۞ يَٰٓأَيُّهَا ٱلرَّسُولُ لَا يَحْزُنكَ ٱلَّذِينَ يُسَٰرِعُونَ فِى ٱلْكُفْرِ مِنَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا بِأَفْوَٰهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِن قُلُوبُهُمْ ۛ وَمِنَ ٱلَّذِينَ هَادُوا۟ ۛ سَمَّٰعُونَ لِلْكَذِبِ سَمَّٰعُونَ لِقَوْمٍ ءَاخَرِينَ لَمْ يَأْتُوكَ ۖ يُحَرِّفُونَ ٱلْكَلِمَ مِنۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهِۦ ۖ يَقُولُونَ إِنْ أُوتِيتُمْ هَٰذَا فَخُذُوهُ وَإِن لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَٱحْذَرُوا۟ ۚ وَمَن يُرِدِ ٱللَّهُ فِتْنَتَهُۥ فَلَن تَمْلِكَ لَهُۥ مِنَ ٱللَّهِ شَيْـًٔا ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَمْ يُرِدِ ٱللَّهُ أَن يُطَهِّرَ قُلُوبَهُمْ ۚ لَهُمْ فِى ٱلدُّنْيَا خِزْىٌۭ ۖ وَلَهُمْ فِى ٱلْءَاخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌۭ
اے پیغمبر! جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں (کچھ تو) ان میں سے (ہیں) جو منہ سے کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں لیکن ان کے دل مومن نہیں ہیں اور (کچھ) ان میں سے جو یہودی ہیں ان کی وجہ سے غمناک نہ ہونا یہ غلط باتیں بنانے کے لیے جاسوسی کرتے پھرتے ہیں اور ایسے لوگوں (کے بہکانے) کے لیے جاسوس بنے ہیں جو ابھی تمہارے پاس نہیں آئے (صحیح) باتوں کو ان کے مقامات (میں ثابت ہونے) کے بعد بدل دیتے ہیں (اور لوگوں سے) کہتے ہیں کہ اگر تم کو یہی (حکم) ملے تو اسے قبول کر لینا اور اگر یہ نہ ملے تو اس سے احتراز کرنا اور اگر کسی کو خدا گمراہ کرنا چاہے تو اس کے لیے تم کچھ بھی خدا سے (ہدایت کا) اختیار نہیں رکھتے یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو خدا نے پاک کرنا نہیں چاہا ان کے لیے دنیا میں بھی ذلت ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی ہجرت کے بعد ابتدائی سالوں میں نازل ہوئیں ‘ اس دور میں جب یہودی بدستور مدینہ میں موجود تھے ‘ کم از کم غزوہ احزاب سے پہلے کے زمانہ میں اور اس سے پہلے جب بنی قریظہ کو سزادی گئی یا اس سے بھی زیادہ پہلے یعنی یہ اس دور میں نازل ہوئی ہیں جب بنی نضیر اور بنی قینقاع مدینہ کے اردگرد موجود تھے ۔ ان میں سے اولی الذکر احد کے بعد اور آخر الذکر احد سے پہلے جلاوطن ہوئے ۔ اس دور میں یہودی مسلمانوں کے خلاف اپنی سازشوں میں مصروف تھے اور اس دور میں منافقین ان کے ہاں اس طرح پناہ لینے کے لئے گھستے تھے جس طرح سانپ اپنے سوراخ میں گھستا ہے اور یہ دونوں کفر میں بہت ہی آگے بڑھنے والے تھے ۔ اگرچہ منافقین منہ سے یہ کہتے تھے کہ ہم ایمان لائے ہیں مگر ان لوگوں کا طرز عمل رسول اللہ ﷺ کو بہت ہی پریشان کئے ہوئے تھا اور اس سے آپ کو بہت ہی اذیت پہنچتی تھی ۔
اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کی تعزیت اور دلجوئی فرماتے ہیں اور انکے لئے لوگوں کے یہ کرتوت قابل برداشت بناتے ہیں ۔ ساتھ ہی جماعت مسلمہ کے سامنے ان لوگوں کی حقیقت کھول دیتے ہیں کہ یہ کفر میں بہت تیز ہیں اور ان میں یہ دونوں فرقے شامل ہیں ۔ آپکو اس طرز عمل کی ہدایت دی جاتی ہے جو ان کے ساتھ اختیار کیا جانا ضروری ہے جبکہ وہ آپ کے پاس فیصلے کرانے کے لئے آتے ہیں اور اس کے بعد آتے ہیں جب آپ ﷺ پر ان کی سازشیں بھی طشت ازبام ہوجاتی ہیں جو انہوں نے حضور ﷺ کے پاس آنے سے قبل ہی آپس میں کی ہوئی ہوتی ہیں ۔
(آیت) ” نمبر 41۔
” اے پیغمبر ﷺ تمہارے لئے باعث رنج نہ ہوں وہ لوگ جو کفر کی راہ میں بڑی تیز گامی دکھا رہے ہیں خواہ وہ ان میں سے ہوں جو منہ سے کہتے ہیں ہم ایمان لائے مگر دل ان کے ایمان نہیں لائے یا ان میں سے جو یہودی ہیں ‘ جن کا حال یہ ہے کہ جھوٹ کیلئے کان لگاتے ہیں ‘ اور دوسرے لوگوں کی خاطر جو تمہارے پاس کبھی نہیں آئے سن گن لیتے پھرتے ہیں ‘ کتاب اللہ کے الفاظ کو ان کا صحیح محل متعین ہونے کے باوجود اصل معنی سے پھیرتے ہیں اور لوگوں سے کہتے ہیں کہ اگر تمہیں یہ حکم دیا جائے تو مانو نہیں تو نہ مانو۔
روایات میں آتا ہے کہ یہ آیات ان یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ‘ جنہوں نے بعض جرائم کا ارتکاب کیا تھا ۔ ان جرائم کے تعین میں روایات کے اندر اختلاف ہے بعض میں ہے کہ یہ جرم سرقہ تھا ۔ بعض میں ہے کہ یہ جرم زنا تھا اور یہ دونوں جرائم تورات کے مطابق جرائم حدود تھے لیکن یہودیوں نے اپنے ہاں کچھ دوسرے قوانین وضع کئے ہوئے تھے ۔ اس کا پہلا سبب تو یہ تھا کہ یہ لوگ تورات کی حدود اپنے ہاں شرفاء پر نافذ نہ کرتے تھے ۔ اس کے بعد تمام لوگوں پر انہیں نے نرمی کرکے ان سزاؤں کو موقوف کردیا تھا ۔ ان حدود کی جگہ انہوں نے از خود کچھ تعزیری سزائیں مقرر کرلی تھیں ۔ جس طرح آج کے نام نہاد مسلمانوں نے اپنے ہاں ایسا ہی کر رکھا ہے ۔ جب حضور ﷺ کے دور میں ان سے جرائم کا صدور ہوا تو انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ ان کے بارے میں حضور ﷺ سے دریافت کریں گے ۔ اگر حضور ﷺ نے بھی انہی خفیف تعزیری سزاؤں کے بارے میں حکم دیا تو وہ انہیں نافذ کردیں گے اور اللہ کے ہاں ان کے لئے عذر ہوگا کہ ایک رسول نے ان کا فتوی دیا تھا اور اگر رسول اللہ ﷺ نے بھی وہی فتوی دیا تو تورات میں ہے تو وہ اسے رد کردیں گے ۔ انہوں نے اپنے کچھ لوگوں کو حضور ﷺ کے پاس فتوی کے لئے بھیجا اور انہی کے بارے میں یہ آتا ہے :
(آیت) ” ان اوتیتم ھذا فخذواہ وان لم توتوہ فاحذروا (5 : 41) (اگر تمہیں یہ حکم دیا جائے تو مانو ورنہ نہیں)
(آیت) ” من الذین قالوا امنا بافواھھم ولم تو من قلوبھم (5 : 41) (ان لوگوں میں سے جو اپنے منہ سے کہتے ہیں ہم ایمان لائے حالانکہ ان کے دل مومن نہ تھے) کیا یہ لوگ دین کے خلاف فتوے طلب نہیں کرتے ‘ نفاذ کے لئے نہیں بلکہ دین سے پھیرنے والے ۔ کیا یہ لوگ دین پر ہاتھ محض اس لئے …