Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 41–50 of 120

41

۞ يَٰٓأَيُّهَا ٱلرَّسُولُ لَا يَحْزُنكَ ٱلَّذِينَ يُسَٰرِعُونَ فِى ٱلْكُفْرِ مِنَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا بِأَفْوَٰهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِن قُلُوبُهُمْ ۛ وَمِنَ ٱلَّذِينَ هَادُوا۟ ۛ سَمَّٰعُونَ لِلْكَذِبِ سَمَّٰعُونَ لِقَوْمٍ ءَاخَرِينَ لَمْ يَأْتُوكَ ۖ يُحَرِّفُونَ ٱلْكَلِمَ مِنۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهِۦ ۖ يَقُولُونَ إِنْ أُوتِيتُمْ هَٰذَا فَخُذُوهُ وَإِن لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَٱحْذَرُوا۟ ۚ وَمَن يُرِدِ ٱللَّهُ فِتْنَتَهُۥ فَلَن تَمْلِكَ لَهُۥ مِنَ ٱللَّهِ شَيْـًٔا ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَمْ يُرِدِ ٱللَّهُ أَن يُطَهِّرَ قُلُوبَهُمْ ۚ لَهُمْ فِى ٱلدُّنْيَا خِزْىٌۭ ۖ وَلَهُمْ فِى ٱلْءَاخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌۭ

اے پیغمبر! جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں (کچھ تو) ان میں سے (ہیں) جو منہ سے کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں لیکن ان کے دل مومن نہیں ہیں اور (کچھ) ان میں سے جو یہودی ہیں ان کی وجہ سے غمناک نہ ہونا یہ غلط باتیں بنانے کے لیے جاسوسی کرتے پھرتے ہیں اور ایسے لوگوں (کے بہکانے) کے لیے جاسوس بنے ہیں جو ابھی تمہارے پاس نہیں آئے (صحیح) باتوں کو ان کے مقامات (میں ثابت ہونے) کے بعد بدل دیتے ہیں (اور لوگوں سے) کہتے ہیں کہ اگر تم کو یہی (حکم) ملے تو اسے قبول کر لینا اور اگر یہ نہ ملے تو اس سے احتراز کرنا اور اگر کسی کو خدا گمراہ کرنا چاہے تو اس کے لیے تم کچھ بھی خدا سے (ہدایت کا) اختیار نہیں رکھتے یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو خدا نے پاک کرنا نہیں چاہا ان کے لیے دنیا میں بھی ذلت ہے اور آخرت میں بھی بڑا عذاب ہے

ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی ہجرت کے بعد ابتدائی سالوں میں نازل ہوئیں ‘ اس دور میں جب یہودی بدستور مدینہ میں موجود تھے ‘ کم از کم غزوہ احزاب سے پہلے کے زمانہ میں اور اس سے پہلے جب بنی قریظہ کو سزادی گئی یا اس سے بھی زیادہ پہلے یعنی یہ اس دور میں نازل ہوئی ہیں جب بنی نضیر اور بنی قینقاع مدینہ کے اردگرد موجود تھے ۔ ان میں سے اولی الذکر احد کے بعد اور آخر الذکر احد سے پہلے جلاوطن ہوئے ۔ اس دور میں یہودی مسلمانوں کے خلاف اپنی سازشوں میں مصروف تھے اور اس دور میں منافقین ان کے ہاں اس طرح پناہ لینے کے لئے گھستے تھے جس طرح سانپ اپنے سوراخ میں گھستا ہے اور یہ دونوں کفر میں بہت ہی آگے بڑھنے والے تھے ۔ اگرچہ منافقین منہ سے یہ کہتے تھے کہ ہم ایمان لائے ہیں مگر ان لوگوں کا طرز عمل رسول اللہ ﷺ کو بہت ہی پریشان کئے ہوئے تھا اور اس سے آپ کو بہت ہی اذیت پہنچتی تھی ۔

اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کی تعزیت اور دلجوئی فرماتے ہیں اور انکے لئے لوگوں کے یہ کرتوت قابل برداشت بناتے ہیں ۔ ساتھ ہی جماعت مسلمہ کے سامنے ان لوگوں کی حقیقت کھول دیتے ہیں کہ یہ کفر میں بہت تیز ہیں اور ان میں یہ دونوں فرقے شامل ہیں ۔ آپکو اس طرز عمل کی ہدایت دی جاتی ہے جو ان کے ساتھ اختیار کیا جانا ضروری ہے جبکہ وہ آپ کے پاس فیصلے کرانے کے لئے آتے ہیں اور اس کے بعد آتے ہیں جب آپ ﷺ پر ان کی سازشیں بھی طشت ازبام ہوجاتی ہیں جو انہوں نے حضور ﷺ کے پاس آنے سے قبل ہی آپس میں کی ہوئی ہوتی ہیں ۔

(آیت) ” نمبر 41۔

” اے پیغمبر ﷺ تمہارے لئے باعث رنج نہ ہوں وہ لوگ جو کفر کی راہ میں بڑی تیز گامی دکھا رہے ہیں خواہ وہ ان میں سے ہوں جو منہ سے کہتے ہیں ہم ایمان لائے مگر دل ان کے ایمان نہیں لائے یا ان میں سے جو یہودی ہیں ‘ جن کا حال یہ ہے کہ جھوٹ کیلئے کان لگاتے ہیں ‘ اور دوسرے لوگوں کی خاطر جو تمہارے پاس کبھی نہیں آئے سن گن لیتے پھرتے ہیں ‘ کتاب اللہ کے الفاظ کو ان کا صحیح محل متعین ہونے کے باوجود اصل معنی سے پھیرتے ہیں اور لوگوں سے کہتے ہیں کہ اگر تمہیں یہ حکم دیا جائے تو مانو نہیں تو نہ مانو۔

روایات میں آتا ہے کہ یہ آیات ان یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ‘ جنہوں نے بعض جرائم کا ارتکاب کیا تھا ۔ ان جرائم کے تعین میں روایات کے اندر اختلاف ہے بعض میں ہے کہ یہ جرم سرقہ تھا ۔ بعض میں ہے کہ یہ جرم زنا تھا اور یہ دونوں جرائم تورات کے مطابق جرائم حدود تھے لیکن یہودیوں نے اپنے ہاں کچھ دوسرے قوانین وضع کئے ہوئے تھے ۔ اس کا پہلا سبب تو یہ تھا کہ یہ لوگ تورات کی حدود اپنے ہاں شرفاء پر نافذ نہ کرتے تھے ۔ اس کے بعد تمام لوگوں پر انہیں نے نرمی کرکے ان سزاؤں کو موقوف کردیا تھا ۔ ان حدود کی جگہ انہوں نے از خود کچھ تعزیری سزائیں مقرر کرلی تھیں ۔ جس طرح آج کے نام نہاد مسلمانوں نے اپنے ہاں ایسا ہی کر رکھا ہے ۔ جب حضور ﷺ کے دور میں ان سے جرائم کا صدور ہوا تو انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ ان کے بارے میں حضور ﷺ سے دریافت کریں گے ۔ اگر حضور ﷺ نے بھی انہی خفیف تعزیری سزاؤں کے بارے میں حکم دیا تو وہ انہیں نافذ کردیں گے اور اللہ کے ہاں ان کے لئے عذر ہوگا کہ ایک رسول نے ان کا فتوی دیا تھا اور اگر رسول اللہ ﷺ نے بھی وہی فتوی دیا تو تورات میں ہے تو وہ اسے رد کردیں گے ۔ انہوں نے اپنے کچھ لوگوں کو حضور ﷺ کے پاس فتوی کے لئے بھیجا اور انہی کے بارے میں یہ آتا ہے :

(آیت) ” ان اوتیتم ھذا فخذواہ وان لم توتوہ فاحذروا (5 : 41) (اگر تمہیں یہ حکم دیا جائے تو مانو ورنہ نہیں)

(آیت) ” من الذین قالوا امنا بافواھھم ولم تو من قلوبھم (5 : 41) (ان لوگوں میں سے جو اپنے منہ سے کہتے ہیں ہم ایمان لائے حالانکہ ان کے دل مومن نہ تھے) کیا یہ لوگ دین کے خلاف فتوے طلب نہیں کرتے ‘ نفاذ کے لئے نہیں بلکہ دین سے پھیرنے والے ۔ کیا یہ لوگ دین پر ہاتھ محض اس لئے …

