۞ يَٰٓأَيُّهَا ٱلرَّسُولُ لَا يَحْزُنكَ ٱلَّذِينَ يُسَٰرِعُونَ فِى ٱلْكُفْرِ مِنَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا بِأَفْوَٰهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِن قُلُوبُهُمْ ۛ وَمِنَ ٱلَّذِينَ هَادُوا۟ ۛ سَمَّٰعُونَ لِلْكَذِبِ سَمَّٰعُونَ لِقَوْمٍ ءَاخَرِينَ لَمْ يَأْتُوكَ ۖ يُحَرِّفُونَ ٱلْكَلِمَ مِنۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهِۦ ۖ يَقُولُونَ إِنْ أُوتِيتُمْ هَٰذَا فَخُذُوهُ وَإِن لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَٱحْذَرُوا۟ ۚ وَمَن يُرِدِ ٱللَّهُ فِتْنَتَهُۥ فَلَن تَمْلِكَ لَهُۥ مِنَ ٱللَّهِ شَيْـًٔا ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَمْ يُرِدِ ٱللَّهُ أَن يُطَهِّرَ قُلُوبَهُمْ ۚ لَهُمْ فِى ٱلدُّنْيَا خِزْىٌۭ ۖ وَلَهُمْ فِى ٱلْءَاخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌۭ
اے پیغمبر! جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں (کچھ تو) ان میں سے (ہیں) جو منہ سے کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں لیکن ان کے دل مومن نہیں ہیں اور (کچھ) ان میں سے جو یہودی ہیں ان کی وجہ سے غمناک نہ ہونا یہ غلط باتیں بنانے کے لیے جاسوسی کرتے پھرتے ہیں اور ایسے لوگوں (کے بہکانے) کے لیے جاسوس بنے ہیں جو ابھی تمہارے پاس نہیں آئے (صحیح) باتوں کو ان کے مقامات (میں ثابت ہونے) کے بعد بدل دیتے ہیں (اور لوگوں سے) کہتے ہیں کہ اگر تم کو یہی (حکم) ملے تو اسے قبول کر لینا اور اگر یہ نہ ملے تو اس سے احتراز کرنا اور اگر کسی کو خدا گمراہ کرنا چاہے تو اس کے لیے تم کچھ بھی خدا سے (ہدایت کا) اختیار نہیں رکھتے یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو خدا نے پاک کرنا نہیں چاہا ان کے لیے دنیا میں بھی ذلت ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے
ربط آیات - سورة مائدہ کے تیسرے رکوع میں اہل کتاب کا ذکر چلا آرہا تھا، درمیان میں قدر قلیل اور بعض مضامین خاص خاص مناسبات سے آگئے تھے۔ اب آگے پھر اہل کتاب ہی کا ذکر دور تک چلا گیا ہے۔ اہل کتاب میں یہود و نصاریٰ کے دو فرقے تو تھے ہی، ایک تیسرا فرقہ اور شامل ہوگیا تھا، جو حقیقت میں یہودی تھے، مگر منافقانہ طور پر مسلمان ہوگئے تھے۔ مسلمانوں کے سامنے اپنا اسلام ظاہر کرتے تھے اور اپنے ہم مذہب یہودیوں میں بیٹھتے تو اسلام اور مسلمانوں کا استہزاء کرتے تھے، مذکورہ تین آیتیں انہی تینوں فرقوں کے ایسے اعمال سے اور حالات سے متعلق ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے احکام اور ہدایات کے مقابلہ میں اپنی خواہشات اور رائیوں کو مقدم رکھتے ہیں اور احکام و ہدایات کے مقابلہ میں اپنی خواہشات اور رائیوں کو مقدم رکھتے ہیں اور احکام و ہدایات میں تاویلیں کرکے اپنی خواہشات کے مطابق بنانے کی فکر میں رہتے ہیں۔ آیات مذکورہ میں ایسے لوگوں کی دنیا و آخرت میں رسوائی اور انجام بد کا بیان ہے۔ اس کے ضمن میں مسلمانوں کے لئے چند اصول ہدایات اور احکام شرعیہ کا بیان ہے۔ - شان نزول - آیات مذکورہ کے نزول کا سبب دو واقعات ہیں جو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد مبارک میں مدینہ کے قرب و جوار میں رہنے والے یہودی قبائل میں پیش آئے۔ ایک واقعہ قتل و قصاص کا اور دوسرا واقعہ زنا اور اس کی سزا کا ہے۔ - یہ بات تو کسی تاریخ عالم کے جاننے والے پر مخفی نہیں کہ اسلام سے پہلے ہر جگہ، ہر خطہ اور ہر طبقہ میں ظلم و جور کی حکومت تھی، قوی ضعیف کو، عزت والا بےعزت کو غلام بنائے رکھتا تھا۔ قوی اور عزت والے کے لئے قانون اور تھا اور کمزور و بےعزت کے لئے قانون دوسرا تھا۔ جیسے آج بھی اپنے آپ کو مہذب اور متمدّن کہنے والے بہت سے ممالک میں کالے اور گورے کا قانون الگ الگ ہے۔ محسن انسانیت رسول عربی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہی آکر ان امتیازات کو مٹایا۔ اولاد آدم کے حقوق کی مساوات کا اعلان کیا اور انسان کو انسانیت اور آدمیت کا سبق دیا۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدینہ طیبہ تشریف لانے سے پہلے حوالی مدینہ میں یہود کے دو قبیلے بنو قریظہ اور بنو نضیر آباد تھے۔ ان میں سے بنو نضیر قوت و شوکت اور دولت و عزت میں بنو قریظہ سے زیادہ تھے۔ یہ لوگ آئے دن بنو قریظہ پر ظلم کرتے رہتے تھے اور وہ چار ونا چار اس کو سہتے تھے۔ یہاں تک کہ بنو نضیر نے بنو قریظہ کو اس ذلت آمیز معاہدہ پر مجبور کیا کہ اگر بنو نضیر کا کوئی آدمی بنو قریظہ کے کسی شخص کو قتل کر دے تو اس کا قصاص یعنی جان کے بدلے میں جان لینے کا ان کو حق نہ ہوگا۔ بلکہ صرف ستر وسق کھجوریں اس کے خون بہا کے طور پر ادا کی جائیں گی۔ (وسق عربی اوزان کا ایک پیمانہ ہے جو ہمارے وزن کے اعتبار سے تقریباً پانچ من دس سیر کا ہوتا ہے) اور اگر معاملہ برعکس ہو کہ بنو قریظہ کا کوئی آدمی بنو نضیر کے کسی شخص کو قتل کر دے تو قانون یہ ہوگا کہ اس کے قاتل کو قتل بھی کیا جائے گا اور ان سے خون بہا بھی لیا جائے گا۔ اور وہ بھی بنو نضیر کے خون بہا سے دوگنا یعنی ایک سو چالیس وسق کھجوریں اور صرف یہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ یہ بھی کہ ان کا مقتول اگر عورت ہوگی تو اس کے بدلہ میں بنو قریظہ کے ایک مرد کو قتل کیا جائے گا۔ اور اگر مقتول مرد ہے تو اس کے معاوضہ میں بنو قریظہ کے آزاد کو قتل کیا جائے گا۔ اور اگر بنو نضیر کے آدمی کا کسی نے ایک ہاتھ کاٹا ہے تو بنو قریظہ کے آدمی کے دو ہاتھ کاٹے جائیں گے۔ ایک کان کاٹا ہے تو ان کے دو کان کاٹے جائیں گے۔ یہ قانون تھا جو اسلام سے پہلے ان دونوں قبیلوں کے درمیان رائج تھا اور بنو قریظہ اپنی کمزوری کی بناء پر اس کے ماننے پر مجبور تھے۔ - جب رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے اور مدینہ ایک دار السلام بن گیا یہ دونوں …