی خدا نہیں مانتے۔ پس اگر پیغمبری یا خرق عادت دلیل اُلوہیت ہے تو سب کو الٓہ (خدا) ماننا چاہیئے۔ اور اگر دلیل الو ہیت نہیں ہے تو حضرت مسیح کو کیوں الٓہ کہا جاوے۔ غرض جب اوروں کو الٓہ نہیں کہتے تو عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی مت کہو) اور (اسی طرح) ان کی والدہ (بھی الٓہ یا جزو الٓہ نہیں بلکہ وہ) ایک ولی بی بی ہیں (جیسی اور بیبیاں بھی ولی ہوچکی ہیں، اور دونوں حضرات کے الٓہ نہ ہونے کے دلائل میں سے ایک سہل دلیل یہ ہے کہ) دونوں (حضرات) کھانا کھایا کرتے تھے (اور جو شخص کھانا کھاتا ہے وہ اس کا محتاج ہوتا ہے اور کھانا کھانا خواص مادیات سے ہے۔ اور احتیاج اور مادیت خاصہ ممکن الوجود کا ہے، جس کا وجود ضروری نہ ہو، اور ممکن یعنی جس کا وجود ہی ضروری نہ ہو وہ خدا نہیں ہوسکتا) دیکھئے تو (سہی) ہم کیونکر صاف صاف دلائل ان سے بیان کر رہے ہیں۔ پھر دیکھئے وہ الٹے کدھر جا رہے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ان سے) فرمائیے کیا خدا کے سوا ایسی (مخلوق) کی عبادت کرتے ہو جو نہ تم کو کوئی ضرر پہنچانے کا اختیار رکھتا ہو اور نہ نفع پہنچانے کا (اختیار رکھتا ہو اور عاجز ہونا خود خدائی کے منافی ہے) حالانکہ اللہ تعالیٰ سب سنتے ہیں جانتے ہیں (پھر بھی خدا سے نہیں ڈرتے اور اپنے کفر و شرک سے باز نہیں آتے) ۔

Al-Maaida 5:72Listen in Qur'an →
73

لَّقَدْ كَفَرَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ ثَالِثُ ثَلَٰثَةٍۢ ۘ وَمَا مِنْ إِلَٰهٍ إِلَّآ إِلَٰهٌۭ وَٰحِدٌۭ ۚ وَإِن لَّمْ يَنتَهُوا۟ عَمَّا يَقُولُونَ لَيَمَسَّنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

وہ لوگ (بھی) کافر ہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ خدا تین میں کا تیسرا ہے حالانکہ اس معبود یکتا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اگر یہ لوگ ایسے اقوال (وعقائد) سے باز نہیں آئیں گے تو ان میں جو کافر ہوئے ہیں وہ تکلیف دینے والا عذاب پائیں گے

