Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 61–70 of 120

61

وَإِذَا جَآءُوكُمْ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا وَقَد دَّخَلُوا۟ بِٱلْكُفْرِ وَهُمْ قَدْ خَرَجُوا۟ بِهِۦ ۚ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا۟ يَكْتُمُونَ

اور جب یہ لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے حالانکہ کفر لے کر آتے ہیں اور اسی کو لیکر جاتے ہیں اور جن باتوں کو یہ مخفی رکھتے ہیں خدا ان کو خوب جانتا ہے

مدینہ کے یہودیوں میں کچھ لوگ تھے جو اسلام سے ذہنی طور پر مرعوب تھے۔ نیز اسلام کا بڑھتا ہوا غلبہ دیکھ کر کھلم کھلا اس کا حریف بننا بھی نہیں چاہتے تھے۔ یہ لوگ اگر چہ اندر سے اپنے آبائی دین پر جمے ہوئے تھے مگر الفاظ بول کر ظاہر کرتے تھے کہ وہ بھی مومن ہیں۔ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ اصل معاملہ کسی انسان سے نہیں بلکہ خدا سے ہے۔ اور خدا وہ ہے جو دلوں تک کا حال جانتا ہے۔ وہ کسی سے جو معاملہ کرے گا حقیقت کے اعتبار سے کرے گا، نہ کہ ان الفاظ کی بنا پر جو اس نے مصلحت کے طورپر اپنے منھ سے نکالا تھا۔

یہود کے خواص میں دو قسم کے لوگ تھے۔ ایک ربّی جن کو مشائخ کہاجاسکتا ہے۔ دوسرے احبار جو اُن کے علماء اور فقہا کی مانند تھے۔ دونوں قسم کے لوگ اگر چہ دین ہی کو اپنا صبح وشام کا مشغلہ بنائے ہوئے تھے۔ دین کے نام پر ان کی قیادت قائم تھی۔ اور دین ہی کے نام پر ان کو بڑی بڑی رقمیں ملتی تھی۔ مگر ان کی قیادت ومقبولیت کا راز عوام پسند دین کی نمائندگی تھی، نہ کہ خدا پسند دین کی نمائندگی۔ ان کا بولنا اور ان کاچلنا بظاہر دین کے لیے تھا۔ مگر حقیقۃً وہ ایک قسم کی دنیاداری تھی جو دین کے نام پر جاری تھی۔ وہ دین کے نام پر لوگوں کو وہی چیز دے رہے تھے جس کو وہ دین کے بغیر اپنے لیے پسند كيے ہوئے تھے۔

خدا کا پسندیدہ دین تقویٰ کا دین ہے۔ یعنی یہ کہ آدمی لوگوں کے درمیان اس طرح رہے کہ اس کی زبان گناہ کے کلمات نہ بولے، وہ اپنی سرگرمیوں میں حرام طریقوں سے پوری طرح بچتا ہو۔ جن لوگوں سے اس کا معاملہ پیش آئے ان کے ساتھ وہ انصاف کرنے والا ہو، نہ کہ ظلم کرنے والا۔ مگر آدمی کا نفس ہمیشہ اس کو دنیا پرستی کے راستہ پر ڈال دیتاہے۔ وہ ایسی زندگی گزارنا چاہتا ہے جس میں اس کو صحیح اور غلط نہ دیکھنا ہو بلکہ صرف اپنے فائدوں اور مصلحتوں کو دیکھنا ہو۔ یہود کے عوام اسی حالت پر تھے۔ اب ان کے خواص کا کام یہ تھا کہ وہ ان کو اس سے روکتے۔ مگر انھوںنے عوام سے ایک خاموش مفاہمت کرلی۔وہ عوام کے درمیان ایسا دین تقسیم کرنے لگے جس میں اپنی حقیقی زندگی کو بدلے بغیر نجات کی ضمانت ہو اور بڑے بڑے درجات طے ہوتے ہوں۔ یہ خواص اپنے عوام کی حقیقی زندگیوں کو نہ چھیڑتے البتہ ان کو ملت یہود کی فضیلت کے جھوٹے قصے سناتے۔ ان کے قومی ہنگاموں کو دین کے رنگ میں بیان کرتے۔ رسمی قسم کے اعمال دہرا دینے پر یہ بشارت دیتے کہ ان کے ذریعہ سے ان کے لیے جنت کے محل تعمیر ہورہے ہیں۔ اللہ کے نزدیک یہ بہت برا کام ہے کہ لوگوں کے درمیان ایسا دین تقسیم کیا جائے جس میں حقیقی عملی زندگی کو بدلنا نہ ہو، البتہ کچھ نمائشی چیزوں کا اہتمام کرکے جنت کی ضمانت مل جائے۔

Al-Maaida 5:61Listen in Qur'an →
62

وَتَرَىٰ كَثِيرًۭا مِّنْهُمْ يُسَٰرِعُونَ فِى ٱلْإِثْمِ وَٱلْعُدْوَٰنِ وَأَكْلِهِمُ ٱلسُّحْتَ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

اور تم دیکھو گے کہ ان میں اکثر گناہ اور زیادتی اور حرام کھانے میں جلدی کر رہے ہیں بےشک یہ جو کچھ کرتے ہیں برا کرتے ہیں

مدینہ کے یہودیوں میں کچھ لوگ تھے جو اسلام سے ذہنی طور پر مرعوب تھے۔ نیز اسلام کا بڑھتا ہوا غلبہ دیکھ کر کھلم کھلا اس کا حریف بننا بھی نہیں چاہتے تھے۔ یہ لوگ اگر چہ اندر سے اپنے آبائی دین پر جمے ہوئے تھے مگر الفاظ بول کر ظاہر کرتے تھے کہ وہ بھی مومن ہیں۔ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ اصل معاملہ کسی انسان سے نہیں بلکہ خدا سے ہے۔ اور خدا وہ ہے جو دلوں تک کا حال جانتا ہے۔ وہ کسی سے جو معاملہ کرے گا حقیقت کے اعتبار سے کرے گا، نہ کہ ان الفاظ کی بنا پر جو اس نے مصلحت کے طورپر اپنے منھ سے نکالا تھا۔

