Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 61–70 of 120

61

وَإِذَا جَآءُوكُمْ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا وَقَد دَّخَلُوا۟ بِٱلْكُفْرِ وَهُمْ قَدْ خَرَجُوا۟ بِهِۦ ۚ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا۟ يَكْتُمُونَ

اور جب یہ لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے حالانکہ کفر لے کر آتے ہیں اور اسی کو لیکر جاتے ہیں اور جن باتوں کو یہ مخفی رکھتے ہیں خدا ان کو خوب جانتا ہے

(آیت) ” نمبر 61 تا 64۔

یہ ایسی عبادتیں ہیں جن کے اندر کچھ چلتی پھرتی تصاویر نظر آتی ہیں اور یہ قرآن مجید کا منفرد اسلوب ہے ۔ صدیاں گزر گئیں لیکن ان لوگوں کی تصاویر آج بھی ان عبارات میں واضح ہیں ‘ جن کے بارے میں قرآن کریم ان آیات میں بحث کرتا ہے ۔ یہاں جو نقشہ کھنیچا گیا ہے وہ یہودیوں کا ہے ‘ اس سے کہ آگے پیچھے بات انہی کی ہو رہی ہے ۔ اگرچہ اس میں بعض وہ لوگ بھی نظر آتے جو مدینہ کے منافقین ہیں ۔ نظر آتا ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں کے ساتھ گفتگو شروع کرتے ہیں ‘ ” بھائی ہم بھی تو ایمان لا چکے ہیں “ لیکن اپنی بغل میں کفر چھپائے ہوئجے ہیں جب آئے تو یہ کفر ان کے ساتھ تھا۔ لیکن ان کے منہ میں رام رام ہے اور بغل میں کفر کی چھری ہے ۔

یہ گروہ غالباگروہ تھا یہود تھا جو راتوں کو اسلام کے خلاف سازشیں تیار کرتے تھے ‘ اور ان میں سے بعض دوسروں سے یہ کہتے تھے کہ صبح اس قرآن پر اپنے ایمان کا اعلان کرو اور شام کو پھر کفر کا اعلان کر دو ‘ اور اس طرح اسلامی صفوں میں بےچینی پیدا کرو۔ اس طرح ہو سکتا ہے کہ مسلمان بھی قرآن کو ترک کردیں اور اپنے دین کو چھوڑ دیں یہ اس افراتفری اور شک وشبہ کی فضا کی وجہ سے ہے ۔

(آیت) ” واللہ اعلم بما کانوا یکتمون “۔ (5 : 61) ” اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ چھپاتے ہیں “۔ یہ اللہ کا کہنا ہے اور اللہ حقائق کے جاننے والے ہیں ۔ اور اس اعلان سے اہل ایمان کو اطمینان نصیب ہوتا ہے کہ ان کا رب ان کا محافظ اور نگہبان ہے ۔ وہی انہیں یہودیوں کی سازشوں سے بچا سکتا ہے کیونکہ اللہ کا علم ان کی خفیہ سازشوں پر محیط ہے اور یہ اللہ کی جانب سے ان کو ایک دھمکی ہے کہ اگر وہ باز نہ آئے تو۔۔۔۔

سیاق کلام کو لے کر ذرا آگے بڑھئے ۔ اس منظر میں ان کی کچھ اور تصاویر آتی ہیں ۔

(آیت) ” وتری کثیرا منھم یسارعون فی الاثم والعدوان واکلھم السحت ، لبئس ما کانوا یعملون (62)

” تم دیکھتے ہو کہ ان میں سے بکثرت لوگ گناہ اور ظلم و زیادتی کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں اور حرام کے مال کھاتے ہیں بہت ہی بری حرکات ہیں جو یہ کر رہے ہیں “۔

مسارعہ باب مفاعلہ ہے بہت سے لوگ ہیں جو باہم مقابلہ کررہے ہیں ‘ گناہ اور ظلم میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے ہیں اور ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر حرام مال کھاتے ہیں ۔ یہ تصویر نہایت ہی مکروہ اور بدنما ہے ۔ لیکن جب کسی قوم کی اخلاقی حالت بگڑ جائے اور اس میں فساد سرایت کرجائے تو اس میں ایسی ہی صورت حالات پیدا ہوجایا کرتی ہے ۔ زندگی کی اعلی اقدار ختم ہوتی ہیں ‘ معاشرے پر شر غالب ہوجاتی ہوجاتا ہے اور جب بھی انسان کو ایسے معاشروں کو دیکھنے کا موقعہ ملتا ہے تو یہ پایا جاتا ہے کہ ان میں لوگ شر ‘ گناہ اور ظلم کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس معاشرے کے کے طاقتور لوگ اپنے دائرے میں اور زبردست لوگ اپنے دائرے میں ظالم ہوتے ہیں ۔ گناہ میں آلودگی اور ظلم ایسے گرے ہوئے فاسد معاشروں میں صرف طاقتور لوگوں تک محدود نہیں ہوتے بلکہ ضعفاء بھی ان جرائم میں ملوث ہوجاتے ہیں یہاں تک سب لوگ اثم وعدوان کے سیلاب میں بہتے چلے جاتے ہیں ۔ یہ ضعفاء بیشک زبردستوں پر ظلم کرنے پر قادر نہیں ہوتے لیکن یہ ضعفاء پھر آپس میں ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں اور اگر ایک دوسرے پر ظلم نہ بھی نہ کرسکیں تو یہ لوگ پھر اللہ کی حرمتوں پر ہاتھ ڈالتے ہیں اس لئے کہ فاسد معاشروں کے اندر پھر اللہ کے حدود ہی رہ جاتے ہیں جن کو توڑنے کے لئے ان کے سامنے میدان کھلا ہوتا ہے ۔ ایسے میں نہ طاقتور حکام اور نہ ضعفاء محکوم حدود اللہ کی حفاظت کرتے ہیں ۔ غرض جو معاشرے بھی اخلاقی بگاڑ کا شکار ہوجائے اس میں گناہ کی زندگی اور ظلم کی حرکات کا دور دورہ ہوتا ہے بلکہ گناہ اور ظلم کی طرف دوڑنے کے مقابلے (مسارعت) ہوتے ہیں ۔ (آیت) ” لبئس ما کانوا یعملون “۔ (5 : 92) ” بہت بری حرکات ہیں جو یہ کر رہے ہیں ۔ “

یہاں سیاق …

Al-Maaida 5:61Listen in Qur'an →
62

وَتَرَىٰ كَثِيرًۭا مِّنْهُمْ يُسَٰرِعُونَ فِى ٱلْإِثْمِ وَٱلْعُدْوَٰنِ وَأَكْلِهِمُ ٱلسُّحْتَ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

اور تم دیکھو گے کہ ان میں اکثر گناہ اور زیادتی اور حرام کھانے میں جلدی کر رہے ہیں بےشک یہ جو کچھ کرتے ہیں برا کرتے ہیں

(آیت) ” نمبر 61 تا 64۔

یہ ایسی عبادتیں ہیں جن کے اندر کچھ چلتی پھرتی تصاویر نظر آتی ہیں اور یہ قرآن مجید کا منفرد اسلوب ہے ۔ صدیاں گزر گئیں لیکن ان لوگوں کی تصاویر آج بھی ان عبارات میں واضح ہیں ‘ جن کے بارے میں قرآن کریم ان آیات میں بحث کرتا ہے ۔ یہاں جو نقشہ کھنیچا گیا ہے وہ یہودیوں کا ہے ‘ اس سے کہ آگے پیچھے بات انہی کی ہو رہی ہے ۔ اگرچہ اس میں بعض وہ لوگ بھی نظر آتے جو مدینہ کے منافقین ہیں ۔ نظر آتا ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں کے ساتھ گفتگو شروع کرتے ہیں ‘ ” بھائی ہم بھی تو ایمان لا چکے ہیں “ لیکن اپنی بغل میں کفر چھپائے ہوئجے ہیں جب آئے تو یہ کفر ان کے ساتھ تھا۔ لیکن ان کے منہ میں رام رام ہے اور بغل میں کفر کی چھری ہے ۔

