فَبَعَثَ ٱللَّهُ غُرَابًۭا يَبْحَثُ فِى ٱلْأَرْضِ لِيُرِيَهُۥ كَيْفَ يُوَٰرِى سَوْءَةَ أَخِيهِ ۚ قَالَ يَٰوَيْلَتَىٰٓ أَعَجَزْتُ أَنْ أَكُونَ مِثْلَ هَٰذَا ٱلْغُرَابِ فَأُوَٰرِىَ سَوْءَةَ أَخِى ۖ فَأَصْبَحَ مِنَ ٱلنَّٰدِمِينَ
اب خدا نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کریدنے لگا تاکہ اسے دکھائے کہ اپنے بھائی کی لاش کو کیونکر چھپائے کہنے لگا اے ہے مجھ سے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ اس کوے کے برابر ہوتا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا پھر وہ پشیمان ہوا
سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :51
اس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک کوے کے ذریعہ سے آدم کے اس غلط کار بیٹے کو اس کی جہالت و نادانی پر متنبہ کیا ، اور جب ایک مرتبہ اس کو اپنے نفس کی طرف توجہ کرنے کا موقع مل گیا تو اس کی ندامت صرف اسی بات تک محدود نہ رہی کہ وہ لاش چھپانے کی تدبیر نکالنے میں کوے سے پیچھے کیوں رہ گیا ، بلکہ اس کو یہ بھی احساس ہونے لگا کہ اس نے اپنے بھائی کو قتل کر کے کتنی بڑی جہالت کا ثبوت دیا ہے ۔ بعد کا فقرہ کہ وہ اپنے کیے پر پچھتایا ، اسی مطلب پر دلالت کر تا ہے ۔
سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :52
یہاں اس واقعہ کا ذکر کرنے سے مقصد یہودیوں کو ان کی اس سازش پر لطیف طریقہ سے ملامت کرنا ہے جو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابہ کو قتل کرنے کے لیے کی تھی ( ملاحظہ ہو اسی سورۃ کا حاشیہ نمبر ۳۰ ) ۔ دونوں واقعات میں مماثلت بالکل واضح ہے ۔ یہ بات کہ اللہ تعالیٰ نے عرب کے ان امیوں کو قبولیت کا درجہ عطا فرمایا اور ان پرانے اہل کتاب کو رد کر دیا ، سراسر اس بنیاد پر تھی کہ ایک طرف تقویٰ تھا اور دوسری طرف تقویٰ نہ تھا ۔ لیکن بجائے اس کے کہ وہ لوگ جنہیں رد کر دیا گیا تھا ، اپنے مردود ہونے کی وجہ پر غور کرتے اور اس قصور کی تلافی کرنے پر مائل ہوتے جس کی وجہ سے وہ رد کیے گئے تھے ، ان پر ٹھیک اسی جاہلیت کا دورہ پڑ گیا جس میں آدم علیہ السلام کا وہ غلط کار بیٹا مبتلا ہوا تھا ، اور اسی کی طرح وہ ان لوگوں کے قتل پر آمادہ ہو گئے جنہیں خدا نے قبولیت عطا فرمائی تھی ۔ حالانکہ ظاہر تھا کہ ایسی جاہلانہ حرکتوں سے وہ خدا کے مقبول نہ ہو سکتے تھے ، بلکہ یہ کرتوت انہیں اور زیادہ مردود بنا دینے والے تھے ۔