یہود کے خواص میں دو قسم کے لوگ تھے۔ ایک ربّی جن کو مشائخ کہاجاسکتا ہے۔ دوسرے احبار جو اُن کے علماء اور فقہا کی مانند تھے۔ دونوں قسم کے لوگ اگر چہ دین ہی کو اپنا صبح وشام کا مشغلہ بنائے ہوئے تھے۔ دین کے نام پر ان کی قیادت قائم تھی۔ اور دین ہی کے نام پر ان کو بڑی بڑی رقمیں ملتی تھی۔ مگر ان کی قیادت ومقبولیت کا راز عوام پسند دین کی نمائندگی تھی، نہ کہ خدا پسند دین کی نمائندگی۔ ان کا بولنا اور ان کاچلنا بظاہر دین کے لیے تھا۔ مگر حقیقۃً وہ ایک قسم کی دنیاداری تھی جو دین کے نام پر جاری تھی۔ وہ دین کے نام پر لوگوں کو وہی چیز دے رہے تھے جس کو وہ دین کے بغیر اپنے لیے پسند كيے ہوئے تھے۔

خدا کا پسندیدہ دین تقویٰ کا دین ہے۔ یعنی یہ کہ آدمی لوگوں کے درمیان اس طرح رہے کہ اس کی زبان گناہ کے کلمات نہ بولے، وہ اپنی سرگرمیوں میں حرام طریقوں سے پوری طرح بچتا ہو۔ جن لوگوں سے اس کا معاملہ پیش آئے ان کے ساتھ وہ انصاف کرنے والا ہو، نہ کہ ظلم کرنے والا۔ مگر آدمی کا نفس ہمیشہ اس کو دنیا پرستی کے راستہ پر ڈال دیتاہے۔ وہ ایسی زندگی گزارنا چاہتا ہے جس میں اس کو صحیح اور غلط نہ دیکھنا ہو بلکہ صرف اپنے فائدوں اور مصلحتوں کو دیکھنا ہو۔ یہود کے عوام اسی حالت پر تھے۔ اب ان کے خواص کا کام یہ تھا کہ وہ ان کو اس سے روکتے۔ مگر انھوںنے عوام سے ایک خاموش مفاہمت کرلی۔وہ عوام کے درمیان ایسا دین تقسیم کرنے لگے جس میں اپنی حقیقی زندگی کو بدلے بغیر نجات کی ضمانت ہو اور بڑے بڑے درجات طے ہوتے ہوں۔ یہ خواص اپنے عوام کی حقیقی زندگیوں کو نہ چھیڑتے البتہ ان کو ملت یہود کی فضیلت کے جھوٹے قصے سناتے۔ ان کے قومی ہنگاموں کو دین کے رنگ میں بیان کرتے۔ رسمی قسم کے اعمال دہرا دینے پر یہ بشارت دیتے کہ ان کے ذریعہ سے ان کے لیے جنت کے محل تعمیر ہورہے ہیں۔ اللہ کے نزدیک یہ بہت برا کام ہے کہ لوگوں کے درمیان ایسا دین تقسیم کیا جائے جس میں حقیقی عملی زندگی کو بدلنا نہ ہو، البتہ کچھ نمائشی چیزوں کا اہتمام کرکے جنت کی ضمانت مل جائے۔

Al-Maaida 5:62Listen in Qur'an →
63

لَوْلَا يَنْهَىٰهُمُ ٱلرَّبَّٰنِيُّونَ وَٱلْأَحْبَارُ عَن قَوْلِهِمُ ٱلْإِثْمَ وَأَكْلِهِمُ ٱلسُّحْتَ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُوا۟ يَصْنَعُونَ

بھلا ان کے مشائخ اور علماء انہیں گناہ کی باتوں اور حرام کھانے سے منع کیوں نہیں کرتے؟ بلاشبہ وہ بھی برا کرتے ہیں

مدینہ کے یہودیوں میں کچھ لوگ تھے جو اسلام سے ذہنی طور پر مرعوب تھے۔ نیز اسلام کا بڑھتا ہوا غلبہ دیکھ کر کھلم کھلا اس کا حریف بننا بھی نہیں چاہتے تھے۔ یہ لوگ اگر چہ اندر سے اپنے آبائی دین پر جمے ہوئے تھے مگر الفاظ بول کر ظاہر کرتے تھے کہ وہ بھی مومن ہیں۔ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ اصل معاملہ کسی انسان سے نہیں بلکہ خدا سے ہے۔ اور خدا وہ ہے جو دلوں تک کا حال جانتا ہے۔ وہ کسی سے جو معاملہ کرے گا حقیقت کے اعتبار سے کرے گا، نہ کہ ان الفاظ کی بنا پر جو اس نے مصلحت کے طورپر اپنے منھ سے نکالا تھا۔

یہود کے خواص میں دو قسم کے لوگ تھے۔ ایک ربّی جن کو مشائخ کہاجاسکتا ہے۔ دوسرے احبار جو اُن کے علماء اور فقہا کی مانند تھے۔ دونوں قسم کے لوگ اگر چہ دین ہی کو اپنا صبح وشام کا مشغلہ بنائے ہوئے تھے۔ دین کے نام پر ان کی قیادت قائم تھی۔ اور دین ہی کے نام پر ان کو بڑی بڑی رقمیں ملتی تھی۔ مگر ان کی قیادت ومقبولیت کا راز عوام پسند دین کی نمائندگی تھی، نہ کہ خدا پسند دین کی نمائندگی۔ ان کا بولنا اور ان کاچلنا بظاہر دین کے لیے تھا۔ مگر حقیقۃً وہ ایک قسم کی دنیاداری تھی جو دین کے نام پر جاری تھی۔ وہ دین کے نام پر لوگوں کو وہی چیز دے رہے تھے جس کو وہ دین کے بغیر اپنے لیے پسند كيے ہوئے تھے۔