یہ گروہ غالباگروہ تھا یہود تھا جو راتوں کو اسلام کے خلاف سازشیں تیار کرتے تھے ‘ اور ان میں سے بعض دوسروں سے یہ کہتے تھے کہ صبح اس قرآن پر اپنے ایمان کا اعلان کرو اور شام کو پھر کفر کا اعلان کر دو ‘ اور اس طرح اسلامی صفوں میں بےچینی پیدا کرو۔ اس طرح ہو سکتا ہے کہ مسلمان بھی قرآن کو ترک کردیں اور اپنے دین کو چھوڑ دیں یہ اس افراتفری اور شک وشبہ کی فضا کی وجہ سے ہے ۔

(آیت) ” واللہ اعلم بما کانوا یکتمون “۔ (5 : 61) ” اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ چھپاتے ہیں “۔ یہ اللہ کا کہنا ہے اور اللہ حقائق کے جاننے والے ہیں ۔ اور اس اعلان سے اہل ایمان کو اطمینان نصیب ہوتا ہے کہ ان کا رب ان کا محافظ اور نگہبان ہے ۔ وہی انہیں یہودیوں کی سازشوں سے بچا سکتا ہے کیونکہ اللہ کا علم ان کی خفیہ سازشوں پر محیط ہے اور یہ اللہ کی جانب سے ان کو ایک دھمکی ہے کہ اگر وہ باز نہ آئے تو۔۔۔۔

سیاق کلام کو لے کر ذرا آگے بڑھئے ۔ اس منظر میں ان کی کچھ اور تصاویر آتی ہیں ۔

(آیت) ” وتری کثیرا منھم یسارعون فی الاثم والعدوان واکلھم السحت ، لبئس ما کانوا یعملون (62)

” تم دیکھتے ہو کہ ان میں سے بکثرت لوگ گناہ اور ظلم و زیادتی کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں اور حرام کے مال کھاتے ہیں بہت ہی بری حرکات ہیں جو یہ کر رہے ہیں “۔

مسارعہ باب مفاعلہ ہے بہت سے لوگ ہیں جو باہم مقابلہ کررہے ہیں ‘ گناہ اور ظلم میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے ہیں اور ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر حرام مال کھاتے ہیں ۔ یہ تصویر نہایت ہی مکروہ اور بدنما ہے ۔ لیکن جب کسی قوم کی اخلاقی حالت بگڑ جائے اور اس میں فساد سرایت کرجائے تو اس میں ایسی ہی صورت حالات پیدا ہوجایا کرتی ہے ۔ زندگی کی اعلی اقدار ختم ہوتی ہیں ‘ معاشرے پر شر غالب ہوجاتی ہوجاتا ہے اور جب بھی انسان کو ایسے معاشروں کو دیکھنے کا موقعہ ملتا ہے تو یہ پایا جاتا ہے کہ ان میں لوگ شر ‘ گناہ اور ظلم کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس معاشرے کے کے طاقتور لوگ اپنے دائرے میں اور زبردست لوگ اپنے دائرے میں ظالم ہوتے ہیں ۔ گناہ میں آلودگی اور ظلم ایسے گرے ہوئے فاسد معاشروں میں صرف طاقتور لوگوں تک محدود نہیں ہوتے بلکہ ضعفاء بھی ان جرائم میں ملوث ہوجاتے ہیں یہاں تک سب لوگ اثم وعدوان کے سیلاب میں بہتے چلے جاتے ہیں ۔ یہ ضعفاء بیشک زبردستوں پر ظلم کرنے پر قادر نہیں ہوتے لیکن یہ ضعفاء پھر آپس میں ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں اور اگر ایک دوسرے پر ظلم نہ بھی نہ کرسکیں تو یہ لوگ پھر اللہ کی حرمتوں پر ہاتھ ڈالتے ہیں اس لئے کہ فاسد معاشروں کے اندر پھر اللہ کے حدود ہی رہ جاتے ہیں جن کو توڑنے کے لئے ان کے سامنے میدان کھلا ہوتا ہے ۔ ایسے میں نہ طاقتور حکام اور نہ ضعفاء محکوم حدود اللہ کی حفاظت کرتے ہیں ۔ غرض جو معاشرے بھی اخلاقی بگاڑ کا شکار ہوجائے اس میں گناہ کی زندگی اور ظلم کی حرکات کا دور دورہ ہوتا ہے بلکہ گناہ اور ظلم کی طرف دوڑنے کے مقابلے (مسارعت) ہوتے ہیں ۔ (آیت) ” لبئس ما کانوا یعملون “۔ (5 : 92) ” بہت بری حرکات ہیں جو یہ کر رہے ہیں ۔ “

یہاں سیاق …

Al-Maaida 5:62Listen in Qur'an →
63

لَوْلَا يَنْهَىٰهُمُ ٱلرَّبَّٰنِيُّونَ وَٱلْأَحْبَارُ عَن قَوْلِهِمُ ٱلْإِثْمَ وَأَكْلِهِمُ ٱلسُّحْتَ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُوا۟ يَصْنَعُونَ

بھلا ان کے مشائخ اور علماء انہیں گناہ کی باتوں اور حرام کھانے سے منع کیوں نہیں کرتے؟ بلاشبہ وہ بھی برا کرتے ہیں

(آیت) ” (62) لولا ینھھم الربنیون والاحبار عن قولھم الاثم واکلھم السحت ، لبئس ما کانوا یصنعون (63)

” ان کے علماء ومشائخ انہیں گناہ پر زبان کھولنے اور حرام کھانے سے منع نہیں کرتے ۔ یقینا بہت ہی برا کارنامہ زندگی ہے جو یہ تیار کر رہے ہیں۔ “ جب کوئی معاشرہ اخلاقی اعتبار سے ٹوٹ پھوٹ اور فساد کا شکار ہوتا ہے تو اس کی ایک بڑی علامت یہ ہوتی ہے کہ اس میں قانون کے نگران قانون شکنی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ (علمائ) اخلاقی رہبر (مشائخ) بداخلاقیوں اور ظلم پر سکوت کرتے ہیں اور بنی اسرائیل کی کیا خصوصیات تھیں ؟ (آیت) ” کانوا لا یتناھون عن منکرفعلوہ) ” وہ اس برائی سے ایک دوسرے کو منع نہ کرتے تھے جو وہ کرتے تھے ۔ “ یہ قرآن ہی نے دوسری جگہ ان کے بارے میں کہا ہے ۔

ایک صحت مند ‘ زندہ ‘ قوی اور فاضلانہ معاشرے کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ اس میں ہر طرف امر بالعروف اور نہی عن المنکر کا دور دورہ ہوتا ہے ۔ اور اس میں ہر وقت ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جن کا مشن امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا دور دورہ ہوتا ہے ۔ اور اس میں ہر وقت ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جن کا مشن امر بالعروف اور نہی عن المنکر ہوتا ہے اور اس کے عوام کے اندر بھی ایسے عناصر غالب ہوتے ہیں جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی طرف کان دھرتے ہیں ۔ اور معاشرے کے اوپر اس قسم کے روایات کی گرفت ہو کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ختم نہ کیا جاسکتا ہو اور نہ ایسے لوگوں کا بال بیکا کیا جاسکتا ہو جو یہ کام کرتے ہیں ۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کی شکل میں برپا ہونے والے ایک صحت مند معاشرے کے بارے میں فرمائی ہے ۔

(آیت) ” کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر وتومنون باللہ ‘۔ (3 : 11) ” تم خیر امت ہو ‘ حکم دیتے ہو نیکی کا اور منع کرتے ہو منکر سے اور اللہ پر ایمان لانے والے ہو “۔ اور بنی اسرائیل جو ایک فاسد معاشرے کے خوگر تھے ان کے بارے میں ہے (کانوا لا یتناھون عن منکر فعلوہ) ” وہ اس برائی سے ایک دوسرے کو منع نہ کرتے تھے جس کا وہ ارتکاب کرتے تھے ۔ “ یہ بات گویا دو قسم کے معاشروں کا مابہ الامتیاز ہے ۔

