Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 71–80 of 120

71

وَحَسِبُوٓا۟ أَلَّا تَكُونَ فِتْنَةٌۭ فَعَمُوا۟ وَصَمُّوا۟ ثُمَّ تَابَ ٱللَّهُ عَلَيْهِمْ ثُمَّ عَمُوا۟ وَصَمُّوا۟ كَثِيرٌۭ مِّنْهُمْ ۚ وَٱللَّهُ بَصِيرٌۢ بِمَا يَعْمَلُونَ

اور خیال کرتے تھے کہ (اس سے ان پر) کوئی آفت نہیں آنے کی تو وہ اندھے اور بہرے ہو گئے پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی (لیکن) پھر ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہو گئے اور خدا ان کے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے

(آیت) ” نمبر 70 تا 71۔

یہ ان کی قدیم تاریخ ہے ۔ حضور اکرم ﷺ کے مقابلے میں انہوں نے جو موقف اختیار کیا وہ پہلا اور آخری موقف نہیں ہے ۔ یہ لوگ سرکشی اور روگردانی کے عادی مجرم ہیں ۔ یہ وعدہ خلافی کے پرانے خوگر ہیں ۔ انہوں نے ہمیشہ اپنی خواہشات نفس ہی کو اپنا الہ اور حاکم مانا ہے ۔ کبھی انہوں نے اللہ کے دین اور رسول ﷺ کے آگے سرتسلیم خم نہیں کیا ۔ یہ لوگ ہمیشہ داعیان حق کے لئے سرکش اور ظالم رہے ۔

(آیت) ” لَقَدْ أَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ وَأَرْسَلْنَا إِلَیْْہِمْ رُسُلاً کُلَّمَا جَاء ہُمْ رَسُولٌ بِمَا لاَ تَہْوَی أَنْفُسُہُمْ فَرِیْقاً کَذَّبُواْ وَفَرِیْقاً یَقْتُلُونَ (70)

” ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے ۔ مگر جب کبھی ان کے پاس کوئی رسول ‘ انکی خواہشات نفس کے خلاف کچھ لیکر آیا تو کسی کو انہوں نے جھٹلایا اور کو قتل کردیا ۔

بنی اسرائیل کی قدیم تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ انہوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا اور ان کی تعلیمات سے روگردانی کی ۔ انہوں نے کئی ایک پر دست درازی کی اور کئی ایک کو قتل کردیا ۔ انہوں نے ہمیشہ اپنی خواہشات ہی کی پیروی کی ۔۔۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی طویل داستانیں امت مسلمہ کو سنائیں تاکہ وہ بھی کہیں بنی اسرائیل کی راہ پر چل نہ نکلے ۔ تاکہ امت مسلمہ کو معلوم ہوجائے کہ اس راہ کی مشکلات کیا ہیں اور ان لوگوں کو جو فہم و فراست کے مالک ہیں اور جن کا تعلق باللہ قائم ہے وہ ان مقامات لغزش کا اچھی طرح ادراک کرلیں اور جب انہیں ویسے ہی حالات درپیش ہوں جو انبیائے بنی اسرائیل کو پیش آئے تو وہ ان سے حوصلہ پکڑیں اور یہ کہ آئندہ اہل اسلام کی آنے والی نسلیں بھی اسی راہ پر چلنے والی تھیں اور انہوں نے بھی عرصہ گزرنے کے بعد ویسی ہی سنگ دلی کا مظاہرہ کرنا تھا جو بنی اسرائیل نے کیا تھا ۔ انہوں نے بھی ہدایت کی راہ ترک کرکے اپنی خواہشات نفس کو الہ بنانا تھا ۔ آنے والے داعیان حق کو جھٹلانا تھا اور بعض کو قتل کرنا تھا بعینہ اسی طرح جس طرح بنی اسرائیل کے باغیوں اور نافرمانوں نے کیا تھا ۔

بنی اسرائیل کے یہ سرکش جب یہ سرکشیاں کر رہے تھے تو انہیں یقین تھا کہ ان پر اللہ کا کوئی عذاب نہ آئے گا اور ان سے کوئی مواخذہ نہ ہوگا ۔ یہ سوچ ان کی اس لئے پختہ ہوگئی تھی کہ وہ سنت الہیہ کو بھول گئے تھے اور وہ اس غرور میں گرفتار تھے کہ وہ تو اللہ تعالیٰ کی پیاری قوم ہیں ۔

(آیت) ” وحسبوا الاتکون فتنہ فعموا وصموا “ (5 : 71) ” اور اپنے نزدیک یہ سمجھے کہ کوئی فتنہ رونمانہ ہوگا ‘ اس لئے اندھے اور بہرے بن گئے ۔ “

ان کی آنکھوں کی بصارت چلی گئی ‘ اس لئے وہ جس کو بھی دیکھتے اسے نہ سمجھتے اور ان کے کانوں پر پردے پڑگئے ‘، اس لئے جو چیز بھی سنتے اس سے فائدہ نہ اٹھاتے تھے ۔

(آیت) ” ثم تاب اللہ علیھم “۔ (5 : 71) ” اس کے بعد اللہ نے انہیں پھر معاف کیا “۔ یہ اللہ خاص رحمت تھی مگر انہوں نے اس اک بھی کچھ پاس نہ کیا ۔ (آیت) ” ثم عموا وصموا کثیرا منھم “۔ (5 : 71) پھر وہ اندھے اور بہرے بن گئے ان سے اکثر لوگ “۔

(آیت) ” (واللہ بصیر بما یعملون) “۔ (5 : 71) اللہ انکی سب حرکات کو دیکھتا رہا ہے “۔ اس لئے وہ انہیں انکی تمام حرکات پر انکو جزاء دے گا اور وہ بچ نہ سکیں گے ۔