خدا کا پسندیدہ دین تقویٰ کا دین ہے۔ یعنی یہ کہ آدمی لوگوں کے درمیان اس طرح رہے کہ اس کی زبان گناہ کے کلمات نہ بولے، وہ اپنی سرگرمیوں میں حرام طریقوں سے پوری طرح بچتا ہو۔ جن لوگوں سے اس کا معاملہ پیش آئے ان کے ساتھ وہ انصاف کرنے والا ہو، نہ کہ ظلم کرنے والا۔ مگر آدمی کا نفس ہمیشہ اس کو دنیا پرستی کے راستہ پر ڈال دیتاہے۔ وہ ایسی زندگی گزارنا چاہتا ہے جس میں اس کو صحیح اور غلط نہ دیکھنا ہو بلکہ صرف اپنے فائدوں اور مصلحتوں کو دیکھنا ہو۔ یہود کے عوام اسی حالت پر تھے۔ اب ان کے خواص کا کام یہ تھا کہ وہ ان کو اس سے روکتے۔ مگر انھوںنے عوام سے ایک خاموش مفاہمت کرلی۔وہ عوام کے درمیان ایسا دین تقسیم کرنے لگے جس میں اپنی حقیقی زندگی کو بدلے بغیر نجات کی ضمانت ہو اور بڑے بڑے درجات طے ہوتے ہوں۔ یہ خواص اپنے عوام کی حقیقی زندگیوں کو نہ چھیڑتے البتہ ان کو ملت یہود کی فضیلت کے جھوٹے قصے سناتے۔ ان کے قومی ہنگاموں کو دین کے رنگ میں بیان کرتے۔ رسمی قسم کے اعمال دہرا دینے پر یہ بشارت دیتے کہ ان کے ذریعہ سے ان کے لیے جنت کے محل تعمیر ہورہے ہیں۔ اللہ کے نزدیک یہ بہت برا کام ہے کہ لوگوں کے درمیان ایسا دین تقسیم کیا جائے جس میں حقیقی عملی زندگی کو بدلنا نہ ہو، البتہ کچھ نمائشی چیزوں کا اہتمام کرکے جنت کی ضمانت مل جائے۔

Al-Maaida 5:63Listen in Qur'an →
64

وَقَالَتِ ٱلْيَهُودُ يَدُ ٱللَّهِ مَغْلُولَةٌ ۚ غُلَّتْ أَيْدِيهِمْ وَلُعِنُوا۟ بِمَا قَالُوا۟ ۘ بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ يُنفِقُ كَيْفَ يَشَآءُ ۚ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًۭا مِّنْهُم مَّآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ طُغْيَٰنًۭا وَكُفْرًۭا ۚ وَأَلْقَيْنَا بَيْنَهُمُ ٱلْعَدَٰوَةَ وَٱلْبَغْضَآءَ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ ۚ كُلَّمَآ أَوْقَدُوا۟ نَارًۭا لِّلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا ٱللَّهُ ۚ وَيَسْعَوْنَ فِى ٱلْأَرْضِ فَسَادًۭا ۚ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ ٱلْمُفْسِدِينَ

اور یہود کہتے ہیں کہ خدا کا ہاتھ (گردن سے) بندھا ہوا ہے (یعنی الله بخیل ہے) انہیں کے ہاتھ باندھے جائیں اور ایسا کہنے کے سبب ان پر لعنت ہو (اس کا ہاتھ بندھا ہوا نہیں) بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں وہ جس طرح (اور جتنا) چاہتا ہے خرچ کرتا ہے اور (اے محمد) یہ (کتاب) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوئی اس سے ان میں سے اکثر کی شرارت اور انکار اور بڑھے گا اور ہم نے ان کے باہم عداوت اور بغض قیامت تک کے لیے ڈال دیا ہے یہ جب لڑائی کے لیے آگ جلاتے ہیں خدا اس کو بجھا دیتا ہے اور یہ ملک میں فساد کے لیے دوڑے پھرتے ہیں اور خدا فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا

قرآن میں جب اللہ کی راہ میں خرچ کرنے پر زور دیاگیا اور کہاگیا کہ اللہ کو قرض حسن دو تو یہود نے اس کومذاق کا موضوع بنالیا۔ وہ کہتے کہ اللہ فقیر ہے اور اس کے بندے امیر ہیں۔ اللہ کے ہاتھ آج کل تنگ ہورہے ہیں۔ ان کی اس قسم کی باتوں کا رخ خدا کی طرف نہیں بلکہ رسول اور قرآن کی طرف ہوتا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ خدا اس سے برتر ہے کہ اس کے یہاں کسی چیز کی کمی ہو۔ اس طرح کی باتیں وہ دراصل یہ ظاہر کرنے کے لیے کہتے تھے کہ يه رسول سچا رسول نہیں۔ اور قرآن خدا کی کتاب نہیں۔ اگر یہ قرآن خدا کی طرف سے ہوتا تو (نعوذ باللہ) ایسی مضحکہ خیز باتیں اس میں نہ ہوتیں۔ مگر جو لوگ اس قسم کی باتیں کریں وہ صرف یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ حقیقی دینی جذبہ سے خالی ہیں، وہ بے حسی کی سطح پر جی رہے ہیں۔

