Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 51–60 of 120

51

۞ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَتَّخِذُوا۟ ٱلْيَهُودَ وَٱلنَّصَٰرَىٰٓ أَوْلِيَآءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٍۢ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُۥ مِنْهُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّٰلِمِينَ

اے ایمان والو! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو شخص تم میں سے ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

خلاصہ تفسیر۔- آیات مذکورہ میں تین اہم اصولی مضامین کا بیان ہے جو مسلمانوں کی اجتماعی اور ملی وحدت و شیرازہ بندی کے بنیادی اصول ہیں :- اول یہ کہ مسلمان غیر مسلموں سے رواداری، ہمدردی، خیر خواہی، عدل و انصاف اور احسان و سلوک سب کچھ کرسکتے ہیں، اور ایسا کرنا چاہیے کہ ان کو اس کی تعلیم دی گئی ہے۔ لیکن ان سے ایسی گہری دوستی اور خلط ملط جس سے اسلام کے امتیازی نشانات گڈ مڈ ہوجائیں اس کی اجازت نہیں۔ یہی وہ مسئلہ ہے جو ” ترک موالات “ کے نام سے معروف ہے۔- دوسرا مضمون یہ ہے کہ اگر کسی وقت کسی جگہ مسلمان اسی بنادی اصول سے ہٹ کر غیر مسلموں سے ایسا غلط ملط کرلیں تو یہ نہ سمجھیں کہ اس سے اسلام کو کوئی گزند اور نقصان پہنچے گا۔ کیونکہ اسلام کی حفاظت اور بقاء کی ذمہ داری حق تعالیٰ نے لی ہے، اس کو کوئی نہیں مٹا سکتا، اگر کوئی قوم بِرَٹ جائے اور حدود شرعیہ کو توڑ کر فرض کرلو کہ اسلام ہی کو چھوڑ بیٹھے تو اللہ تعالیٰ کسی دوسری قوم کو کھڑا کردیں گے جو اسلام کے اصول و قانون کو قائم کرے گی۔- تیسرا مضمون یہ ہے کہ جب ایک طرف منفی پہلو معلوم ہوگیا تو مسلمان کی گہری دوستی تو صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان پر ایمان لانے والوں ہی کے ساتھ ہو سکتی ہے۔ یہ اجمال ہے ان مضامین کا جو مذکورہ بالا پانچ آیتوں میں بیان ہوئے ہیں۔ اب ان آیتوں کی مختصر تفسیر دیکھئے :- اے ایمان والو تم (منافقوں کی طرح) یہود و نصاریٰ کو (اپنا) دوست مت بنانا وہ (خود ہی) ایک دوسرے کے دوست ہیں (یعنی یہودی یہودی باہم اور نصرانی نصرانی باہم، مطلب یہ ہے کہ دوستی ہوتی ہے مناسبت سے، سو ان میں باہم تو مناسبت ہے مگر تم میں اور ان میں کیا مناسبت) اور (جب جملہ مذکورہ سے معلوم ہوا کہ دوستی ہوتی ہے تناسب سے تو) جو شخص تم میں سے ان کے ساتھ دوستی کرے گا بیشک وہ (کسی خاص مناسبت کے اعتبار سے) ان ہی میں سے ہوگا (اور گویہ یہ امر ظاہر ہے لیکن) یقینا اللہ تعالیٰ (اس امر کی) سمجھ ہی نہیں دیتے ان لوگوں کو جو (کفار سے دوستی کرکے) اپنا نقصان کر رہے ہیں (یعنی دوستی میں منہمک ہونے کی وجہ سے یہ بات ان کی سمجھ ہی میں نہیں آتی، اور چونکہ ایسے لوگ اس امر کو نہیں سمجھتے) اسی لئے (اے دیکھنے والے) تم ایسے لوگوں کو کہ جن کے دل میں (نفاق کا) مرض ہے دیکھتے ہو کہ دوڑ دوڑ کر ان (کفار) میں گھستے ہیں (اور ملامت کرے تو حیلہ بازی اور سخن سازی کے لئے یوں) کہتے ہیں کہ (ہمارا ملنا ان کے ساتھ دل سے نہیں، بلکہ دل سے تو تمہارے ساتھ ہیں صرف ایک مصلحت سے ان کے ساتھ ملتے ہیں وہ یہ کہ) ہم کو اندیشہ ہے کہ (شاید انقلاب زمانہ سے) ہم پر کوئی حادثہ پڑجائے (جیسے قحط ہے، تنگی ہے، اور یہ یہودی ہمارے ساہوکار ہیں ان سے قرض ادھار مل جاتا ہے، اگر ظاہری میل جول قطع کردیں گے تو وقت پر ہم کو تکلیف ہوگی، ظاہراً نَخْشٰٓى اَنْ تُصِيْبَنَا دَاۗىِٕرَةٌ کا یہ مطلب لیتے تھے۔ لیکن دل میں اور مطلب لیتے کہ شاید آخر میں مسلمانوں پر کفار کے غالب آجانے سے پھر ہم کو ان کی احتیاج پڑے اس لئے ان سے دوستی رکھنا چاہئے) سو قریب امید (یعنی وعدہ) ہے کہ اللہ تعالیٰ (مسلمانوں کی کامل) فتح (ان کفار کے مقابلہ میں جن سے یہ دوستی کر رہے ہیں) فرما دے (جس میں مسلمانوں کی کوشش کا بھی دخل ہوگا) یا کسی اور بات کا خاص اپنی طرف سے (ظہور فرما دے۔ یعنی ان کے نفاق کا علی التعیین بذریعہ وحی کے عام اظہار فرما دیں جس میں مسلمانوں کی تدبیر کا اصلاً دخل نہیں۔ مطلب یہ کہ مسلمانوں کی فتح اور ان کی پردہ دری دونوں امر قریب ہونے والے ہیں) پھر (اس وقت) اپنے (سابق) پوشیدہ دلی خیالات پر نادم ہوں گے۔ (کہ ہم کیا سمجھتے تھے کہ کفار غالب آویں گے اور یہ کیا برعکس ہوگیا۔ ایک ندامت تو اپنے خیال کی غلطی پر کہ امر طبعی ہے۔ دوسری ندامت اپنے نفاق پر جس کی بدولت آج رسوا ہوئے، مَآ اَ سَرُّوْا …

