Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani

Ayahs 21–30 of 120

21

يَٰقَوْمِ ٱدْخُلُوا۟ ٱلْأَرْضَ ٱلْمُقَدَّسَةَ ٱلَّتِى كَتَبَ ٱللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَرْتَدُّوا۟ عَلَىٰٓ أَدْبَارِكُمْ فَتَنقَلِبُوا۟ خَٰسِرِينَ

تو بھائیو! تم ارض مقدس (یعنی ملک شام) میں جسے خدا نے تمہارے لیے لکھ رکھا ہے چل داخل ہو اور (دیکھنا مقابلے کے وقت) پیٹھ نہ پھیر دینا ورنہ نقصان میں پڑ جاؤ گے

[٥٢] فلسطین کا حال معلوم کرنے والا وفد :۔ جب فرعون بحر قلزم میں غرق ہوگیا اور بنی اسرائیل اس سے پار اتر گئے تو ان لوگوں کی یہ ہجرت ان کے آبائی وطن فلسطین کی طرف بتائی گئی تھی جو سیدنا ابراہیم سیدنا اسحاق اور سیدنا یعقوب وغیر ہم کی تبلیغ کا مرکز رہا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو بذریعہ وحی اللہ تعالیٰ نے اطلاع دی تھی کہ ان مہاجرین کو ساتھ لے جا کر فلسطین پر چڑھائی کرو تو بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ فتح دے گا اور اس طرح ان کا آبائی وطن ان کو واپس مل جائے گا۔ چناچہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو جہاد کی ترغیب دی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے فتح و نصرت کی بشارت بھی دی مگر ان لوگوں نے یہ سوچا کہ پہلے ہمیں فلسطین کے موجودہ حالات سے پوری طرح واقف ہونا چاہیے تب ہی جنگ کی کوئی بات سوچ سکتے ہیں۔ چناچہ ان لوگوں نے خود تو دشت فاران میں ڈیرے ڈال دیئے اور اپنے میں سے بارہ آدمیوں کو فلسطین کے سیاسی حالات کا جائزہ لینے کے لیے روانہ کردیا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو روانہ کرتے وقت یہ تاکید کردی تھی کہ حالات جیسے بھی ہوں آ کر صرف مجھے بتانا۔ ہر کس و ناکس کے سامنے تشہیر نہ کرنا۔

Al-Maaida 5:21Listen in Qur'an →
22

قَالُوا۟ يَٰمُوسَىٰٓ إِنَّ فِيهَا قَوْمًۭا جَبَّارِينَ وَإِنَّا لَن نَّدْخُلَهَا حَتَّىٰ يَخْرُجُوا۟ مِنْهَا فَإِن يَخْرُجُوا۟ مِنْهَا فَإِنَّا دَٰخِلُونَ

وہ کہنے لگے کہ موسیٰ! وہاں تو بڑے زبردست لوگ (رہتے) ہیں اور جب تک وہ اس سرزمین سے نکل نہ جائیں ہم وہاں جا نہیں سکتے ہاں اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو ہم جا داخل ہوں گے

[٥٣] وفد کی رپورٹ اور جہاد سے انکار :۔ لیکن ان لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے حکم کی خلاف ورزی کی اور جب فلسطین کے علاقہ کا دورہ کر کے واپس آئے، تو اس کی رپورٹ خفیہ طور پر سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو دینے کی بجائے ہر ایک کو وہاں کے حالات بتانا شروع کردیئے۔ اور وہ رپورٹ یہ تھی کہ فلسطین کا علاقہ واقعی بڑا زرخیز و شاداب ہے۔ وہاں پانی اور دودھ کی نہریں بہتی ہیں لوگوں کی معاشی حالتاچھی ہے لیکن وہ لوگ بڑے طاقتور، زور آور اور قدآور ہیں۔ ہم ان کے مقابلہ میں ٹڈے معلوم ہوتے تھے اور وہ بھی ہمیں ٹڈے ہی سمجھتے تھے۔ لہذا ان لوگوں پر فتح حاصل کرنا ہماری بساط سے باہر ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ ان طاقتور لوگوں کی موجودگی میں ہمارا وہاں داخل ہونا اور پھر مقابلہ کر کے فتح یاب ہونا ناممکنات سے ہے اور اگر اللہ نے یہ علاقہ ہمارے مقدر میں لکھا ہوا ہے تو وہ کوئی ایسا انتظام کر دے کہ وہ وہاں سے نکل جائیں تو تب ہی ہم اس میں داخل ہوسکتے ہیں۔

