Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 61–70 of 120

61

وَإِذَا جَآءُوكُمْ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا وَقَد دَّخَلُوا۟ بِٱلْكُفْرِ وَهُمْ قَدْ خَرَجُوا۟ بِهِۦ ۚ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا۟ يَكْتُمُونَ

اور جب یہ لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے حالانکہ کفر لے کر آتے ہیں اور اسی کو لیکر جاتے ہیں اور جن باتوں کو یہ مخفی رکھتے ہیں خدا ان کو خوب جانتا ہے

Explained together with ayah 60

Al-Maaida 5:61Listen in Qur'an →
62

وَتَرَىٰ كَثِيرًۭا مِّنْهُمْ يُسَٰرِعُونَ فِى ٱلْإِثْمِ وَٱلْعُدْوَٰنِ وَأَكْلِهِمُ ٱلسُّحْتَ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ

اور تم دیکھو گے کہ ان میں اکثر گناہ اور زیادتی اور حرام کھانے میں جلدی کر رہے ہیں بےشک یہ جو کچھ کرتے ہیں برا کرتے ہیں

خلاصہ تفسیر - اور آپ ان (یہودیوں) میں بہت آدمی ایسے دیکھتے ہیں جو دوڑ دوڑ کر گناہ (یعنی جھوٹ) اور ظلم اور حرام (مال) کھانے پر گرتے ہیں واقعی ان کے یہ کام برے ہیں (یہ تو عوام کا حال تھا آگے خواص کا حال ہے کہ) ان کو مشائخ اور علماء گناہ کی بات کہنے سے (باوجود علم مسئلہ و اطلاع واقعہ کے) کیوں نہیں منع کرتے، واقعی ان کی یہ عادت بری ہے۔- معارف و مسائل - یہود کی اخلاقی تباہ حالی - آیت مذکورہ میں سے پہلی آیت میں اکثر یہود کی اخلاقی گراوٹ اور عملی بربادی کا ذکر ہے، تاکہ سننے والوں کو نصیحت ہو کہ ان افعال اور ان کے اسباب سے بچتے رہیں۔- اگرچہ عام طور پر یہودیوں کا یہی حال تھا لیکن ان میں کچھ اچھے لوگ بھی تھے۔ قرآن کریم نے ان کو مستثنیٰ کرنے کے لئے لفظ کثیراً استعمال فرمایا، اور ظلم وتعدی اور حرام خوری دونوں اگرچہ لفظ اثم یعنی گناہ کے مفہوم میں داخل ہیں۔ لیکن ان دونوں قسم کے گناہوں کی تباہ کاری اور ان کی وجہ سے پورے امن و اطمینان کی بربادی واضح کرنے کے لئے خصوصیت کے ساتھ ان کا ذکر علٰیحدہ کردیا (بحر محیط) ۔- اور تفسیر روح المعانی وغیرہ میں ہے کہ ان لوگوں کے متعلق دوڑ دوڑ کر گناہوں پر گرنے کا عنوان اختیار کر کے قرآن کریم نے اس کی طرف اشارہ فرمایا، کہ یہ لوگ ان بری خصلتوں کے عادی مجرم ہیں۔ اور یہ برے اعمال ان کے ملکات راسخہ بن کر ان کی رگ و پے میں اس طرح پیوست ہوگئے ہیں کہ بلا ارادہ بھی یہ لوگ اسی طرف چلتے ہیں۔- اس سے معلوم ہوا کہ نیک عمل ہو یا بد جب کوئی انسان اس کو بکثرت کرتا ہے تو رفتہ رفتہ وہ ایک ملکہ راسخہ اور عادت بن جاتی ہے۔ پھر اس کے کرنے میں اس کو کوئی مشقت اور تکلیف باقی نہیں رہتی، بری خصلتوں میں یہود اسی حد پر پہنچے ہوئے تھے۔ اس کو ظاہر کرنے کے لئے ارشاد فرمایا : يُسَارِعُوْنَ فِي الْاِثْمِ ، اور اسی طرح اچھی خصلتوں میں انبیاء و اولیاء کا حال ہے۔ ان کے بارے میں بھی قرآن کریم نے (آیت) یسارعون فی الخیرات کے الفاظ استعمال فرمائے۔

Al-Maaida 5:62Listen in Qur'an →
63

لَوْلَا يَنْهَىٰهُمُ ٱلرَّبَّٰنِيُّونَ وَٱلْأَحْبَارُ عَن قَوْلِهِمُ ٱلْإِثْمَ وَأَكْلِهِمُ ٱلسُّحْتَ ۚ لَبِئْسَ مَا كَانُوا۟ يَصْنَعُونَ

بھلا ان کے مشائخ اور علماء انہیں گناہ کی باتوں اور حرام کھانے سے منع کیوں نہیں کرتے؟ بلاشبہ وہ بھی برا کرتے ہیں