Al-Maaida 5:51Listen in Qur'an →
52

فَتَرَى ٱلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌۭ يُسَٰرِعُونَ فِيهِمْ يَقُولُونَ نَخْشَىٰٓ أَن تُصِيبَنَا دَآئِرَةٌۭ ۚ فَعَسَى ٱللَّهُ أَن يَأْتِىَ بِٱلْفَتْحِ أَوْ أَمْرٍۢ مِّنْ عِندِهِۦ فَيُصْبِحُوا۟ عَلَىٰ مَآ أَسَرُّوا۟ فِىٓ أَنفُسِهِمْ نَٰدِمِينَ

تو جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے تم ان کو دیکھو گے کہ ان میں دوڑ دوڑ کے ملے جاتے ہیں کہتے ہیں کہ ہمیں خوف ہے کہ کہیں ہم پر زمانے کی گردش نہ آجائے سو قریب ہے کہ خدا فتح بھیجے یا اپنے ہاں سے کوئی اور امر (نازل فرمائے) پھر یہ اپنے دل کی باتوں پر جو چھپایا کرتے تھے پشیمان ہو کر رہ جائیں گے

فَتَرَى الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ يُّسَارِعُوْنَ فِيْهِمْ يَقُوْلُوْنَ نَخْشٰٓى اَنْ تُصِيْبَنَا دَاۗىِٕرَةٌ۔- یعنی ترک موالات کا حکم شرعی سن کر وہ لوگ جن کے دلوں میں نفاق کا مرض ہے اپنے کافر دوستوں کی طرف دوڑنے لگے اور کہنے لگے کہ ان سے قطع تعلق کرنے میں تو ہمارے لئے خطرات ہیں۔- اللہ جل شانہ نے ان کے جواب میں فرمایا : فَعَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّاْتِيَ بالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَيُصْبِحُوْا عَلٰي مَآ اَ سَرُّوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِيْنَ ، یعنی یہ لوگ تو اس خیال میں ہیں کہ مشرکین اور یہود مسلمانوں پر غالب آجائیں گے، مگر اللہ تعالیٰ فیصلہ فرما چکے ہیں کہ ایسا نہیں ہوگا۔ بلکہ قریب ہے کہ مکہ فتح ہوجائے، یا فتح مکہ سے پہلے اللہ تعالیٰ ان منافقین کے نفاق کا پردہ چاک کرکے ان کو رسوا کر دے، تو اس وقت یہ لوگ اپنے مخفی خیالات پر نادم ہوں گے۔

Al-Maaida 5:52Listen in Qur'an →
53

وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَهَٰٓؤُلَآءِ ٱلَّذِينَ أَقْسَمُوا۟ بِٱللَّهِ جَهْدَ أَيْمَٰنِهِمْ ۙ إِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ ۚ حَبِطَتْ أَعْمَٰلُهُمْ فَأَصْبَحُوا۟ خَٰسِرِينَ