یہاں یہودیوں کے علماء اور مشائخ کو ملامت کی جاتی ہے کہ وہ کیوں گنگ ہوگئے ہیں اور وہ ان لوگوں کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتے جو گناہ کی زندگی ‘ باہم ظلم کی روش اور حرام خوری میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے ہیں اور کتاب اللہ کی حفاظت کا جو فریضہ ان پر عائد کیا گیا تھا اسے وہ پورا نہیں کرتے ۔

یہ ان تمام لوگوں کے لئے ڈرانے والے کی پکار ہے جو اہل دیں اور علماء کہلاتے ہیں ۔ معاشرے کی اصلاح یافساد ان لوگوں پر موقوف ہے جو اس معاشرے ‘ دین اور قانون کے نمائندے ہوتے ہیں یعنی علماء ومشائخ ۔ اگر وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فرائض ادا کرتے ہیں تو اصلاح ہوگی اور اگر وہ خاموش رہتے ہیں تو بگاڑ ہوگا اور جس طرح ہم نے اس سے قبل ظلال القرآن میں کہا ہے کہ اس کام کے لئے ایک حکومت درکار ہے جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام کرے اور یہ نظام دعوت وتبلیغ سے علیحدہ ہو اس لئے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لئے اقتدار کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ایسا اقتدار جس کے ذریعہ امر بالمعروف اور عن المنکر ایک بامعنی چیز ہو ۔ محض زبانی جمع خرچ نہ ہو ۔

اب ان لوگوں کی فکری کجی اور اخلاقی بےراہ روی کی ایک مثال دی جاتی ہے ۔ قرآن کریم ان گمراہ اور ذلیل یہودیوں کی کج فکری اور بد روی کی ایک نہایت ہی گھاؤنی مثال دیتا ہے ۔

(آیت) ” غلت ایدیھم ولعنوا بما قالوا ، بل یدہ مبسوطتن ینفق کیف یشآء “ (5 : 63) ” یہودی کہتے ہیں کہ اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔ باندھے گئے ان کے ہاتھ ‘ اور لعنت پڑی ان پر اس بکواس کی بدولت جو یہ کرتے ہیں ۔۔۔۔۔ ۔ اللہ کے ہاتھ تو کشادہ ہیں ‘ جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔ “

یہ یہودیوں کا اللہ کا بارے میں نہایت ہی …

Al-Maaida 5:63Listen in Qur'an →
64

وَقَالَتِ ٱلْيَهُودُ يَدُ ٱللَّهِ مَغْلُولَةٌ ۚ غُلَّتْ أَيْدِيهِمْ وَلُعِنُوا۟ بِمَا قَالُوا۟ ۘ بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ يُنفِقُ كَيْفَ يَشَآءُ ۚ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًۭا مِّنْهُم مَّآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ طُغْيَٰنًۭا وَكُفْرًۭا ۚ وَأَلْقَيْنَا بَيْنَهُمُ ٱلْعَدَٰوَةَ وَٱلْبَغْضَآءَ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ ۚ كُلَّمَآ أَوْقَدُوا۟ نَارًۭا لِّلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا ٱللَّهُ ۚ وَيَسْعَوْنَ فِى ٱلْأَرْضِ فَسَادًۭا ۚ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ ٱلْمُفْسِدِينَ

اور یہود کہتے ہیں کہ خدا کا ہاتھ (گردن سے) بندھا ہوا ہے (یعنی الله بخیل ہے) انہیں کے ہاتھ باندھے جائیں اور ایسا کہنے کے سبب ان پر لعنت ہو (اس کا ہاتھ بندھا ہوا نہیں) بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں وہ جس طرح (اور جتنا) چاہتا ہے خرچ کرتا ہے اور (اے محمد) یہ (کتاب) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوئی اس سے ان میں سے اکثر کی شرارت اور انکار اور بڑھے گا اور ہم نے ان کے باہم عداوت اور بغض قیامت تک کے لیے ڈال دیا ہے یہ جب لڑائی کے لیے آگ جلاتے ہیں خدا اس کو بجھا دیتا ہے اور یہ ملک میں فساد کے لیے دوڑے پھرتے ہیں اور خدا فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا

(آیت) ” (62) لولا ینھھم الربنیون والاحبار عن قولھم الاثم واکلھم السحت ، لبئس ما کانوا یصنعون (63)

” ان کے علماء ومشائخ انہیں گناہ پر زبان کھولنے اور حرام کھانے سے منع نہیں کرتے ۔ یقینا بہت ہی برا کارنامہ زندگی ہے جو یہ تیار کر رہے ہیں۔ “ جب کوئی معاشرہ اخلاقی اعتبار سے ٹوٹ پھوٹ اور فساد کا شکار ہوتا ہے تو اس کی ایک بڑی علامت یہ ہوتی ہے کہ اس میں قانون کے نگران قانون شکنی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ (علمائ) اخلاقی رہبر (مشائخ) بداخلاقیوں اور ظلم پر سکوت کرتے ہیں اور بنی اسرائیل کی کیا خصوصیات تھیں ؟ (آیت) ” کانوا لا یتناھون عن منکرفعلوہ) ” وہ اس برائی سے ایک دوسرے کو منع نہ کرتے تھے جو وہ کرتے تھے ۔ “ یہ قرآن ہی نے دوسری جگہ ان کے بارے میں کہا ہے ۔

ایک صحت مند ‘ زندہ ‘ قوی اور فاضلانہ معاشرے کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ اس میں ہر طرف امر بالعروف اور نہی عن المنکر کا دور دورہ ہوتا ہے ۔ اور اس میں ہر وقت ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جن کا مشن امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا دور دورہ ہوتا ہے ۔ اور اس میں ہر وقت ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جن کا مشن امر بالعروف اور نہی عن المنکر ہوتا ہے اور اس کے عوام کے اندر بھی ایسے عناصر غالب ہوتے ہیں جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی طرف کان دھرتے ہیں ۔ اور معاشرے کے اوپر اس قسم کے روایات کی گرفت ہو کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ختم نہ کیا جاسکتا ہو اور نہ ایسے لوگوں کا بال بیکا کیا جاسکتا ہو جو یہ کام کرتے ہیں ۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کی شکل میں برپا ہونے والے ایک صحت مند معاشرے کے بارے میں فرمائی ہے ۔

(آیت) ” کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر وتومنون باللہ ‘۔ (3 : 11) ” تم خیر امت ہو ‘ حکم دیتے ہو نیکی کا اور منع کرتے ہو منکر سے اور اللہ پر ایمان لانے والے ہو “۔ اور بنی اسرائیل جو ایک فاسد معاشرے کے خوگر تھے ان کے بارے میں ہے (کانوا لا یتناھون عن منکر فعلوہ) ” وہ اس برائی سے ایک دوسرے کو منع نہ کرتے تھے جس کا وہ ارتکاب کرتے تھے ۔ “ یہ بات گویا دو قسم کے معاشروں کا مابہ الامتیاز ہے ۔

یہاں یہودیوں کے علماء اور مشائخ کو ملامت کی جاتی ہے کہ وہ کیوں گنگ ہوگئے ہیں اور وہ ان لوگوں کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتے جو گناہ کی زندگی ‘ باہم ظلم کی روش اور حرام خوری میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے ہیں اور کتاب اللہ کی حفاظت کا جو فریضہ ان پر عائد کیا گیا تھا اسے وہ پورا نہیں کرتے ۔

