Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 51–60 of 120

51

۞ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَتَّخِذُوا۟ ٱلْيَهُودَ وَٱلنَّصَٰرَىٰٓ أَوْلِيَآءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٍۢ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُۥ مِنْهُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّٰلِمِينَ

اے ایمان والو! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو شخص تم میں سے ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا

(آیت) ” نمبر 51 تا 53۔

یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس ولایت اور رفاقت کا مفہوم متعین کردیا جائے جس سے اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ سختی سے منع کرتے ہیں کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ رفاقت نہ ہونی چاہئے ۔

اس رفاقت کا مفہوم یہ ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ حلیفانہ اور باہم تعاون اور امداد کا معاہدہ نہ ہونا چاہئے ۔ اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ تم ان کے دین کی اتباع کرو اور اس لئے کہ یہ تو سوچنا بھی ممکن نہیں ہے کہ مسلمانوں میں ایسا بھی کوئی ہو سکتا ہے کہ وہ یہودیوں اور نصرانیوں کے دین کی اتباع کرتا ہو۔ یہ درحقیقت باہم تحالف اور معاونت کی دوستی ہوتی تھی ‘ جس کے بارے میں اس وقت مسلمانوں کا ذہن صاف نہ تھا کہ یہ بھی حرام ہے ۔ مسلمان یہ سمجھتے تھے کہ ایسے تحالف اور تعاون ابھی تک جائز ہیں ۔ اور یہ التباس اس لئے تھا کہ اسلام سے پہلے ان لوگوں کے درمیان ایسے دوستی کے معاہدے ہوا کرتے تھے اور اسلام کے ابتدائی ایام میں بھی ایسا ہوتا تھا خصوصا مدینہ کے ابتدائی ایام میں ۔ ان نصوص کے ذریعے اللہ نے اس سے منع کردیا اور ایسے معاہدوں کو باطل قرار دے دیا ۔ خصوصا جبکہ میثاق مدینہ کے مطابق مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان ہونے والے معاہدے پر یہودیوں نے عمل نہ کیا تھا اور اس سے ظاہر ہوگیا تھا کہ اہل اسلام اور ان کے درمیان اب کوئی معاہدہ ولا ممکن نہیں ہے ۔

یہ مفہوم اور مدلول قرآن کی تعبیرات سے اچھی طرح واضح ہے ۔ (دیکھئے مسلمانان مدینہ اور ان مسلمانوں کے بارے میں جو ابھی تک مکہ میں تھے اور انہوں نے ہجرت نہ کی تھی (آیت) ” مالکم من ولایتھم من شیء حتی یھاجروا “ یعنی تمہارے اور ان کے درمیان کوئی دوستی اور رفاقت نہیں ہے ۔ الا یہ کہ وہ ہجرت کریں ۔ ظاہر ہے کہ اس ولایت سے مراد ولایت فی الدین یعنی اسلامی بھائی چارہ نہیں ہے ۔ یہاں ولایت سے مراد وہ دوستی ہے جس میں از روئے معاہدہ ایک دوسرے کے ساتھ نصرت اور تعاون کا اقرار کیا جاتا ہے ۔ یہ معاہدہ ان لوگوں کے درمیان بھی نہیں ہو سکتا جو اگرچہ مسلمان ہوں لیکن انہوں نے دارالاسلام کی طرف ابھی تک ہجرت نہ کی ہو ۔ یہی قسم ہے جس سے ان آیات میں اہل اسلام کو منع کیا گیا ہے کہ وہ یہود ونصاری کے ساتھ اس قسم کی دوستی نہ کریں جبکہ مدینہ کے ابتدائی دونوں میں یہ عہد قائم تھا ۔

اہل کتاب کے ساتھ رواداری کا رویہ اور بات ہے اور انکے ساتھ دوستی کے معاہدے کرکے ان کو اپنا دوست بنانا اور چیز ہے لیکن اہل اسلام کے دماغ کے اندر ابھی تک دین کی حقیقت نہیں اتری اور ابھی تک انہوں نے دین کے فرائض ووظائف کو نہیں سمجھا کہ دین ایک منظم اور حقیقت پسندانہ منہاج ہے ۔ یہ مسلسل حرکت میں رہتا ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ اس کرہ ارض پر ایک واقعی صورت حال پیدا کر دے جو اسلامی تصورحیات کے مطابق ہو ۔ یہ تصورحیات ان تمام تصورات سے مختلف ہے جو انسانیت کے اندر متعارف رہے ہیں۔ اس طرح اس اسلامی صورت حالات کا پھر ان تمام تصورات و حالات کے ساتھ تصادم ہوتا ہے جو اس کے خلاف ہوتے ہیں ۔ نیز اس کا لوگوں کی خواہشات کے ساتھ ‘ لوگوں کے فسق وفجور اور انکے انحرافات کے ساتھ بھی تصادم ہوتا ہے اور یہ نظام بھی ایسی کشمکش میں داخل ہوجاتا ہے کہ اس سے کوئی چھٹکارا نہیں ہوتا ۔ یہ تصادم اس لئے ہوتا ہے کہ اسلامی نظام ایک جدید صورت حال پیدا کرتا ہے اور اپنے اس ہدف کی طرف وہ مسلسل مثبت طور پر حرکت کرتا رہتا ہے ۔

ایسے لوگ جن کے شعور واحساس کے اندر اسلامی نظریہ حیات کا یہ پہلو واضح نہیں ہوتا اور جن کے شعور کے اندر اسلا اور دوسرے ملل ونحل کے اندر برپا معرکے کا اچھی طرح ادراک نہیں ہوتا اور جو اس قسم کی واضح قرآنی ہدایات سے غافل ہیں تو وہ ان ہدایات جن کے اندر اسلامی معاشرے میں رہنے والے اہل کتاب کے ساتھ رواداری کا حکم دیا گیا ہے اور ان کے تمام حقوق محفوظ کئے گئے ہیں اور ان ہدایات کے درمیان جو معاہدات تحالف اور …

Al-Maaida 5:51Listen in Qur'an →
52

فَتَرَى ٱلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌۭ يُسَٰرِعُونَ فِيهِمْ يَقُولُونَ نَخْشَىٰٓ أَن تُصِيبَنَا دَآئِرَةٌۭ ۚ فَعَسَى ٱللَّهُ أَن يَأْتِىَ بِٱلْفَتْحِ أَوْ أَمْرٍۢ مِّنْ عِندِهِۦ فَيُصْبِحُوا۟ عَلَىٰ مَآ أَسَرُّوا۟ فِىٓ أَنفُسِهِمْ نَٰدِمِينَ

تو جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے تم ان کو دیکھو گے کہ ان میں دوڑ دوڑ کے ملے جاتے ہیں کہتے ہیں کہ ہمیں خوف ہے کہ کہیں ہم پر زمانے کی گردش نہ آجائے سو قریب ہے کہ خدا فتح بھیجے یا اپنے ہاں سے کوئی اور امر (نازل فرمائے) پھر یہ اپنے دل کی باتوں پر جو چھپایا کرتے تھے پشیمان ہو کر رہ جائیں گے

(آیت) ” نمبر 51 تا 53۔

یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس ولایت اور رفاقت کا مفہوم متعین کردیا جائے جس سے اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ سختی سے منع کرتے ہیں کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ رفاقت نہ ہونی چاہئے ۔

