Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 31–40 of 120

31

فَبَعَثَ ٱللَّهُ غُرَابًۭا يَبْحَثُ فِى ٱلْأَرْضِ لِيُرِيَهُۥ كَيْفَ يُوَٰرِى سَوْءَةَ أَخِيهِ ۚ قَالَ يَٰوَيْلَتَىٰٓ أَعَجَزْتُ أَنْ أَكُونَ مِثْلَ هَٰذَا ٱلْغُرَابِ فَأُوَٰرِىَ سَوْءَةَ أَخِى ۖ فَأَصْبَحَ مِنَ ٱلنَّٰدِمِينَ

اب خدا نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کریدنے لگا تاکہ اسے دکھائے کہ اپنے بھائی کی لاش کو کیونکر چھپائے کہنے لگا اے ہے مجھ سے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ اس کوے کے برابر ہوتا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا پھر وہ پشیمان ہوا

Explained together with ayah 27

Al-Maaida 5:31Listen in Qur'an →
32

مِنْ أَجْلِ ذَٰلِكَ كَتَبْنَا عَلَىٰ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ أَنَّهُۥ مَن قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ ٱلنَّاسَ جَمِيعًۭا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَآ أَحْيَا ٱلنَّاسَ جَمِيعًۭا ۚ وَلَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِٱلْبَيِّنَٰتِ ثُمَّ إِنَّ كَثِيرًۭا مِّنْهُم بَعْدَ ذَٰلِكَ فِى ٱلْأَرْضِ لَمُسْرِفُونَ

اس قتل کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ حکم نازل کیا کہ جو شخص کسی کو (ناحق) قتل کرے گا (یعنی) بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے یا ملک میں خرابی کرنے کی سزا دی جائے اُس نے گویا تمام لوگوں کو قتل کیا اور جو اس کی زندگانی کا موجب ہوا تو گویا تمام لوگوں کی زندگانی کا موجب ہوا اور ان لوگوں کے پاس ہمارے پیغمبر روشن دلیلیں لا چکے ہیں پھر اس کے بعد بھی ان سے بہت سے لوگ ملک میں حدِ اعتدال سے نکل جاتے ہیں

Explained together with ayah 27

Al-Maaida 5:32Listen in Qur'an →
33

إِنَّمَا جَزَٰٓؤُا۟ ٱلَّذِينَ يُحَارِبُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَسْعَوْنَ فِى ٱلْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوٓا۟ أَوْ يُصَلَّبُوٓا۟ أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَٰفٍ أَوْ يُنفَوْا۟ مِنَ ٱلْأَرْضِ ۚ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْىٌۭ فِى ٱلدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِى ٱلْءَاخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ

جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں ان کی یہی سزا ہے کہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں یا ملک سے نکال دیئے جائیں یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا (بھاری) عذاب تیار ہے