Al-Maaida 5:22Listen in Qur'an →
23

قَالَ رَجُلَانِ مِنَ ٱلَّذِينَ يَخَافُونَ أَنْعَمَ ٱللَّهُ عَلَيْهِمَا ٱدْخُلُوا۟ عَلَيْهِمُ ٱلْبَابَ فَإِذَا دَخَلْتُمُوهُ فَإِنَّكُمْ غَٰلِبُونَ ۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَتَوَكَّلُوٓا۟ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

جو لوگ (خدا سے) ڈرتے تھے ان میں سے دو شخص جن پر خدا کی عنایت تھی کہنے لگے کہ ان لوگوں پر دروازے کے رستے سے حملہ کردو جب تم دروازے میں داخل ہو گئے تو فتح تمہارے ہے اور خدا ہی پر بھروسہ رکھو بشرطیکہ صاحبِ ایمان ہو

[٥٤] فلسطین کے سیاسی حالات کا جائزہ لینے کے لیے بارہ افراد پر مشتمل جو وفد بھیجا گیا تھا ان میں دو آدمی یوشع بن نون اور کالب بھی تھے۔ اور یہ دونوں پکے مومن تھے یوشع تو غالباً وہی ہیں جنہوں نے سیدنا خضر کی تلاش میں سفر میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا ساتھ دیا تھا۔ اور بعد میں ان کے خلیفہ بھی بنے۔ ان دونوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی ہدایت کے مطابق وہاں کے حالات کی عام لوگوں کے سامنے تشہیر نہیں کی تھی اور تمام حالات خفیہ طور پر سیدنا موسیٰ سے بیان کیے تھے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے ساتھی انتہائی بزدلی کا مظاہرہ کر رہے ہیں تو اپنی قوم سے کہنے لگے، چونکہ اللہ نے فتح و نصرت کا ہم سے وعدہ کر رکھا ہے لہذا ان جباروں سے ڈرنے کی بجائے اللہ پر بھروسہ کرو۔ کمر ہمت باندھو اور دروازے میں داخل ہوجاؤ۔ اگر تم نے اتنی جرأت کرلی تو یقینا اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تم ہی غالب ہو گے۔

Al-Maaida 5:23Listen in Qur'an →
24

قَالُوا۟ يَٰمُوسَىٰٓ إِنَّا لَن نَّدْخُلَهَآ أَبَدًۭا مَّا دَامُوا۟ فِيهَا ۖ فَٱذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَٰتِلَآ إِنَّا هَٰهُنَا قَٰعِدُونَ

وہ بولے کہ موسیٰ! جب تک وہ لوگ وہاں ہیں ہم کبھی وہاں نہیں جا سکتے (اگر لڑنا ہی ضرور ہے) تو تم اور تمہارا خدا جاؤ اور لڑو ہم یہیں بیٹھے رہیں گے

[٥٥] بنی اسرائیل کا موسیٰ کو جہاد کرنے سے جواب :۔ لیکن یہ قوم جو مدت دراز سے فرعونیوں کی غلامی میں زندگی بسر کر رہی تھی اور اللہ کی بجائے بچھڑے کی پرستش کر رہی تھی اس قدر پست ہمت اور بزدل بن چکی تھی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو مخاطب کر کے کہنے لگی کہ جب تک وہ لوگ وہاں سے نکل نہیں جاتے ہم وہاں کبھی نہ جائیں گے اور نہ ہی اپنے آپ کو دیدہ دانستہ ہلاکت میں ڈالنے کو تیار ہیں اگر تمہیں جہاد پر اتنا ہی اصرار ہے تو جاؤ تم اور تمہارا رب جا کر ان سے مقابلہ کرو ہم تو یہاں سے آگے نہیں جائیں گے۔

Al-Maaida 5:24Listen in Qur'an →
25

قَالَ رَبِّ إِنِّى لَآ أَمْلِكُ إِلَّا نَفْسِى وَأَخِى ۖ فَٱفْرُقْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ ٱلْقَوْمِ ٱلْفَٰسِقِينَ

