Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 41–50 of 120

41

۞ يَٰٓأَيُّهَا ٱلرَّسُولُ لَا يَحْزُنكَ ٱلَّذِينَ يُسَٰرِعُونَ فِى ٱلْكُفْرِ مِنَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا بِأَفْوَٰهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِن قُلُوبُهُمْ ۛ وَمِنَ ٱلَّذِينَ هَادُوا۟ ۛ سَمَّٰعُونَ لِلْكَذِبِ سَمَّٰعُونَ لِقَوْمٍ ءَاخَرِينَ لَمْ يَأْتُوكَ ۖ يُحَرِّفُونَ ٱلْكَلِمَ مِنۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهِۦ ۖ يَقُولُونَ إِنْ أُوتِيتُمْ هَٰذَا فَخُذُوهُ وَإِن لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَٱحْذَرُوا۟ ۚ وَمَن يُرِدِ ٱللَّهُ فِتْنَتَهُۥ فَلَن تَمْلِكَ لَهُۥ مِنَ ٱللَّهِ شَيْـًٔا ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَمْ يُرِدِ ٱللَّهُ أَن يُطَهِّرَ قُلُوبَهُمْ ۚ لَهُمْ فِى ٱلدُّنْيَا خِزْىٌۭ ۖ وَلَهُمْ فِى ٱلْءَاخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌۭ

اے پیغمبر! جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں (کچھ تو) ان میں سے (ہیں) جو منہ سے کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں لیکن ان کے دل مومن نہیں ہیں اور (کچھ) ان میں سے جو یہودی ہیں ان کی وجہ سے غمناک نہ ہونا یہ غلط باتیں بنانے کے لیے جاسوسی کرتے پھرتے ہیں اور ایسے لوگوں (کے بہکانے) کے لیے جاسوس بنے ہیں جو ابھی تمہارے پاس نہیں آئے (صحیح) باتوں کو ان کے مقامات (میں ثابت ہونے) کے بعد بدل دیتے ہیں (اور لوگوں سے) کہتے ہیں کہ اگر تم کو یہی (حکم) ملے تو اسے قبول کر لینا اور اگر یہ نہ ملے تو اس سے احتراز کرنا اور اگر کسی کو خدا گمراہ کرنا چاہے تو اس کے لیے تم کچھ بھی خدا سے (ہدایت کا) اختیار نہیں رکھتے یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو خدا نے پاک کرنا نہیں چاہا ان کے لیے دنیا میں بھی ذلت ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے

اے رسول! نہ غمگین کریں آپ کو وہ لوگ جو جلدی کرتے ہیں کفر میں ، ان لوگوں میں سے جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے ساتھ اپنے مونہوں کے اور نہیں ایمان لائے دل ان کے اور ان لوگوں میں سے جو یہودی ہوئے، وہ بہت سننے والے ہیں جھوٹ کے، بہت سننے والے ہیں واسطے دوسری قوم کے کہ نہیں آئی وہ (ابھی) آپ کے پاس، بدل ڈالتے ہیں وہ باتوں کو بعد (ثابت ہونے ان کے) ان کی جگہوں سے وہ کہتے ہیں ، اگر دیے جاؤ تم یہ (حکم) تو اسے لے لو اور اگر نہ دیے جاؤ تم یہ تو بچواور جو شخص کہ ارادہ کرے اللہ اسے گمراہ کرنے کا تو ہرگز نہیں اختیار رکھتے آپ اس کے لیے اللہ کے ہاں کچھ بھی۔ یہی لوگ ہیں کہ نہیں ارادہ کیا اللہ نے یہ کہ پاک کر دے ان کے دلوں کو، ان کے لیے ہے دنیا میں رسوائی اور ان کے لیے آخرت میں ہے عذاب عظیم(41) بہت سننے والے ہیں جھوٹ کے، بہت کھانے والے ہیں حرام کے، پس اگر آئیں وہ آپ کے پاس تو آپ فیصلہ کر دیں ان کے درمیان یا منہ پھیر لیں ان سےاور اگر منہ پھیریں گے آپ ان سے تو ہرگز نہ بگاڑ سکیں گے آپ کا کچھ بھی اور اگر فیصلہ کریں آپ تو فیصلہ کریں ان کے درمیان ساتھ انصاف کے، بے شک اللہ پسند فرماتا ہے انصاف کرنے والوں کو(42) اور کیوں کر منصف بنائیں وہ آپ کو جبکہ ان کے پاس تورات ہے، اس میں حکم ہے اللہ کا، پھر پھر جاتے ہیں وہ بعد اس کےاور نہیں ہیں وہ ایمان لانے والے(43) بے شک نازل کیا ہم نے تورات کو، اس میں ہدایت اور روشنی ہے فیصلہ کرتے تھے ساتھ اس کے پیغمبر، جو مطیع تھے (اللہ کے) واسطے ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے اور (فیصلہ کرتے تھے) اللہ والے اور علماء ، اس لیے کہ وہ نگران بنائے گئے تھے کتاب اللہ کےاور تھے وہ اوپر اس کے گواہ پس نہ ڈرو تم لوگوں سے اور ڈرو مجھ سے اور نہ بیچو تم میری آیتوں کو مول پر تھوڑے سےاور جو نہ فیصلہ کرے ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے تو یہی لوگ ہیں کافر(44)

[41] رسول اللہﷺ مخلوق پر بے حد شفقت فرماتے تھے اس لیے اگر کوئی شخص ایمان لانے کے بعد پھر کفر کی طرف لوٹ جاتا تو آپﷺ کو بہت دکھ پہنچتا اور آپ بہت زیادہ مغموم ہو جاتے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ہدایت فرمائی کہ وہ اس قسم کے لوگوں کی کارستانیوں پر غمزدہ نہ ہوا کریں کیونکہ وہ کسی شمار میں نہیں ۔ اگر وہ موجود ہوں تو ان کا کوئی فائدہ نہیں اور اگر وہ موجود نہ ہوں تو ان کے بارے میں کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ بنابریں ان کے بارے میں عدم حزن و غم کے موجب سبب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ مِنَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِاَفۡوَاهِهِمۡ وَلَمۡ تُؤۡمِنۡ قُلُوۡبُهُمۡ ﴾’’ان لوگوں میں سے جو کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں اپنے مونہوں سے اور ان کے دل مسلمان نہیں ‘‘ کیونکہ صرف ان لوگوں کے بارے میں افسوس کیا جاتا ہے اور صرف ان کے بارے میں غم کھایا جاتا ہے جو ظاہر اور باطن میں مومن شمار ہوتے ہیں ۔ حاشاللہ اہل ایمان کبھی اپنے دین سے نہیں پھرتے کیونکہ جب بشاشت ایمان دل میں جاگزیں ہو جاتی ہے تو صاحب ایمان کسی چیز کو ایمان کے برابر نہیں سمجھتا اور ایمان کے بدلے کوئی چیز قبول نہیں کرتا۔﴿ وَمِنَ الَّذِيۡنَ هَادُوۡا ﴾ ’’اور ان میں سے جو یہودی ہیں ۔‘‘ ﴿ سَمّٰؔعُوۡنَ لِلۡكَذِبِ سَمّٰؔعُوۡنَ لِقَوۡمٍ اٰخَرِيۡنَ١ۙ لَمۡ يَاۡتُوۡكَ ﴾ ’’جاسوسی کرتے ہیں جھوٹ بولنے کے لیے، وہ جاسوس ہیں دوسرے لوگوں کے جو آپ تک نہیں آئے‘‘ یعنی اپنے سرداروں کی آواز پر لبیک کہنے والے، ان کے مقلد، جن کا تمام تر معاملہ جھوٹ اور گمراہی پر مبنی ہے۔ اور یہ سردار جن کی پیروی کی جاتی ہے ﴿ لَمۡ يَاۡتُوۡكَ ﴾ ’’آپ کے پاس کبھی نہیں آئے‘‘ بلکہ وہ آپ سے روگردانی کرتے ہیں اور اسی باطل پر خوش ہیں جو ان کے پاس ہے ﴿ يُحَرِّفُوۡنَ الۡكَلِمَ مِنۢۡ بَعۡدِ مَوَاضِعِهٖ ﴾ ’’وہ بدل ڈالتے ہیں بات کو، اس کا ٹھکانا چھوڑ کر‘‘ یعنی وہ اللہ کی مخلوق کو گمراہ کرنے اور حق کو روکنے کے لیے الفاظ …