موجودہ امتحانی دنیا میں انسان کو عمل کی آزادی ہے۔ یہاں ایک شخص یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ’’قرآن خدا کی کتاب ہے‘‘۔ اور اگر کوئی شخص یہ کہنا چاہے کہ ’’قرآن ایک بناوٹی کتاب ہے‘‘ تو اس کو بھی اپنی بات کہنے کے لیے الفاظ مل جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں آدمی ایک واقعہ سے ہدایت پکڑ سکتا ہے اور اسی واقعہ سے دوسرا آدمی سرکشی کی غذا بھي لے سکتا ہے۔

یہود نے جب قرآن کی ہدایت کو ماننے سے انکار کیا تو وہ سادہ معنوں میں محض انکار نہ تھا بلکہ اس کے پیچھے ان کا یہ زعم شامل تھا کہ ہم تو نجات یافتہ لوگ ہیں، ہمیں کسی او ر ہدایت کو ماننے کی کیا ضرورت۔ جو لوگ اس قسم کی پُرفخر نفسیات میں مبتلا ہوں ان کے اندر شدید ترین قسم کی اَنانیت جنم لیتی ہے۔ روز مرہ کی زندگی میں جب ان کا معاملہ دوسروں سے پڑتا ہے تو وہاں بھی وہ اپنی ’’میں‘‘ کو چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پورا معاشرہ آپس کے اختلاف اور عناد کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے۔

پیغمبر کی دعوت یہ ہوتی ہے کہ انسان بھی اسی اطاعت خداوندی کے دین کو اپنا لے جس کو کائنات کی تمام چیزیں اپنائے ہوئے ہیں۔ یہی زمین کی اصلاح ہے۔ اب جو لوگ پیغمبرانہ دعوت کی راہ میں رکاوٹ ڈالیں وہ خدا کی زمین میں فساد پیدا کرنے کا کام کررہے ہیں۔ تاہم انسان کو بس اتنی ہی آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنے اندر کے فساد کو باہر لائے، دوسروں کی قسمت کا مالک بننے کی آزادی کسی کو نہیں۔

Al-Maaida 5:64Listen in Qur'an →
65

وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ ءَامَنُوا۟ وَٱتَّقَوْا۟ لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّـَٔاتِهِمْ وَلَأَدْخَلْنَٰهُمْ جَنَّٰتِ ٱلنَّعِيمِ

اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور پرہیز گاری کرتے تو ہم ان سے ان کے گناہ محو کر دیتے اور ان کو نعمت کے باغوں میں داخل کرتے

تمام گمراہیوں کا اصل سبب آدمی کا ڈھیٹ ہوجانا ہے۔ اگر آدمی اللہ سے ڈرے تو اس کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگ سکتی کہ کون سی بات خدا کی طرف سے آئی ہوئی بات ہے۔ ڈر کی نفسیات اس کے اندر سے دوسرے تمام محرکات کو حذف کردے گی اور آدمی خدا کی بات کو فوراً پہچان کر اس کو مان لے گا۔ جب آدمی اس حد تک اپنے آپ کو خدا کی طرف متوجہ کردے تو اس کے بعد وہ بھی خدا کی توجہ کا مستحق ہوجاتا ہے۔ خدا اس کی بشری کمزوریوں کو اس سے دھودیتا ہے اور مرنے کے بعد اس کو جنت کے نعمت بھرے باغوں میں جگہ دیتا ہے۔ آدمی کی برائیاں، بالفاظ دیگر اس کی نفسیاتی کمزوریاں، وہ چیزيں ہیں جو اس کو جنت کے راستہ پر بڑھنے نہیں دیتیں۔ خدا کی توفیق سے جو شخص اپنی نفسیاتی کمزوریوں پر قابو پالیتاہے وہی جنت کی منزل تک پہنچتا ہے۔

جب بھی حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ لوگ اس سے متوحش ہوجاتے ہیں جو سابقه نظام كے تحت سرداري كا مقام حاصل كيے هوئے هوں۔ان کو اندیشہ ہوتا ہے کہ اس کو قبول کرتے ہی ان کے معاشی مفادات اور ان کی قائدانہ عظمتیں ختم ہوجائیں گی۔ مگر یہ صرف تنگ نظری ہے۔ ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ جس چیز کو وہ توحش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں وہ صرف ان کی اہلیت کو جانچنے کے لیے ظاہر ہوئی ہے۔ آئندہ وہ خدا کے انعامات کے مستحق ہوں یا نہ ہوں اس کا فیصلہ ان کی اپنی تحفظاتی تدبیروں پر نہیں ہوگا بلکہ اس پر ہوگا کہ دعوت حق کے ساتھ وہ کیا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ گویا دعوت حق کے انکار کے ذریعہ وہ اپنی جس بڑائی کو بچانا چاہتے ہیں وہی انکار وہ چیز ہے جو خدا کے نزدیک ان کے استحقاق کو ختم کررہا ہے۔

آسمانی کتاب کی حامل قوموں میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ اصل خدائی تعلیمات میں افراط یا تفریط (بڑھا کر یا گھٹا کر)کرکے وہ ایک خود ساختہ دین بنا لیتے ہیں اور لمبی مدت گزرنے کے بعد اس کے افراد اس سے اس قدر مانوس ہو جاتے ہیں کہ اسی کو اصل خدائی مذہب سمجھنے لگتے ہیں۔ ایسی حالت میں جب خدا کا سیدھا اور سچا دین ان کے سامنے آتاہے تو وہ اس کو اپنے لیے غیر مانوس پاکر متوحش ہوتے ہیں۔ یہود ونصاریٰ کا یہی حال تھا۔ چنانچہ ان کی بہت بڑی اکثریت اسلام کی صداقت کو پانے سے قاصر رہی۔ صرف چند لوگ (مثلاً نجاشی شاہ حبش، عبد اللہ بن سلام، وغیرہ) جو اعتدال کی راہ پر باقی تھے، انھیں اسلام کی صداقت کو سمجھنے میں دیر نہیںلگی۔ انھوں نے بڑھ کر اسلام کو اس طرح اپنا لیا جیسے وہ پہلے سے اسی راستہ پر چل رہے ہوں اور اپنے سفر کے تسلسل کو جاری رکھنے کے لیے مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہوگئے ہوں۔