Al-Maaida 5:41Listen in Qur'an →
42

سَمَّٰعُونَ لِلْكَذِبِ أَكَّٰلُونَ لِلسُّحْتِ ۚ فَإِن جَآءُوكَ فَٱحْكُم بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ ۖ وَإِن تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَن يَضُرُّوكَ شَيْـًۭٔا ۖ وَإِنْ حَكَمْتَ فَٱحْكُم بَيْنَهُم بِٱلْقِسْطِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُقْسِطِينَ

(یہ) جھوٹی باتیں بنانے کے جاسوسی کرنے والے اور (رشوت کا) حرام مال کھانے والے ہیں اگر یہ تمہارے پاس (کوئی مقدمہ فیصل کرانے کو) آئیں تو تم ان میں فیصلہ کر دینا یا اعراض کرنا اور اگر ان سے اعراض کرو گے تو وہ تمہارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکیں گے اور اگر فیصلہ کرنا چاہو تو انصاف کا فیصلہ کرنا کہ خدا انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

(آیت) ” نمبر 42۔

” یہ جھوٹ سننے والے اور حرام کے مال کھانے والے ہیں ‘ لہذا اگر یہ تمہارے پاس (اپنے مقدمات لے کر) آئیں تو تمہیں اختیار دیا جاتا ہے کہ چاہو ان کا فیصلہ کرو ورنہ انکار کر دو تو یہ تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے ‘ اور فیصلہ کرو تو پھر ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے “۔

مکرر طور پر یہاں بتایا جاتا ہے کہ یہ جھوٹ سننے کے عادی ہیں ‘ جس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ یہ اس کے عادی ہوگئے ہیں ۔ جھوٹ اور باطل اور ناحق سننے کے لئے انکے کان کھڑے ہوجاتے ہیں اور خوشی سے لپکتے ہیں اور سچائی اور حق سننے سے انہیں سخت انقباض ہوتا ہے ۔ اور اس قسم کی گمراہ اور منحرف سوسائٹیوں میں ہمیشہ باطل اور جھوٹ کو خوب کان لگا کر سنا جاتا ہے اور انسان کے دل و دماغ اگر فساد کا شکار ہوجائیں تو ان کی یہی حالت ہوتی ہے ۔ روح جب بجھ جاتی ہے تو وہ باطل کی تلاش میں رہتی ہے اور سچائی اسے بہت ہی ناپسند ہوتی ہے ۔ ایسے ادوار میں باطل کو خوب رواج نصیب ہوتا ہے ‘ اس کا چرچا ہوتا ہے اور سچائی ان ملعون ادوار میں بدحال ہوتی ہے ۔

یہ لوگ نہایت ہی دلچسپی سے باطل کی طرف کان دھرتے ہیں کیونکہ ان کا عمل حرام خوری ہوتا ہے ۔ السحت کا مفہوم ہے ہر وہ چیز جو حرام ہے ۔ مثلا سود رشوت ‘ تقریر کی اجرت اور فتوی کی اجرت وغیرہ ۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو انکی حرام خوریوں میں سرفہرست ہیں اور ہر دور میں جب کوئی معاشرہ اسلامی قدروں سے منحرف ہوجائے تو اس میں یہ ذمائم بہت ہی زیادہ ہوجاتے ہیں اور حرام چیزوں کو السحت کے لفظ سے اس لئے ادا کیا گیا ہے کہ حرام کی وجہ سے مال سے برکت ختم ہوجاتی ہے اور تمام منحرف اور بےراہ رو معاشروں سے ہر قسم کی برکات ختم ہوجاتی ہے ۔ جیسا کہ آج ہم لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ آج ان تمام معاشروں میں جو اللہ کی نظام حیات سے انحراف اختیار کئے ہوئے ہیں ‘ کوئی برکت نہیں رہی ہے ۔ ہر طرف کمی ہی کمی ہے ۔

ان لوگوں کے معاملے میں اللہ تعالیٰ حضرت محمد ﷺ کو اختیار دیتے ہیں کہ اگر یہ لوگ فیصلے لے کر آپ کے پاس آئیں تو آپ یا تو اعراض کرلیں اور ان کے درمیان کوئی فیصلہ نہ کریں تو بھی یہ لوگ آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے اور اگر آپ چاہیں تو ان کے درمیان نہایت ہی منصفانہ فیصلہ کریں ۔ ان کی خواہشات سے ہر گز متاثر نہ ہوں ۔ اس بات سے بھی متاثر نہ ہوں کہ یہ لوگ کفر کی راہ میں بہت تیز ہیں اور یہ کہ وہ سازشیں کرتے اور مسلمانوں کے خلاف ہر چال چلتے ہیں ۔ اس لئے کہ (آیت) ” ان اللہ یحب المقسطین “۔ (5 : 42) (اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے)

رسول اللہ ﷺ ایک مسلمان حاکم اور ایک مسلمان جج انصاف کے حوالے سے معاملہ اللہ کے ساتھ کرتا ہے وہ انصاف اللہ کے خوف سے اور اللہ کی رضا کے لئے کرتا ہے اس لئے کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔ اگر لوگ ظلم کریں ‘ خیانت کریں اور راہ حق سے منحرف ہوجائیں ‘ تو پھر بھی عدل اس سے بالا ہے کہ ان کا طرز عمل کیا ہے ؟ اس لئے کہ انصاف لوگوں کی خاطر نہیں ہوتا ‘ بلکہ اللہ کی خاطر ہوتا ہے اسلامی شریعت میں اس کی پوری پوری ضمانت دی گئی ہے اور اسلامی عدلیہ نے ہر زمان ومکان میں اس پر عمل کیا ہے ۔

یہودیوں کو یہ اختیارات دینا کہ وہ اپنے فیصلے خود کریں ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات بہت ہی ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہیں ۔ بعد کے ادوار میں اسلامی شریعت کے مطابق فیصلہ کرنا لازمی ہوگیا تھا اس لئے کہ دارالاسلام میں صرف اسلامی شریعت کے مطابق فیصلے کئے جاسکتے ہیں ۔ دارالاسلام کے باشندوں پر یہ لازم ہے کہ وہ اپنے فیصلے شرعی قانون کے مطابق کریں ۔ اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسلامی معاشرے میں اہل کتاب کے متعلق یہ خاص اصول وضع کیا گیا ہے کہ ان کے فیصلے خود ان کی شریعت کے مطابق کئے جائیں گے مثلا یہ کہ ان کے لئے وہ معاملات جائز ہوں گے جو ان کی شریعت میں …

Al-Maaida 5:42Listen in Qur'an →
43

وَكَيْفَ يُحَكِّمُونَكَ وَعِندَهُمُ ٱلتَّوْرَىٰةُ فِيهَا حُكْمُ ٱللَّهِ ثُمَّ يَتَوَلَّوْنَ مِنۢ بَعْدِ ذَٰلِكَ ۚ وَمَآ أُو۟لَٰٓئِكَ بِٱلْمُؤْمِنِينَ

اور یہ تم سے (اپنے مقدمات) کیونکر فیصل کرایں گے جبکہ خود ان کے پاس تورات (موجود) ہے جس میں خدا کا حکم (لکھا ہوا) ہے (یہ اسے جانتے ہیں) پھر اس کے بعد اس سے پھر جاتے ہیں اور یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے

(آیت) ” نمبر 43۔

” اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے)

یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ نہ کرے اور پھر بھی مومن ہو ‘ یا وہ اللہ کے قانون پر راضی نہ ہو اور پھر بھی یہ زعم رکھتا ہو کہ وہ مومن ہے ۔ یہ ہر گز ممکن نہیں ہے ۔ اگر کوئی ایمان لاتا ہے تو اسے اپنی پوری زندگی میں شریعت کا نفاذ کرنا ہوگا ۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اس کا دعوائے ایمان جھوٹا ہے اور اس کا موقف اس قطعی نص کی بالکل ضد ہے ۔ (آیت) ” وما اولئک بالمومنین “ (5 : 43) (یہ لوگ ایمان نہیں رکھتے) یہ معاملہ فقط اس حد تک نہیں ہے کہ حکام کی جانب سے اسلامی شریعت کانفاذ نہیں ہے بلکہ اگر محکوم لوگ بھی جن پر شریعت کا نفاذ ہوتا ہے ‘ شریعت کے نفاذ پر راضی نہیں تو بھی وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوں گے اگرچہ زبانی طور پر وہ ایمان کا دعوی کریں ۔