معارف و مسائل - (قولہ تعالیٰ ) اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ ، یعنی حضرت مسیح، روح القدس اور اللہ یا مسیح، مریم اور اللہ تینوں خدا ہیں (العیاذ باللہ) ان میں ایک حصہ دار اللہ ہوا، پھر وہ تینوں ایک اور وہ ایک تین ہیں، عیسائیوں کا عام عقیدہ یہ ہے، اور اس خلاف عقل و ہدایت عقیدہ کو گول مول اور پیچدار عبارتوں سے ادا کرتے ہیں، اور جب کسی کی سمجھ میں نہیں آتا تو اس کو ماوراء العقل حقیقت قرار دیتے ہیں (قوائد عثمانی رحمة اللہ علیہ)- مسیح (علیہ السلام) کی الوہیت کی تردید - (قولہ تعالیٰ ) قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ، یعنی جس طرح اور انبیاء دنیا میں آئے اور کچھ دن رہ کر چل بسے، ان کو دوام اور بقاء حاصل نہ تھا جو الوہیت کی شان ہے، اسی طرح حضرت مسیح (علیہ السلام) (جو انہی کی طرح ایک انسان ہیں) کو دوام اور بقاء حاصل نہیں، لہذا وہ الٓہ نہیں ہو سکتے۔- ذرا غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ جو شخص کھانے پینے کا محتاج ہے وہ تقریباً دنیا کی ہر چیز کا محتاج ہے۔ زمین، ہوا، پانی، سورج اور حیوانات سے اسے استغناء نہیں ہوسکتا۔ غلہ کے پیٹ میں پہنچنے اور ہضم ہونے تک خیال کرو بالواسطہ یا بلا واسطہ کتنی چیزوں کی ضرورت ہے۔ پھر کھانے سے جو اثرات و نتائج پیدا ہوں گے ان کا سلسلہ کہاں تک جاتا ہے۔ احتیاج و افتقار کے اس طویل الذیل سلسلہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہم الوہیت مسیح و مریم کے ابطال کو بشکل استدلال یوں بیان کرسکتے ہیں کہ مسیح و مریم اکل و شرب کی ضرورت سے مستغنی نہ تھے۔ جو مشاہدہ اور تواتر سے ثابت ہے اور جو اکل و شرب سے مستغنی نہ ہو وہ دنیا کی کسی چیز سے مستغنی نہیں ہوسکتا۔ پھر تم ہی کہو کہ جو ذات تمام انسانوں کی طرح اپنی بقاء میں عالم اسباب سے مستغنی نہ ہو وہ خدا کیونکر بن سکتی ہے۔ یہ ایسی قوی اور واضح دلیل ہے جسے عالم و جاہل یکساں طور پر سمجھ سکتے ہیں، یعنی کھانا پینا الوہیت کے منافی ہے۔ اگرچہ نہ کھانا بھی کوئی الوہیت کی دلیل نہیں ورنہ سارے فرشتے خدا بن جائیں (معاذ اللہ) (فوائد عثمانی)- حضرت مریم بتول (علیہ السلام) نبی تھیں یا ولی ؟- حضرت مریم کی ولایت اور نبوت کے بارے میں اختلاف ہے۔ آیت مذکورہ میں مقام مدح میں لفظ ” صدیقہ “ سے بظاہر اشارہ اسی طرف معلوم ہوتا ہے کہ آپ ” ولی “ تھیں۔ نبی نہیں کیونکہ مقام مدح میں اعلیٰ درجہ کو ذکر کیا جاتا ہے۔ اگر آپ کو نبوت حاصل ہوتی تو یہاں ” نبیہ “ کہا جاتا۔ حالانکہ یہاں ” صدیقہ “ کہا گیا ہے، جو ولایت کا مقام ہے (روح ملخصاً ) - جمہور امت کی تحقیق یہی ہے کہ خواتین میں نبوت نہیں آئی یہ منصب رجال ہی کے لئے مخصوص رہا ہے، (آیت) وما ارسلنا من اہل القری (یوسف، رکوع ٢١) (فوائد عثمانی)

Al-Maaida 5:73Listen in Qur'an →
74

أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى ٱللَّهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُۥ ۚ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

تو یہ کیوں خدا کے آگے توبہ نہیں کرتے اور اس سے گناہوں کی معافی نہیں مانگتے اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے

Explained together with ayah 73

Al-Maaida 5:74Listen in Qur'an →
75

مَّا ٱلْمَسِيحُ ٱبْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌۭ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ ٱلرُّسُلُ وَأُمُّهُۥ صِدِّيقَةٌۭ ۖ كَانَا يَأْكُلَانِ ٱلطَّعَامَ ۗ ٱنظُرْ كَيْفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ ٱلْءَايَٰتِ ثُمَّ ٱنظُرْ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ

مسیح ابن مریم تو صرف (خدا) کے پیغمبر تھے ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے اور ان کی والدہ (مریم خدا کی) ولی اور سچی فرمانبردار تھیں دونوں (انسان تھے اور) کھانا کھاتے تھے دیکھو ہم ان لوگوں کے لیے اپنی آیتیں کس طرح کھول کھول کر بیان کرتے ہیں پھر (یہ) دیکھو کہ یہ کدھر الٹے جا رہے ہیں

Explained together with ayah 73

Al-Maaida 5:75Listen in Qur'an →
76

قُلْ أَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّۭا وَلَا نَفْعًۭا ۚ وَٱللَّهُ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ

کہو کہ تم خدا کے سوا ایسی چیز کی کیوں پرستش کرتے ہو جس کو تمہارے نفع اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں؟ اور خدا ہی (سب کچھ) سنتا جانتا ہے

Explained together with ayah 73

Al-Maaida 5:76Listen in Qur'an →
77

قُلْ يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ لَا تَغْلُوا۟ فِى دِينِكُمْ غَيْرَ ٱلْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعُوٓا۟ أَهْوَآءَ قَوْمٍۢ قَدْ ضَلُّوا۟ مِن قَبْلُ وَأَضَلُّوا۟ كَثِيرًۭا وَضَلُّوا۟ عَن سَوَآءِ ٱلسَّبِيلِ