جرم و سزا کے چند قرآنی ضابطے - اِنَّمَا جَزٰۗؤ ُ ا الَّذِيْنَ يُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَيَسْعَوْنَ فِي الْاَرْضِ فَسَادً ۔- خلاصہ تفسیر - جو لوگ اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لڑتے ہیں اور (اس لڑنے کا مطلب یہ ہے کہ) ملک میں فساد (یعنی بدامنی) پھیلاتے پھرتے ہیں ( مراد اس سے رہزنی یعنی ڈکیتی ہے، ایسے شخص پر جس کو اللہ نے قانون شرعی سے جس کا اظہار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعہ سے ہوا ہے امن دیا ہو یعنی مسلمان پر اور ذمی پر، اور اسی لئے اس کو اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لڑنا کہا گیا ہے، کہ اس نے اللہ کے دئیے ہوئے امن کو توڑا، اور چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعہ سے اس کا ظہور ہوا اس لئے رسول کا تعلق بھی بڑھا دیا غرض جو لوگ ایسی حرکت کرتے ہیں) ان کی یہی سزا ہے کہ (ایک حالت میں تو) قتل کئے جائیں ( وہ حالت یہ ہے کہ ان رہزنوں نے کسی کو صرف قتل کیا ہو اور مال لینے کی نوبت نہ آئی ہو) یا (اگر دوسری حالت ہوئی ہو تو) سولی دیئے جائیں (یہ وہ حالت ہے کہ انہوں نے مال بھی لیا ہو اور قتل بھی کیا ہو) یا (اگر تیسری حالت ہوئی ہو تو) ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف جانب سے (یعنی داہنا ہاتھ بایاں پاؤ ں) کاٹ دیئے جائیں (یہ وہ حالت ہے کہ صرف مال لیا قتل نہ کیا ہو) یا (اگر چوتھی حالت ہوئی ہو تو) زمین پر (آزادانہ آباد رہنے) سے نکال (کر جیل میں بھیج) دیئے جائیں (یہ وہ حالت ہے کہ نہ مال لیا ہو نہ قتل کیا ہو قصد کرنے کے بعد ہی گرفتار ہوگئے ہوں) یہ (سزائے مذکور تو) ان کے لئے دنیا میں سخت رسوائی (اور ذلت) ہے، اور ان کو آخرت میں (جو) عذاب عظیم ہوگا (سو الگ) ہاں مگر جو لوگ قبل اس کے کہ تم ان کو گرفتار کرو توبہ کرلیں تو (اس حالت میں) جان لو کہ بیشک اللہ تعالیٰ (اپنے حقوق) بخش دیں گے (اور توبہ قبول کرنے میں) مہربانی فرما دیں گے (مطلب یہ کہ اوپر جو سزا مذکور ہوئی ہے، وہ حد اور حق اللہ کے طور پر ہے جو کہ بندہ کے معاف کرنے سے معاف نہیں ہوتی قصاص و حق العبد کے طور پر نہیں جو کہ بندہ کے معاف کرنے سے معاف ہوجاتا ہے، پس جب کہ قبل گرفتاری کے ان لوگوں کا تائب ہونا ثابت ہوجاوے تو حد ساقط ہوجاوے گی، جو کہ حق اللہ تھا، البتہ حق العبد باقی رہے گا، پس اگر مال لیا ہوگا تو اس کا ضمان دینا ہوگا، اور اگر قتل کیا ہوگا تو اس کا قصاص لیا جاوے گا، لیکن اس ضمان و قصاص کے معاف کرنے کا حق صاحب مال و ولی مقتول کو حاصل ہوگا) ۔ - معارف و مسائل - قرآنی قوانین کا عجیب و غریب انقلابی اسلوب - پہلی آیتوں میں ہابیل کا واقعہ قتل اور اس کا جرم عظیم ہونا مذکور تھا، مذکورہ آیات میں اور ان کے بعد قتل و غارت گری، ڈاکہ زنی اور چوری کی شرعی سزاؤں کا بیان ہے، ڈاکہ اور چوری کی سزاؤں کے درمیان خوف خدا اور بذریعہ طاعات اس کا قرب حاصل کرنے کی تلقین ہے، قرآن کریم کا یہ اسلوب نہایت لطیف طریقہ پر ذہنی انقلاب پیدا کرنے والا ہے، کہ وہ دنیا کی تعزیرات کی کتابوں کی طرح صرف جرم و سزا کے بیان پر کفایت نہیں کرتا، بلکہ ہر جرم و سزا کے ساتھ خوف خدا و آخرت مستحضر کرکے انسان کا رخ ایک ایسے عالم کی طرف موڑ دیتا ہے، جس کا تصور اس کو ہر عیب و گناہ سے پاک کردیتا ہے، اور اگر حالات و واقعات پر غور کیا جائے تو ثابت ہوگا کہ خوف خدا و آخرت کے بغیر دنیا کا کوئی قانون، پولیس اور فوج دنیا میں انسداد جرائم کی ضمانت نہیں دے سکتی، قرآن کریم کا یہی اسلوب حکیمانہ اور مربّیانہ طرز ہے، جس نے دنیا میں انقلاب برپا کیا، اور ایسے انسانوں کا ایک معاشرہ پیدا کیا جو اپنے تقدس میں فرشتوں سے بھی اونچا مقام رکھتے ہیں۔- شرعی سزاؤں کی تین قسمیں - ڈاکہ اور چوری کی شرعی سزائیں جن کا ذکر آیات مذکورہ میں ہے، ان کی تفصیل اور متعلقہ آیات کی تفسیر بیان کرنے سے پہلے مناسب ہے کہ ان …

Al-Maaida 5:33Listen in Qur'an →
34

إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُوا۟ مِن قَبْلِ أَن تَقْدِرُوا۟ عَلَيْهِمْ ۖ فَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

ہاں جن لوگوں نے اس سے پیشتر کہ تمہارے قابو میں آ جائیں توبہ کر لی تو جان رکھو کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے

دوسری آیت اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَيْهِمْ میں ایک استثناء ذکر کیا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ ڈاکو اور باغی اگر حکومت کے گھیرے میں آنے اور ان پر قابو پانے سے پہلے پہلے جب کہ ان کی قوت و طاقت بحال ہے، اس حالت میں اگر توبہ کرکے رہزنی سے خود ہی باز آجائیں تو ڈاکہ کی یہ حد شرعی ان سے ساقط ہوجائے گی، یہ استثناء عام قانون حدود سے مختلف ہے، کیونکہ دوسرے جرائم چوری زنا وغیرہ میں جرم کرنے اور قاضی کی عدالت میں جرم ثابت ہوجانے کے بعد اگر مجرم سچے دل سے توبہ بھی کرے تو گو اس توبہ سے آخرت کی سزا معاف ہوجائے گی، مگر دنیا میں حد شرعی معاف نہ ہوگی، جیسا کہ چند آیتوں کے بعد چوری کی سزا کے تحت میں اس کا تفصیلی بیان آئے گا۔- حکمت اس استثناء کی یہ ہے کہ ایک طرف ڈاکوؤں کی سزا میں یہ شدت اختیار کی گئی ہے کہ پوری جماعت میں کسی ایک سے بھی جرم کا صدور ہو تو سزا پوری جماعت کو دی جاتی ہے، اس لئے دوسری طرف سے استثناء کے ذریعہ معاملہ کو ہلکا کردیا گیا، کہ توبہ کرلیں تو سزائے دنیا بھی معاف ہوجائے، اس کے علاوہ اس میں ایک سیاسی مصلحت بھی ہے کہ ایک طاقتور جماعت پر ہر وقت قابو پانا آسان نہیں ہوتا، اس لئے ان کے واسطے ترغیب کا دروازہ کھلا رکھا گیا، کہ وہ توبہ کی طرف مائل ہوجائیں۔ - نیز اس میں یہ بھی مصلحت ہے کہ قتل نفس ایک انتہائی سزا ہے، اس میں قانون اسلام کا رخ یہ ہے کہ اس کا وقوع کم سے کم ہو اور ڈاکہ کی صورت میں ایک جماعت کا قتل لازم آتا ہے اس لئے ترغیبی پہلو سے ان کو اصلاح کی دعوت بھی ساتھ ساتھ جاری رکھی گئی، اسی کا یہ اثر تھا کہ علی اسدی جو مدینہ طیبہ کے قرب میں ایک جتھہ جمع کر کے آنے جانے والوں پر ڈاکہ ڈالتا تھا، ایک روز قافلہ میں کسی قاری کی زبان سے یہ آیت اس کے کان میں پڑگئی، (آیت) یعبادی الذین اسرفوا۔ قاری کے پاس پہنچے، اور دوبارہ پڑھنے کی درخواست کی دوسری مرتبہ آیت سنتے ہی اپنی تلوار میان میں داخل کی، اور رہزنی سے توبہ کرکے مدینہ طیبہ پہنچے، اس وقت مدینہ پر مروان بن حکم حاکم تھے، حضرت ابوہریرہ (رض) ان کا ہاتھ پکڑ کر امیر مدینہ کے پاس لے گئے، اور قرآن کی آیت مذکورہ پڑھ کر فرمایا کہ آپ اس کو کوئی سزا نہیں دے سکتے۔ - حکومت بھی ان کے فساد و رہزنی سے عاجز ہو رہی تھی سب کو خوشی ہوئی۔- اسی طرح حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے زمانہ میں حارثہ بن بدر بغاوت کرکے نکل گیا، اور قتل و غارت گری کو پیشہ بنالیا، مگر پھر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی اور توبہ کرکے واپس آیا، تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس پر حد شرعی جاری نہیں فرمائی۔ - یہاں یہ بات قابل یادداشت ہے کہ حد شرعی کے معاف ہوجانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ حقوق العباد جن کو اس نے ضائع کیا ہے وہ بھی معاف ہوجائیں، بلکہ اگر کسی کا مال لیا ہے اور وہ موجود ہے تو اس کا واپس کرنا ضروری ہے، اور کسی کو قتل کیا ہے یا زخمی کیا ہے تو اس کا قصاص اس پر لازم ہے، البتہ چونکہ قصاص حق العبد ہے تو اولیاء مقتول یا صاحب حق کے معاف کرنے سے معاف ہوجائے گا، اور جو کوئی مالی نقصان کسی کو پہنچایا ہے اس کا ضمان ادا کرنا یا اس سے معاف کرانا لازم ہے، امام اعظم ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ اور جمہور فقہاء کا یہی مسلک ہے، اور اگر غور کیا جائے تو یہ بات یوں بھی ظاہر ہے کہ حقوق العباد سے خلاصی حاصل کرنا خود توبہ کا ایک جز ہے، بدون اس کے توبہ ہی مکمل نہیں ہوتی، اس لئے کسی ڈاکو کو تائب اسی وقت مانا جائے گا جب وہ حقوق العباد کو ادا یا معاف کرالے۔

