Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 71–80 of 120

71

وَحَسِبُوٓا۟ أَلَّا تَكُونَ فِتْنَةٌۭ فَعَمُوا۟ وَصَمُّوا۟ ثُمَّ تَابَ ٱللَّهُ عَلَيْهِمْ ثُمَّ عَمُوا۟ وَصَمُّوا۟ كَثِيرٌۭ مِّنْهُمْ ۚ وَٱللَّهُ بَصِيرٌۢ بِمَا يَعْمَلُونَ

اور خیال کرتے تھے کہ (اس سے ان پر) کوئی آفت نہیں آنے کی تو وہ اندھے اور بہرے ہو گئے پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی (لیکن) پھر ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہو گئے اور خدا ان کے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے

یہود سے اللہ نے حضرت موسیٰ کے ذریعہ ایمان واطاعت کا عہد لیا تھا۔وہ کچھ دن اس پر قائم رہے۔ اس کے بعد ان میں بگاڑ شروع ہوگیا۔ اب اللہ نے ان کے درمیان اپنے مصلحین اٹھائے جو ان کو اپنے عہد کی یاد دہانی کریں۔ مگر یہود کی بے راہی اور سرکشی بڑھتی ہی چلی گئی۔ انھوں نے خود نصیحت کرنے والوں کی زبان بند کرنے کی کوشش کی۔ حتی کہ کتنے لوگوں کو قتل کردیا۔ جب ان کی سرکشی حد کو پہنچ گئی تو اللہ نے بابل ونینویٰ (عراق) کے بادشاہ بنو خذ نصر کو ان کے اوپر مسلط کردیا جس نے 586 ق م میں یروشلم پر حملہ کرکے یہود کے مقدس شہر کو ڈھا دیا۔ اور یہودیوںکو گرفتار کرکے اپنے ملک لے گیا تاکہ ان سے بیگار لے۔ اس واقعہ کے بعد یہود کے دل نرم ہوئے۔ انھوںنے اللہ سے معافی مانگی۔ اب اللہ نے سائرس (شاہ ایران) کے ذریعہ ان کی مدد کی۔ سائرس نے 539 ق م میں کلدانیوں کے اوپر حملہ کیا اور ان کو شکست دے کر ان کے ملک پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد اس نے یہود کو جلاوطنی سے نجات دلا کر ان کو ان کے وطن جانے اور وہاں دوبارہ بسنے کی اجازت دے دی۔

اب یہود کو نئی زندگی ملی اور ان کو کافی فروغ حاصل ہوا۔ مگر کچھ دنوں کے بعد وہ دوبارہ غفلت اور سرکشی میںمبتلا ہوئے۔ اب پھر نبیوں اور مصلحین کے ذریعہ اللہ نے ان کو متنبہ کیا۔ مگر وہ ہوش میں نہ آئے، یہاں تک کہ انھوںنے حضرت یحییٰ کو قتل کردیا اور (اپنی حد تک) حضرت مسیح کو بھی۔ اب اللہ کا غضب ان پر بھڑکا اور 70 عیسوی میں رومی شہنشاہ ٹائٹس کو ان پر مسلط کردیاگیا۔ جس نے ان کے ملک پر حملہ کرکے ان کو ویران کردیا۔ اس کے بعد یہود کبھی اپنی ذاتی بنیادوں پر کھڑے نہ ہوسکے۔

آسمانی کتاب کی حامل قوموں کی نفسیات بعدکے زمانہ میں یہ بن جاتی ہے کہ وہ خدا کے خاص لوگ ہیں۔ وہ جو کچھ بھی کریں اس پر ان کی پکڑ نہیں ہوگی۔ خدا کی تعلیمات میں اس عقیدہ کے خلاف کھلے کھلے بیانات ہوتے ہیں۔ مگر وہ ان کے بارے میں اندھے بہرے بن جاتے ہیں۔ وہ اپنے گرد خود ساختہ عقیدوں اور فرضي قصے کہانیوں کا ایسا ہالہ بنا لیتے ہیں کہ خدا کی تنبیہات ان کو دکھائی اور سنائی نہیں دیتیں۔ یہود کی یہ تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی ایک حاملِ کتاب قوم کو اس کے ’’دشمنوں کے قبضہ‘‘ میں دے دیا جائے تو یہ اس کے لیے خدا کی طرف سے آزمائش کا وقت ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہلکی سزا دے کر قوم کو جگایا جائے۔ اگر اس کے نتیجہ میں قوم کے افراد میںخدا پرست جذبات جاگ اٹھیں تو اس کے اوپر سزا اٹھالی جاتی ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو خدا اس کو رد کرکے پھینک دیتا ہے اور پھر کبھی اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔

Al-Maaida 5:71Listen in Qur'an →
72

لَقَدْ كَفَرَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْمَسِيحُ ٱبْنُ مَرْيَمَ ۖ وَقَالَ ٱلْمَسِيحُ يَٰبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ رَبِّى وَرَبَّكُمْ ۖ إِنَّهُۥ مَن يُشْرِكْ بِٱللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ ٱللَّهُ عَلَيْهِ ٱلْجَنَّةَ وَمَأْوَىٰهُ ٱلنَّارُ ۖ وَمَا لِلظَّٰلِمِينَ مِنْ أَنصَارٍۢ