یہ ان تمام لوگوں کے لئے ڈرانے والے کی پکار ہے جو اہل دیں اور علماء کہلاتے ہیں ۔ معاشرے کی اصلاح یافساد ان لوگوں پر موقوف ہے جو اس معاشرے ‘ دین اور قانون کے نمائندے ہوتے ہیں یعنی علماء ومشائخ ۔ اگر وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فرائض ادا کرتے ہیں تو اصلاح ہوگی اور اگر وہ خاموش رہتے ہیں تو بگاڑ ہوگا اور جس طرح ہم نے اس سے قبل ظلال القرآن میں کہا ہے کہ اس کام کے لئے ایک حکومت درکار ہے جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام کرے اور یہ نظام دعوت وتبلیغ سے علیحدہ ہو اس لئے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لئے اقتدار کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ایسا اقتدار جس کے ذریعہ امر بالمعروف اور عن المنکر ایک بامعنی چیز ہو ۔ محض زبانی جمع خرچ نہ ہو ۔

اب ان لوگوں کی فکری کجی اور اخلاقی بےراہ روی کی ایک مثال دی جاتی ہے ۔ قرآن کریم ان گمراہ اور ذلیل یہودیوں کی کج فکری اور بد روی کی ایک نہایت ہی گھاؤنی مثال دیتا ہے ۔

(آیت) ” غلت ایدیھم ولعنوا بما قالوا ، بل یدہ مبسوطتن ینفق کیف یشآء “ (5 : 63) ” یہودی کہتے ہیں کہ اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔ باندھے گئے ان کے ہاتھ ‘ اور لعنت پڑی ان پر اس بکواس کی بدولت جو یہ کرتے ہیں ۔۔۔۔۔ ۔ اللہ کے ہاتھ تو کشادہ ہیں ‘ جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔ “

یہ یہودیوں کا اللہ کا بارے میں نہایت ہی …

Al-Maaida 5:64Listen in Qur'an →
65

وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ ءَامَنُوا۟ وَٱتَّقَوْا۟ لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّـَٔاتِهِمْ وَلَأَدْخَلْنَٰهُمْ جَنَّٰتِ ٱلنَّعِيمِ

اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور پرہیز گاری کرتے تو ہم ان سے ان کے گناہ محو کر دیتے اور ان کو نعمت کے باغوں میں داخل کرتے

(آیت) ” نمبر 65 تا 66۔

ان دو آیات کے اندر اسلامی تصور حیات کا ایک عظیم اصول بیان کیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان دو آیات سے انسانی زندگی کی ایک اساسی حقیقت کا اظہار ہوتا ہے ۔ یہاں اس اصول کی مناسب وضاحت کی ضرورت ہے اور دور جدد میں اس وضاحت کی ضرورت پہلے مقابلے میں بہت زیادہ ہوگئی ہے ۔ عقل انسانی اور انسانی پیمانے اور انسانی حالات بدلتے رہتے ہیں اور ان میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں ۔ دور جدید کے ان اضطرابات اور فکری انتشار کی وجہ سے اس عظیم حقیقت کے سمجھنے میں بھی انسان صحیح راہ گم کرسکتا ہے ۔

یہاں اللہ تعالیٰ اہل کتاب کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ ایمان لائیں اور اگر وہ ایمان لے آئیں تو اللہ ان کی تمام تقصیرات معاف کردے گا اور انہیں جنت نعیم میں داخل کر دے گا اور یہ تو ہے جزائے آخرت ۔ لیکن اگر انہوں نے اپنی اس دنیا کی زندگی میں اللہ کا وہ نظام رائج کیا ہوتا جو تورات اور انجیل میں ان کے ہاں موجود تھا اور جو تعلیمات اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کی تھیں جن میں انہوں نے بعد میں تحریف کردی تھی ‘ تو اگر وہ ایسا بھی کرتے تو ان کو کم از کم یہ دنیاوی زندگی تو اچھی طرح گزرتی ۔ ان کے ہاں ترقی ہوتی اور ان کے رزق حلال میں اضافہ ہوتا اور ان کے اوپر آسمان سے رزق نازل ہوتا اور ان کے نیچے سے زمین ان کے لئے سونا اگلتی ‘ پیداوار زیادہ ہوتی اور ان کے درمیان وہ خوب تقسیم ہوتی اور ان کے دنیاوی امور ومسائل سب کے سب حل ہوجاتے ۔ لیکن افسوس کہ نہ تو وہ ایمان لاتے ہیں ‘ نہ خدا ترسی کی روش اختیار کرتے ہیں اور نہ ہی وہ اسلامی نظام زندگی نافذ کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ہاں ان میں سے قلیل لوگ ان کی تاریخ میں ایسے رہے ہی جو صراط مستقیم پر چلنے والے تھے اور اپنے نفوس کے خلاف انہوں نے ظلم نہ کیا تھا لیکن ان میں سے زیادہ تر لوگ بد عمل تھے ۔ (آیت) ” وکثیر منھم سآء ما یعملون “۔ (5 : 66) یوں ان دو آیات سے بالکل واضح نظر آتا ہے کہ اسلامی نظام زندگی کا قیام اور اس دنیا کی زندگی میں اسلام پر عمل پیرا ہونا صرف اس بات کا ضامن نہیں ہے کہ وہ ایسا کرنے والوں کے لئے اخروی زندگی کی بھلائی کے اسباب فراہم کردے گا ۔ اگرچہ اسلامی نظام کے قیام کا بڑا اور دائمی مقصد فلاح اخروی کا حصول ہے ۔ وہ بھی نہایت ہی اہم اور دائمی مقصد ہے لیکن اقامت دین اس دنیا کے مسائل کا بھی حل ہے اور دین قائم کرنے والوں کی دنیا بھی اچھی ہوگی ۔ اس دنیا کے وسائل زیادہ ہوں گے ‘ ان کی تقسیم بہت ہی اچھی طرح ہوگی ۔ معاشرے کے اندر ایک کفالتی نظام قائم ہوگا اور معاشرہ دنیاوی اعتبار سے خود کفیل ہوجائے گا ۔ اللہ تعالیٰ اسلامی معاشرے کے اندر پائی جانے والی معاشی خوشحالی کا نقشہ یوں کھینچتے ہیں اس تصویر کشی میں فیضان اور کثرت کا اظہار ہے ۔ (لاکلوا من فوقھم ومن تحت ارجلھم “۔ (5 : 66) ” تو ان کے اوپر سے رزق برستا اور وہ کھاتے اور نیچے سے ابلتا “۔ یہاں یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ اسلامی نقطہ نظر کے مطابق یہ بات نہیں ہے کہ ایک راستہ علیحدہ ہے جو جس وقت انسان اس راستے سے ادھر ادھر ہوگیا تو سمجھو کہ اس کی دنیا وآخرت خراب ہوگئی ۔ یہ واحد راستہ ایمان ‘ خدا ترسی اور اقامت دین کا راستہ ہے اور دینی نظام کے تحت زندگی گزارنے کا راستہ ہے ۔

یہ نظام صرف عقیدے ‘ صرف نظریئے اور صرف قلبی شعور کا نام نہیں ہے ۔ بیشک یہ چیزیں بھی اس کے اندر ہیں لیکن درحقیقت یہ قلبی شعور کے ساتھ انسانی زندگی کے لئے ایک عملی نظام بھی ہے جس کی اقامت فرض ہے اور اس کے مطابق زندگی کو تبدیل کرنا فرض ہے ۔ اور اقامت دین کے ساتھ ساتھ تقوی کی بھی ضرورت ہے ۔ تقوی ہی وہ معیار ہے جس کے ذریعے اس دنیا میں زندگی کو درست کیا جاسکتا ہے ۔ اسی کے ذریعے اس دنیا کی زندگی کا نظام درست ہو سکتا ہے اور رزق کی فراوانی ہو سکتی ہے ۔ ملک کے اندر پیداوار بڑھ سکتی ہے ‘ اس کی اچھی تقسیم ہو سکتی ہے تاکہ سب لوگ کھائیں اور پئیں …

Al-Maaida 5:65Listen in Qur'an →
66

وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُوا۟ ٱلتَّوْرَىٰةَ وَٱلْإِنجِيلَ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْهِم مِّن رَّبِّهِمْ لَأَكَلُوا۟ مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِهِم ۚ مِّنْهُمْ أُمَّةٌۭ مُّقْتَصِدَةٌۭ ۖ وَكَثِيرٌۭ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا يَعْمَلُونَ

