Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 31–40 of 120

31

فَبَعَثَ ٱللَّهُ غُرَابًۭا يَبْحَثُ فِى ٱلْأَرْضِ لِيُرِيَهُۥ كَيْفَ يُوَٰرِى سَوْءَةَ أَخِيهِ ۚ قَالَ يَٰوَيْلَتَىٰٓ أَعَجَزْتُ أَنْ أَكُونَ مِثْلَ هَٰذَا ٱلْغُرَابِ فَأُوَٰرِىَ سَوْءَةَ أَخِى ۖ فَأَصْبَحَ مِنَ ٱلنَّٰدِمِينَ

اب خدا نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کریدنے لگا تاکہ اسے دکھائے کہ اپنے بھائی کی لاش کو کیونکر چھپائے کہنے لگا اے ہے مجھ سے اتنا بھی نہ ہو سکا کہ اس کوے کے برابر ہوتا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپا دیتا پھر وہ پشیمان ہوا

(آیت) ” فَبَعَثَ اللّہُ غُرَاباً یَبْحَثُ فِیْ الأَرْضِ لِیُرِیَہُ کَیْْفَ یُوَارِیْ سَوْء ۃَ أَخِیْہِ قَالَ یَا وَیْْلَتَا أَعَجَزْتُ أَنْ أَکُونَ مِثْلَ ہَـذَا الْغُرَابِ فَأُوَارِیَ سَوْء ۃَ أَخِیْ فَأَصْبَحَ مِنَ النَّادِمِیْنَ (31)

” پھر اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کھودنے لگا تاکہ اسے بتائے کہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھپائے ۔ یہ دیکھ کر وہ بولا ” افسوس مجھ پر ! میں اس کوے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپانے کی تدبیر نکال لیتا ، اس کے بعد وہ اپنے کئے پر بہت بچھتایا)

روایات میں آتا ہے کہ ایک کوے نے دوسرے کو قتل کردیا یا اس نے دوسرے کوے کی لاش کو پایا ۔ یہ کوا زمین کھودنے لگا ۔ اس کے بعد اس نے گڑھے میں ڈال کر اس پر مٹی ڈالنا شروع کیا ، اس موقع پر اس قاتل نے افسوسناک انداز میں اپنی اس ندامت کا اظہار کیا اور پھر اپنے بھائی کی لاش کردیا۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قاتل نے اس سے قبل کسی کو دفن ہوتے نہ دیکھا تھا ۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ ضرور لاش کو دفن کردیتا اور یہ ممکن ہے کہ اس زمین پر یہ پہلی میت ہو یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ۔ یا یہ کہ یہ قاتل نوجوان تھا اور اس نے اس سے قبل کسی کو میتوں کو دفناتے نہ دیکھا تھا ۔ دونوں باتیں اپنی جگہ درست ہیں ۔ نیز یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ اس قاتل کی ندامت نہ تھی ورنہ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلیتے بلکہ وہ نادم اس بات پر ہوا کہ اس کو اس فعل کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور اس فعل کے بعد اس کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ‘ اس کی زندگی تلخ ہوگئی اور وہ نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا ۔

جس طرح کوے نے دوسرے کوے کی لاش کو دفن کیا ‘ اس طرح اس نے بھی دفن کیا ۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ کوے ایسا کرتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس قاتل کو سکھانے کے لئے ایک کوے کو بھیج دیا ہو اور یہ خارق عادت کام تھا جو اللہ نے کوے سے کروایا ۔ یہ دونوں باتیں اللہ کے لئے برابر ہیں جو ذات زندہ انسان میں کمالات ودیعت کرتی ہے ‘ وہ ذات اس پر بھی قادر ہے کہ وہ ان کمالات کا صدور کسی بھی زندہ چیز سے کرا دے ۔ یہ دونوں امور اس کی قدرت میں ہیں ۔

اس مسلسل قصے کو پڑھنے اور دیکھنے کے بعد ذہن انسانی پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں ‘ قرآن یہاں ان کو ریکارڈ پر لاتا ہے تاکہ ان کو ایک شعوری سوچ بنا دے اور اس سوچ کی اساس پر اگر کوئی شخص قتل کا ارتکاب کر بھی لے تو اس سے منصفانہ قصاص لیا جائے اور مجرم کو معلوم ہو کہ اگر اس نے جرم کیا تو قانون قصاص اس کے انتظار میں ہے ۔

Al-Maaida 5:31Listen in Qur'an →
32

مِنْ أَجْلِ ذَٰلِكَ كَتَبْنَا عَلَىٰ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ أَنَّهُۥ مَن قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ ٱلنَّاسَ جَمِيعًۭا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَآ أَحْيَا ٱلنَّاسَ جَمِيعًۭا ۚ وَلَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِٱلْبَيِّنَٰتِ ثُمَّ إِنَّ كَثِيرًۭا مِّنْهُم بَعْدَ ذَٰلِكَ فِى ٱلْأَرْضِ لَمُسْرِفُونَ

اس قتل کی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ حکم نازل کیا کہ جو شخص کسی کو (ناحق) قتل کرے گا (یعنی) بغیر اس کے کہ جان کا بدلہ لیا جائے یا ملک میں خرابی کرنے کی سزا دی جائے اُس نے گویا تمام لوگوں کو قتل کیا اور جو اس کی زندگانی کا موجب ہوا تو گویا تمام لوگوں کی زندگانی کا موجب ہوا اور ان لوگوں کے پاس ہمارے پیغمبر روشن دلیلیں لا چکے ہیں پھر اس کے بعد بھی ان سے بہت سے لوگ ملک میں حدِ اعتدال سے نکل جاتے ہیں

(آیت) ” نمبر : 32۔

اس وجہ سے ‘ یعنی انسانیت کے اندر ایسے لوگوں کی موجودگی کی وجہ سے ‘ امن پسند ‘ صلح کل ‘ نیک فطرت اور پاک طینت لوگوں کے خلاف ایسے جرائم کے ارتکاب کی وجہ سے ‘ جو شر اور ظلم سے بہت دور بھاگتے ہیں ‘ اور اس وجہ سے کہ بعض نہایت ہی فطری سرپسندوں پر واعظ ونصیحت اور ڈراوا کوئی اثر نہیں کرتا اور اس وجہ سے کہ اگر شر انسان کے رگ وپے میں سرایت کر جائئے تو ایسے لوگوں کے ساتھ امن اور آشتی مفید مطلب نہیں ہوتی اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے قتل نفس کو گناہ کبیرہ اور جرم عظیم قرار دیا ۔ اسے اس قدر عظیم جرم قرار دیا کہ گویا اس مجرم نے تمام موجودہ انسانی نسل کو قتل کردیا ۔ پھر جس عمل کے ذریعے ایک شخص کی جان بچ جائے تو گویا اس شخص اور اس عمل نے تمام لوگوں کو زندگی بخش دی ۔ یہ بات ہم نے بنی اسرائیل کے لئے شریعت لکھتے وقت مقرر کردی تھی ۔ (تفصیلات احکام قصاص میں آرہی ہیں)