وہ لوگ بےشبہ کافر ہیں جو کہتے ہیں کہ مریم کے بیٹے (عیسیٰ) مسیح خدا ہیں حالانکہ مسیح یہود سے یہ کہا کرتے تھے کہ اے بنی اسرائیل خدا ہی کی عبادت کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی (اور جان رکھو کہ) جو شخص خدا کے ساتھ شرک کرے گا خدا اس پر بہشت حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں

حضرت مسیح کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی معجزے ديے۔ یہ معجزے اس لیے تھے کہ لوگ آپ کے پیغمبر ہونے کو پہچانیں اور آپ پر ایمان لائیں۔ مگر معاملہ برعکس ہوا۔ عیسائیوں نے آپ کے معجزات کو دیکھ کر یہ عقیدہ قائم کیا کہ آپ خدا ہیں۔ آپ کے اندر خدا حلول كيے ہوئے ہے۔ یہود نے یہ کہہ کر آپ کو نظر انداز کردیا کہ یہ ایک شعبدہ باز اور جادو گر ہیں۔ حضرت مسیح اللہ کی طرف سے لوگوں کی ہدایت کے لیے آئے تھے۔ مگر ایک گروہ نے آپ سے شرک کی غذا لی اور دوسرے گروہ نے انکار کی۔

معبود وہی ہوسکتا ہے جو خود بے احتیاج ہو اور دوسرے کو نفع نقصان پہنچانے کی قدرت رکھے۔ کھانا آدمی کے محتاج ہونے کی آخری علامت ہے۔ جو کھانے کا محتاج ہے وہ ہر چیز کا محتاج ہے۔ جو شخص کھانا کھاتا ہو وہ مکمل طورپر ایک محتاج ہستی ہے۔ ایسی ہستی خدا کس طرح ہو سکتی ہے۔ یہی معاملہ نفع نقصان کا ہے۔ کسی کو نفع ملنا یا کسی کو نقصان پہنچنا ایسے واقعات ہیں جن کے ظہور میںآنے کے لیے پوری کائنات کی مساعدت درکار ہوتی ہے۔ کوئی بھی شخص اس قسم کے کائناتی اسباب فراہم کرنے پر قادر نہیں۔ اس لیے انسانوں میں سے کسی انسان کا یہ درجہ بھی نہیں ہوسکتا کہ اس کو معبود فرض کرلیا جائے۔

جب بھی آدمی خدا کے سوا کسی اور کو اپنی عقیدت ومحبت کا مرکز بناتا ہے تو اس کے پیچھے یہ چھپا ہوا جذبہ ہوتا ہے کہ اس کو خدا کی دنیا میں کوئی بڑا درجہ حاصل ہے۔ وہ خدا کے یہاں اس کا مددگار بن سکتا ہے۔ مگر اس قسم کی تمام امیدیں محض جھوٹی امیدیں ہیں۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں خدا کے سوا دوسری چیزوں کا بے بس ہونا کھلا ہوا نہیں ہے۔ اس لیے یہاں آدمی غلط فہمی میں پڑا ہوا ہے۔ مگر آخرت میں جب تمام حقائق کھول ديے جائیں گے تو آدمی دیکھے گا کہ خدا کے سوا جن سہاروں پر وہ بھروسہ كيے ہوئے تھا وہ کس قدر بے قیمت تھے۔

Al-Maaida 5:72Listen in Qur'an →
73

لَّقَدْ كَفَرَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ ثَالِثُ ثَلَٰثَةٍۢ ۘ وَمَا مِنْ إِلَٰهٍ إِلَّآ إِلَٰهٌۭ وَٰحِدٌۭ ۚ وَإِن لَّمْ يَنتَهُوا۟ عَمَّا يَقُولُونَ لَيَمَسَّنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

وہ لوگ (بھی) کافر ہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ خدا تین میں کا تیسرا ہے حالانکہ اس معبود یکتا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اگر یہ لوگ ایسے اقوال (وعقائد) سے باز نہیں آئیں گے تو ان میں جو کافر ہوئے ہیں وہ تکلیف دینے والا عذاب پائیں گے

حضرت مسیح کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی معجزے ديے۔ یہ معجزے اس لیے تھے کہ لوگ آپ کے پیغمبر ہونے کو پہچانیں اور آپ پر ایمان لائیں۔ مگر معاملہ برعکس ہوا۔ عیسائیوں نے آپ کے معجزات کو دیکھ کر یہ عقیدہ قائم کیا کہ آپ خدا ہیں۔ آپ کے اندر خدا حلول كيے ہوئے ہے۔ یہود نے یہ کہہ کر آپ کو نظر انداز کردیا کہ یہ ایک شعبدہ باز اور جادو گر ہیں۔ حضرت مسیح اللہ کی طرف سے لوگوں کی ہدایت کے لیے آئے تھے۔ مگر ایک گروہ نے آپ سے شرک کی غذا لی اور دوسرے گروہ نے انکار کی۔