Al-Maaida 5:65Listen in Qur'an →
66

وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُوا۟ ٱلتَّوْرَىٰةَ وَٱلْإِنجِيلَ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْهِم مِّن رَّبِّهِمْ لَأَكَلُوا۟ مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِهِم ۚ مِّنْهُمْ أُمَّةٌۭ مُّقْتَصِدَةٌۭ ۖ وَكَثِيرٌۭ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا يَعْمَلُونَ

اور اگر وہ تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئیں ان کو قائم رکھتے (تو ان پر رزق مینہ کی طرح برستا کہ) اپنے اوپر سے پاؤں کے نیچے سے کھاتے ان میں کچھ لوگ میانہ رو ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جن کے اعمال برے ہیں

تمام گمراہیوں کا اصل سبب آدمی کا ڈھیٹ ہوجانا ہے۔ اگر آدمی اللہ سے ڈرے تو اس کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگ سکتی کہ کون سی بات خدا کی طرف سے آئی ہوئی بات ہے۔ ڈر کی نفسیات اس کے اندر سے دوسرے تمام محرکات کو حذف کردے گی اور آدمی خدا کی بات کو فوراً پہچان کر اس کو مان لے گا۔ جب آدمی اس حد تک اپنے آپ کو خدا کی طرف متوجہ کردے تو اس کے بعد وہ بھی خدا کی توجہ کا مستحق ہوجاتا ہے۔ خدا اس کی بشری کمزوریوں کو اس سے دھودیتا ہے اور مرنے کے بعد اس کو جنت کے نعمت بھرے باغوں میں جگہ دیتا ہے۔ آدمی کی برائیاں، بالفاظ دیگر اس کی نفسیاتی کمزوریاں، وہ چیزيں ہیں جو اس کو جنت کے راستہ پر بڑھنے نہیں دیتیں۔ خدا کی توفیق سے جو شخص اپنی نفسیاتی کمزوریوں پر قابو پالیتاہے وہی جنت کی منزل تک پہنچتا ہے۔

جب بھی حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ لوگ اس سے متوحش ہوجاتے ہیں جو سابقه نظام كے تحت سرداري كا مقام حاصل كيے هوئے هوں۔ان کو اندیشہ ہوتا ہے کہ اس کو قبول کرتے ہی ان کے معاشی مفادات اور ان کی قائدانہ عظمتیں ختم ہوجائیں گی۔ مگر یہ صرف تنگ نظری ہے۔ ایسے لوگ بھول جاتے ہیں کہ جس چیز کو وہ توحش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں وہ صرف ان کی اہلیت کو جانچنے کے لیے ظاہر ہوئی ہے۔ آئندہ وہ خدا کے انعامات کے مستحق ہوں یا نہ ہوں اس کا فیصلہ ان کی اپنی تحفظاتی تدبیروں پر نہیں ہوگا بلکہ اس پر ہوگا کہ دعوت حق کے ساتھ وہ کیا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ گویا دعوت حق کے انکار کے ذریعہ وہ اپنی جس بڑائی کو بچانا چاہتے ہیں وہی انکار وہ چیز ہے جو خدا کے نزدیک ان کے استحقاق کو ختم کررہا ہے۔

آسمانی کتاب کی حامل قوموں میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ اصل خدائی تعلیمات میں افراط یا تفریط (بڑھا کر یا گھٹا کر)کرکے وہ ایک خود ساختہ دین بنا لیتے ہیں اور لمبی مدت گزرنے کے بعد اس کے افراد اس سے اس قدر مانوس ہو جاتے ہیں کہ اسی کو اصل خدائی مذہب سمجھنے لگتے ہیں۔ ایسی حالت میں جب خدا کا سیدھا اور سچا دین ان کے سامنے آتاہے تو وہ اس کو اپنے لیے غیر مانوس پاکر متوحش ہوتے ہیں۔ یہود ونصاریٰ کا یہی حال تھا۔ چنانچہ ان کی بہت بڑی اکثریت اسلام کی صداقت کو پانے سے قاصر رہی۔ صرف چند لوگ (مثلاً نجاشی شاہ حبش، عبد اللہ بن سلام، وغیرہ) جو اعتدال کی راہ پر باقی تھے، انھیں اسلام کی صداقت کو سمجھنے میں دیر نہیںلگی۔ انھوں نے بڑھ کر اسلام کو اس طرح اپنا لیا جیسے وہ پہلے سے اسی راستہ پر چل رہے ہوں اور اپنے سفر کے تسلسل کو جاری رکھنے کے لیے مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہوگئے ہوں۔

Al-Maaida 5:66Listen in Qur'an →
67

۞ يَٰٓأَيُّهَا ٱلرَّسُولُ بَلِّغْ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُۥ ۚ وَٱللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ ٱلنَّاسِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْكَٰفِرِينَ

اے پیغمبر جو ارشادات خدا کی طرف سے تم پر نازل ہوئے ہیں سب لوگوں کو پہنچا دو اور اگر ایسا نہ کیا تو تم خدا کے پیغام پہنچانے میں قاصر رہے (یعنی پیغمبری کا فرض ادا نہ کیا) اور خدا تم کو لوگوں سے بچائے رکھے گا بیشک خدا منکروں کو ہدایت نہیں دیتا