اہل ایمان کے لئے یہاں اس قدر کافی ہے کہ وہ بنی اسرائیل کے بارے میں جان لیں اور اپنے جدید موقف کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں تاکہ اہل ایمان اس بات پر یکسو ہوجائیں اور ان کے ساتھ تعلق موالات کے بارے میں سوچنا ہی چھوڑ دیں ۔ جس طرح حضرت عبادہ ابن الصامت ؓ نے کہا کہ انہوں نے متنفر ہو کر تعلق موالات کے خاتمہ کا اعلان کردیا اور عبداللہ ابن ابی السلول جیسے منافقین نے اس تعلق کو جاری رکھا ۔

یہ تو تھے حالات یہودیوں کے ۔ رہے نصاری تو ان کے شب وروز بھی ایسے …

Al-Maaida 5:71Listen in Qur'an →
72

لَقَدْ كَفَرَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْمَسِيحُ ٱبْنُ مَرْيَمَ ۖ وَقَالَ ٱلْمَسِيحُ يَٰبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ رَبِّى وَرَبَّكُمْ ۖ إِنَّهُۥ مَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ ٱللَّهُ عَلَيْهِ ٱلْجَنَّةَ وَمَأْوَىٰهُ ٱلنَّارُ ۖ وَمَا لِلظَّٰلِمِينَ مِنْ أَنصَارٍۢ

وہ لوگ بےشبہ کافر ہیں جو کہتے ہیں کہ مریم کے بیٹے (عیسیٰ) مسیح خدا ہیں حالانکہ مسیح یہود سے یہ کہا کرتے تھے کہ اے بنی اسرائیل خدا ہی کی عبادت کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی (اور جان رکھو کہ) جو شخص خدا کے ساتھ شرک کرے گا خدا اس پر بہشت حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں

(آیت) ” نمبر 72 تا 76۔

اس سے پہلے ہم بیان کرچکے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بیان کردہ عقیدہ توحید کے اندر یہ شرکیہ عقائد کب اور کس کانفرس کے ذریعہ داخل ہوئے ۔ حالانکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا عقیدہ وہی تھا جو اس کے دوسرے بھائی رسولوں کا تھا ‘ جو خالص توحید کے داعی تھے اور اس میں شمہ بھر شرک نہ تھا ۔ اس لئے کہ نوح (علیہ السلام) کے بعد تمام رسالتوں کی بعثت کا مقصد توحید کی تبلیغ اور شرک کی تردید ہی تھا ۔

یہاں مختصرا ہم وہ عقیدہ درج کرتے ہیں جس تک یہ کانفرنسیں بالاتفاق پہنچیں اور اس کے بعد ان کے اوپر جو اختلافات مرتب ہوئے انکی تفصیلات پہلے گزر گئی ہیں ۔

نوفل ابن نعمت اللہ ابن جرجیس نصرانی کی کتاب ” سوسنہ سلیمان “ میں ہے کہ عیسائیوں کا وہ عقیدہ جس میں کسی کنیسہ کو اختلاف نہیں ہے اور جسے نیقیا کی مجلس نے بطور اصل عقیدہ طے کیا ہے ‘ وہ یہ ہے کہ الہ صرف ایک ہے ‘ اب باپ الہ ہے جو سب پر کنڑول کرنے والے ہے ۔ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے ‘ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے ‘ جو چیز نظرآئے یا نہ آئے اس کا پیدا کرنے والا ہے ۔ پھر ایک رب واحد یسوع پر ایمان لانا ہے جو اکلوتا بیٹا ہے اور ایک باپ سے ہے اور یہ زمانوں سے پہلے نور سے پیدا ہوا ہے ۔ یہ بھی الہ ہے ‘ الہ حق سے ہے ‘ مولود ہے ‘ مولود ہے اور غیر مخلوق ہے ‘ اپنے جوہر میں باپ کے برابر ہے ‘ جس سے تمام مخلوقات پیدا ہوئی اور جس کی وجہ سے ہم انسان پیدا ہوئے اور یہ باپ ہماری کوتاہیوں کی وجہ سے آسمان سے نازل ہوا۔ روح القدس کو اس کا درجہ ملا ۔ اور بیلاطس کے عہد میں کنواری مریم سے اس کا تولد ہوا ۔ انسان کی شکل میں آیا ۔ عہد بیلاطس میں سولی پر چڑھا ۔ دیکھ پہنچا ‘ قبر میں دفن ہوا اور مردوں سے تیسرے دن اٹھ کھڑا ہوا جیسا کہ کتابوں میں ہے ۔ آسمان کی طرف اٹھا اور رب کے دائیں طرف بیٹھا اور عنقریب اس کا نزول عزت ہوگا اور تمام زندوں کو دین میں داخل کرے گا ۔ اس کی بات ختم نہ ہوگی ۔ روح القدس اور باپ سے نکلنے والے خدا پر ایمان لانا ضروری ہے جو خدا کے ساتھ موجود ہے اور ان دونوں کے لئے سجدہ ہوتا ہے اور جو انبیاء کے ساتھ باتیں کرتا ہے ۔ “۔

ڈاکٹر پوسٹ اپنی کتاب تاریخ کنیسہ میں کہتے ہیں کہ ذات باری تین اقانیم سے عبارت ہے جو مساوی ہیں ۔ اللہ باپ ‘ اللہ بیٹا ‘ اللہ روح القدس ۔ بیٹے کے ذریعے لوگ باپ سے منسوب ہیں کہ وہ مخلوق ہیں ‘ بیٹے نے قربانی دی اور روح القدس پاک ہے ۔ “