اس رفاقت کا مفہوم یہ ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ حلیفانہ اور باہم تعاون اور امداد کا معاہدہ نہ ہونا چاہئے ۔ اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ تم ان کے دین کی اتباع کرو اور اس لئے کہ یہ تو سوچنا بھی ممکن نہیں ہے کہ مسلمانوں میں ایسا بھی کوئی ہو سکتا ہے کہ وہ یہودیوں اور نصرانیوں کے دین کی اتباع کرتا ہو۔ یہ درحقیقت باہم تحالف اور معاونت کی دوستی ہوتی تھی ‘ جس کے بارے میں اس وقت مسلمانوں کا ذہن صاف نہ تھا کہ یہ بھی حرام ہے ۔ مسلمان یہ سمجھتے تھے کہ ایسے تحالف اور تعاون ابھی تک جائز ہیں ۔ اور یہ التباس اس لئے تھا کہ اسلام سے پہلے ان لوگوں کے درمیان ایسے دوستی کے معاہدے ہوا کرتے تھے اور اسلام کے ابتدائی ایام میں بھی ایسا ہوتا تھا خصوصا مدینہ کے ابتدائی ایام میں ۔ ان نصوص کے ذریعے اللہ نے اس سے منع کردیا اور ایسے معاہدوں کو باطل قرار دے دیا ۔ خصوصا جبکہ میثاق مدینہ کے مطابق مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان ہونے والے معاہدے پر یہودیوں نے عمل نہ کیا تھا اور اس سے ظاہر ہوگیا تھا کہ اہل اسلام اور ان کے درمیان اب کوئی معاہدہ ولا ممکن نہیں ہے ۔

یہ مفہوم اور مدلول قرآن کی تعبیرات سے اچھی طرح واضح ہے ۔ (دیکھئے مسلمانان مدینہ اور ان مسلمانوں کے بارے میں جو ابھی تک مکہ میں تھے اور انہوں نے ہجرت نہ کی تھی (آیت) ” مالکم من ولایتھم من شیء حتی یھاجروا “ یعنی تمہارے اور ان کے درمیان کوئی دوستی اور رفاقت نہیں ہے ۔ الا یہ کہ وہ ہجرت کریں ۔ ظاہر ہے کہ اس ولایت سے مراد ولایت فی الدین یعنی اسلامی بھائی چارہ نہیں ہے ۔ یہاں ولایت سے مراد وہ دوستی ہے جس میں از روئے معاہدہ ایک دوسرے کے ساتھ نصرت اور تعاون کا اقرار کیا جاتا ہے ۔ یہ معاہدہ ان لوگوں کے درمیان بھی نہیں ہو سکتا جو اگرچہ مسلمان ہوں لیکن انہوں نے دارالاسلام کی طرف ابھی تک ہجرت نہ کی ہو ۔ یہی قسم ہے جس سے ان آیات میں اہل اسلام کو منع کیا گیا ہے کہ وہ یہود ونصاری کے ساتھ اس قسم کی دوستی نہ کریں جبکہ مدینہ کے ابتدائی دونوں میں یہ عہد قائم تھا ۔

اہل کتاب کے ساتھ رواداری کا رویہ اور بات ہے اور انکے ساتھ دوستی کے معاہدے کرکے ان کو اپنا دوست بنانا اور چیز ہے لیکن اہل اسلام کے دماغ کے اندر ابھی تک دین کی حقیقت نہیں اتری اور ابھی تک انہوں نے دین کے فرائض ووظائف کو نہیں سمجھا کہ دین ایک منظم اور حقیقت پسندانہ منہاج ہے ۔ یہ مسلسل حرکت میں رہتا ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ اس کرہ ارض پر ایک واقعی صورت حال پیدا کر دے جو اسلامی تصورحیات کے مطابق ہو ۔ یہ تصورحیات ان تمام تصورات سے مختلف ہے جو انسانیت کے اندر متعارف رہے ہیں۔ اس طرح اس اسلامی صورت حالات کا پھر ان تمام تصورات و حالات کے ساتھ تصادم ہوتا ہے جو اس کے خلاف ہوتے ہیں ۔ نیز اس کا لوگوں کی خواہشات کے ساتھ ‘ لوگوں کے فسق وفجور اور انکے انحرافات کے ساتھ بھی تصادم ہوتا ہے اور یہ نظام بھی ایسی کشمکش میں داخل ہوجاتا ہے کہ اس سے کوئی چھٹکارا نہیں ہوتا ۔ یہ تصادم اس لئے ہوتا ہے کہ اسلامی نظام ایک جدید صورت حال پیدا کرتا ہے اور اپنے اس ہدف کی طرف وہ مسلسل مثبت طور پر حرکت کرتا رہتا ہے ۔

ایسے لوگ جن کے شعور واحساس کے اندر اسلامی نظریہ حیات کا یہ پہلو واضح نہیں ہوتا اور جن کے شعور کے اندر اسلا اور دوسرے ملل ونحل کے اندر برپا معرکے کا اچھی طرح ادراک نہیں ہوتا اور جو اس قسم کی واضح قرآنی ہدایات سے غافل ہیں تو وہ ان ہدایات جن کے اندر اسلامی معاشرے میں رہنے والے اہل کتاب کے ساتھ رواداری کا حکم دیا گیا ہے اور ان کے تمام حقوق محفوظ کئے گئے ہیں اور ان ہدایات کے درمیان جو معاہدات تحالف اور …

Al-Maaida 5:52Listen in Qur'an →
53

وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَهَٰٓؤُلَآءِ ٱلَّذِينَ أَقْسَمُوا۟ بِٱللَّهِ جَهْدَ أَيْمَٰنِهِمْ ۙ إِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ ۚ حَبِطَتْ أَعْمَٰلُهُمْ فَأَصْبَحُوا۟ خَٰسِرِينَ

اور اس (وقت) مسلمان (تعجب سے) کہیں گے کہ کیا یہ وہی ہیں جو خدا کی سخت سخت قسمیں کھایا کرتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ان کےعمل اکارت گئے اور وہ خسارے میں پڑ گئے

(آیت) ” وَیَقُولُ الَّذِیْنَ آمَنُواْ أَہَـؤُلاء الَّذِیْنَ أَقْسَمُواْ بِاللّہِ جَہْدَ أَیْْمَانِہِمْ إِنَّہُمْ لَمَعَکُمْ حَبِطَتْ أَعْمَالُہُمْ فَأَصْبَحُواْ خَاسِرِیْنَ (53)

” اور اس وقت اہل ایمان کہیں گے ” کیا یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھا کر یقین دلاتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ؟ “۔۔۔۔۔ ان کے سب اعمال ضائع ہوگئے اور آخر کار یہ ناکام ونامراد ہو کر رہے ۔

ہاں پھر ایک دن آگیا کہ فتح نصیب ہوئی ۔ کئی لوگوں کے خفیہ راز کھل گئے اور ان کے اعمال ضائع ہوگئے اور کئی گروپ سخت گھاٹے میں رہے ۔ اور آج بھی ہم اللہ کے اس وعدے کے انتظار میں ہیں کہ فتح آئے گی بشرطیکہ ہم اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ رکھیں ۔ بشرطیکہ ہماری دوستی صرف اللہ سے ہو ‘ بشرطیکہ ہم اسلامی نظام کو سمجھیں اور اس کے مطابق اپنے افکار اور اپنے اعمال استوار کریں ‘ بشرطیکہ ہم معرکے کے اندر اللہ کی ہدایات اور راہنمائی میں اتریں اور ہم اللہ اور رسول کی سوا کسی کو دوست نہ بنائیں ۔