اصلاح اعمال کا طریقہ - اصلاح اعمال کا سب سے زیادہ اہتمام کرنے والے حضرات صوفیائے کرام اور اولیاء اللہ ہیں۔ ان حضرات نے انہی ارشادات قرآنیہ سے یہ اہم اصول اخذ کیا ہے کہ جتنے برے یا بھلے اعمال انسان کرتا ہے اصل میں ان کا اصل سرچشمہ وہ مخفی ملکات اور اخلاق ہوتے ہیں جو انسان کی طبیعت ثانیہ بن جاتے ہیں۔ اسی لئے برے اعمال اور جرائم کی روک تھام کے لئے ان کی نظر انہی مخفی ملکات پر ہوتی ہے اور ان کی اصلاح کردیتے ہیں تو تمام اعمال خود بخود درست ہونے لگتے ہیں۔ مثلاً کسی کے دل میں مال دنیا کی حرص کا غلبہ ہے، وہ اس کے نتیجہ میں رشوت بھی لیتا ہے سود بھی کھاتا ہے اور موقع ملے تو چوری اور ڈاکہ تک بھی نوبت پہنچ جاتی ہے۔ حضرات صوفیائے کرام ان جرائم کا الگ الگ علاج کرنے کے بجائے وہ نسخہ استعمال کرتے ہیں جس سے ان سب جرائم کی بنیاد منہدم ہوجائے، اور وہ ہے دنیا کی ناپائیداری اور اس کی عیش و عشرت کے زہر آلود ہونے کا استحضار۔- اسی طرح کسی کے دل میں تکبر، غرور ہے یا وہ غصہ میں مغلوب ہے اور دوسروں کی تحقیر و توہین کرتا ہے۔ دوستوں اور پڑوسیوں سے لڑتا ہے۔ یہ حضرات فکر آخرت اور خدا تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کو مستحضر کرنے والا نسخہ استعمال کرتے ہیں۔ جن سے یہ اعمال بد خودبخود ختم ہوجاتے ہیں۔- خلاصہ یہ ہے کہ اس قرآنی اشارہ سے معلوم ہوا کہ انسان میں کچھ ملکات ہوتے ہیں جو طبیعت ثانیہ بن جاتے ہیں یہ ملکات خیر اور بھلائی کے ہیں تو نیک عمل خود بخود ہونے لگتے ہیں، اسی طرح ملکات برے ہیں تو برے اعمال کی طرف انسان خودبخود دوڑنے لگتا ہے، مکمل اصلاح کے لئے ان ملکات کی اصلاح ضروری ہے۔- علماء پر عوام کے اعمال کی ذمہ داری - دوسری آیت میں یہود کے مشائخ اور علماء کو اس پر سخت تنبیہ کی گئی کہ وہ ان لوگوں کو برے اعمال سے کیوں نہیں روکتے۔ قرآن میں اس جگہ دو لفظ استعمال کئے گئے ہیں، ایک ربٰنیون، جس کا ترجمہ ہے اللہ والے، یعنی عابد، زاہد، جن کو ہمارے عرف میں درویش یا پیر یا مشائخ کہا جاتا ہے۔ اور دوسرا لفظ احبار استعمال فرمایا، یہود کے علماء کو احبار کہا جاتا ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اصل ذمہ داری ان دو طبقوں پر ہے ایک مشائخ، دوسرے علماء اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ ربانیون سے مراد وہ علماء ہیں جو حکومت کی طرف سے مامور اور بااقتدار ہوں اور احبار سے مراد عام علماء ہیں، اس صورت میں جرائم سے روکنے کی ذمہ داری حکام اور علماء دونوں پر عائد ہوجاتی ہے اور بعض دوسری آیات میں اس کی تصریح بھی ہے۔- علماء و مشائخ کیلئے تنبیہ - آخر آیت میں فرمایا لَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ یعنی ان مشائخ و علماء کی یہ سخت بری عادت ہے کہ اپنا فرض منصبی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑ بیٹھے، قوم کو ہلاکت کی طرف جاتا ہوا دیکھتے ہیں اور یہ ان کو نہیں روکتے۔- علماء مفسرین نے فرمایا کہ پہلی آیت جس میں عوام کی غلط کاریوں کا ذکر تھا، اس کے آخر میں تو لَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ارشاد فرمایا گیا، وجہ یہ ہے کہ عربی لغت کے اعتبار سے لفظ فعل تو ہر کام کو شامل ہے۔ خواہ باقصد ہو یا بلا قصد اور لفظ عمل صرف اس کام کے لئے بولا جاتا ہے جو قصد و ارادہ سے کیا جائے، اور لفظ صنع اور صنعت کا ایسے کام کے لئے اطلاق کیا جاتا ہے جس میں قصد و اختیار بھی ہو اور اس کو بار بار بطور عادت اور مقصد کے درست کرکے کیا جائے، اس لئے عوام کی بدعملی کے نتیجہ میں تو صرف لفظ عمل اختیار فرمایا، ۭلَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ ، اس میں اس کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے کہ ان کے علماء و مشائخ کی یہ غلط روش کہ یہ جانتے بوجھتے ہوئے کہ اگر ہم ان کو منع کریں گے تو یہ ہمارا کہنا سنیں گے اور باز آجائیں گے، پھر بھی ان لوگوں کے نذرانوں کے لالچ یا بداعتقاد ہوجانے کے خوف سے ان کے دلوں میں حمایت حق کا کوئی داعیہ پیدا نہیں …

Al-Maaida 5:63Listen in Qur'an →
64

وَقَالَتِ ٱلْيَهُودُ يَدُ ٱللَّهِ مَغْلُولَةٌ ۚ غُلَّتْ أَيْدِيهِمْ وَلُعِنُوا۟ بِمَا قَالُوا۟ ۘ بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ يُنفِقُ كَيْفَ يَشَآءُ ۚ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًۭا مِّنْهُم مَّآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ طُغْيَٰنًۭا وَكُفْرًۭا ۚ وَأَلْقَيْنَا بَيْنَهُمُ ٱلْعَدَٰوَةَ وَٱلْبَغْضَآءَ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ ۚ كُلَّمَآ أَوْقَدُوا۟ نَارًۭا لِّلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا ٱللَّهُ ۚ وَيَسْعَوْنَ فِى ٱلْأَرْضِ فَسَادًۭا ۚ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ ٱلْمُفْسِدِينَ