اور اس (وقت) مسلمان (تعجب سے) کہیں گے کہ کیا یہ وہی ہیں جو خدا کی سخت سخت قسمیں کھایا کرتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ان کےعمل اکارت گئے اور وہ خسارے میں پڑ گئے

تیسری آیت میں اس کی مزید تشریح اس طرح بیان فرمائی کہ جب منافقین کے نفاق کا پردہ چاک ہوگا اور ان کی دوستی کے دعو وں اور قسموں کی حقیقت کھلے گی تو مسلمان حیرت میں رہ جائیں گے اور کہیں گے کہ کیا یہ وہی ہیں جو ہم سے اللہ تعالیٰ کی مغلظ قسمیں کھا کر دوستی کا دعویٰ کرتے تھے اور آج ان کا یہ حشر ہوا کہ ان کے سب اسلامی اعمال جو محض دکھلاوے کے لئے کیا کرتے تھے ضائع ہوگئے۔ اور اللہ جل شانہ نے ان آیات میں جو فتح مکہ اور منافقین کی رسوائی کا ذکر فرمایا ہے وہ چند روز کے بعد سب نے آنکھوں سے دیکھ لیا۔

Al-Maaida 5:53Listen in Qur'an →
54

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَن يَرْتَدَّ مِنكُمْ عَن دِينِهِۦ فَسَوْفَ يَأْتِى ٱللَّهُ بِقَوْمٍۢ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُۥٓ أَذِلَّةٍ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى ٱلْكَٰفِرِينَ يُجَٰهِدُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَآئِمٍۢ ۚ ذَٰلِكَ فَضْلُ ٱللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَآءُ ۚ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌ

اے ایمان والو اگر کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے گا تو خدا ایسے لوگ پیدا کر دے گا جن کو وہ دوست رکھے اور جسے وہ دوست رکھیں اور جو مومنوں کے حق میں نرمی کریں اور کافروں سے سختی سے پیش آئیں خدا کی راہ میں جہاد کریں اور کسی ملامت کرنے والی کی ملامت سے نہ ڈریں یہ خدا کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور الله بڑی کشائش والا اور جاننے والا ہے