یہ آیت سورة نساء کی آیت کے عین مطابق ہے جس میں کہا گیا ہے ۔

(آیت) ” (فلا وربک لا یومنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم ثم لا یجدوا فی انفسھم حرجا مماقضیت ویسلموا تسلیما “ (4 : 65)

” خدا کی قسم یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک یہ اپنے تنازعات کا فیصلہ آپ سے نہ کرائیں ۔ پھر یہ اپنے دل میں آپ کے فیصلے پر کوئی تنگی بھی محسوس نہ کریں اور پوری طرح سرتسلیم خم نہ کردیں) ان دونوں آیات کا تعلق محکوم عوام الناس سے ہے ‘ حکام سے نہیں ہے جبکہ دونوں ایمان سے نکل جاتے ہیں ۔ جو لوگ اللہ اور رسول کے فیصلوں پر راضی نہیں ہوتے ان کے بارے میں یہ آیات کہتی ہیں کہ یہ مومن نہیں رہتے یا اگر رسول فیصلہ کریں اور یہ لوگ روگردانی کردیں اور تسلیم نہ کریں ۔

خلاصہ کلام یہ ہے جیسا کہ اس سبق کے آغاز میں ہم نے کہا تھا کہ یہ مسئلہ اللہ کی حاکمیت کے اقرار کا مسئلہ ہے ۔ اللہ کی حاکمیت ‘ اس کی قیومیت اور انسان پر اس کی نگرانی ونگہبانی کے اقرار کا مسئلہ ہے یا اس کے انکار کا مسئلہ ہے اور اللہ کی شریعت کو قبول کرنا اور اس کے مطابق فیصلے کرانا اللہ کی حاکمیت ‘ اس کی نگہبانی کے اقرار کا ایک مظہر اور ثبوت ہے اور شریعت پر فیصلے نہ کرانا اس کے انکار کا مظہر اور ثبوت ہے ۔

یہ تو فیصلہ ان لوگوں کے بارے میں تھا جو اللہ تعالیٰ کے فیصلے قبول نہیں کرتے ۔ اب اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو حکام اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے ان کے بارے میں فتوی کیا ہے اور یہ فتوی ان تمام ادیان کا ہے جو اللہ کی جانب سے نازل ہوتے ہیں سب سے پہلے تورات کا فتوی ۔

Al-Maaida 5:43Listen in Qur'an →
44

إِنَّآ أَنزَلْنَا ٱلتَّوْرَىٰةَ فِيهَا هُدًۭى وَنُورٌۭ ۚ يَحْكُمُ بِهَا ٱلنَّبِيُّونَ ٱلَّذِينَ أَسْلَمُوا۟ لِلَّذِينَ هَادُوا۟ وَٱلرَّبَّٰنِيُّونَ وَٱلْأَحْبَارُ بِمَا ٱسْتُحْفِظُوا۟ مِن كِتَٰبِ ٱللَّهِ وَكَانُوا۟ عَلَيْهِ شُهَدَآءَ ۚ فَلَا تَخْشَوُا۟ ٱلنَّاسَ وَٱخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوا۟ بِـَٔايَٰتِى ثَمَنًۭا قَلِيلًۭا ۚ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَٰفِرُونَ

بیشک ہم نے توریت نازل فرمائی جس میں ہدایت اور روشنی ہے اسی کے مطابق انبیاء جو (خدا کے) فرمانبردار تھے یہودیوں کو حکم دیتے رہے ہیں اور مشائخ اور علماء بھی کیونکہ وہ کتاب خدا کے نگہبان مقرر کیے گئے تھے اور اس پر گواہ تھے (یعنی حکم الہٰی کا یقین رکھتے تھے) تو تم لوگوں سے مت ڈرنا اور مجھی سے ڈرتے رہنا اور میری آیتوں کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہ لینا اور جو خدا کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں

(آیت) ” نمبر 44 تا 45۔

اللہ کی جانب سے جو دین بھی آیا ہے وہ اس لئے آیا ہے تاکہ وہ نظام زندگی بنے اور لوگوں کی عملی زندگی کا وہ نظام ہو ۔ ہر دین میں اس لئے آیا ہے کہ وہ انسانیت کی قیادت کرے ۔ انسان کو منظم کرے ‘ اسے صحیح راستہ دکھائے اور اسے غلطیوں اور سیاہ کاریوں سے بچائے ، دین محض اس لئے نہیں آتا کہ وہ انسانی شعور میں ایک عقیدہ اور نظریہ ہو ‘ یا وہ محض اس لئے بھی نہیں آتا کہ کلیسا اور مساجد میں چند مراسم عبودیت کے طور پر جاری رہے ۔ یہ دونوں باتیں اگرچہ انسانی کے عقیدہ وعمل کے لئے ضروری ہیں لیکن صرف عقیدہ اور مراسم عبودیت سے انسانی زندگی کی تنظیم ‘ توجہیہ اور سیاہ کاریوں سے بچاؤ ممکن نہیں ہے جب تک دین کی اساس پر پورا نظام زندگی ‘ نظام قانون اور نظام معاشرت نافذ نہ ہو ‘ جب تک ان چیزوں کو عملا نافذ نہ کیا جائے ‘ جب تک مسند اقدار پر ایسے لوگ نہ پائے جائیں جو اس حاکمیت اور قانون کے مطابق حکمرانی کریں اور جب تک ایسی حکومت نہ ہو جو اسلامی قوانین اور ہدایت کی خلاف ورزی پر گرفت کرنے والی ہو اور اسلامی سزائیں نافذ کرنے والی ہو ۔ اس وقت تک قانون اسلام کا نفاذ ممکن نہیں ہے ۔

انسانی زندگی اس وقت تک استوار نہیں ہو سکتی جب تک نظریہ حیات ‘ مراسم عبودیت اور قانون ایک ہی منبع سے اخذ نہ کئے جائیں ۔ اس منبع کی حکمرانی دلوں پر بھی ہو ‘ ذات الصدور پر بھی ہو اور انسانی کی عملی حرکات و سکنات پر بھی ہو ۔ وہ اس دنیا میں بھی لوگوں کو اجر دیتاہو اور آخرت میں بھی وہ لوگوں کو اجر دیتا ہو اور حساب و کتاب لیتا ہو۔

جب انسانی زندگی پر حکمرانی مختلف ہوجائے اور رشد وہدایت کے منابع مختلف ہوجائیں مثلا ضمیر اور ایمان پر حکمرانی ایک الہ کی ہو اور ظاہری نظم ونسق اور قانون پر حکمرانی دوسرے حاکم کی ہو اور آخرت کی جزاء کا مالک اور ہو اور دنیا میں سزا دینے والی طاقت کوئی اور ہو تو ایسے حالات میں انسانی کی ذات دو مختلف حکمرانوں کے درمیان ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتی ہے اس کی شخصیت کے اندر دو مختلف رجحانات ہوتے اور اس کی زندگی دو طرح کے متضاد طرز ہائے عمل میں بٹ جاتی ایسے حالات میں زندگی کے اندر وہ بگاڑ پیدا ہوتا ہے جس کی طرف قرآن کریم نے مختلف طریقوں سے اشارہ کیا ہے ۔

(آیت) ” لو کان فیھما الھۃ الا اللہ لفسدتا “۔ (اگر زمین و آسمان میں زیادہ الہ ہوتے تو ان میں فساد برپا ہوجاتا)

(آیت) ” لواتبع الحق اھوائھم لفسدت والارض ومن فیھن “ (اگر حق ان کی خواہشات کے تابع ہوجائے تو زمین ‘ آسمانوں اور ان کے اندر جو کچھ ہے وہ فساد کا شکار ہوجائے)

(آیت) ” ثم جعلنک علی شریعۃ من الامر ولا تتبع اھواء الذین لا یعلمون “۔ (پھر ہم نے آپ کو شریعت پر قائم کیا ہے پس آپ اس کی اطاعت کریں اور ان لوگوں کی خواہشات کی اطاعت نہ کریں جو نہیں جانتے)