Al-Maaida 5:34Listen in Qur'an →
35

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَٱبْتَغُوٓا۟ إِلَيْهِ ٱلْوَسِيلَةَ وَجَٰهِدُوا۟ فِى سَبِيلِهِۦ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

اے ایمان والو! خدا سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تلاش کرتے رہو اور اس کے رستے میں جہاد کرو تاکہ رستگاری پاؤ

خلاصہ تفسیر - اے ایمان والو اللہ تعالیٰ (کے احکام کی مخالفت) سے ڈرو (یعنی معاصی چھوڑدو) اور (اطاعت کے ذریعہ) خدا تعالیٰ کا قرب ڈھونڈو (یعنی اطاعات ضروریہ کے پابند رہو) اور تم (پورے) کامیاب ہوجاؤ گے (اور کامیابی اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا حاصل ہونا اور دوزخ سے نجات ہے) یقینا جو لوگ کافر ہیں اگر (بالفرض) ان (میں سے ہر ایک) کے پاس دنیا بھر کی تمام چیزیں ہوں (جس میں تمام دفائن و خزائن بھی آگئے) اور (انہی چیزوں پر کیا منحصر ہے بلکہ) ان چیزوں کے ساتھ اتنی ہی چیزیں اور بھی ہوں تاکہ وہ اس کو دے کر روز قیامت کے عذاب سے چھوٹ جاویں تب بھی وہ چیزیں ہرگز ان سے قبول نہ کی جاویں گی (اور عذاب سے نہ بچیں گے بلکہ) ان کو دردناک عذاب ہوگا (پھر بعد عذاب میں داخل ہوجانے کے) اس بات کی خواہش (و تمنا) کریں گے کہ دوزخ سے (کسی طرح) نکل آویں اور (یہ خواہش کبھی پوری نہ ہوگی اور) وہ اس سے کبھی نہ نکلیں گے اور ان کو عذاب دائمی ہوگا (یعنی کسی تدبیر سے نہ سزا ٹلے گی نہ دوام سزا ٹلے گا) ۔- اور جو مرد چوری کرے اور (اسی طرح) جو عورت چوری کرے سو (ان کا حکم یہ ہے کہ اے حکام) ان دونوں کے داہنے ہاتھ (گٹے پر) سے کاٹ ڈالو ان کے (اس) کردار کے عوض میں (اور یہ عوض) بطور سزا کے (ہے) اللہ کی طرف سے، اور اللہ تعالیٰ بڑی قوت والے ہیں، (جو سزا چاہیں مقرر فرما دیں اور) بڑی حکمت والے ہیں (کہ مناسب ہی سزا مقرر فرماتے ہیں) پھر جو شخص (موافق قاعدہ شرعیہ کے) توبہ کرلے اپنی اس زیادتی (یعنی چوری) کرنے کے بعد اور (آئندہ کے لئے) اعمال کی درستگی رکھے (یعنی چوری وغیرہ نہ کرے، اپنی توبہ پر قائم رہے) تو بیشک اللہ تعالیٰ اس (کے حال) پر (رحمت کے ساتھ) توجہ فرماویں (کہ توبہ سے پچھلا گناہ معاف فرما دیں گے، اور استقامت علی التوبہ سے مزید عنایت فرمادیں گے) بیشک خدا تعالیٰ بڑی مغفرت والے ہیں (کہ اس کا گناہ معاف کردیا) بڑی رحمت والے ہیں (کہ آئندہ بھی مزید عنایت کی اے مخاطب) کیا تم نہیں جانتے (یعنی سب جانتے ہیں) کہ اللہ ہی کے لئے ثابت ہے حکومت سب آسمانوں کی اور زمین کی وہ جس کو چاہیں سزا دیں اور جس کو چاہیں معاف کردیں، اور اللہ تعالیٰ کو ہر چیز پر پوری قدرت ہے۔ - - معارف و مسائل - آیات متذکرہ سے پہلی آیات میں ڈاکو اور بغاوت کی شرعی سزا اور اس کے احکام کی تفصیل مذکور تھی، اور آگے تین آیتوں کے بعد چوری کی شرعی سزا کا بیان آنے والا ہے، اس کے درمیان تیں آیتوں میں تقویٰ ، اطاعت و عبادت، جہاد کی ترغیب اور کفر وعناد اور معصیت کی تباہ کاری کا بیان فرمایا گیا ہے، قرآن کریم کے اس طرز خاص میں غور کرو تو معلوم ہوگا کہ قرآن کریم کا عام اسلوب یہ ہے کہ وہ محض حاکمانہ طور پر تعزیر و سزا کا قانون بیان کرکے نہیں چھوڑ دیتا، بلکہ مربّیانہ انداز میں ذہنوں کو جرائم سے باز رہنے کے لئے ہموار بھی کرتا ہے، خدا تعالیٰ اور آخرت کے خوف اور جنت کی دائمی نعمتوں اور راحتوں کو مستحضر کرکے ان کے قلوب کو جرم سے متنفر بناتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اکثر قانون جرم و سزا کے پیچھے اتَّقُوا اللّٰهَ وغیرہ کا اعادہ کیا جاتا ہے، یہاں بھی پہلی آیت میں تین چیزوں کا حکم دیا گیا ہے : - اول اتَّقُوا اللّٰهَ ۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے ڈرو، کیونکہ خوف خدا وہی چیز ہے جو انسان کو حقیقی طور پر خفیہ و اعلانیہ جرائم سے روک سکتی ہے۔- دوسرا ارشاد ہے وابْتَغُوْٓا اِلَيْهِ الْوَسِيْلَةَ یعنی اللہ کا قرب تلاش کرو، لفظ وسیلہ وسل مصدر سے مشتق ہے، جس کے معنی ملنے اور جڑنے کے ہیں، یہ لفظ سین اور صاد دونوں سے تقریباً ایک ہی معنی میں آتا ہے، فرق اتنا ہے کہ وصل بالصاد مطلقاً ملنے اور جوڑنے کے معنی میں ہے اور وسل بالسین رغبت و محبت کے ساتھ ملنے کے لئے مستعمل ہوتا ہے۔- صحاح جوہری اور مفردات القرآن راغب اصفہانی میں اس کی تصریح ہے، اس لئے صاد کے ساتھ وصلہ اور وصیلہ ہر اس چیز کو …