اور اگر وہ تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئیں ان کو قائم رکھتے (تو ان پر رزق مینہ کی طرح برستا کہ) اپنے اوپر سے پاؤں کے نیچے سے کھاتے ان میں کچھ لوگ میانہ رو ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جن کے اعمال برے ہیں

(آیت) ” نمبر 65 تا 66۔

ان دو آیات کے اندر اسلامی تصور حیات کا ایک عظیم اصول بیان کیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان دو آیات سے انسانی زندگی کی ایک اساسی حقیقت کا اظہار ہوتا ہے ۔ یہاں اس اصول کی مناسب وضاحت کی ضرورت ہے اور دور جدد میں اس وضاحت کی ضرورت پہلے مقابلے میں بہت زیادہ ہوگئی ہے ۔ عقل انسانی اور انسانی پیمانے اور انسانی حالات بدلتے رہتے ہیں اور ان میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں ۔ دور جدید کے ان اضطرابات اور فکری انتشار کی وجہ سے اس عظیم حقیقت کے سمجھنے میں بھی انسان صحیح راہ گم کرسکتا ہے ۔

یہاں اللہ تعالیٰ اہل کتاب کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ ایمان لائیں اور اگر وہ ایمان لے آئیں تو اللہ ان کی تمام تقصیرات معاف کردے گا اور انہیں جنت نعیم میں داخل کر دے گا اور یہ تو ہے جزائے آخرت ۔ لیکن اگر انہوں نے اپنی اس دنیا کی زندگی میں اللہ کا وہ نظام رائج کیا ہوتا جو تورات اور انجیل میں ان کے ہاں موجود تھا اور جو تعلیمات اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کی تھیں جن میں انہوں نے بعد میں تحریف کردی تھی ‘ تو اگر وہ ایسا بھی کرتے تو ان کو کم از کم یہ دنیاوی زندگی تو اچھی طرح گزرتی ۔ ان کے ہاں ترقی ہوتی اور ان کے رزق حلال میں اضافہ ہوتا اور ان کے اوپر آسمان سے رزق نازل ہوتا اور ان کے نیچے سے زمین ان کے لئے سونا اگلتی ‘ پیداوار زیادہ ہوتی اور ان کے درمیان وہ خوب تقسیم ہوتی اور ان کے دنیاوی امور ومسائل سب کے سب حل ہوجاتے ۔ لیکن افسوس کہ نہ تو وہ ایمان لاتے ہیں ‘ نہ خدا ترسی کی روش اختیار کرتے ہیں اور نہ ہی وہ اسلامی نظام زندگی نافذ کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ہاں ان میں سے قلیل لوگ ان کی تاریخ میں ایسے رہے ہی جو صراط مستقیم پر چلنے والے تھے اور اپنے نفوس کے خلاف انہوں نے ظلم نہ کیا تھا لیکن ان میں سے زیادہ تر لوگ بد عمل تھے ۔ (آیت) ” وکثیر منھم سآء ما یعملون “۔ (5 : 66) یوں ان دو آیات سے بالکل واضح نظر آتا ہے کہ اسلامی نظام زندگی کا قیام اور اس دنیا کی زندگی میں اسلام پر عمل پیرا ہونا صرف اس بات کا ضامن نہیں ہے کہ وہ ایسا کرنے والوں کے لئے اخروی زندگی کی بھلائی کے اسباب فراہم کردے گا ۔ اگرچہ اسلامی نظام کے قیام کا بڑا اور دائمی مقصد فلاح اخروی کا حصول ہے ۔ وہ بھی نہایت ہی اہم اور دائمی مقصد ہے لیکن اقامت دین اس دنیا کے مسائل کا بھی حل ہے اور دین قائم کرنے والوں کی دنیا بھی اچھی ہوگی ۔ اس دنیا کے وسائل زیادہ ہوں گے ‘ ان کی تقسیم بہت ہی اچھی طرح ہوگی ۔ معاشرے کے اندر ایک کفالتی نظام قائم ہوگا اور معاشرہ دنیاوی اعتبار سے خود کفیل ہوجائے گا ۔ اللہ تعالیٰ اسلامی معاشرے کے اندر پائی جانے والی معاشی خوشحالی کا نقشہ یوں کھینچتے ہیں اس تصویر کشی میں فیضان اور کثرت کا اظہار ہے ۔ (لاکلوا من فوقھم ومن تحت ارجلھم “۔ (5 : 66) ” تو ان کے اوپر سے رزق برستا اور وہ کھاتے اور نیچے سے ابلتا “۔ یہاں یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ اسلامی نقطہ نظر کے مطابق یہ بات نہیں ہے کہ ایک راستہ علیحدہ ہے جو جس وقت انسان اس راستے سے ادھر ادھر ہوگیا تو سمجھو کہ اس کی دنیا وآخرت خراب ہوگئی ۔ یہ واحد راستہ ایمان ‘ خدا ترسی اور اقامت دین کا راستہ ہے اور دینی نظام کے تحت زندگی گزارنے کا راستہ ہے ۔

یہ نظام صرف عقیدے ‘ صرف نظریئے اور صرف قلبی شعور کا نام نہیں ہے ۔ بیشک یہ چیزیں بھی اس کے اندر ہیں لیکن درحقیقت یہ قلبی شعور کے ساتھ انسانی زندگی کے لئے ایک عملی نظام بھی ہے جس کی اقامت فرض ہے اور اس کے مطابق زندگی کو تبدیل کرنا فرض ہے ۔ اور اقامت دین کے ساتھ ساتھ تقوی کی بھی ضرورت ہے ۔ تقوی ہی وہ معیار ہے جس کے ذریعے اس دنیا میں زندگی کو درست کیا جاسکتا ہے ۔ اسی کے ذریعے اس دنیا کی زندگی کا نظام درست ہو سکتا ہے اور رزق کی فراوانی ہو سکتی ہے ۔ ملک کے اندر پیداوار بڑھ سکتی ہے ‘ اس کی اچھی تقسیم ہو سکتی ہے تاکہ سب لوگ کھائیں اور پئیں …

Al-Maaida 5:66Listen in Qur'an →
67

۞ يَٰٓأَيُّهَا ٱلرَّسُولُ بَلِّغْ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُۥ ۚ وَٱللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ ٱلنَّاسِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْكَٰفِرِينَ

اے پیغمبر جو ارشادات خدا کی طرف سے تم پر نازل ہوئے ہیں سب لوگوں کو پہنچا دو اور اگر ایسا نہ کیا تو تم خدا کے پیغام پہنچانے میں قاصر رہے (یعنی پیغمبری کا فرض ادا نہ کیا) اور خدا تم کو لوگوں سے بچائے رکھے گا بیشک خدا منکروں کو ہدایت نہیں دیتا

(آیت) ” نمبر 67 تا 68۔

رسول اللہ ﷺ کے لئے قطعی حکم یہ ہے کہ آپ تمام پیغام کی جو اللہ نے نازل کیا ہے پوری پوری تبلیغ کریں ‘ دنیا کے اندر پائے جانے والے حالات میں سے کسی حال کو بھی کوئی اہمیت نہ دیں اور اپنی دعوت کو بالکل کھل کر صاف بیان کردیں ۔ یہ آپ کا فریضہ رسالت ہے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے فریضہ رسالت کا حق ادا نہ کیا اور اپنے فرائض پوری طرح سرانجام نہ دیئے رہی بات کہ دشمن تمہارا کچھ بگاڑ لیں گے تو یقین رکھو کہ اللہ آپ کو لوگوں سے بچائے گا اور جس کو بچانے کا ذمہ اللہ لے لے تو لوگ اللہ کے مقابلے میں حیثیت کیا رکھتے ہیں کہ اس کو کوئی نقصان پہنچا سکیں گے ۔