پہلی پکار اہل ایمان کو یہ تھی کہ وہ یہود ونصاری کی دوستی اور اس کے ساتھ حلیفانہ تعلقات قائم کرنے سے باز آجائیں ‘ ورنہ یاد رکھیں کہ ان کا شمار بھی ان میں ہوگا اور اس طرح وہ اسلام سے مرتد ہوجائیں گے ۔ ان کو پتہ بھی نہ چلے گا کہ وہ کیا سے کیا بن گئے بالکل غیر ارادی طور پر۔ اب یہاں ان کو دوسری کال دی جاتی ہے ۔ کہ خبردار ! ان میں سے کوئی مرتد نہ ہوجائے ۔ یہ اراتداد اس دوستی سے بھی ہو سکتا ہے اور دوسرے اسباب کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے ۔ اگر وہ مرتد ہوگئے تو اللہ کے ہاں ان کا کوئی مقام نہ رہے گا اور یہ بات بھی نوٹ کرلیں کہ ان کا یہ ارتداد اور الٹا پھرنا ‘ نہ اللہ کو مجبور کرسکتا ہے اور نہ اللہ کے دین کو نقصان دے سکتا ہے ۔ اللہ کے دین کے دوست اور بہت لوگ ہو سکتے ہیں جو اللہ کے علم میں ہیں ۔ اگر مسلمان سب کے سب پھرگئے تو وہ لوگ آجائیں گے اور یہاں ان لوگوں کے کچھ خدوخال بھی بتا دیئے جاتے ہیں جو کہ اللہ کے علم میں ہیں اور ریزور ہیں اور جو اس کے دین کے حامی و مددگار ہوں گے اور یہ خدوخال نہایت ہی پسندیدہ ‘ خوشنما ‘ خوبصورت اور چمکدار ہیں ۔ اور وہ قبلہ بھی بتا دیا جاتا ہے جس کی طرف ایک مسلم اپنی دوستی اور محبت کا رخ کرے گا اور اس دوسری پکار میں اس معرکے کا وہ حتمی انجام بھی ذکر کردیا جاتا ہے ‘ جو حزب اللہ اور تمام دوسری احزاب کے اندر جاری ہے ۔ اس انجام تک وہ لوگ اور صرف وہی لوگ پہنچیں گے جن کی محبت صرف اللہ اور رسول اللہ اور اہل ایمان کے ساتھ ہے ۔

Al-Maaida 5:53Listen in Qur'an →
54

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَن يَرْتَدَّ مِنكُمْ عَن دِينِهِۦ فَسَوْفَ يَأْتِى ٱللَّهُ بِقَوْمٍۢ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُۥٓ أَذِلَّةٍ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى ٱلْكَٰفِرِينَ يُجَٰهِدُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَآئِمٍۢ ۚ ذَٰلِكَ فَضْلُ ٱللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَآءُ ۚ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌ

اے ایمان والو اگر کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے گا تو خدا ایسے لوگ پیدا کر دے گا جن کو وہ دوست رکھے اور جسے وہ دوست رکھیں اور جو مومنوں کے حق میں نرمی کریں اور کافروں سے سختی سے پیش آئیں خدا کی راہ میں جہاد کریں اور کسی ملامت کرنے والی کی ملامت سے نہ ڈریں یہ خدا کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور الله بڑی کشائش والا اور جاننے والا ہے

(آیت) ” نمبر 54 تا 56۔

اس صورت میں اور اس مقام پر مسلمانوں کو یہ تنبیہ کرنا کہ وہ مرتد نہ ہوجائیں ‘ اس بات کا پتہ دیتا ہے کہ ارتداد اور یہود ونصاری کے ساتھ دوستی اور تعلق موالات کے درمیان گہرا ربط ہے۔ خصوصا اس ریمارک کے بعد کہ جو شخص ان کے ساتھ محبت وموالات کا تعلق قائم کرے گا وہ انہیں میں شمار ہوگا ۔ وہ جماعت مسلمہ سے خارج تصور ہوگا اور ان کافر اور آدمی ہوگا ۔ (آیت) ’ ومن یتولھم منکم فانہ منھم) (تم میں سے جو ان کے ساتھ موالات کرے گا وہ ان میں سے ہوگا) اس مفہوم کی رو سے یہ دوسری پکار پہلی ہی تاکید وتائید ہوگی اور اس پکار کے بعد جو تیسری پکار آرہی ہے وہ بھی اس مفہوم پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہاں اہل کتاب اور کفار دونوں کے ساتھ تعلق موالات کی ممانعت کا ذکر ہے اور ان کو ایک صف میں کھڑا کردیا گیا ہے کہ اہل کتاب اور کفار کے ساتھ موالات کا درجہ ایک ہی ہے اور یہ کہ اسلام میں اہل کتاب اور دوسرے کفار کے ساتھ بعض تعلقات میں جو فرق کیا گیا ہے وہ ہدایات تعلق موالات پر لاگو نہیں ہیں ان میں موالات شامل نہیں ہے ۔

(آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ مَن یَرْتَدَّ مِنکُمْ عَن دِیْنِہِ فَسَوْفَ یَأْتِیْ اللّہُ بِقَوْمٍ یُحِبُّہُمْ وَیُحِبُّونَہُ أَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ أَعِزَّۃٍ عَلَی الْکَافِرِیْنَ یُجَاہِدُونَ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ وَلاَ یَخَافُونَ لَوْمَۃَ لآئِمٍ ذَلِکَ فَضْلُ اللّہِ یُؤْتِیْہِ مَن یَشَاء ُ وَاللّہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ(54)

” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ‘ اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے ۔ (تو پھر جائے) اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا جو مومنوں پر نرم اور کفار پر سخت ہوں گے ‘ جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے ۔ یہ اللہ کا فضل ہے ‘ جسے چاہے عطا کرتا ہے ۔ اللہ وسیع ذرائع کا مالک ہے اور سب کچھ جانتا ہے ۔

کسی ایک گروہ اور جماعت کو اللہ کے کام پر لگانا اللہ کی منشا کو پورا کرنا ہے ۔ اگر ایسا گروہ اس کرہ ارض پر اللہ کے دین کی اقامت کے لئے دست قدرت کا آلہ کار ہو ‘ اور اور اس کے ذریعے دنیا میں عوام الناس پر اللہ کی حکومت قائم ہو ‘ ان کی زندگی میں اللہ کے احکام وہدایت نافذ ہوں ‘ انہی کے مطابق ان کی انتظامیہ ہو ‘ ان کی عدالتوں میں اسلامی شریعت نافذ ہو اور بھلائی ‘ خیر ‘ پاکیزگی اور ترقی کا دور دورہ ہو اور یہ اسلامی نظام کی وجہ سے دنیا کو حاصل ہو تو اس گروہ کا اس کام کے منتخب ہونا اور کیا جانا ہی اللہ تعالیٰ کا عظیم فضل وکرم ہے ۔ اب اگر کوئی اپنے آپ کو اللہ کے اس فضل وکرم سے محروم کرتا ہے تو یہ اس کی اپنی بدبختی ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ غنی بادشاہ ہے اور ان محروم ہونے والوں کے علاوہ بھی اللہ کے علم میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اس فضل وکرم کے مستحق ہیں ۔

یہاں اللہ تعالیٰ ان مختاران الہی کی جو تصویر کشی فرماتے ہیں اس کے خدوخال نہایت ہی واضح ہیں اور ان کی صفات کا ذکر بھی نہایت ہی واضح طور پر کردیا گیا ہے ۔ یہ تصویر نہایت ہی روشن اور پرکشش ہے ۔

(آیت) ” فسوف یاتی اللہ بقوم یحبونہ “۔ (5 : 54) ” اللہ بہت سے لوگ پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا “۔ یعنی ان کے اور ان کے رب کے درمیان رابطہ اور تعلق محبت کے متبادل تحفے ہوں گے ۔ محبت کیا ہے ؟ ایک روح ہے جو نہایت ہی لطیف ‘ روشن ‘ پر رونق اور نہایت ہی ہشاش وبشاش روح ہے ۔ جو اس قوم اور اللہ تعالیٰ کے درمیان رابطے کا کام دیتی ہے ۔

