Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 21–30 of 120

21

يَٰقَوْمِ ٱدْخُلُوا۟ ٱلْأَرْضَ ٱلْمُقَدَّسَةَ ٱلَّتِى كَتَبَ ٱللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَرْتَدُّوا۟ عَلَىٰٓ أَدْبَارِكُمْ فَتَنقَلِبُوا۟ خَٰسِرِينَ

تو بھائیو! تم ارض مقدس (یعنی ملک شام) میں جسے خدا نے تمہارے لیے لکھ رکھا ہے چل داخل ہو اور (دیکھنا مقابلے کے وقت) پیٹھ نہ پھیر دینا ورنہ نقصان میں پڑ جاؤ گے

اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے، اے میری قوم! یاد کرو نعمت اللہ کی (جو ہوئی) تم پر، جب اس نے بنائے تمھارے اندر نبی اور بنایا تم کو بادشاہ اور دیا تم کو وہ جو نہیں دیا اس نے کسی کو جہانوں میں سے(20) اے میری قوم! داخل ہو تم! زمین مقدس میں ، جو لکھ دی ہے اللہ نے تمھارے لیے اور نہ پھرو تم اپنی پیٹھوں پر، تب پلٹو گے تم نقصان اٹھانے والے بن کر(21) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک اس میں ایک قوم ہے بڑی زور آور اور ہم ہرگز نہ جائیں گے اس میں یہاں تک کہ نکل جائیں وہ اس میں سے، پس اگر نکل جائیں وہ اس میں سے تو ہم ضرور داخل ہو جائیں گے(22) کہا دو آدمیوں نے ان میں سے جو کہ ڈرتے تھے (اللہ سے) انعام کیا تھا اللہ نے ان پر، داخل ہو جاؤ تم ان پر دروازے میں سے، پس جب داخل ہو گے تم اس میں سے تو تم ہی غالب ہو گے اور اوپر اللہ ہی کے، پس بھروسہ کرو تم، اگر ہو تم مومن(23) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک ہم تو ہرگز نہ جائیں گے اس میں کبھی بھی جب تک وہ موجود ہیں اس میں ، پس جا تو اور تیرا رب اور لڑو تم دونوں ، تحقیق ہم تو یہیں بیٹھے ہیں (24)(موسیٰ) نے کہا: اے رب! بے شک میں نہیں اختیار رکھتا مگر اپنی جان کا اور اپنے بھائی کا، پس تو تفریق کر دے ہمارے درمیان اور درمیان نافرمان قوم کے(25) فرمایا (اللہ نے) پس وہ زمین حرام کر دی گئی ہے ان پر چالیس برس تک، سرگرداں پھریں گے وہ زمین میں ، پس نہ غم کھا تو اوپر نافرمان قوم کے(26)

[20] اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰu اور ان کی قوم کو فرعون اور اس کی قوم کی غلامی سے نجات دلا کر ان پر احسان فرمایا ،چنانچہ موسیٰu اور ان کی قوم نے اپنے وطن بیت المقدس واپس جانے کا قصد کیا اور وہ بیت المقدس کے قریب پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دشمن کے خلاف جہاد فرض کر دیا تاکہ وہ ان سے اپنے علاقے خالی کروائیں ۔ موسیٰu نے ان کو وعظ و تذکیر کی تاکہ وہ جہاد کے عزم پر قائم رہیں ۔حضرت موسیٰu نے فرمایا:﴿اذۡكُرُوۡا نِعۡمَةَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم پر اللہ نے جو احسان کیے ہیں انھیں یاد کرو۔‘‘ یعنی اپنے دل اور زبان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر اس کی محبت کا باعث بنتا ہے اور عبادت کے لیے نشاط پیدا کرتا ہے ﴿اِذۡ جَعَلَ فِيۡكُمۡ اَنۢۡبِيَآءَؔ ﴾ ’’جب پیدا کیے اس نے تمھارے اندر نبی‘‘ جو تمھیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں اور تمھیں ہلاکت سے ڈراتے ہیں اور تمھیں ابدی سعادت کے حصول پر آمادہ کرتے ہیں اور تمھیں وہ کچھ سکھاتے ہیں جو تم نہیں جانتے ﴿وَجَعَلَكُمۡ مُّلُوۡكًا﴾’’اور تم کو بادشاہ بنایا‘‘ تم اپنے معاملات کے خود مالک تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں دشمن کی غلامی سے نجات دلائی اور تم اپنے معاملات کے خود مالک بن گئے اور تمھارے لیے اپنے دین کو قائم کرنا ممکن ہو گیا۔﴿وَّاٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’اور تم کو عنایت کیا۔‘‘ یعنی تمھیں دینی اور دنیاوی نعمتیں عطا کیں ﴿مَّا لَمۡ يُؤۡتِ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’جو اس نے جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیں ‘‘ کیونکہ وہ اس زمانے میں منتخب قوم تھی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ باعزت تھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں عطا کیں جو کسی اور کو عطا نہیں کیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں یاد دلائیں جو ایمان، اس کے ثبات،جہاد پر ان کی ثابت قدمی اور جہاد کے لیے آگے بڑھنے کی موجب ہیں ۔