کہو کہ اے اہل کتاب! اپنے دین (کی بات) میں ناحق مبالغہ نہ کرو اور ایسے لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو (خود بھی) پہلے گمراہ ہوئے اور اَور بھی اکثروں کو گمراہ کر گئے اور سیدھے رستے سے بھٹک گئے

خلاصہ تفسیر - آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ان نصاریٰ سے) فرمائیے کہ اے اہل کتاب تم اپنے دین (کے معاملہ) میں ناحق کا غلو (اور افراط) مت کرو اور اس (افراط کے باب) میں ان لوگوں کے خیالات (یعنی بےسند باتوں) پر مت چلو جو (اس وقت سے) پہلے خود بھی غلطی میں پڑچکے ہیں اور (اپنے ساتھ) اور بہتوں کو (لے کر ڈوبے ہیں اور) غلطی میں ڈال چکے ہیں اور (وہ ان کی غلطی اس وجہ سے نہیں ہوئی کہ حق مفقود ہوگیا ہو اس کا پتہ نہ لگتا ہو بلکہ) وہ لوگ راہ راست (کے ہوتے ہوئے قصداً اس) سے دور (اور علیحدہ) ہوگئے تھے (یعنی جب ان کی غلطی دلائل سے ثابت ہوگئی پھر ان کا اتباع کیوں نہیں چھوڑتے) بنی اسرائیل میں جو لوگ کافر تھے ان پر (اللہ تعالیٰ کی طرف سے سخت) لعنت کی گئی تھی (زبور اور انجیل میں جس کا ظہور حضرت) داود (علیہ السلام) اور (حضرت) عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی زبان سے (ہوا یعنی زبور اور انجیل میں کافروں پر لعنت لکھی تھی، جیسے قرآن مجید میں بھی ہے (آیت) فلعنة اللہ علیہ الکفرین، چونکہ یہ کتابیں حضرت داود اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) پر نازل ہوئیں، اس لئے یہ مضمون ان کی زبان سے ظاہر ہوا اور) یہ لعنت اس سبب سے ہوئی کہ انہوں نے حکم کی (اعتقادی) مخالفت کی (جو کہ کفر ہے) اور (اس مخالفت میں) حد سے (بہت دور) نکل گئے (یعنی کفر بھی شدید تھا، پھر شدید کے ساتھ مدید بھی تھا۔ یعنی اس پر استمرار رکھا، چنانچہ) جو برا کام (یعنی کفر) انہوں نے (اختیار) کر رکھا تھا اس سے (آئندہ کو) باز نہ آتے تھے (بلکہ اس پر مصر تھے، پس ان کے کفر شدید اور مدید کے سبب ان پر شدید لعنت ہوئی) واقعی ان کا (یہ) فعل (مذکور یعنی کفر پھر وہ بھی شدید اور مدید) بیشک برا تھا (کہ اس پر یہ سزا مرتب ہوئی) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان (یہود) میں بہت سے آدمی دیکھیں گے کہ (مشرک) کافروں سے دوستی کرتے ہیں (چنانچہ یہود مدینہ اور مشرکین مکہ میں مسلمانوں کی عداوت کے علاقہ سے جس کا منشاء اتحاد فی الکفر تھا باہم خوب سازگاری تھی) جو کام انہوں نے آگے (بھگتنے) کے لئے کیا ہے (یعنی کفر جو سبب تھا دوستی کفار اور عداوت مؤمنین کا) وہ بیشک برا ہے کہ (اس کے سبب) اللہ تعالیٰ ان پر (ہمیشہ کے لئے) ناخوش ہوا اور (اس ناخوشی دائمی کا ثمرہ یہ ہوگا کہ) یہ لوگ عذاب میں ہمیشہ رہیں گے، اور اگر یہ (یہودی) لوگ اللہ پر ایمان رکھتے اور پیغمبر (یعنی موسیٰ علیہ السلام) پر (ایمان رکھتے جس کا ان کو دعویٰ ہے) اور اس کتاب پر (ایمان رکھتے) جو ان (پیغمبر) کے پاس بھیجی گئی تھی (یعنی تورات) تو ان (مشرکین) کو دوست نہ بناتے، لیکن ان میں زیادہ لوگ (دائرہ) ایمان سے خارج ہی ہیں (اس لئے کافروں کے ساتھ ان کا اتحاد اور دوستی ہوگئی) ۔- معارف و مسائل - بنی اسرائیل کی کجروی کا ایک دوسرا پہلو - (قولہ تعالیٰ ) قُلْ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ غَيْرَ الْحَقِّ پچھلی آیات میں بنی اسرائیل کی سرکشی اور ان کے ظلم کو بیان کیا گیا تھا، کہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے رسول جو ان کے لئے حیات جاودانی کا پیغام اور ان کی دنیا و آخرت سنوارنے کا دستور العمل لے کر آئے تھے ان کی قدر ومنزلت پہچاننے اور تعظیم و تکریم کرنے کے بجائے انہوں نے ان کے ساتھ برا سلوک کیا کہ، (آیت) فریقا کذبوا وفریقا یقتلون، یعنی بعض انبیاء (علیہم السلام) کو جھٹلایا اور بعض کو قتل کر ڈالا۔- مذکورہ آیات سے انھیں بنی اسرائیل کی کجروی کا دوسرا رخ بتلایا گیا ہے کہ یہ جاہل یا تو سرکشی اور نافرمانی کے اس کنارے پر تھے کہ اللہ کے رسولوں کو جھوٹا کہا، اور بعض کو قتل کر ڈالا، اور یا گمراہی اور کجروی کے اس کنارے پر پہنچ گئے کہ رسولوں کی تعظیم میں غلو کرکے ان کو خدا ہی بنادیا، (آیت) لقد کفر الذین قالو ان اللہ ھو المسیح ابن مریم۔ یعنی وہ بنی اسرائیل کافر ہوگئے، جنہوں نے کہا کہ اللہ تو عیسیٰ ابن مریم …