کسی کے قصاص میں قتل کئے جانے کے علاوہ قتل کردینا یا فساد فی الارض کو دور کرنے کے لئے کسی کے قتل کے علاوہ ‘ قتل اس قدر عظیم جرم ہے جس طرح کوئی تمام انسانوں کو قتل کر دے ۔ ہر نفس دوسرے نفس کے برابر ہے ۔ زندگی کا حق ہر ایک نفس کو حاصل ہے ۔ لہذا کسی ایک نفس کا قتل کرنا گویا تمام نفوس سے حق زندگی چھین لینے کے برابر ہے اس لئے حق حیات میں تمام نفوس شریک ہیں ۔ اسی طرح قتل سے تحفظ کا حق بھی تمام نفوس کو حاصل ہے اور زندگی کا بچانا سب کے لیے لازمی ہے ۔ چاہے حالت زندگی میں دفاع کیا جائے یا مرنے کے بعد قصاص جاری کر کے زندگی کا دفاع کیا جائے تاکہ مجرم دوسرے نفوس پر دست درازی نہ کرے ۔ اس طرح گویا قانون قصاص تمام زندہ لوگوں کو زندگی دینے کا مفہوم اپنے اندر رکھتا ہے ۔ کیونکہ قانون قصاص سے زندہ رہنے کا حق فراہم ہوتا ہے جس میں تمام لوگ شریک ہیں ۔

ان احکام کے سلسلے میں ہم نے جو تشریح کی ہے ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم صرف دارالاسلام کے باشندوں پر منطبق ہوتا ہے ۔ مسلم ہوں ‘ ذمی ہوں یا مستامن ہوں۔ رہے اہل حرب (وہ لوگ جن سے مسلم حکومت پر سر جنگ ہے) تو ان کا خون مباح ہے الا یہ کہ ان کے اور دارالاسلام کے باشندوں کے درمیان کوئی معاہدہ ہوجائے ۔ اسی طرح ان کے مال اور جائیداد کو بھی تحفظ حاصل نہ ہوگا ‘ اس لئے ہمیں اس قانون اصول کو ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہئے ۔ یہ بات بھی ہمیں ذہن نشین کرنا چاہئے کہ دارالاسلام وہ مملکت ہے جس میں اسلامی شریعت نافذ ہو ‘ اور حکومت کے تمام ادارے اس کے مطابق چلتے ہوں اور دارالحرب اور سرزمین ہے جس میں شریعت نافذ نہ ہو اور کاروبار مملکت میں شریعت کے احکام نہ مانے جاتے ہوں ۔

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر یہ اصول فرض کردیا تھا ‘ اس لئے یہ لوگ اس وقت اہل کتاب تھے ۔ جب تک توراۃ کے مطابق وہ کاروبار حکومت چلاتے اس وقت تک وہ دارالاسلام تصور ہوتے بشرطیکہ وہ احکام شریعت تحریف شدہ نہ ہو ۔ لیکن بنی اسرائیل نے ہمیشہ حدود شریعت سے تجاوز کیا حالانکہ اس ان کے رسول ان کے سامنے واضح طور پر شریعت کے احکام لے کر آئے تھے ۔ خود رسول اللہ ﷺ کے دور میں اور ان کے بعد کے ادوار میں بھی آج تک ان میں ایسے لوگ بکثرت ہیں جو انکی شریعت توراۃ کی حدود سے تجاوز کرتے تھے ۔ قرآن کریم ان کے اس اسراف ‘ تجاوز اور دست درازی کو یہاں ریکارڈ کر رہا ہے جو بلاسبب تھی اور یہ بھی ریکارڈ پر لایا جاتا ہے کہ اللہ کے مقابلے میں اب ان کے پاس کوئی حجت نہیں ہے ‘ اس لئے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول آئے اور ان رسولوں نے شریعت کے احکام ان کے سامنے بیان کردیئے تھے ۔

(آیت) ” وَلَقَدْ جَاء تْہُمْ رُسُلُنَا بِالبَیِّنَاتِ ثُمَّ إِنَّ کَثِیْراً مِّنْہُم بَعْدَ ذَلِکَ فِیْ الأَرْضِ لَمُسْرِفُونَ (32)

(مگر ان کا حال یہ ہے کہ ہمارے رسول پے در پے ان کے پاس کھلی کھلی ہدایات لے کر آئے پھر بھی ان میں بکثرت لوگ زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں)

اور اس …

Al-Maaida 5:32Listen in Qur'an →
33

إِنَّمَا جَزَٰٓؤُا۟ ٱلَّذِينَ يُحَارِبُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَسْعَوْنَ فِى ٱلْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوٓا۟ أَوْ يُصَلَّبُوٓا۟ أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَٰفٍ أَوْ يُنفَوْا۟ مِنَ ٱلْأَرْضِ ۚ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْىٌۭ فِى ٱلدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِى ٱلْءَاخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ

جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں ان کی یہی سزا ہے کہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں یا ملک سے نکال دیئے جائیں یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا (بھاری) عذاب تیار ہے

(آیت) ” نمبر 33 تا 34۔

یہ جرم جس کے بارے میں یہ آیت آئی ہے اس کی حدود کیا ہیں ؟ یعنی کسی مسلم سربراہ مملکت کے خلاف بغاوت کرنا ‘ جو حکومت شریعت کے مطابق چلا رہا ہو۔ یہ خروج ایک جمعیت کی شکل میں ہو اور کوئی گروہ اس مملکت کے خلاف مغاوت پر اتر آیا ہو اور اس نے ایسی روش اختیار کرلی ہو جس سے دارالاسلام کے لوگوں کے اندر خوف وہراس پیدا ہو اور اس گروہ کی جانب سے باشندگان دارالاسلام کو مالی ‘ جانی اور عزت کے نقصان کے خطرات لاحق ہوں ۔ بعض فقہاء نے یہ شرط بھی لگائی ہے کہ اس قسم کی واردات شہری علاقوں سے دور ہو جہاں مملکت کی انتظامیہ کی دسترس نہ ہو ۔ بعض فقہاء نے یہ بھی شرط رکھی ہے کہ اس قسم کی واردات شہری علاقوں سے دور ہو جہاں مملکت کی انتظامیہ کی دسترس نہ ہو ۔ بعض فقہاء نے یہ بھی شرط رکھی ہے کہ اس قسم کے باغیوں کے گروہ کا جمع ہوجانا اور دست درازی کا آغاز کرنا اور عملا اگر نہ بھی ہو تو بالقوہ یہ پوزیشن اختیار کرلینا ہی اس آیت کے انطیاق کے لئے کافی ہے چاہے یہ گروہ شہروں کے اندر ہو یا باہر ہو اور یہ آخری رائے عملا زیادہ قریب الفہم ہے تاکہ باغیوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جاسکے ۔