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب عرب میں آئے تو ایسا نہ تھا کہ وہاں دین کا نام لینے والا کوئی نہ ہو۔ بلکہ ان کا سارا معاشرہ دین ہی کے نام پر قائم تھا۔ دین کے نام پر بہت سے لوگ پیشوائی اور قیادت کا مقام حاصل کیے ہوئے تھے۔ دین کے نام پر لوگوں کو بڑی بڑی رقمیں ملتی تھیں۔ دینی مناصب کا حامل ہونا معاشرہ میں عزت اور فخر کی علامت بنا ہوا تھا۔ اس کے باوجود آپ کو عرب کے لوگوں کی طرف سے سخت ترین مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ دین خداوندی کے نام پر ان کے یہاں ایک خود ساختہ دین رائج ہوگیا تھا۔ صدیوں کی روایات کے نتیجہ میں اس دین کے نام پر گدّیاں بن گئی تھیں اور مفادات کی بہت سی صورتیں قائم ہوگئی تھیں۔ ایسے ماحول میں جب پیغمبر اسلام نے بے آمیز دین کی دعوت پیش کی تو لوگوںکو نظر آیا کہ وہ ان کی دینی حیثیت کو بے اعتبار ثابت کررہی ہے۔ ان کو اندیشہ ہوا کہ اگر یہ دین پھیلا تو ان کا وہ مذہبی ڈھانچہ ڈھ جائے گا جس میں ان کو بڑائی کا مقام ملا ہوا ہے۔

یہ صورت حال داعی کے لیے بہت سخت ہوتی ہے۔ اپنے دعوتی کام کو کھلے طورپر انجام دینا وقت کی مذہبی طاقتوں سے لڑنے کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ اس کو دکھائی دیتا ہے کہ اگر میں کسی مصالحت کے بغیر سچے دین کی تبلیغ کروں تو مجھ کو سخت ترین رد عمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میرا مذاق اڑایا جائے گا۔ مجھ کو بے عزت کیا جائے گا۔ میری معاشیات تباہ کی جائیں گی۔ میرے خلاف جارحانہ کارروائیاں ہوں گی۔ میں اعوان وانصار سے محروم ہوجاؤں گا۔

اب اس کے سامنے دور راستے ہوتے ہیں۔ دعوتی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں دنیوی مصلحتوں کے سِرے ہاتھ سے چھوٹتے ہیں۔ اور اگر دنیوی مصلحتوں کا لحاظ کیا جائے تو دعوتی عمل کی پوری انجام دہی ناممکن نظر آتی ہے۔ یہاں خدا کا وعدہ داعی کو یکسو کرتاہے۔ خدا کا وعدہ ہے کہ داعی اگر اپنے آپ کو خدا کے پیغام کی پیغام رسانی میں لگا دے تو لوگوں کی طرف سے ڈالی جانے والی مشکلات میں خدا اس کے لیے کافی ہوجائے گا۔ داعی کو چاہیے کہ وہ صرف دعوت کے تقاضوں کی تکمیل میں لگ جائے اور مدعو قوم کی طرف سے ڈالے جانے والے مصائب میں وہ خدا پر بھروسہ کرے۔

مخاطبین کا رد عمل ایک فطری چیز ہے اور داعی کو بہر حال اس سے سابقہ پیش آتا ہے۔ مگر اس کا اثر اسی دائرہ تک محدود رہتا ہے جتنا خدا کے قانونِ آزمائش کا تقاضا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا کہ مخالفین اس حد تک قابو یافتہ ہوجائیں کہ وہ دعوتی مہم کو روک دیں یا اس کو تکمیل تک پہنچنے نہ دیں۔ ایک سچی دعوت کا اپنے دعوتی نشانہ تک پہنچنا ایک خدائی منصوبہ ہوتا ہے اس لیے وہ لازماً پورا ہو کر رہتاہے۔ اس کے بعد مدعو گروہ کا ماننا اس کی اپنی ذمہ داری ہے جو اسی کے بقدر نتیجہ خیز ہوتی ہے جتنا مدعو خود چاہتاہو۔

Al-Maaida 5:67Listen in Qur'an →
68

قُلْ يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ لَسْتُمْ عَلَىٰ شَىْءٍ حَتَّىٰ تُقِيمُوا۟ ٱلتَّوْرَىٰةَ وَٱلْإِنجِيلَ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ ۗ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًۭا مِّنْهُم مَّآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ طُغْيَٰنًۭا وَكُفْرًۭا ۖ فَلَا تَأْسَ عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْكَٰفِرِينَ

کہو کہ اے اہل کتاب! جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم لوگوں پر نازل ہوئیں ان کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہو سکتے اور یہ (قرآن) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور کفر اور بڑھے گا تو تم قوم کفار پر افسوس نہ کرو

یہود کا یہ حال تھاکہ ان کے افراد عملاً خدا کے دین پر قائم نہ تھے۔ انھوںنے اپنے نفس کو اور اپنی زندگی کے معاملات کو خدا کے تابع نہیں کیا تھا۔ البتہ خوش گمانیوں کے تحت انھوں نے یہ عقیدہ بنا لیا تھا کہ خداکے یہاں ان کی نجات یقینی ہے۔ وہ اپنی قومی فضیلت کے افسانوں اور اپنے بزرگوں کے تقدس کی داستانوں میں جی رہے تھے مگر اللہ کے یہاں اس قسم کی خوش خیالیوں کی کوئی قیمت نہیں۔ اللہ کے یہاں جو کچھ قیمت ہے وہ صرف اس بات کی ہے کہ آدمی اللہ کے احکام کا پابند بنے اور اپنی حقیقی زندگی کو خدا کے دین پر قائم کرے۔