سچائی کے حاملین کو شف شف کرنا مناسب نہیں ہے ۔ انہیں چاہئے کہ صاف صاف اور دو ٹوک بات کریں ۔ رہے اہل باطل اور مخالفین حق تو وہ جو چاہیں کہیں جو چاہیں کرلیں ۔ اس لئے کہ سچوں کو لوگوں کی خواہشات کا لحاظ رکھتے ہوئے نرم بات نہیں کرنا چاہئے اور نہ اس سلسلے میں لوگوں کی خواہش کا لحاظ رکھنا چاہئے ۔ سچی بات کو نہایت ہی قوت اور زور دار طریقے سے کہنا چاہئے تاکہ وہ سیدھی لوگوں کے قلوب کے اندر اتر جائے ۔ حاملین حق جب اپنی بات زور دار زور دار طریقے سے کہنا چاہئے تاکہ وہ سیدھی لوگوں کے قلوب کرنے کی ذرا سی استعداد بھی ہوتی ہے تو وہ بات ان تک پہنچ جاتی ہے ۔ اور اگر سچائی کو دو ٹوک الفاظ میں پیش کیا جائے تو اس کے لئے وہ دل نرم نہیں ہوتے جن میں قبول حق کی استعداد نہیں ہوتی اور یہ اس قسم کے لوگ ہوتے ہیں کہ ان کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ داعی ان کے ساتھ نرمی کرے اور کچھ مطالبات واپس لے لے تب وہ دعوت کو قبول کریں گے ۔ وہ اپنی طرف سے شرائط عائد کرتے ہیں ۔

(آیت) ” ان اللہ لا یھدی القوم الکفرین “۔ (5 : 67) ” اللہ کافروں کو ہدایت کی راہ دکھانے والا نہیں ہے ۔ “ لہذا آپ سچائی کو دو ٹوک الفاظ میں بیان کریں ‘ جامع اور مانع الفاظ میں بیان کریں ۔ رہی یہ بات کہ کون مانتا ہے اور کون مانتا ‘ یہ موقوف اس امر پر ہے کہ سننے والے کے اندر قبول حق کی استعداد ہے یا نہیں یا یہ کہ اس کا دل اس سچائی کے لئے کھلا ہے یا نہیں ۔ مداہنت اور لحاظ وملاحظہ کرنے اور سچ بات پوری طرح نہ کہنے پر ہدایت کا دارومدار نہیں ہے نہ اس سے کچھ فائدہ ہوتا ہے ۔

نظریاتی اعتبار سے فیصلہ کن بات کرنے کا مقصد یہ بھی نہیں ہے کہ انسانی نہایت خشک اور سخت لہجے میں بات کرے ۔ اللہ نے حضرت نبی کریم ﷺ کو یہ حکم بھی دیا ہے کہ آپ نہایت ہی حکمت اور اچھے انداز میں نصیحت فرمائیں ۔ اس لئے قرآنی ہدایت میں کوئی تعارض نہیں ہے یعنی کلمہ حکمت اور موعظہ حسنہ اور دو ٹوک اور فیصلہ کن بات کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے ۔ ایک تو نفس بات ہے یہ کسی بات کے عناصر ترکیبی ہیں اور دوسرا وہ انداز ہے جس انداز میں اس بات کو لوگوں تک پہنچانا مطلوب ہے ۔ جہاں تک نفس بات اور پیغام حق کا تعلق ہے وہ بےکم وکاست پہنچایا جائے ۔ پوری پوری بات پہنچائی جائے اور اس میں کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی اختیار نہ کی جائے ۔ اس لئے کہ عقیدہ اور نظریہ ایک ایسی حقیقت ہوتی ہے جس کے اجزاء نہیں ہو سکتے ۔ ہاں بات کے پہنچانے کے انداز میں نرمی ہو سکتی ہے ۔ ابتدائے بعثت سے حضور ﷺ نہایت ہی حکمت سے وعظ فرماتے تھے اور بات نہایت ہی اچھے انداز سے کرتے تھے لیکن بات دو ٹوک ہوتی تھی ۔ آپ اللہ کے حکم سے اس طرح فرمایا کرتے تھے ”۔ اے لوگو ! جنہوں نے کفر کیا ہے ‘ میں ان بتوں کی بندگی نہیں کرتا جن کی بندگی تم کرتے ہو۔ “ آپ صاف کہتے کہ تم کافر ہو ‘ اور بات بھی صاف کہتے کہ میں تمہارے معبودوں کی بندگی نہیں کرتا اور نہ ہی آپ نے وہ مصالحتی کوششیں منظور کیں جن کا مقصد یہ تھا کہ کچھ لو اور کچھ دو ‘ نہ آپ نے کبھی مداہنت کی حالانکہ وہ تمنائیں کرتے تھے کہ آپ ایسا کریں ۔ آپ نے کبھی کفار سے یہ نہ کہا کہ تم جس نظام پر عامل ہو ‘ میں تو اس میں …

Al-Maaida 5:67Listen in Qur'an →
68

قُلْ يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ لَسْتُمْ عَلَىٰ شَىْءٍ حَتَّىٰ تُقِيمُوا۟ ٱلتَّوْرَىٰةَ وَٱلْإِنجِيلَ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ ۗ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًۭا مِّنْهُم مَّآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ طُغْيَٰنًۭا وَكُفْرًۭا ۖ فَلَا تَأْسَ عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْكَٰفِرِينَ

کہو کہ اے اہل کتاب! جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم لوگوں پر نازل ہوئیں ان کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہو سکتے اور یہ (قرآن) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور کفر اور بڑھے گا تو تم قوم کفار پر افسوس نہ کرو

(آیت) ” ْ وَلَیَزِیْدَنَّ کَثِیْراً مِّنْہُم مَّا أُنزِلَ إِلَیْْکَ مِن رَّبِّکَ طُغْیَاناً وَکُفْراً فَلاَ تَأْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِیْنَ (68)

” ضرور ہے کہ یہ فرمان جو تم پر نازل کیا گیا ہے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور انکار کو اور زیادہ بڑھا دے گا ۔ مگر انکار کرنے والوں کے حال پر کچھ افسوس نہ کرو۔

ان ہدایات کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے داعی کے لئے منہاج دعوت کے نقوش متعین فرما دیئے اور یہ بھی بتادیا کہ اس کی حکمت کیا ہے ۔ جو لوگ ہدایت قبول نہیں کرتے اور کفر وسرکشی میں مزید آگے بڑھتے ہیں ۔ ان کے بارے میں آپ کی دلجوئی بھی فرمادی کہ یہ لوگ تو اس انجام کے مستحق ہوگئے ہیں ‘ اس لئے کہ ان کے دل سچی بات کے متحمل ہی نہیں ہوتے ۔ ان کے دلوں کی گہرائیوں سے سچائی کا مادہ ختم ہوچکا ہے ۔ اس لئے ان لوگوں کے سامنے کلمہ حق ببانگ دہل کہہ دیا تاکہ ان کے دلوں کی گندگی ظاہر ہوجائے اور وہ مزید کفر وسرکشی میں آگے بڑھ جائیں اور سرکشوں اور کفروں کے انجام تک پہنچ جائیں ۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب کی کچھ دینی حیثیت نہیں ہے اگر وہ تورات ‘ انجیل اور ما انزل اللہ کو قائم نہیں کرتے ۔ اور نتیجۃ ” دین جدید میں داخل نہیں ہوجاتے ‘ جیسا کہ اس آیت اور متعدد دوسری آیات میں حکم دیا گیا ہے ۔ اور اگر وہ ایسا نہ کریں گے تو نہ مومن ہوں گے اور نہ کسی سماوی دین پر ہوں گے اور نہ ایسے دین والے ہوں گے جسے اللہ قبول کرے ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے ۔ کہ حضور ﷺ کی اس انداز کی تبلیغ سے یہ لوگ مزید سرکشی اور کفر میں مبتلا ہو رہے تھے لیکن اس کے باوجود حضور ﷺ کو حکم دیا گیا کہ وہ کھل کر اعلان کردیں اور اس سلسلے میں کوئی توریہ نہ کریں اور نہ نتائج سے گھبرائیں ۔