یہ باغی وہ لوگ تصور ہوں گے ‘ جو ایسے حاکم کے خلاف ہوں جو شریعت کے مطابق حکومت کر رہا ہو اور یہ باغی دارالاسلام کے ان باشندوں پر دست درازی کی پوزیشن میں ہوں ‘ جن کے ہاں شریعت جاری ہو ‘ (چاہے یہ لوگ ذمی ہوں ‘ مسلمان ہوں یامستامن ہوں) یہ لوگ صرف حکم کے خلاف باغی نہ ہوں اور صرف لوگوں کے خلاف بغاوت نہ ہو ‘ بلکہ اللہ اور رسول کے خلاف بھی بغاوت ہو ۔ اللہ کی شریعت سے محاربت ہو اور ایک ایسی سوسائٹی کے ساتھ محاربت ہو جو اس شریعت کی اساس پر قائم کی گئی ہو ۔ نیز ان کی سرگرمیوں کی وجہ سے دارالاسلام کو خطرہ لاحق ہوگیا ہو ‘ ان کی یہ جنگ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی خلاف تصور ہوگی ۔ یہ جنگ شریعت کے خلاف تصور ہوگا اس لئے کہ اللہ کی شریعت کو معطل کرنے سے بڑا فساد اس دنیا میں اور کوئی نہیں ہو سکتا ۔ اور نہ اس سے زیادہ بڑا فساد کوئی ہو سکتا ہے کہ دارالاسلام کے وجود کو خطرہ لاحق ہوجائے ۔

یہ لوگ چونکہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ سے محاربت کرتے ہیں اگرچہ بظاہر وہ جماعت مسلمہ ‘ اسلامی سوسائٹی اور اس کے سربراہ کے خلاف برسرپیکار ہوتے ہیں ‘ وہ اللہ تعالیٰ کے خلاف تو تلوار اٹھا ہی نہیں سکتے ‘ اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ کی ذات کے خلاف تلوار اٹھا سکتے ہیں ‘ جبکہ آپ سے دنیا سے اٹھ چکے ہیں ۔ لیکن اگر کوئی جنگ اللہ کی شریعت کے خلاف ہو تو گویا وہ جنگ اللہ اور رسول کے خلاف ہو رہی ہے ۔ یہ جنگ اس سوسائٹی کے خلاف تصور ہوگی جس نے اللہ اور رسول کی شریعت کو اپنایا ہے اور اس علاقے کے خلاف ہوگی جس میں یہ شریعت نافذ ہو رہی ہو ۔

اس آیت کا ایک اور مفہوم بھی درج بالا مفہوم کے مطابق یہاں متعین ہوجاتا ہے ۔ وہ یہ کہ جس سربراہ مملکت کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق باغیوں کے خلاف آیت میں درج سزائیں دینے کا اختیار ہے وہ وہی سربراہ مملکت ہے جو اسلامی شریعت کے مطابق سربراہ بنا ہو اور جو شریعت کا نافذ کنندہ ہو ۔ ایسے بادشاہ کے علاوہ کسی اور بادشاہ یا سربراہ مملکت کو ایسے اختیارات نہ ہوں گے ۔

اس بات کی ہم فیصلہ کن وضاحت اس لئے کر رہے ہیں کہ حکومتوں کے بعض پٹھو جو ہر حکومت کو دسیتاب ہوجاتے ہیں ‘ وہ بعض حکومتوں کے لئے ایسی سزاؤں کے اختیارات ثابت کرتے ہیں ‘ جو شرعیت کی نافذ کنندہ نہیں ہوتیں حالانکہ وہ حکومتیں اپنے علاقے میں دارالاسلام قائم نہیں کرتیں اگرچہ وہ سمجھتی ہیں کہ ہم مسلمان ہیں ۔ اسے پٹھوؤں نے ہمیشہ ان حکومتوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ان حکومتوں کے خلاف اٹھنے والوں کو یہ قرآنی سزائیں دیں ‘ اور انہیں اللہ کی شریعت کے عنوان سے نافذ کریں ‘ حالانکہ ان لادین حکومتوں کے ارکان اللہ اور رسول کے باغی ہوتے ہیں بلکہ وہ ایسی حکومتوں کے ارکان ہوتے ہیں جو اللہ …

Al-Maaida 5:33Listen in Qur'an →
34

إِلَّا ٱلَّذِينَ تَابُوا۟ مِن قَبْلِ أَن تَقْدِرُوا۟ عَلَيْهِمْ ۖ فَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

ہاں جن لوگوں نے اس سے پیشتر کہ تمہارے قابو میں آ جائیں توبہ کر لی تو جان رکھو کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے

(آیت) ” إِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُواْ مِن قَبْلِ أَن تَقْدِرُواْ عَلَیْْہِمْ فَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(34)

” (مگر جو لوگ توبہ کرلیں قبل اس کے کہ تم ان پر قابو پاؤ۔۔۔۔۔ تو تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے)

توبہ کرنے والوں کی سزا اور جرم معاف کرنے میں جو حکمت پوشیدہ ہے وہ بالکل واضح ہے اور اس کے دو پہلو ہیں ۔ پہلا یہ کہ ان کی توبہ کی حوصلہ افزائی کی جائے ‘ جبکہ وہ پر قوت تھے ‘ بغاوت جاری رکھ سکتے تھے اور یہ ان کی جانب سے اصلاح پذیری اور ہدایت پر آجانے کی قوی دلیل ہے ۔ دوسرا پہلو یہ ہوگا انہیں دیکھ کر اس قسم کے دوسرے لوگ بھی توبہ کرنے اور راہ راست پر آنے کے لئے آمادہ ہوجائیں گے ۔ اس طرح جنگ وجدل اور مقابلے کے ذریعے انہیں مغلوب کرنے کے بجائے آسان طریقوں سے انہیں راہ راست پر لے آنا ممکن ہوجائے گا ۔

اسلامی نظام زندگی انسان کی اصلاح کے لئے اس کے تمام جذبات ‘ میلانات ‘ اور تمام ذرائع اور احتمالات کو کام میں لاتا ہے اور یہ ایک ایسا نظام ہے جو خود انسانی مزاج اور فطرت کے بنانے والے نے بنایا ہے ۔ وہ ذات انسانی ذات کے نشیب و فراز سے خوف واقف ہے ۔ وہ ذات جانتی ہے کہ انسان کی اصلاح کس طرح ہو سکتی ہے اور کس ذریعے سے ہو سکتی ہے ۔ کیا وہ ذات نہیں جانتی جس نے انسان کو پیدا کیا ہے ‘ وہ تو لطیف وخبیر ہے ۔ (آیت) ” (الا یعلم من خلق وھو اللطیف الخبیر)

