جرم و سزا کے چند قرآنی ضابطے - اِنَّمَا جَزٰۗؤ ُ ا الَّذِيْنَ يُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَيَسْعَوْنَ فِي الْاَرْضِ فَسَادً ۔- خلاصہ تفسیر - جو لوگ اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لڑتے ہیں اور (اس لڑنے کا مطلب یہ ہے کہ) ملک میں فساد (یعنی بدامنی) پھیلاتے پھرتے ہیں ( مراد اس سے رہزنی یعنی ڈکیتی ہے، ایسے شخص پر جس کو اللہ نے قانون شرعی سے جس کا اظہار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعہ سے ہوا ہے امن دیا ہو یعنی مسلمان پر اور ذمی پر، اور اسی لئے اس کو اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لڑنا کہا گیا ہے، کہ اس نے اللہ کے دئیے ہوئے امن کو توڑا، اور چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعہ سے اس کا ظہور ہوا اس لئے رسول کا تعلق بھی بڑھا دیا غرض جو لوگ ایسی حرکت کرتے ہیں) ان کی یہی سزا ہے کہ (ایک حالت میں تو) قتل کئے جائیں ( وہ حالت یہ ہے کہ ان رہزنوں نے کسی کو صرف قتل کیا ہو اور مال لینے کی نوبت نہ آئی ہو) یا (اگر دوسری حالت ہوئی ہو تو) سولی دیئے جائیں (یہ وہ حالت ہے کہ انہوں نے مال بھی لیا ہو اور قتل بھی کیا ہو) یا (اگر تیسری حالت ہوئی ہو تو) ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف جانب سے (یعنی داہنا ہاتھ بایاں پاؤ ں) کاٹ دیئے جائیں (یہ وہ حالت ہے کہ صرف مال لیا قتل نہ کیا ہو) یا (اگر چوتھی حالت ہوئی ہو تو) زمین پر (آزادانہ آباد رہنے) سے نکال (کر جیل میں بھیج) دیئے جائیں (یہ وہ حالت ہے کہ نہ مال لیا ہو نہ قتل کیا ہو قصد کرنے کے بعد ہی گرفتار ہوگئے ہوں) یہ (سزائے مذکور تو) ان کے لئے دنیا میں سخت رسوائی (اور ذلت) ہے، اور ان کو آخرت میں (جو) عذاب عظیم ہوگا (سو الگ) ہاں مگر جو لوگ قبل اس کے کہ تم ان کو گرفتار کرو توبہ کرلیں تو (اس حالت میں) جان لو کہ بیشک اللہ تعالیٰ (اپنے حقوق) بخش دیں گے (اور توبہ قبول کرنے میں) مہربانی فرما دیں گے (مطلب یہ کہ اوپر جو سزا مذکور ہوئی ہے، وہ حد اور حق اللہ کے طور پر ہے جو کہ بندہ کے معاف کرنے سے معاف نہیں ہوتی قصاص و حق العبد کے طور پر نہیں جو کہ بندہ کے معاف کرنے سے معاف ہوجاتا ہے، پس جب کہ قبل گرفتاری کے ان لوگوں کا تائب ہونا ثابت ہوجاوے تو حد ساقط ہوجاوے گی، جو کہ حق اللہ تھا، البتہ حق العبد باقی رہے گا، پس اگر مال لیا ہوگا تو اس کا ضمان دینا ہوگا، اور اگر قتل کیا ہوگا تو اس کا قصاص لیا جاوے گا، لیکن اس ضمان و قصاص کے معاف کرنے کا حق صاحب مال و ولی مقتول کو حاصل ہوگا) ۔ - معارف و مسائل - قرآنی قوانین کا عجیب و غریب انقلابی اسلوب - پہلی آیتوں میں ہابیل کا واقعہ قتل اور اس کا جرم عظیم ہونا مذکور تھا، مذکورہ آیات میں اور ان کے بعد قتل و غارت گری، ڈاکہ زنی اور چوری کی شرعی سزاؤں کا بیان ہے، ڈاکہ اور چوری کی سزاؤں کے درمیان خوف خدا اور بذریعہ طاعات اس کا قرب حاصل کرنے کی تلقین ہے، قرآن کریم کا یہ اسلوب نہایت لطیف طریقہ پر ذہنی انقلاب پیدا کرنے والا ہے، کہ وہ دنیا کی تعزیرات کی کتابوں کی طرح صرف جرم و سزا کے بیان پر کفایت نہیں کرتا، بلکہ ہر جرم و سزا کے ساتھ خوف خدا و آخرت مستحضر کرکے انسان کا رخ ایک ایسے عالم کی طرف موڑ دیتا ہے، جس کا تصور اس کو ہر عیب و گناہ سے پاک کردیتا ہے، اور اگر حالات و واقعات پر غور کیا جائے تو ثابت ہوگا کہ خوف خدا و آخرت کے بغیر دنیا کا کوئی قانون، پولیس اور فوج دنیا میں انسداد جرائم کی ضمانت نہیں دے سکتی، قرآن کریم کا یہی اسلوب حکیمانہ اور مربّیانہ طرز ہے، جس نے دنیا میں انقلاب برپا کیا، اور ایسے انسانوں کا ایک معاشرہ پیدا کیا جو اپنے تقدس میں فرشتوں سے بھی اونچا مقام رکھتے ہیں۔- شرعی سزاؤں کی تین قسمیں - ڈاکہ اور چوری کی شرعی سزائیں جن کا ذکر آیات مذکورہ میں ہے، ان کی تفصیل اور متعلقہ آیات کی تفسیر بیان کرنے سے پہلے مناسب ہے کہ ان …