یہی وجہ ہے کہ اللہ کی طرف سے جو دین بھی آیا ہے وہ اس لئے آیا ہے کہ وہ زندگی کا نظام بنے ۔ یہ دین کسی گاؤں کے لئے ہو ‘ کسی قوم کے لئے ہو یا پوری کی پوری انسانیت کے لئے ہو ‘ بشرطیکہ وہ دین حق میں اور اس کے ساتھ شریعت ہو ۔ ہر دین میں ایک طرف تو ایک نظریہ حیات ہوتا ہے اور دوسری جانب اس میں زندگی کی تفصیلی ہدایات کے لئے ایک شریعت ہوتی ہے ۔ اس میں اللہ کی بندگی کے لئے کچھ مراسم عبودیت ہوتے ہیں۔ یہ تین پہلو ہر دین کے بنیادی عناصر ترکیبی ہوتے ہیں جہاں بھی کوئی دین اللہ کی طرف سے آیا ہے ‘ اس میں یہ تین پہلو ضرور ہوتے ہیں ۔ انسانی زندگی تب ہی استوار اور درست ہوسکتی ہے جب دین کو زندگی کا نظام بنا دیا جائے ۔ (تفصیلات کے لئے دیکھئے میری کتابیں الاسلام ومشکلات الحضارہ اور المستقبل لہذا الدین اور خصائص التصور الاسلامی ومقوماۃ)

قرآن کریم میں ایسے شواہد موجود ہیں کہ سابقہ ادیان میں سے بعض ایک محدود علاقے کے لئے تھے مثلا ایک گاؤں کے لئے یا ایک شہر کے لئے یا کسی ایک قبیلے کے لئے لیکن یہ ادیان بھی …

Al-Maaida 5:44Listen in Qur'an →
45

وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَآ أَنَّ ٱلنَّفْسَ بِٱلنَّفْسِ وَٱلْعَيْنَ بِٱلْعَيْنِ وَٱلْأَنفَ بِٱلْأَنفِ وَٱلْأُذُنَ بِٱلْأُذُنِ وَٱلسِّنَّ بِٱلسِّنِّ وَٱلْجُرُوحَ قِصَاصٌۭ ۚ فَمَن تَصَدَّقَ بِهِۦ فَهُوَ كَفَّارَةٌۭ لَّهُۥ ۚ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ

اور ہم نے ان لوگوں کے لیے تورات میں یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور سب زخموں کا اسی طرح بدلہ ہے لیکن جو شخص بدلہ معاف کر دے وہ اس کے لیے کفارہ ہوگا اور جو خدا کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ بےانصاف ہیں

(آیت) ” نمبر 44 تا 45۔

اللہ کی جانب سے جو دین بھی آیا ہے وہ اس لئے آیا ہے تاکہ وہ نظام زندگی بنے اور لوگوں کی عملی زندگی کا وہ نظام ہو ۔ ہر دین میں اس لئے آیا ہے کہ وہ انسانیت کی قیادت کرے ۔ انسان کو منظم کرے ‘ اسے صحیح راستہ دکھائے اور اسے غلطیوں اور سیاہ کاریوں سے بچائے ، دین محض اس لئے نہیں آتا کہ وہ انسانی شعور میں ایک عقیدہ اور نظریہ ہو ‘ یا وہ محض اس لئے بھی نہیں آتا کہ کلیسا اور مساجد میں چند مراسم عبودیت کے طور پر جاری رہے ۔ یہ دونوں باتیں اگرچہ انسانی کے عقیدہ وعمل کے لئے ضروری ہیں لیکن صرف عقیدہ اور مراسم عبودیت سے انسانی زندگی کی تنظیم ‘ توجہیہ اور سیاہ کاریوں سے بچاؤ ممکن نہیں ہے جب تک دین کی اساس پر پورا نظام زندگی ‘ نظام قانون اور نظام معاشرت نافذ نہ ہو ‘ جب تک ان چیزوں کو عملا نافذ نہ کیا جائے ‘ جب تک مسند اقدار پر ایسے لوگ نہ پائے جائیں جو اس حاکمیت اور قانون کے مطابق حکمرانی کریں اور جب تک ایسی حکومت نہ ہو جو اسلامی قوانین اور ہدایت کی خلاف ورزی پر گرفت کرنے والی ہو اور اسلامی سزائیں نافذ کرنے والی ہو ۔ اس وقت تک قانون اسلام کا نفاذ ممکن نہیں ہے ۔

انسانی زندگی اس وقت تک استوار نہیں ہو سکتی جب تک نظریہ حیات ‘ مراسم عبودیت اور قانون ایک ہی منبع سے اخذ نہ کئے جائیں ۔ اس منبع کی حکمرانی دلوں پر بھی ہو ‘ ذات الصدور پر بھی ہو اور انسانی کی عملی حرکات و سکنات پر بھی ہو ۔ وہ اس دنیا میں بھی لوگوں کو اجر دیتاہو اور آخرت میں بھی وہ لوگوں کو اجر دیتا ہو اور حساب و کتاب لیتا ہو۔

جب انسانی زندگی پر حکمرانی مختلف ہوجائے اور رشد وہدایت کے منابع مختلف ہوجائیں مثلا ضمیر اور ایمان پر حکمرانی ایک الہ کی ہو اور ظاہری نظم ونسق اور قانون پر حکمرانی دوسرے حاکم کی ہو اور آخرت کی جزاء کا مالک اور ہو اور دنیا میں سزا دینے والی طاقت کوئی اور ہو تو ایسے حالات میں انسانی کی ذات دو مختلف حکمرانوں کے درمیان ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتی ہے اس کی شخصیت کے اندر دو مختلف رجحانات ہوتے اور اس کی زندگی دو طرح کے متضاد طرز ہائے عمل میں بٹ جاتی ایسے حالات میں زندگی کے اندر وہ بگاڑ پیدا ہوتا ہے جس کی طرف قرآن کریم نے مختلف طریقوں سے اشارہ کیا ہے ۔

(آیت) ” لو کان فیھما الھۃ الا اللہ لفسدتا “۔ (اگر زمین و آسمان میں زیادہ الہ ہوتے تو ان میں فساد برپا ہوجاتا)

(آیت) ” لواتبع الحق اھوائھم لفسدت والارض ومن فیھن “ (اگر حق ان کی خواہشات کے تابع ہوجائے تو زمین ‘ آسمانوں اور ان کے اندر جو کچھ ہے وہ فساد کا شکار ہوجائے)

(آیت) ” ثم جعلنک علی شریعۃ من الامر ولا تتبع اھواء الذین لا یعلمون “۔ (پھر ہم نے آپ کو شریعت پر قائم کیا ہے پس آپ اس کی اطاعت کریں اور ان لوگوں کی خواہشات کی اطاعت نہ کریں جو نہیں جانتے)

یہی وجہ ہے کہ اللہ کی طرف سے جو دین بھی آیا ہے وہ اس لئے آیا ہے کہ وہ زندگی کا نظام بنے ۔ یہ دین کسی گاؤں کے لئے ہو ‘ کسی قوم کے لئے ہو یا پوری کی پوری انسانیت کے لئے ہو ‘ بشرطیکہ وہ دین حق میں اور اس کے ساتھ شریعت ہو ۔ ہر دین میں ایک طرف تو ایک نظریہ حیات ہوتا ہے اور دوسری جانب اس میں زندگی کی تفصیلی ہدایات کے لئے ایک شریعت ہوتی ہے ۔ اس میں اللہ کی بندگی کے لئے کچھ مراسم عبودیت ہوتے ہیں۔ یہ تین پہلو ہر دین کے بنیادی عناصر ترکیبی ہوتے ہیں جہاں بھی کوئی دین اللہ کی طرف سے آیا ہے ‘ اس میں یہ تین پہلو ضرور ہوتے ہیں ۔ انسانی زندگی تب ہی استوار اور درست ہوسکتی ہے جب دین کو زندگی کا نظام بنا دیا جائے ۔ (تفصیلات کے لئے دیکھئے میری کتابیں الاسلام ومشکلات الحضارہ اور المستقبل لہذا الدین اور خصائص التصور الاسلامی ومقوماۃ)