اسلامی نظام زندگی لوگوں پر صرف اسلامی قانون نافذ نہیں کرتا ۔ وہ قانون کی تلوار اٹھا کر لوگوں پر اس طرح مسلط کرتا ہے کہ وہ ڈر کر دوبارہ جرم کا ارتکاب نہ کریں ۔ سزا صرف ان لوگوں کو دی جاتی ہے جو ڈنڈے کے بغیر کسی صورت میں بھی اصلاح کی راہ پر نہیں آتے ۔ اسلام سب سے پہلے لوگوں کی قلبی تربیت پر زور دیتا ہے ۔ لوگوں کے مزاج کو درست کیا جاتا ہے اور ان کی روح کو راہ اصلاح پر لایا جاتا ہے ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک ایسے معاشرے اور ایک ایسی سوسائٹی کا قیام بھی ضروری ہے جس کے اندر اصلاح ‘ نیکی اور بھلائی کے بیج بار آور ہو سکیں ۔ یہ بیج اسی زمین میں بار آور ہو سکتے ہیں جس کے اندر سے گندے پودوں اور جڑی بوٹیوں کو ختم کردیا گیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی نظام زندگی اقدامات کرتے ہی ‘ اصلاح روح اور تقوائے دل کی طرف کی طرف آجاتا ہے اور لوگوں کے دلوں میں روحانیت اور ترسی پیدا کرنے کی سعی کی جاتی ہے ۔ انہیں حکم دیا جاتا ہے ہے کہ خدا تک پہنچنے کے لئے اور اصلاح کی راہ اختیار کرنے کے لئے دوسرے وسائل بھی اختیار کئے جائیں اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سب سے بڑا وسیلہ اصلاح ہے ۔ اسلامی سوسائٹی کو کفر کے انجام سے ڈرایا جاتا ہے اور آخرت کے عذاب کی ایسی تصویر کشی کی جاتی ہے جو نہایت ہی خوفناک ہوتی ہے اور ہر شخص اس کو دیکھ کر عبرت پکڑ سکتا ہے ۔

Al-Maaida 5:34Listen in Qur'an →
35

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَٱبْتَغُوٓا۟ إِلَيْهِ ٱلْوَسِيلَةَ وَجَٰهِدُوا۟ فِى سَبِيلِهِۦ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

اے ایمان والو! خدا سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تلاش کرتے رہو اور اس کے رستے میں جہاد کرو تاکہ رستگاری پاؤ

(آیت) ” نمبر 35 تا 37۔

اسلامی نظام نفس انسانی کی اصلاح کے لیے ہر ذریعہ استعمال کرتا ہے اور اسے ہر پہلو سے گھیرتا ہے ۔ اسلامی نظام انسانی شخصیت کے باطن کی اصلاح بھی ضروری سمجھتا ہے ۔ وہ تمام ذرائع استعمال کرکے اسے اللہ کی اطاعت پر آمادہ کرتا ہے اور معصیت کردگار سے روکتا ہے ۔ اسلامی نظام زندگی کا مقصد اولیں اصلاح فرد ہے اور ایک فرد کو ہر قسم کے انحراف سے بچانا مطلوب ہے ۔ اور سزا دہی کا نظام بھی ایک فرد بشر کی اصلاح ہی کا ایک ذریعہ ہے ۔ سزا دہی اصل مقصد ہے ہی نہیں ۔

ذرا اس سبق پر غور کیجئے کہ یہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کے واقعہ سے شروع ہوتا ہے ۔ اس سبق میں جا بجا اشارات ہیں ۔ اس کے بعد اس میں سزا کا اعلان کیا جاتا ہے تاکہ دلوں کو اس کی طرف جانے سے روکا جائے ۔ پھر خدا خوفی کی دعوت دی جاتی ہے اور خدا کے عذاب آخرت سے ڈرایا جاتا ہے اور سزا کی اس خوفناک تصویر کشی کے ساتھ ساتھ کہا جاتا ہے ۔

(آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ “ (5 : 35) (اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈور)

یعنی مناسب یہی ہے کہ اصل خوف اللہ کا خوف ہے ‘ اور انسان جو اکرم المخلوقات ہے ‘ اس کے شایان شان بھی یہ ہے کہ وہ خدا سے ڈرے ۔ کوڑے اور تلوار اور ڈنڈے سے ڈرنا تو ایک گرا ہوا مقام ہے اور ڈنڈے کے ذریعے اصلاح کی تو صرف ان لوگوں کو ضرورت ہوتی ہے تو لوگ گرے ہوئے ہوتے ہیں ۔ خدا ترسی تو ایک بہتر ‘ پاکیزہ تر اور شریفانہ مقام ہے ۔ پھر خدا ترسی ایک ایسا چوکیدار ہے جو دلوں میں بیٹھا ہوتا ہے جو اعلانیہ اور خفیہ دونوں حالتوں میں سر پر بیٹھا ہوتا ہے ۔ جن حالات میں انسان لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوتا ہے ۔ اس وقت بھی تقوی اس کا نگران ہوتا ہے ۔ ایسے معاملات میں صرف تقوی ہی بدی اور شر سے روکتا ہے ‘ جن میں انسان قانون کی گرفت سے دور ہوتا ہے ۔ یہ بات اچھی طرح یاد رکھنے کے لائق ہے کہ تقوی کے بغیر قانون کی گرفت ڈھیلی ہوتی ہے ‘ کیونکہ جو مجرم قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں ان کی تعداد ان لوگوں سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے جو قانون کی گرفت میں آجاتے ہیں ۔ جو معاشرہ صرف قانون پر قائم ہوتا ہے اس میں نہ کسی فرد کی اصلاح ہوتی ہے اور نہ اس معاشرے کی اصلاح ہوتی ہے ۔ قانون کے پیچھے ایک پوشیدہ چوکیدار کا ہونا ضروری ہے اور یہ چوکیدار صرف خدا خوفی کا چوکیدار ہوتا ہے جو ہر دل میں بوجہ خدا ترسی اور تقوی بیٹھا ہوتا ہے ۔

(آیت) ” وابتغوا الیہ الوسلۃ “۔ (5 : 35) (اور اس کی جناب میں باریابی کا ذریعہ تلاش کرو)

اللہ سے ڈرو اور اس تک جانے کا وسیلہ تلاش کرو ‘ اور ان اسباب کی تلاش کرو جو تمہیں اللہ کے ساتھ جوڑتے ہیں ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک روایت ہے (آیت) ” وابتغوا الیہ الوسلۃ “۔ (5 : 35) (یعنی اس سے اپنی حاجات طلب کرو) کا مطلب یہ ہے کہ انسان جب اللہ کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں اور پھر اپنی حاجات اللہ سے طلب کرتے ہیں تو وہ اس وقت بندگی کی صحیح پوزیشن میں ہوتے ہیں ۔ اس وقت اللہ کی ربوبیت پر انہیں پورا پورا یقین ہوجاتا ہے اور ایسے حالات میں وہ اصلاح اور فلاح دونوں کے قریب تر پہنچ جاتے ہیں ۔ یہ دونوں تفسیریں اس آیت کے الفاظ کے ساتھ لگا کھاتی ہے ۔ دونوں کے ذریعے دل کی دنیا کی اصلاح ‘ ضمیر اور روح کی زندگی اور وہ فلاح اخروی حاصل ہوتی ہے جو ہمارا نصب العین ہے ۔