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ محبت کرتا ہے ۔ یہ ایک ایسا امر ہے جس کی قدروقیمت کا ادراک صرف اس شخص کو ہو سکتا ہے جس کو معرفت ربانی حاصل ہو اور انہیں صفات سے متصف ہو جو اللہ نے خود بیان کی ہیں ۔ نیز صرف وہی شخص اس کا تصور کرسکتا ہے جس کے حس ‘ …

Al-Maaida 5:54Listen in Qur'an →
55

إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَهُمْ رَٰكِعُونَ

تمہارے دوست تو خدا اور اس کے پیغمبر اور مومن لوگ ہی ہیں جو نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے اور (خدا کے آگے) جھکتے ہیں

(آیت) ” إِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّہُ وَرَسُولُہُ وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ الَّذِیْنَ یُقِیْمُونَ الصَّلاَۃَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاۃَ وَہُمْ رَاکِعُونَ (55)

” تمہارے رفیق تو حقیقت میں صرف اللہ اور رسول اللہ اور اہل ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں ‘ زکوۃ دیتے ہیں اور اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں ۔

بطریق حصریہ فیصلہ دیا جاتا ہے جس میں کسی تاویل اور لیپاپوتی کی کوئی گنجائش نہیں رہتی اور نہ اسلامی تحریک کو پگھلانے اور اسلامی تصور حیات کو ڈھیلا کرنے کی کوئی گنجائش رہتی ہے ۔

اس کے سوا کوئی اور بات ممکن بھی نہ تھی اس لئے کہ یہ مسئلہ اپنی اصلیت کے اعتبار سے نظریاتی مسئلہ ہے ۔ پھر اس نظریہ کو لے کر ایک تحریک برپا کرنے کا مسئلہ ہے اور اس میں دوستی اور موالات کا خالصۃ اللہ کے لئے ہونا ضروری ہے صرف اللہ ہی پر بھروسہ کرنا ضروری ہے تاکہ دین صرف اسلام ہوجائے اور اسلامی صفوں میں اور ان صفوں کے درمیان مکمل جدائی ہوجائے جو صفیں اسلام کو دین تسلیم نہیں کرتیں جو اسلام کو منہاج حیات نہیں بتاتیں ۔ یہ تمام دو ٹوک پالیسیاں اس لئے ہیں کہ اسلامی تحریک کے اندر سنجیدگی ہو اور اس کا اپنا نظام ہو ۔ اس میں صرف ایک ہی قیادت کے لئے دوستی اور وفاداری ہو اور اتحاد ویقین ایک ہی رجمنٹ کے افراد کے اندر ہو اس لئے کہ یہ اتحاد اس گروہ کے درمیان ہے جسے نظریات کی اساس پر اٹھایا گیا ہے ۔

اب اس رجمنٹ کے بعض دوسرے اوصاف گنوائے جاتے ہیں ۔ یہ اس کے ممتاز اوصاف ہیں اور یہ اس لئے گنوائے جاتے ہیں کہ اسلام محض ایک عنوان ہی نہ ہو ، محض جھنڈا اور علامت ہی نہ ہو ‘ محض زبانی جمع خرچ نہ ہو یا اس طرح نہ ہو کہ وہ ایک نسب کی طرح پشت درپشت سے منتقل ہوتا ہو یا محض ایک صفت ہو جو اچھے لوگوں میں پائی جاتی ہے بلکہ وہ ایک علمی دین ہو۔

(آیت) ” ْ الَّذِیْنَ یُقِیْمُونَ الصَّلاَۃَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاۃَ وَہُمْ رَاکِعُونَ (55)

” وہ لوگ جو نماز قائم کرتے ہیں ‘ زکوۃ دیتے ہیں اور اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں ۔ ان کی صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں ۔ صرف نماز ادا نہیں کرتے بلکہ قائم کرتے ہیں اقامت صلوۃ کا مفہوم یہ ہے کہ وہ نماز پورے طور پر ادا کرتے ہیں اور ان کی نماز سے وہ آثار نمودار ہوتے ہیں جن کا ذکر اللہ نے فرمایا ہے ۔

(آیت) ” ان الصلوۃ تنھی عن الفحشآء والمنکر) (نماز فحاشی اور منکر سے روکتی ہے) اور جس شخص کی نماز اسے فحاشی اور برائیوں کے ارتکاب سے نہیں روکتی اس نے گویا نماز ادا نہیں کی ۔ اگر اس نے نماز قائم کی ہوتی تو نماز اسے برائیوں سے روکتی ۔

ان کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ زکوۃ دیتے ہیں ۔ یعنی اللہ کی عبادت کرتے ہوئے مال میں سے اللہ کا حق ادا کرتے ہیں ۔ یہ ایک قسم کی مالی عبادت ہے اور اسے دل کی رغبت اور رضا مندی سے ادا کیا جانا چاہئے اس لئے کہ زکوۃ محض ٹیکس نہیں ہے کہ اسے بادل ناخواستہ ادا کیا جائے ۔ زکوۃ بھی عبادت ہے بلکہ یہ مالی عبادت ہے اور یہ اسلامی نظام کی خصوصیت ہے کہ وہ ایک حکم کے ذریعے مختلف مقاصد کو حاصل کرلیتا ہے ۔ رہے انسانوں کے بنائے ہوئے نظام تو ان میں ایسی کوئی خصوصیت نہیں ہے کہ ایک پہلو میں ہدف کو پورا کرلیں اور دوسرا پہلو سرے سے غائب ہو۔

کسی معاشرے کی اصلاح صرف اس بات سے نہیں ہوتی کہ اس میں لوگوں سے مال محض ٹیکس کے طور پر لیا جائے یا دولت مندوں سے مال لیا جائے اور فقراء کو دیا جائے اور یہ کام حکومت اور قوم کے نام پر کیا جائے یا اسے مالیے کا نام دیاجائے ، ایسی صورتوں میں صرف ایک مقصد پورا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ محتاجوں تک دولت کا ایک حصہ پہنچ جاتا ہے ۔ رہی زکوۃ تو اس کے نام اور مفہوم دونوں سے پاکیزگی اور نشوونما کا اظہار ہوتا ہے ۔ اس سے ایک طرف سے انسانی ضمیر کے لئے پاکیزگی حاصل ہوتی ہے اور دوسرے طرف مال کی پاکیزگی بھی حاصل ہوتی ہے کیونکہ یہ اللہ کی عبادت ہوتی ہے اور اس میں ادا کرنے …

Al-Maaida 5:55Listen in Qur'an →
56

وَمَن يَتَوَلَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ فَإِنَّ حِزْبَ ٱللَّهِ هُمُ ٱلْغَٰلِبُونَ

اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر اور مومنوں سے دوستی کرے گا تو (وہ خدا کی جماعت میں داخل ہوگا اور) خدا کی جماعت ہی غلبہ پانے والی ہے

(آیت) ” ومن یتول اللہ ورسولہ والذین امنوا فان حزب اللہ ھم الغلبون (56) (5 : 55۔ 56)

” اور جو اللہ اور اس کے رسول اور اہل ایمان کو اپنا رفیق بنا لے اور اسے معلوم ہو کہ اللہ کی جماعت ہی غالب رہنے والی ہے ۔

ایمان کے اصول کے بیان کے بعد اللہ تعالیٰ نے غلبے کا وعدہ کیا ہے ۔ اور ایمانی اصل اور ایمانی قاعدہ یہ ہے کہ موالات اور دوستی صرف اللہ ‘ رسول اللہ ﷺ اور مومنین کے لئے ہو۔ پہلے یہ حکم دیا گیا کہ اگر تم یہودیوں کے ساتھ موالات کرو گے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تم اسلامی صفوں سے خارج تصور ہوگا ‘ تمہارا شمار یہودونصاری میں ہوگا اور معنوی اعتبار سے تمہارا یہ عمل دین سے ارتداد ہوگا۔