چوتھی آیت میں یہ بتلایا ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ گہری دوستی اور خلط ملط کی جو ممانعت کی گئی ہے یہ خود مسلمانوں ہی کے مفاد کی خاطر ہے، ورنہ اسلام وہ دین حق ہے جس کی حفاظت کا ذمہ حق تعالیٰ نے خود لے لیا ہے، کسی فرد یا جماعت کی کجروی یا نافرمانی تو بجائے خود ہے۔ اگر مسلمانوں کا کوئی فرد یا جماعت سچ مچ اسلام ہی کو چھوڑ بیٹھے اور بالکل ہی مرتد ہو کر غیر مسلموں میں مل جائے اس سے بھی اسلام کو کوئی گزند نہیں پہنچ سکتا کیونکہ قادر مطلق جو اس کی حفاظت کا ذمہ دار ہے فوراً کوئی دوسری قوم میدان عمل میں لے آئے گا جو اللہ تعالیٰ کے دین کی حفاظت اور اشاعت کے فرائض انجام دے گی۔ اس کے کام نہ کسی ذات پر موقوف ہیں نہ کسی بڑی سے بڑی جماعت یا ادارہ پر وہ جب چاہتے ہیں تو تنکوں سے شہتیر کا کام لے لیتے ہیں ورنہ شہتیر پڑے کھاد ہوتے رہتے ہیں۔ کسی نے خوب کہا ہے - ان المقادیر اذا ساعدت - الحقت العاجز بالقادر - ” یعنی تقدیر الٓہی جب کسی کی مددگار ہوجاتی ہے تو ایک عاجز و بیکار سے قادر و توانا کا کام لے لیتی ہے “۔ اس آیت میں جہاں یہ ذکر فرمایا کہ مسلمان اگر مرتد ہوجائیں تو پروا نہیں، اللہ تعالیٰ ایک دوسری جماعت کھڑی کر دے گا، وہاں اس پاکباز جماعت کے کچھ اوصاف بھی بیان فرماتے ہیں کہ یہ جماعت ایسے اوصاف کی حامل ہوگی، دین کی خدمت کرنے والوں کو ان اوصاف کا خیال رکھنا چاہیے، کیونکہ آیت سے معلوم ہوا کہ ان اوصاف و عادات کے حامل لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول و محبوب ہیں۔- ان کی پہلی صفت قرآن کریم نے یہ بیان فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے محبت رکھے گا اور وہ اللہ تعالیٰ سے محبت رکھیں گے۔ اس صفت کے دو جز ہیں، ایک ان لوگوں کی محبت اللہ تعالیٰ کے ساتھ، یہ تو کسی نہ کسی درجہ میں انسان کے اختیار میں سمجھی جاسکتی ہے کہ ایک انسان کو کسی کے ساتھ اگر طبعی محبت نہ ہو تو کم از کم عقلی محبت اپنے عزم و ارادہ کے تابع رکھ سکتا ہے۔ اور طبعی محبت بھی اگرچہ اختیار میں نہیں، مگر اس کے بھی اسباب اختیاری ہیں مثلاً اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال اور قدرت کاملہ اور انسان پر اس کے اختیارات و انعامات کا مراقبہ اور تصور لازمی طور پر انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت طبعی بھی پیدا کردیتا ہے۔- لیکن دوسرا جز یعنی اللہ تعالیٰ کی محبت ان لوگوں کے ساتھ ہوگی، اس میں تو بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے اختیار وعمل کا کوئی دخل اس میں نہیں، اور جو چیز ہماری قدرت و اختیار سے باہر ہے اسے سنانے اور بتلانے کا بھی بظاہر کوئی حاصل نہیں نکلتا۔- لیکن قرآن کریم کی دوسری آیت میں غور کریں تو معلوم ہوگا کہ محبت کے اس جز کے اسباب بھی انسان کے اختیار میں ہیں۔ اگر وہ ان اسباب کا استعمال کرے تو اللہ تعالیٰ کی محبت ان کے ساتھ لازمی ہوگی۔ اور وہ اسباب (آیت) قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی۔ میں مذکور ہیں یعنی اے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو بتلا دیجئے کہ اگر تم کو اللہ تعالیٰ سے محبت ہے تو میرا اتباع کرو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ تم سے محبت فرمانے لگیں گے۔- اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو شخص یہ چاہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت فرمائیں اس کو چاہئے کہ سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی زندگی کا محور بنالے، اور زندگی کے ہر شعبے اور ہر کام میں سنت کے اتباع کا التزام کرے، تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اس سے محبت فرمائیں گے۔ اور اسی آیت سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ کفر و ارتداد کا مقابلہ وہی جماعت کرسکے گی جو متبع سنت ہو، نہ احکام شرعیہ کی تعمیل میں کوتاہی کرے اور نہ اپنی طرف سے خلاف سنت اعمال کو اور بدعات کو جاری کرے۔- دوسری صفت اس جماعت کی یہ بتلائی گئی ہے کہ اَذِلَّةٍ عَلَي الْمُؤ ْمِنِيْنَ اَعِزَّةٍ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ ، اس میں لفظ اذلّہ حسب تصریح قاموس ذلیل یا ذلول دونوں کی جمع ہو سکتی ہے۔ ذلیل کے …

Al-Maaida 5:54Listen in Qur'an →
55

إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَهُمْ رَٰكِعُونَ

تمہارے دوست تو خدا اور اس کے پیغمبر اور مومن لوگ ہی ہیں جو نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے اور (خدا کے آگے) جھکتے ہیں

