Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 31–40 of 120

31

فَبَعَثَ ٱللَّهُ غُرَابًۭا يَبْحَثُ فِى ٱلْأَرْضِ لِيُرِيَهُۥ كَيْفَ يُوَٰرِى سَوْءَةَ أَخِيهِ ۚ قَالَ يَٰوَيْلَتَىٰٓ أَعَجَزْتُ أَنْ أَكُونَ مِثْلَ هَٰذَا ٱلْغُرَابِ فَأُوَٰرِىَ سَوْءَةَ أَخِى ۖ فَأَصْبَحَ مِنَ ٱلنَّٰدِمِينَ

اب خدا نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کریدنے لگا تاکہ اسے دکھائے کہ اپنے بھائی کی لاش کو کیونکر چھپائے کہنے لگا اے ہے مجھ سے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ اس کوے کے برابر ہوتا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا پھر وہ پشیمان ہوا

فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا يَّبْحَثُ فِي الْاَرْضِ : اور نقل میں یوں آیا ہے کہ ایک کوے نے زمین کھود کر دوسرے کوے کو دفن کیا، اس نے کوے کی خیر خواہی دوسرے کوے کے لیے دیکھی تو اپنے فعل پر پشیمان ہوا۔ (موضح) مگر یہ اسرائیلی روایات سے ماخوذ ہے، قرآن کے ظاہر الفاظ سے جو چیز معلوم ہوتی ہے وہ یہی ہے کہ اسے زمین کریدتے دیکھا تو اس نے سمجھ لیا کہ اسے دفن کردینا چاہیے۔ (قرطبی) - فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِيْنَ : یعنی بھائی کے مرنے پر، پھر اسے ٹھکانے لگانے کی بات جلد سمجھ میں نہ آنے پر پشیمان ہوا، کیونکہ اگر وہ اپنے فعل پر پشیمان ہوتا اور توبہ کرتا تو گناہ معاف ہوجاتا اور دنیا میں جو قتل ہوتے ہیں ان کا گناہ اس پر نہ ہوتا۔ (قرطبی)

Al-Maaida 5:31Listen in Qur'an →
32

مِنْ أَجْلِ ذَٰلِكَ كَتَبْنَا عَلَىٰ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ أَنَّهُۥ مَن قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ ٱلنَّاسَ جَمِيعًۭا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَآ أَحْيَا ٱلنَّاسَ جَمِيعًۭا ۚ وَلَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِٱلْبَيِّنَٰتِ ثُمَّ إِنَّ كَثِيرًۭا مِّنْهُم بَعْدَ ذَٰلِكَ فِى ٱلْأَرْضِ لَمُسْرِفُونَ

اس قتل کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ حکم نازل کیا کہ جو شخص کسی کو (ناحق) قتل کرے گا (یعنی) بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے یا ملک میں خرابی کرنے کی سزا دی جائے اُس نے گویا تمام لوگوں کو قتل کیا اور جو اس کی زندگانی کا موجب ہوا تو گویا تمام لوگوں کی زندگانی کا موجب ہوا اور ان لوگوں کے پاس ہمارے پیغمبر روشن دلیلیں لا چکے ہیں پھر اس کے بعد بھی ان سے بہت سے لوگ ملک میں حدِ اعتدال سے نکل جاتے ہیں

مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ ۃ كَتَبْنَا عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ : دیکھیے اس سے پہلے آیت (٢٧) کا حاشیہ (٣) حسن بصری (رح) نے فرمایا کہ یہ حکم صرف بنی اسرائیل کے لیے نہیں ہے بلکہ سب لوگوں کے لیے ہے، کیونکہ بنی اسرائیل کے خون دوسرے مسلمانوں کے خون سے زیادہ قیمتی نہ تھے۔ (ابن کثیر)- وَمَنْ اَحْيَاهَا فَكَاَنَّمَآ : یعنی اگر ایک شخص کو مرنے سے بچا لے گا تو اس کا ثواب اتنا ہے گویا سب کو بچا لیا۔

