وَإِذَا جَآءُوكُمْ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا وَقَد دَّخَلُوا۟ بِٱلْكُفْرِ وَهُمْ قَدْ خَرَجُوا۟ بِهِۦ ۚ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا۟ يَكْتُمُونَ
اور جب یہ لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے حالانکہ کفر لے کر آتے ہیں اور اسی کو لیکر جاتے ہیں اور جن باتوں کو یہ مخفی رکھتے ہیں خدا ان کو خوب جانتا ہے
کہہ دیجیے! اے اہل کتاب! نہیں کد (ضد) رکھتے تم ہم سے مگر اس وجہ سے کہ ایمان لائے ہم ساتھ اللہ کے اور (ساتھ) اس چیز کے جو نازل کی گئی ہماری طرف اور جو نازل کی گئی اس سے پہلےاور یہ کہ اکثر تم میں فاسق ہیں (59) کہہ دیجیے! کیا خبر دوں میں تم کو بدتر کی اس سے، جزا کے اعتبار سے، نزدیک اللہ کے؟ وہ شخص کہ لعنت کی اس پر اللہ نے اور غصے ہوا اوپر اس کے اور کیے ان میں سے بندر اور سور اور پوجا کی اس نے شیطان کی، وہی لوگ ہیں بدتر درجے میں اور زیادہ گمراہ ہیں سیدھی راہ سے(60) اور جب آتے ہیں وہ تمھارے پاس تو کہتے ہیں ، ہم ایمان لائے اور حال یہ ہے کہ وہ داخل ہوئے تھے ساتھ کفر کے اور نکل گئے ساتھ اسی کے۔ اور اللہ خوب جانتا ہے اس چیز کو کہ تھے وہ چھپاتے(61)اور آپ دیکھیں گے بہتوں کو ان میں سے، جلدی کرتے ہیں گناہ میں اور زیادتی میں اور اپنے حرام کھانے میں ، البتہ بہت برا ہے وہ جو کچھ کہ تھے وہ کرتے(62) کیوں نہیں روکتے ان کو رب والے اور علماء ان کے گناہ کی بات کہنے سے اور ان کے حرام کھانے سے، البتہ برا ہے وہ جو کچھ کہ تھے وہ کرتے(63)
[59]﴿ قُلۡ ﴾ یعنی اے رسول کہہ دیجیے ﴿ يٰۤاَهۡلَ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اے اہل کتاب!‘‘ یعنی ان پر حجت لازم کرتے ہوئے۔ بلاشبہ دین اسلام دین حق ہے اور اس میں طعن و تشنیع ایک ایسے معاملے میں طعن و تشنیع ہے جو درحقیقت مدح کے لائق ہے۔ ﴿ هَلۡ تَنۡقِمُوۡنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡنَا وَمَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلُ١ۙ وَاَنَّ اَكۡثَرَؔكُمۡ فٰسِقُوۡنَ﴾ ’’تم ہم میں برائی ہی کیا دیکھتے ہو سوائے اس کے کہ ہم اللہ پر اور جو (کتاب) ہم پر نازل ہوئی اس پر اور جو (کتابیں ) پہلے نازل ہوئیں ان پر ایمان لائے ہیں اور تم میں اکثر فاسق ہیں ۔‘‘ یعنی اس کے سوا ہم میں اور کیا عیب ہے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں ، اس کی گزشتہ کتابوں اور انبیائے متقدمین و متاخرین پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور ہم نہایت جزم کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو کوئی اس ایمان جیسا ایمان نہیں رکھتا وہ کافر اور فاسق ہے۔ کیا تم صرف اس امر کی بنا پر ہمیں طعن و تشنیع کرتے ہو جو تمام مکلفین پر سب سے زیادہ فرض ہے۔ اور بایں ہمہ کہ ان میں سے اکثر فاسق ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باہر اور اس کی نافرمانی کی جسارت کرنے والے ہیں تو اے فاسقو! تمھارے لیے خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔ پس اگر تم میں یہی عیب ہوتا جبکہ تم فسق سے پاک ہوتے، حالانکہ یہ بہت بعید ہے... تو یہ برائی تمھارے فسق کی معیت میں تمھارے ہماری بابت طعن و تشنیع سے خفیف تر ہوتی۔
[60] اہل ایمان پر ان کا طعن و تشنیع کرنا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اہل ایمان میں برائی ہے اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿قُلۡ﴾ یعنی ان کی برائی اور قباحت کے بارے میں ان کو آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے ﴿ هَلۡ اُنَبِّئُكُمۡ بِشَرٍّ مِّنۡ ذٰلِكَ ﴾ ’’کیا میں تمھیں خبر دوں اس سے بھی بری بات کی‘‘ جس کے بارے میں تم ہمیں طعن و تشنیع کرتے ہو اس کو صحیح فرض کرتے ہوئے ﴿ مَنۡ لَّعَنَهُ اللّٰهُ ﴾ ’’جس پر اللہ نے لعنت کی۔‘‘ یعنی اس کو اپنی رحمت سے دور کر دیا ﴿ وَغَضِبَ عَلَيۡهِ ﴾ ’’اس پر غضب نازل کیا‘‘ یعنی اسے دنیا و آخرت کے عذاب میں مبتلا کیا ﴿ وَجَعَلَ مِنۡهُمُ الۡقِرَدَةَ وَالۡخَنَازِيۡرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوۡتَ﴾’’اور ان میں سے بعضوں کو بندر اور سور بنا دیا اور جنھوں نے طاغوت کی بندگی کی‘‘ یہاں طاغوت سے مراد شیطان ہے اور ہر وہ چیز جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جائے، وہ طاغوت ہے۔﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ یعنی وہ لوگ جن کا ان قبیح خصائل کے حوالے سے ذکر کیا گیا ہے ﴿ شَرٌّ مَّكَانًا ﴾ ’’ان کا ٹھکانا (اہل ایمان سے) برا ہے۔‘‘ اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ان کی نسبت زیادہ قریب ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے اس نے ان کو دنیا و آخرت میں ثواب سے …