اور یہود کہتے ہیں کہ خدا کا ہاتھ (گردن سے) بندھا ہوا ہے (یعنی الله بخیل ہے) انہیں کے ہاتھ باندھے جائیں اور ایسا کہنے کے سبب ان پر لعنت ہو (اس کا ہاتھ بندھا ہوا نہیں) بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں وہ جس طرح (اور جتنا) چاہتا ہے خرچ کرتا ہے اور (اے محمد) یہ (کتاب) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوئی اس سے ان میں سے اکثر کی شرارت اور انکار اور بڑھے گا اور ہم نے ان کے باہم عداوت اور بغض قیامت تک کے لیے ڈال دیا ہے یہ جب لڑائی کے لیے آگ جلاتے ہیں خدا اس کو بجھا دیتا ہے اور یہ ملک میں فساد کے لیے دوڑے پھرتے ہیں اور خدا فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا

ربط آیات - گزشتہ آیات میں یہود کے بعض احوال کا ذکر تھا، آگے ان آیات سے بھی مزید بعض خاص حالات بیان کئے گئے ہیں، جن کا قصہ یہ ہوا کہ نباش بن قیس، اور فخاص رئیس یہود قینقاع نے حق تعالیٰ کی جناب میں گستاخانہ الفاظ بخل وغیرہ کے کہے، جس کا بیان آگے آتا ہے، اس پر اگلی آیت نازل ہوئی، کذا فی اللباب بروایة الطبرانی عن ابن عباس وبروایة ابی الشیخ عنہ - خلاصہ تفسیر - اور یہود نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بند ہوگیا ہے (یعنی نعوذ باللہ بخل کرنے لگا ہے، درحقیقت) انہی کے ہاتھ بند ہیں (یعنی واقع میں خود عیب بخل میں مبتلا ہیں، اور خدا پر عیب دھرتے ہیں) اور اپنے اس کہنے سے یہ رحمت (الٓہی) سے دور کر دئیے گئے، (جس کا اثر دنیا میں ذلت اور قید اور قتل وغیرہ ہوا، اور آخرت میں عذاب جہنم، اور حاشا وکلا کہ خدا تعالیٰ میں اس کا احتمال بھی ہو) بلکہ ان کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں (یعنی بڑے جواد و کریم ہیں، لیکن چونکہ حکیم بھی ہیں اس لئے) جس طرح چاہتے ہیں خرچ کرتے ہیں (پس یہود پر جو تنگی ہوئی اس کی علت حکمت ہے کہ ان کے کفر کا وبال ان کو چکھانا مقصود ہے نہ کہ بخل اس کی علت ہو) اور (یہود کے کفر اور سرکشی کی یہ حالت ہے کہ ان کو یہ توفیق نہ ہوگی کہ مثلاً اپنے قول کا بطلان بدلیل سن لیا تو اس سے توبہ کرلیں، نہیں بلکہ) جو مضمون آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پروردگار کی طرف سے بھیجا جاتا ہے، وہ ان میں سے بہتوں کی سرکشی اور کفر کی ترقی کا سبب ہوجاتا ہے (اس طرح سے کہ وہ اس کا بھی انکار کرتے ہیں، تو کچھ تو پہلا طغیان اور کفر تھا پھر اور بڑھ گیا) اور (ان کے کفر سے جو ان پر لعنت یعنی رحمت سے دوری واقع کی گئی ہے اس کے آثار دنیویہ میں سے ایک یہ ہے کہ) ہم نے ان میں باہم (دین کے باب میں) قیامت تک عداوت اور بغض ڈال دیا (چنانچہ ان میں مختلف فرقے ہیں، اور ہر فرقہ دوسرے کا دشمن، چناچہ باہمی عداوت و بغض کی وجہ سے) جب کبھی (مسلمانوں کے ساتھ) لڑائی کی آگ بھڑکانا چاہتے ہیں (یعنی لڑنے کا ارادہ کرتے ہیں) حق تعالیٰ اس کو فرد کردیتے ہیں، (اور بجھا دیتے ہیں، یعنی مرعوب ہوجاتے ہیں، یا لڑ کر مغلوب ہوجاتے ہیں، یا آپس کے اختلاف کی وجہ سے اتفاق کی نوبت نہیں آتی) اور (جب لڑائی سے وہ جاتے ہیں تو اپنی عداوت دوسری طرح نکالتے ہیں کہ) ملک میں (خفیہ) فساد کرتے پھرتے ہیں (جیسے نو مسلموں کو بہکانا، لگائی بجھائی کرنا، عوام کو توریت کے محرف مضامین سنا کر اسلام سے روکنا) اور اللہ تعالیٰ (چونکہ) فساد کرنے والوں کو محبوب نہیں رکھتے (یعنی مبغوض رکھتے ہیں، اس لئے اس فساد کی ان کو خوب سزا ہوگی خواہ دنیا میں بھی ورنہ آخرت میں تو ضرور) اور اگر یہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ جن امور حقہ کے منکر ہیں، جیسے رسالت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) و حقیت قرآن ان سب پر) ایمان لے آتے اور (رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے واسطہ سے جن امور کو کفر و معصیت ہونا بتلایا گیا ہے ان سب سے) تقویٰ (یعنی پرہیز) اختیار کرتے تو ہم ضرور ان کی تمام (گزشتہ) برائیاں (کفر اور شرک اور معاصی جن میں سب اقوال و احوال آگئے) معاف کردیتے اور (معاف کرکے) ضرور ان کو چین (اور آرام) کے باغوں میں (یعنی بہشت میں) داخل کرتے (تو یہ برکات اخرویہ ہوئیں) اور اگر یہ لوگ (ایمان اور تقویٰ مذکور اختیار کرتے جس کو بعنوان دیگر یوں کہا جاتا ہے کہ) توریت کی اور انجیل کی اور جو کتاب ان کے پروردگار کی طرف سے (اب) ان کے پاس (بواسطہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے) بھیجی گئی (یعنی قرآن) اس کی پوری پابندی کرتے (یعنی ان میں جس جس بات پر عمل کرنے کو لکھا ہے سب پر پورا عمل کرتے، اس میں تصدیق رسالت بھی آگئی، اور اس سے احکام محرفہ و منسوخہ نکل گئے، کیونکہ ان کتب کا مجموعہ ان پر عمل کرنے کو نہیں بتلاتا بلکہ منع کرتا ہے) تو یہ لوگ ( بوجہ …