[21] بنابریں فرمایا: ﴿يٰقَوۡمِ ادۡخُلُوا الۡاَرۡضَ الۡمُقَدَّسَةَ ﴾ ’’اے میری قوم! ارض مقدسہ میں داخل ہو جاؤ‘‘ یعنی سرزمین پاک میں ﴿الَّتِيۡ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمۡ﴾ ’’جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دی ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایسی خبر سے آگاہ فرمایا کہ اگر وہ مومن اور اللہ تعالیٰ کی خبر کی تصدیق کرنے والے ہوتے تو یقینا ان کے دل اس خبر سے مطمئن ہو جاتے کہ اللہ تعالیٰ نے ارض مقدس میں ان کا داخل ہونا اور اپنے دشمن پر فتح حاصل …

Al-Maaida 5:21Listen in Qur'an →
22

قَالُوا۟ يَٰمُوسَىٰٓ إِنَّ فِيهَا قَوْمًۭا جَبَّارِينَ وَإِنَّا لَن نَّدْخُلَهَا حَتَّىٰ يَخْرُجُوا۟ مِنْهَا فَإِن يَخْرُجُوا۟ مِنْهَا فَإِنَّا دَٰخِلُونَ

وہ کہنے لگے کہ موسیٰ! وہاں تو بڑے زبردست لوگ (رہتے) ہیں اور جب تک وہ اس سرزمین سے نکل نہ جائیں ہم وہاں جا نہیں سکتے ہاں اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو ہم جا داخل ہوں گے

اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے، اے میری قوم! یاد کرو نعمت اللہ کی (جو ہوئی) تم پر، جب اس نے بنائے تمھارے اندر نبی اور بنایا تم کو بادشاہ اور دیا تم کو وہ جو نہیں دیا اس نے کسی کو جہانوں میں سے(20) اے میری قوم! داخل ہو تم! زمین مقدس میں ، جو لکھ دی ہے اللہ نے تمھارے لیے اور نہ پھرو تم اپنی پیٹھوں پر، تب پلٹو گے تم نقصان اٹھانے والے بن کر(21) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک اس میں ایک قوم ہے بڑی زور آور اور ہم ہرگز نہ جائیں گے اس میں یہاں تک کہ نکل جائیں وہ اس میں سے، پس اگر نکل جائیں وہ اس میں سے تو ہم ضرور داخل ہو جائیں گے(22) کہا دو آدمیوں نے ان میں سے جو کہ ڈرتے تھے (اللہ سے) انعام کیا تھا اللہ نے ان پر، داخل ہو جاؤ تم ان پر دروازے میں سے، پس جب داخل ہو گے تم اس میں سے تو تم ہی غالب ہو گے اور اوپر اللہ ہی کے، پس بھروسہ کرو تم، اگر ہو تم مومن(23) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک ہم تو ہرگز نہ جائیں گے اس میں کبھی بھی جب تک وہ موجود ہیں اس میں ، پس جا تو اور تیرا رب اور لڑو تم دونوں ، تحقیق ہم تو یہیں بیٹھے ہیں (24)(موسیٰ) نے کہا: اے رب! بے شک میں نہیں اختیار رکھتا مگر اپنی جان کا اور اپنے بھائی کا، پس تو تفریق کر دے ہمارے درمیان اور درمیان نافرمان قوم کے(25) فرمایا (اللہ نے) پس وہ زمین حرام کر دی گئی ہے ان پر چالیس برس تک، سرگرداں پھریں گے وہ زمین میں ، پس نہ غم کھا تو اوپر نافرمان قوم کے(26)

