سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :87
”مومنوں پر نرم“ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص اہل ایمان کے مقابلے میں اپنی طاقت کبھی استعمال نہ کرے ۔ اس کی ذہانت ، اس کی ہوشیاری ، اس کی قابلیت ، اس کا رسوخ و اثر ، اس کا مال ، اس کا جسمانی زور ، کوئی چیز بھی مسلمانوں کو دبانے اور ستانے اور نقصان پہنچانے کے لیے نہ ہو ۔ مسلمان اپنے درمیان اس کو ہمیشہ ایک نرم خو ، رحم دل ، ہمدرد اور حلیم انسان ہی پائیں ۔
”کفار پر سخت“ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ایک مومن آدمی اپنے ایمان کی پختگی ، دینداری کے خلوص ، اصول کی مضبوطی ، سیرت کی طاقت اور ایمان کی فراست کی وجہ سے مخلالفین اسلام کے مقابلہ میں پتھر کی چٹان کے مانند ہو کہ کسی طرح اپنے مقام سے ہٹایا نہ جا سکے ۔ وہ اسے کبھی موم کی ناک اور نرم چارہ نہ بنائیں ۔ انہیں جب بھی اس سے سابقہ پیش آئے ان پر یہ ثابت ہو جائے کہ یہ اللہ کا بندہ مر سکتا ہے مگر کسی قیمت پر بک نہیں سکتا اور کسی دباؤ سے دب نہیں سکتا ۔
سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :88
یعنی اللہ کے دین کی پیروی کرنے میں ، اس کے احکام پر عمل درآمد کرنے میں ، اور اس دین کی رو سے جو کچھ حق ہے اسے حق اور جو کچھ باطل ہے اسے باطل کہنے میں انہیں کوئی باک نہ ہوگا ۔ کسی کی مخالفت ، کسی کی طعن و تشنیع ، کسی کے اعتراض اور کسی کی پھبتیوں اور آوازوں کی وہ پروا نہ کریں گے ۔ اگر رائے عام اسلام کی مخالف ہو اور اسلام کے طریقے پر چلنے کے معنی اپنے آپ کو دنیا بھر میں نکو بنا لینے کے ہوں تب بھی وہ اسی راہ پر چلیں گے جسے وہ سچے دل سے حق جانتے ہیں ۔