معبود وہی ہوسکتا ہے جو خود بے احتیاج ہو اور دوسرے کو نفع نقصان پہنچانے کی قدرت رکھے۔ کھانا آدمی کے محتاج ہونے کی آخری علامت ہے۔ جو کھانے کا محتاج ہے وہ ہر چیز کا محتاج ہے۔ جو شخص کھانا کھاتا ہو وہ مکمل طورپر ایک محتاج ہستی ہے۔ ایسی ہستی خدا کس طرح ہو سکتی ہے۔ یہی معاملہ نفع نقصان کا ہے۔ کسی کو نفع ملنا یا کسی کو نقصان پہنچنا ایسے واقعات ہیں جن کے ظہور میںآنے کے لیے پوری کائنات کی مساعدت درکار ہوتی ہے۔ کوئی بھی شخص اس قسم کے کائناتی اسباب فراہم کرنے پر قادر نہیں۔ اس لیے انسانوں میں سے کسی انسان کا یہ درجہ بھی نہیں ہوسکتا کہ اس کو معبود فرض کرلیا جائے۔

جب بھی آدمی خدا کے سوا کسی اور کو اپنی عقیدت ومحبت کا مرکز بناتا ہے تو اس کے پیچھے یہ چھپا ہوا جذبہ ہوتا ہے کہ اس کو خدا کی دنیا میں کوئی بڑا درجہ حاصل ہے۔ وہ خدا کے یہاں اس کا مددگار بن سکتا ہے۔ مگر اس قسم کی تمام امیدیں محض جھوٹی امیدیں ہیں۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں خدا کے سوا دوسری چیزوں کا بے بس ہونا کھلا ہوا نہیں ہے۔ اس لیے یہاں آدمی غلط فہمی میں پڑا ہوا ہے۔ مگر آخرت میں جب تمام حقائق کھول ديے جائیں گے تو آدمی دیکھے گا کہ خدا کے سوا جن سہاروں پر وہ بھروسہ كيے ہوئے تھا وہ کس قدر بے قیمت تھے۔

Al-Maaida 5:73Listen in Qur'an →
74

أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى ٱللَّهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُۥ ۚ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

تو یہ کیوں خدا کے آگے توبہ نہیں کرتے اور اس سے گناہوں کی معافی نہیں مانگتے اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے

حضرت مسیح کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی معجزے ديے۔ یہ معجزے اس لیے تھے کہ لوگ آپ کے پیغمبر ہونے کو پہچانیں اور آپ پر ایمان لائیں۔ مگر معاملہ برعکس ہوا۔ عیسائیوں نے آپ کے معجزات کو دیکھ کر یہ عقیدہ قائم کیا کہ آپ خدا ہیں۔ آپ کے اندر خدا حلول كيے ہوئے ہے۔ یہود نے یہ کہہ کر آپ کو نظر انداز کردیا کہ یہ ایک شعبدہ باز اور جادو گر ہیں۔ حضرت مسیح اللہ کی طرف سے لوگوں کی ہدایت کے لیے آئے تھے۔ مگر ایک گروہ نے آپ سے شرک کی غذا لی اور دوسرے گروہ نے انکار کی۔

معبود وہی ہوسکتا ہے جو خود بے احتیاج ہو اور دوسرے کو نفع نقصان پہنچانے کی قدرت رکھے۔ کھانا آدمی کے محتاج ہونے کی آخری علامت ہے۔ جو کھانے کا محتاج ہے وہ ہر چیز کا محتاج ہے۔ جو شخص کھانا کھاتا ہو وہ مکمل طورپر ایک محتاج ہستی ہے۔ ایسی ہستی خدا کس طرح ہو سکتی ہے۔ یہی معاملہ نفع نقصان کا ہے۔ کسی کو نفع ملنا یا کسی کو نقصان پہنچنا ایسے واقعات ہیں جن کے ظہور میںآنے کے لیے پوری کائنات کی مساعدت درکار ہوتی ہے۔ کوئی بھی شخص اس قسم کے کائناتی اسباب فراہم کرنے پر قادر نہیں۔ اس لیے انسانوں میں سے کسی انسان کا یہ درجہ بھی نہیں ہوسکتا کہ اس کو معبود فرض کرلیا جائے۔

جب بھی آدمی خدا کے سوا کسی اور کو اپنی عقیدت ومحبت کا مرکز بناتا ہے تو اس کے پیچھے یہ چھپا ہوا جذبہ ہوتا ہے کہ اس کو خدا کی دنیا میں کوئی بڑا درجہ حاصل ہے۔ وہ خدا کے یہاں اس کا مددگار بن سکتا ہے۔ مگر اس قسم کی تمام امیدیں محض جھوٹی امیدیں ہیں۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں خدا کے سوا دوسری چیزوں کا بے بس ہونا کھلا ہوا نہیں ہے۔ اس لیے یہاں آدمی غلط فہمی میں پڑا ہوا ہے۔ مگر آخرت میں جب تمام حقائق کھول ديے جائیں گے تو آدمی دیکھے گا کہ خدا کے سوا جن سہاروں پر وہ بھروسہ كيے ہوئے تھا وہ کس قدر بے قیمت تھے۔