[20] اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰu اور ان کی قوم کو فرعون اور اس کی قوم کی غلامی سے نجات دلا کر ان پر احسان فرمایا ،چنانچہ موسیٰu اور ان کی قوم نے اپنے وطن بیت المقدس واپس جانے کا قصد کیا اور وہ بیت المقدس کے قریب پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دشمن کے خلاف جہاد فرض کر دیا تاکہ وہ ان سے اپنے علاقے خالی کروائیں ۔ موسیٰu نے ان کو وعظ و تذکیر کی تاکہ وہ جہاد کے عزم پر قائم رہیں ۔حضرت موسیٰu نے فرمایا:﴿اذۡكُرُوۡا نِعۡمَةَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم پر اللہ نے جو احسان کیے ہیں انھیں یاد کرو۔‘‘ یعنی اپنے دل اور زبان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر اس کی محبت کا باعث بنتا ہے اور عبادت کے لیے نشاط پیدا کرتا ہے ﴿اِذۡ جَعَلَ فِيۡكُمۡ اَنۢۡبِيَآءَؔ ﴾ ’’جب پیدا کیے اس نے تمھارے اندر نبی‘‘ جو تمھیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں اور تمھیں ہلاکت سے ڈراتے ہیں اور تمھیں ابدی سعادت کے حصول پر آمادہ کرتے ہیں اور تمھیں وہ کچھ سکھاتے ہیں جو تم نہیں جانتے ﴿وَجَعَلَكُمۡ مُّلُوۡكًا﴾’’اور تم کو بادشاہ بنایا‘‘ تم اپنے معاملات کے خود مالک تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں دشمن کی غلامی سے نجات دلائی اور تم اپنے معاملات کے خود مالک بن گئے اور تمھارے لیے اپنے دین کو قائم کرنا ممکن ہو گیا۔﴿وَّاٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’اور تم کو عنایت کیا۔‘‘ یعنی تمھیں دینی اور دنیاوی نعمتیں عطا کیں ﴿مَّا لَمۡ يُؤۡتِ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’جو اس نے جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیں ‘‘ کیونکہ وہ اس زمانے میں منتخب قوم تھی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ باعزت تھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں عطا کیں جو کسی اور کو عطا نہیں کیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں یاد دلائیں جو ایمان، اس کے ثبات،جہاد پر ان کی ثابت قدمی اور جہاد کے لیے آگے بڑھنے کی موجب ہیں ۔

[21] بنابریں فرمایا: ﴿يٰقَوۡمِ ادۡخُلُوا الۡاَرۡضَ الۡمُقَدَّسَةَ ﴾ ’’اے میری قوم! ارض مقدسہ میں داخل ہو جاؤ‘‘ یعنی سرزمین پاک میں ﴿الَّتِيۡ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمۡ﴾ ’’جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دی ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایسی خبر سے آگاہ فرمایا کہ اگر وہ مومن اور اللہ تعالیٰ کی خبر کی تصدیق کرنے والے ہوتے تو یقینا ان کے دل اس خبر سے مطمئن ہو جاتے کہ اللہ تعالیٰ نے ارض مقدس میں ان کا داخل ہونا اور اپنے دشمن پر فتح حاصل …

Al-Maaida 5:22Listen in Qur'an →
23

قَالَ رَجُلَانِ مِنَ ٱلَّذِينَ يَخَافُونَ أَنْعَمَ ٱللَّهُ عَلَيْهِمَا ٱدْخُلُوا۟ عَلَيْهِمُ ٱلْبَابَ فَإِذَا دَخَلْتُمُوهُ فَإِنَّكُمْ غَٰلِبُونَ ۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَتَوَكَّلُوٓا۟ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

جو لوگ (خدا سے) ڈرتے تھے ان میں سے دو شخص جن پر خدا کی عنایت تھی کہنے لگے کہ ان لوگوں پر دروازے کے رستے سے حملہ کردو جب تم دروازے میں داخل ہو گئے تو فتح تمہارے ہے اور خدا ہی پر بھروسہ رکھو بشرطیکہ صاحبِ ایمان ہو

اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے، اے میری قوم! یاد کرو نعمت اللہ کی (جو ہوئی) تم پر، جب اس نے بنائے تمھارے اندر نبی اور بنایا تم کو بادشاہ اور دیا تم کو وہ جو نہیں دیا اس نے کسی کو جہانوں میں سے(20) اے میری قوم! داخل ہو تم! زمین مقدس میں ، جو لکھ دی ہے اللہ نے تمھارے لیے اور نہ پھرو تم اپنی پیٹھوں پر، تب پلٹو گے تم نقصان اٹھانے والے بن کر(21) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک اس میں ایک قوم ہے بڑی زور آور اور ہم ہرگز نہ جائیں گے اس میں یہاں تک کہ نکل جائیں وہ اس میں سے، پس اگر نکل جائیں وہ اس میں سے تو ہم ضرور داخل ہو جائیں گے(22) کہا دو آدمیوں نے ان میں سے جو کہ ڈرتے تھے (اللہ سے) انعام کیا تھا اللہ نے ان پر، داخل ہو جاؤ تم ان پر دروازے میں سے، پس جب داخل ہو گے تم اس میں سے تو تم ہی غالب ہو گے اور اوپر اللہ ہی کے، پس بھروسہ کرو تم، اگر ہو تم مومن(23) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک ہم تو ہرگز نہ جائیں گے اس میں کبھی بھی جب تک وہ موجود ہیں اس میں ، پس جا تو اور تیرا رب اور لڑو تم دونوں ، تحقیق ہم تو یہیں بیٹھے ہیں (24)(موسیٰ) نے کہا: اے رب! بے شک میں نہیں اختیار رکھتا مگر اپنی جان کا اور اپنے بھائی کا، پس تو تفریق کر دے ہمارے درمیان اور درمیان نافرمان قوم کے(25) فرمایا (اللہ نے) پس وہ زمین حرام کر دی گئی ہے ان پر چالیس برس تک، سرگرداں پھریں گے وہ زمین میں ، پس نہ غم کھا تو اوپر نافرمان قوم کے(26)

[20] اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰu اور ان کی قوم کو فرعون اور اس کی قوم کی غلامی سے نجات دلا کر ان پر احسان فرمایا ،چنانچہ موسیٰu اور ان کی قوم نے اپنے وطن بیت المقدس واپس جانے کا قصد کیا اور وہ بیت المقدس کے قریب پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دشمن کے خلاف جہاد فرض کر دیا تاکہ وہ ان سے اپنے علاقے خالی کروائیں ۔ موسیٰu نے ان کو وعظ و تذکیر کی تاکہ وہ جہاد کے عزم پر قائم رہیں ۔حضرت موسیٰu نے فرمایا:﴿اذۡكُرُوۡا نِعۡمَةَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم پر اللہ نے جو احسان کیے ہیں انھیں یاد کرو۔‘‘ یعنی اپنے دل اور زبان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر اس کی محبت کا باعث بنتا ہے اور عبادت کے لیے نشاط پیدا کرتا ہے ﴿اِذۡ جَعَلَ فِيۡكُمۡ اَنۢۡبِيَآءَؔ ﴾ ’’جب پیدا کیے اس نے تمھارے اندر نبی‘‘ جو تمھیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں اور تمھیں ہلاکت سے ڈراتے ہیں اور تمھیں ابدی سعادت کے حصول پر آمادہ کرتے ہیں اور تمھیں وہ کچھ سکھاتے ہیں جو تم نہیں جانتے ﴿وَجَعَلَكُمۡ مُّلُوۡكًا﴾’’اور تم کو بادشاہ بنایا‘‘ تم اپنے معاملات کے خود مالک تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں دشمن کی غلامی سے نجات دلائی اور تم اپنے معاملات کے خود مالک بن گئے اور تمھارے لیے اپنے دین کو قائم کرنا ممکن ہو گیا۔﴿وَّاٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’اور تم کو عنایت کیا۔‘‘ یعنی تمھیں دینی اور دنیاوی نعمتیں عطا کیں ﴿مَّا لَمۡ يُؤۡتِ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’جو اس نے جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیں ‘‘ کیونکہ وہ اس زمانے میں منتخب قوم تھی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ باعزت تھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں عطا کیں جو کسی اور کو عطا نہیں کیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں یاد دلائیں جو ایمان، اس کے ثبات،جہاد پر ان کی ثابت قدمی اور جہاد کے لیے آگے بڑھنے کی موجب ہیں ۔

[21] بنابریں فرمایا: ﴿يٰقَوۡمِ ادۡخُلُوا الۡاَرۡضَ الۡمُقَدَّسَةَ ﴾ ’’اے میری قوم! ارض مقدسہ میں داخل ہو جاؤ‘‘ یعنی سرزمین پاک میں ﴿الَّتِيۡ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمۡ﴾ ’’جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دی ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایسی خبر سے آگاہ فرمایا کہ اگر وہ مومن اور اللہ تعالیٰ کی خبر کی تصدیق کرنے والے ہوتے تو یقینا ان کے دل اس خبر سے مطمئن ہو جاتے کہ اللہ تعالیٰ نے ارض مقدس میں ان کا داخل ہونا اور اپنے دشمن پر فتح حاصل …