یہ لمحہ فکریہ قرآن میں بار بار آتا ہے ‘ وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ ایک مسلمان سے یہ توقع کرتا ہے کہ وہ اسلام کو مطلقا خیر سمجھے اور اس پر چلے ۔ اس لئے نہیں کہ وہ غالب ہوگا یا اسے زمین کے اندر اقتدار اعلی نصیب ہوگا ۔ تمکن فی الارض اور غلبہ تو ایمان کے آثار ہیں اور اپنے وقت پر ضرور نمودار ہوتے ہیں اور یہ اس لئے نمودار ہوتے ہیں کہ اللہ کی تقدیر پردے سے ظاہر ہو کہ اس نے اس دین کو اس کرہ ارض پر غالب کرنا ہے ۔ غلبے کا ویہ وعدہ اس لئے نہیں ہے کہ لوگ اس وعدے کے بل بوتے پر دین میں داخل ہوجائیں ۔ محض غلبہ مقصود نہیں ہے ‘ نہ اس میں ان کی ذات اور شخصیت کا کوئی فائدہ ہے ‘ یہ تو اللہ کی تقدیر ہوتی ہے جو مسلمانوں کے ہاتھوں ازپس پردہ تقدیر نمودار ہوتی ہے ۔ یہ غلبہ جو انہیں نصیب ہوتا ہے تو یہ ان کے نظریہ حیات کے لئے ہوتا ہے ‘ ان کی ذات کے لئے نہیں ہوتا ۔ ان کے لئے اگر کچھ ہے تو وہ اس راہ جدوجہد کرنے کا ثواب اخروی ہے اور یہ اخروی ثواب انہیں اس جدوجہد کے ان نتائج پر بھی ملے گا ۔ مثلا کرہ ارض پر اگر دین غالب ہوجاتا ہے تو اس زمین پر جو اصلاحی کام ہوتا ہے ‘ اس تمام کا ثواب انہیں ملے گا ۔

بعض اوقات اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے ساتھ غلبے کا وعدہ کرتا ہے تاکہ وہ ثابت قدم ہوجائیں اور ان کے سامنے جو مشکلات بھیانک صورت میں کھڑی ہیں ان کے اثرات سے وہ آزاد ہوجائیں ۔ یہ مشکلات بعض نہایت ہی تباہ کن ہوتی ہیں ۔ جب وہ انجام کا یقین حاصل کرلیتے ہیں تو ان کے دل قوی ہوجاتے ہیں اور وہ مشکلات کو انگیز کرلیتے ہیں ۔ وہ مشکل گھاٹی کو سر کرلیتے ہیں اور پرامید ہوجاتے ہیں کہ اللہ ان کے ہاتھوں اس امت کے لئے کوئی بھلائی برپا کردے گا ۔ ان کو جہاد کا ثواب ملے گا اور دین کے غلبے کا ثواب ملے گا اور اس پر جو نتائج مرتب ہوں گے ان کا ثواب بھی ملے گا ۔

غرض اس مقام پر اس آیت کے لانے سے معلوم ہوتا پر اس آیت کے لانے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں جماعت مسلمہ کے شب وروز کیا تھے اور یہ کہ ایسی خوشخبری کی ضرورت تھی ۔ چناچہ یہ فیصلہ دیا گیا کہ غلبہ حزب اللہ ہی کا ہوگا ۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ یہ آیات کس دور میں نازل ہوئیں ۔

ان حالات میں ہمارے لئے تمام نتائج کا خلاصہ اس مختصر فیصلے میں دے دیا جاتا ہے کہ حزب اللہ کو غلبہ ہوگا اور ایک مومن مطمئن ہوجاتا ہے کہ بس یہی ہے سنت الہیہ کہ حزب اللہ غالب ہوگی اگرچہ بعض معرکوں میں اسے بظاہر شکست بھی ہوجائے ‘ اس لئے کہ بعض ظاہری حالات کے ہوتے ہوئے بھی اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے ۔ ہاں بعض مراحل تحریک میں شکست بھی نظر آتی ہے ۔ اس وعدے کے تحقق کی راہ بہرحال ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ موالات صرف اللہ رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کے لئے ہو۔

اب ذرا اس امر پر غور کریں کہ قرآن مجید نے اہل ایمان کو ان لوگوں کے ساتھ تعلق موالات قائم کرنے سے بار بار منع کیا ہے جو اہل ایمان کے نظریے کے خلاف ہیں ۔ اور ان کے لئے نئے نئے انداز اختیار کئے ہیں تاکہ یہ بات ان کے احساس و شعور کا حصہ بن جائے اور یہ اصول ان کے ایمان کا حصہ بن جائے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلامی تصور حیات میں اس اصول کی کس قدر زیادہ اہمیت ہے ۔

اس …

Al-Maaida 5:56Listen in Qur'an →
57

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَتَّخِذُوا۟ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ دِينَكُمْ هُزُوًۭا وَلَعِبًۭا مِّنَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ مِن قَبْلِكُمْ وَٱلْكُفَّارَ أَوْلِيَآءَ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

اے ایمان والوں! جن لوگوں کو تم سے پہلے کتابیں دی گئی تھیں ان کو اور کافروں کو جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل بنا رکھا ہے دوست نہ بناؤ اور مومن ہو تو خدا سے ڈرتے رہو

(آیت) ” نمبر 57 تا 58۔

” ہاں یہ صورت حال سخت ہیجان انگیز ہوتی بشرطیکہ کسی کے اندر ایمانی حمیت کا جذبہ موجود ہو اور وہ یہ سمجھتا ہو کہ اگر اس کے سامنے اس کے دین کی توہین کردی گئی ‘ اس کی عبادت کی توہین کردی گی اور اس کے نظریہ حیات اور موقف کی توہین کردی گئی تو اس کی کوئی عزت اور آبرو نہ رہے گی لہذا ایسے لوگوں سے ترک تعلق ہی ایک خدائی امر ہے ۔ اہل ایمان اور ایسے لوگوں کے درمیان دوستی یا تعلق موالات کس طرح قائم ہوسکتا ہے ۔ یہ حرکات وہ لوگ کرتے بھی اس لئے ہیں کہ ان کی عقل وخرد میں خرابی ہے اس لئے کہ اللہ کے دین اور مسلمانوں کے طریقہ عبادت کے ساتھ مذاق تو وہ لوگ کرتے ہیں جن کی عقل وخرد میں خرابی ہے اس لئے کہ اللہ کے دین اور مسلمانوں کے طریقہ عبادت کے ساتھ مذاق تو وہ لوگ کرتے ہیں جن کی عقل متوازن نہیں ہوتی ۔ جب عقل صحت مند اور درست ہو تو وہ اپنے ماحول سے ایمان کے اشارات پاتی رہتی ہے اور جب عقل اور فہم میں خلل واقعہ ہوجاتا ہے تو وہ اپنے اردگرد پھیلے ہوئے اشارات ایمان کا ادراک نہیں کرسکتی ۔ اس خلل کی وجہ سے انسان اور اس کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کے درمیان ‘ تعلقات میں بھی خلل پیدا ہوجاتا ہے اس لئے کہ یہ پوری کائنات ہی اس بات پر شاید عادل ہے کہ اللہ ہی انسان کی بندگی کا مستحق ہے اور اگر عقل صحت مند ہو اور اس میں کوئی خلل نہ ہو تو اس کے اندر اس کائنات کی عظمت اور اس کے بنانے والے کی عظمت و جلالت پیدا ہوتی ہے اس لئے کوئی درست اور سلیم عقل اہل اسلام کے طریقہ عبادت کے ساتھ مزاح نہیں کرسکتی ۔