اب یہ تصور کس قدر دشوار ہے کہ تین ایک بھی ہیں اور توحید اور تثلیث کا ایک ساتھ تصور کس قدر مشکل ہے ۔ نصاری کے لاہوتی مصنفین نے یہ تجویز کیا ہے کہ اس عقیدے کے عقلی پہلو پر غور وخوض کو ملتوی رکھا جائے ‘ اس لئے کہ عقل تو اسے سنتے ہی مسترد کردیتی ہے ۔ ان میں سے ایک پادری بوطر اپنے رسالہ ” اصول و فروع “ میں لکھتے ہیں ” ہم نے اپنی عقل کی طاقت کے مطابق اسے یوں سمجھا ہے اور آئندہ اسے ہم واضح طور پر سمجھ سکیں گے جب اللہ آسمانوں اور زمینوں کے رازوں سے پردہ اٹھا لے گا ۔ فی الحال اس قدر کافی ہے ۔ “

اللہ کا کہنا ہے کہ یہ تمام معقولات کفر ہیں ۔ اس لئے کہ ان تمام میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کو الہ مانا گیا ہے نیز تینوں میں سے ایک کہنا بھی کفر ہے ۔ لہذا اللہ کی بات کے بات کے بعد کوئی اور بات نہیں ہے ۔ اللہ کا فرمان واضح ہے ۔

(آیت) ” لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُواْ إِنَّ اللّہَ ہُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ وَقَالَ الْمَسِیْحُ یَا بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ اعْبُدُواْ اللّہَ رَبِّیْ وَرَبَّکُمْ إِنَّہُ مَن یُشْرِکْ بِاللّہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَمَأْوَاہُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِیْنَ مِنْ أَنصَارٍ (72)

” یقینا کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ مسیح ابن مریم ہی ہے حالانکہ مسیح نے کہا تھا کہ ” اے بنی اسرائیل ‘ اللہ کی بندگی کرو …

Al-Maaida 5:72Listen in Qur'an →
73

لَّقَدْ كَفَرَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ ثَالِثُ ثَلَٰثَةٍۢ ۘ وَمَا مِنْ إِلَٰهٍ إِلَّآ إِلَٰهٌۭ وَٰحِدٌۭ ۚ وَإِن لَّمْ يَنتَهُوا۟ عَمَّا يَقُولُونَ لَيَمَسَّنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

وہ لوگ (بھی) کافر ہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ خدا تین میں کا تیسرا ہے حالانکہ اس معبود یکتا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اگر یہ لوگ ایسے اقوال (وعقائد) سے باز نہیں آئیں گے تو ان میں جو کافر ہوئے ہیں وہ تکلیف دینے والا عذاب پائیں گے

(آیت) ” لَّقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُواْ إِنَّ اللّہَ ثَالِثُ ثَلاَثَۃٍ وَمَا مِنْ إِلَـہٍ إِلاَّ إِلَـہٌ وَاحِدٌ(5 : 73)

یقینا کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا ایک ہے حالانکہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں ہے “۔ اور ان تمام باطل عقائد کی تردید کر کے یہ بتا دیتا ہے کہ تمام رسول جو عقیدہ لے کر آئے ہی وہ یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی خدا نہیں ہے اور اگر عیسائی اپنے ان معقولات سے باز نہ آئے اور ذات باری اور ذات مسیح کے بارے میں ایسی ہی کفریہ باتیں کہتے رہے تو بعید نہیں کہ ان پر دردناک عذاب آجائے اور قیامت کا دن دور نہیں ہے ۔

(آیت) ” وَإِن لَّمْ یَنتَہُواْ عَمَّا یَقُولُونَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ مِنْہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ(73)

” اگر یہ لوگ ان باتوں سے باز نہ آئے تو ان میں سے جس جس نے کفر کیا ہے اس کو درد ناک سزا دی جائے گی “۔ اور اللہ کی اس تنبیہ کے باوجود کافروں نے ان معقولات سے توبہ نہ کی ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کن انداز میں کہہ دیا تھا کہ یہ کافر ہوگئے ہیں تو اس ترہیب کے ساتھ ساتھ اللہ ان کو ترغیب بھی دیتے ہیں کہ اللہ معاف کرنے والا ہے اگر اب بھی یہ لوگ باز آجائیں ۔

Al-Maaida 5:73Listen in Qur'an →
74

أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى ٱللَّهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُۥ ۚ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

تو یہ کیوں خدا کے آگے توبہ نہیں کرتے اور اس سے گناہوں کی معافی نہیں مانگتے اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے

(آیت) ” أَفَلاَ یَتُوبُونَ إِلَی اللّہِ وَیَسْتَغْفِرُونَہُ وَاللّہُ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(74)

” پھر کیا یہ اللہ سے توبہ نہ کریں گے اور اس سے معافی نہ مانگیں گے ؟ اللہ بہت درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔ اور یہ اس لئے کہا گیا کہ توبہ کا دروازہ بندنہ ہو اور ہر کسی کو وقت ختم ہونے سے پہلے واپسی کا موقع ہو ۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کا حقیقی مقام کیا ہے ؟ تو مضبوط منطقی انداز میں بتایا جاتا ہے کہ مسیح کون ہیں اس امید سے کہ شاید انکی فطرت سلیمہ مقام مسیح کے ادارک میں انکی مدد کرے ۔ اور مسیح کی حقیقت بتانے کے بعد اللہ تعالیٰ تعجب خیز انداز میں کہتے ہیں کہ اس کے باوجود یہ لوگ روگردانی کرتے ہیں ۔

Al-Maaida 5:74Listen in Qur'an →
75

مَّا ٱلْمَسِيحُ ٱبْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌۭ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ ٱلرُّسُلُ وَأُمُّهُۥ صِدِّيقَةٌۭ ۖ كَانَا يَأْكُلَانِ ٱلطَّعَامَ ۗ ٱنظُرْ كَيْفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ ٱلْءَايَٰتِ ثُمَّ ٱنظُرْ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ

مسیح ابن مریم تو صرف (خدا) کے پیغمبر تھے ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے اور ان کی والدہ (مریم خدا کی) ولی اور سچی فرمانبردار تھیں دونوں (انسان تھے اور) کھانا کھاتے تھے دیکھو ہم ان لوگوں کے لیے اپنی آیتیں کس طرح کھول کھول کر بیان کرتے ہیں پھر (یہ) دیکھو کہ یہ کدھر الٹے جا رہے ہیں

(آیت) ” مَّا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِہِ الرُّسُلُ وَأُمُّہُ صِدِّیْقَۃٌ کَانَا یَأْکُلاَنِ الطَّعَامَ انظُرْ کَیْْفَ نُبَیِّنُ لَہُمُ الآیَاتِ ثُمَّ انظُرْ أَنَّی یُؤْفَکُونَ (75)

مسیح ابن مریم اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول تھا ‘ اس سے پہلے اور بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے ‘ اس کی ماں راست باز عورت تھی اور وہ دونوں کھانا کھاتے تھے ۔ دیکھو ہم کس طرح ان کے ساتھ حقیقت کی نشانیاں واضح کرتے ہیں ‘ پھر دیکھو یہ کدھرالٹے پھرے جاتے ہیں ۔

حضرت مسیح (علیہ السلام) اور آپ کی والدہ صدیقہ کی زندگی میں کھانا ایک واقعی امر تھا ۔ زندوں کی خصوصیات میں سے ایک اہم خصوصیت ہے کہ وہ کھانا کھاتے ہیں اور یہی حضرت مسیح اور ان کی والدہ صدیقہ ؓ کی بشریت پر سب سے بڑی دلیل ہے ۔ اور ان کی مابعد الطبیعیاتی تعبیرات کے مطابق ان کے ناسوت ہونے پر یہ بری دلیل ہے ۔ کھانا کھانا بیشک انسان کی جسمانی طلب اور جسمانی احتیاج کی دلیل ہے ۔ اور جو ذات زندہ رہنے کے لئے کھانے کی محتاج ہو وہ الہ کس طرح بن سکتی ہے ۔ اللہ تو بذات خود زندہ ہے ۔ بذات خود قائم ہے ‘ بذات خود باقی ہے ‘ وہ کھانا کھانے کا محتاج نہیں ہے اور کھانے کی قسم کی اشیاء نہ اللہ کی ذات میں داخل ہوتی ہے اور نہ خارج ہوتی ہیں ۔

اس سیدھی سادی حقیقت کو دیکھتے ہوئے اور صاف ستھری بات کو دیکھتے بات کو دیکھتے ہوئے چونکہ کوئی معقول انسان اس میں مجادلہ نہیں کرسکتا اس لئے اس کے ہوتے ہوئے ان کے موقف پر سخت تعجب کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ اس منطق سلیم سے پھر بھی منہ موڑتے ہیں ۔ ” دیکھو ہم کس طرح ان کے سامنے حقیقت کی نشانیاں واضح کرتے ہیں اور پھر ان کو دیکھو کہ یہ لوگ کدھر الٹے پھرے جارے ہیں ۔ “

حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو الوہیت کا جامہ پہنانا چاہا ان کے لئے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی انسانی زندگی ہمیشہ تھکا دینے والی حقیقت رہی ۔ یہ بات آپ کی تعلیمات کے بھی خلاف تھی ‘ اس لئے یہ لوگ ہمیشہ بحث ومباحثے اور جدل وجدال میں مبتلا رہے ۔ اور عیسائیوں کی الہیت میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کی لاھوتیت اور ناسوتیت ہمیشہ لایخل مسئلہ رہی ۔

اب قرآن کی منطق سلیم کو ایک دوسرے زاویے سے ملاحظہ کے لئے پیش کیا جاتا ہے اور تعجب خیرا استکراہ کے ساتھ ۔

Al-Maaida 5:75Listen in Qur'an →
76

قُلْ أَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّۭا وَلَا نَفْعًۭا ۚ وَٱللَّهُ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ

کہو کہ تم خدا کے سوا ایسی چیز کی کیوں پرستش کرتے ہو جس کو تمہارے نفع اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں؟ اور خدا ہی (سب کچھ) سنتا جانتا ہے

(آیت) ” قُلْ أَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللّہِ مَا لاَ یَمْلِکُ لَکُمْ ضَرّاً وَلاَ نَفْعاً وَاللّہُ ہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ (76)

” ان سے کہو تم اللہ کو چھوڑ کر اس کی پرستش کرتے ہو جو نہ تمہارے لئے نقصان کا اختیار رکھتا ہے نہ نفع کا ؟ حالانکہ سب کی سننے والا اور سب کچھ جاننے والا تو اللہ ہی ہے ۔ یہاں قرآن کریم نے لفظ ” ما “ استعمال کیا ہے ۔ حالانکہ یہاں مسیح کے لئے لفظ من استعمال کی جانا چاہئے تھا ‘ تاکہ اس میں وہ تمام مخلوقات آجائیں جن چیزوں کی پوجا کی گئی ۔ ان میں ذوی العقول بھی شامل ہیں ۔ اور لفظ ” ما “ اس عام چیز کی اصل ماہیت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ ان معبود اشیاء کی اصل ماہیت مخلوق ہے لہذا ان میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) روح القدس ‘ حضرت مریم صدیقہ (علیہ السلام) سب کے سب شامل ہوں گے اس لئے کہ اپنی ماہیت کے اعتبار سے یہ سب مخلوق ہیں ۔ چناچہ اس انداز تعبیر میں بھی ایک خاص اشاریت پائی جاتی ہے ۔ اور نتیجہ یہی نکلے گا کہ اللہ کی مخلوق میں سے کوئی عبادت کا مستحق نہ رہے گا ‘ جبکہ کوئی مخلوق نفع ونقصان کی مالک بھی نہ ہوگی ۔