Al-Maaida 5:35Listen in Qur'an →
36

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَوْ أَنَّ لَهُم مَّا فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًۭا وَمِثْلَهُۥ مَعَهُۥ لِيَفْتَدُوا۟ بِهِۦ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

جو لوگ کافر ہیں اگر ان کے پاس روئے زمین (کے تمام خزانے اور اس) کا سب مال ومتاع ہو اور اس کے ساتھ اسی قدر اور بھی ہو تاکہ قیامت کے روز عذاب (سے رستگاری حاصل کرنے) کا بدلہ دیں تو ان سے قبول نہیں کیا جائے گا اور ان کو درد دینے والا عذاب ہوگا

Explained together with ayah 35

Al-Maaida 5:36Listen in Qur'an →
37

يُرِيدُونَ أَن يَخْرُجُوا۟ مِنَ ٱلنَّارِ وَمَا هُم بِخَٰرِجِينَ مِنْهَا ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌۭ مُّقِيمٌۭ

(ہر چند) چاہیں گے کہ آگ سے نکل جائیں مگر اس سے نہیں نکل سکیں گے اور ان کے لئے ہمیشہ کا عذاب ہے

تیسری آیت میں یہ بھی واضح کردیا کہ کفار کا یہ عذاب دائمی ہوگا، جس سے وہ کبھی نجات نہ پائیں گے۔

Al-Maaida 5:37Listen in Qur'an →
38

وَٱلسَّارِقُ وَٱلسَّارِقَةُ فَٱقْطَعُوٓا۟ أَيْدِيَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَٰلًۭا مِّنَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌۭ

اور جو چوری کرے مرد ہو یا عورت ان کے ہاتھ کاٹ ڈالو یہ ان کے فعلوں کی سزا اور خدا کی طرف سے عبرت ہے اور خدا زبردست (اور) صاحب حکمت ہے