سابقہ چار آیات میں مسلمانوں کو کافروں کے ساتھ گہری دوستی رکھنے سے منع فرمایا گیا پانچویں آیت میں مثبت طور پر یہ بتلایا گیا کہ مسلمانوں کو گہری دوستی اور رفاقت خاص کا تعلق جن سے ہوسکتا ہے وہ کون ہیں۔ ان میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ اور پھر اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر ہے کہ درحقیقت مومن کا ولی و رفیق ہر وقت ہر حال میں اللہ تعالیٰ ہی ہے اور وہی ہوسکتا ہے۔ اور اس کے تعلق کے سوا ہر تعلق اور ہر دوستی فانی ہے۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تعلق بھی درحقیقت اللہ تعالیٰ کا تعلق ہے اس سے الگ نہیں۔ تیسرے نمبر میں مسلمانوں کے رفیق اور مخلص دوست ان مسلمانوں کو قرار دیا ہے جو صرف نام کے مسلمان نہیں، بلکہ سچے مسلمان ہیں جن کی تین صفات اور علامات یہ بتلائی ہیں :- (آیت) الذین یقیمون الصلوة الخ۔- اول یہ کہ وہ نماز کو اس کے پورے آداب و شرائط کے ساتھ پابندی سے ادا کرتے ہیں۔ دوسری یہ کہ اپنے مال میں سے زکوٰة ادا کرتے ہیں۔ تیسرے یہ کہ وہ لوگ متواضع اور فروتنی کرنے والے ہیں اپنے اعمال خیر پر ناز اور تکبر نہیں کرتے۔- اس آیت کا تیسرا جملہ (آیت) وہم راکعون، میں لفظ رکوع کے کئی مفہوم ہو سکتے ہیں۔ اسی لئے ائمہ تفسیر میں سے بعض نے فرمایا کہ رکوع سے مراد اس جگہ اصطلاحی رکوع ہے جو نماز کا ایک رکن ہے۔ اور یقیمون الصلوة کے بعد وھم راکعون کا جملہ اس مقصد سے لایا گیا کہ مسلمانوں کی نماز کو دوسرے فرقوں کی نماز سے ممتاز کردینا مقصود ہے۔ کیونکہ نماز تو یہود و نصاریٰ بھی پڑھتے ہیں، مگر اس میں رکوع نہیں ہوتا، رکوع صرف اسلامی نماز کا امتیازی وصف ہے (مظہری) ۔- مگر جمہور مفسرین نے فرمایا کہ لفظ رکوع سے اس جگہ اصطلاحی رکوع مراد نہیں۔ بلکہ اس کے لغوی معنی مراد ہیں۔ یعنی جھکنا، تواضع اور عاجزی و انکساری کرنا، تفسیر بحر محیط میں ابوحیان نے اور تفسیر کشاف میں زمخشری نے اسی کو اختیار کیا ہے اور تفسیر مظہری وبیان القرآن وغیرہ میں بھی اسی کو لیا گیا ہے، تو معنی اس جملہ کے یہ ہوگئے کہ ان لوگوں کو اپنے اعمال صالحہ پر ناز نہیں بلکہ تواضع اور انکساری ان کی خصلت ہے۔- اور بعض روایات میں ہے کہ یہ جملہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں ایک خاص واقعہ کے متعلق نازل ہوا ہے۔ وہ یہ کہ ایک روز حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ نماز میں مشغول تھے۔ جب آپ رکوع میں گئے تو کسی سائل نے آ کر سوال کیا، آپ کرم اللہ وجہہ نے اسی حالت رکوع میں اپنی ایک انگلی سے انگوٹھی نکال کر اس کی طرف پھینک دی، غریب فقیر کی حاجت روائی میں اتنی دیر کرنا بھی پسند نہیں فرمایا کہ نماز سے فارغ ہو کر اس کی ضرورت پوری کریں۔ یہ مسابقت فی الخیرات اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسند آئی۔ اور اس جملہ کے ذریعہ اس کی قدر افزائی فرمائی گئی۔- اس روایت کی سند میں علماء و محدثین کو کلام ہے لیکن روایت کو صحیح قرار دیا جائے تو اس کا حاصل یہ ہوگا کہ مسلمانوں کی گہری دوستی کے لائق نماز و زکوٰة کے پابند عام مسلمان ہیں اور ان میں خصوصیت کیساتھ حضرت علی کرم اللہ وجہہ۔ اس دوستی کے زیادہ مستحق ہیں۔ جیسا کہ ایک دوسری صحیح حدیث میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : من کنت مولاہ فعلی مولاہ، (رواہ احمد از مظہری) ” یعنی میں جس کا دوست ہوں تو علی کرم اللہ وجہہ بھی اس کے دوست ہیں “۔ - اور ایک حدیث میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : اللھم وال من والاہ وعاد من عاداہ، ” یعنی یا اللہ آپ محبوب بنالیں اس شخص کو جو محبت رکھتا ہو علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے، اور دشمن قرار دیں اس شخص کو جو دشمنی کرے علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے “۔- حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اس خاص شرف کے ساتھ غالباً اس لئے نوازا گیا ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر آئندہ پیش آنے والا فتنہ منکشف ہوگیا تھا، کہ کچھ لوگ حضرت علی کرم …

Al-Maaida 5:55Listen in Qur'an →
56

وَمَن يَتَوَلَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ فَإِنَّ حِزْبَ ٱللَّهِ هُمُ ٱلْغَٰلِبُونَ

اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر اور مومنوں سے دوستی کرے گا تو (وہ خدا کی جماعت میں داخل ہوگا اور) خدا کی جماعت ہی غلبہ پانے والی ہے