جب یہ ایک فیصلہ کن بات ہے اور اسے فیصلہ کن الفاظ میں بیان کردیا گیا ہے کہ (لستم علی شیء ‘) (5 : 68) تو اب اہل کتاب کو اہل دین کہنے کی سرے سے گنجائش ہی نہ رہی اور نہ اس بات کی گنجائش رہی کہ اہل اسلام اہل کتاب سے دوستی اور موالات کے تعلقات استوار کریں چہ جائیکہ ان کے ساتھ مل کر ملحدین اور الحاد کے خلاف محاذ بنائیں جیسا کہ آج کل ہمارے بعض فریب خوردہ اور فریب کار اہل ثقافت ایسا کرتے ہیں ۔ اہل کتاب نے نہ تورات کو قائم کیا ‘ نہ انجیل کو قائم کیا اور نہ ان دوسری تعلیمات کو قائم کیا جو اللہ کی طرف سے نازل ہوئی تھیں اس لئے کوئی مسلمان ان کی کسی دینی حیثیت کا اعتراف نہیں کرسکتا ۔ نہ کوئی مسلمان ان کو وہ حیثیت دے سکتا ہے جو اللہ نے انکو نہیں دی ۔ ” اور کسی مومن اور کسی مومنہ کی یہ شان نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول ﷺ کسی امر کا فیصلہ کردیں تو پھر ان کو اس امر میں کوئی اختیار ہو ۔ “ یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اسے کسی قسم کے ” ظروف واحوال “ نہیں بدل سکتے ۔

جب ہم یہ طے کردیں کہ اللہ کی بات فیصلہ کن ہے جیسا کہ وہ فی الحقیقت حق اور فیصلہ کن ہے تو ہمیں یہ بات خاطر میں نہیں لانا چاہئے کہ ہمارے اس اعلان حق سے اہل کتاب کے اندر کس قدر ہیجان پیدا ہوتا ہے اور وہ ہمارے خلاف کس قدر شدید جنگ شروع کرتے ہیں ۔ نہ ہمیں یہ کوشش کرنا چاہئے کہ ہم ان کی دوستی حاصل کرنے کے لئے سعی کریں اور ان کی دینی حیثیت کا اعتراف کریں یا انہیں راضی کرکے اور ان کے ساتھ باہم نصرت اور موالات کا معاہدہ کریں اور پھر ہم دونوں ملتیں مل کر کفر والحاد کا مقابلہ کریں جبکہ ان کا دین کوئی چیز ہی نہیں ہے ۔ اللہ تو ہمیں ایسی کوئی ہدایت نہیں دے رہا ہے اور نہ اللہ کو یہ بات قبول ہے کہ ہم اہل کتاب کی دینی حیثیت کا اعتراف کریں ۔ اللہ تعالیٰ ہماری اس موالات اور باہم نصرت کے فعل کو بھی معاف نہیں کرے گا ۔ نہ یہ سوچ قابل معافی ہے جس کے نتیجے میں یہ موالات وجود میں آتی ہے۔ کیونکہ اس صورت میں ہم وہ فیصلہ کریں گے جو اللہ نہیں کیا اور اپنے لئے وہ کچھ اختیار کریں گے جو اللہ نے نہیں کیا ہے ۔ اس …

Al-Maaida 5:68Listen in Qur'an →
69

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَٱلَّذِينَ هَادُوا۟ وَٱلصَّٰبِـُٔونَ وَٱلنَّصَٰرَىٰ مَنْ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَعَمِلَ صَٰلِحًۭا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

جو لوگ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان لائیں گے اور عمل نیک کریں گے خواہ وہ مسلمان ہوں یا یہودی یا ستارہ پرست یا عیسائی ان کو (قیامت کے دن) نہ کچھ خوف ہو گا اور نہ غمناک ہوں گے

الذین امنو سے مراد اہل ایمان مسلمان ہیں ۔ الذین ھادو سے مراد یہودی ہیں ۔ الصائبون سے مراد وہ طبقہ ہے جو بتوں کی عبادت نہ کرتا تھا یہ لوگ حضور ﷺ کی بعث سے پہلے موجود تھے اور صرف ایک اللہ کی عبادت کرتے تھے لیکن ان کا فرقہ کوئی متعین فرقہ نہ تھا ۔ اس قسم کے لوگ عرب میں معدودے چند تھے ۔ نصاری سے مراد عیسائی ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی اتباع کا دعوی کرتے ہیں ۔

اس آیت میں فیصلہ یہ کیا گیا ہے کہ پہلے چاہے کوئی جس عقیدے اور دین پر بھی ہو ‘ اب اگر اللہ پر ایمان لائے گا آخرت پر ایمان لائے گا اور نیک کام کرے گا اور یہاں اس میں ضمنا یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ اب نبی آخری الزمان ﷺ پر نازل شدہ شریعت پر بھی ایمان لائے جیسا کہ دوسری جگہوں پر تصریح کردی گئی ہے تو ایسے شخص کو نجات ملے گی اور اس کے لئے کوئی خوف ورنج نہ ہوگا ۔ اس بات کا کہ اس سے قبل وہ صحیح رہ پر نہ تھے ۔ ان سے ان کے سابق مذہب اور عنوان کے بارے میں نہ پوچھا جائے گا ۔ اعتبار آخری بات کا ہوگا ۔

یہ جو ہم کہتے ہیں کہ ضمنا یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی عقیدے کی ضرورت اور بدیہات میں یہ بات شامل ہے کہ حضرت محمد ﷺ خاتم النبیبن ہیں اور یہ کہ آپ کو تمام انسانوں کی طرف مبعوث فرمایا گیا ہے ۔ اور یہ کہ تمام لوگ چاہے ‘ ان کی ملت ‘ دین ‘ اعتقادات ‘ نسل اور وطن جو بھی ہو ان کو یہ دعوت دی جارہی ہے کہ وہ حضرت محمد ﷺ پر ایمان لائیں اور اپنے تصورات اور اپنی زندگیوں کو حضور اکرم ﷺ کی ہدایات کے مقابق ڈھالیں ۔ جو شخص آپ کو رسول ﷺ نہیں مانتا اور جو شخص اجمالا اور تفصیلا آپ پر ایمان نہیں لاتا وہ گمراہ ہے اور اس کا دین اور مسلک مقبول نہ ہوگا وہ اس اعلان کا مستحق نہ ہوگا ۔ (فلاخوف علیھم ولا ھم یحزنون “۔ (5 : 69) ” کہ انکے لئے نہ خوف کا مقام ہوگا اور نہ رنج کا “ یہ وہ بنیادی حقیقت ہے جو اس دین سے بطور لازمی نتیجہ برآمد ہوتی ہے ‘ اس لئے ایک سچے مسلمان کے لئے اس بارے میں شف شف کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ خصوصا اس عظیم جاہلیت سے متاثر ہو کر جو اس کے سامنے پھیلی ہوئی ہے جاہلیت کے ساتھ تعلقات استوار کرتے ہوئے ایک مسلمان کو غافل نہیں ہونا چاہئے جو مختلف ملتوں اور مسلکوں میں بٹی ہوئی ہے ۔ مسلمان کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ مجبور ہو کر اور متاثر ہو کر ان گمراہ ملتوں میں سے کسی کے پیروکاروں کو ” اہل دین “ سمجھے اور یہ سمجھے کہ ان کا دین عندا اللہ مقبول ہے اور یہ کہ اس کے ساتھ تعلق ولایت قائم ہو سکتا ہے ۔

اہل ایمان کا ولی اور ناصر فقط اللہ ہے اور جو شخص بھی اللہ کو ‘ اللہ کے رسول ﷺ کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں دوست بنائے گا تو اسے یقین رکھنا چاہئے کہ حزب اللہ ہی غالب رہے گی ۔ “ چاہے ظاہری حالات کتنے ہیں ناموافق نظر آئیں اور جو شخص بھی ایمان لائے اللہ پر ‘ اور یوم آخرت پر اور نیک عمل کرے اور یہ اس دین آخری کے اصولوں کے مطابق کرے تو اس کے رنج وخوف کا کوئی موقع نہ ہوگا ۔ نہ دنیا میں اس کے لئے خوف ہوگا اور نہ آخرت میں اس کے لئے کوئی خوف ہوگا ۔ جاہلیت کی تہ بہ تہ قوتوں سے بھی اسے کوئی ڈر نہ ہوگا اور نہ انہیں ایمان سے ڈر ہوگا ۔