Al-Maaida 5:64Listen in Qur'an →
65

وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ ءَامَنُوا۟ وَٱتَّقَوْا۟ لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّـَٔاتِهِمْ وَلَأَدْخَلْنَٰهُمْ جَنَّٰتِ ٱلنَّعِيمِ

اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور پرہیز گاری کرتے تو ہم ان سے ان کے گناہ محو کر دیتے اور ان کو نعمت کے باغوں میں داخل کرتے

Explained together with ayah 64

Al-Maaida 5:65Listen in Qur'an →
66

وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُوا۟ ٱلتَّوْرَىٰةَ وَٱلْإِنجِيلَ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْهِم مِّن رَّبِّهِمْ لَأَكَلُوا۟ مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِهِم ۚ مِّنْهُمْ أُمَّةٌۭ مُّقْتَصِدَةٌۭ ۖ وَكَثِيرٌۭ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا يَعْمَلُونَ

اور اگر وہ تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئیں ان کو قائم رکھتے (تو ان پر رزق مینہ کی طرح برستا کہ) اپنے اوپر سے پاؤں کے نیچے سے کھاتے ان میں کچھ لوگ میانہ رو ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جن کے اعمال برے ہیں

احکام الٰہیہ پر پورا عمل کس طرح ہوتا ہے - (قولہ تعالیٰ ) وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ ، اس آیت میں اسی ایمان اور تقویٰ کی کچھ تفصیل مذکور ہے، جس پر دنیوی برکات آرام و راحت کا وعدہ پچھلی آیت میں کیا گیا ہے، اور تفصیل یہ ہے کہ تورات و انجیل اور ان کے بعد جو آخری کتاب قرآن بھیجی گئی اس کو قائم کریں، یہاں عمل کرنے کے بجائے لفظ ” اقامت “ یعنی قائم کرنے کا لایا گیا، مراد یہ ہے کہ ان کی تعلیمات پر پورا پورا صحیح عمل جب ہوگا کہ نہ اس میں کوتاہی اور کمی ہو اور نہ زیادتی، جس طرح کسی عمود کو قائم اسی وقت کہا جاسکتا ہے جب وہ کسی طرف مائل نہ ہو، سیدھا کھڑا ہو - اس کا حاصل یہ ہوا کہ یہود اگر آج بھی تورات و انجیل اور قرآن کریم کی ہدایات پر ایمان لے آئیں، اور ان پر پورا پورا عمل مطابق ہدایات کے کریں، نہ عملی کوتاہی میں مبتلا ہوں نہ غلو اور تعدی میں، کہ خود ساختہ چیزوں کو دین قرار دیدیں، تو آخرت کی موعودہ نعمتوں کے مستحق ہوں گے، اور دنیا میں بھی ان پر رزق کے دروازے اس طرح کھول دیئے جائیں گے، کہ اوپر سے رزق برسے گا اور نیچے سے ابلے گا، نیچے اوپر سے مراد بظاہر یہ ہے کہ آسانی کے ساتھ مسلسل رزق عطا ہوگا (تفسیر کبیر) ۔- اوپر کی آیت میں تو صرف آخرت کی نعمتوں کا وعدہ تھا، اس آیت میں دنیاوی آرام و راحت کا وعدہ بھی بڑی تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا گیا، اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ یہود کی بدعملی اور احکام توریت و انجیل میں تحریف و تاویل اور توڑ مروڑ کی بڑی وجہ ان کی دنیا پرستی اور حرص مال تھی، اور یہ وہ آفت تھی جس نے ان کو قرآن کریم اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آیات بینات دیکھنے کے باوجود ان کی اطاعت سے روکا ہوا تھا، ان کو خطرہ یہ تھا کہ اگر ہم مسلمان ہوجائیں گے تو ہماری یہ چودھراہٹ ختم ہوجائے گی، اور دینی پیشوا ہونے کی حیثیت سے جو نذرانے اور ہدایا ملتے ہیں ان کا سلسلہ بند ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس وسوسہ کو دور کرنے کے لئے یہ بھی وعدہ فرما لیا کہ اگر وہ سچے طور پر ایمان اور عمل صالح اختیار کرلیں تو ان کی دنیوی دولت و راحت میں بھی کوئی کمی نہیں ہوگی بلکہ زیادتی ہوجائے گی۔- ایک شبہ کا جواب - اس تفصیل سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ یہ خاص وعدہ ان یہودیوں کے ساتھ کیا گیا تھا جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں موجود اور آپ کے مخاطب تھے۔ وہ اگر ان احکام کو مان لیتے تو دنیا میں بھی ان کو ہر طرح کی نعمت و راحت دے دی جاتی۔ چناچہ اس وقت جن حضرات نے ایمان اور عمل صالح اختیار کرلیا ان کو یہ نعمتیں پوری ملیں جیسے نجاشی سلطان حبشہ اور عبداللہ بن سلام (رض) ، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ جب کوئی ایمان و عمل صالح کا پابند ہوجائے تو دنیا میں اس کے لئے رزق کی وسعت ضروری ہوگی، اور جو نہ ہو تو اس کے لئے رزق کی تنگی ضروری ہوگی۔ کیونکہ یہاں کوئی عام قاعدہ ضابطہ بیان فرمانا مقصود نہیں، ایک خاص جماعت سے خاص حالات میں وعدہ کیا گیا ہے۔- البتہ ایمان اور عمل صالح پر عام قاعدہ اور ضابطہ کی صورت سے حیات طیبہ یعنی پاکیزہ زندگی عطا ہونے کا وعدہ عام ہے۔ مگر وہ وسعت رزق کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے اور ظاہری تنگدستی کی صورت میں بھی جیسا کہ انبیاء و اولیاء (علیہم السلام) کے حالات اس پر شاہد ہیں کہ سب کو ہمیشہ وسعت رزق تو نہیں ملی لیکن پاکیزہ زندگی سب کو عطا ہوئی۔- آخر آیت میں بتقاضائے عدل و انصاف یہ بھی فرما دیا کہ جو کجروی اور بدعملی یہود کی بیان کی گئی ہے یہ سب یہود کا حال نہیں، بلکہ مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ ۭ، ان میں ایک تھوڑی سی جماعت راہ راست پر بھی ہے، لیکن ان کی اکثریت بدکار، بد عمل ہے، راہ راست پر ہونے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو پہلے یہودی یا نصرانی تھے، پھر قرآن کریم اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے۔ ان دونوں …