Al-Maaida 5:41Listen in Qur'an →
42

سَمَّٰعُونَ لِلْكَذِبِ أَكَّٰلُونَ لِلسُّحْتِ ۚ فَإِن جَآءُوكَ فَٱحْكُم بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ ۖ وَإِن تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَن يَضُرُّوكَ شَيْـًۭٔا ۖ وَإِنْ حَكَمْتَ فَٱحْكُم بَيْنَهُم بِٱلْقِسْطِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُقْسِطِينَ

(یہ) جھوٹی باتیں بنانے کے جاسوسی کرنے والے اور (رشوت کا) حرام مال کھانے والے ہیں اگر یہ تمہارے پاس (کوئی مقدمہ فیصل کرانے کو) آئیں تو تم ان میں فیصلہ کر دینا یا اعراض کرنا اور اگر ان سے اعراض کرو گے تو وہ تمہارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکیں گے اور اگر فیصلہ کرنا چاہو تو انصاف کا فیصلہ کرنا کہ خدا انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

اے رسول! نہ غمگین کریں آپ کو وہ لوگ جو جلدی کرتے ہیں کفر میں ، ان لوگوں میں سے جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے ساتھ اپنے مونہوں کے اور نہیں ایمان لائے دل ان کے اور ان لوگوں میں سے جو یہودی ہوئے، وہ بہت سننے والے ہیں جھوٹ کے، بہت سننے والے ہیں واسطے دوسری قوم کے کہ نہیں آئی وہ (ابھی) آپ کے پاس، بدل ڈالتے ہیں وہ باتوں کو بعد (ثابت ہونے ان کے) ان کی جگہوں سے وہ کہتے ہیں ، اگر دیے جاؤ تم یہ (حکم) تو اسے لے لو اور اگر نہ دیے جاؤ تم یہ تو بچواور جو شخص کہ ارادہ کرے اللہ اسے گمراہ کرنے کا تو ہرگز نہیں اختیار رکھتے آپ اس کے لیے اللہ کے ہاں کچھ بھی۔ یہی لوگ ہیں کہ نہیں ارادہ کیا اللہ نے یہ کہ پاک کر دے ان کے دلوں کو، ان کے لیے ہے دنیا میں رسوائی اور ان کے لیے آخرت میں ہے عذاب عظیم(41) بہت سننے والے ہیں جھوٹ کے، بہت کھانے والے ہیں حرام کے، پس اگر آئیں وہ آپ کے پاس تو آپ فیصلہ کر دیں ان کے درمیان یا منہ پھیر لیں ان سےاور اگر منہ پھیریں گے آپ ان سے تو ہرگز نہ بگاڑ سکیں گے آپ کا کچھ بھی اور اگر فیصلہ کریں آپ تو فیصلہ کریں ان کے درمیان ساتھ انصاف کے، بے شک اللہ پسند فرماتا ہے انصاف کرنے والوں کو(42) اور کیوں کر منصف بنائیں وہ آپ کو جبکہ ان کے پاس تورات ہے، اس میں حکم ہے اللہ کا، پھر پھر جاتے ہیں وہ بعد اس کےاور نہیں ہیں وہ ایمان لانے والے(43) بے شک نازل کیا ہم نے تورات کو، اس میں ہدایت اور روشنی ہے فیصلہ کرتے تھے ساتھ اس کے پیغمبر، جو مطیع تھے (اللہ کے) واسطے ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے اور (فیصلہ کرتے تھے) اللہ والے اور علماء ، اس لیے کہ وہ نگران بنائے گئے تھے کتاب اللہ کےاور تھے وہ اوپر اس کے گواہ پس نہ ڈرو تم لوگوں سے اور ڈرو مجھ سے اور نہ بیچو تم میری آیتوں کو مول پر تھوڑے سےاور جو نہ فیصلہ کرے ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے تو یہی لوگ ہیں کافر(44)

[41] رسول اللہﷺ مخلوق پر بے حد شفقت فرماتے تھے اس لیے اگر کوئی شخص ایمان لانے کے بعد پھر کفر کی طرف لوٹ جاتا تو آپﷺ کو بہت دکھ پہنچتا اور آپ بہت زیادہ مغموم ہو جاتے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ہدایت فرمائی کہ وہ اس قسم کے لوگوں کی کارستانیوں پر غمزدہ نہ ہوا کریں کیونکہ وہ کسی شمار میں نہیں ۔ اگر وہ موجود ہوں تو ان کا کوئی فائدہ نہیں اور اگر وہ موجود نہ ہوں تو ان کے بارے میں کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ بنابریں ان کے بارے میں عدم حزن و غم کے موجب سبب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ مِنَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِاَفۡوَاهِهِمۡ وَلَمۡ تُؤۡمِنۡ قُلُوۡبُهُمۡ ﴾’’ان لوگوں میں سے جو کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں اپنے مونہوں سے اور ان کے دل مسلمان نہیں ‘‘ کیونکہ صرف ان لوگوں کے بارے میں افسوس کیا جاتا ہے اور صرف ان کے بارے میں غم کھایا جاتا ہے جو ظاہر اور باطن میں مومن شمار ہوتے ہیں ۔ حاشاللہ اہل ایمان کبھی اپنے دین سے نہیں پھرتے کیونکہ جب بشاشت ایمان دل میں جاگزیں ہو جاتی ہے تو صاحب ایمان کسی چیز کو ایمان کے برابر نہیں سمجھتا اور ایمان کے بدلے کوئی چیز قبول نہیں کرتا۔﴿ وَمِنَ الَّذِيۡنَ هَادُوۡا ﴾ ’’اور ان میں سے جو یہودی ہیں ۔‘‘ ﴿ سَمّٰؔعُوۡنَ لِلۡكَذِبِ سَمّٰؔعُوۡنَ لِقَوۡمٍ اٰخَرِيۡنَ١ۙ لَمۡ يَاۡتُوۡكَ ﴾ ’’جاسوسی کرتے ہیں جھوٹ بولنے کے لیے، وہ جاسوس ہیں دوسرے لوگوں کے جو آپ تک نہیں آئے‘‘ یعنی اپنے سرداروں کی آواز پر لبیک کہنے والے، ان کے مقلد، جن کا تمام تر معاملہ جھوٹ اور گمراہی پر مبنی ہے۔ اور یہ سردار جن کی پیروی کی جاتی ہے ﴿ لَمۡ يَاۡتُوۡكَ ﴾ ’’آپ کے پاس کبھی نہیں آئے‘‘ بلکہ وہ آپ سے روگردانی کرتے ہیں اور اسی باطل پر خوش ہیں جو ان کے پاس ہے ﴿ يُحَرِّفُوۡنَ الۡكَلِمَ مِنۢۡ بَعۡدِ مَوَاضِعِهٖ ﴾ ’’وہ بدل ڈالتے ہیں بات کو، اس کا ٹھکانا چھوڑ کر‘‘ یعنی وہ اللہ کی مخلوق کو گمراہ کرنے اور حق کو روکنے کے لیے الفاظ …

Al-Maaida 5:42Listen in Qur'an →
43

وَكَيْفَ يُحَكِّمُونَكَ وَعِندَهُمُ ٱلتَّوْرَىٰةُ فِيهَا حُكْمُ ٱللَّهِ ثُمَّ يَتَوَلَّوْنَ مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ ۚ وَمَآ أُو۟لَٰٓئِكَ بِٱلْمُؤْمِنِينَ