Al-Maaida 5:74Listen in Qur'an →
75

مَّا ٱلْمَسِيحُ ٱبْنُ مَرْيَمَ إِلَّا رَسُولٌۭ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ ٱلرُّسُلُ وَأُمُّهُۥ صِدِّيقَةٌۭ ۖ كَانَا يَأْكُلَانِ ٱلطَّعَامَ ۗ ٱنظُرْ كَيْفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ ٱلْءَايَٰتِ ثُمَّ ٱنظُرْ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ

مسیح ابن مریم تو صرف (خدا) کے پیغمبر تھے ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے اور ان کی والدہ (مریم خدا کی) ولی اور سچی فرمانبردار تھیں دونوں (انسان تھے اور) کھانا کھاتے تھے دیکھو ہم ان لوگوں کے لیے اپنی آیتیں کس طرح کھول کھول کر بیان کرتے ہیں پھر (یہ) دیکھو کہ یہ کدھر الٹے جا رہے ہیں

حضرت مسیح کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی معجزے ديے۔ یہ معجزے اس لیے تھے کہ لوگ آپ کے پیغمبر ہونے کو پہچانیں اور آپ پر ایمان لائیں۔ مگر معاملہ برعکس ہوا۔ عیسائیوں نے آپ کے معجزات کو دیکھ کر یہ عقیدہ قائم کیا کہ آپ خدا ہیں۔ آپ کے اندر خدا حلول كيے ہوئے ہے۔ یہود نے یہ کہہ کر آپ کو نظر انداز کردیا کہ یہ ایک شعبدہ باز اور جادو گر ہیں۔ حضرت مسیح اللہ کی طرف سے لوگوں کی ہدایت کے لیے آئے تھے۔ مگر ایک گروہ نے آپ سے شرک کی غذا لی اور دوسرے گروہ نے انکار کی۔

معبود وہی ہوسکتا ہے جو خود بے احتیاج ہو اور دوسرے کو نفع نقصان پہنچانے کی قدرت رکھے۔ کھانا آدمی کے محتاج ہونے کی آخری علامت ہے۔ جو کھانے کا محتاج ہے وہ ہر چیز کا محتاج ہے۔ جو شخص کھانا کھاتا ہو وہ مکمل طورپر ایک محتاج ہستی ہے۔ ایسی ہستی خدا کس طرح ہو سکتی ہے۔ یہی معاملہ نفع نقصان کا ہے۔ کسی کو نفع ملنا یا کسی کو نقصان پہنچنا ایسے واقعات ہیں جن کے ظہور میںآنے کے لیے پوری کائنات کی مساعدت درکار ہوتی ہے۔ کوئی بھی شخص اس قسم کے کائناتی اسباب فراہم کرنے پر قادر نہیں۔ اس لیے انسانوں میں سے کسی انسان کا یہ درجہ بھی نہیں ہوسکتا کہ اس کو معبود فرض کرلیا جائے۔

جب بھی آدمی خدا کے سوا کسی اور کو اپنی عقیدت ومحبت کا مرکز بناتا ہے تو اس کے پیچھے یہ چھپا ہوا جذبہ ہوتا ہے کہ اس کو خدا کی دنیا میں کوئی بڑا درجہ حاصل ہے۔ وہ خدا کے یہاں اس کا مددگار بن سکتا ہے۔ مگر اس قسم کی تمام امیدیں محض جھوٹی امیدیں ہیں۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں خدا کے سوا دوسری چیزوں کا بے بس ہونا کھلا ہوا نہیں ہے۔ اس لیے یہاں آدمی غلط فہمی میں پڑا ہوا ہے۔ مگر آخرت میں جب تمام حقائق کھول ديے جائیں گے تو آدمی دیکھے گا کہ خدا کے سوا جن سہاروں پر وہ بھروسہ كيے ہوئے تھا وہ کس قدر بے قیمت تھے۔

Al-Maaida 5:75Listen in Qur'an →
76

قُلْ أَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّۭا وَلَا نَفْعًۭا ۚ وَٱللَّهُ هُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ

کہو کہ تم خدا کے سوا ایسی چیز کی کیوں پرستش کرتے ہو جس کو تمہارے نفع اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں؟ اور خدا ہی (سب کچھ) سنتا جانتا ہے

حضرت مسیح کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی معجزے ديے۔ یہ معجزے اس لیے تھے کہ لوگ آپ کے پیغمبر ہونے کو پہچانیں اور آپ پر ایمان لائیں۔ مگر معاملہ برعکس ہوا۔ عیسائیوں نے آپ کے معجزات کو دیکھ کر یہ عقیدہ قائم کیا کہ آپ خدا ہیں۔ آپ کے اندر خدا حلول كيے ہوئے ہے۔ یہود نے یہ کہہ کر آپ کو نظر انداز کردیا کہ یہ ایک شعبدہ باز اور جادو گر ہیں۔ حضرت مسیح اللہ کی طرف سے لوگوں کی ہدایت کے لیے آئے تھے۔ مگر ایک گروہ نے آپ سے شرک کی غذا لی اور دوسرے گروہ نے انکار کی۔