Al-Maaida 5:66Listen in Qur'an →
67

۞ يَٰٓأَيُّهَا ٱلرَّسُولُ بَلِّغْ مَآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُۥ ۚ وَٱللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ ٱلنَّاسِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلْكَٰفِرِينَ

اے پیغمبر جو ارشادات خدا کی طرف سے تم پر نازل ہوئے ہیں سب لوگوں کو پہنچا دو اور اگر ایسا نہ کیا تو تم خدا کے پیغام پہنچانے میں قاصر رہے (یعنی پیغمبری کا فرض ادا نہ کیا) اور خدا تم کو لوگوں سے بچائے رکھے گا بیشک خدا منکروں کو ہدایت نہیں دیتا

تبلیغ کی تاکید اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی - اس کا ایک اثر طبعی طور پر بتقاضائے بشریت یہ بھی ہوسکتا تھا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مایوس ہو کر یا مجبور ہو کر تبلیغ و رسالت میں کچھ کمی ہوجائے اور دوسرا اثر یہ بھی ہوسکتا تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مخالفت اور دشمنی اور ایذاء رسانی کی پرواہ کئے بغیر تبلیغ رسالت میں لگے رہیں، اور اس کے نتیجہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دشمنوں کے ہاتھ سے تکالیف و مصائب کا سامنا ہو۔ اس لئے تیسری آیت میں ایک طرف تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ تاکیدی حکم دے دیا گیا کہ جو کچھ آپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جائے وہ سب کا سب بغیر کسی جھجک کے آپ لوگوں کو پہنچا دیں، کوئی برا مانے یا بھلا۔ اور مخالفت کرے یا قبول کرے، اور دوسری طرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ خوشخبری دے کر مطمئن بھی کردیا گیا کہ تبلیغ رسالت کے سلسلہ میں یہ کفار آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ خود آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حفاظت فرمائیں گے۔- اس آیت میں ایک جملہ تو یہ قابل غور ہے کہ وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ ، مراد اس کی یہ ہے کہ اگر کوئی ایک حکم خداوندی بھی آپ نے امت کو نہ پہنچایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے فرض پیغمبری سے سبکدوش نہیں ہوں گے، یہی وجہ تھی کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام عمر اس فریضہ کی ادائیگی میں اپنی پوری ہمت و قوت صرف فرمائی اور حجة الوداع کا مشہور خطبہ جو ایک حیثیت سے اسلام کا آئین اور دستور تھا اور دوسری حیثیت سے ایک رؤف و رحیم اور ماں باپ سے زیادہ شفیق پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آخری وصیت تھی۔- حجة الوداع کے موقع پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک نصیحت - اس خطبہ میں آپ نے صحابہ کرام کے ایک عظیم مجمع کے سامنے اہم ہدایات فرمانے کے بعد مجمع سے سوال فرمایا :- الا ھل بلغت۔ دیکھو کیا میں نے آپ کو دین پہنچا دیا ؟ صحابہ کرام نے اقرار فرمایا کہ ضرور پہنچایا۔ اس پر ارشاد فرمایا کہ آپ اس پر گواہ رہو، اسی کے ساتھ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ فلیبلغ الشاھد الغائب، ” یعنی جو لوگ اس مجمع میں حاضر ہیں وہ غائبوں تک میری بات پہنچا دیں “۔ غائبین میں وہ لوگ بھی داخل ہیں جو اس وقت دنیا میں موجود تھے، مگر مجمع میں حاضر نہ تھے۔ اور وہ لوگ بھی داخل ہیں جو ابھی پیدا نہیں ہوئے، ان کو پیغام پہنچانے کا طریقہ علم دین کی نشر و اشاعت تھی جس کو حضرات صحابہ (رض) وتابعین رحمة اللہ علیہم نے پوری کوشش سے انجام دیا۔ - اسی کا یہ اثر تھا کہ عام حالات میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشادات و کلمات کو اللہ کی ایک بھاری امانت کی طرح محسوس فرمایا، اور مقدور بھر اس کی کوشش کی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارک سے سنا ہوا کوئی جملہ ایسا نہ رہ جائے جو امت کو نہ پہنچے۔ اگر کسی خاص سبب یا مجبوری سے کسی نے کسی خاص حدیث کو لوگوں سے بیان نہیں کیا تو اپنی موت سے پہلے دو چار آدمیوں کو ضرور سنا دیا، تاکہ وہ اس امانت سے سبکدوش ہوجائیں۔ صحیح بخاری میں حضرت معاذ (رض) کی ایک حدیث اپنی موت کے وقت بیان فرمائی، تاکہ اس امانت کے نہ پہنچانے کی وجہ سے گنہگار نہ ہوجائیں۔- آیت کے دوسرے جملہ واللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ، میں بشارت دی گئی ہے کہ ہزاروں مخالفتوں کے باوجود دشمن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔- حدیث میں ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے چند صحابہ کرام آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حفاظت کے لئے عام طور پر ساتھ لگے رہتے تھے۔ اور سفر و حضر میں آپ کی حفاظت کرتے تھے۔ اس آیت کے نزول کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سب کو رخصت …