اور یہ تم سے (اپنے مقدمات) کیونکر فیصل کرایں گے جبکہ خود ان کے پاس تورات (موجود) ہے جس میں خدا کا حکم (لکھا ہوا) ہے (یہ اسے جانتے ہیں) پھر اس کے بعد اس سے پھر جاتے ہیں اور یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے

اے رسول! نہ غمگین کریں آپ کو وہ لوگ جو جلدی کرتے ہیں کفر میں ، ان لوگوں میں سے جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے ساتھ اپنے مونہوں کے اور نہیں ایمان لائے دل ان کے اور ان لوگوں میں سے جو یہودی ہوئے، وہ بہت سننے والے ہیں جھوٹ کے، بہت سننے والے ہیں واسطے دوسری قوم کے کہ نہیں آئی وہ (ابھی) آپ کے پاس، بدل ڈالتے ہیں وہ باتوں کو بعد (ثابت ہونے ان کے) ان کی جگہوں سے وہ کہتے ہیں ، اگر دیے جاؤ تم یہ (حکم) تو اسے لے لو اور اگر نہ دیے جاؤ تم یہ تو بچواور جو شخص کہ ارادہ کرے اللہ اسے گمراہ کرنے کا تو ہرگز نہیں اختیار رکھتے آپ اس کے لیے اللہ کے ہاں کچھ بھی۔ یہی لوگ ہیں کہ نہیں ارادہ کیا اللہ نے یہ کہ پاک کر دے ان کے دلوں کو، ان کے لیے ہے دنیا میں رسوائی اور ان کے لیے آخرت میں ہے عذاب عظیم(41) بہت سننے والے ہیں جھوٹ کے، بہت کھانے والے ہیں حرام کے، پس اگر آئیں وہ آپ کے پاس تو آپ فیصلہ کر دیں ان کے درمیان یا منہ پھیر لیں ان سےاور اگر منہ پھیریں گے آپ ان سے تو ہرگز نہ بگاڑ سکیں گے آپ کا کچھ بھی اور اگر فیصلہ کریں آپ تو فیصلہ کریں ان کے درمیان ساتھ انصاف کے، بے شک اللہ پسند فرماتا ہے انصاف کرنے والوں کو(42) اور کیوں کر منصف بنائیں وہ آپ کو جبکہ ان کے پاس تورات ہے، اس میں حکم ہے اللہ کا، پھر پھر جاتے ہیں وہ بعد اس کےاور نہیں ہیں وہ ایمان لانے والے(43) بے شک نازل کیا ہم نے تورات کو، اس میں ہدایت اور روشنی ہے فیصلہ کرتے تھے ساتھ اس کے پیغمبر، جو مطیع تھے (اللہ کے) واسطے ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے اور (فیصلہ کرتے تھے) اللہ والے اور علماء ، اس لیے کہ وہ نگران بنائے گئے تھے کتاب اللہ کےاور تھے وہ اوپر اس کے گواہ پس نہ ڈرو تم لوگوں سے اور ڈرو مجھ سے اور نہ بیچو تم میری آیتوں کو مول پر تھوڑے سےاور جو نہ فیصلہ کرے ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے تو یہی لوگ ہیں کافر(44)

[41] رسول اللہﷺ مخلوق پر بے حد شفقت فرماتے تھے اس لیے اگر کوئی شخص ایمان لانے کے بعد پھر کفر کی طرف لوٹ جاتا تو آپﷺ کو بہت دکھ پہنچتا اور آپ بہت زیادہ مغموم ہو جاتے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ہدایت فرمائی کہ وہ اس قسم کے لوگوں کی کارستانیوں پر غمزدہ نہ ہوا کریں کیونکہ وہ کسی شمار میں نہیں ۔ اگر وہ موجود ہوں تو ان کا کوئی فائدہ نہیں اور اگر وہ موجود نہ ہوں تو ان کے بارے میں کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ بنابریں ان کے بارے میں عدم حزن و غم کے موجب سبب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ مِنَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِاَفۡوَاهِهِمۡ وَلَمۡ تُؤۡمِنۡ قُلُوۡبُهُمۡ ﴾’’ان لوگوں میں سے جو کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں اپنے مونہوں سے اور ان کے دل مسلمان نہیں ‘‘ کیونکہ صرف ان لوگوں کے بارے میں افسوس کیا جاتا ہے اور صرف ان کے بارے میں غم کھایا جاتا ہے جو ظاہر اور باطن میں مومن شمار ہوتے ہیں ۔ حاشاللہ اہل ایمان کبھی اپنے دین سے نہیں پھرتے کیونکہ جب بشاشت ایمان دل میں جاگزیں ہو جاتی ہے تو صاحب ایمان کسی چیز کو ایمان کے برابر نہیں سمجھتا اور ایمان کے بدلے کوئی چیز قبول نہیں کرتا۔﴿ وَمِنَ الَّذِيۡنَ هَادُوۡا ﴾ ’’اور ان میں سے جو یہودی ہیں ۔‘‘ ﴿ سَمّٰؔعُوۡنَ لِلۡكَذِبِ سَمّٰؔعُوۡنَ لِقَوۡمٍ اٰخَرِيۡنَ١ۙ لَمۡ يَاۡتُوۡكَ ﴾ ’’جاسوسی کرتے ہیں جھوٹ بولنے کے لیے، وہ جاسوس ہیں دوسرے لوگوں کے جو آپ تک نہیں آئے‘‘ یعنی اپنے سرداروں کی آواز پر لبیک کہنے والے، ان کے مقلد، جن کا تمام تر معاملہ جھوٹ اور گمراہی پر مبنی ہے۔ اور یہ سردار جن کی پیروی کی جاتی ہے ﴿ لَمۡ يَاۡتُوۡكَ ﴾ ’’آپ کے پاس کبھی نہیں آئے‘‘ بلکہ وہ آپ سے روگردانی کرتے ہیں اور اسی باطل پر خوش ہیں جو ان کے پاس ہے ﴿ يُحَرِّفُوۡنَ الۡكَلِمَ مِنۢۡ بَعۡدِ مَوَاضِعِهٖ ﴾ ’’وہ بدل ڈالتے ہیں بات کو، اس کا ٹھکانا چھوڑ کر‘‘ یعنی وہ اللہ کی مخلوق کو گمراہ کرنے اور حق کو روکنے کے لیے الفاظ …

Al-Maaida 5:43Listen in Qur'an →
44

إِنَّآ أَنزَلْنَا ٱلتَّوْرَىٰةَ فِيهَا هُدًۭى وَنُورٌۭ ۚ يَحْكُمُ بِهَا ٱلنَّبِيُّونَ ٱلَّذِينَ أَسْلَمُوا۟ لِلَّذِينَ هَادُوا۟ وَٱلرَّبَّٰنِيُّونَ وَٱلْأَحْبَارُ بِمَا ٱسْتُحْفِظُوا۟ مِن كِتَٰبِ ٱللَّهِ وَكَانُوا۟ عَلَيْهِ شُهَدَآءَ ۚ فَلَا تَخْشَوُا۟ ٱلنَّاسَ وَٱخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوا۟ بِـَٔايَٰتِى ثَمَنًۭا قَلِيلًۭا ۚ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَٰفِرُونَ

بیشک ہم نے توریت نازل فرمائی جس میں ہدایت اور روشنی ہے اسی کے مطابق انبیاء جو (خدا کے) فرمانبردار تھے یہودیوں کو حکم دیتے رہے ہیں اور مشائخ اور علماء بھی کیونکہ وہ کتاب خدا کے نگہبان مقرر کیے گئے تھے اور اس پر گواہ تھے (یعنی حکم الہٰی کا یقین رکھتے تھے) تو تم لوگوں سے مت ڈرنا اور مجھی سے ڈرتے رہنا اور میری آیتوں کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہ لینا اور جو خدا کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں

اے رسول! نہ غمگین کریں آپ کو وہ لوگ جو جلدی کرتے ہیں کفر میں ، ان لوگوں میں سے جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے ساتھ اپنے مونہوں کے اور نہیں ایمان لائے دل ان کے اور ان لوگوں میں سے جو یہودی ہوئے، وہ بہت سننے والے ہیں جھوٹ کے، بہت سننے والے ہیں واسطے دوسری قوم کے کہ نہیں آئی وہ (ابھی) آپ کے پاس، بدل ڈالتے ہیں وہ باتوں کو بعد (ثابت ہونے ان کے) ان کی جگہوں سے وہ کہتے ہیں ، اگر دیے جاؤ تم یہ (حکم) تو اسے لے لو اور اگر نہ دیے جاؤ تم یہ تو بچواور جو شخص کہ ارادہ کرے اللہ اسے گمراہ کرنے کا تو ہرگز نہیں اختیار رکھتے آپ اس کے لیے اللہ کے ہاں کچھ بھی۔ یہی لوگ ہیں کہ نہیں ارادہ کیا اللہ نے یہ کہ پاک کر دے ان کے دلوں کو، ان کے لیے ہے دنیا میں رسوائی اور ان کے لیے آخرت میں ہے عذاب عظیم(41) بہت سننے والے ہیں جھوٹ کے، بہت کھانے والے ہیں حرام کے، پس اگر آئیں وہ آپ کے پاس تو آپ فیصلہ کر دیں ان کے درمیان یا منہ پھیر لیں ان سےاور اگر منہ پھیریں گے آپ ان سے تو ہرگز نہ بگاڑ سکیں گے آپ کا کچھ بھی اور اگر فیصلہ کریں آپ تو فیصلہ کریں ان کے درمیان ساتھ انصاف کے، بے شک اللہ پسند فرماتا ہے انصاف کرنے والوں کو(42) اور کیوں کر منصف بنائیں وہ آپ کو جبکہ ان کے پاس تورات ہے، اس میں حکم ہے اللہ کا، پھر پھر جاتے ہیں وہ بعد اس کےاور نہیں ہیں وہ ایمان لانے والے(43) بے شک نازل کیا ہم نے تورات کو، اس میں ہدایت اور روشنی ہے فیصلہ کرتے تھے ساتھ اس کے پیغمبر، جو مطیع تھے (اللہ کے) واسطے ان لوگوں کے جو یہودی ہوئے اور (فیصلہ کرتے تھے) اللہ والے اور علماء ، اس لیے کہ وہ نگران بنائے گئے تھے کتاب اللہ کےاور تھے وہ اوپر اس کے گواہ پس نہ ڈرو تم لوگوں سے اور ڈرو مجھ سے اور نہ بیچو تم میری آیتوں کو مول پر تھوڑے سےاور جو نہ فیصلہ کرے ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے تو یہی لوگ ہیں کافر(44)

[41] رسول اللہﷺ مخلوق پر بے حد شفقت فرماتے تھے اس لیے اگر کوئی شخص ایمان لانے کے بعد پھر کفر کی طرف لوٹ جاتا تو آپﷺ کو بہت دکھ پہنچتا اور آپ بہت زیادہ مغموم ہو جاتے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو ہدایت فرمائی کہ وہ اس قسم کے لوگوں کی کارستانیوں پر غمزدہ نہ ہوا کریں کیونکہ وہ کسی شمار میں نہیں ۔ اگر وہ موجود ہوں تو ان کا کوئی فائدہ نہیں اور اگر وہ موجود نہ ہوں تو ان کے بارے میں کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ بنابریں ان کے بارے میں عدم حزن و غم کے موجب سبب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ مِنَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِاَفۡوَاهِهِمۡ وَلَمۡ تُؤۡمِنۡ قُلُوۡبُهُمۡ ﴾’’ان لوگوں میں سے جو کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں اپنے مونہوں سے اور ان کے دل مسلمان نہیں ‘‘ کیونکہ صرف ان لوگوں کے بارے میں افسوس کیا جاتا ہے اور صرف ان کے بارے میں غم کھایا جاتا ہے جو ظاہر اور باطن میں مومن شمار ہوتے ہیں ۔ حاشاللہ اہل ایمان کبھی اپنے دین سے نہیں پھرتے کیونکہ جب بشاشت ایمان دل میں جاگزیں ہو جاتی ہے تو صاحب ایمان کسی چیز کو ایمان کے برابر نہیں سمجھتا اور ایمان کے بدلے کوئی چیز قبول نہیں کرتا۔﴿ وَمِنَ الَّذِيۡنَ هَادُوۡا ﴾ ’’اور ان میں سے جو یہودی ہیں ۔‘‘ ﴿ سَمّٰؔعُوۡنَ لِلۡكَذِبِ سَمّٰؔعُوۡنَ لِقَوۡمٍ اٰخَرِيۡنَ١ۙ لَمۡ يَاۡتُوۡكَ ﴾ ’’جاسوسی کرتے ہیں جھوٹ بولنے کے لیے، وہ جاسوس ہیں دوسرے لوگوں کے جو آپ تک نہیں آئے‘‘ یعنی اپنے سرداروں کی آواز پر لبیک کہنے والے، ان کے مقلد، جن کا تمام تر معاملہ جھوٹ اور گمراہی پر مبنی ہے۔ اور یہ سردار جن کی پیروی کی جاتی ہے ﴿ لَمۡ يَاۡتُوۡكَ ﴾ ’’آپ کے پاس کبھی نہیں آئے‘‘ بلکہ وہ آپ سے روگردانی کرتے ہیں اور اسی باطل پر خوش ہیں جو ان کے پاس ہے ﴿ يُحَرِّفُوۡنَ الۡكَلِمَ مِنۢۡ بَعۡدِ مَوَاضِعِهٖ ﴾ ’’وہ بدل ڈالتے ہیں بات کو، اس کا ٹھکانا چھوڑ کر‘‘ یعنی وہ اللہ کی مخلوق کو گمراہ کرنے اور حق کو روکنے کے لیے الفاظ …

Al-Maaida 5:44Listen in Qur'an →
45

وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَآ أَنَّ ٱلنَّفْسَ بِٱلنَّفْسِ وَٱلْعَيْنَ بِٱلْعَيْنِ وَٱلْأَنفَ بِٱلْأَنفِ وَٱلْأُذُنَ بِٱلْأُذُنِ وَٱلسِّنَّ بِٱلسِّنِّ وَٱلْجُرُوحَ قِصَاصٌۭ ۚ فَمَن تَصَدَّقَ بِهِۦ فَهُوَ كَفَّارَةٌۭ لَّهُۥ ۚ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ

اور ہم نے ان لوگوں کے لیے تورات میں یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور سب زخموں کا اسی طرح بدلہ ہے لیکن جو شخص بدلہ معاف کر دے وہ اس کے لیے کفارہ ہوگا اور جو خدا کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ بےانصاف ہیں

اور لکھا ہم نے اوپر ان کے اس (تورات) میں کہ جان بدلے جان کے ہے اور آنکھ بدلے آنکھ کے اور ناک بدلے ناک کے اور کان بدلے کان کے اور دانت بدلے دانت کے اور زخموں کا قصاص ہے پس جو شخص معاف کر دے اس زخم کو تو وہ کفارہ ہوگا اس کے لیے اور جو نہ فیصلہ کرے ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے تو یہی لوگ ہیں ظالم(45)