قرآن کریم میں ایسے شواہد موجود ہیں کہ سابقہ ادیان میں سے بعض ایک محدود علاقے کے لئے تھے مثلا ایک گاؤں کے لئے یا ایک شہر کے لئے یا کسی ایک قبیلے کے لئے لیکن یہ ادیان بھی …

Al-Maaida 5:45Listen in Qur'an →
46

وَقَفَّيْنَا عَلَىٰٓ ءَاثَٰرِهِم بِعِيسَى ٱبْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًۭا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ ٱلتَّوْرَىٰةِ ۖ وَءَاتَيْنَٰهُ ٱلْإِنجِيلَ فِيهِ هُدًۭى وَنُورٌۭ وَمُصَدِّقًۭا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ ٱلتَّوْرَىٰةِ وَهُدًۭى وَمَوْعِظَةًۭ لِّلْمُتَّقِينَ

اور ان پیغمبروں کے بعد انہی کے قدموں پر ہم نے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا جو اپنے سے پہلے کی کتاب تورات کی تصدیق کرتے تھے اور ان کو انجیل عنایت کی جس میں ہدایت اور نور ہے اور تورات کی جو اس سے پہلی کتاب (ہے) تصدیق کرتی ہے اور پرہیزگاروں کو راہ بتاتی اور نصیحت کرتی ہے

(آیت) ” نمبر 46 تا 47۔

اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کو انجیل عطا ہوئی تاکہ وہ لوگوں کے لئے نظام زندگی قرار پائے ۔ انجیل میں بذات خود کوئی نیا شرعی نظام نہ تھا ‘ البتہ انجیل میں تورات کے قانونی نظام میں نہایت ہی خفیف تبدیلیاں کی گئی تھیں ۔ انجیل نے خود تورات کے نظام قانون اور نظریات کی تصدیق کی ‘ صرف چند تبدیلیاں لائی گئیں ۔ اللہ تعالیٰ نے انجیل کے اندر امت مسلمہ کے لئے ہدایت ‘ نئی روشنی اور نصیحت اتاری یہ کس کے لئے ؟ ان لوگوں کے لئے جو خدا ترس تھے ۔ اس لئے متقی لوگ وہ ہوں گے جو ہدایت ‘ روشنی اور وعظ ونصیحت اللہ کی کتابوں سے اخذ کرتے ہیں اور ایسے ہی لوگوں کو یہ کتابیں ہدایات دیتی ہیں ۔ رہے وہ دل جو خشک ‘ پتھر کی طرح بےجان اور سخت ہوتے ہیں تو کوئی نصیحت ان تک نہیں پہنچتی ۔ ان دلوں کو کلام کے اندر کوئی مفہوم نظر نہیں آتا ۔ ان کو ہدایات کے اندر روح نظر نہیں آتی ان کو ایمان کے اندر کوئی ذائقہ نظر نہیں آتا ۔ وہ ان ہدایات ‘ ان انوار سے کوئی راہ نہیں پاتے اور نہ ہی دعوت و پکار لبیک کہتے ہیں ۔ نور اور روشنی موجود ہوتی ہے لیکن ان کی بصارت اور بصیرت کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔ راہنمائی موجود ہوتی ہے لیکن اس راہنمائی کا ادراک صرف بلند روحوں کو ہوتا ہے ۔ نصیحت موجود ہوتی ہے لیکن صرف فہم رکھنے والے دل ہی نصیحت لیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے انجیل میں بھی ہدایت ‘ نور اور اہل تقوی کے لئے نصیحت درج فرمائی اور اہل انجیل کے لئے اسے نظام حیات قرار دیا ۔ اور ان کے لیے قوانین کا ماخذ بنایا یعنی انجیل صراف اہل انجیل کے لئے نظام حیات تھی ۔ وہ تمام لوگوں کے لئے نہ تھی ‘ کیونکہ انجیل کی دعوت عام نہ تھی لیکن اس کا نفاذ تورات کی طرح ‘ ہر رسالت کی طرح اور ہر رسول کی دعوت کی طرح ضروری تھا ‘ جو رسول کریم ﷺ سے پہلے گزرے تھے اور جن کی دعوت نبی کریم ﷺ کی دعوت اور شریعت کے مطابق تھی ۔ لہذا شرائع سابقہ کا جو حصہ اسلام کے مطابق ہے وہ اسلام کی شریعت اور قرآن کی شریعت کا حکم دکھتا ہے جیسا کہ حکم قصاص کے ضمن میں ہم کہہ آئے ہیں۔

یعنی اہل انجیل سے بھی مطالبہ یہی تھا کہ وہ انجیل کی شریعت کے مطابق اپنے فیصلے کریں ۔

(آیت) ” ولیحکم اھل الانجیل بما انزل اللہ فیہ “۔ (5 : 47) (ہمارا حکم تھا کہ اہل انجیل اسی قانون کے مطابق فیصلہ کریں جسے اللہ نے اتارا) یعنی اصل الاصول یہی تھا کہ اللہ کے احکام کے مطابق فیصلے کئے جائیں ۔ اہل انجیل اور یہودیوں دونوں کی کوئی حیثیت نہ تھی جب تک وہ اسلام سے قبل تورات کو نافذ کرتے تھے ۔ اسلام کے آنے کے بعد اب تو سب دنیا کے انسانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ اسلام شریعت نافذ کریں ۔ یہ شریعت اب سب کی شریعت ہے اور یہ اب آخری رسالت اور آخر شریعت ہے ۔

(آیت) ” بما انزل اللہ فیہ ومن لم یحکم بما انزل فاولئک ھم الفسقون “۔ (5 : 47) (جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی فاسق ہیں)

یہاں بھی آیت نہایت ہی عام اور مطلق ہے ۔ اور اس سے قبل اس قسم کے فعل پر صفت کفر اور ظلم کا جو اطلاق ہوا تھا ‘ صف کفر ان دونوں پر مستزاد ہے ۔ یہاں فاسقوں سے مراد کوئی اور لوگ نہیں ہیں بلکہ وہی کافرون اور ظالمون ہیں جنہوں یہاں صفت فاسقون سے بھی متصف کیا گیا ہے اور جو بھی اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے نہ کرے گا وہ اس صفت سے متصف ہوگا ۔

کفر اس لئے ہوگا کہ اللہ کی شریعت کا انکار کرنے سے اللہ کی حاکمیت کا انکار ہوگا ۔ ظلم اس لئے ہوگا کہ لوگوں پر اللہ کے سوا کوئی اور قانون نافذ کرکے ظلم ہوگا اور اس قانون کے ذریعے ان کی زندگیوں میں فساد برپا ہوگا اور فسق اس لئے ہوگا کہ اللہ کے نظام حیات سے خارج ہونے والا خود بخود فاسق ہوجاتا ہے ۔ غرض یہ تمام صفات اللہ کے قانون کے مطابق فیصلے نہ کرنے کے فعل کے ساتھ لازم ہیں اور ایسا فاعل …

Al-Maaida 5:46Listen in Qur'an →
47

وَلْيَحْكُمْ أَهْلُ ٱلْإِنجِيلِ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فِيهِ ۚ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْفَٰسِقُونَ

اور اہل انجیل کو چاہیئے کہ جو احکام خدا نے اس میں نازل فرمائے ہیں اس کے مطابق حکم دیا کریں اور جو خدا کے نازل کئے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے گا تو ایسے لوگ نافرماں ہیں