اب تاریخ بنی اسرائیل کا ایک اور باب کھلتا ہے اور اس باب میں بتایا جاتا ہے کہ یہ یہودیوں کیوں اور کس طرح بےحقیقت ہیں ؟ اور کیوں ضروری ہے کہ ان کو دعوت اسلامی سے روشناس کردیا جائے اور ان کو اس دین جدید کی دعوت دی جائے تاکہ وہ اس دین کی پناہ گاہ میں داخل ہوجائیں۔ یہ باب اس لئے کھولا جاتا ہے کہ یہ معلوم ہوجائے کہ ان کی حقیقت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ وہ وہی جو تھے ۔ مقصد یہ ہے کہ اہل اسلام کی نظروں میں ان کا کوئی اعتبار ہی نہ رہے اور مسلمان اس امر پر توجہ ہی نہ دیں کہ ان کے ساتھ تعلق موالات قائم ہو سکتا ہے یا وہ ان کے ساتھ کوئی نصرت کرسکتے ہیں جب تک کہ وہ اس حال پر قائم …

Al-Maaida 5:69Listen in Qur'an →
70

لَقَدْ أَخَذْنَا مِيثَٰقَ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ وَأَرْسَلْنَآ إِلَيْهِمْ رُسُلًۭا ۖ كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُولٌۢ بِمَا لَا تَهْوَىٰٓ أَنفُسُهُمْ فَرِيقًۭا كَذَّبُوا۟ وَفَرِيقًۭا يَقْتُلُونَ

ہم نے بنی اسرائیل سے عہد بھی لیا اور ان کی طرف پیغمبر بھی بھیجے (لیکن) جب کوئی پیغمبر ان کے پاس ایسی باتیں لےکر آتا جن کو ان کے دل نہیں چاہتے تھے تو وہ (انبیاء کی) ایک جماعت کو تو جھٹلا دیتے اور ایک جماعت کو قتل کر دیتے تھے

(آیت) ” نمبر 70 تا 71۔

یہ ان کی قدیم تاریخ ہے ۔ حضور اکرم ﷺ کے مقابلے میں انہوں نے جو موقف اختیار کیا وہ پہلا اور آخری موقف نہیں ہے ۔ یہ لوگ سرکشی اور روگردانی کے عادی مجرم ہیں ۔ یہ وعدہ خلافی کے پرانے خوگر ہیں ۔ انہوں نے ہمیشہ اپنی خواہشات نفس ہی کو اپنا الہ اور حاکم مانا ہے ۔ کبھی انہوں نے اللہ کے دین اور رسول ﷺ کے آگے سرتسلیم خم نہیں کیا ۔ یہ لوگ ہمیشہ داعیان حق کے لئے سرکش اور ظالم رہے ۔

(آیت) ” لَقَدْ أَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ وَأَرْسَلْنَا إِلَیْْہِمْ رُسُلاً کُلَّمَا جَاء ہُمْ رَسُولٌ بِمَا لاَ تَہْوَی أَنْفُسُہُمْ فَرِیْقاً کَذَّبُواْ وَفَرِیْقاً یَقْتُلُونَ (70)

” ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے ۔ مگر جب کبھی ان کے پاس کوئی رسول ‘ انکی خواہشات نفس کے خلاف کچھ لیکر آیا تو کسی کو انہوں نے جھٹلایا اور کو قتل کردیا ۔

بنی اسرائیل کی قدیم تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ انہوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا اور ان کی تعلیمات سے روگردانی کی ۔ انہوں نے کئی ایک پر دست درازی کی اور کئی ایک کو قتل کردیا ۔ انہوں نے ہمیشہ اپنی خواہشات ہی کی پیروی کی ۔۔۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی طویل داستانیں امت مسلمہ کو سنائیں تاکہ وہ بھی کہیں بنی اسرائیل کی راہ پر چل نہ نکلے ۔ تاکہ امت مسلمہ کو معلوم ہوجائے کہ اس راہ کی مشکلات کیا ہیں اور ان لوگوں کو جو فہم و فراست کے مالک ہیں اور جن کا تعلق باللہ قائم ہے وہ ان مقامات لغزش کا اچھی طرح ادراک کرلیں اور جب انہیں ویسے ہی حالات درپیش ہوں جو انبیائے بنی اسرائیل کو پیش آئے تو وہ ان سے حوصلہ پکڑیں اور یہ کہ آئندہ اہل اسلام کی آنے والی نسلیں بھی اسی راہ پر چلنے والی تھیں اور انہوں نے بھی عرصہ گزرنے کے بعد ویسی ہی سنگ دلی کا مظاہرہ کرنا تھا جو بنی اسرائیل نے کیا تھا ۔ انہوں نے بھی ہدایت کی راہ ترک کرکے اپنی خواہشات نفس کو الہ بنانا تھا ۔ آنے والے داعیان حق کو جھٹلانا تھا اور بعض کو قتل کرنا تھا بعینہ اسی طرح جس طرح بنی اسرائیل کے باغیوں اور نافرمانوں نے کیا تھا ۔

بنی اسرائیل کے یہ سرکش جب یہ سرکشیاں کر رہے تھے تو انہیں یقین تھا کہ ان پر اللہ کا کوئی عذاب نہ آئے گا اور ان سے کوئی مواخذہ نہ ہوگا ۔ یہ سوچ ان کی اس لئے پختہ ہوگئی تھی کہ وہ سنت الہیہ کو بھول گئے تھے اور وہ اس غرور میں گرفتار تھے کہ وہ تو اللہ تعالیٰ کی پیاری قوم ہیں ۔

(آیت) ” وحسبوا الاتکون فتنہ فعموا وصموا “ (5 : 71) ” اور اپنے نزدیک یہ سمجھے کہ کوئی فتنہ رونمانہ ہوگا ‘ اس لئے اندھے اور بہرے بن گئے ۔ “

ان کی آنکھوں کی بصارت چلی گئی ‘ اس لئے وہ جس کو بھی دیکھتے اسے نہ سمجھتے اور ان کے کانوں پر پردے پڑگئے ‘، اس لئے جو چیز بھی سنتے اس سے فائدہ نہ اٹھاتے تھے ۔

(آیت) ” ثم تاب اللہ علیھم “۔ (5 : 71) ” اس کے بعد اللہ نے انہیں پھر معاف کیا “۔ یہ اللہ خاص رحمت تھی مگر انہوں نے اس اک بھی کچھ پاس نہ کیا ۔ (آیت) ” ثم عموا وصموا کثیرا منھم “۔ (5 : 71) پھر وہ اندھے اور بہرے بن گئے ان سے اکثر لوگ “۔

(آیت) ” (واللہ بصیر بما یعملون) “۔ (5 : 71) اللہ انکی سب حرکات کو دیکھتا رہا ہے “۔ اس لئے وہ انہیں انکی تمام حرکات پر انکو جزاء دے گا اور وہ بچ نہ سکیں گے ۔

اہل ایمان کے لئے یہاں اس قدر کافی ہے کہ وہ بنی اسرائیل کے بارے میں جان لیں اور اپنے جدید موقف کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں تاکہ اہل ایمان اس بات پر یکسو ہوجائیں اور ان کے ساتھ تعلق موالات کے بارے میں سوچنا ہی چھوڑ دیں ۔ جس طرح حضرت عبادہ ابن الصامت ؓ نے کہا کہ انہوں نے متنفر ہو کر تعلق موالات کے خاتمہ کا اعلان کردیا اور عبداللہ ابن ابی السلول جیسے منافقین نے اس تعلق کو جاری رکھا ۔

یہ تو تھے حالات یہودیوں کے ۔ رہے نصاری تو ان کے شب وروز بھی ایسے …

Al-Maaida 5:70Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.