اسلامی عبادات کے ساتھ یہ مذاق اہل کتاب یہودیوں کی طرف سے بھی ہوتا تھا اور اہل کفر کی طرف سے بھی ۔ یہ مزاح اس وقت ہو رہا تھا جب یہ قرآن حضور اکرم ﷺ کے قلب پر اتر رہا تھا اور جماعت مسلمہ اسے اخذ کر رہی تھی ‘ البتہ سیرت رسول ﷺ سے کوئی ایسا واقعہ منقول نہیں ہے کہ نصاری کی طرف سے بھی یہ مذاق ہوا ہو ۔ لیکن قرآن کریم جماعت مسلمہ کے لئے ایک دائمی اصول وضع کر رہا تھا ‘ مسلمانوں کی زندگی کا ایک دائمی منہاج اور دائمی نظریہ تشکیل پا رہا تھا اور اللہ کو یہ بھی علم تھا کہ زمانے کی گردشیں کیا ہوں گی اور دیکھئے کہ بعد کے ادوار میں دین کے دشمنوں اور تحریک اسلامی کے دشمنوں نے اس امت کے ساتھ کیا سلوک کیا اور یہ سلوک ان لوگوں نے کیا جو اپنے آپ کو نصاری کہتے تھے اور یہ لوگ تعداد میں یہودیوں کے مقابلے میں بہت ہی زیادہ تھے ۔ بلکہ یہود اور دوسرے کفار سے مل کر بھی زیادہ تھے ۔ یہ لوگ اسلام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور صدیوں تک اسلام کی دشمنی دلوں میں اٹھائے پھرے ۔ اسلام کے خلاف انہوں نے جنگیں جاری رکھیں اور یہ محاربت اس وقت سے شروع ہوگئی جب حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کے دور میں سلطنت روم کے ساتھ مسلمانوں کی مڈبھیڑ ہوئی اور یہ مڈبھیڑ صلاح الدین ایوبی کے وقت تک صلیبی جنگوں کی شکل میں جاری رہی ۔ اس کے بعد عالم اسلام کے خلاف تمام مغربی ممالک نے جمع ہو کر یہاں سے خلاف اسلامیہ کو ختم کیا ۔ اس کے بعد مغربی استعمار پیدا ہوا ‘ جس کی آغوش میں صلیبیت چھپی ہوئی تھی اور کبھی کبھار اس استعمار کی زبان سے اس کا اظہار بھی ہوجاتا تھا ۔ اس استعمار کے زیر سایہ مسیحی تبلیغ آئی اور مسیحی تبلیغ اور استعمار دونوں اندر سے ملے ہوئے تھے ۔ آج بھی ان لوگوں کے خلاف یہود ونصاری کی جہ جنگ جاری ہے جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور احیائے اسلام کے لئے کسی بھی جگہ کام کرتے ہیں اور ان حملوں میں یہودی ‘ عیسائی اور تمام مشرکین بحیثیت ملت واحدہ شریک ہیں۔

قرآن اس لئے آیا کہ یہ مسلمانوں کے لئے کتاب ہدایت ہے اور قیامت تک کے لئے ہے اور یہ کتاب ہی اس امت کے تصورات کو تشکیل دیتی ہے ۔ امت کے لئے اجتماعی نظام بناتی ہے اور اس کے لئے تحریکی خطوط وضع کرتی ہے چناچہ یہاں اس نے ایک مستقل اصول رکھ دیا کہ امت مسلمہ کا کوئی فرد اللہ ‘ رسول اللہ اور …

Al-Maaida 5:57Listen in Qur'an →
58

وَإِذَا نَادَيْتُمْ إِلَى ٱلصَّلَوٰةِ ٱتَّخَذُوهَا هُزُوًۭا وَلَعِبًۭا ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌۭ لَّا يَعْقِلُونَ

اور جب تم لوگ نماز کے لیے اذان دیتے ہو تو یہ اسے بھی ہنسی اور کھیل بناتے ہیں یہ اس لیے کہ سمجھ نہیں رکھتے

(آیت) ” نمبر 57 تا 58۔

” ہاں یہ صورت حال سخت ہیجان انگیز ہوتی بشرطیکہ کسی کے اندر ایمانی حمیت کا جذبہ موجود ہو اور وہ یہ سمجھتا ہو کہ اگر اس کے سامنے اس کے دین کی توہین کردی گئی ‘ اس کی عبادت کی توہین کردی گی اور اس کے نظریہ حیات اور موقف کی توہین کردی گئی تو اس کی کوئی عزت اور آبرو نہ رہے گی لہذا ایسے لوگوں سے ترک تعلق ہی ایک خدائی امر ہے ۔ اہل ایمان اور ایسے لوگوں کے درمیان دوستی یا تعلق موالات کس طرح قائم ہوسکتا ہے ۔ یہ حرکات وہ لوگ کرتے بھی اس لئے ہیں کہ ان کی عقل وخرد میں خرابی ہے اس لئے کہ اللہ کے دین اور مسلمانوں کے طریقہ عبادت کے ساتھ مذاق تو وہ لوگ کرتے ہیں جن کی عقل وخرد میں خرابی ہے اس لئے کہ اللہ کے دین اور مسلمانوں کے طریقہ عبادت کے ساتھ مذاق تو وہ لوگ کرتے ہیں جن کی عقل متوازن نہیں ہوتی ۔ جب عقل صحت مند اور درست ہو تو وہ اپنے ماحول سے ایمان کے اشارات پاتی رہتی ہے اور جب عقل اور فہم میں خلل واقعہ ہوجاتا ہے تو وہ اپنے اردگرد پھیلے ہوئے اشارات ایمان کا ادراک نہیں کرسکتی ۔ اس خلل کی وجہ سے انسان اور اس کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کے درمیان ‘ تعلقات میں بھی خلل پیدا ہوجاتا ہے اس لئے کہ یہ پوری کائنات ہی اس بات پر شاید عادل ہے کہ اللہ ہی انسان کی بندگی کا مستحق ہے اور اگر عقل صحت مند ہو اور اس میں کوئی خلل نہ ہو تو اس کے اندر اس کائنات کی عظمت اور اس کے بنانے والے کی عظمت و جلالت پیدا ہوتی ہے اس لئے کوئی درست اور سلیم عقل اہل اسلام کے طریقہ عبادت کے ساتھ مزاح نہیں کرسکتی ۔