(آیت) ” ھو السمیع العلیم “۔ (5 : 76) (وہ سننے والا اور جاننے والا ہے) یعنی وجہ ہے کہ وہ نفع ونقصان پہنچا سکتا ہے ۔ وہ اپنے بندوں کی پکاروں کو سنتا ہے ۔ وہ بندوں کی عبادت کو دیکھتا ہے ۔ وہ ان کے دلوں کے بھیدوں کو جانتا ہے ۔ ان کی اس پکارو عبادت کے پیچھے جو جذبہ ہے اس کا بھی اسے علم ہے اور اللہ کے سوا جس قدر اور مخلوق ہے وہ نہ سنتی ہے ‘ نہ جانتی ہے اور نہ قبولیت کی طاقت رکھتی ہے ۔

اب اس بحث کو اس جامع دعوت کے ساتھ ختم کیا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ وہ اہل کتاب کے سامنے یہ تجویز رکھیں ۔

Al-Maaida 5:76Listen in Qur'an →
77

قُلْ يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ لَا تَغْلُوا۟ فِى دِينِكُمْ غَيْرَ ٱلْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعُوٓا۟ أَهْوَآءَ قَوْمٍۢ قَدْ ضَلُّوا۟ مِن قَبْلُ وَأَضَلُّوا۟ كَثِيرًۭا وَضَلُّوا۟ عَن سَوَآءِ ٱلسَّبِيلِ

کہو کہ اے اہل کتاب! اپنے دین (کی بات) میں ناحق مبالغہ نہ کرو اور ایسے لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو (خود بھی) پہلے گمراہ ہوئے اور اَور بھی اکثروں کو گمراہ کر گئے اور سیدھے رستے سے بھٹک گئے

(آیت) ” نمبر 77۔

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیم میں غلو کرنے کی وجہ سے نصاری کے عقائد کے اندر خرافات داخل ہوئے اور اس کے بعد جب سلطنت روما کے حکمران عیسائیت میں داخل ہوئے تو انہوں نے اپنی بت پرستی کو عیسائیت کے اندر داخل کردیا ۔ اس کے مسائل کو حل کرنے کے لیے جو کانفرنسیں منعقد ہوئیں ان کے مندوبین نے بھی اللہ کے دین میں یہ غلط معقولات شامل کردیئے حالانکہ حضرت مسیح کو اللہ نے جو دین دے کر بھیجا تھا اور جس کی تبلیغ آپ ﷺ نے فرمائی تھی وہ بالکل صاف تھا ۔ قرآن مجید میں ہے ” اے بنی اسرائیل اللہ کی بندگی کرو جو میرا اور تمہار سب کا رب ہے ‘ بیشک جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا تو اللہ نے اس پر جنت کا داخلہ حرام کردیا ہے ۔ اس کا ٹھکانا جہنم ہے ‘ اور ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا ۔ “

یہ پکار بنی اسرائیل کو بچانے کی آخری کوشش ہے تاکہ وہ اختلافات ‘ انحرافات ‘ خواہشات نفس کے اتھاہ سمندر سے نکل آئیں ‘ جس کے اندر وہ لوگ گر گئے جو ان سے پہلے گزرے تھے ‘ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی راہ حق سے بھٹکایا ۔

مندرجہ بالا آیات کا یہ حصہ جو یہاں ختم ہوا اس پر ذرا دوبارہ غور کریں ۔ اس کے تین حقائق ہمارے سامنے آتے ہیں ۔ یہاں اجمالا ان کا تذکرہ ضروری ہے ۔

(1) ۔ یہاں حقیقت یہ ہے کہ اسلامی نظام زندگی کے اندر اعتقادی تصورات کی درستی کے لئے کس قدر عظیم جدوجہد کی گئی ہے اور تمام اعتقادات کو خالص نظریہ توحید کی اساس پر استوار کیا گیا ہے ۔ اس کو بت پرستی کی تمام ملاوٹوں سے پاک کیا گیا ہے ۔ شرک کی ہوا بھی اسے لگنے نہیں دی ‘ جس طرح اہل کتاب کے عقائد کے اندر شرک داخل ہوگیا تھا ۔ اسلام نے لوگوں کو ذات باری کی حقیقت اچھی طرح سمجھائی ۔ اللہ کو اپنی ذات اور اپنی صفات میں منفرد قرار دیا گیا ‘ اور اس بات کی سختی سے نفی کی گئی کہ اللہ کی ذات اور اللہ کی صفات میں کوئی اس کا شریک ہو سکتا ہے ۔ اعتقادی تصورات کی تصحیح کے اس شاندار اہتمام سے اور عقیدہ توحید کے فیصلہ کن بیان اور توضیح سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں صحیح عقائد کی کس قدر اہمیت ہے ‘ اور یہ کہ انسانی زندگی کی اصلاح میں درست عقائد کا کس قدر گہرا اثر ہوتا ہے ۔ نیز اس سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ اسلام نے تمام اعمال کو صحیح اعتقادات پر موقوف کیا ہے اور تمام انسانی تعلقات کو عقائد سے مربوط کردیا گیا ہے ۔