جو لوگ جھوٹی آرزوؤں میں جی رہے ہوں ان کے سامنے جب یہ دعوت آتی ہے کہ اللہ کے یہاں عمل کی قیمت ہے، نہ کہ آرزوؤں اور تمناؤں کی تو ایسی دعوت کے خلاف وہ شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔ ایسی دعوت میں ان کو اپنی خوش خیالیوں کا محل گرتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ صورت حال ان کے لیے آزمائش بن جاتی ہے۔ وہ ایسی دعوت کے سخت مخالف ہوجاتے ہیں۔ نمائشی خدا پرستی کے اندر چھپی ہوئی ان کی خود پرستی بے پرده ہو کر سامنے آجاتی ہے۔ جس دعوت سے ان کو ربانی غذا لینا چا ہیے تھا اس سے وہ صرف انکار اور سرکشی کی غذا لینے لگتے ہیں۔

قدیم زمانہ میں جو پیغمبر آئے ان کے ماننے والوں کی نسلیں دھیرے دھیرے مستقل قوم کی صورت اختیار کرلیتی ہیں اب پیغمبروں کے نمونہ پر عمل تو باقی نہیں رہتا۔ البتہ اپنی عظمت وفضیلت کے قصیدے قصے کہانیوں کی صورت میں خوب پھیل جاتے ہیں۔ ہر گروہ سمجھنے لگتا ہے کہ ہم سب سے افضل ہیں۔ ہماری نجات یقینی ہے۔ اللہ کے یہاں ہمارا درجہ سب سے بڑا ہوا ہے۔ مگر اس قسم کے گروہی مذاہب کی خدا کے نزدیک کوئی قیمت نہیں۔ اللہ کے یہاں ہر شخص کا مقدمہ انفرادی حیثیت میں پیش ہوگا اور اس کے مستقبل کی بابت جو کچھ فیصلہ ہوگا وہ تمام تر اس کے اپنے عمل کی بنیاد پر ہوگا، نہ کہ کسی اور بنیاد پر۔

خدا کی کتاب کو قائم کرنا نام ہے — اللہ پر یقین کرنے کا، آخرت کی پکڑ کے اندیشہ کو اپنے اوپر طاری کرنے کا اور انسانوں کے درمیان صالح کردار کے ساتھ زندگی گزارنے کا۔ یہی اصل دین ہے اور فرد کو یہی اپنی زندگی میں اختیار کرنا ہے۔ آسمانی کتاب کی حامل قوم کی قیمت دنیا میںاسی وقت ہے جب کہ اس کے افراد اِس دینِ خداوندی پر قائم ہوں۔ اس سے ہٹنے کے بعد وہ خدا کی نظر میں بالکل بے قیمت ہوجاتے ہیں، حتی کہ کھلے ہوئے کافروں اور مشرکوں سے بھی زیادہ بے قیمت۔

Al-Maaida 5:68Listen in Qur'an →
69

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَٱلَّذِينَ هَادُوا۟ وَٱلصَّٰبِـُٔونَ وَٱلنَّصَٰرَىٰ مَنْ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَعَمِلَ صَٰلِحًۭا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

جو لوگ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان لائیں گے اور عمل نیک کریں گے خواہ وہ مسلمان ہوں یا یہودی یا ستارہ پرست یا عیسائی ان کو (قیامت کے دن) نہ کچھ خوف ہو گا اور نہ غمناک ہوں گے

یہود کا یہ حال تھاکہ ان کے افراد عملاً خدا کے دین پر قائم نہ تھے۔ انھوںنے اپنے نفس کو اور اپنی زندگی کے معاملات کو خدا کے تابع نہیں کیا تھا۔ البتہ خوش گمانیوں کے تحت انھوں نے یہ عقیدہ بنا لیا تھا کہ خداکے یہاں ان کی نجات یقینی ہے۔ وہ اپنی قومی فضیلت کے افسانوں اور اپنے بزرگوں کے تقدس کی داستانوں میں جی رہے تھے مگر اللہ کے یہاں اس قسم کی خوش خیالیوں کی کوئی قیمت نہیں۔ اللہ کے یہاں جو کچھ قیمت ہے وہ صرف اس بات کی ہے کہ آدمی اللہ کے احکام کا پابند بنے اور اپنی حقیقی زندگی کو خدا کے دین پر قائم کرے۔

جو لوگ جھوٹی آرزوؤں میں جی رہے ہوں ان کے سامنے جب یہ دعوت آتی ہے کہ اللہ کے یہاں عمل کی قیمت ہے، نہ کہ آرزوؤں اور تمناؤں کی تو ایسی دعوت کے خلاف وہ شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔ ایسی دعوت میں ان کو اپنی خوش خیالیوں کا محل گرتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ صورت حال ان کے لیے آزمائش بن جاتی ہے۔ وہ ایسی دعوت کے سخت مخالف ہوجاتے ہیں۔ نمائشی خدا پرستی کے اندر چھپی ہوئی ان کی خود پرستی بے پرده ہو کر سامنے آجاتی ہے۔ جس دعوت سے ان کو ربانی غذا لینا چا ہیے تھا اس سے وہ صرف انکار اور سرکشی کی غذا لینے لگتے ہیں۔

قدیم زمانہ میں جو پیغمبر آئے ان کے ماننے والوں کی نسلیں دھیرے دھیرے مستقل قوم کی صورت اختیار کرلیتی ہیں اب پیغمبروں کے نمونہ پر عمل تو باقی نہیں رہتا۔ البتہ اپنی عظمت وفضیلت کے قصیدے قصے کہانیوں کی صورت میں خوب پھیل جاتے ہیں۔ ہر گروہ سمجھنے لگتا ہے کہ ہم سب سے افضل ہیں۔ ہماری نجات یقینی ہے۔ اللہ کے یہاں ہمارا درجہ سب سے بڑا ہوا ہے۔ مگر اس قسم کے گروہی مذاہب کی خدا کے نزدیک کوئی قیمت نہیں۔ اللہ کے یہاں ہر شخص کا مقدمہ انفرادی حیثیت میں پیش ہوگا اور اس کے مستقبل کی بابت جو کچھ فیصلہ ہوگا وہ تمام تر اس کے اپنے عمل کی بنیاد پر ہوگا، نہ کہ کسی اور بنیاد پر۔