Al-Maaida 5:23Listen in Qur'an →
24

قَالُوا۟ يَٰمُوسَىٰٓ إِنَّا لَن نَّدْخُلَهَآ أَبَدًۭا مَّا دَامُوا۟ فِيهَا ۖ فَٱذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَٰتِلَآ إِنَّا هَٰهُنَا قَٰعِدُونَ

وہ بولے کہ موسیٰ! جب تک وہ لوگ وہاں ہیں ہم کبھی وہاں نہیں جا سکتے (اگر لڑنا ہی ضرور ہے) تو تم اور تمہارا خدا جاؤ اور لڑو ہم یہیں بیٹھے رہیں گے

اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے، اے میری قوم! یاد کرو نعمت اللہ کی (جو ہوئی) تم پر، جب اس نے بنائے تمھارے اندر نبی اور بنایا تم کو بادشاہ اور دیا تم کو وہ جو نہیں دیا اس نے کسی کو جہانوں میں سے(20) اے میری قوم! داخل ہو تم! زمین مقدس میں ، جو لکھ دی ہے اللہ نے تمھارے لیے اور نہ پھرو تم اپنی پیٹھوں پر، تب پلٹو گے تم نقصان اٹھانے والے بن کر(21) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک اس میں ایک قوم ہے بڑی زور آور اور ہم ہرگز نہ جائیں گے اس میں یہاں تک کہ نکل جائیں وہ اس میں سے، پس اگر نکل جائیں وہ اس میں سے تو ہم ضرور داخل ہو جائیں گے(22) کہا دو آدمیوں نے ان میں سے جو کہ ڈرتے تھے (اللہ سے) انعام کیا تھا اللہ نے ان پر، داخل ہو جاؤ تم ان پر دروازے میں سے، پس جب داخل ہو گے تم اس میں سے تو تم ہی غالب ہو گے اور اوپر اللہ ہی کے، پس بھروسہ کرو تم، اگر ہو تم مومن(23) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک ہم تو ہرگز نہ جائیں گے اس میں کبھی بھی جب تک وہ موجود ہیں اس میں ، پس جا تو اور تیرا رب اور لڑو تم دونوں ، تحقیق ہم تو یہیں بیٹھے ہیں (24)(موسیٰ) نے کہا: اے رب! بے شک میں نہیں اختیار رکھتا مگر اپنی جان کا اور اپنے بھائی کا، پس تو تفریق کر دے ہمارے درمیان اور درمیان نافرمان قوم کے(25) فرمایا (اللہ نے) پس وہ زمین حرام کر دی گئی ہے ان پر چالیس برس تک، سرگرداں پھریں گے وہ زمین میں ، پس نہ غم کھا تو اوپر نافرمان قوم کے(26)

[20] اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰu اور ان کی قوم کو فرعون اور اس کی قوم کی غلامی سے نجات دلا کر ان پر احسان فرمایا ،چنانچہ موسیٰu اور ان کی قوم نے اپنے وطن بیت المقدس واپس جانے کا قصد کیا اور وہ بیت المقدس کے قریب پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دشمن کے خلاف جہاد فرض کر دیا تاکہ وہ ان سے اپنے علاقے خالی کروائیں ۔ موسیٰu نے ان کو وعظ و تذکیر کی تاکہ وہ جہاد کے عزم پر قائم رہیں ۔حضرت موسیٰu نے فرمایا:﴿اذۡكُرُوۡا نِعۡمَةَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم پر اللہ نے جو احسان کیے ہیں انھیں یاد کرو۔‘‘ یعنی اپنے دل اور زبان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر اس کی محبت کا باعث بنتا ہے اور عبادت کے لیے نشاط پیدا کرتا ہے ﴿اِذۡ جَعَلَ فِيۡكُمۡ اَنۢۡبِيَآءَؔ ﴾ ’’جب پیدا کیے اس نے تمھارے اندر نبی‘‘ جو تمھیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں اور تمھیں ہلاکت سے ڈراتے ہیں اور تمھیں ابدی سعادت کے حصول پر آمادہ کرتے ہیں اور تمھیں وہ کچھ سکھاتے ہیں جو تم نہیں جانتے ﴿وَجَعَلَكُمۡ مُّلُوۡكًا﴾’’اور تم کو بادشاہ بنایا‘‘ تم اپنے معاملات کے خود مالک تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں دشمن کی غلامی سے نجات دلائی اور تم اپنے معاملات کے خود مالک بن گئے اور تمھارے لیے اپنے دین کو قائم کرنا ممکن ہو گیا۔﴿وَّاٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’اور تم کو عنایت کیا۔‘‘ یعنی تمھیں دینی اور دنیاوی نعمتیں عطا کیں ﴿مَّا لَمۡ يُؤۡتِ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’جو اس نے جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیں ‘‘ کیونکہ وہ اس زمانے میں منتخب قوم تھی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ باعزت تھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں عطا کیں جو کسی اور کو عطا نہیں کیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں یاد دلائیں جو ایمان، اس کے ثبات،جہاد پر ان کی ثابت قدمی اور جہاد کے لیے آگے بڑھنے کی موجب ہیں ۔