(2) ۔ دوسری یہ حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے کہ قرآن نے ان لوگوں کے کفر کی تصریح کردی ہے جن کا عقیدہ یہ ہے کہ مسیح ابن مریم اللہ ہے یا جن کا عقیدہ یہ ہے کہ مسیح ابن مریم ‘ تین خداؤں میں سے ایک ہے ۔ اس تصریح کے بعد کسی مسلمان کے لئے جواز باقی ہی نہیں رہتا کہ وہ اہل کتاب کو دین پر سمجھے اس لئے کہ یہ لوگ ان عقاید کی وجہ سے خود اپنے دین کے بھی منکر ہوگئے ہیں ۔

اسلام اگر لوگوں کو اس بات پر مجبور نہیں کرتا کہ وہ جس دین پر ہیں اسے چھوڑ دیں تو اسلام یہ بھی نہیں کرتا کہ کسی ایسے شخص کو جو دین سے خارج ہوچکا ہو ‘ محض اسے خوش کرنے کے لئے یہ کہہ دے کہ وہ دین پر ہے اور یہ کہ اس کا دین اللہ کو مقبول ہے ‘ بلکہ اسلام ایسے لوگوں کے دین پر کفر کا اطلاق کرتا ہے اور کفر کبھی اللہ کا دین نہیں ہو سکتا ۔

(3) ۔ تیسری حقیقت جو پہلی دونوں حقیقتوں پر بطور لازمی نتیجہ مرتب ہوتی ہے یہ ہے کہ ان عقائد کے حاملین اہل کتاب اور اسلام کے بیان کردہ عقیدہ توحید کو تسلیم کرنے والے اہل اسلام کے درمیان کوئی تعلق موالات قائم نہیں ہو سکتا اس لئے کہ ایک مسلمان کا عقیدہ یہ ہے کہ اب دین صرف وہی ہے جس کی تعلیم حضرت محمد ﷺ نے دی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہ بات کہ تمام ادیان کے پیروکاروں کو اتحاد کرکے کفر اور الحاد کا مقابلہ کرنا چاہئے ایک لغو بات ہوگی ۔ اسلامی زاویے سے اس بات کے اندر کوئی وزن نہ ہوگا ۔ جب اعتقادات کے اندر اس قدر فیصلہ کن جدائی اور دوری ہو تو دونوں فریقوں کا …

Al-Maaida 5:77Listen in Qur'an →
78

لُعِنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنۢ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ عَلَىٰ لِسَانِ دَاوُۥدَ وَعِيسَى ٱبْنِ مَرْيَمَ ۚ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوا۟ وَّكَانُوا۟ يَعْتَدُونَ

جو لوگ بنی اسرائیل میں کافر ہوئے ان پر داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی یہ اس لیے کہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے

(آیت) ” 78 تا 81۔

نظر آتا ہے کہ بنی اسرائیل کی تاریخ کفر ‘ معصیت اور لعنتی افعال سے اٹی پڑی ہے اور ان کی ہدایت اور ان کی نجات کے لئے جن انبیاء کو بھیجا گیا تھا انہیں نے آخر کار ان پر لعنت کی بارش کردی اور ان کو اللہ کی راہ ہدایت سے دھتکار دیا ۔ اللہ نے بھی انکی اس دعاء اور پکار کو قبول کرلیا ۔ اور ان پر لعنت لکھ دی اور قیامت تک وہ ملعون قرار پائے ۔

بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ‘ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنی کتابوں کے اندر تحریف کی ۔ یہ وہی لوگ تھے جو اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے نہ کرتے تھے جیسا کہ اس سورة میں اور دوسرے مقامات پر قرآن مجید نے تصریح کی ہے ۔ یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے اس عہد کو توڑا جوان سے اللہ نے لیا تھا کہ وہ ہر رسول پر ایمان لائیں گے اور اس کے ساتھ تعاون کریں گے اور اس کی نصرت کریں گے ۔

(آیت) ” ذَلِکَ بِمَا عَصَوا وَّکَانُواْ یَعْتَدُونَ (78)

” کیونکہ وہ سرکش ہوگئے تھے اور زیادتیاں کرنے لگے تھے ۔ “ بنی اسرائیل کی پوری تاریخ سرکشی اور زیادتیوں سے بھری ہوئی ہے ۔ ان کے تصورات عقائد اور طرز عمل میں ہر جگہ سرکشی اور زیادتیوں کی جھلکیاں نظر آتی ہیں اور قرآن کریم نے اس کی پوری تفصیلات دی ہیں ۔

سرکشی کرنا اور زیادتی کرنا بنی اسرائیل میں کوئی انفرادی فعل نہیں رہا تھا بلکہ ان کے معاشرے کی اجتماعی روایات ہی سرکشی اور زیادتی کے رنگ میں رنگی ہوئی تھیں ۔ پورے معاشرے کی یہ فطرت بنی گئی تھی اور پورا معاشرہ ان برائیوں کے ارتکاب کو دیکھتا اور خاموش رہتا اور ان کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھاتا ۔

Al-Maaida 5:78Listen in Qur'an →
79

كَانُوا۟ لَا يَتَنَاهَوْنَ عَن مُّنكَرٍۢ فَعَلُوهُ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُوا۟ يَفْعَلُونَ

(اور) برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے کو روکتے نہیں تھے بلاشبہ وہ برا کرتے تھے

(آیت) ” کَانُواْ لاَ یَتَنَاہَوْنَ عَن مُّنکَرٍ فَعَلُوہُ لَبِئْسَ مَا کَانُواْ یَفْعَلُونَ (79

” انہوں نے ایک دوسرے کو برے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑ دیا تھا ‘ برا طرز عمل تھا جو انہوں نے اختیار کیا تھا۔