چوتھی آیت میں پھر جرائم کی سزاؤں کی طرف عود کیا گیا، اور چوری کی سزائے شرعی کا بیان فرمایا گیا، شرعی سزاؤں کی تین قسمیں جو پہلے بیان ہوچکی ہیں چوری کی سزا ان کی قسم حدود میں داخل ہے، کیونکہ قرآن کریم نے اس سزا کو خود متعین فرمایا، حکام کی صوابدید پر نہیں چھوڑا اور بطور حق اللہ کے متعین فرمایا ہے، اس لئے اس کو حد سرقہ کہا جاتا ہے، آیت میں ارشاد ہے : - وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْٓا اَيْدِيَهُمَا جَزَاۗءًۢ بِمَا كَسَـبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ یعنی ” چوری کرنے والا مرد اور چوری کرنے والی عورت کے ہاتھ کاٹ دو ان کے کردار کے بدلہ میں، اور اللہ زبردست حکمت والا ہے “۔- یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ قرآنی احکام میں خطاب عام طور پر مردوں کو ہوتا ہے اور عورتیں بھی اس میں تبعا شامل ہوتی ہیں۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰة اور جملہ احکام میں قرآن و سنت کا یہی اصول ہے، لیکن چوری کی سزا اور زنا کی سزا میں صرف مردوں کے ذکر پر اکتفاء نہیں فرمایا، بلکہ دونوں صنفوں کو الگ الگ کرکے حکم دیا۔ - اس کی وجہ یہ ہے کہ معاملہ حدود کا ہے جن میں ذرا سا بھی شبہ پڑجائے تو ساقط ہوجاتی ہیں، اس لئے عورتوں کے لئے ضمنی خطاب پر کفایت نہیں فرمائی، بلکہ تصریح کے ساتھ ذکر فرمایا۔- دوسری بات اس جگہ قابل غور یہ ہے کہ لفظ سرقہ کا لغوی مفہوم اور شرعی تعریف کیا ہے ؟ قاموس میں ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے کا مال کسی محفوظ جگہ سے بغیر اس کی اجازت کے چھپ کرلے لے، اس کو سرقہ کہتے ہیں۔ یہی اس کی شرعی تعریف ہے۔ اور اس تعریف کی رو سے سرقہ ثابت ہونے کے لئے چند چیزیں ضروری ہوئیں :- اول یہ کہ وہ مال کسی فرد یا جماعت کی ذاتی ملکیت ہو، چُرانے والے کی اس میں نہ ملکیت ہو نہ ملکیت کا شبہ ہو۔ اور نہ ایسی چیزیں ہوں جس میں عوام کے حقوق مساوی ہیں، جیسے رفاہ عام کے ادارے اور ان کی اشیاء اس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی شخص نے کوئی ایسی چیز لے لی جس میں اس کی ملکیت یا ملکیت کا شبہ ہے یا جس میں عوام کے حقوق مساوی ہیں تو حد سرقہ اس پر جاری نہ کی جائے گی۔ حاکم اپنی صوابدید کے موافق تعزیری سزا جاری کرسکتا ہے۔ - دوسری چیز تعریف سرقہ میں مال محفوظ ہوتا ہے، یعنی مقفل مکان کے ذریعہ یا کسی نگران چوکیدار کے ذریعہ محفوظ ہونا، جو مال کسی محفوظ جگہ میں نہ ہو اس کو کوئی شخص اٹھالے تو وہ بھی حد سرقہ کا مستوجب نہیں ہوگا اور مال کے محفوظ ہونے میں شبہ بھی ہوجائے تو بھی حد ساقط ہوجائے گی۔ گناہ اور تعزیری سزا کا معاملہ جدا ہے۔- تیسری شرط بلا اجازت ہونا ہے، جس مال کے لینے یا اٹھا کر استعمال کرنے کی کسی کو اجازت دے رکھی ہو، وہ اس کو بالکل لے جائے تو حد سرقہ عائد نہیں ہوگی، اور اجازت کا شبہ بھی پیدا ہوجائے تو حد ساقط ہوجائے گی۔ - چوتھی شرط چھپا کرلینا ہے کیونکہ دوسرے کا مال اعلانیہ لوٹا جائے تو وہ سرقہ نہیں بلکہ ڈاکہ ہے، جس کی سزا پہلے بیان ہوچکی ہے، غرض خفیہ نہ ہو تو حدّ سرقہ اس پر جاری نہ ہوگی۔ - ان تمام شرائظ کی تفصیل سننے سے آپ کو یہ معلوم ہوگیا کہ ہمارے عرف میں جس کو چوری کہا جاتا ہے وہ ایک عام اور وسیع مفہوم ہے، اس کے تمام افراد پر حدّسرقہ یعنی ہاتھ کاٹنے کی سزا شرعاً عائد نہیں ہے، بلکہ چوری کی صرف اس صورت پر یہ حد شرعی جاری ہوگی جس میں یہ تمام شرائط موجود ہوں۔ - اس کے ساتھ ہی یہ بھی آپ معلوم کرچکے ہیں کہ جن صورتوں میں چوری کی حد شرعی ساقط ہوجاتی ہے، تو یہ لازم نہیں ہے کہ کھلی چھٹی مل جائے، بلکہ حاکم وقت اپنی صوابدید کے مطابق اس کو تعزیری سزا دے سکتا ہے جو جسمانی، کوڑوں کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔ - اسی طرح یہ بھی نہ سمجھا جائے کہ جن صورتوں میں سرقہ کی کوئی شرط مفقود ہونے کی وجہ سے حد شرعی جاری نہ ہو تو وہ شرعاً جائز و حلال ہے، کیونکہ اوپر بتلایا جا چکا ہے کہ یہاں گناہ اور عذاب آخرت کا …