Al-Maaida 5:67Listen in Qur'an →
68

قُلْ يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ لَسْتُمْ عَلَىٰ شَىْءٍ حَتَّىٰ تُقِيمُوا۟ ٱلتَّوْرَىٰةَ وَٱلْإِنجِيلَ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ ۗ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًۭا مِّنْهُم مَّآ أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ طُغْيَٰنًۭا وَكُفْرًۭا ۖ فَلَا تَأْسَ عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْكَٰفِرِينَ

کہو کہ اے اہل کتاب! جب تک تم تورات اور انجیل کو اور جو (اور کتابیں) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم لوگوں پر نازل ہوئیں ان کو قائم نہ رکھو گے کچھ بھی راہ پر نہیں ہو سکتے اور یہ (قرآن) جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور کفر اور بڑھے گا تو تم قوم کفار پر افسوس نہ کرو

ربط آیات - اوپر اہل کتاب کو اسلام کی ترغیب تھی، آگے ان کے موجودہ طریقہ کا جس کے حق ہونے کے وہ مدعی تھے عند اللہ ناکارہ اور نجات میں ناکافی ہونا اور نجات کا اسلام پر موقوف ہونا مذکور ہے۔ اور اس کے بعد بھی ان کے اصرار علی الکفر پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے تسلی کا مضمون ارشاد فرمایا ہے اور درمیان میں ایک خاص مناسبت اور ضرورت سے تبلیغ کا مضمون آگیا تھا۔- خلاصہ تفسیر - آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ان یہود و نصاریٰ سے) کہئے کہ اے اہل کتاب تم کسی راہ پر بھی نہیں (کیونکہ غیر مقبول راہ پر ہونا مثل بےراہی کے ہے) جب تک کہ توریت کی اور انجیل کی اور جو کتاب (اب) تمہارے پاس (بواسطہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے) تمہارے رب کی طرف سے بھیجی گئی ہے (یعنی قرآن) اس کی بھی پوری پابندی نہ کروگے (جس کے معنی اور ترغیب اور برکات اوپر مذکور ہوئے ہیں) اور (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چونکہ ان میں اکثر لوگ تعصب مذموم میں مبتلا ہیں اس لئے یہ) ضرور (ہے کہ) جو مضمون آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رب کی طرف سے بھیجا جاتا ہے وہ ان سے بہتوں کی سرکشی اور کفر کی ترقی کا سبب ہوجاتا ہے (اور اس میں ممکن ہے کہ آپ کو رنج و غم ہو، لیکن جب یہ معلوم ہوگیا کہ یہ لوگ متعصب ہیں) تو آپ ان کافر لوگوں (کی اس حالت) پر غم نہ کیا کیجئے، یہ تحقیقی بات ہے کہ اور یہودی اور فرقہ صائبین اور نصاریٰ (ان سب میں) جو شخص یقین رکھتا ہو اللہ (کی ذات وصفات) پر اور قیامت پر اور کارگزاری اچھی کرے (یعنی موافق قانون شریعت کے) ایسوں پر (آخرت میں) نہ کسی طرح کا اندیشہ ہے اور نہ وہ مغموم ہوں گے۔- معارف و مسائل - اہل کتاب کو شریعت الٓہیہ کے اتباع کی ہدایت - پہلی آیت میں اہل کتاب، یہود و نصاریٰ کو شریعت الٓہیہ کے اتباع کی ہدایت اس عنوان سے فرمائی گئی تھی کہ اگر تم نے احکام شرعیہ کی پابندی نہ کی تو تم کچھ نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ شریعت اسلام کی پابندی کے بغیر تمہارے سارے کمالات اور اعمال سب اکارت ہیں۔ تم کو اللہ تعالیٰ نے ایک کمال فطری یہ عطا فرمایا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کی اولاد ہو، دوسرے تورات و انجیل کے عملی کمالات بھی تمہیں حاصل ہیں، تم میں سے بہت سے آدمی درویش منش بھی ہیں، مجاہدات و ریاضیات کرتے ہیں، مگر ان سب چیزوں کی قیمت اور وزن اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف اس پر موقوف ہے کہ تم شریعت الٓہیہ کا اتباع کرو۔ اس کے بغیر نہ کوئی نسبی فضیلت کام آوے گی نہ علمی تحقیقات تمہاری نجات کا سامان بنیں گی نہ تمہارے مجاہدات و ریاضیات۔- اس ارشاد میں مسلمانوں کو بھی یہ ہدایت مل گئی کہ کوئی درویشی اور سلوک و طریقت، مجاہدات و ریاضیات اور کشف والہام اس وقت تک اللہ کے نزدیک فضیلت اور نجات کی چیز نہیں جب تک کہ شریعت کی پوری پابندی نہ ہو۔ - اس آیت میں شریعت الٓہیہ کی پیروی کے لئے تین چیزوں کے اتباع کی ہدایت کی گئی ہے۔ اول تورات، دوسرے انجیل جو یہود و نصاریٰ کے لئے پہلے نازل ہوچکی تھیں، تیسری وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ ، یعنی جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے پاس بھیجا گیا۔- جمہور مفسرین، صحابہ (رض) وتابعین رحمة اللہ علیہم کا اس پر اتفاق ہے کہ اس سے مراد قرآن کریم ہے جو تمام امت دعوت کے لئے بشمول یہود و نصاریٰ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے واسطہ سے بھیجا گیا، اس لئے معنے آیت کے یہ ہوں گے کہ جب تک تم تورات، انجیل اور قرآن کے لائے ہوئے احکام پر صحیح صحیح اور پورا پورا عمل نہ کرو گے تمہارا کوئی نسبی یا علمی کمال اللہ کے نزدیک مقبول و معتبر نہیں ہوگا۔- یہاں ایک بات قابل غور ہے کہ اس آیت میں تورات و انجیل کی طرح قرآن کا مختصر نام ذکر کردینے کے بجائے ایک طویل جملہ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ استعمال فرمایا گیا ہے۔ اس میں کیا حکمت ہے ؟ ہوسکتا ہے کہ اس …

