سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :92
عربی محاورے کے مطابق کسی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بخیل ہے ، عطا اور بخشش سے اس کا ہاتھ رکا ہوا ہے ۔ پس یہودیوں کے اس قول کا مطلب یہ نہیں ہے کہ واقعی اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اللہ بخیل ہے ۔ چونکہ صدیوں سے یہودی قوم ذلت و نکبت کی حالت میں مبتلا تھی اور اس کی گزشتہ عظمت محض ایک افسانہ پارینہ بن کر رہ گئی تھی جس کے پھر واپس آنے کا کوئی امکان انہیں نظر نہ آتا تھا ، اس لیے بالعموم اپنے قومی مصائب پر ماتم کرتے ہوئے اس قوم کے نادان لوگ یہ بیہودہ فقرہ کہا کرتے تھے کہ معاذ اللہ خدا تو بخیل ہو گیا ہے ، اس کے خزانے کا منہ بند ہے ، ہمیں دینے کے لیے اس کے پاس آفات اور مصائب کے سوا اور کچھ نہیں رہا ۔ یہ بات کچھ یہودیوں تک ہی محدود نہیں ، دوسری قوموں کے جہلاء کا بھی یہی حال ہے کہ جب ان پر کوئی سخت وقت آتا ہے تو خدا کی طرف رجوع کرنے کے بجائے وہ جل جل کر اس قسم کی گستاخانہ باتیں کیا کرتے ہیں ۔
سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :93
یعنی بخل میں یہ خود مبتلا ہیں ۔ دنیا میں اپنے بخل اور اپنی تنگ دلی کے لیے ضرب المثل بن چکے ہیں ۔
سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :94
یعنی اس قسم کی گستاخیاں اور طعن آمیز باتیں کر کے یہ چاہیں کہ خدا ان پر مہربان ہو جائے اور عنایات کی بارش کرنے لگے تو یہ کسی طرح ممکن نہیں ۔ بلکہ ان باتوں کا الٹا نتیجہ یہ ہے کہ یہ لوگ خدا کی نظر عنایت سے اور زیادہ محروم اور اس کی رحمت سے اور زیادہ دور ہوتے جاتے ہیں ۔
سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :95
یعنی بجائے اس کے کہ اس کلام کو سن کر وہ کوئی مفید سبق لیتے ، اپنی غلطیوں اور غلط کاریوں پر متنبہ ہو کر ان کی تلافی کرتے ، اور اپنی گری ہوئی حالت کے اسباب معلوم کر کے اصلاح کی طرف متوجہ ہوتے ، ان پر اس کا الٹا اثر یہ ہوا ہے کہ ضد میں آکر انہوں نے حق و صداقت کی مخالفت شروع کر دی ہے ۔ خیر و صلاح کے بھولے ہوئے سبق کو سن کر خود راہ راست پر آنا تو درکنار ، ان کی الٹی کوشش یہ ہے کہ جو آواز اس سبق کو یاد دلا رہی ہے اسے دبا دیں تاکہ کوئی دوسرا بھی اسے نہ سننے پائے ۔