Al-Maaida 5:38Listen in Qur'an →
39

فَمَن تَابَ مِنۢ بَعْدِ ظُلْمِهِۦ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ ٱللَّهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌ

اور جو شخص گناہ کے بعد توبہ کرے اور نیکوکار ہو جائے تو خدا اس کو معاف کر دے گا کچھ شک نہیں کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے

دوسری آیت میں ارشاد فرمایا : فَمَنْ تَابَ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ وَاَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ يَتُوْبُ عَلَيْهِ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ یعنی ” جو شخص اپنی بدکرداری اور چوری سے باز آگیا اور اپنے عمل کی اصلاح کرلی تو اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرما دیں گے کیونکہ اللہ بہت بخشنے والے اور مہربان ہیں “۔ ڈاکہ زنی کی شرعی سزا جس کا بیان چند آیات پہلے آیا ہے اس میں بھی معافی کا ذکر ہے، اور چوری کی سزا کے بعد بھی معافی کا ذکر ہے، لیکن دونوں جگہ کہ معافی کے بیان میں ایک خاص فرق ہے، اور اسی فرق کی بناء پر دونوں سزاؤں میں معافی کا مفہوم فقہاء کے نزدیک مختلف ہے، ڈاکہ زنی کی سزا میں تو حق تعالیٰ نے بطور استثناء کے ذکر فرمایا : (آیت) الا الذین تابو تا ان تقدروا علیہم۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ ڈاکہ زنی کی جو شرعی سزا آیت میں مذکور ہے۔ اس سے یہ صورت مستثنیٰ ہے کہ ڈاکوؤں پر حکومت کا قابو چلنے اور گرفتار ہونے سے پہلے جو توبہ کرے اس کو یہ سزائے شرعی معاف کردی جائے گی۔ اور چوری کی سزا کے بعد جو معافی کا ذکر ہے اس میں اس سزائے دنیوی سے استثناء نہیں، بلکہ آخرت کے اعتبار سے ان کی توبہ مقبول ہونے کا بیان ہے جس کی طرف (آیت) فان اللّٰہ یتوب علیہ۔ میں اشارہ موجود ہے کہ حکام وقت اس توبہ کی وجہ سے شرعی سزا نہ چھوڑیں گے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے جرم کو معاف فرما کر آخرت کی سزا سے نجات دیں گے، اسی لئے حضرات فقہاء تقریباً اس پر متفق ہیں کہ ڈاکو اگر گرفتار ہونے سے پہلے توبہ کرلیں تو ڈاکہ کی شرعی سزا ان پر جاری نہ ہوگی۔ مگر چور اگر چوری کرنے کے بعد خواہ گرفتاری سے پہلے یا بعد میں چوری سے توبہ کرے تو حد سرقہ جو دنیوی سزا ہے وہ معاف نہ ہوگی، گناہ کی معافی ہو کر آخرت کے عذاب سے نجات پا جانا اس کے منافی نہیں۔

Al-Maaida 5:39Listen in Qur'an →
40

أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ ٱللَّهَ لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ يُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ وَيَغْفِرُ لِمَن يَشَآءُ ۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ

کیا تم کو معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں خدا ہی کی سلطنت ہے؟ جس کو چاہے عذاب کرے اور جسے چاہے بخش دے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