(آیت) ” وجاھدوا فی سبیلہ لعلکم تفلحون “۔ (5 : 35) (اور اس کی راہ میں جدوجہد کرو ‘ شاید کہ تمہیں کامیابی نصیب ہوجائے)

اس کے مقابلے میں کفار کا منظر آتا ہے ‘ جو اللہ سے نہیں ڈرتے اور جو اللہ تک پہنچنے کے لئے ذریعے کی تلاش نہیں کرتے ۔ اور آخرت میں کامیاب نہیں ہوتے ۔ یہ زندہ اور متحرک منظر ہے ‘ نظروں کے بالکل سامنے ۔ قرآن ‘ اس آیت کے بیان میں بیانیہ اور احکام قانون کا انداز اختیار نہیں کرتا بلکہ ان کے بارے میں حرکات اور تاثراقت پیش کئے جاتے ہیں ۔ شاید …

Al-Maaida 5:35Listen in Qur'an →
36

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَوْ أَنَّ لَهُم مَّا فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًۭا وَمِثْلَهُۥ مَعَهُۥ لِيَفْتَدُوا۟ بِهِۦ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۭ

جو لوگ کافر ہیں اگر ان کے پاس روئے زمین (کے تمام خزانے اور اس) کا سب مال ومتاع ہو اور اس کے ساتھ اسی قدر اور بھی ہو تاکہ قیامت کے روز عذاب (سے رستگاری حاصل کرنے) کا بدلہ دیں تو ان سے قبول نہیں کیا جائے گا اور ان کو درد دینے والا عذاب ہوگا

(آیت) ” إِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ لَوْ أَنَّ لَہُم مَّا فِیْ الأَرْضِ جَمِیْعاً وَمِثْلَہُ مَعَہُ لِیَفْتَدُواْ بِہِ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ مَا تُقُبِّلَ مِنْہُمْ وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ(36) یُرِیْدُونَ أَن یَخْرُجُواْ مِنَ النَّارِ وَمَا ہُم بِخَارِجِیْنَ مِنْہَا وَلَہُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ(37)

(خوب جان لو کہ جن لوگوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا ہے اگر ان کے قبضے میں ساری زمین کی دولت ہو اور اتنی ہی اور اس کے ساتھ اور وہ چاہیں کہ اسے فدیہ میں دے کر روز قیامت کے عذاب سے بچ جائیں ‘ تب بھی وہ ان سے قبول نہ کی جائے گی اور انہیں دردناک سزا مل کر رہے گی ۔ وہ چاہیں گے کہ دوزخ کی آگ سے نکل بھاگیں مگر نہ نکل سکیں گے اور انہیں قائم رہنے والا عذاب دیا جائے گا۔ )

بطور فرض انسان جو تصور کرسکتا ہے وہ یہی ہے کہ اہل کفر کے پاس زمین کے تمام خزانے ہوں اور اسی قدر مزید ان کے لئے فرض کیا جاسکتا ہے ۔ قرآن کریم ان کے لئے یہ بھی فرض کرتا ہے کہ اس جہان جیسا ایک دوسرا جہان بھی ان کے پاس ہو ۔ اس کے بعد قرآن کریم یہ فرض کرتا ہے کہ یہ لوگ قیامت کے دن یہ تمام مفروضہ دولت بطور فدیہ اور کفارہ کفر دینا چاہتے ہیں تاکہ وہ آخرت کے عذاب سے بچ جائیں ۔ قرآن کریم ایک ایسا منظر نظروں کے سامنے لاتا ہے کہ وہ آگ سے کس طرح نکلنا چاہتے ہیں مگر وہ نکل نہیں سکتے ۔ وہ اپنے اس مقصد اور ہدف میں ناکام رہتے ہیں اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جن ہم کی آگ میں زندہ رہتے ہیں ۔

یہ ایک ایسا منظر ہے جس کے اندر کئی مناظر ہیں اور جس میں کئی مسلسل حرکات ہیں ۔ ایک منظر کفار کا ہے وہ اپنے پاس اس پورے جہان کی دولت لیے ہوئے ہیں پھر اچانک یہ دولت دوگنی ہوجاتی ہے ۔ پھر وہ اس دولت کو لے کر اسے بطور فدیہ دینے کی پیشکش کرتے ہیں ۔ پھر ان کا یہ منظر سامنے آتا ہے کہ وہ یہ مقصد حاصل کرنے میں ناکام لوٹتے ہیں اب انہیں یہ مقصد حاصل کرنے کی کوئی آس بھی نہیں رہتی ۔ پھر وہ اچانک آگ میں داخل ہوتے ہیں اور وہ اس سے باہر بھاگنا چاہتے ہیں مگر بھاگ نہیں سکتے ۔ پھر ان کو مجبور کردیا جاتا ہے کہ وہ ہمیشہ وہاں باقی رہیں ۔ اب پردہ گرتا ہے اور وہ یہاں ہی فروکش ہوجاتے ہیں ۔ (دیکھئے کتاب التصویر الغنی میں فصل طریقہ القرآن)

اور اب اس سبق کے آخر میں چوروں کے احکام :

Al-Maaida 5:36Listen in Qur'an →
37

يُرِيدُونَ أَن يَخْرُجُوا۟ مِنَ ٱلنَّارِ وَمَا هُم بِخَٰرِجِينَ مِنْهَا ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌۭ مُّقِيمٌۭ

(ہر چند) چاہیں گے کہ آگ سے نکل جائیں مگر اس سے نہیں نکل سکیں گے اور ان کے لئے ہمیشہ کا عذاب ہے

(آیت) ” إِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ لَوْ أَنَّ لَہُم مَّا فِیْ الأَرْضِ جَمِیْعاً وَمِثْلَہُ مَعَہُ لِیَفْتَدُواْ بِہِ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ مَا تُقُبِّلَ مِنْہُمْ وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ(36) یُرِیْدُونَ أَن یَخْرُجُواْ مِنَ النَّارِ وَمَا ہُم بِخَارِجِیْنَ مِنْہَا وَلَہُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ(37)

(خوب جان لو کہ جن لوگوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا ہے اگر ان کے قبضے میں ساری زمین کی دولت ہو اور اتنی ہی اور اس کے ساتھ اور وہ چاہیں کہ اسے فدیہ میں دے کر روز قیامت کے عذاب سے بچ جائیں ‘ تب بھی وہ ان سے قبول نہ کی جائے گی اور انہیں دردناک سزا مل کر رہے گی ۔ وہ چاہیں گے کہ دوزخ کی آگ سے نکل بھاگیں مگر نہ نکل سکیں گے اور انہیں قائم رہنے والا عذاب دیا جائے گا۔ )