Al-Maaida 5:32Listen in Qur'an →
33

إِنَّمَا جَزَٰٓؤُا۟ ٱلَّذِينَ يُحَارِبُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَسْعَوْنَ فِى ٱلْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوٓا۟ أَوْ يُصَلَّبُوٓا۟ أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَٰفٍ أَوْ يُنفَوْا۟ مِنَ ٱلْأَرْضِ ۚ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْىٌۭ فِى ٱلدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِى ٱلْءَاخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ

جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں ان کی یہی سزا ہے کہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں یا ملک سے نکال دیئے جائیں یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا (بھاری) عذاب تیار ہے

اِنَّمَا جَزٰۗؤُا الَّذِيْنَ ۔۔ : یہ آیت محاربہ کہلاتی ہے، مراد وہ لوگ ہیں جو اس حکومت کے خلاف بغاوت کرتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے احکام نافذ کرنے والی ہے اور اسلام کی سرزمین میں ڈاکا ڈالتے، لوٹ مار کرتے، فساد پھیلانے کی کوشش کرتے اور قتل و غارت کا بازار گرم کرتے ہیں۔ حاکم وقت ان چار سزاؤں میں سے کوئی بھی سزا انھیں دے سکتا ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ صرف اسی کو قتل کیا جائے گا جس نے قتل کیا ہو اور اتنی ہی سزا دی جائے گی جتنا اس کا جرم ہوگا، مگر آیت کے صریح الفاظ اس کی موافقت نہیں کرتے، بلکہ ان لوگوں کا حکم حربیوں ( جنگ کرنے والوں) کا ہے، حاکم وقت ان سزاؤں میں سے جو چاہے سزا دے سکتا ہے، عام اس سے کہ مشرک ہوں یا یہودی یا باغی مسلمان ہوں۔ - اَنْ يُّقَتَّلُوْٓا : باب تفعیل کی وجہ سے معنی میں زیادتی کے اظہار کے لیے ترجمہ میں ” بری طرح “ کا اضافہ کیا گیا ہے، اسی طرح ” اَوْ يُصَلَّبُوْٓا ‘ اور ” اَوْ تُـقَطَّعَ اَيْدِيْهِمْ “ میں بھی باب کا خیال رکھا گیا ہے۔ - اکثر مفسرین کے نزدیک یہ آیت عکل اور عرینہ کے ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن کا قصہ انس (رض) نے یوں بیان کیا ہے کہ یہ لوگ مسلمان ہو کر مدینہ منورہ آئے، لیکن وہاں کی آب و ہوا انھیں موافق نہ آئی اور وہ بیمار ہوگئے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں مدینہ سے باہر صدقہ کے اونٹوں میں رہنے کا حکم دیا کہ ان کا دودھ اور پیشاب (ملا کر) پییں۔ یہ لوگ وہاں چلے گئے، تندرست ہونے کے بعد وہ اسلام سے پھرگئے اور چرواہے (یسارنوبی) کو قتل کر کے اونٹ ہانک کرلے گئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے تعاقب میں سوار بھیجے جو انھیں پکڑ کر مدینہ منورہ لے آئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالے جائیں اور ان کی آنکھوں میں لوہے کی گرم سلائیاں پھیری جائیں، پھر انھیں دھوپ میں پھینک دیا گیا، یہاں تک کہ سب مرگئے۔ [ بخاری، الجہاد والسیر، باب اذا حرق المشرک المسلم ھل یحرق : ٣٠١٨۔ مسلم : ١٦٧١ ] مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ آپ نے گرم سلائیاں پھیرنے کا حکم اس لیے دیا تھا کہ انھوں نے چرواہے کے ساتھ یہ سلوک کیا تھا۔ [ مسلم، القسامۃ والمحاربین، باب حکم المحاربین و المرتدین : ١٤؍١٦٧١ ]

Al-Maaida 5:33Listen in Qur'an →
34

إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُوا۟ مِن قَبْلِ أَن تَقْدِرُوا۟ عَلَيْهِمْ ۖ فَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

ہاں جن لوگوں نے اس سے پیشتر کہ تمہارے قابو میں آ جائیں توبہ کر لی تو جان رکھو کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے

اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا۔۔ : یعنی ایسے لوگوں کا قصور معاف کردیا جائے گا اور انھیں مذکورہ سزائیں نہیں دی جائیں گی، کیونکہ ان کا گرفتار ہونے سے پہلے از خود اپنے آپ کو حوالے کردینا یہ معنی رکھتا ہے کہ انھوں نے اپنے جرائم سے توبہ کرلی ہے، لیکن پھر اس بات میں اختلاف ہے کہ سزاؤں کی معافی کے ساتھ انھوں نے قتل کر کے یا مال لوٹ کر یا آبروریزی کر کے بندوں پر جو دست درازی کی ہے یہ جرائم بھی معاف ہوجائیں گے یا ان کا بدلہ لیا جائے گا ؟ بعض علماء کے نزدیک یہ معاف نہیں ہوں گے، ان کا قصاص لیا جائے گا۔ ابن کثیر اور شوکانی کا رجحان اس طرف ہے کہ مطلقاً انھیں معاف کردیا جائے گا، انھوں نے آیت کے ظاہر الفاظ کا تقاضا یہی بتایا ہے، البتہ گرفتاری کے بعد توبہ سے جرائم معاف نہیں ہوں گے، وہ مستحق سزا ہوں گے۔ (فتح القدیر، ابن کثیر)

Al-Maaida 5:34Listen in Qur'an →
35

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَٱبْتَغُوٓا۟ إِلَيْهِ ٱلْوَسِيلَةَ وَجَٰهِدُوا۟ فِى سَبِيلِهِۦ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

اے ایمان والو! خدا سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تلاش کرتے رہو اور اس کے رستے میں جہاد کرو تاکہ رستگاری پاؤ

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ ۔۔ : یعنی رسول کی اطاعت میں جو نیکی کرو وہ قبول ہے ( کیونکہ اللہ کے قرب کے حصول کے لیے اب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کے سوا کوئی وسیلہ نہیں) اور بغیر اس کے عقل سے کرو سو ( وہ) قبول نہیں۔ (موضح) لفظ ” الوَسِیْلَۃٌ“ یہ ” تَوَسَّلْتُ إِلَیْہِ “ سے ” فَعِیْلَۃٌ“ کے وزن پر ہے۔ اس کی جمع ” وَسَاءِلُ “ آتی ہے، اس کا لفظی معنی قرب ہے، مراد ہر وہ چیز ہے جس سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو۔ اس آیت میں اللہ کے تقوے کا اور اس کا قرب حاصل کرنے کا حکم دینے کے بعد جہاد کا حکم دیا، معلوم ہوا کہ اللہ کا تقویٰ اور اس کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ اس کی راہ میں جہاد ( سرتوڑ کوشش خصوصاً قتال) ہے۔ اس مقصد کے لیے کسی زندہ شخص سے دعا کروانا بھی جائز ہے، مگر کسی زندہ یا مردہ کا نام لے کر کہنا کہ یا اللہ فلاں کے وسیلے یا طفیل ہماری دعا قبول فرما، نہ قرآن سے ثابت ہے نہ صحیح حدیث سے، ہاں اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا واسطہ دے کر یا اپنا کوئی خالص عمل پیش کر کے دعا کرسکتا ہے، یہ قرآن و سنت سے ثابت ہے۔ وسیلہ ایک مقام کا نام بھی ہے، اس میں بھی قرب کا معنی ہی ملحوظ ہے۔ عمرو بن عاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا : ” جب تم مؤذن کو سنو تو اسی طرح کہو جس طرح وہ کہتا ہے، پھر مجھ پر درود بھیجو، جس نے مجھ پر ایک بار درود پڑھا اللہ تعالیٰ اس پر دس بار رحمت نازل فرمائے گا، پھر میرے لیے وسیلے کی دعا کرو، وسیلہ جنت کا وہ مقام ہے جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک ہی کو نصیب ہوگا اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہوں گا، لہٰذا جس نے میرے لیے وسیلے کی دعا کی تو اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوجائے گی۔ “ [ مسلم، الصلاۃ، باب استحباب القول مثل قول المؤذن۔۔ : ٣٨٤ ] اللہ کا قرب (وسیلہ) اتنی بڑی نعمت ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے جتنا قریب ہے اس سے مزید قرب کی دعا اور کوشش کرتا ہے۔ دیکھیے بنی اسرائیل (٥٧) ۔- لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ : یہود کو اپنے نسب پر فخر تھا اور وہ اسی خوش فہمی میں ہر قسم کے جرائم کا ارتکاب کرتے رہتے تھے اور اپنے آپ کو اللہ کا محبوب سمجھتے تھے، جیسا کہ اوپر کی آیات میں گزر چکا ہے۔ اب اس آیت میں مسلمانوں کو تعلیم دی ہے کہ تم اگرچہ بہتر امت ہو اور تمہارا نبی بھی سب سے افضل ہے، مگر تمہیں چاہیے کہ نیک اعمال کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرو، تاکہ آخرت میں فلاح حاصل کرسکو، یعنی یہود کی طرح بد عمل نہ بنو۔ (کبیر)