بعد کی آیت میں ارشاد فرمایا : اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ يُعَذِّبُ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۭوَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ یعنی کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین کی سلطنت و حکومت صرف اللہ کی ہے، اور اس کی یہ شان ہے کہ جس کو چاہتا ہے عذاب دیتا ہے جس کو چاہتا ہے بخش دیتا ہے، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے “۔- اس آیت کا ربط و مناسب پچھلی آیات سے یہ ہے کہ پچھلی آیات میں ڈاکہ اور چوری کی حدود شرعیہ جن میں ہاتھ پاؤں یا صرف ہاتھ کاٹ ڈالنے کے سخت احکام ہیں، ظاہر نظر میں یہ احکام شرافت انسانی اور اس کے اکرم المخلوقات ہونے کے منافی ہیں، اس شبہ کے ازالہ کے لئے اس آیت میں اللہ جل شانہ نے پہلے اپنا مالک حقیقی ہونا سارے جہان کے لئے بیان فرمایا، پھر اپنے قادر مطلق ہونے کا ذکر فرمایا، اور ان کے درمیان یہ ارشاد فرمایا کہ وہ صرف سزا یا عذاب ہی نہیں دیتے، بلکہ معاف بھی فرماتے ہیں، اور اس معافی اور سزا کا مدار ان کی حکمت پر ہے، کیونکہ وہ جس طرح مالک مطلق اور قادر مطلق ہیں اسی طرح حکیم مطلق بھی ہیں، جس طرح ان کی قدرت و سلطنت کا احاطہ کوئی انسانی طاقت نہیں کرسکتی، اسی طرح ان کی حکمتوں کا پورا احاطہ بھی انسانی عقل و دماغ نہیں کرسکتے، اور اصول کے ساتھ غور و فکر کرنے والوں کو بقدر کفایت کچھ علم ہو بھی جاتا ہے جس سے ان کے قلوب مطمئن ہوجاتے ہیں۔ - اسلامی سزاؤں کے متعلق اہل یورپ اور ان کی تعلیم و تہذیب سے متاثر لوگوں کا یہ عام اعتراض ہے کہ یہ سزائیں سخت ہیں، اور بعض ناعاقیت اندیش لوگ تو یہ کہنے سے بھی باز نہیں رہتے کہ یہ سزائیں وحشیانہ اور شرافت انسانی کے خلاف ہیں۔- اس کے متعلق پہلے تو یہ سامنے رکھئے جو اس سے پہلے بیان ہوچکا ہے، کہ قرآن کریم نے صرف چار جرموں کی سزائیں خود مقرر اور معین کردی ہیں، جن کو شرعی اصطلاح میں حد کہا جاتا ہے، ڈاکہ کی سزا داہنا ہاتھ اور بایاں پیر، چوری کی سزا داہنا ہاتھ پہنچنے پر سے کاٹنا، زنا کی سزا بعض صورتوں میں سو کوڑے لگانا اور بعض میں سنگسار کرکے قتل کردینا، زنا کی جھوٹی تہمت کسی پر لگانے کی سزا اسی (80) کوڑے پانچویں حد شرعی شراب پینے کی ہے، جو باجماع صحابہ اسی (80) کوڑے مقرر کئے گئے ہیں ان پانچ جرائم کے سوا تمام جرائم کی سزا حاکم وقت کی صواب دید پر ہے، کہ جرم اور مجرم اور اس کے ماحول پر نظر کرکے جتنی اور جیسی چاہے سزا دے اس میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سزاؤں کی تحدید و تعیین کا کوئی خاص نظام اہل علم و اہل رائے کے مشورہ سے مقرر کرکے قاضی یا جج کو ان کا پابند کردیا جائے، جیسا کہ آج کل عموماً اسمبلیوں کے ذریعہ تعزیری قوانین متعین کئے جاتے ہیں، اور قاضی یا جج مقررہ حدود کے اندر سزا جاری کرتے ہیں، البتہ ان پانچ جرائم میں جن کی سزائیں قرآن یا اجماع سے متعین کردی گئی ہیں، اور ان میں کسی فرد یا جماعت یا اسمبلی کو تغیر و تبدل کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ مگر ان میں بھی اگر جرم کا ثبوت شریعت کے مقرر کردہ ضابطہ شہادت سے نہ ہوسکے، یا جرم کا ثبوت تو ملے مگر اس جرم پر جن شرائط کے ساتھ یہ سزا جاری کی جاتی ہے وہ شرائط مکمل نہ ہوں۔ اور نفس جرم قاضی یا جج کے نزدیک ثابت ہو تو اس صورت میں بھی حد شرعی جاری نہ ہوگی بلکہ تعزیری سزا دی جائے گی، اسی کے ساتھ یہ شرعی ضابطہ بھی مقرر اور مسلم ہے کہ شبہ کا فائدہ مجرم کو پہنچتا ہے۔ ثبوت جرم یا جرم کی شرائط میں سے کسی چیز میں شبہ پڑجائے تو حد شرعی ساقط ہوجاتی ہے، مگر نفس جرم کا ثبوت ہوجائے تو تعزیری سزا دی جائے گی۔- اس سے معلوم ہوا کہ ان پانچ جرائم میں بہت سی صورتیں ایسی نکلیں گی کہ ان میں حدود شرعیہ کا نفاذ نہیں ہوگا، بلکہ تعزیری سزائیں صواب دید حاکم کے مطابق دی جائیں گی، تعزیری سزائیں چونکہ شریعت اسلام نے متعین نہیں کیں …

Al-Maaida 5:40Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.