بطور فرض انسان جو تصور کرسکتا ہے وہ یہی ہے کہ اہل کفر کے پاس زمین کے تمام خزانے ہوں اور اسی قدر مزید ان کے لئے فرض کیا جاسکتا ہے ۔ قرآن کریم ان کے لئے یہ بھی فرض کرتا ہے کہ اس جہان جیسا ایک دوسرا جہان بھی ان کے پاس ہو ۔ اس کے بعد قرآن کریم یہ فرض کرتا ہے کہ یہ لوگ قیامت کے دن یہ تمام مفروضہ دولت بطور فدیہ اور کفارہ کفر دینا چاہتے ہیں تاکہ وہ آخرت کے عذاب سے بچ جائیں ۔ قرآن کریم ایک ایسا منظر نظروں کے سامنے لاتا ہے کہ وہ آگ سے کس طرح نکلنا چاہتے ہیں مگر وہ نکل نہیں سکتے ۔ وہ اپنے اس مقصد اور ہدف میں ناکام رہتے ہیں اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جن ہم کی آگ میں زندہ رہتے ہیں ۔

یہ ایک ایسا منظر ہے جس کے اندر کئی مناظر ہیں اور جس میں کئی مسلسل حرکات ہیں ۔ ایک منظر کفار کا ہے وہ اپنے پاس اس پورے جہان کی دولت لیے ہوئے ہیں پھر اچانک یہ دولت دوگنی ہوجاتی ہے ۔ پھر وہ اس دولت کو لے کر اسے بطور فدیہ دینے کی پیشکش کرتے ہیں ۔ پھر ان کا یہ منظر سامنے آتا ہے کہ وہ یہ مقصد حاصل کرنے میں ناکام لوٹتے ہیں اب انہیں یہ مقصد حاصل کرنے کی کوئی آس بھی نہیں رہتی ۔ پھر وہ اچانک آگ میں داخل ہوتے ہیں اور وہ اس سے باہر بھاگنا چاہتے ہیں مگر بھاگ نہیں سکتے ۔ پھر ان کو مجبور کردیا جاتا ہے کہ وہ ہمیشہ وہاں باقی رہیں ۔ اب پردہ گرتا ہے اور وہ یہاں ہی فروکش ہوجاتے ہیں ۔ (دیکھئے کتاب التصویر الغنی میں فصل طریقہ القرآن)

اور اب اس سبق کے آخر میں چوروں کے احکام :

Al-Maaida 5:37Listen in Qur'an →
38

وَٱلسَّارِقُ وَٱلسَّارِقَةُ فَٱقْطَعُوٓا۟ أَيْدِيَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَٰلًۭا مِّنَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌۭ

اور جو چوری کرے مرد ہو یا عورت ان کے ہاتھ کاٹ ڈالو یہ ان کے فعلوں کی سزا اور خدا کی طرف سے عبرت ہے اور خدا زبردست (اور) صاحب حکمت ہے

(آیت) ” نمبر 38 تا 40۔

” اسلامی معاشرہ ‘ باشندگان دارالاسلام کے لئے ایک ایسا ماحول فراہم کرتا ہے جس میں کوئی معتدل شخص چوری کے بارے میں سوچ ہی نہ سکے ‘ چاہے ان باشندوں کے عقائد ونظریات جو بھی ہوں۔ اسلامی معاشرہ اپنے باشندوں کو معاشی کفالت ‘ اخلاقی تربیت اور درست طرز عمل اختیار کرنے کی ضمانت دیتا ہے ۔ نیزانصاف اور دولت کی منصفانہ تقسیم کا انتظام کرتا ہے اور وہ یہ انتظام بھی کرتا ہے کہ اس کے اندر انفرادی ملکیت کی شکل ایسی ہو کہ وہ پوری سوسائٹی کے لیے نفع بخش ہو اور وہ معاشرے کے لئے باعث اذیت نہ ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے حالات پیدا کردینے کے بعد بھی اگر کوئی چوری کرتا ہے تو اسلام اسے سخت ترین سزا دیتا ہے ۔ اسی طرح انفرادی ملکیت پر دست درازی کرنے والے اور سوسائٹی کا امن وامان تباہ کرنے والے کو عبرت ناک سزا دیتا ہے ۔ ان سخت ترین سزاؤں کی تجویز کے ساتھ ساتھ اسلام شبہات کی بنا پر حدود کو ساقط بھی کرتا ہے اور ملزم کو مکمل قانونی دفاع کا اختیار اور حق عطا کرتا ہے تاکہ کسی شخص کو مکمل ثبوت کے بغیر سزا نہ دی جاسکے ۔ اب مناسب ہے کہ اس اجمال کے بعد قدرے تفصیلی بحث کردی جائے ۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلامی نظام ایک باہم مربوط کل ہے ۔ اس نظام کے کسی جزء کو اس وقت تک نہیں سمجھا جاسکتا جب تک کسی کے پیش نظر وہ تمام اصولی مباحث نہ ہوں اور وہ ضمانتیں نہ ہوں جو یہ نظام اسلامی معاشرے کو فراہم کرتا ہے اور جن اصولوں اور قواعد پر اس کی جزئیات قائم ہیں ۔ پھر اسلامی نظام کا ایک ایک جزء نافذ بھی نہیں ہو سکتا جب تک اسے مکمل طور پر نافذ نہ کیا جائے اور اسے مجموعی طور پر روبعمل نہ لایا جائے ، رہی یہ صورت کہ اس نظام کے کسی ایک جزء کو نافذ کرنا یا اس کے اصولوں میں سے کسی ایک اصول کو نافذ کرنا اور یہ نفاذ ایک ایسے معاشرے اور ایک ایسے نظام کے اندر کرنا جو مجموعی طور پر اسلامی نظام نہیں ہے تو اس کا کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔

اسلام سے کٹا ہوا یہ جزء بھی اسلام کا نفاذ تصور نہ ہوگا ‘ اس لئے کہ اسلام ‘ اسلام کے اجزاء اور ٹکڑوں کا نام نہیں ہے ۔ اسلام ایک ایسا نظام ہے جو تمام شعبہ ہائے حیات پر حاوی ہے اور اس کے احکام باہم مربوط ہیں ۔۔۔۔۔ یہ تو ایک عمومی بات تھی ۔