ارشاد فرمایا :- وَمَنْ يَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ ، اس میں ارشاد فرمایا کہ ان احکام الٓہیہ کی تعمیل کرنے والے مسلمان اللہ کا گروہ ہیں اور پھر یہ خوش خبری سنا دی کہ اللہ کا گروہ ہی انجام کار سب پر غالب آکر رہے گا۔- آنے والے واقعات نے اس کی ایسی تصدیق کردی کہ ہر آنکھوں والے نے دیکھ لیا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سب پر غالب آ کر رہے۔ جو طاقت ان سے ٹکرائی پاش پاش ہوگئی خلیفہ اول صدیق اکبر (رض) کے مقابلہ پر اندرونی فتنے اور بغاوتیں کھڑی ہوئیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کو سب پر غالب فرمایا۔ حضرت فاروق اعظم (رض) کے مقابلہ پر دنیا کی سب سے بڑی طاقتیں قیصر و کبری آگئیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کا نام و نشان مٹا دیا۔ اور پھر ان کے بعد کے خلفاء اور مسلمانوں میں جب تک ان احکام کی پابندی رہی کہ مسلمانوں نے غیروں کے ساتھ خلط ملط اور گہری دوستی کے تعلقات قائم نہیں کئے وہ ہمیشہ مظفر و منصور نظر آئے۔

Al-Maaida 5:56Listen in Qur'an →
57

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَتَّخِذُوا۟ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ دِينَكُمْ هُزُوًۭا وَلَعِبًۭا مِّنَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ مِن قَبْلِكُمْ وَٱلْكُفَّارَ أَوْلِيَآءَ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

اے ایمان والوں! جن لوگوں کو تم سے پہلے کتابیں دی گئی تھیں ان کو اور کافروں کو جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل بنا رکھا ہے دوست نہ بناؤ اور مومن ہو تو خدا سے ڈرتے رہو

چھٹی آیت میں پھر بطور تاکید کے اس حکم کا اعادہ فرمایا گیا ہے جو شروع رکوع میں بیان ہوا تھا۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ اے ایمان والو تم ان لوگوں کو اپنا رفیق یا گہرا دوست نہ بناؤ، جو تمہارے دین کو ہنسی کھیل قرار دیتے ہیں۔ اور یہ دو گروہ ہیں۔ ایک اہل کتاب، دوسرا عام کفار و مشرکین۔- امام ابوحیان نے بحر محیط میں فرمایا کہ لفظ کفار میں تو اہل کتاب بھی داخل تھے پھر خصوصیت کے ساتھ اہل کتاب کا مستقل ذکر اس جگہ غالباً اس لئے فرمایا گیا کہ اہل کتاب اگرچہ ظاہر میں بہ نسبت دوسرے کفار کے اسلام کے ساتھ قریب تھے، مگر تجربہ نے یہ بتلایا کہ ان میں سے بہت کم لوگوں نے اسلام کو قبول کیا۔ یہی وجہ ہے کہ عہد رسالت اور مابعد کے ایمان لانے والے لوگوں کے اعداد و شمار دیکھے جائیں تو ان میں کثرت عام کفار کی نکلے گی، اہل کتاب میں سے مسلمان ہونے والوں کی تعداد بہت کم ہوگی۔- اور وجہ اس کی یہ ہے کہ اہل کتاب کو اس پر ناز ہے کہ ہم دین الٓہی اور کتاب آسمانی کے پابند ہیں، اس فخر و ناز نے ان کو حق قبول کرنے سے باز رکھا۔ اور مسلمانوں کے ساتھ تمسخر و استہزاء کا معاملہ بھی زیادہ تر انہوں نے کیا، اسی شرارت پسندی کا ایک واقعہ وہ ہے جو ساتویں آیت میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : وَاِذَا نَادَيْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّلَعِبًا، یعنی جب مسلمان نماز کے لئے اذان دیتے ہیں تو یہ لوگ ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس کا واقعہ بحوالہ ابن ابی حاتم تفسیر مظہری میں یہ نقل کیا ہے کہ مدینہ طیبہ میں ایک نصرانی تھا، وہ جب اذان میں اشھد ان محمد الرسول اللّٰہ کا لفظ سنتا تو یہ کہا کرتا تھا احرق اللّٰہ الکاذب یعنی جھوٹے کو اللہ تعالیٰ جلا دے۔- آخر کار اس کا یہ کلمہ ہی اس کے پورے خاندان کے جل کر خاک ہوجانے کا سبب بن گیا، جس کا واقعہ یہ پیش آیا کہ رات کو جب یہ سو رہا تھا اس کا نوکر کسی ضرورت سے آگ لے کر گھر میں آیا اس کی چنگاری اڑ کر کسی کپڑے پر گر پڑی اور سب کے سو جانے کے بعد وہ بھڑک اٹھی۔ اور سب کے سب جل کر خاک ہوگئے۔- اس آیت کے آخر میں فرمایا : ۭذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْقِلُوْنَ ، یعنی دین حق کے ساتھ اس تمسخر و استہزاء کی وجہ اس کے سوا نہیں ہو سکتی کہ یہ لوگ بےعقل ہیں۔- تفسیر مظہری میں قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بےعقل فرمایا ہے حالانکہ امور دنیا میں ان کی عقل و دانش مشہور و معروف ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایسا ہوسکتا ہے کہ کوئی انسان ایک قسم کے کاموں میں ہوشیار عقلمند ہو مگر دوسری قسم میں یا وہ عقل سے کام نہیں لیتا یا اس کی عقل اس طرف چلتی نہیں، اس لئے اس میں بیوقوف لا یعقل ثابت ہوتا ہے۔ قرآن کریم نے اسی مضمون کو دوسری آیت میں اس طرح بیان فرمایا ہے :- (آیت) یعلمون ظاہرا تاہم غفلون، یعنی یہ لوگ دنیاوی زندگی کے سطحی امور کو تو خوب جانتے ہیں مگر انجام اور آخرت سے غافل ہیں۔