[45] یہ احکام تورات کے اندر موجود ان جملہ احکام میں شمار ہوتے ہیں جن کے مطابق انبیائے کرام، ربانیون اور علمائے یہود، یہودیوں کے درمیان فیصلے کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر فرض قرار دیا کہ اگر کوئی جان بوجھ کر کسی کو قتل کرے تو اس کو قصاص میں قتل کر دیا جائے۔آنکھ کے بدلے آنکھ پھوڑ دی جائے، کان کے بدلے کان کاٹ دیا جائے اور دانت کے بدلے دانت نکال دیا جائے۔ اسی طرح بغیر کسی ظلم کے جن اعضا کا قصاص لیا جاسکتا ہے ان کا قصاص لیا جائے۔ ﴿ وَالۡجُرُوۡحَ قِصَاصٌ ﴾ ’’اور زخموں کا بدلہ، ان کے برابر ہے‘‘ اور قصاص سے مراد ہے کہ فاعل کے ساتھ وہی کچھ کیا جائے جو اس نے کیا تھا جو کوئی کسی کو جان بوجھ کر زخمی کرتا ہے۔ تو جارح سے زخموں کا قصاص لیا جائے گا اور اسے حد، مقام، زخم کی لمبائی چوڑائی اور گہرائی کے مطابق اتنا ہی زخم لگایا جائے گا۔ یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ہم سے پہلے کی شریعت کی پیروی ہمارے لیے بھی اس وقت تک لازم ہے جب تک کہ ہماری شریعت میں کوئی ایسی چیز وارد نہ ہو جو اس شریعت کے خلاف ہو۔ ﴿ فَمَنۡ تَصَدَّقَ بِهٖ ﴾ ’’پھر جس نے معاف کر دیا‘‘ یعنی جو کوئی جان، اعضا اور زخموں کے قصاص میں مجرم کو معاف کر دیتا ہے۔ دراں حالیکہ قصاص کا حق ثابت تھا ﴿ فَهُوَؔ كَفَّارَةٌ لَّهٗ ﴾ ’’تو یہ اس کے لیے کفارہ ہے‘‘ یعنی مجرم کے لیے کفارہ ہے کیونکہ آدمی نے تو اس کو اپنا حق معاف کر دیا اور اللہ تعالیٰ تو اپنے حق کو زیادہ معاف کر دینے والا ہے۔ نیز یہ معاف کر دینے والے کے حق میں بھی کفارہ ہے۔ کیونکہ جس طرح اس نے اپنے حق میں جرم کا ارتکاب کرنے والے کو معاف یا اس کو معاف کر دیا جو اس سے متعلق ہے اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ اس کی لغزشوں اور ان کے گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ وَمَنۡ لَّمۡ يَحۡكُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’اور جو کوئی اس کے مطابق حکم نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا تو یہی لوگ ظالم ہیں ‘‘ حضرت عبداللہ بن عباسw فرماتے ہیں ’’کفر سے کم تر کفر، ظلم سے کم تر ظلم اور فسق سے کم تر فسق ہوتا ہے‘‘.... پس اگر اس فعل کو حلال سمجھتے ہوئے اس کو کیا جائے تو یہ سب سے بڑا ظلم ہے اور اگر اس کو حلال نہ سمجھتے ہوئے کیا جائے تو یہ گناہ کبیرہ ہے۔

Al-Maaida 5:45Listen in Qur'an →
46

وَقَفَّيْنَا عَلَىٰٓ ءَاثَٰرِهِم بِعِيسَى ٱبْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًۭا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ ٱلتَّوْرَىٰةِ ۖ وَءَاتَيْنَٰهُ ٱلْإِنجِيلَ فِيهِ هُدًۭى وَنُورٌۭ وَمُصَدِّقًۭا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ ٱلتَّوْرَىٰةِ وَهُدًۭى وَمَوْعِظَةًۭ لِّلْمُتَّقِينَ

اور ان پیغمبروں کے بعد انہی کے قدموں پر ہم نے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا جو اپنے سے پہلے کی کتاب تورات کی تصدیق کرتے تھے اور ان کو انجیل عنایت کی جس میں ہدایت اور نور ہے اور تورات کی جو اس سے پہلی کتاب (ہے) تصدیق کرتی ہے اور پرہیزگاروں کو راہ بتاتی اور نصیحت کرتی ہے

اور پیچھے بھیجا ہم نے ان کے قدم بہ قدم عیسیٰ ابن مریم کو، تصدیق کرنے والا اس کی جو اس سے پہلے تھی تورات اور دی ہم نے اس کو انجیل، اس میں ہدایت اور روشنی تھی اور تصدیق کرنے والی اس کی جو اس سے پہلے تھی تورات اور ہدایت اور نصیحت متقیوں کے لیے(46) اور چاہیے کہ فیصلہ کریں اہل انجیل ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے اس میں اور جو نہ فیصلہ کرے ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے تو یہی لوگ ہیں فاسق(47)

[46] یعنی ان انبیا و مرسلین کے پیچھے جو تورات کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے، ہم نے اپنے بندے اور رسول عیسیٰ ابن مریم، روح اللہ اور اللہ کے کلمہ کو جو اس نے حضرت مریم[ کی طرف ڈالا، مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ان سے پہلے گزری ہوئی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا نبی بنا کر بھیجا، وہ موسیٰu اور تورات کی حق و صداقت کے ساتھ گواہی دینے والے، ان کی دعوت کی تائید کرنے والے اور ان کی شریعت کے مطابق فیصلے کرنے والے تھے اور اکثر امور شرعیہ میں موسیٰu کی موافقت کرتے تھے۔بسااوقات عیسیٰu بعض احکام میں تخفیف فرما دیتے تھے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کا قول نقل فرمایا کہ انھوں نے بنی اسرائیل سے فرمایا:﴿ وَلِاُحِلَّ لَكُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ حُرِّمَ عَلَيۡكُمۡ ﴾(ال عمران: 3؍50) ’’تاکہ بعض چیزیں جو تم پر حرام تھیں ان کو حلال ٹھہراؤں ۔‘‘﴿ وَاٰتَيۡنٰهُ الۡاِنۡجِيۡلَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو انجیل عطا کی۔‘‘ یعنی ہم نے انھیں کتاب عظیم عطا کی جو تورات کی تکمیل کرتی ہے ﴿ فِيۡهِ هُدًى وَّنُوۡرٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور روشنی ہے‘‘ یہ کتاب صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرتی ہے اور باطل میں سے حق کو واضح کرتی ہے ﴿ وَّمُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ مِنَ التَّوۡرٰىةِ ﴾ ’’اور تورات کی جو اس سے پہلے (کتاب) ہے تصدیق کرتی ہے۔‘‘ یعنی تورات کی صداقت کو ثابت کر کے، اس کی شہادت دے کر اور اس کی موافقت کر کے اس کی تصدیق کرتی ہے ﴿وَهُدًى وَّمَوۡعِظَةً لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠ ﴾ ’’اور متقین کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے‘‘ کیونکہ اہل تقویٰ ہی ہیں جو ہدایت سے فائدہ اٹھاتے ہیں ، مواعظ سے نصیحت پکڑتے ہیں اور غیر مناسب امور سے باز رہتے ہیں ۔

[47]﴿ وَلۡيَحۡكُمۡ اَهۡلُ الۡاِنۡجِيۡلِ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ فِيۡهِ ﴾ ’’اور چاہیے کہ اہل انجیل اس کے موافق فیصلہ کریں جو اللہ نے اتارا۔‘‘ یعنی ان پر اپنی کتاب کا التزام کرنا لازم ہے، اس کتاب سے روگردانی کرنا ان کے لیے جائز نہیں ﴿ وَمَنۡ لَّمۡ يَحۡكُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴾ ’’جو اللہ کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے پس یہی لوگ فاسق ہیں ۔‘‘

Al-Maaida 5:46Listen in Qur'an →
47

وَلْيَحْكُمْ أَهْلُ ٱلْإِنجِيلِ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فِيهِ ۚ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْفَٰسِقُونَ

اور اہل انجیل کو چاہیئے کہ جو احکام خدا نے اس میں نازل فرمائے ہیں اس کے مطابق حکم دیا کریں اور جو خدا کے نازل کئے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے گا تو ایسے لوگ نافرماں ہیں