رہی یہ بات کہ چوری کے قانون اسلامی کے بارے میں بات قدرے مختلف ہے تو حقیقت یہ ہے کہ دارالاسلام میں اسلام ہر فرد کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ زندہ رہے ‘ اور اپنی زندگی کے حفظ اور بقاء کے لئے تمام وسائل سے کام لے ۔ ہر شخص کھا پی سکتا ہے ‘ ہر شخص کو مکان اور لباس کا حق ہے جہاں وہ آرام اور سکون سے رات گزرے ۔ ایک فرد کا اسلامی سوسائٹی پر یہ حق ہے کہ وہ اسے اس کی یہ بنیادی ضروریات فراہم کرے اور ظاہر ہے کہ ایک حکومت پوری سوسائٹی کی طرف سے نمائندہ ہوتی ہے ۔ یہ حق اس طرح فراہم ہوگا کہ حکومت ان تمام لوگوں کو روز گار فراہم کرے جو کام کرنے کے قابل ہوں ۔ یہ حق ایک فرد کا سوسائٹی پر ہے اور پھر حکومت پر ہے ۔ یہ سوسائٹی اور حکومت لوگوں کو کام کرنے کی تربیت بھی دے گی اور لوگوں کو کام کرنے کے مواقع اور کام کے اوزار بھی فراہم کرے گی ۔ اگر کوئی بےروز گار ہوجاتا ہے اس طرح کہ اسے کام نہیں ملتا ‘ یا کام کے اوزار نہیں ملتے ‘ یا وہ محنت کے قابل نہیں رہتا اور یہ بیکاری جزئی ہے یا کلی ہے ‘ وقتی ہے یا دائمی ہے ‘ یا صورت یہ ہے کہ وہ کام تو کرتا ہے لیکن یہ کام اس کی ضروریات کے لیے کافی نہیں ہے تو اس فرد کا یہ حق ہے کہ وہ اجتماعی نظام یا سوسائٹی اس فرد کو یہ ضروریات خزانہ سے فراہم کرے یا ان لوگوں کے ذریعے فراہم کرائے جن پر ایسے افراد کا نفقہ فرض ہے ۔ اہل محلہ سے ایسے لوگوں کی ضروریات فراہم کرائے ورنہ جیسا کہ کہا گیا بیت المال اور خزانہ سے فراہم کرے ۔ بیت المال کی ایک مد زکوۃ تو ہے ہی اس کے لیے ۔ اگر زکوۃ فنڈ سے بھی پورا نہ ہو تو پھر پورے دارالاسلام پر اس سلسلے میں ٹیکس …

Al-Maaida 5:38Listen in Qur'an →
39

فَمَن تَابَ مِنۢ بَعْدِ ظُلْمِهِۦ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ ٱللَّهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌ

اور جو شخص گناہ کے بعد توبہ کرے اور نیکوکار ہو جائے تو خدا اس کو معاف کر دے گا کچھ شک نہیں کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے

(آیت) ” فَمَن تَابَ مِن بَعْدِ ظُلْمِہِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللّہَ یَتُوبُ عَلَیْْہِ إِنَّ اللّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(39)

” اور وہ دانا وبینا ہے ۔ پھر جو ظلم کرنے کے بعد توبہ کرے اور اپنی اصلاح کرلے تو اللہ کی نظر عنایت پھر اس پر مائل ہوجائے گی ‘ اللہ بہت درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے)

” اللہ کی حکمرانی ایک ہے ‘ وہ مالک الملک ہے ‘ وہی ہے جو اس دنیا کے لئے قانون بناتا ہے اور آخرت میں پھر اس قانون کے مطابق جزا وسزا مقرر کرتا ہے ۔ ان معاملات میں نہ تعدد ہے ‘ نہ کوئی تقسیم ہے اور نہ یہ معاملات ایک دوسرے سے جدا ہیں ۔ لوگوں کے معاملات اس وقت تک درست نہیں ہوسکتے جب تک حق قانون سازی اور نظام جزاوسزا دنیا اور آخرت دونوں میں ایک ہی ذات باری میں مرتکز نہ کردیا جائے ۔ اس لئے کہ اگر اس کائنات میں صرف اللہ الہ نہ ہوتا اور متعدد الہ ہوتے تو یہ کب کی تباہ ہوچکی ہوتی ۔ پس وہی ہے جو آسمانوں میں بھی الہ ہے اور زمین میں الہ۔

درس نمبر 49 ایک نظر میں :

اس سبق میں اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی نظام حیات کا نہایت ہی اہم مسئلہ لیا گیا ہے ۔ اس پر اسلامی نظام حکومت اور اسلامی زندگی کا دارومدا رہے ۔ سورة آل عمران اور سورة نساء میں بھی اس مسئلے کا بار بار ذکر ہوا ہے لیکن یہاں اس سبق میں اسے نہایت ہی واضح اور قطعی شکل میں لے لیا گیا ہے ۔ یہاں اس مسئلے کو اشارۃ النص یا مفہوم آیت کے طور پر نہیں لیا گیا نہ بطور اقتضاء النص لیا گیا ۔ یہاں اسے عبارۃ النص اور قضی الدلالت کے طور پر بیان کیا گیا ہے ۔

یہ مسئلہ نظام حکومت ‘ قانونی نظام اور عدالتی نظام سے متعلق ہے اور اس کی اساس پر مسئلہ توحید ‘ مسئلہ حاکمیت الہیہ اور ایک شخص کے ایمان کے ہونے نہ ہونے کا دارومدار ہے ۔

سوال یہ ہے کہ ہمارا نظام حکومت ہمارا قانونی نظام اور ہمارا نظام عدالت آیا اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق ہوگا ‘ شریعت کے مطابق ہوگا اور ان شرائع کے مطابق ہوگا جو ادیان سماوی میں محفوظ رہی ہیں ۔ سابقہ رسل اور اس رسول آخر الزمان کی شریعت کے مطابق ہوگا یا ہماری خواہشات بدلتی ہوئی خواہشات یا ہمار مصالح اور بدلتے ہوئے مصالح کے مطابق ہوگا جو اللہ کی شریعت کے مطابق نہیں ہیں یا صرف کسی دوریا کسی نسل کے رسم و رواج کے مطابق متغیر اور متبدل ہوتا رہے گا ۔ آیا لوگوں کی زندگی اور اس کرہ ارض پر حاکمیت ‘ ربوبیت اور قیومیت اللہ کی ہوگی یا اس میں سے بعض چیزیں اللہ کی اور بعض دوسرے لوگوں کی ہوں گی ؟

اللہ تعالیٰ کا فرمان یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی اور الہ نہیں ہے ۔ اس نے لوگوں کے لئے ایک شریعت نازل کی ہے اور یہ شریعت اور قانون اس کی حاکمیت کے مطابق ہے ۔ اس نے لوگوں سے یہ عہد لیا ہے کہ وہ اللہ کی شریعت پر قائم رہیں گے اور اس کرہ ارض پر یہی شریعت حاکم رہے گی ۔ اور لوگوں کا فرض ہے کہ وہ اسی شریعت کے مطابق اپنی عدالتیں چلائیں اور انبیاء کا بھی فرض ہے کہ وہ اس کے مطابق کام کریں ۔ انبیاء کے بعد حکام کا فرض بھی یہی ہے کہ وہ اس کے مطابق فیصلے کریں ۔

اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ اس مسئلے میں کوئی جھوٹ اور کوئی خود مختاری نہیں ہے ۔ اس مسئلے میں زندگی کے معاملات میں سے چھوٹے سے چھوٹے معاملے میں انحراف ناقابل برداشت ہے ۔ اگر کوئی پوری نسل کسی بھی دور میں کوئی قانون اس کے مقابلے میں وضع کرے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ نہ کسی قبیلے یا کسی قوم کا کوئی اصول اس کے مقابلے میں کوئی حیثیت رکھتا ہے الا یہ کہ اللہ نے کسی چیز کا اذن دے دیا ہو ۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہاں سوال یا تو ایمان وکفرکا ہے یا اسلام اور جاہلیت کا یا شریعت ہوگی یا نفسانیت ۔ اس معاملے میں نہ کوئی بین بین مقام ہے ۔ نہ نرمی ہے اور نہ مصالحت ہے ۔ مومنین وہی لوگ ہیں جو اللہ کے قانون کے مطابق حکم کرتے ہیں ۔ اس سے ذرہ برابر انحراف نہیں کرتے اور اس میں ایک حرف کی تبدیلی نہیں کرتے ، …

Al-Maaida 5:39Listen in Qur'an →
40

أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ ٱللَّهَ لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ يُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ وَيَغْفِرُ لِمَن يَشَآءُ ۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ

کیا تم کو معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں خدا ہی کی سلطنت ہے؟ جس کو چاہے عذاب کرے اور جسے چاہے بخش دے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

(آیت) ” فَمَن تَابَ مِن بَعْدِ ظُلْمِہِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللّہَ یَتُوبُ عَلَیْْہِ إِنَّ اللّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(39)

” اور وہ دانا وبینا ہے ۔ پھر جو ظلم کرنے کے بعد توبہ کرے اور اپنی اصلاح کرلے تو اللہ کی نظر عنایت پھر اس پر مائل ہوجائے گی ‘ اللہ بہت درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے)

” اللہ کی حکمرانی ایک ہے ‘ وہ مالک الملک ہے ‘ وہی ہے جو اس دنیا کے لئے قانون بناتا ہے اور آخرت میں پھر اس قانون کے مطابق جزا وسزا مقرر کرتا ہے ۔ ان معاملات میں نہ تعدد ہے ‘ نہ کوئی تقسیم ہے اور نہ یہ معاملات ایک دوسرے سے جدا ہیں ۔ لوگوں کے معاملات اس وقت تک درست نہیں ہوسکتے جب تک حق قانون سازی اور نظام جزاوسزا دنیا اور آخرت دونوں میں ایک ہی ذات باری میں مرتکز نہ کردیا جائے ۔ اس لئے کہ اگر اس کائنات میں صرف اللہ الہ نہ ہوتا اور متعدد الہ ہوتے تو یہ کب کی تباہ ہوچکی ہوتی ۔ پس وہی ہے جو آسمانوں میں بھی الہ ہے اور زمین میں الہ۔

درس نمبر 49 ایک نظر میں :

اس سبق میں اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی نظام حیات کا نہایت ہی اہم مسئلہ لیا گیا ہے ۔ اس پر اسلامی نظام حکومت اور اسلامی زندگی کا دارومدا رہے ۔ سورة آل عمران اور سورة نساء میں بھی اس مسئلے کا بار بار ذکر ہوا ہے لیکن یہاں اس سبق میں اسے نہایت ہی واضح اور قطعی شکل میں لے لیا گیا ہے ۔ یہاں اس مسئلے کو اشارۃ النص یا مفہوم آیت کے طور پر نہیں لیا گیا نہ بطور اقتضاء النص لیا گیا ۔ یہاں اسے عبارۃ النص اور قضی الدلالت کے طور پر بیان کیا گیا ہے ۔

یہ مسئلہ نظام حکومت ‘ قانونی نظام اور عدالتی نظام سے متعلق ہے اور اس کی اساس پر مسئلہ توحید ‘ مسئلہ حاکمیت الہیہ اور ایک شخص کے ایمان کے ہونے نہ ہونے کا دارومدار ہے ۔

سوال یہ ہے کہ ہمارا نظام حکومت ہمارا قانونی نظام اور ہمارا نظام عدالت آیا اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق ہوگا ‘ شریعت کے مطابق ہوگا اور ان شرائع کے مطابق ہوگا جو ادیان سماوی میں محفوظ رہی ہیں ۔ سابقہ رسل اور اس رسول آخر الزمان کی شریعت کے مطابق ہوگا یا ہماری خواہشات بدلتی ہوئی خواہشات یا ہمار مصالح اور بدلتے ہوئے مصالح کے مطابق ہوگا جو اللہ کی شریعت کے مطابق نہیں ہیں یا صرف کسی دوریا کسی نسل کے رسم و رواج کے مطابق متغیر اور متبدل ہوتا رہے گا ۔ آیا لوگوں کی زندگی اور اس کرہ ارض پر حاکمیت ‘ ربوبیت اور قیومیت اللہ کی ہوگی یا اس میں سے بعض چیزیں اللہ کی اور بعض دوسرے لوگوں کی ہوں گی ؟

اللہ تعالیٰ کا فرمان یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی اور الہ نہیں ہے ۔ اس نے لوگوں کے لئے ایک شریعت نازل کی ہے اور یہ شریعت اور قانون اس کی حاکمیت کے مطابق ہے ۔ اس نے لوگوں سے یہ عہد لیا ہے کہ وہ اللہ کی شریعت پر قائم رہیں گے اور اس کرہ ارض پر یہی شریعت حاکم رہے گی ۔ اور لوگوں کا فرض ہے کہ وہ اسی شریعت کے مطابق اپنی عدالتیں چلائیں اور انبیاء کا بھی فرض ہے کہ وہ اس کے مطابق کام کریں ۔ انبیاء کے بعد حکام کا فرض بھی یہی ہے کہ وہ اس کے مطابق فیصلے کریں ۔

اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ اس مسئلے میں کوئی جھوٹ اور کوئی خود مختاری نہیں ہے ۔ اس مسئلے میں زندگی کے معاملات میں سے چھوٹے سے چھوٹے معاملے میں انحراف ناقابل برداشت ہے ۔ اگر کوئی پوری نسل کسی بھی دور میں کوئی قانون اس کے مقابلے میں وضع کرے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ نہ کسی قبیلے یا کسی قوم کا کوئی اصول اس کے مقابلے میں کوئی حیثیت رکھتا ہے الا یہ کہ اللہ نے کسی چیز کا اذن دے دیا ہو ۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہاں سوال یا تو ایمان وکفرکا ہے یا اسلام اور جاہلیت کا یا شریعت ہوگی یا نفسانیت ۔ اس معاملے میں نہ کوئی بین بین مقام ہے ۔ نہ نرمی ہے اور نہ مصالحت ہے ۔ مومنین وہی لوگ ہیں جو اللہ کے قانون کے مطابق حکم کرتے ہیں ۔ اس سے ذرہ برابر انحراف نہیں کرتے اور اس میں ایک حرف کی تبدیلی نہیں کرتے ، …

Al-Maaida 5:40Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.