Al-Maaida 5:68Listen in Qur'an →
69

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَٱلَّذِينَ هَادُوا۟ وَٱلصَّٰبِـُٔونَ وَٱلنَّصَٰرَىٰ مَنْ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَعَمِلَ صَٰلِحًۭا فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ

جو لوگ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان لائیں گے اور عمل نیک کریں گے خواہ وہ مسلمان ہوں یا یہودی یا ستارہ پرست یا عیسائی ان کو (قیامت کے دن) نہ کچھ خوف ہو گا اور نہ غمناک ہوں گے

چار قوموں کو ایمان اور عمل صالح کی ترغیب اور آخرت میں نجات کا وعدہ - دوسری آیت میں حق تعالیٰ شانہ نے چار قوموں کو مخاطب کرکے ایمان اور عمل صالح کی ترغیب اور اس پر فلاح آخرت کا وعدہ فرمایا۔ ان میں سے پہلے الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا، یعنی مسلمان ہیں، دوسرے الَّذِيْنَ هَادُوْا، یعنی یہود، تیسرے صابئون، اور چوتھے نصاریٰ ۔ ان میں تین قومیں مسلمان، یہود، نصاریٰ معروف و مشہور اور دنیا کے اکثر خطوں میں موجود ہیں۔ صابئون یا صابہ کے نام سے آج کل کوئی قوم معروف نہیں۔ اسی لئے اس کی تعیین میں علماء و ائمہ کے اقوال مختلف ہیں۔ امام تفسیر ابن کثیر نے بحوالہ قتادہ رحمة اللہ علیہ ایک یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ صابئون وہ لوگ ہیں جو فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں اور قبلہ کے خلاف نماز پڑھتے ہیں اور آسمانی کتاب زبور کی تلاوت کرتے ہیں (جو حضرت داؤد (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی) ۔- قرآن کریم کے اس سیاق سے بظاہر اسی کی تائید ہوتی ہے کہ چار آسمانی کتابیں جن کا قرآن مجید میں ذکر ہے، تورات، زبور، انجیل اور قرآن، اس میں ان چار کتابوں کے ماننے والوں کا ذکر آگیا۔- اسی مضمون کی ایک آیت تقریباً انہی الفاظ کے ساتھ سورة بقرہ کے ساتویں رکوع میں گزر چکی ہے : (آیت) ان الذین امنوا والذین ھادوا تا ولا ھم یحزنون اس میں بتقاضائے مقام بعض الفاظ کی تقدیم و تاخیر کے سوا کوئی فرق نہیں۔- اللہ تعالیٰ کے نزدیک امتیاز کا مدار عمل صالح پر ہے - خلاصہ مضمون ان دونوں آیتوں کا یہ ہے کہ ہمارے دربار میں کسی کی نسبی، وطنی اور قومی خصوصیت کچھ نہیں جو شخص پوری اطاعت اعتقاد اور عمل صالح اختیار کرے گا، خواہ وہ پہلے سے کیسا ہی ہو، ہمارے یہاں مقبول اور اس کی خدمت مشکور ہے اور یہ ظاہر ہے کہ بعد نزول قرآن کے پوری اطاعت مسلمان ہونے میں منحصر ہے۔ کیونکہ کتب سابقہ تورات و انجیل میں بھی اس کی ہدایات موجود ہیں، اور قرآن کریم تو سراسر اسی کے لئے نازل ہوا۔ اسی لئے نزول قرآن اور بعثت خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد قرآن اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے بغیر نہ تورات و انجیل کا اتباع صحیح ہوسکتا ہے نہ زبور کا۔ تو مطلب آیت کا یہ ہوگا کہ ان تمام اقوام میں سے جو مسلمان ہوجائے گا آخرت میں نجات وثواب کا مستحق ہوگا۔ اس میں اس خیال کا جواب ہوگیا کہ یہ کفر و معصیت اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف شرارتیں جو اب تک کرتے رہے ہیں۔ مسلمان ہوجانے کے بعد ان کا کیا انجام ہوگا۔ معلوم ہوا کہ پچھلے سب گناہ اور خطائیں معاف کردی جائیں گی اور آخرت میں نہ ان لوگوں کو اندیشہ رہے گا نہ کوئی غم و رنج پیش آئے گا۔- مضمون پر نظر کرنے سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں مسلمانوں کا ذکر نہ ہونا چاہیے کیونکہ وہ تو ایمان و اطاعت کے اس مقام پر ہیں جو اس آیت میں مطلوب ہے۔ یہاں ذکر صرف ان لوگوں کا کرنا چاہئے جن کو اس مقام کی طرف بلانا ہے۔ مگر اس طرز خاص میں کہ مسلمانوں کا ذکر بھی ان کے ساتھ ملا دیا گیا ایک خاص بلاغت پیدا ہوگئی۔ اس کی ایسی مثال ہے کہ کوئی حاکم یا بادشاہ کسی ایسے موقع پر یوں کہے کہ ہمارا قانون عام ہے، خواہ کوئی موافق ہو یا مخالف جو شخص اطاعت کرے گا وہ مورد عنایت و انعام ہوگا۔ اب ظاہر ہے کہ موافق کو بھی ذکر کرنے میں حکمت یہ ہے کہ ہم کو جو موافقین کے ساتھ عنایت ہے وہ کسی نسبی یا قومی خصوصیت کی بناء پر نہیں بلکہ ان کی صفت اطاعت پر تمام عنایت و انعام کا مدار ہے۔ اگر مخالف بھی اطاعت اختیار کرے گا وہ بھی اسی لطف و عنایت کا مستحق ہوگا۔- متذکرہ چار قوموں کو خطاب کرکے جس امر کی ہدایت دی گئی اس کے تین جز ہیں، ایمان باللہ، ایمان بالیوم الآخر اور عمل صالح۔- ایمان بالرسالة کے بغیر نجات نہیں - ظاہر ہے کہ اس آیت میں تمام ایمانیات اور عقائد اسلام کی تفصیلات بیان کرنا منظور نہیں، نہ اس کا کوئی موقع ہے۔ اسلام کے چند …