Al-Maaida 5:77Listen in Qur'an →
78

لُعِنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنۢ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ عَلَىٰ لِسَانِ دَاوُۥدَ وَعِيسَى ٱبْنِ مَرْيَمَ ۚ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوا۟ وَّكَانُوا۟ يَعْتَدُونَ

جو لوگ بنی اسرائیل میں کافر ہوئے ان پر داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی یہ اس لیے کہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے

بنی اسرائیل کا انجام بد - دوسری آیت میں ان بنی اسرائیل کا انجام بدذکر کیا گیا ہے جو اس افراط وتفریط کی گمراہی میں مبتلا تھے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوئی، اول داؤد (علیہ السلام) کی زبان سے جس کے نتیجے میں ان کی صورتیں مسخ ہو کر خنزیر بن گئے، پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے یہ لعنت ان پر مسلط ہوئی، جس کا اثر دنیا میں یہ ہوا کہ مسخ ہو کر بندر بن گئے۔ اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس جگہ بتقاضائے مقام صرف دو پیغمبروں کی زبانی ان پر لعنت ہونے کا ذکر کیا گیا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ان پر لعنت کی ابتداء حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ہوئی اور انتہا حضرت خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ہوئی۔ اس طرح مسلسل چار پیغمبروں کی زبانی ان لوگوں پر لعنت مسلط ہوئی جنہوں نے انبیاء (علیہم السلام) کی مخالفت کی یا جنہوں نے ان کو حد سے آگے بڑھا کر خدا تعالیٰ کی صفات کا شریک بنادیا۔ - آخری دونوں آیتوں میں کفار کے ساتھ گہری دوستی اور موالات کی ممانعت اور اس کے تباہ کن نتائج کا بیان فرمایا گیا جس میں اس کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے کہ بنی اسرائیل کی یہ ساری کجروی اور گمراہی نتیجہ تھی ان کے غلط قسم کے ماحول اور کفار کے ساتھ دلی دوستی کرنے کا۔ جس نے ان کو تباہی کے گڑھے میں دھکیل دیا تھا

Al-Maaida 5:78Listen in Qur'an →
79

كَانُوا۟ لَا يَتَنَاهَوْنَ عَن مُّنكَرٍۢ فَعَلُوهُ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُوا۟ يَفْعَلُونَ

(اور) برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے کو روکتے نہیں تھے بلاشبہ وہ برا کرتے تھے

Explained together with ayah 78

Al-Maaida 5:79Listen in Qur'an →
80

تَرَىٰ كَثِيرًۭا مِّنْهُمْ يَتَوَلَّوْنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۚ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ أَنفُسُهُمْ أَن سَخِطَ ٱللَّهُ عَلَيْهِمْ وَفِى ٱلْعَذَابِ هُمْ خَٰلِدُونَ

تم ان میں سے بہتوں کو دیکھو گے کہ کافروں سے دوستی رکھتے ہیں انہوں نے جو کچھ اپنے واسطے آگے بھیجا ہے برا ہے (وہ یہ) کہ خدا ان سے ناخوش ہوا اور وہ ہمیشہ عذاب میں (مبتلا) رہیں گے

Explained together with ayah 78

Al-Maaida 5:80Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.