[21] بنابریں فرمایا: ﴿يٰقَوۡمِ ادۡخُلُوا الۡاَرۡضَ الۡمُقَدَّسَةَ ﴾ ’’اے میری قوم! ارض مقدسہ میں داخل ہو جاؤ‘‘ یعنی سرزمین پاک میں ﴿الَّتِيۡ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمۡ﴾ ’’جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دی ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایسی خبر سے آگاہ فرمایا کہ اگر وہ مومن اور اللہ تعالیٰ کی خبر کی تصدیق کرنے والے ہوتے تو یقینا ان کے دل اس خبر سے مطمئن ہو جاتے کہ اللہ تعالیٰ نے ارض مقدس میں ان کا داخل ہونا اور اپنے دشمن پر فتح حاصل …

Al-Maaida 5:24Listen in Qur'an →
25

قَالَ رَبِّ إِنِّى لَآ أَمْلِكُ إِلَّا نَفْسِى وَأَخِى ۖ فَٱفْرُقْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ ٱلْقَوْمِ ٱلْفَٰسِقِينَ

موسیٰ نے (خدا سے) التجا کی کہ پروردگار میں اپنے اور اپنے بھائی کے سوا اور کسی پر اختیار نہیں رکھتا تو ہم میں اور ان نافرمان لوگوں میں جدائی کردے

اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے، اے میری قوم! یاد کرو نعمت اللہ کی (جو ہوئی) تم پر، جب اس نے بنائے تمھارے اندر نبی اور بنایا تم کو بادشاہ اور دیا تم کو وہ جو نہیں دیا اس نے کسی کو جہانوں میں سے(20) اے میری قوم! داخل ہو تم! زمین مقدس میں ، جو لکھ دی ہے اللہ نے تمھارے لیے اور نہ پھرو تم اپنی پیٹھوں پر، تب پلٹو گے تم نقصان اٹھانے والے بن کر(21) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک اس میں ایک قوم ہے بڑی زور آور اور ہم ہرگز نہ جائیں گے اس میں یہاں تک کہ نکل جائیں وہ اس میں سے، پس اگر نکل جائیں وہ اس میں سے تو ہم ضرور داخل ہو جائیں گے(22) کہا دو آدمیوں نے ان میں سے جو کہ ڈرتے تھے (اللہ سے) انعام کیا تھا اللہ نے ان پر، داخل ہو جاؤ تم ان پر دروازے میں سے، پس جب داخل ہو گے تم اس میں سے تو تم ہی غالب ہو گے اور اوپر اللہ ہی کے، پس بھروسہ کرو تم، اگر ہو تم مومن(23) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک ہم تو ہرگز نہ جائیں گے اس میں کبھی بھی جب تک وہ موجود ہیں اس میں ، پس جا تو اور تیرا رب اور لڑو تم دونوں ، تحقیق ہم تو یہیں بیٹھے ہیں (24)(موسیٰ) نے کہا: اے رب! بے شک میں نہیں اختیار رکھتا مگر اپنی جان کا اور اپنے بھائی کا، پس تو تفریق کر دے ہمارے درمیان اور درمیان نافرمان قوم کے(25) فرمایا (اللہ نے) پس وہ زمین حرام کر دی گئی ہے ان پر چالیس برس تک، سرگرداں پھریں گے وہ زمین میں ، پس نہ غم کھا تو اوپر نافرمان قوم کے(26)