Al-Maaida 5:35Listen in Qur'an →
36

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَوْ أَنَّ لَهُم مَّا فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًۭا وَمِثْلَهُۥ مَعَهُۥ لِيَفْتَدُوا۟ بِهِۦ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

جو لوگ کافر ہیں اگر ان کے پاس روئے زمین (کے تمام خزانے اور اس) کا سب مال ومتاع ہو اور اس کے ساتھ اسی قدر اور بھی ہو تاکہ قیامت کے روز عذاب (سے رستگاری حاصل کرنے) کا بدلہ دیں تو ان سے قبول نہیں کیا جائے گا اور ان کو درد دینے والا عذاب ہوگا

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ ۔۔ : سورة آل عمران کی آیت (٩١) اس کی ہم معنی ہے، انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس شخص سے کہے گا جسے آگ والوں میں سے سب سے ہلکا عذاب ہوگا : ” اگر زمین میں جو بھی چیز ہے تمہاری ہو تو کیا تم اپنی جان چھڑانے کے لیے وہ دے دو گے ؟ “ وہ کہے گا : ” ہاں “ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ” میں نے تم سے اس سے کہیں زیادہ آسان چیز کا مطالبہ کیا تھا جب تو آدم کی پشت میں تھا کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنانا، مگر تو میرے ساتھ شریک بنائے بغیر مانا ہی نہیں۔ “ [ بخاری، الرقاق، باب صفۃ الجنۃ والنار : ٦٥٥٧ ]

Al-Maaida 5:36Listen in Qur'an →
37

يُرِيدُونَ أَن يَخْرُجُوا۟ مِنَ ٱلنَّارِ وَمَا هُم بِخَٰرِجِينَ مِنْهَا ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌۭ مُّقِيمٌۭ

(ہر چند) چاہیں گے کہ آگ سے نکل جائیں مگر اس سے نہیں نکل سکیں گے اور ان کے لئے ہمیشہ کا عذاب ہے

يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَمَا هُمْ بِخٰرِجِيْنَ مِنْهَا ۡ: یہ آیت کفار کے بارے میں ہے، جیسا کہ اوپر کی آیت میں ان کا صاف ذکر کیا گیا ہے، رہے گناہ گار مسلمان تو صحیح احادیث میں ہے کہ انھیں گناہوں کی سزا بھگت لینے کے بعد جہنم سے نکال لیا جائے گا۔ سورة حج کی آیت (٢٢) اس کی ہم معنی ہے۔

Al-Maaida 5:37Listen in Qur'an →
38

وَٱلسَّارِقُ وَٱلسَّارِقَةُ فَٱقْطَعُوٓا۟ أَيْدِيَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَٰلًۭا مِّنَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌۭ

اور جو چوری کرے مرد ہو یا عورت ان کے ہاتھ کاٹ ڈالو یہ ان کے فعلوں کی سزا اور خدا کی طرف سے عبرت ہے اور خدا زبردست (اور) صاحب حکمت ہے

وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْٓا اَيْدِيَهُمَا۔۔ : اوپر کی آیت میں محاربین ( جو لوٹ مار کرتے اور فساد پھیلاتے ہیں) کی سزا بیان ہوئی تھی، اب اس آیت میں چوری کی حد (قانونی سزا) بیان فرمائی کہ مرد ہو یا عورت ان کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں۔ حدیث میں اس کی تفصیل ہے، عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” چور کا ہاتھ نہ کاٹا جائے مگر دینار کے ایک چوتھائی یا زیادہ میں۔ “ [ مسلم، الحدود، باب حد السرقۃ و نصابھا : ٢؍١٦٨٤ ] - چور کو حاکم کے پاس لے جانے سے پہلے معاف کیا جاسکتا ہے، بعد میں نہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک چور کو لایا گیا جس نے ایک چادر چرائی تھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا۔ چادر کے مالک صفوان (رض) نے کہا : ” اے اللہ کے رسول میرا ارادہ یہ نہیں تھا (کہ اس کا ہاتھ کٹوا دوں) میری چادر اس پر صدقہ ہے۔ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تو نے اسے میرے پاس لانے سے پہلے کیوں (یہ صدقہ) نہ کیا ؟ “ [ ابن ماجہ، الحدود، باب من سرق من الحرز : ٢٥٩٥ قال الالبانی صحیح ] بعض لوگوں نے چوری کی حد باطل کرنے کے لیے بہت سے حیلے ایجاد کیے ہیں، ان میں سے دو حیلے ایسے ہیں جن کی موجودگی میں کسی چور کا ہاتھ کاٹا ہی نہیں جاسکتا۔ ایک یہ کہ عدالت میں جانے کے بعد مال مسروقہ کا مالک چور کو چرائی ہوئی چیز ہبہ کردے، یا اس کے ہاتھ بیچ دے تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا حالانکہ یہ صحیح حدیث کے صریح خلاف ہے۔ دوسرا یہ کہ چور پر شہادتوں کے ساتھ چوری کا جرم ثابت ہوجائے تو چور دعویٰ کر دے کہ مال مسروقہ میرا مال ہے، تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، خواہ وہ اپنی ملکیت کی کوئی دلیل پیش نہ کرے۔ یہ حیلہ لکھنے والے نے اس پر لکھا ہے کہ مخالف کی طرف سے اس پر اعتراض ہوتا ہے کہ اس طرح تو کوئی چور بھی جھوٹا دعویٰ کرنے سے عاجز نہیں، ہر چور ہی مالک ہونے کا دعویٰ کر دے گا اور چوری کی حد سرے سے ختم ہوجائے گی۔ اس کا جواب اس نے یہ دیا ہے کہ یہ بات صرف علماء کو معلوم ہے، چوروں کو معلوم نہیں، اس لیے حد ختم ہونے کی کوئی فکر نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے حیلوں کی وجہ سے بھی مسلم حکومتوں میں حدود اللہ ختم ہوئیں جس کے نتیجے میں ظلم و ستم حد سے بڑھے، پھر اغیار مسلمانوں پر مسلط ہوگئے، اس کا علاج دوبارہ حدود اللہ کا صحیح نفاذ ہے۔ - جَزَاۗءًۢ بِمَا كَسَـبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ : یہ اس کے گناہ کی سزا بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے عبرت بھی کہ وہ تمام عمر لوگوں کے لیے چوری سے رکنے کا باعث اور یاددہانی بنا رہے گا کہ چور کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے۔ اگر اسے قتل بھی کردیا جاتا تو یہ عبرت حاصل نہیں ہوسکتی تھی۔

Al-Maaida 5:38Listen in Qur'an →
39

فَمَن تَابَ مِنۢ بَعْدِ ظُلْمِهِۦ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ ٱللَّهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌ

اور جو شخص گناہ کے بعد توبہ کرے اور نیکوکار ہو جائے تو خدا اس کو معاف کر دے گا کچھ شک نہیں کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے

فَمَنْ تَابَ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ وَاَصْلَحَ ۔۔ : یہاں ظلم سے مراد چوری ہے، یعنی جس نے چوری کے بعد توبہ کر کے اپنی اصلاح کرلی اللہ تعالیٰ اس کا گناہ معاف فرما دے گا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ توبہ کرلینے سے چوری کی حد اس سے ساقط ہوجائے گی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک چور کے متعلق فرمایا : ” اسے لے جاؤ، اس کا ہاتھ کاٹ دو ، پھر اسے داغ دو ، پھر میرے پاس لاؤ۔ “ الغرض اس کا ہاتھ کاٹا گیا، پھر وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا گیا، آپ نے اس سے فرمایا : ” اللہ سے توبہ کرو۔ “ اس نے کہا : ” میں اللہ سے توبہ کرتا ہوں۔ “ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اللہ تیری توبہ قبول کرے۔ “ [ مستدرک حاکم : ٤؍٣٨١، ح : ٨١٥٠ و صححہ و قال صاحب نیل الأوطار سندہ صحیح ] یہ تو بالکل صحیح ہے کہ حدود صرف گناہ سے روکنے کے لیے نہیں بلکہ اس گناہ کا کفارہ بھی ہیں، ان سے وہ گناہ معاف ہوجاتا ہے مگر ساتھ توبہ بھی ضروری ہے، تاکہ آئندہ وہ یہ حرکت نہ کرے۔ ہاں کوئی شخص چوری کرے اور اس کا کسی کو پتا نہ چلے، یا چوری کے مال کا مالک اسے عدالت میں نہ لے جائے تو اس کے لیے توبہ و استغفار ہی کافی ہے۔

Al-Maaida 5:39Listen in Qur'an →
40

أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ ٱللَّهَ لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ يُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ وَيَغْفِرُ لِمَن يَشَآءُ ۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ

کیا تم کو معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں خدا ہی کی سلطنت ہے؟ جس کو چاہے عذاب کرے اور جسے چاہے بخش دے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ۔۔ : یہ اس لیے فرمایا کہ کوئی تعجب نہ کرے کہ چور کو تھوڑی خطا پر بڑی سزا فرمائی۔ (موضح) اس آیت کا خطاب تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہے لیکن مراد تمام لوگ ہیں، یا ہر شخص سے خطاب ہے۔ (فتح البیان) یعنی اللہ تعالیٰ کے ہاں سے کسی کو رعایت نہیں مل سکتی، جو بھی جرم کرے گا اسے سزا ملے گی، اس معاملے میں کسی بڑے مرتبے والے کو چھوٹے پر فوقیت نہیں، یا یہ کہ اللہ تعالیٰ جس جرم پر جو سزا چاہے مقرر فرما دے، اسے مخلوق پر کل اختیار ہے۔ (قرطبی) ایک ملحد شاعر ابو العلاء معری نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر اعتراض کیا کہ دیکھیے ایک ہاتھ جس کی دیت پچاس اونٹ تھی، وہ چوتھائی دینار کی حقیر مالیت پر کاٹ دیا گیا، یہ عجیب تناقض ہے، پھر قرآن پر اعتراض کی وجہ سے گرفتاری سے بچنے کے لیے بھاگ گیا۔ چناچہ بہت سے علماء نے اس کا جواب لکھا، قاضی عبد الوہاب نے کہا : ” لَمَّا کَانَتْ اَمِیْنَۃً کَانَتْ ثَمِیْنَۃً فَلَمَّا خَانَتْ ھَانَتْ “ ” جب تک ہاتھ امین تھا قیمتی تھا جب خیانت کی تو بےقدر ہوگیا۔ “ (ابن کثیر) سزاؤں کا ایک مقصد گناہوں سے روکنا بھی ہے، ہاتھ کاٹنے سے روکنے کے لیے ہاتھ کی دیت زیادہ رکھنا ضروری تھا، تاکہ لوگ کسی کا ہاتھ کاٹنے سے بچیں اور چوری سے روکنے کے لیے ہاتھ کاٹنے کا نصاب کم مقرر کرنا ضروری تھا، تاکہ لوگ چوری سے بچیں۔

Al-Maaida 5:40Listen in Qur'an →

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.