معبود وہی ہوسکتا ہے جو خود بے احتیاج ہو اور دوسرے کو نفع نقصان پہنچانے کی قدرت رکھے۔ کھانا آدمی کے محتاج ہونے کی آخری علامت ہے۔ جو کھانے کا محتاج ہے وہ ہر چیز کا محتاج ہے۔ جو شخص کھانا کھاتا ہو وہ مکمل طورپر ایک محتاج ہستی ہے۔ ایسی ہستی خدا کس طرح ہو سکتی ہے۔ یہی معاملہ نفع نقصان کا ہے۔ کسی کو نفع ملنا یا کسی کو نقصان پہنچنا ایسے واقعات ہیں جن کے ظہور میںآنے کے لیے پوری کائنات کی مساعدت درکار ہوتی ہے۔ کوئی بھی شخص اس قسم کے کائناتی اسباب فراہم کرنے پر قادر نہیں۔ اس لیے انسانوں میں سے کسی انسان کا یہ درجہ بھی نہیں ہوسکتا کہ اس کو معبود فرض کرلیا جائے۔

جب بھی آدمی خدا کے سوا کسی اور کو اپنی عقیدت ومحبت کا مرکز بناتا ہے تو اس کے پیچھے یہ چھپا ہوا جذبہ ہوتا ہے کہ اس کو خدا کی دنیا میں کوئی بڑا درجہ حاصل ہے۔ وہ خدا کے یہاں اس کا مددگار بن سکتا ہے۔ مگر اس قسم کی تمام امیدیں محض جھوٹی امیدیں ہیں۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں خدا کے سوا دوسری چیزوں کا بے بس ہونا کھلا ہوا نہیں ہے۔ اس لیے یہاں آدمی غلط فہمی میں پڑا ہوا ہے۔ مگر آخرت میں جب تمام حقائق کھول ديے جائیں گے تو آدمی دیکھے گا کہ خدا کے سوا جن سہاروں پر وہ بھروسہ كيے ہوئے تھا وہ کس قدر بے قیمت تھے۔

Al-Maaida 5:76Listen in Qur'an →
77

قُلْ يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ لَا تَغْلُوا۟ فِى دِينِكُمْ غَيْرَ ٱلْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعُوٓا۟ أَهْوَآءَ قَوْمٍۢ قَدْ ضَلُّوا۟ مِن قَبْلُ وَأَضَلُّوا۟ كَثِيرًۭا وَضَلُّوا۟ عَن سَوَآءِ ٱلسَّبِيلِ

کہو کہ اے اہل کتاب! اپنے دین (کی بات) میں ناحق مبالغہ نہ کرو اور ایسے لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو (خود بھی) پہلے گمراہ ہوئے اور اَور بھی اکثروں کو گمراہ کر گئے اور سیدھے رستے سے بھٹک گئے

حضرت مسیح کے ابتدائی شاگردوں کے نزدیک مسیح ’’ایک انسان تھا جو خدا کی طرف سے تھا‘‘۔وہ آپ کو انسان اور اللہ کا رسول سمجھتے تھے۔ مگر آپ کا دین جب شام کے علاقہ سے باہر نکلا تو اس کو مصر ویونان کے فلسفہ سے سابقہ پیش آیا۔ مسیحیت قبول کرکے ایسے لوگ مسیحیت میں داخل ہوئے جو وقت کے فلسفیانہ افکار سے متاثر تھے۔ اس طرح اندرونی اسباب اور بیرونی محرکات کے تحت مسیحیت میں ایک نیا دور شروع ہوا جب کہ مسیحیت کو وقت کے غالب فلسفیانہ اسلوب میں بیان کرنے کی کوشش شروع ہوئی۔

اس زمانہ کی مہذب دنیا میں مصر ویونان کے فلسفیوں کا زور تھا۔ وقت کے ذہین لوگ عام طورپر انھیں کے افکار کی روشنی میں سوچتے تھے۔ یونانی فلاسفہ نے اپنے قیاسات کے ذریعہ عالم کی ایک خیالی تصویر بنا رکھی تھی۔ وہ حقیقت کی تعبیر تین اقنوموں (Hypostases) کی صورت میں کرتے تھے — وجود، حیات اور علم۔ مسیحی علماء جو خود بھی ان افکار سے مرعوب تھے، نیز وقت کے ذہين طبقہ کو مسیحیت کی طرف مائل کرنا چاہتے تھے، انھوں نے اپنے مذہب کو وقت کے غالب فکر پر ڈھالنے کی کوشش کی۔انھوں نے مسیحیت کی ایسی تعبیر کی جس میں خدا کا دین بھی اسی ’’تین‘‘ کے جامہ میں ڈھل جائے اور لوگ اس کو اپنے ذہن کے مطابق پاکر اس کو قبول کرلیں۔ انھوں نے کہا کہ مذہبی حقیقت بھی ایک تثلیث کی صورت گری ہے۔ اقنومِ وجود باپ ہے۔ اقنومِ حیات بیٹا ہے اور اقنومِ علم روح القدس ہے۔ اس کلامی مذہب کو مکمل کرنے کے لیے اور بہت سے خیالات اس میں داخل کیے گئے۔ مثلاً یہ کہ حضرت مسیح ’’کلام‘‘ کا جسدی ظہور ہیں۔ ہبوط آدم کے بعد ہر انسان گنہ گار ہوچکا ہے۔ اور انسان کی نجات کے لیے خدا کے بیٹے کو مصلوب ہو کر اس کا کفارہ دینا پڑا، وغیرہ۔ اس طرح چوتھی صدی عیسوی میں مصری، یونانی اور رومی تخیلات میں ڈھل کر وہ چیز تیار ہوئی جس کو موجودہ مسیحیت کہاجاتاہے۔