اسلامی عبادات کے ساتھ یہ مذاق اہل کتاب یہودیوں کی طرف سے بھی ہوتا تھا اور اہل کفر کی طرف سے بھی ۔ یہ مزاح اس وقت ہو رہا تھا جب یہ قرآن حضور اکرم ﷺ کے قلب پر اتر رہا تھا اور جماعت مسلمہ اسے اخذ کر رہی تھی ‘ البتہ سیرت رسول ﷺ سے کوئی ایسا واقعہ منقول نہیں ہے کہ نصاری کی طرف سے بھی یہ مذاق ہوا ہو ۔ لیکن قرآن کریم جماعت مسلمہ کے لئے ایک دائمی اصول وضع کر رہا تھا ‘ مسلمانوں کی زندگی کا ایک دائمی منہاج اور دائمی نظریہ تشکیل پا رہا تھا اور اللہ کو یہ بھی علم تھا کہ زمانے کی گردشیں کیا ہوں گی اور دیکھئے کہ بعد کے ادوار میں دین کے دشمنوں اور تحریک اسلامی کے دشمنوں نے اس امت کے ساتھ کیا سلوک کیا اور یہ سلوک ان لوگوں نے کیا جو اپنے آپ کو نصاری کہتے تھے اور یہ لوگ تعداد میں یہودیوں کے مقابلے میں بہت ہی زیادہ تھے ۔ بلکہ یہود اور دوسرے کفار سے مل کر بھی زیادہ تھے ۔ یہ لوگ اسلام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور صدیوں تک اسلام کی دشمنی دلوں میں اٹھائے پھرے ۔ اسلام کے خلاف انہوں نے جنگیں جاری رکھیں اور یہ محاربت اس وقت سے شروع ہوگئی جب حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کے دور میں سلطنت روم کے ساتھ مسلمانوں کی مڈبھیڑ ہوئی اور یہ مڈبھیڑ صلاح الدین ایوبی کے وقت تک صلیبی جنگوں کی شکل میں جاری رہی ۔ اس کے بعد عالم اسلام کے خلاف تمام مغربی ممالک نے جمع ہو کر یہاں سے خلاف اسلامیہ کو ختم کیا ۔ اس کے بعد مغربی استعمار پیدا ہوا ‘ جس کی آغوش میں صلیبیت چھپی ہوئی تھی اور کبھی کبھار اس استعمار کی زبان سے اس کا اظہار بھی ہوجاتا تھا ۔ اس استعمار کے زیر سایہ مسیحی تبلیغ آئی اور مسیحی تبلیغ اور استعمار دونوں اندر سے ملے ہوئے تھے ۔ آج بھی ان لوگوں کے خلاف یہود ونصاری کی جہ جنگ جاری ہے جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور احیائے اسلام کے لئے کسی بھی جگہ کام کرتے ہیں اور ان حملوں میں یہودی ‘ عیسائی اور تمام مشرکین بحیثیت ملت واحدہ شریک ہیں۔

قرآن اس لئے آیا کہ یہ مسلمانوں کے لئے کتاب ہدایت ہے اور قیامت تک کے لئے ہے اور یہ کتاب ہی اس امت کے تصورات کو تشکیل دیتی ہے ۔ امت کے لئے اجتماعی نظام بناتی ہے اور اس کے لئے تحریکی خطوط وضع کرتی ہے چناچہ یہاں اس نے ایک مستقل اصول رکھ دیا کہ امت مسلمہ کا کوئی فرد اللہ ‘ رسول اللہ اور …

Al-Maaida 5:58Listen in Qur'an →
59

قُلْ يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ هَلْ تَنقِمُونَ مِنَّآ إِلَّآ أَنْ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَمَآ أُنزِلَ إِلَيْنَا وَمَآ أُنزِلَ مِن قَبْلُ وَأَنَّ أَكْثَرَكُمْ فَٰسِقُونَ

کہو کہ اے اہل کتاب! تم ہم میں برائی ہی کیا دیکھتے ہو سوا اس کے کہ ہم خدا پر اور جو (کتاب) ہم پر نازل ہوئی اس پر اور جو (کتابیں) پہلے نازل ہوئیں ان پر ایمان لائے ہیں اور تم میں اکثر بدکردار ہیں

(آیت) ” نمبر 59۔

“ اللہ تعالیٰ اپنے سچے کلام میں اس حقیقت کو بار بار دہراتے ہیں اور اہل کتاب اس حقیقت کو پگھلا کر ختم کرنا چاہتے ہیں ‘ اسے دبانا چاہتے ہیں ۔ اس کا انکار کرنا چاہتے ہیں اور اہل کتاب کے علاوہ اکثر نام نہاد مسلمان بھی اس حقیقت کے خلاف ہیں اور وہ مادیت اور الحاد کے عنوان سے اہل اسلام اور اہل کتاب کے درمیان دوستی اور موالات قائم کرنا چاہتے ہیں ‘ جو قرآن کی اس پالیسی کے خلاف ہے ۔

آج بھی اہل کتاب اسی برف کو پگھلانا چاہتے ہیں بلکہ اسے دبا کر اس کے آثار کو مٹانا چاہتے ہیں ۔ اور یہ کام وہ اس لئے کرتے ہیں کہ وہ اسلامی ممالک کے باشندوں کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں یا ان باشندوں کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں جن کے آباؤ اجداد مسلمان تھے ۔ یہ اہل کتاب اس فہم کو ختم کرنا چاہتے ہیں جو مسلمانوں کے اندر ربانی منہاج تربیت نے پیدا کردیا تھا اور جب تک مسلمانوں کے اندر یہ فہم و شعور زندہ ہے صلیبی استعمار ان کے مقابلے میں جم نہیں سکتا چہ جائیکہ وہ خود عالم اسلام میں کالونیاں بنائے ۔ اہل کتاب کو جب صلیبی جنگ میں شکست فاش ہوئی اور اس کے بعد جب وہ عیسائیت کی تبلیغ میں بھی ناکام رہے ‘ تو ان کے سامنے اس کے سوا اور کوئی چارہ کار بھی نہ تھا کہ مکروفریب کی راہ اختیار کریں اور ان آبادیوں کے درمیان یہ تصورات پھیلائیں ‘ جو مسلمانوں کی وارث ہیں ‘ کہ اب دین کے نام پر تمام جنگ جو ئیاں ختم ہوچکی ہیں اور یہ تو ایک تاریک دور تھا جس کے اندر تمام اقوام کے اندر مذہبی جنگیں ہوئیں ، اب تو دنیا کو نئی روشنی مل گئی ہے ‘ اب تو ترقی کا دور ہے اور اب تو کسی دینی نظریہ حیات کے مطابل لڑنا نہ جائز ہے ‘ نہ مناسب ‘ اور نہ ہی اس دنیا کے مفاد میں ہے ۔ آج تو مادی دور ہے اور اب جنگ منڈیوں اور خام مال پر ہوگی ۔ لہذا مسلمانوں یا مسلمانوں کے وارثوں کو چاہئے کہ وہ کسی دینی کشمکش یا کسی تحریک احیائے دین کے متعلق نہ سوچیں ۔

اور جب اہل کتاب اس بات سے مطمئن ہوجاتے ہیں کہ اہل اسلام اب اپنی سرحدوں کے بارے میں بےفکر ہوگئے ہیں اور ان کے فکر و شعور سے یہ ترک موالات محو ہوگئی ہے تو اب وہ اپنا استعماری جال پھیلاتے ہیں ۔ خصوصا پھر وہ بڑی آزادی سے عالم اسلام کے اندر استعماری جال پھیلاتے ہیں ۔ اب وہ عالم اسلام میں مسلمانوں کے غیظ وغضب سے محفوظ ہوگئے ہیں اور جب انہوں نے مسلمانوں کو تھپکی دے کر سلا دیا تو اب ان کو محض نظریاتی فتح ہی حاصل نہ ہوگئی بلکہ اب ان کے لئے عالم اسلام میں ہر قسم کی لوٹ اور مار کے راستے بھی کھل گئے ‘ تب انہوں نے اپنی نو آبادیاں قائم کرلیں ‘ مسلمانوں کی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور نظریاتی فتح کے بعد اب وہ مادی دنیا پر بھی قابض ہوگئے اور صورت حال یہ ہوگئی کہ مسلمانوں اور اہل کتاب کے اندر کوئی فرق ہی نہ رہا۔ دونوں قریب قریب ایک جیسے ہوگئے عالم اسلام کے اندر اب اہل کتاب کے ایجنٹ کام کر رہے ہیں جو استعماری طاقتوں نے جگہ جگہ بٹھا رکھے ہیں ۔ بعض اعلانیہ طور پر بٹھا رکھے ہیں اور بعض ان کے خفیہ ایجنٹ ہیں ۔ وہ بھی یہی بات دہراتے ہیں کیونکہ اہل کتاب کے ایجنٹ ہیں اور یہ لوگ اسلامی حدود کے اندر یہ کام کرتے ہیں ۔ یہ ایجنٹ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ صلیبی جنگیں دراصل صلیبی جنگیں ہی نہ تھیں وہ مسلمان جنہوں نے اسلامی جھنڈوں کے نیچے یہ جنگیں لڑیں وہ مسلمان ہی نہ تھے وہ تو قوم پرست تھے ۔ سبحان اللہ ۔