سرکشی اور ظلم ہر معاشرے میں ہوتے رہتے ہیں اس لئے کہ ہر معاشرے میں شریر ‘ مفسد اور منحرف لوگ ہوتے ہیں ، یہ زمین کسی بھی وقت شروفساد سے خالی نہیں رہ سکتی ۔ معاشرے کے اندر ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کی روش نرالی ہوتی ہے لیکن معاشرے کا اجتماعی مزاج شر اور منکر کو برداشت نہیں کرتا اور سرکشی اور ظلم کو معاشرے کے مسلمات قرار پانے کی اجازت نہیں دیتا ۔ اس لئے سرکشی اور ظلم کا ارتکاب کسی بیدار معاشرے کے اندر بڑا مشکل ہوتا ہے ۔ اسی طرح زندہ معاشروں کے اندر برائی کا ارتکاب مشکل ہوتا ہے اور معاشرہ اجتماعی طور پر شر کے خلاف رد عمل ظاہر کم ہوجاتے ہیں معاشرے کے اجتماعی بندھن مضبوط ہوتے ہیں اور برائی چند افراد کے اندر محدود ہوتی ہے ۔ معاشرہ ان کا پیچھا کر رہا ہوتا ہے اور انہیں جمنے نہیں دیتا ۔ ایسے حالات میں فحاشی اور منکر شائع نہیں ہوتے ۔ پھیلتے نہیں بلکہ سکڑتے ہیں اور یہ معاشرے کے اجتماعی ضمیر اور مزاج کی وجہ سے ہوتا ہے ۔

بنی اسرائیل کے اس اجتماعی منظر کو یہاں اس مکروہ شکل میں پیش کرکے اور اس پر تنقید کرکے قرآن ‘ اسلامی نظام جماعت کو یہ مشورہ دیتا ہے کہ اس کا ایک مضبوط اجتماعی وجود ہونا چاہئے اور اس وجود کے اندر اس قدر قوت دفاع ہونی چاہئے کہ وہ سرکشی اور ظلم کو برداشت ہی نہ کرے ‘ چہ جائیکہ وہ معاشرے کی ایک عام روش ہوجائے ۔ اسلامی معاشرے کو یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ اسے بڑی سختی سے سچائی پر قائم ہونا چاہئے اور باطل کے بارے میں سخت حساس ہونا چاہئے ۔ دین کے ذمہ داران کو چاہئے کہ وہ اس امانت کی حفاظت کریں جس کے وہ امین اور محافظ ہیں ۔ اور شر فساد سرکشی اور ظلم کی راہ روکیں اور اس معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں ۔ چاہے یہ شر ایسے حکام کی جانب سے ہو جن کا حکومت پر تسلط ہو یا ایسے سرمایہ داروں کی طرف سے ہو جنہوں نے دولت جمع کر کے اثر ورسوخ حاصل کرلیا ہو یا ایسے شرپسندوں کی طرف سے ہو جن کو معاشرے میں ایذا رسانی کی قوت حاصل ہو یا ایسے عوام کی جانب سے ہو جو بےراہ رو ہیں ۔ اسلامی نظام بہرحال خدائی نظام ہے اور اس کے خلاف اٹھنے والے بااثر ہوں یا بےاثر ہوں وہ سب باغی تصور ہوں گے ۔

اسلام اس فرض کی ادائیگی پر بہت ہی زور دیتا ہے ۔ اگر معاشرے کا اجتماعی وجود کسی شر کے خلاف آواز نہیں اٹھاتا تو اسلام پورے معاشرے کو مجرم گردانتا ہے ۔ جس طرح ایک ایک فرد ذمہ دار ہے اسی طرح برائی کے خلاف اٹھنے کی ذمہ داری بھی پورے معاشرے پر عائد ہوتی ہے ۔

امام احمد (رح) نے حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کی یہ روایت نقل فرمائی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ” جب بنی اسرائیل نے برائیوں کا ارتکاب شروع کیا تو انکے علماء نے انہیں منع کیا ۔ وہ منع نہ ہوئے ‘ ان علماء نے بھی ان معصیت پیشہ لوگوں کے ساتھ بیٹھنا اٹھنا اور انکے ساتھ کھانا پینا شروع کردیا ۔ اللہ نے سب کو باہم ملا دیا ۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ ان پر لعنت کی اس لئے کہ یہ لوگ سرکشی کرتے تھے اور ظلم کرتے تھے ۔ یہ بات کرتے وقت رسول ﷺ جو تکیہ سے ٹیک لگا کر لیٹے ہوئے تھے ‘ اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا :” نہیں ‘ خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم ان کو حق پر سختی سے مجبور کرو گے ۔ “

ابو داؤد نے حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کی روایت نقل کی ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” بنی اسرائیل میں جو پہلا نقص داخل ہوا وہ یہ تھا کہ ایک آدمی دوسرے سے ملتا تو کہتا : اے فلاں اللہ سے ڈرو اور جو کچھ تم کر رہے ہو ‘ اسے چھوڑ دو اس لئے کہ یہ جائز نہیں ہے ۔ پھر دوسرے دن اسے ملتا تو اس کی یہ بری بات اسے اس بات سے نہ روکتی کہ وہ اس …

Al-Maaida 5:79Listen in Qur'an →
80

تَرَىٰ كَثِيرًۭا مِّنْهُمْ يَتَوَلَّوْنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۚ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ أَنفُسُهُمْ أَن سَخِطَ ٱللَّهُ عَلَيْهِمْ وَفِى ٱلْعَذَابِ هُمْ خَٰلِدُونَ

تم ان میں سے بہتوں کو دیکھو گے کہ کافروں سے دوستی رکھتے ہیں انہوں نے جو کچھ اپنے واسطے آگے بھیجا ہے برا ہے (وہ یہ) کہ خدا ان سے ناخوش ہوا اور وہ ہمیشہ عذاب میں (مبتلا) رہیں گے