خدا کی سواء السبیل سے بھٹکنے کی وجہ اکثر یہ ہوتی ہے کہ لوگ گم راہ قوموں کے خیالات سے مرعوب ہو کر دین کو ان کے خیالات کے سانچہ میں ڈھالنے لگتے ہیں۔ خدا کے دین کو مانتے ہوئے اس کی تعبیر اس ڈھنگ سے کرتے ہیں کہ وہ غالب افکار کے مطابق نظر آنے لگے۔ وہ خدا کے دین کے نام پر غیر خدا کے دین کو اپنا لیتے ہیں۔ نصاریٰ نے اپنے دین کو اپنے زمانہ کی مشرک قوموں کے افکار میں ڈھال لیا اور اسی کو خدا کا مقبول دین کہنے لگے۔ یہی چیز کبھی اس طرح پیش آتی ہے کہ دین کو خود اپنے قومی عزائم کے سانچہ میں ڈھال لیا جاتاہے۔ اس دوسری تحریف کی مثال یہود ہیں۔ انھوں نے خدا کے دین کی ایسی تعبیر کی کہ وہ ان کی دنیوی زندگی کی تصدیق کرنے والا بن جائے۔ مسلمانوں کے لیے کتاب الٰہی کے متن میں اس قسم کی تعبیرات داخل کرنے کا موقع نہیں ہے۔ تاہم متن کے باہر انھیں وہ سب کچھ کرنے کی آزادی ہے جو پچھلی قوموں نے کیا۔

Al-Maaida 5:77Listen in Qur'an →
78

لُعِنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنۢ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ عَلَىٰ لِسَانِ دَاوُۥدَ وَعِيسَى ٱبْنِ مَرْيَمَ ۚ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَوا۟ وَّكَانُوا۟ يَعْتَدُونَ

جو لوگ بنی اسرائیل میں کافر ہوئے ان پر داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی یہ اس لیے کہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے

ایمان آدمی کو ظلم اور برائی کے بارے میں حسّاس بنا دیتاہے۔ وہ کسی کو ظلم اور برائی کرتے دیکھتا ہے تو تڑپ اٹھتا ہے اور چاہتا ہے کہ فوراً اسے روک دے۔ برے لوگوں سے اس کا تعلق جدائی کا ہوتا ہے، نہ کہ دوستی کا۔ مگر جب ایمانی جذبہ کمزور پڑجائے تو آدمی صرف اپنی ذات کے بارے میں حساس ہو کر رہ جاتاہے۔ اب اس کو صرف وہ بر ائی برائی معلوم ہوتی ہے جس کی زد اس کے اپنے اوپر پڑے۔ جس برائی کا رخ دوسروں کی طرف ہو اس کے بارے میں وہ غیر جانب دار ہوجاتا ہے۔

بنی اسرائیل جو اس زوال کا شکار ہوئے اس کا مطلب یہ نہ تھا کہ انھوں نے اپنی زبان سے اچھی بات بولنا چھوڑ دیا تھا۔ ان کے خواص اب بھی خوبصورت تقریریں کرتے تھے مگر اس معاملہ میں وہ اتنے سنجیدہ نہ تھے کہ جب کسی کو ظلم اور برائی کرتے دیکھیں تو وہاں کود پڑیں اور اس کو روکنے کی کوشش کریں۔ حضرت داؤد اپنے زمانے کے یہود کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان میں كوئي نیکو کار نہیں، ایک بھی نہیں (زبور، 14:3 ) ۔ مگر اسی کے ساتھ آپ کے کلام سے اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہود اپنے ہمسایوں سے صلح کی باتیں کرتے تھے جب کہ ان کے دلوں میں بدی ہوتی تھی (زبور، 28:3 )وہ خدا کے آئین کو بیان کرتے اور خدا کے عہد کو زبان پر لاتے جب كه وه خدا كي باتوں كو پيٹھ پيچھے پھينك ديتے هيں(زبور 50:16-17 )حضرت مسیح اپنے زمانہ کے یہودیوں کے بارے میں فرماتے ہیں اے ریاکار فقیہو تم پر افسوس، تم بیواؤں کے گھروں کو دبا بیٹھے ہو اور دکھاوے کے لیے نماز کو طول دیتے ہو۔ تم پودینہ اور سونف اور زیرہ پر تودسواں حصه دیتے ہو پر تم نے شریعت کی زیادہ بھاری باتوں یعنی انصاف، رحم اور ایمان کو چھوڑ دیا ہے۔ اے اندھے راہ بتانے والو، مچھر کو چھانتے ہو اور اونٹ نگل جاتے ہو۔ اے ریا کار فقیہو تم ظاہر میں تو لوگوں کو راست باز دکھائی دیتے ہو مگر باطن میں ریاکاری اور بے دینی سے بھرے ہوئے ہو (متّی 23:23-26 )۔