ایک تیسرا فریق جو نہایت کم عقل فریق ہے ‘ اسے مغرب میں صلیبیت کی جانشیں استعماری قوتیں یہ دعوت دیتی ہیں کہ آؤ ہم بھائی بھائی بن جائیں ۔ مذہب کا دفاع کریں اور ملحدین کی تردید کریں ۔ یہ فریب خوردہ ان کی اس دعوت کو قبول کرتے ہیں لیکن یہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ صلیبیوں کی یہ مغربی اولاد جب بھی اسلام اور الحاد کی جنگ ہوتی ہے ‘ یہ ملحدین کے ساتھ صف آراء ہوجاتی ہے ۔ ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں ‘ جب بھی مسلمانوں …

Al-Maaida 5:59Listen in Qur'an →
60

قُلْ هَلْ أُنَبِّئُكُم بِشَرٍّۢ مِّن ذَٰلِكَ مَثُوبَةً عِندَ ٱللَّهِ ۚ مَن لَّعَنَهُ ٱللَّهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ ٱلْقِرَدَةَ وَٱلْخَنَازِيرَ وَعَبَدَ ٱلطَّٰغُوتَ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ شَرٌّۭ مَّكَانًۭا وَأَضَلُّ عَن سَوَآءِ ٱلسَّبِيلِ

کہو کہ میں تمہیں بتاؤں کہ خدا کے ہاں اس سے بھی بدتر جزا پانے والے کون ہیں؟ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی اور جن پر وہ غضبناک ہوا اور (جن کو) ان میں سے بندر اور سور بنا دیا اور جنہوں نے شیطان کی پرستش کی ایسے لوگوں کا برا ٹھکانہ ہے اور وہ سیدھے رستے سے بہت دور ہیں

(آیت) ” نمبر 60۔

یہاں ہمیں اب یہودیون کی تاریخ کا مطالعہ کرایا جاتا ہے ۔ یہ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی لعنت ہوئی اور ان پر اللہ غضب ہوا اور ان کی شکلیں بگاڑ کر ‘ ان سے بندر اور خنزیر بنائے گئے اور پھر بھی ان لوگوں نے طاغوت ہی کی بندگی اختیار کی ۔

ان کے ملعون ہونے اور ان پر اللہ کا غضب آنے کے قصے ‘ قرآن کریم میں بار بار ذکر ہوئے ہیں ۔ نیز قرآن کریم میں ان کے وہ واقعات بھی مذکور ہیں کہ ان میں سے کچھ لوگوں کو بندر اور خنزیر کی شکل میں مسخ کیا گیا ۔ لیکن یہاں ان پر بندگی طاغوت کی جو فرد جرم عائد کی گئی ہے ‘ اس سورة کے مضامین کے زاویے سے اس کی بڑی اہمیت ہے ۔ اس کی ہم قدرے تفصیلات دیں گے کیونکہ یہ لفظ نہایت اہم اور خاص معنی کے لئے استعمال ہوا ہے ۔

طاغوت کا لفظ ہر اس اقتدار کے لئے استعمال ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات سے ماخوذ نہ ہو ‘ ہر حکم ‘ حکم طاغوت ہے اور ہر وہ کام طاغوت ہے جو شریعت اسلامی سے ماخوذ نہ ہو ۔ ہر وہ ظلم طاغوت ہے جو برحق نہ ہو ‘ نیز اللہ کی حاکمیت ‘ اللہ کی الوہیت اور اس کے قانون سازی پر دست درازی کرنا طاغوت کی سب سے بڑی قسم ہے اور جو لفظ اور معنا طاغوت پر صادق آتی ہے ۔

کی عبادت کرتے تھے ‘ بات نہ تھی کہ وہ ان کی عبادت کرتے تھے ۔ حقیقت یہ تھی انہوں نے ارباب اور رہبان کی بنائی ہوئی شریعت کو اپنا لیا تھا اور اللہ کی بھیجی ہوئی شریعت کو چھوڑ دیا تھا۔ اس لئے اللہ نے یہ کہا کہ انہوں نے ارباب و رہبان کی بندگی شروع کردی ہے اور یہ لوگ مشرک ہوگئے ہیں ۔ لفظ طاغوت میں یہ گہرا مفہوم شامل ہیں ہے ۔ یعنی وہ اس حکومت کے مطیع تھے جو شریعت پر مبنی نہ تھی اور سرکش تھی ۔ حقیقت واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ اس حکومت یا ارباب و رہبان کے سامنے سجدے نہ بجا لاتے تھے بلکہ وہ عبادت اس طرح کرتے تھے کہ وہ ان کی اطاعت کرتے تھے ۔ طاغوت کی جب کوئی اطاعت کرتا ہے تو وہ اللہ کے دین اور اللہ کی اطاعت کے دائرے سے خارج ہوجاتا ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے یہاں رسول اللہ ﷺ کو اس طرف متوجہ فرمایا ہے کہ آپ اہل کتاب کا مقابلہ ان کی اس تاریخ کو پیش نظر رکھ کر کریں اور یہ کہ وہ اسی جزا کے مستحق ہیں جو انہیں ان کی تاریخ میں ملی ۔ گویا یہ یہودی نسلا بعدنسل وہی قوم ہیں اس لئے کہ ان کی جبلت ایک ہے اور ان کا یہی انجام ہونا چاہتے تھا ۔

(آیت) ” قل ھل انبئکم بشر من ذلک مثوبۃ عند اللہ “۔ (5 : 60) ” پھر کہو کیا میں ان لوگوں کی نشاندہی کروں جو انجام کار خدا کے ہاں فاسقوں کے انجام سے بھی بدتر ہے ۔ “

یعنی اہل کتاب کی جانب سے اہل اسلام کی دشمنی سے بھی زیادہ خطرناک ‘ وہ اسلام کے خلاف جو سازشیں کرتے ہیں اور اہل ایمان کو محض ایمان کی وجہ سے سزا اور اذیت دیتے ہیں “ اس سے بھی زیادہ بری بات ہے اور وہ ہے خدا کی دشمنی اور خدا کا عذاب ۔ بندے کی دشمنی سے خدا کی دشمنی اور عذاب بہت ہی خطرناک ہے ۔ اور اس کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ شرپسند ہیں ‘ گمراہ ہیں اور صراط مستقیم سے بھٹکے ہوئے ہیں ۔

(آیت) ” اولئک شرمکانا واضل عن سوآء السبیل “۔ (5 : 60) ” ان کا درجہ اور بھی زیادہ برا ہے اور وہ سواء السبیل سے زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔ “

یہاں قرآن کریم ان کی نشانیوں کی صفات کا ذکر کرکے ان کے ساتھ دوستی کرنے اور تعلق موالات قائم کرنے سے مسلمانوں کو متنفر فرماتے ہیں ۔ جبکہ اس سے قبل ان کے تاریخی کردار اور انکے برے انجام کا ذکر ہوا ۔ اب مسلمانوں کو ‘ ان کے بعض راز افشاء کر کے ‘ ان سے ڈرایا جاتا ہے اور اس تصویر کشی میں یہودیوں کو زیادہ نمایاں کیا جاتا ہے اس لئے کہ بات اس وقت کے حالات کے بارے میں چل رہی تھی اور اس وقت سب سے بڑا فتنہ یہودی فتنہ ہی تھا ۔

Al-Maaida 5:60Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.