(آیت) ” نمبر 46 تا 47۔

اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کو انجیل عطا ہوئی تاکہ وہ لوگوں کے لئے نظام زندگی قرار پائے ۔ انجیل میں بذات خود کوئی نیا شرعی نظام نہ تھا ‘ البتہ انجیل میں تورات کے قانونی نظام میں نہایت ہی خفیف تبدیلیاں کی گئی تھیں ۔ انجیل نے خود تورات کے نظام قانون اور نظریات کی تصدیق کی ‘ صرف چند تبدیلیاں لائی گئیں ۔ اللہ تعالیٰ نے انجیل کے اندر امت مسلمہ کے لئے ہدایت ‘ نئی روشنی اور نصیحت اتاری یہ کس کے لئے ؟ ان لوگوں کے لئے جو خدا ترس تھے ۔ اس لئے متقی لوگ وہ ہوں گے جو ہدایت ‘ روشنی اور وعظ ونصیحت اللہ کی کتابوں سے اخذ کرتے ہیں اور ایسے ہی لوگوں کو یہ کتابیں ہدایات دیتی ہیں ۔ رہے وہ دل جو خشک ‘ پتھر کی طرح بےجان اور سخت ہوتے ہیں تو کوئی نصیحت ان تک نہیں پہنچتی ۔ ان دلوں کو کلام کے اندر کوئی مفہوم نظر نہیں آتا ۔ ان کو ہدایات کے اندر روح نظر نہیں آتی ان کو ایمان کے اندر کوئی ذائقہ نظر نہیں آتا ۔ وہ ان ہدایات ‘ ان انوار سے کوئی راہ نہیں پاتے اور نہ ہی دعوت و پکار لبیک کہتے ہیں ۔ نور اور روشنی موجود ہوتی ہے لیکن ان کی بصارت اور بصیرت کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔ راہنمائی موجود ہوتی ہے لیکن اس راہنمائی کا ادراک صرف بلند روحوں کو ہوتا ہے ۔ نصیحت موجود ہوتی ہے لیکن صرف فہم رکھنے والے دل ہی نصیحت لیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے انجیل میں بھی ہدایت ‘ نور اور اہل تقوی کے لئے نصیحت درج فرمائی اور اہل انجیل کے لئے اسے نظام حیات قرار دیا ۔ اور ان کے لیے قوانین کا ماخذ بنایا یعنی انجیل صراف اہل انجیل کے لئے نظام حیات تھی ۔ وہ تمام لوگوں کے لئے نہ تھی ‘ کیونکہ انجیل کی دعوت عام نہ تھی لیکن اس کا نفاذ تورات کی طرح ‘ ہر رسالت کی طرح اور ہر رسول کی دعوت کی طرح ضروری تھا ‘ جو رسول کریم ﷺ سے پہلے گزرے تھے اور جن کی دعوت نبی کریم ﷺ کی دعوت اور شریعت کے مطابق تھی ۔ لہذا شرائع سابقہ کا جو حصہ اسلام کے مطابق ہے وہ اسلام کی شریعت اور قرآن کی شریعت کا حکم دکھتا ہے جیسا کہ حکم قصاص کے ضمن میں ہم کہہ آئے ہیں۔

یعنی اہل انجیل سے بھی مطالبہ یہی تھا کہ وہ انجیل کی شریعت کے مطابق اپنے فیصلے کریں ۔

(آیت) ” ولیحکم اھل الانجیل بما انزل اللہ فیہ “۔ (5 : 47) (ہمارا حکم تھا کہ اہل انجیل اسی قانون کے مطابق فیصلہ کریں جسے اللہ نے اتارا) یعنی اصل الاصول یہی تھا کہ اللہ کے احکام کے مطابق فیصلے کئے جائیں ۔ اہل انجیل اور یہودیوں دونوں کی کوئی حیثیت نہ تھی جب تک وہ اسلام سے قبل تورات کو نافذ کرتے تھے ۔ اسلام کے آنے کے بعد اب تو سب دنیا کے انسانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ اسلام شریعت نافذ کریں ۔ یہ شریعت اب سب کی شریعت ہے اور یہ اب آخری رسالت اور آخر شریعت ہے ۔

(آیت) ” بما انزل اللہ فیہ ومن لم یحکم بما انزل فاولئک ھم الفسقون “۔ (5 : 47) (جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی فاسق ہیں)

یہاں بھی آیت نہایت ہی عام اور مطلق ہے ۔ اور اس سے قبل اس قسم کے فعل پر صفت کفر اور ظلم کا جو اطلاق ہوا تھا ‘ صف کفر ان دونوں پر مستزاد ہے ۔ یہاں فاسقوں سے مراد کوئی اور لوگ نہیں ہیں بلکہ وہی کافرون اور ظالمون ہیں جنہوں یہاں صفت فاسقون سے بھی متصف کیا گیا ہے اور جو بھی اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے نہ کرے گا وہ اس صفت سے متصف ہوگا ۔

کفر اس لئے ہوگا کہ اللہ کی شریعت کا انکار کرنے سے اللہ کی حاکمیت کا انکار ہوگا ۔ ظلم اس لئے ہوگا کہ لوگوں پر اللہ کے سوا کوئی اور قانون نافذ کرکے ظلم ہوگا اور اس قانون کے ذریعے ان کی زندگیوں میں فساد برپا ہوگا اور فسق اس لئے ہوگا کہ اللہ کے نظام حیات سے خارج ہونے والا خود بخود فاسق ہوجاتا ہے ۔ غرض یہ تمام صفات اللہ کے قانون کے مطابق فیصلے نہ کرنے کے فعل کے ساتھ لازم ہیں اور ایسا فاعل …

Al-Maaida 5:47Listen in Qur'an →
48

وَأَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلْكِتَٰبَ بِٱلْحَقِّ مُصَدِّقًۭا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ ٱلْكِتَٰبِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ ۖ فَٱحْكُم بَيْنَهُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ ٱلْحَقِّ ۚ لِكُلٍّۢ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةًۭ وَمِنْهَاجًۭا ۚ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةًۭ وَٰحِدَةًۭ وَلَٰكِن لِّيَبْلُوَكُمْ فِى مَآ ءَاتَىٰكُمْ ۖ فَٱسْتَبِقُوا۟ ٱلْخَيْرَٰتِ ۚ إِلَى ٱللَّهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًۭا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ

اور (اے پیغمبر!) ہم نے تم پر سچی کتاب نازل کی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ان (سب) پر شامل ہے تو جو حکم خدا نے نازل فرمایا ہے اس کے مطابق ان کا فیصلہ کرنا اور حق جو تمہارے پاس آچکا ہے اس کو چھوڑ کر ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا ہم نے تم میں سے ہر ایک (فرقے) کے لیے ایک دستور اور طریقہ مقرر کیا ہے اور اگر خدا چاہتا تو سب کو ایک ہی شریعت پر کر دیتا مگر جو حکم اس نے تم کو دیئے ہیں ان میں وہ تمہاری آزمائش کرنی چاہتا ہے سو نیک کاموں میں جلدی کرو تم سب کو خدا کی طرف لوٹ کر جانا ہے پھر جن باتوں میں تم کو اختلاف تھا وہ تم کو بتا دے گا

(آیت) ” نمبر 48 تا 50۔

انسان جب اس تعبیر کی صفائی پر غور کرتا ہے اور اس دوٹوک فیصلے پر نگاہ ڈالتا ہے اور اس مکمل اختیار پر غور کرتا ہے اس میں ان تمام امور کی پیش بندی کردی گئی ہے جو ترک شریعت کے بارے میں کسی انسان کے دل میں آسکتے ہیں ۔ جب انسان غور کرتا تو وہ حیران رہ جاتا ہے کہ کوئی مسلمان ان ہدایات کے باوجود کسی طرح شریعت کو ترک کرسکتا ہے ۔ یہ ترک وہ حالات اور ضروریات کے بہانے سے کرتا ہے اور پھر بھی دعوائے اسلام کرتا ہے ۔ اس سے زیادہ تعجب انگیز بات یہ ہے کہ کوئی شخص اسلامی شریعت کو کلیۃ ترک کردے اور پھر بھی یہ کہے کہ وہ مسلمان ہے ۔ ان لوگوں کی جرات کا عالم یہ ہے کہ انہوں نے اپنے گلے سے اسلام کا طوق اتار پھینکا ہے لیکن پھر بھی وہ اپنے آپ کو بدستور مسلمان کہتے ہیں ۔ پوری کی پوری شریعت کو انہوں نے اپنی زندگی سے یکسر خارج کردیا ہے ۔ وہ اللہ کی حاکمیت کا اقرار ہی نہیں کرتے اور یہ یوں کہ وہ قانون سازی کو اللہ کے ساتھ مخصوص نہیں کرتے اور یہ بات نہیں مانتے کہ اسلامی شریعت ہر قسم کے حالات اور ہر قسم کے اوقات میں قابل عمل ہے اور یہ کہ ہم پر یہ فرض ہے کہ ہم تمام حالات میں شریعت کو نافذ کریں ۔