یہود خدا کا آئین بیان کرتے تھے۔ وہ لمبی نمازیں پڑھتے اور فصلوں میں دسواں حصہ نکالتے۔ مگر ان کی باتیں صرف کہنے کے لیے ہوتی تھیں۔ وہ بے ضرر احکام پر نمائشی اہتمام کے ساتھ عمل کرتے تھے مگر جب صاحب معاملہ سےانصاف كرنے كا سوال هوتا، جب ايك كم زور پر رحم كا تقاضا هوتا، جب اپنے نفس كو كچل كر الله كے حكم كو ماننے كي ضرورت ہوتی تو وہ پھسل جاتے۔ حتی کہ اگر کوئی خدا کا بندہ ان کی غلطیوں کو بتاتا تو وہ اس کے دشمن ہوجاتے۔ یہی چیز هے جس نے ان کو لعنت اور غضب کا مستحق بنادیا۔

Al-Maaida 5:78Listen in Qur'an →
79

كَانُوا۟ لَا يَتَنَاهَوْنَ عَن مُّنكَرٍۢ فَعَلُوهُ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُوا۟ يَفْعَلُونَ

(اور) برے کاموں سے جو وہ کرتے تھے ایک دوسرے کو روکتے نہیں تھے بلاشبہ وہ برا کرتے تھے

ایمان آدمی کو ظلم اور برائی کے بارے میں حسّاس بنا دیتاہے۔ وہ کسی کو ظلم اور برائی کرتے دیکھتا ہے تو تڑپ اٹھتا ہے اور چاہتا ہے کہ فوراً اسے روک دے۔ برے لوگوں سے اس کا تعلق جدائی کا ہوتا ہے، نہ کہ دوستی کا۔ مگر جب ایمانی جذبہ کمزور پڑجائے تو آدمی صرف اپنی ذات کے بارے میں حساس ہو کر رہ جاتاہے۔ اب اس کو صرف وہ بر ائی برائی معلوم ہوتی ہے جس کی زد اس کے اپنے اوپر پڑے۔ جس برائی کا رخ دوسروں کی طرف ہو اس کے بارے میں وہ غیر جانب دار ہوجاتا ہے۔

بنی اسرائیل جو اس زوال کا شکار ہوئے اس کا مطلب یہ نہ تھا کہ انھوں نے اپنی زبان سے اچھی بات بولنا چھوڑ دیا تھا۔ ان کے خواص اب بھی خوبصورت تقریریں کرتے تھے مگر اس معاملہ میں وہ اتنے سنجیدہ نہ تھے کہ جب کسی کو ظلم اور برائی کرتے دیکھیں تو وہاں کود پڑیں اور اس کو روکنے کی کوشش کریں۔ حضرت داؤد اپنے زمانے کے یہود کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان میں كوئي نیکو کار نہیں، ایک بھی نہیں (زبور، 14:3 ) ۔ مگر اسی کے ساتھ آپ کے کلام سے اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہود اپنے ہمسایوں سے صلح کی باتیں کرتے تھے جب کہ ان کے دلوں میں بدی ہوتی تھی (زبور، 28:3 )وہ خدا کے آئین کو بیان کرتے اور خدا کے عہد کو زبان پر لاتے جب كه وه خدا كي باتوں كو پيٹھ پيچھے پھينك ديتے هيں(زبور 50:16-17 )حضرت مسیح اپنے زمانہ کے یہودیوں کے بارے میں فرماتے ہیں اے ریاکار فقیہو تم پر افسوس، تم بیواؤں کے گھروں کو دبا بیٹھے ہو اور دکھاوے کے لیے نماز کو طول دیتے ہو۔ تم پودینہ اور سونف اور زیرہ پر تودسواں حصه دیتے ہو پر تم نے شریعت کی زیادہ بھاری باتوں یعنی انصاف، رحم اور ایمان کو چھوڑ دیا ہے۔ اے اندھے راہ بتانے والو، مچھر کو چھانتے ہو اور اونٹ نگل جاتے ہو۔ اے ریا کار فقیہو تم ظاہر میں تو لوگوں کو راست باز دکھائی دیتے ہو مگر باطن میں ریاکاری اور بے دینی سے بھرے ہوئے ہو (متّی 23:23-26 )۔