موسیٰ نے (خدا سے) التجا کی کہ پروردگار میں اپنے اور اپنے بھائی کے سوا اور کسی پر اختیار نہیں رکھتا تو ہم میں اور ان نافرمان لوگوں میں جدائی کردے

[٥٦] موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم سے یہ جواب سن کر سخت مایوس اور غمگین ہوگئے اور اللہ کے حضور دعا کی کہ ایسی قوم سے تو میں اکیلا ہی بھلا۔ جیسے تو حکم دے میں خود حاضر ہوں یا پھر میرا بھائی ہارون۔ جو خود نبی تھے اور مصر میں فرعون اور فرعونیوں کے سامنے ہر دکھ سکھ میں شریک رہے تھے، جو میرے کہنے میں ہے۔ اگر ایسی نافرمان قوم میری بات نہیں مانتی تو اب میں کیا کرسکتا ہوں ؟

Al-Maaida 5:25Listen in Qur'an →
26

قَالَ فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ ۛ أَرْبَعِينَ سَنَةًۭ ۛ يَتِيهُونَ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ فَلَا تَأْسَ عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْفَٰسِقِينَ

خدا نے فرمایا کہ وہ ملک ان پر چالیس برس تک کے لیے حرام کر دیا گیا (کہ وہاں جانے نہ پائیں گے اور جنگل کی) زمین میں سرگرداں پھرتے رہیں گے تو ان نافرمان لوگوں کے حال پر افسوس نہ کرو

[٥٧] وعدہ میں چالیس سال کی تاخیر سے بطور علاج :۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسی بزدل اور نافرمان قوم کی سزا یہ ہے کہ ان سے جو فلسطین کی فتح و نصرت کا وعدہ تھا وہ چالیس سال تک کے لیے موخر کردیا جاتا ہے۔ یہ چالیس سال کی تاخیر دراصل اس بزدل اور پس ہمت قوم کی امراض کا علاج تھا کہ وہ اتنی مدت اسی جنگل میں ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر دھکے کھاتی پھرے جنگل میں زندگی گزارنے کی صعوبتیں برداشت کریں۔ اس چالیس سال کے عرصہ میں اس قوم کی جوان اور بزدل نسل مر کھپ جائے اور جو نئی نسل پیدا ہو آزاد فضاؤں میں پرورش پائے۔ نرمی گرمی برداشت کرنے کی عادی اور ہمت والی بن جائے۔ پھر وہ لوگ اس قابل ہوں گے کہ اگر انہیں جہاد کے لیے ترغیب دی جائے تو وہ اٹھ کھڑے ہوں۔ لہذا اے موسیٰ اس قوم کو جو یہ علاج کے طور پر سزا دی جا رہی ہے آپ کو ایسے لوگوں پر ترس نہ آنا چاہیے۔

Al-Maaida 5:26Listen in Qur'an →
27

۞ وَٱتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ٱبْنَىْ ءَادَمَ بِٱلْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًۭا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ ٱلْءَاخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّكَ ۖ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ ٱللَّهُ مِنَ ٱلْمُتَّقِينَ

اور (اے محمد) ان کو آدم کے دو بیٹوں (ہابیل اور قابیل) کے حالات (جو بالکل) سچے (ہیں) پڑھ کر سنا دو کہ جب ان دونوں نے خدا (کی جناب میں) کچھ نیازیں چڑھائیں تو ایک کی نیاز تو قبول ہو گئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی (تب قابیل ہابیل سے) کہنے لگا کہ میں تجھے قتل کروں گا اس نے کہا کہ خدا پرہیزگاروں ہی کی (نیاز) قبول فرمایا کرتا ہے