Al-Maaida 5:69Listen in Qur'an →
70

لَقَدْ أَخَذْنَا مِيثَٰقَ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ وَأَرْسَلْنَآ إِلَيْهِمْ رُسُلًۭا ۖ كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُولٌۢ بِمَا لَا تَهْوَىٰٓ أَنفُسُهُمْ فَرِيقًۭا كَذَّبُوا۟ وَفَرِيقًۭا يَقْتُلُونَ

ہم نے بنی اسرائیل سے عہد بھی لیا اور ان کی طرف پیغمبر بھی بھیجے (لیکن) جب کوئی پیغمبر ان کے پاس ایسی باتیں لےکر آتا جن کو ان کے دل نہیں چاہتے تھے تو وہ (انبیاء کی) ایک جماعت کو تو جھٹلا دیتے اور ایک جماعت کو قتل کر دیتے تھے

خلاصہ تفسیر - ہم نے بنی اسرائیل سے (اول توریت میں تمام پیغمبروں کی تصدیق و اطاعت کا) عہد لیا اور (اس عہد کے یاد دلانے کو) ہم نے ان کے پاس بہت پیغمبر بھیجے (لیکن ان کی یہ حالت تھی کہ) جب کبھی ان کے پاس کوئی پیغمبر ایسا حکم لایا جس کو ان کا جی نہ چاہتا تھا (تب ہی ان کے ساتھ مخالفت سے پیش آئے) سو بعضوں کو (تو) جھوٹا بتلایا اور بعضوں کو (بیدھڑک) قتل ہی کر ڈالتے تھے اور (ہمیشہ ہر شرارت پر جب چند روز سزا سے مہلت دی گئی) یہی گمان کیا کہ کچھ سزا نہ ہوگی اس (گمان) سے اور بھی اندھے اور بہرے (کی طرح) بن گئے (کہ نہ دلائل صدق انبیاء کو دیکھا نہ ان کے کلام کو سنا) پھر (ایک مدت کے بعد) اللہ تعالیٰ نے ان پر (رحمت کے ساتھ) توجہ فرمائی (کہ اور کسی پیغمبر کو بھیجا کہ اب بھی راہ پر آویں مگر) پھر بھی (اسی طرح) اندھے اور بہرے بنے رہے یعنی (سب تو نہیں مگر) ان میں سے بہتیرے، اور اللہ تعالیٰ ان کے (ان) اعمال کو خوب دیکھنے والے ہیں (یعنی ان کا گمان غلط تھا، چناچہ ان کو وقتاً فوقتاً سزا بھی ہوتی رہی، مگر ان کا یہی شیوہ رہا۔ حتی کہ اب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اسی طرح تکذیب و خلاف کا برتاؤ کیا) ۔- معارف و مسائل - بنی اسرائیل کی عہد شکنی

ۭكُلَّمَا جَاۗءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰٓى اَنْفُسُهُمْ ، یعنی جب بنی اسرائیل کے پاس ان کا رسول کوئی حکم لاتا جو ان کے مذاج کے مطابق نہ ہوتا تو عہدو پیمان توڑ کر خدا سے غداری کرتے پھرتے۔ اللہ تعالیٰ کے پیغمبروں میں سے کسی کو جھٹلایا، کسی کو قتل کیا، یہ تو ان کے ” ایمان باللہ اور عمل صالح “ کا حال تھا۔ ” ایمان بالیوم الآخر “ کا اندازہ اس سے کرلو کہ اس قدر شدید مظالم اور باغیانہ جرائم کا ارتکاب کرکے بالکل بےفکر ہو بیٹھے۔ گویا ان حرکات کا کوئی خمیازہ بھگتنا نہیں پڑے گا۔ اور ظلم و بغاوت کے خراب نتائج کبھی سامنے نہ آئیں گے۔ یہ خیال کرکے خدائی نشانات اور خدائی کلام کی طرف سے بالکل ہی اندھے اور بہرے ہوگئے اور جو نا کرنے کے کام تھے وہ کئے۔ حتیٰ کہ بعض انبیاء کو قتل اور بعض کو قید کیا۔ آخر خدا تعالیٰ نے ان پر بخت نصر کو مسلط کیا۔ پھر ایک مدت دراز کے بعد بعض ملوک فارس نے بخت نصر کی قید ذلت و رسوائی سے چھڑا کر بابل سے بیت المقدس کو واپس کیا۔ اس وقت لوگوں نے توبہ کی اور اصلاح حال کی طرف متوجہ ہوئے۔ خدا نے توبہ قبول کی لیکن کچھ زمانہ کے بعد پھر وہی شرارتیں سوجھیں اور بالکل اندھے بہرے ہو کر حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ (علیہما السلام) کے قتل کی جرأت کی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل پر تیار ہوگئے۔ (فوائد عثمانی)

Al-Maaida 5:70Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.