[20] اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰu اور ان کی قوم کو فرعون اور اس کی قوم کی غلامی سے نجات دلا کر ان پر احسان فرمایا ،چنانچہ موسیٰu اور ان کی قوم نے اپنے وطن بیت المقدس واپس جانے کا قصد کیا اور وہ بیت المقدس کے قریب پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دشمن کے خلاف جہاد فرض کر دیا تاکہ وہ ان سے اپنے علاقے خالی کروائیں ۔ موسیٰu نے ان کو وعظ و تذکیر کی تاکہ وہ جہاد کے عزم پر قائم رہیں ۔حضرت موسیٰu نے فرمایا:﴿اذۡكُرُوۡا نِعۡمَةَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم پر اللہ نے جو احسان کیے ہیں انھیں یاد کرو۔‘‘ یعنی اپنے دل اور زبان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر اس کی محبت کا باعث بنتا ہے اور عبادت کے لیے نشاط پیدا کرتا ہے ﴿اِذۡ جَعَلَ فِيۡكُمۡ اَنۢۡبِيَآءَؔ ﴾ ’’جب پیدا کیے اس نے تمھارے اندر نبی‘‘ جو تمھیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں اور تمھیں ہلاکت سے ڈراتے ہیں اور تمھیں ابدی سعادت کے حصول پر آمادہ کرتے ہیں اور تمھیں وہ کچھ سکھاتے ہیں جو تم نہیں جانتے ﴿وَجَعَلَكُمۡ مُّلُوۡكًا﴾’’اور تم کو بادشاہ بنایا‘‘ تم اپنے معاملات کے خود مالک تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں دشمن کی غلامی سے نجات دلائی اور تم اپنے معاملات کے خود مالک بن گئے اور تمھارے لیے اپنے دین کو قائم کرنا ممکن ہو گیا۔﴿وَّاٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’اور تم کو عنایت کیا۔‘‘ یعنی تمھیں دینی اور دنیاوی نعمتیں عطا کیں ﴿مَّا لَمۡ يُؤۡتِ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’جو اس نے جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیں ‘‘ کیونکہ وہ اس زمانے میں منتخب قوم تھی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ باعزت تھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں عطا کیں جو کسی اور کو عطا نہیں کیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں یاد دلائیں جو ایمان، اس کے ثبات،جہاد پر ان کی ثابت قدمی اور جہاد کے لیے آگے بڑھنے کی موجب ہیں ۔

[21] بنابریں فرمایا: ﴿يٰقَوۡمِ ادۡخُلُوا الۡاَرۡضَ الۡمُقَدَّسَةَ ﴾ ’’اے میری قوم! ارض مقدسہ میں داخل ہو جاؤ‘‘ یعنی سرزمین پاک میں ﴿الَّتِيۡ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمۡ﴾ ’’جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دی ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایسی خبر سے آگاہ فرمایا کہ اگر وہ مومن اور اللہ تعالیٰ کی خبر کی تصدیق کرنے والے ہوتے تو یقینا ان کے دل اس خبر سے مطمئن ہو جاتے کہ اللہ تعالیٰ نے ارض مقدس میں ان کا داخل ہونا اور اپنے دشمن پر فتح حاصل …

Al-Maaida 5:25Listen in Qur'an →
26

قَالَ فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ ۛ أَرْبَعِينَ سَنَةًۭ ۛ يَتِيهُونَ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ فَلَا تَأْسَ عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْفَٰسِقِينَ

خدا نے فرمایا کہ وہ ملک ان پر چالیس برس تک کے لیے حرام کر دیا گیا (کہ وہاں جانے نہ پائیں گے اور جنگل کی) زمین میں سرگرداں پھرتے رہیں گے تو ان نافرمان لوگوں کے حال پر افسوس نہ کرو

اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے، اے میری قوم! یاد کرو نعمت اللہ کی (جو ہوئی) تم پر، جب اس نے بنائے تمھارے اندر نبی اور بنایا تم کو بادشاہ اور دیا تم کو وہ جو نہیں دیا اس نے کسی کو جہانوں میں سے(20) اے میری قوم! داخل ہو تم! زمین مقدس میں ، جو لکھ دی ہے اللہ نے تمھارے لیے اور نہ پھرو تم اپنی پیٹھوں پر، تب پلٹو گے تم نقصان اٹھانے والے بن کر(21) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک اس میں ایک قوم ہے بڑی زور آور اور ہم ہرگز نہ جائیں گے اس میں یہاں تک کہ نکل جائیں وہ اس میں سے، پس اگر نکل جائیں وہ اس میں سے تو ہم ضرور داخل ہو جائیں گے(22) کہا دو آدمیوں نے ان میں سے جو کہ ڈرتے تھے (اللہ سے) انعام کیا تھا اللہ نے ان پر، داخل ہو جاؤ تم ان پر دروازے میں سے، پس جب داخل ہو گے تم اس میں سے تو تم ہی غالب ہو گے اور اوپر اللہ ہی کے، پس بھروسہ کرو تم، اگر ہو تم مومن(23) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک ہم تو ہرگز نہ جائیں گے اس میں کبھی بھی جب تک وہ موجود ہیں اس میں ، پس جا تو اور تیرا رب اور لڑو تم دونوں ، تحقیق ہم تو یہیں بیٹھے ہیں (24)(موسیٰ) نے کہا: اے رب! بے شک میں نہیں اختیار رکھتا مگر اپنی جان کا اور اپنے بھائی کا، پس تو تفریق کر دے ہمارے درمیان اور درمیان نافرمان قوم کے(25) فرمایا (اللہ نے) پس وہ زمین حرام کر دی گئی ہے ان پر چالیس برس تک، سرگرداں پھریں گے وہ زمین میں ، پس نہ غم کھا تو اوپر نافرمان قوم کے(26)