(آیت) ” وانزلنا الیک الکتب بالحق “ (5 : 48) (پھر اے نبی ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب بھیجی جو حق لے کر آئی ہے)

یہ حق اس طرح ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے آئی ہے اور اللہ تعالیٰ اس بات کا مستحق ہے کہ وہ شریعت نازل کرے اور لوگوں پر قانون ڈیوٹیاں عائد کرے ۔ پھر اس کتاب کے مشمولات تمام حق ہیں ‘ نظریات سچے ہیں ‘ قوانین سچے ہیں ‘ جو قصے اور خبریں اس میں درج ہیں وہ سچے ہیں اور جو ہدایات اس میں دی گئی ہیں وہ برحق دی گئی ہیں۔

(آیت) ” مصدقا لما بین یدیہ من الکتب ومھیمنا علیہ “ (5 : 48) (اور الکتاب میں سے جو کچھ اس کے آگے موجود ہے اس کی تصدیق کرنے والی اور اس کی محافظ ونگہبان ہے)

اس طرح یہ دین الہی کی آخری مکمل شکل ہے اور آخری ماخذ اور مرجع ہے ۔ یہ آخری نظام زندگی ہے ‘ آخری قانون ہے اور اس کے بعد قانون و شریعت اور نظام ودستور میں کوئی تبدیلی نہ ہوگی اور کوئی ترمیم وتنسیخ ہوگی ۔

اس اصول کا قدرتی تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے تمام اختلافات اس کتاب کی طرف لوٹائیں تاکہ یہ کتاب اس بارے میں فیصلہ کرے ‘ چاہے ان اختلافات کا تعلق اعتقادات اور تصورات کے ساتھ ہو ‘ جو عموما ادیان سماوی کے حاملین اور علماء کے درمیان ہوتا رہا ہے یا یہ اختلاف خود مسلمانوں کے اندر پایا جاتا ہو تو وہ مرجع اور ماخذ جس کی طرف وہ اپنی پوری زندگی کے امور میں رجوع کریں گے وہ یہی کتاب ہے ۔ اور ان معاملات میں انسانوں میں سے بڑے سے بڑے افراد کی ذاتی رائے کی کوئی قیمت نہیں ہے ۔ اگر اس رائے کی پشت پر قرآن وسنت سے کوئی دلیل نہیں ہے ۔

چناچہ اس اصول اور حقیقت کا براہ راست تقاضا یہ سامنے آتا ہے ۔

(آیت) ” فاحکم بینھم بما انزل اللہ ولا تتبع اھوآء ھم عما جآءک من الحق “۔ (5 : 48) (لہذا تم خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور جو حق تمہارے پاس آیا ہے اس سے منہ موڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو) ابتداء یہ حکم رسول اللہ ﷺ کو دیا گیا ہے ‘ یعنی ان اہل کتاب کے بارے میں جو آپ کے پاس فیصلے لے کر آتے تھے ۔ لیکن یہ حکم اس سبب نزول کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ ایک عام حکم ہے اور ہر زمان ومکان کے لئے ہے اس لئے کہ آپ کے بعد کوئی جدید رسول آنے والا نہیں ہے ۔ نہ آپ کے بعد کوئی جدید رسالت بھیجی جانے والی ہے کہ اس حکم میں کوئی تبدیلی لائی جاسکے کہ اب قرآن مرجع نہیں رہا ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے اس دین کو مکمل کردیا ہے اور اس طرح مسلمانوں پر اپنی نعمت تمام کردی ہے اور ان تمام اہل ایمان کے لئے یہ اسلامی نظام حیات پسند کرلیا ہے اب اس میں کسی ترمیم اور تبدیلی کا کوئی راستہ نہیں ہے اور نہ ہی کسی اصول کے مطابق اللہ کے کسی حکم کو …

Al-Maaida 5:48Listen in Qur'an →
49

وَأَنِ ٱحْكُم بَيْنَهُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَآءَهُمْ وَٱحْذَرْهُمْ أَن يَفْتِنُوكَ عَنۢ بَعْضِ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ إِلَيْكَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَٱعْلَمْ أَنَّمَا يُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُصِيبَهُم بِبَعْضِ ذُنُوبِهِمْ ۗ وَإِنَّ كَثِيرًۭا مِّنَ ٱلنَّاسِ لَفَٰسِقُونَ

اور (ہم پھر تاکید کرتے ہیں کہ) جو (حکم) خدا نے نازل فرمایا ہے اسی کے مطابق ان میں فیصلہ کرنا اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اور ان سے بچتے رہنا کہ کسی حکم سے جو خدا نے تم پر نازل فرمایا ہے یہ کہیں تم کو بہکانہ دیں اگر یہ نہ مانیں تو جان لو کہ خدا چاہتا ہے کہ ان کے بعض گناہوں کے سبب ان پر مصیبت نازل کرے اور اکثر لوگ تو نافرمان ہیں

(آیت) ” وان احکم بینھم بما انزل اللہ ولا تتبع اھوآء ھم واحذرھم ان یفتنوک عن بعض ما انزل اللہ الیک “۔ (5 : 49) (پس اے نبی ﷺ تم اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق ان لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو ۔ ہوشیار رہو کہ یہ لوگ تم کو فتنہ میں ڈال کر اس ہدایت سے ذرہ برابر منحرف نہ کرنے پائیں جو خدا نے تمہاری طرف نازل کی ہے)

یہ تنبیہ بہت ہی شدید ہے اور بہت ہی مفصل ہے ۔ یہ صورت حال کی حقیقی تصور کشی ہے اس لئے کہ یہ ایک عظیم فتنہ ہے ۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اس سے خبردار رہیں اور تمام فیصلے اللہ کی شریعت کے مطابق کریں ۔ اگر مکمل شریعت نہ ہوگی تو پھر مکمل خواہش پرستی ہوگی جس سے اللہ تعالیٰ ڈراتے ہیں ۔

اگلی آیت میں بعض خدشات اور پریشانیوں کو دور کیا جاتا ہے اور رسول خدا ﷺ کو تسلی دی جاتی ہے کہ اگر یہ لوگ شریعت کے بڑے احکام سے پہلے شریعت کے چھوٹے احکام نافذ کرنا پسند نہیں کرتے اور اگر یہ لوگ اسلام کو مکمل دین کے طور پر اختیار نہیں کرتے ۔ یا اسلامی شریعت کے مطابق اپنے فیصلے نہیں لے جاتے ۔ (یہ اس دور کی بات ہے جب شریعت کے مطابق فیصلے اختیاری تھے ابھی تک شریعت کا نظام حتمی طور پر نافذ نہ ہوا تھا ۔ جب دارالاسلام مکمل طور پر قائم ہوگیا تھا تو پھر شریعت کے مطابق فیصلے کرانا لازم کردیا گیا) تو پھر یہ لوگ اللہ کے عذاب کے لئے تیار رہیں ۔

(آیت) ” فان تولوا فاعلم انما یرید اللہ ان یصیبھم ببعض ذنوبھم وان کثیرا من الناس لفسقون (5 : 49)

” پھر اگر یہ اس سے منہ موڑیں تو جان لو کہ اللہ نے ان کے بعض گناہوں کی پاداش میں ان کو مبتلائے مصیبت کرنے کا ارادہ ہی کرلیا ہے ۔ اور یہ حقیقت ہے کہ ان لوگوں میں سے اکثر فاسق ہیں ۔

اگر یہ لوگ منہ پھیر لیں تو آپ پر کیا ذمہ داری ہے آپ اپنی جگہ شریعت کو پوری قوت کے ساتھ تھامے رہیں اور اللہ کے احکام نافذ کریں ۔ ان لوگوں کا اعراض اور روگردانی آپ کی گرفت کو ڈھیلا نہ کر دے اور آپ کو اپنے موقف سے ہٹا نہ دے ۔ یہ لوگ تو اعراض اس لئے کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے بعض گناہوں کی پاداش میں سخت مصیبت میں ڈالنے والے ہیں ۔ یہ اللہ کی اسکیم ہے کہ یہ لوگ برے نتائج کا شکار ہوں ‘ نہ آپ ‘ نہ اللہ کی شریعت اور نہ اللہ کا دین متاثر ہوگا اور نہ اسلامی محاذ متاثر ہوگا جس نے شریعت کو پوری طرح پکڑ رکھا ہے ۔ ہاں یہ بات انسان کی فطرت میں داخل ہے کہ لوگوں کی اکثریت فسق وفجور میں مبتلا رہتی ہے اس لئے وہ اسلام سے نکلتے ہیں اور منحرف ہوجاتے ہیں ۔ (آیت) ” وان کثیر من الناس لفسقون “۔ (5 : 49) بیشک لوگوں کی اکثریت فسق وفجور میں مبتلا رہتی ہے ۔ یہ لوگ اس طرح رہیں گے اور آپ اس صورت حال کو بدل نہیں سکتے ۔ اس میں شریعت کا بھی کوئی قصور نہیں ہے اور یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اکثریت کو راہ مستقیم پر استوار کردیا جائے ۔