اور پیچھے بھیجا ہم نے ان کے قدم بہ قدم عیسیٰ ابن مریم کو، تصدیق کرنے والا اس کی جو اس سے پہلے تھی تورات اور دی ہم نے اس کو انجیل، اس میں ہدایت اور روشنی تھی اور تصدیق کرنے والی اس کی جو اس سے پہلے تھی تورات اور ہدایت اور نصیحت متقیوں کے لیے(46) اور چاہیے کہ فیصلہ کریں اہل انجیل ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے اس میں اور جو نہ فیصلہ کرے ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے تو یہی لوگ ہیں فاسق(47)

[46] یعنی ان انبیا و مرسلین کے پیچھے جو تورات کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے، ہم نے اپنے بندے اور رسول عیسیٰ ابن مریم، روح اللہ اور اللہ کے کلمہ کو جو اس نے حضرت مریم[ کی طرف ڈالا، مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ان سے پہلے گزری ہوئی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا نبی بنا کر بھیجا، وہ موسیٰu اور تورات کی حق و صداقت کے ساتھ گواہی دینے والے، ان کی دعوت کی تائید کرنے والے اور ان کی شریعت کے مطابق فیصلے کرنے والے تھے اور اکثر امور شرعیہ میں موسیٰu کی موافقت کرتے تھے۔بسااوقات عیسیٰu بعض احکام میں تخفیف فرما دیتے تھے جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کا قول نقل فرمایا کہ انھوں نے بنی اسرائیل سے فرمایا:﴿ وَلِاُحِلَّ لَكُمۡ بَعۡضَ الَّذِيۡ حُرِّمَ عَلَيۡكُمۡ ﴾(ال عمران: 3؍50) ’’تاکہ بعض چیزیں جو تم پر حرام تھیں ان کو حلال ٹھہراؤں ۔‘‘﴿ وَاٰتَيۡنٰهُ الۡاِنۡجِيۡلَ ﴾ ’’اور ہم نے ان کو انجیل عطا کی۔‘‘ یعنی ہم نے انھیں کتاب عظیم عطا کی جو تورات کی تکمیل کرتی ہے ﴿ فِيۡهِ هُدًى وَّنُوۡرٌ ﴾ ’’اس میں ہدایت اور روشنی ہے‘‘ یہ کتاب صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرتی ہے اور باطل میں سے حق کو واضح کرتی ہے ﴿ وَّمُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ مِنَ التَّوۡرٰىةِ ﴾ ’’اور تورات کی جو اس سے پہلے (کتاب) ہے تصدیق کرتی ہے۔‘‘ یعنی تورات کی صداقت کو ثابت کر کے، اس کی شہادت دے کر اور اس کی موافقت کر کے اس کی تصدیق کرتی ہے ﴿وَهُدًى وَّمَوۡعِظَةً لِّلۡمُتَّقِيۡنَ۠ ﴾ ’’اور متقین کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے‘‘ کیونکہ اہل تقویٰ ہی ہیں جو ہدایت سے فائدہ اٹھاتے ہیں ، مواعظ سے نصیحت پکڑتے ہیں اور غیر مناسب امور سے باز رہتے ہیں ۔

[47]﴿ وَلۡيَحۡكُمۡ اَهۡلُ الۡاِنۡجِيۡلِ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ فِيۡهِ ﴾ ’’اور چاہیے کہ اہل انجیل اس کے موافق فیصلہ کریں جو اللہ نے اتارا۔‘‘ یعنی ان پر اپنی کتاب کا التزام کرنا لازم ہے، اس کتاب سے روگردانی کرنا ان کے لیے جائز نہیں ﴿ وَمَنۡ لَّمۡ يَحۡكُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴾ ’’جو اللہ کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے پس یہی لوگ فاسق ہیں ۔‘‘

Al-Maaida 5:47Listen in Qur'an →
48

وَأَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ بِٱلْحَقِّ مُصَدِّقًۭا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ ٱلْكِتَٰبِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ ۖ فَٱحْكُم بَيْنَهُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ ٱلْحَقِّ ۚ لِكُلٍّۢ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةًۭ وَمِنْهَاجًۭا ۚ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةًۭ وَٰحِدَةًۭ وَلَٰكِن لِّيَبْلُوَكُمْ فِى مَآ ءَاتَىٰكُمْ ۖ فَٱسْتَبِقُوا۟ ٱلْخَيْرَٰتِ ۚ إِلَى ٱللَّهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًۭا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ

اور (اے پیغمبر!) ہم نے تم پر سچی کتاب نازل کی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ان (سب) پر شامل ہے تو جو حکم خدا نے نازل فرمایا ہے اس کے مطابق ان کا فیصلہ کرنا اور حق جو تمہارے پاس آچکا ہے اس کو چھوڑ کر ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا ہم نے تم میں سے ہر ایک (فرقے) کے لیے ایک دستور اور طریقہ مقرر کیا ہے اور اگر خدا چاہتا تو سب کو ایک ہی شریعت پر کر دیتا مگر جو حکم اس نے تم کو دیئے ہیں ان میں وہ تمہاری آزمائش کرنی چاہتا ہے سو نیک کاموں میں جلدی کرو تم سب کو خدا کی طرف لوٹ کر جانا ہے پھر جن باتوں میں تم کو اختلاف تھا وہ تم کو بتا دے گا

اور نازل کی ہم نے طرف آپ کی کتاب ساتھ حق کے، تصدیق کرنے والی اس کی جو اس سے پہلے تھی کتاب اور نگہبان اوپر اس کے، پس آپ فیصلہ کریں ان کے درمیان ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے اور نہ اتباع کریں ان کی خواہشات کی، نظر انداز کرکے اس کو جو آیا آپ کے پاس حق، ہر ایک کے لیے کیا ہم نے تم میں سے ایک دستور اور طریقہ اور اگر چاہتا اللہ تو البتہ کر دیتا تم کو امت ایک لیکن تاکہ آزمائے تمھیں اس (کتاب) میں جو دی اس نے تمھیں ، پس سبقت کرو تم نیکیوں میں ، طرف اللہ ہی کی لوٹنا ہے تم سب کا، پھر وہ خبر دے گا تمھیں اس کی بابت کہ تھے تم اس میں اختلاف کرتے(48) اور یہ کہ فیصلہ کریں آپ ان کے درمیان ساتھ اس چیز کے جو نازل کی اللہ نےاور نہ اتباع کریں ان کی خواہشات کی اور ڈریں ان سے کہ وہ بہکانہ دیں آپ کو کسی ایسی بات سے جو نازل کی اللہ نے آپ کی طرف۔ پس اگر وہ روگردانی کریں تو جان لیں کہ بے شک اللہ یہی ارادہ کرتا ہے کہ پہنچائے ان کو سزا بہ سبب ان کے بعض گناہوں کے اور بے شک اکثر لوگوں میں سے ، البتہ نافرمان ہیں (49) کیا پس جاہلیت کا فیصلہ وہ چاہتے ہیں ؟ اور کون زیادہ اچھا ہے اللہ سے فیصلہ کرنے میں ، اس قوم کے لیے جو یقین رکھتی ہے(50)