Al-Maaida 5:57Listen in Qur'an →
58

وَإِذَا نَادَيْتُمْ إِلَى ٱلصَّلَوٰةِ ٱتَّخَذُوهَا هُزُوًۭا وَلَعِبًۭا ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌۭ لَّا يَعْقِلُونَ

اور جب تم لوگ نماز کے لیے اذان دیتے ہو تو یہ اسے بھی ہنسی اور کھیل بناتے ہیں یہ اس لیے کہ سمجھ نہیں رکھتے

Explained together with ayah 57

Al-Maaida 5:58Listen in Qur'an →
59

قُلْ يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ هَلْ تَنقِمُونَ مِنَّآ إِلَّآ أَنْ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْنَا وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبْلُ وَأَنَّ أَكْثَرَكُمْ فَٰسِقُونَ

کہو کہ اے اہل کتاب! تم ہم میں برائی ہی کیا دیکھتے ہو سوا اس کے کہ ہم خدا پر اور جو (کتاب) ہم پر نازل ہوئی اس پر اور جو (کتابیں) پہلے نازل ہوئیں ان پر ایمان لائے ہیں اور تم میں اکثر بدکردار ہیں

خلاصہ تفسیر - آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب تم ہم میں کیا عیب پاتے ہو بجز اس کے کہ ہم ایمان لائے ہیں اللہ پر اور اس کتاب پر جو ہمارے پاس بھیجی گئی ہے (یعنی قرآن) اور اس کتاب پر (بھی) جو (ہم سے) پہلے بھیجی جا چکی ہے (یعنی تمہاری کتاب تورات و انجیل) باوجود اس کے کہ تم میں اکثر لوگ ایمان سے خارج ہیں (کہ نہ قرآن کا ایمان ہے جس کا خود ان کو بھی اقرار ہے اور نہ تورات و انجیل پر ایمان ہے، کیونکہ ان پر ایمان ہوتا تو ان میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن پر ایمان لانے کی ہدایت موجود ہے اس پر بھی ضرور ایمان ہوتا، قرآن کا انکار اس پر شاہد ہے کہ تورات و انجیل پر بھی ان کا ایمان نہیں ہے۔ یہ حال تو تم لوگوں کا ہوا اور ہم اس کے برعکس سب کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ تو عیب ہم میں نہیں خود تم میں ہے غور کرو) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ان سے) کہہ دیجئے کہ (اگر اس پر بھی تم ہمارے طریقہ کو برا سمجھتے ہو تو آؤ) کیا میں (اچھے برے میں موازنہ کرنے کے لئے) تم کو ایسا طریقہ بتلاؤں جو (ہمارے) اس (طریقہ) سے بھی (جس کو تم برا سمجھ رہے ہو) خدا کے یہاں سزا ملنے میں زیادہ برا ہو، وہ ان اشخاص کا طریقہ ہے جن کو (اس طریقہ کی وجہ سے) اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے دور کردیا ہو اور ان پر غضب فرمایا ہو اور ان کو بندر اور سور بنادیا ہو اور انہوں نے شیطان کی پرستش کی ہو (اب دیکھ لو کہ ان میں کون سا طریقہ برا ہے، آیا وہ طریقہ جس میں غیر اللہ کی عبادت اور اس پر یہ وبال ہوں، یا وہ طریقہ جو سراسر توحید اور نبوت انبیاء کی تصدیق ہو۔ یقینا موازنہ یہی ہے کہ) ایسے اشخاص (جن کا طریقہ ابھی ذکر کیا گیا ہے آخرت میں) مکان کے اعتبار سے بھی (جو ان کو سزا کے طور پر ملے گا) بہت برے ہیں (کیونکہ یہ مکان دوزخ ہے) اور (دنیا میں) راہ راست سے بھی بہت دور ہیں (اشارہ یہ ہے کہ تم لوگ ہم پر ہنستے ہو، حالانکہ استہزاء کے قابل تمہارا طریقہ ہے کیونکہ یہ سب خصلتیں تم میں پائی جاتی ہیں، کہ یہود نے گو سالہ پرستی کی اور نصاریٰ نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو خدا بنا لیا، پھر اپنے علماء و مشائخ کو خدائی کے اختیارات سپرد کر دئے، اسی لئے یہودیوں نے جب یوم سبت کے احکام کی خلاف ورزی کی تو اللہ کا عذاب آیا، وہ بندر بنا دیئے گئے، اور نصاریٰ کی درخواست پر آسمانی مائدہ نازل ہونے لگا۔ انہوں نے پھر بھی ناشکری کی تو ان کو بندر اور سور بنادیا گیا۔ آگے ان کی ایک خاص جماعت کا ذکر ہے جو منافق تھے کہ مسلمانوں کے سامنے اسلام کا اظہار کرتے تھے اور اندرونی طور پر یہودی ہی تھے) اور جب یہ (منافق) لوگ تم لوگوں کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں حالانکہ وہ کفر ہی کو لے کر (مسلمانوں کی مجلس میں) آئے تھے اور کفر ہی لے کر چلے گئے اور اللہ تعالیٰ تو خوب جانتے ہیں جس کو یہ (اپنے دل میں) چھپائے ہوئے ہیں (اس لئے ان کا نفاق اللہ تعالیٰ کے سامنے کام نہیں دے گا اور کفر کی بدترین سزا سے سابقہ پڑے گا) ۔- معارف و مسائل - اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ. میں حق تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ کے خطاب میں سب کے بجائے اکثر کو خارج از ایمان فرمایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو ہر حال میں مومن ہی رہے، جب تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت نہیں ہوتی تھی وہ احکام تورات و انجیل کے تابع اور ان پر ایمان رکھتے تھے۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوئے اور قرآن نازل ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے اور عمل قرآن کے تابع کرنے لگے۔

Al-Maaida 5:59Listen in Qur'an →
60

قُلْ هَلْ أُنَبِّئُكُم بِشَرٍّۢ مِّن ذَٰلِكَ مَثُوبَةً عِندَ ٱللَّهِ ۚ مَن لَّعَنَهُ ٱللَّهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ ٱلْقِرَدَةَ وَٱلْخَنَازِيرَ وَعَبَدَ ٱلطَّٰغُوتَ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ شَرٌّۭ مَّكَانًۭا وَأَضَلُّ عَن سَوَآءِ ٱلسَّبِيلِ

کہو کہ میں تمہیں بتاؤں کہ خدا کے ہاں اس سے بھی بدتر جزا پانے والے کون ہیں؟ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی اور جن پر وہ غضبناک ہوا اور (جن کو) ان میں سے بندر اور سور بنا دیا اور جنہوں نے شیطان کی پرستش کی ایسے لوگوں کا برا ٹھکانہ ہے اور وہ سیدھے رستے سے بہت دور ہیں

تبلیغ و دعوت میں مخاطب کی رعایت - یہاں قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ میں جو حال ایک مثال کے انداز میں ایسے لوگوں کا بیان کیا ہے جن پر اللہ کی لعنت و غضب ہے اس کے مصداق در حقیقت خود یہی مخاطب تھے۔ مقام اس کا تھا کہ ان پر ہی یہ الزام عائد کیا جاتا کہ تم ایسے ہو، مگر قرآن کریم نے طرز بیان بدل کر اس کو ایک مثال کی صورت دیدی۔ جس میں پیغمبرانہ دعوت کا ایک خاص اسلوب بتلایا گیا کہ عنوان بیان ایسا اختیار کرنا چاہئے جس سے مخاطب کو اشتعال پیدا نہ ہو۔

Al-Maaida 5:60Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.