اس طرح ایک مومن کے نفس کے اندر شیطان کی وسوسہ اندازی کے تمام راستے بند کردیئے جاتے ہیں اور ایک مومن اپنی راہ پر دلیل کے ساتھ چلتا ہے ۔ اسلامی شریعت اور اسلامی احکام میں سے کسی حکم کے چھوڑنے کا بھی سوال پیدا نہیں ہوتا ۔ یہ کام کسی دنیاوی غرض کے لئے بھی نہیں ہو سکتا ۔ اور نہ حالات میں سے کسی حال میں ہو سکتا ہے ۔

یہاں آکر قرآن کریم انسانوں کو دوراہئے پر لا کر کھڑا کردیتا ہے ۔ یا تو انہوں نے حکم اور قانون کی راہ اختیار کرنی ہوگی یا وہ جاہلیت کی راہ اپنائیں گے ۔ ان دوراہوں کے درمیان نہ تیسری راہ ہے اور نہ ان کے متبادل اور کوئی راہ ہے ۔ دنیا میں اللہ کے احکام نافذ ہوں گے اور لوگوں کی زندگی میں اسلامی شریعت نافذ ہوگی یعنی یا انسانیت کی قیادت اسلامی نظام کرے گا اور یا احکام جاہلیت نافذ ہوں گے ‘ قانون سرکشی نافذ ہوگا اور غلامی کا نظام جاری رہے گا ۔ اب اس دورا ہے پر لوگوں نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں ۔

Al-Maaida 5:49Listen in Qur'an →
50

أَفَحُكْمَ ٱلْجَٰهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ ٱللَّهِ حُكْمًۭا لِّقَوْمٍۢ يُوقِنُونَ

کیا یہ زمانہٴ جاہلیت کے حکم کے خواہش مند ہیں؟ اور جو یقین رکھتے ہیں ان کے لیے خدا سے اچھا حکم کس کا ہے؟

(آیت) ” افحکم الجاھلیۃ یبغون ، ومن احسن من اللہ حکما لقوم یوقنون “۔ (5 : 50)

(اگر یہ خدا کے قانون سے منہ موڑتے ہیں تو کیا پھر جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں ؟ حالانکہ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا اور کون ہو سکتا ہے)

یہاں یہ آیت جاہلیت کے مفہوم اور مدلوں کو متعین کردیتی ہے ۔ یہ اللہ کا قرآن ہے جو جاہلیت کے مفہوم کو متعین کردیتا ہے اور اس کے مطابق جاہلیت یہ ہے کہ مملکت میں انسان کی حکومت انسان پر چلے ۔ یہ دراصل انسانوں کی جانب سے انسانوں کی غلامی ہے ۔ اللہ کی حاکمیت کا انکار ہے اور اللہ کی حاکمیت کے نظریہ کو ترک کرنا ہے ۔ یہ انکار اور ترک اصل انسانوں کی حاکمیت کا اقرار ہے اور انسانوں کی بندگی اور پرستش ہے ۔

اس آیت کی روشنی میں جاہلیت کا تعلق زمان ومکان سے نہیں ہے بلکہ جاہلیت ایک صورت حال کا نام ہے جو کل بھی تھی ‘ آج بھی ہے اور کل بھی ہوگی ۔ لہذا جس چیز کی ممانعت ہے وہ یہ ہے کہ اسلامی نظام کے مطابلے میں جاہلی صورت حال نہ اختیار کی جائے جو اسلام سے متصادم ہے ۔

لوگوں کے مختلف حالات ہو سکتے ہیں اور ہر دور میں ‘ یا تو وہ اللہ کی شریعت کے مطابق عمل کریں گے ‘ ماسوائے اس کے کہ وہ اس کے کچھ اجزاء کو ترک کردیں یا پھر نظام شریعت کو مکمل طور پر تسلیم ورضا کے ساتھ قبول کریں گے ۔ ایسی صورت میں لوگ اللہ کے دین میں متصور ہوں گے ۔ یا وہ اپنے فیصلے کسی ایسے قانون کے مطابق کر رہے ہوں جو انسانوں کا بنایا ہوا ہوتا ہے ‘ چاہے اس کی جو شکل و صورت بھی ہو ‘ اور وہ اسے قبول کریں گے لہذا یہ لوگ ان لوگوں کے دین کے اندر متصور ہوں گے ‘ جن کے قانون کو یہ لوگ مانتے ہیں ۔ ایسے حالات میں یہ لوگ ہر گز دین اسلام میں داخل نہ ہوں گے ۔ جو شخص اللہ کے حکم کے مطابق فیصلے نہیں کراتا وہ دراصل جاہلیت کے مطابق فیصلے کراتا ہے اور جو شخص اللہ کی شریعت کا انکار کرتا ہے ‘ وہ دراصل جاہلیت کی شریعت چاہتا ہے اور جاہلیت میں بستا ہے ۔

یہ ہے ایک دوراہہ جس پر اللہ تعالیٰ کو لا کر کھڑا کردیتا ہے اور اس کے بعد لوگوں کو اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ جس راہ پر جانا چاہیں اس راہ کو اختیار کرلیں ۔

اس کے بعد ذرا درشت نظروں کے ساتھ دیکھ کر پوچھا جاتا ہے ان لوگوں سے جو جاہلیت کے مطابق فیصلے کرانا چاہتے ہیں ۔ یہ استفہام انکاری ہے لیکن سوالیہ انداز میں احکام الہی کی برتری کا فیصلہ کردیا جاتا ہے ۔

(آیت) ” ومن احسن من اللہ حکما لقوم یوقنون “۔ (5 : 50) (حالانکہ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا اور کون ہو سکتا ہے ؟ ) ۔۔۔۔۔ ہاں یہ بالکل درست ہے کہ اللہ کے قانون اور احکام کے علاوہ اور کوئی قانون اور حکم نہیں ہے کون ہے جو یہ دعوی کرسکتا ہے کہ وہ لوگوں کا قانون ساز ہے ۔ یا وہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں زیادہ اچھا قانون بنا سکتا ہے ۔ وہ اس عظیم دعوے کے حق میں کیا دلیل رکھتا ہے ۔

کیا کوئی یہ دعوی کرسکتا ہے کہ وہ لوگوں کے خالق کے مقابلے میں لوگوں کے بارے میں زیادہ جاننے والا ہے کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ ہو لوگوں کے رب کے مقابلے میں ان کا زیادہ ہمدرد ہے اور کوئی ہے جو یہ کہہ سکتا ہو کہ وہ الہ العالمین کے مقابلے میں لوگوں کی مصلحتوں سے زیادہ باخبر ہے ؟ کیا کوئی یہ کہنے کی جرات کرسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو لوگوں کے لئے آخری شریعت بنا رہا تھا ‘ جو اپنے رسول ﷺ کو خاتم النبین بنا رہا تھا ‘ جو انکی رسالت کو خاتم الرسالات بنا رہا تھا اور ان کی شریعت کو شریعت ابدی بنا رہا تھا کیا اللہ قیامت تک آنے والے حالات میں سے کسی حال سے بیخبر تھا کہ ایسا حال بھی آئے گا ۔ کیا وہ اس سے بیخبر تھا کہ لوگوں کی نئی نئی ضروریات پیدا ہوں گی ‘ نئے حالات پیدا ہوں گے اور اللہ نے اس قانوں سازی میں ان کا کوئی خیال نہ رکھا ۔ مطلب پھر یہ ہوگا کہ اللہ کو ان حالات کا علم نہ …

Al-Maaida 5:50Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.