[48]﴿ وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور اتاری ہم نے آپ کی طرف کتاب‘‘ یعنی قرآن عظیم جو سب سے افضل اور جلیل ترین کتاب ہے ﴿ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’حق کے ساتھ‘‘ یعنی ہم نے اسے حق کے ساتھ نازل کیا ہے یہ کتاب اپنی اخبار اور اوامر و نواہی میں حق پر مشتمل ہے ﴿ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ مِنَ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے‘‘ کیونکہ یہ کتب سابقہ کی صداقت کی گواہی دیتی ہے، ان کی موافقت کرتی ہے، اس کی خبریں ان کی خبروں کے مطابق، اس کے بڑے بڑے قوانین ان کے بڑے بڑے قوانین کے مطابق ہیں ان کتابوں نے اس کتاب کے بارے میں خبر دی ہے پس اس کا وجود ان کتب سابقہ کی خبر کا مصداق ہے ﴿ وَمُهَيۡمِنًا عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور ان کے مضامین پر نگہبان ہے‘‘ یعنی یہ کتاب ان امور پر مشتمل ہے جن امور پر سابقہ کتب مشتمل تھیں ۔ نیز مطالب الہٰیہ اور اخلاق نفسیہ میں بعض اضافے ہیں ۔یہ کتاب ہر اس حق بات کی پیروی کرتی ہے جو ان کتابوں میں آ چکی ہے اور اس کی پیروی کا حکم اور اس کی ترغیب دیتی ہے اور حق تک پہنچانے کے بہت سے راستوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جس میں حکمت ، دانائی اور احکام ہیں جس پر کتب سابقہ کو پیش کیا جاتا ہے، لہٰذا جس کی صداقت کی یہ گواہی دے وہ مقبول ہے جس کو یہ رد کر دے وہ مردود ہے کیونکہ وہ تحریف اور تبدیلی کا شکار ہو چکی ہے۔ ورنہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی تو یہ اس کی مخالفت نہ کرتی۔ ﴿ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ ﴾ ’’پس ان کے درمیان اس کے موافق فیصلہ کریں جو اللہ نے اتارا‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپﷺ پر جو حکم شرعی نازل فرمایا ہے اس کے مطابق فیصلہ کیجیے ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ اَهۡوَآءَؔهُمۡ عَمَّؔا جَآءَكَ مِنَ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور آپ کے پاس جو حق آیا، اسے چھوڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں ‘‘ یعنی ان کی حق کے خلاف خواہشات فاسدہ کی اتباع کو اس حق کا بدل نہ بنائیں جو آپﷺ کے پاس آچکا ہے، ورنہ آپ اعلیٰ کے بدلے ادنیٰ کو لیں گے۔ ﴿ لِكُلٍّ جَعَلۡنَا مِنۡكُمۡ ﴾ ’’تم میں سے ہر ایک کو دیا ہم نے‘‘ یعنی اے قومو! ﴿ شِرۡعَةً وَّمِنۡهَاجًا ﴾’’ایک دستور اور راہ‘‘ یعنی تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک راستہ اور طریقہ مقرر کر دیا ہے۔ یہ شریعتیں جو امتوں کے اختلاف کے ساتھ بدل جاتی رہی ہیں ، زمان و مکان اور احوال کے تغیر و تبدل کے مطابق ان شرائع میں تغیر و تبدل واقع ہوتا رہا ہے اور ہر شریعت اپنے تشریع کے وقت عدل کی طرف راجع ہے۔ مگر بڑے بڑے اصول جو ہر زمان و مکان میں مصلحت اور حکمت پر مبنی ہوتے ہیں کبھی نہیں بدلتے، وہ …

Al-Maaida 5:48Listen in Qur'an →
49

وَأَنِ ٱحْكُم بَيْنَهُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَآءَهُمْ وَٱحْذَرْهُمْ أَن يَفْتِنُوكَ عَنۢ بَعْضِ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ إِلَيْكَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَٱعْلَمْ أَنَّمَا يُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُصِيبَهُم بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ ۗ وَإِنَّ كَثِيرًۭا مِّنَ ٱلنَّاسِ لَفَٰسِقُونَ

اور (ہم پھر تاکید کرتے ہیں کہ) جو (حکم) خدا نے نازل فرمایا ہے اسی کے مطابق ان میں فیصلہ کرنا اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اور ان سے بچتے رہنا کہ کسی حکم سے جو خدا نے تم پر نازل فرمایا ہے یہ کہیں تم کو بہکانہ دیں اگر یہ نہ مانیں تو جان لو کہ خدا چاہتا ہے کہ ان کے بعض گناہوں کے سبب ان پر مصیبت نازل کرے اور اکثر لوگ تو نافرمان ہیں

اور نازل کی ہم نے طرف آپ کی کتاب ساتھ حق کے، تصدیق کرنے والی اس کی جو اس سے پہلے تھی کتاب اور نگہبان اوپر اس کے، پس آپ فیصلہ کریں ان کے درمیان ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے اور نہ اتباع کریں ان کی خواہشات کی، نظر انداز کرکے اس کو جو آیا آپ کے پاس حق، ہر ایک کے لیے کیا ہم نے تم میں سے ایک دستور اور طریقہ اور اگر چاہتا اللہ تو البتہ کر دیتا تم کو امت ایک لیکن تاکہ آزمائے تمھیں اس (کتاب) میں جو دی اس نے تمھیں ، پس سبقت کرو تم نیکیوں میں ، طرف اللہ ہی کی لوٹنا ہے تم سب کا، پھر وہ خبر دے گا تمھیں اس کی بابت کہ تھے تم اس میں اختلاف کرتے(48) اور یہ کہ فیصلہ کریں آپ ان کے درمیان ساتھ اس چیز کے جو نازل کی اللہ نےاور نہ اتباع کریں ان کی خواہشات کی اور ڈریں ان سے کہ وہ بہکانہ دیں آپ کو کسی ایسی بات سے جو نازل کی اللہ نے آپ کی طرف۔ پس اگر وہ روگردانی کریں تو جان لیں کہ بے شک اللہ یہی ارادہ کرتا ہے کہ پہنچائے ان کو سزا بہ سبب ان کے بعض گناہوں کے اور بے شک اکثر لوگوں میں سے ، البتہ نافرمان ہیں (49) کیا پس جاہلیت کا فیصلہ وہ چاہتے ہیں ؟ اور کون زیادہ اچھا ہے اللہ سے فیصلہ کرنے میں ، اس قوم کے لیے جو یقین رکھتی ہے(50)

[48]﴿ وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور اتاری ہم نے آپ کی طرف کتاب‘‘ یعنی قرآن عظیم جو سب سے افضل اور جلیل ترین کتاب ہے ﴿ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’حق کے ساتھ‘‘ یعنی ہم نے اسے حق کے ساتھ نازل کیا ہے یہ کتاب اپنی اخبار اور اوامر و نواہی میں حق پر مشتمل ہے ﴿ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ مِنَ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے‘‘ کیونکہ یہ کتب سابقہ کی صداقت کی گواہی دیتی ہے، ان کی موافقت کرتی ہے، اس کی خبریں ان کی خبروں کے مطابق، اس کے بڑے بڑے قوانین ان کے بڑے بڑے قوانین کے مطابق ہیں ان کتابوں نے اس کتاب کے بارے میں خبر دی ہے پس اس کا وجود ان کتب سابقہ کی خبر کا مصداق ہے ﴿ وَمُهَيۡمِنًا عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور ان کے مضامین پر نگہبان ہے‘‘ یعنی یہ کتاب ان امور پر مشتمل ہے جن امور پر سابقہ کتب مشتمل تھیں ۔ نیز مطالب الہٰیہ اور اخلاق نفسیہ میں بعض اضافے ہیں ۔یہ کتاب ہر اس حق بات کی پیروی کرتی ہے جو ان کتابوں میں آ چکی ہے اور اس کی پیروی کا حکم اور اس کی ترغیب دیتی ہے اور حق تک پہنچانے کے بہت سے راستوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جس میں حکمت ، دانائی اور احکام ہیں جس پر کتب سابقہ کو پیش کیا جاتا ہے، لہٰذا جس کی صداقت کی یہ گواہی دے وہ مقبول ہے جس کو یہ رد کر دے وہ مردود ہے کیونکہ وہ تحریف اور تبدیلی کا شکار ہو چکی ہے۔ ورنہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی تو یہ اس کی مخالفت نہ کرتی۔ ﴿ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ ﴾ ’’پس ان کے درمیان اس کے موافق فیصلہ کریں جو اللہ نے اتارا‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپﷺ پر جو حکم شرعی نازل فرمایا ہے اس کے مطابق فیصلہ کیجیے ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ اَهۡوَآءَؔهُمۡ عَمَّؔا جَآءَكَ مِنَ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور آپ کے پاس جو حق آیا، اسے چھوڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں ‘‘ یعنی ان کی حق کے خلاف خواہشات فاسدہ کی اتباع کو اس حق کا بدل نہ بنائیں جو آپﷺ کے پاس آچکا ہے، ورنہ آپ اعلیٰ کے بدلے ادنیٰ کو لیں گے۔ ﴿ لِكُلٍّ جَعَلۡنَا مِنۡكُمۡ ﴾ ’’تم میں سے ہر ایک کو دیا ہم نے‘‘ یعنی اے قومو! ﴿ شِرۡعَةً وَّمِنۡهَاجًا ﴾’’ایک دستور اور راہ‘‘ یعنی تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک راستہ اور طریقہ مقرر کر دیا ہے۔ یہ شریعتیں جو امتوں کے اختلاف کے ساتھ بدل جاتی رہی ہیں ، زمان و مکان اور احوال کے تغیر و تبدل کے مطابق ان شرائع میں تغیر و تبدل واقع ہوتا رہا ہے اور ہر شریعت اپنے تشریع کے وقت عدل کی طرف راجع ہے۔ مگر بڑے بڑے اصول جو ہر زمان و مکان میں مصلحت اور حکمت پر مبنی ہوتے ہیں کبھی نہیں بدلتے، وہ …