[٥٨] بنی اسرائیل کا جہاد سے اس طرح گریز کرنے کا قصہ بیان کرنے کے بعد اب آدم کے دو بیٹوں کا قصہ بیان کیا جا رہا ہے۔ یہ دو بیٹے ہابیل اور قابیل تھے۔ ان میں سے قابیل عمر میں بڑا تھا۔ کاشت کاری کرتا تھا۔ جسم کا قوی اور تند مزاج تھا اس کا چھوٹا بھائی ہابیل بھیڑ بکریاں پالتا اور چرایا کرتا تھا۔ نیک، سرشت، فرمانبردار اور منکسر المزاج تھا۔ ان دونوں میں کسی بات پر تنازعہ پیدا ہوا اور بالآخر قابیل نے ظلم و تشدد کی راہ اختیار کرتے ہوئے اپنے مظلوم بھائی کو جان ہی سے مار ڈالا۔ سابقہ آیات سے اس قصہ کا ربط یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہود بھی مظلوموں کے قتل میں بڑے دلیر واقع ہوئے تھے حتیٰ کہ انبیاء کو ناحق قتل کرتے رہے۔ یعنی یہود قتل کی سازشوں میں اور مظلوموں کو قتل کرنے میں بڑے دلیر واقع ہوئے تھے مگر جب جہاد کا موقعہ آیا تو ایسی بزدلی دکھائی کہ اپنی جگہ سے ہلنے کا نام ہی نہ لیتے تھے جس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ مکر و فریب کی چالوں سے مظلوموں پر ہاتھ اٹھانے والے لوگ معرکہ کار زار میں نامرد ہی ثابت ہوا کرتے ہیں۔ دور نبوی میں بھی مدینہ کے یہودیوں کی بالکل یہی صورت حال تھی۔- خ قصہ ہابیل اور قابیل :۔ ہابیل اور قابیل میں تنازعہ کس بات پر تھا ؟ قرآن اس سوال کا جواب دینے سے خاموش ہے البتہ تفاسیر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آدم (علیہ السلام) جس لڑکی سے ہابیل کا نکاح کرنا چاہتے تھے، قابیل یہ چاہتا تھا کہ یہ لڑکی اس کے نکاح میں آئے۔ اس کا یہ مطالبہ چونکہ بےانصافی پر مبنی تھا لہذا اسے تسلیم نہ کیا گیا۔ اس سے قابیل اور بھی طیش میں آگیا۔ جس کا حل سیدنا آدم نے یہ پیش کیا کہ دونوں اللہ کے حضور قربانی پیش کرو۔ جس کی قربانی کو آگ آ کر کھاجائے یعنی جس کی قربانی اللہ کے ہاں مقبول ہوجائے اسی سے اس لڑکی کا نکاح کردیا جائے گا۔ اور یہ تنازعہ ختم ہوجائے گا۔- [٥٩] چناچہ دونوں نے قربانی پیش کی۔ ہابیل ویسے بھی نیک سیرت انسان تھا اور اس لڑکی سے نکاح کا حق بھی اسی کا بنتا تھا۔ نیز اس نے قربانی میں جو اشیاء پیش کی تھیں وہ سب اچھی قسم کی تھیں اور خالصتاً رضائے الٰہی کی نیت سے پیش کی تھیں لہذا اسی کی قربانی کو اللہ کے حضور شرف قبولیت بخشا گیا اس کے مقابلہ میں قابیل بےانصاف اور اچھے کردار کا مالک نہ تھا اور قربانی میں بھی ناقص اور ردی قسم کی اشیاء رکھی تھیں۔ لہذا اس کی قربانی کی چیزیں جوں کی توں پڑی رہیں گویا اس قربانی کی کسوٹی نے بھی ہابیل ہی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔

Al-Maaida 5:27Listen in Qur'an →
28

لَئِنۢ بَسَطتَ إِلَىَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِى مَآ أَنَا۠ بِبَاسِطٍۢ يَدِىَ إِلَيْكَ لِأَقْتُلَكَ ۖ إِنِّىٓ أَخَافُ ٱللَّهَ رَبَّ ٱلْعَٰلَمِينَ

اور اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے مجھ پر ہاتھ چلائے گا تو میں تجھ کو قتل کرنے کے لئے تجھ پر ہاتھ نہیں چلاؤں گا مجھے تو خدائے رب العالمین سے ڈر لگتا ہے