خدا کی کتاب کو قائم کرنا نام ہے — اللہ پر یقین کرنے کا، آخرت کی پکڑ کے اندیشہ کو اپنے اوپر طاری کرنے کا اور انسانوں کے درمیان صالح کردار کے ساتھ زندگی گزارنے کا۔ یہی اصل دین ہے اور فرد کو یہی اپنی زندگی میں اختیار کرنا ہے۔ آسمانی کتاب کی حامل قوم کی قیمت دنیا میںاسی وقت ہے جب کہ اس کے افراد اِس دینِ خداوندی پر قائم ہوں۔ اس سے ہٹنے کے بعد وہ خدا کی نظر میں بالکل بے قیمت ہوجاتے ہیں، حتی کہ کھلے ہوئے کافروں اور مشرکوں سے بھی زیادہ بے قیمت۔

Al-Maaida 5:69Listen in Qur'an →
70

لَقَدْ أَخَذْنَا مِيثَٰقَ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ وَأَرْسَلْنَآ إِلَيْهِمْ رُسُلًۭا ۖ كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُولٌۢ بِمَا لَا تَهْوَىٰٓ أَنفُسُهُمْ فَرِيقًۭا كَذَّبُوا۟ وَفَرِيقًۭا يَقْتُلُونَ

ہم نے بنی اسرائیل سے عہد بھی لیا اور ان کی طرف پیغمبر بھی بھیجے (لیکن) جب کوئی پیغمبر ان کے پاس ایسی باتیں لےکر آتا جن کو ان کے دل نہیں چاہتے تھے تو وہ (انبیاء کی) ایک جماعت کو تو جھٹلا دیتے اور ایک جماعت کو قتل کر دیتے تھے

یہود سے اللہ نے حضرت موسیٰ کے ذریعہ ایمان واطاعت کا عہد لیا تھا۔وہ کچھ دن اس پر قائم رہے۔ اس کے بعد ان میں بگاڑ شروع ہوگیا۔ اب اللہ نے ان کے درمیان اپنے مصلحین اٹھائے جو ان کو اپنے عہد کی یاد دہانی کریں۔ مگر یہود کی بے راہی اور سرکشی بڑھتی ہی چلی گئی۔ انھوں نے خود نصیحت کرنے والوں کی زبان بند کرنے کی کوشش کی۔ حتی کہ کتنے لوگوں کو قتل کردیا۔ جب ان کی سرکشی حد کو پہنچ گئی تو اللہ نے بابل ونینویٰ (عراق) کے بادشاہ بنو خذ نصر کو ان کے اوپر مسلط کردیا جس نے 586 ق م میں یروشلم پر حملہ کرکے یہود کے مقدس شہر کو ڈھا دیا۔ اور یہودیوںکو گرفتار کرکے اپنے ملک لے گیا تاکہ ان سے بیگار لے۔ اس واقعہ کے بعد یہود کے دل نرم ہوئے۔ انھوںنے اللہ سے معافی مانگی۔ اب اللہ نے سائرس (شاہ ایران) کے ذریعہ ان کی مدد کی۔ سائرس نے 539 ق م میں کلدانیوں کے اوپر حملہ کیا اور ان کو شکست دے کر ان کے ملک پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد اس نے یہود کو جلاوطنی سے نجات دلا کر ان کو ان کے وطن جانے اور وہاں دوبارہ بسنے کی اجازت دے دی۔

اب یہود کو نئی زندگی ملی اور ان کو کافی فروغ حاصل ہوا۔ مگر کچھ دنوں کے بعد وہ دوبارہ غفلت اور سرکشی میںمبتلا ہوئے۔ اب پھر نبیوں اور مصلحین کے ذریعہ اللہ نے ان کو متنبہ کیا۔ مگر وہ ہوش میں نہ آئے، یہاں تک کہ انھوںنے حضرت یحییٰ کو قتل کردیا اور (اپنی حد تک) حضرت مسیح کو بھی۔ اب اللہ کا غضب ان پر بھڑکا اور 70 عیسوی میں رومی شہنشاہ ٹائٹس کو ان پر مسلط کردیاگیا۔ جس نے ان کے ملک پر حملہ کرکے ان کو ویران کردیا۔ اس کے بعد یہود کبھی اپنی ذاتی بنیادوں پر کھڑے نہ ہوسکے۔

آسمانی کتاب کی حامل قوموں کی نفسیات بعدکے زمانہ میں یہ بن جاتی ہے کہ وہ خدا کے خاص لوگ ہیں۔ وہ جو کچھ بھی کریں اس پر ان کی پکڑ نہیں ہوگی۔ خدا کی تعلیمات میں اس عقیدہ کے خلاف کھلے کھلے بیانات ہوتے ہیں۔ مگر وہ ان کے بارے میں اندھے بہرے بن جاتے ہیں۔ وہ اپنے گرد خود ساختہ عقیدوں اور فرضي قصے کہانیوں کا ایسا ہالہ بنا لیتے ہیں کہ خدا کی تنبیہات ان کو دکھائی اور سنائی نہیں دیتیں۔ یہود کی یہ تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی ایک حاملِ کتاب قوم کو اس کے ’’دشمنوں کے قبضہ‘‘ میں دے دیا جائے تو یہ اس کے لیے خدا کی طرف سے آزمائش کا وقت ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہلکی سزا دے کر قوم کو جگایا جائے۔ اگر اس کے نتیجہ میں قوم کے افراد میںخدا پرست جذبات جاگ اٹھیں تو اس کے اوپر سزا اٹھالی جاتی ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو خدا اس کو رد کرکے پھینک دیتا ہے اور پھر کبھی اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔

Al-Maaida 5:70Listen in Qur'an →

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.