Al-Maaida 5:49Listen in Qur'an →
50

أَفَحُكْمَ ٱلْجَٰهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ ٱللَّهِ حُكْمًۭا لِّقَوْمٍۢ يُوقِنُونَ

کیا یہ زمانہٴ جاہلیت کے حکم کے خواہش مند ہیں؟ اور جو یقین رکھتے ہیں ان کے لیے خدا سے اچھا حکم کس کا ہے؟

اور نازل کی ہم نے طرف آپ کی کتاب ساتھ حق کے، تصدیق کرنے والی اس کی جو اس سے پہلے تھی کتاب اور نگہبان اوپر اس کے، پس آپ فیصلہ کریں ان کے درمیان ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے اور نہ اتباع کریں ان کی خواہشات کی، نظر انداز کرکے اس کو جو آیا آپ کے پاس حق، ہر ایک کے لیے کیا ہم نے تم میں سے ایک دستور اور طریقہ اور اگر چاہتا اللہ تو البتہ کر دیتا تم کو امت ایک لیکن تاکہ آزمائے تمھیں اس (کتاب) میں جو دی اس نے تمھیں ، پس سبقت کرو تم نیکیوں میں ، طرف اللہ ہی کی لوٹنا ہے تم سب کا، پھر وہ خبر دے گا تمھیں اس کی بابت کہ تھے تم اس میں اختلاف کرتے(48) اور یہ کہ فیصلہ کریں آپ ان کے درمیان ساتھ اس چیز کے جو نازل کی اللہ نےاور نہ اتباع کریں ان کی خواہشات کی اور ڈریں ان سے کہ وہ بہکانہ دیں آپ کو کسی ایسی بات سے جو نازل کی اللہ نے آپ کی طرف۔ پس اگر وہ روگردانی کریں تو جان لیں کہ بے شک اللہ یہی ارادہ کرتا ہے کہ پہنچائے ان کو سزا بہ سبب ان کے بعض گناہوں کے اور بے شک اکثر لوگوں میں سے ، البتہ نافرمان ہیں (49) کیا پس جاہلیت کا فیصلہ وہ چاہتے ہیں ؟ اور کون زیادہ اچھا ہے اللہ سے فیصلہ کرنے میں ، اس قوم کے لیے جو یقین رکھتی ہے(50)

[48]﴿ وَاَنۡزَلۡنَاۤ اِلَيۡكَ الۡكِتٰبَ ﴾ ’’اور اتاری ہم نے آپ کی طرف کتاب‘‘ یعنی قرآن عظیم جو سب سے افضل اور جلیل ترین کتاب ہے ﴿ بِالۡحَقِّ ﴾ ’’حق کے ساتھ‘‘ یعنی ہم نے اسے حق کے ساتھ نازل کیا ہے یہ کتاب اپنی اخبار اور اوامر و نواہی میں حق پر مشتمل ہے ﴿ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ مِنَ الۡكِتٰبِ ﴾ ’’اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے‘‘ کیونکہ یہ کتب سابقہ کی صداقت کی گواہی دیتی ہے، ان کی موافقت کرتی ہے، اس کی خبریں ان کی خبروں کے مطابق، اس کے بڑے بڑے قوانین ان کے بڑے بڑے قوانین کے مطابق ہیں ان کتابوں نے اس کتاب کے بارے میں خبر دی ہے پس اس کا وجود ان کتب سابقہ کی خبر کا مصداق ہے ﴿ وَمُهَيۡمِنًا عَلَيۡهِ ﴾ ’’اور ان کے مضامین پر نگہبان ہے‘‘ یعنی یہ کتاب ان امور پر مشتمل ہے جن امور پر سابقہ کتب مشتمل تھیں ۔ نیز مطالب الہٰیہ اور اخلاق نفسیہ میں بعض اضافے ہیں ۔یہ کتاب ہر اس حق بات کی پیروی کرتی ہے جو ان کتابوں میں آ چکی ہے اور اس کی پیروی کا حکم اور اس کی ترغیب دیتی ہے اور حق تک پہنچانے کے بہت سے راستوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جس میں حکمت ، دانائی اور احکام ہیں جس پر کتب سابقہ کو پیش کیا جاتا ہے، لہٰذا جس کی صداقت کی یہ گواہی دے وہ مقبول ہے جس کو یہ رد کر دے وہ مردود ہے کیونکہ وہ تحریف اور تبدیلی کا شکار ہو چکی ہے۔ ورنہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی تو یہ اس کی مخالفت نہ کرتی۔ ﴿ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ ﴾ ’’پس ان کے درمیان اس کے موافق فیصلہ کریں جو اللہ نے اتارا‘‘ یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپﷺ پر جو حکم شرعی نازل فرمایا ہے اس کے مطابق فیصلہ کیجیے ﴿ وَلَا تَتَّبِـعۡ اَهۡوَآءَؔهُمۡ عَمَّؔا جَآءَكَ مِنَ الۡحَقِّ ﴾ ’’اور آپ کے پاس جو حق آیا، اسے چھوڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں ‘‘ یعنی ان کی حق کے خلاف خواہشات فاسدہ کی اتباع کو اس حق کا بدل نہ بنائیں جو آپﷺ کے پاس آچکا ہے، ورنہ آپ اعلیٰ کے بدلے ادنیٰ کو لیں گے۔ ﴿ لِكُلٍّ جَعَلۡنَا مِنۡكُمۡ ﴾ ’’تم میں سے ہر ایک کو دیا ہم نے‘‘ یعنی اے قومو! ﴿ شِرۡعَةً وَّمِنۡهَاجًا ﴾’’ایک دستور اور راہ‘‘ یعنی تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے ایک راستہ اور طریقہ مقرر کر دیا ہے۔ یہ شریعتیں جو امتوں کے اختلاف کے ساتھ بدل جاتی رہی ہیں ، زمان و مکان اور احوال کے تغیر و تبدل کے مطابق ان شرائع میں تغیر و تبدل واقع ہوتا رہا ہے اور ہر شریعت اپنے تشریع کے وقت عدل کی طرف راجع ہے۔ مگر بڑے بڑے اصول جو ہر زمان و مکان میں مصلحت اور حکمت پر مبنی ہوتے ہیں کبھی نہیں بدلتے، وہ …

Al-Maaida 5:50Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.