وَحَسِبُوٓا۟ أَلَّا تَكُونَ فِتْنَةٌۭ فَعَمُوا۟ وَصَمُّوا۟ ثُمَّ تَابَ ٱللَّهُ عَلَيْهِمْ ثُمَّ عَمُوا۟ وَصَمُّوا۟ كَثِيرٌۭ مِّنْهُمْ ۚ وَٱللَّهُ بَصِيرٌۢ بِمَا يَعْمَلُونَ
اور خیال کرتے تھے کہ (اس سے ان پر) کوئی آفت نہیں آنے کی تو وہ اندھے اور بہرے ہو گئے پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی (لیکن) پھر ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہو گئے اور خدا ان کے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے
وَحَسِبُوْٓا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ“ فِتْنَةٌ کے اصل معنی آزمائش کے ہیں، مطلب یہ کہ انھوں نے سمجھا کہ ہم کیسے ہی گناہ کرلیں، خواہ انبیاء تک کو قتل کریں، چونکہ ہم اللہ کے بیٹے اور چہیتے ہیں، اس لیے دنیا میں کسی قسم کی بدبختی و نحوست یا غلبۂ دشمن قسم کی کوئی بلا ہم پر نازل نہیں ہوگی۔ (کبیر) - فَعَمُوْا وَصَمُّوْا : مگر حق سے اندھے اور بہرے ہونے کی وجہ سے ان پر بلا نازل ہوئی۔ پہلی مرتبہ اللہ تعالیٰ نے بخت نصر کو ان پر مسلط کردیا جس نے ان کی مسجد اقصیٰ کو جلا ڈالا، ان کے اموال لوٹے اور ان کی اکثریت کو لونڈی و غلام بنا کر بابل لے گیا۔ دیکھیے سورة بنی اسرائیل (٤ تا ٨) ۔ - ثُمَّ تَاب اللّٰهُ عَلَيْهِمْ : یعنی اللہ تعالیٰ نے انھیں بخت نصر کی غلامی سے نجات دی اور انھوں نے اپنی حالت سدھاری اور کچھ عرصہ کے لیے ٹھیک رہے۔ - ثُمَّ عَمُوْا وَصَمُّوْا كَثِيْرٌ مِّنْهُمْ ۔۔ : یعنی پھر دوبارہ پہلے جیسی سرکشی پر اتر آئے، یہاں تک کہ انھوں نے زکریا اور یحییٰ ( علیہ السلام) جیسے جلیل القدر انبیاء کو قتل کر ڈالا اور عیسیٰ (علیہ السلام) سے انتہائی توہین آمیز سلوک کیا، بلکہ انھیں بھی قتل کرنے کے درپے ہوئے۔ بعض نے گمراہی کے پہلے دور کو زکریا اور یحییٰ ( علیہ السلام) کے زمانے کے ساتھ خاص کیا ہے اور دوسرے دور کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ کے ساتھ اور یہاں ” كَثِيْرٌ مِّنْهُمْ “ میں اشارہ ہے کہ ان میں سے بعض حق پرست مسلمان ہوگئے تھے، جیسے عبداللہ بن سلام (رض) اور ان کے رفقاء۔ اور ہوسکتا ہے کہ : (لَتُفْسِدُنَّ فِي الْاَرْضِ مَرَّتَيْنِ ) [ بنی إسرائیل : ٤ ] (بےشک تم زمین میں ضرور دو بار فساد کرو گے) سے ان دونوں ادوار کی طرف اشارہ ہو۔ (کبیر) (وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِمَا يَعْمَلُوْنَ ) اس سے مقصود انھیں اللہ اور اس کے عذاب سے ڈرانا ہے۔