یہود خدا کا آئین بیان کرتے تھے۔ وہ لمبی نمازیں پڑھتے اور فصلوں میں دسواں حصہ نکالتے۔ مگر ان کی باتیں صرف کہنے کے لیے ہوتی تھیں۔ وہ بے ضرر احکام پر نمائشی اہتمام کے ساتھ عمل کرتے تھے مگر جب صاحب معاملہ سےانصاف كرنے كا سوال هوتا، جب ايك كم زور پر رحم كا تقاضا هوتا، جب اپنے نفس كو كچل كر الله كے حكم كو ماننے كي ضرورت ہوتی تو وہ پھسل جاتے۔ حتی کہ اگر کوئی خدا کا بندہ ان کی غلطیوں کو بتاتا تو وہ اس کے دشمن ہوجاتے۔ یہی چیز هے جس نے ان کو لعنت اور غضب کا مستحق بنادیا۔

Al-Maaida 5:79Listen in Qur'an →
80

تَرَىٰ كَثِيرًۭا مِّنْهُمْ يَتَوَلَّوْنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۚ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ أَنفُسُهُمْ أَن سَخِطَ ٱللَّهُ عَلَيْهِمْ وَفِى ٱلْعَذَابِ هُمْ خَٰلِدُونَ

تم ان میں سے بہتوں کو دیکھو گے کہ کافروں سے دوستی رکھتے ہیں انہوں نے جو کچھ اپنے واسطے آگے بھیجا ہے برا ہے (وہ یہ) کہ خدا ان سے ناخوش ہوا اور وہ ہمیشہ عذاب میں (مبتلا) رہیں گے

ایمان آدمی کو ظلم اور برائی کے بارے میں حسّاس بنا دیتاہے۔ وہ کسی کو ظلم اور برائی کرتے دیکھتا ہے تو تڑپ اٹھتا ہے اور چاہتا ہے کہ فوراً اسے روک دے۔ برے لوگوں سے اس کا تعلق جدائی کا ہوتا ہے، نہ کہ دوستی کا۔ مگر جب ایمانی جذبہ کمزور پڑجائے تو آدمی صرف اپنی ذات کے بارے میں حساس ہو کر رہ جاتاہے۔ اب اس کو صرف وہ بر ائی برائی معلوم ہوتی ہے جس کی زد اس کے اپنے اوپر پڑے۔ جس برائی کا رخ دوسروں کی طرف ہو اس کے بارے میں وہ غیر جانب دار ہوجاتا ہے۔

بنی اسرائیل جو اس زوال کا شکار ہوئے اس کا مطلب یہ نہ تھا کہ انھوں نے اپنی زبان سے اچھی بات بولنا چھوڑ دیا تھا۔ ان کے خواص اب بھی خوبصورت تقریریں کرتے تھے مگر اس معاملہ میں وہ اتنے سنجیدہ نہ تھے کہ جب کسی کو ظلم اور برائی کرتے دیکھیں تو وہاں کود پڑیں اور اس کو روکنے کی کوشش کریں۔ حضرت داؤد اپنے زمانے کے یہود کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان میں كوئي نیکو کار نہیں، ایک بھی نہیں (زبور، 14:3 ) ۔ مگر اسی کے ساتھ آپ کے کلام سے اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہود اپنے ہمسایوں سے صلح کی باتیں کرتے تھے جب کہ ان کے دلوں میں بدی ہوتی تھی (زبور، 28:3 )وہ خدا کے آئین کو بیان کرتے اور خدا کے عہد کو زبان پر لاتے جب كه وه خدا كي باتوں كو پيٹھ پيچھے پھينك ديتے هيں(زبور 50:16-17 )حضرت مسیح اپنے زمانہ کے یہودیوں کے بارے میں فرماتے ہیں اے ریاکار فقیہو تم پر افسوس، تم بیواؤں کے گھروں کو دبا بیٹھے ہو اور دکھاوے کے لیے نماز کو طول دیتے ہو۔ تم پودینہ اور سونف اور زیرہ پر تودسواں حصه دیتے ہو پر تم نے شریعت کی زیادہ بھاری باتوں یعنی انصاف، رحم اور ایمان کو چھوڑ دیا ہے۔ اے اندھے راہ بتانے والو، مچھر کو چھانتے ہو اور اونٹ نگل جاتے ہو۔ اے ریا کار فقیہو تم ظاہر میں تو لوگوں کو راست باز دکھائی دیتے ہو مگر باطن میں ریاکاری اور بے دینی سے بھرے ہوئے ہو (متّی 23:23-26 )۔

یہود خدا کا آئین بیان کرتے تھے۔ وہ لمبی نمازیں پڑھتے اور فصلوں میں دسواں حصہ نکالتے۔ مگر ان کی باتیں صرف کہنے کے لیے ہوتی تھیں۔ وہ بے ضرر احکام پر نمائشی اہتمام کے ساتھ عمل کرتے تھے مگر جب صاحب معاملہ سےانصاف كرنے كا سوال هوتا، جب ايك كم زور پر رحم كا تقاضا هوتا، جب اپنے نفس كو كچل كر الله كے حكم كو ماننے كي ضرورت ہوتی تو وہ پھسل جاتے۔ حتی کہ اگر کوئی خدا کا بندہ ان کی غلطیوں کو بتاتا تو وہ اس کے دشمن ہوجاتے۔ یہی چیز هے جس نے ان کو لعنت اور غضب کا مستحق بنادیا۔

Al-Maaida 5:80Listen in Qur'an →

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.