(آیت) ” تَرَی کَثِیْراً مِّنْہُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَہُمْ أَنفُسُہُمْ أَن سَخِطَ اللّہُ عَلَیْْہِمْ وَفِیْ الْعَذَابِ ہُمْ خَالِدُونَ (80) وَلَوْ کَانُوا یُؤْمِنُونَ بِاللہ والنَّبِیِّ وَمَا أُنزِلَ إِلَیْْہِ مَا اتَّخَذُوہُمْ أَوْلِیَاء وَلَـکِنَّ کَثِیْراً مِّنْہُمْ فَاسِقُونَ (81)

” آج تم ان میں بکثرت ایسے لوگ دیکھتے ہو جو کفار کی حمایت ورفاقت کرتے ہیں ۔ یقینا بہت برا انجام ہے جس کی تیاری ان کے نفسوں نے ان کیلئے کی ہے اللہ ان پر غضبناک ہوگیا ہے اور وہ دائمی عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں ۔ اگر فی الواقعہ یہ لوگ اللہ اور پیغمبر اور اس چیز کو ماننے والے ہوتے جو پیغمبر پر نازل ہوئی تھی تو کبھی کافروں کو اپنا رفیق نہ بناتے مگر ان میں سے بیشتر تو خدا کی اطاعت سے نکل چکے ہیں ۔

” تم اہل ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤ گے اور ایمان لانے والوں کے لئے دوستی میں قریب تر ان لوگوں کو پاؤ گے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاری ہیں ۔ یہ اس وجہ سے کہ ان میں عبادت گزار عالم اور تارک الدنیا فقیر پائے جاتی ہیں اور ان میں غرور نفس نہیں ہے ۔ “

یہ بات جس طرح حضور اکرم ﷺ کے دور میں یہودیوں پر منطبق ہوتی تھی اسی طرح آج کے یہودیوں پر بھی منطبق ہے اور کل بھی ہوگی ۔ ہر دور میں اہل کتاب یہودی اور عیسائی اور جو دنیا کے اطراف واکناف میں پھیلے ہوئے ہیں ‘ ایسے ہی رہیں گے ۔ اس سے ہمیں یہ نصیحت ملتی ہے کہ ہم قرآن کریم کے اسرار و رموز پر غور کریں ۔ قرآن کریم میں امت مسلمہ کے لئے عجیب ہدایات موجود ہیں اور اسلامی تحریک کو چاہئے کہ وہ ہر وقت قرآن سے ہدایات اور پالیسیاں اخذ کرے ۔

یہودی مشرکین کے ساتھ اس دور میں تعلق موالات قائم کئے ہوئے تھے ۔ ان کو مسلمانوں کے خلاف جمع کر رہے تھے اور کہتے تھے کہ کفار اور مشرکین ان مسلمانوں ان مسلمانوں سے زیادہ سیدھی راہ پر ہیں۔ جیسا کہ قرآن کریم نے اس کی صراحت کی ہے ‘ اور اس کا اظہار غزوہ احزاب میں اچھی طرح ہوگیا تھا ۔ اس غزوہ سے پہلے اور بعد میں بھی وہ اسی پالیسی پر گامزن رہے اور آج تک وہ اسی موقف پر قائم ہیں ۔ فلسطین میں اسرائیل کا قیام ہی ان جدید ملحدین اور کفار کی مساعی سے ہوا ہے ۔

رہے عیسائی تو ان کا حال یہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں کا معاملہ پیش آتا ہے تو عیسائی مشرکین کے ساتھ ہوتے ہیں ۔ بت پرستوں کے حامی و مددگار ہوتے ہیں ۔ جب بھی مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان کوئی معرکہ پیش آیا ۔ ان لوگوں کا دلی بغض اسلام کے خلاف کھل کر سامنے آگیا اور اب تک قائم ودائم ہے ۔ اگرچہ معاملہ ان لوگوں کا ہو جو نام نہاد مسلمان ہوں۔ کیا سچ کہا اللہ تعالیٰ نے (تری کثیرا منھم یتولون الذین کفروا “۔ (5 : 80) ” تم ان سے بکثرت ایسے لوگ دیکھتے ہو جو کفار کی حمایت ورفاقت کرتے ہیں ۔ “

(آیت) ” لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَہُمْ أَنفُسُہُمْ أَن سَخِطَ اللّہُ عَلَیْْہِمْ وَفِیْ الْعَذَابِ ہُمْ خَالِدُونَ (80)

” یقینا بہت برا انجام ہے جس کی تیاری ان کے نفسوں نے ان کیلئے کی ہے اللہ ان پر غضبناک ہوگیا ہے اور وہ دائمی عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں ۔

یہ وہ کمائی ہے جو انہوں نے کی ہے اور وہ اللہ کا غضب ہے جو انکے لئے جمع ہو رہا ہے اور نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ دائما جہنم میں رہیں گے اور یہ کس قدر برا انجام ہے ۔ کس قدر برا پس انداز ہے جو یہ کر رہے ہیں ۔ کس قدر تلخ پھل ہے ۔ کفار کے ساتھ تعلق موالات کا ہے یہ پھل !

کیا ہم مسلمان اللہ کی اس بات کو نہیں سن رہے ؟ کیا ہمیں باز نہیں آنا چاہئے ان اقدامات سے جو ہم مسلسل کر رہے ہیں اور اللہ نے ان کی اجازت نہیں دی ہے ۔ پھر بھی ہم مسلمان اہل کتاب دشمنوں کے ساتھ تعلق موالات کے بارے میں سوچتے ہی یا متحدہ محاذ بناتے ہیں ہیں ۔ آخر اس کا سبب کا کیا ہے ؟ سبب تو یہی ہے کہ اللہ اور رسول پر …

Al-Maaida 5:80Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.