[٦٠] جب قابیل کی قربانی مردود ہوگئی تو اس کا طیش انتقام میں بدل گیا اور اس نے علی الاعلان اپنے بھائی ہابیل کو دھمکی دے دی کہ میں تمہیں جان سے مار ڈالوں گا (شاید قابیل کا یہ خیال ہو کہ ہابیل کے مرنے کے بعد اس لڑکی پر میرا ہی حق باقی رہ جائے گا) اس کا جواب ہابیل نے یہ دیا کہ اگر تمہاری قربانی قبول نہیں ہوئی تو اس میں میرا کیا قصور ہے ؟ بلکہ تمہیں تو یہ چاہیے تھا کہ پرہیزگاری کی راہ اختیار کرتے اس صورت میں شاید تمہاری قربانی قبول ہوجاتی اور اگر تم مجھے مارنے پر ہی تلے ہوئے ہو تو میرا ایسا قطعاً کوئی ارادہ نہیں ہے میں بہرحال اس معاملہ میں ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا کیونکہ میں اسے بہت بڑا ظلم سمجھتا ہوں۔

Al-Maaida 5:28Listen in Qur'an →
29

إِنِّىٓ أُرِيدُ أَن تَبُوٓأَ بِإِثْمِى وَإِثْمِكَ فَتَكُونَ مِنْ أَصْحَٰبِ ٱلنَّارِ ۚ وَذَٰلِكَ جَزَٰٓؤُا۟ ٱلظَّٰلِمِينَ

میں چاہتا ہوں کہ تو میرے گناہ میں بھی ماخوذ ہو اور اپنے گناہ میں بھی پھر (زمرہ) اہل دوزخ میں ہو اور ظالموں کی یہی سزا ہے

[٦١] یعنی ناحق قتل کرنے والے کی سزا صرف یہی نہیں ہوتی کہ اسے اس جرم کے عوض جہنم میں ڈال دیا جائے بلکہ اس کے ساتھ مقتول کے گناہ بھی اس کے کھاتے میں ڈال دیئے جاتے ہیں۔ چناچہ سیدنا ابوبکر صدیق (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ سے پوچھا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر مجھے دو لشکروں یا دو صفوں میں سے کسی ایک صف میں زبردستی لایا جائے پھر کسی شخص کی تلوار میری گردن اڑا دے یا کسی کا تیر مجھے مار ڈالے تو ؟ آپ نے فرمایا قاتل اپنے اور تیرے گناہ سمیٹ کر اللہ کے پاس آئے گا اور وہ جہنمی ہے (اور تم پر کوئی گناہ نہیں) (مسلم۔ کتاب الفتن۔ باب نزول الفتن مواقع القطر) نیز کئی احادیث میں صراحت سے مذکور ہے کہ قیامت کے دن ظالم کی نیکیاں مظلوم کو دے دی جائیں گی اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوں گی تو مظلوم کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی۔

Al-Maaida 5:29Listen in Qur'an →
30

فَطَوَّعَتْ لَهُۥ نَفْسُهُۥ قَتْلَ أَخِيهِ فَقَتَلَهُۥ فَأَصْبَحَ مِنَ ٱلْخَٰسِرِينَ

مگر اس کے نفس نے اس کو بھائی کے قتل ہی کی ترغیب دی تو اس نے اسے قتل کر دیا اور خسارہ اٹھانے والوں میں ہو گیا

[٦٢] قابیل نے اپنے بھائی کی باتیں سنیں تو کچھ عرصہ ان پر غور کرتا رہا، لیکن بالآخر اس نے یہ فیصلہ کیا کہ جب تک ہابیل زندہ رہے گا اس کا نکاح اس لڑکی سے نہیں ہوسکتا لہذا اسے ختم کردینے سے ہی اسے کچھ فائدہ پہنچ سکتا ہے اور نفس کے شیطان نے اسے سبز باغ دکھا کر اس بات پر آمادہ کرلیا کہ وہ اپنے بھائی کا قصہ پاک کر دے۔ پھر جب اس نے اسے مار ڈالا تو اس پر ہر طرف سے لعنت اور پھٹکار پڑنے لگی کہ ایسے نیک سیرت اور مشفق بھائی کو اس نے بےقصور مار ڈالا ہے اور آخرت میں جو اس کے لیے سزا ہے وہ تو بہرحال مل کے رہے گی۔

Al-Maaida 5:30Listen in Qur'an →

Commentary: Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.