[20] اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰu اور ان کی قوم کو فرعون اور اس کی قوم کی غلامی سے نجات دلا کر ان پر احسان فرمایا ،چنانچہ موسیٰu اور ان کی قوم نے اپنے وطن بیت المقدس واپس جانے کا قصد کیا اور وہ بیت المقدس کے قریب پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دشمن کے خلاف جہاد فرض کر دیا تاکہ وہ ان سے اپنے علاقے خالی کروائیں ۔ موسیٰu نے ان کو وعظ و تذکیر کی تاکہ وہ جہاد کے عزم پر قائم رہیں ۔حضرت موسیٰu نے فرمایا:﴿اذۡكُرُوۡا نِعۡمَةَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم پر اللہ نے جو احسان کیے ہیں انھیں یاد کرو۔‘‘ یعنی اپنے دل اور زبان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر اس کی محبت کا باعث بنتا ہے اور عبادت کے لیے نشاط پیدا کرتا ہے ﴿اِذۡ جَعَلَ فِيۡكُمۡ اَنۢۡبِيَآءَؔ ﴾ ’’جب پیدا کیے اس نے تمھارے اندر نبی‘‘ جو تمھیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں اور تمھیں ہلاکت سے ڈراتے ہیں اور تمھیں ابدی سعادت کے حصول پر آمادہ کرتے ہیں اور تمھیں وہ کچھ سکھاتے ہیں جو تم نہیں جانتے ﴿وَجَعَلَكُمۡ مُّلُوۡكًا﴾’’اور تم کو بادشاہ بنایا‘‘ تم اپنے معاملات کے خود مالک تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں دشمن کی غلامی سے نجات دلائی اور تم اپنے معاملات کے خود مالک بن گئے اور تمھارے لیے اپنے دین کو قائم کرنا ممکن ہو گیا۔﴿وَّاٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’اور تم کو عنایت کیا۔‘‘ یعنی تمھیں دینی اور دنیاوی نعمتیں عطا کیں ﴿مَّا لَمۡ يُؤۡتِ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’جو اس نے جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیں ‘‘ کیونکہ وہ اس زمانے میں منتخب قوم تھی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ باعزت تھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں عطا کیں جو کسی اور کو عطا نہیں کیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں یاد دلائیں جو ایمان، اس کے ثبات،جہاد پر ان کی ثابت قدمی اور جہاد کے لیے آگے بڑھنے کی موجب ہیں ۔

[21] بنابریں فرمایا: ﴿يٰقَوۡمِ ادۡخُلُوا الۡاَرۡضَ الۡمُقَدَّسَةَ ﴾ ’’اے میری قوم! ارض مقدسہ میں داخل ہو جاؤ‘‘ یعنی سرزمین پاک میں ﴿الَّتِيۡ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمۡ﴾ ’’جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دی ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایسی خبر سے آگاہ فرمایا کہ اگر وہ مومن اور اللہ تعالیٰ کی خبر کی تصدیق کرنے والے ہوتے تو یقینا ان کے دل اس خبر سے مطمئن ہو جاتے کہ اللہ تعالیٰ نے ارض مقدس میں ان کا داخل ہونا اور اپنے دشمن پر فتح حاصل …

Al-Maaida 5:26Listen in Qur'an →
27

۞ وَٱتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ٱبْنَىْ ءَادَمَ بِٱلْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًۭا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ ٱلْءَاخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّكَ ۖ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ ٱللَّهُ مِنَ ٱلْمُتَّقِينَ

اور (اے محمد) ان کو آدم کے دو بیٹوں (ہابیل اور قابیل) کے حالات (جو بالکل) سچے (ہیں) پڑھ کر سنا دو کہ جب ان دونوں نے خدا (کی جناب میں) کچھ نیازیں چڑھائیں تو ایک کی نیاز تو قبول ہو گئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی (تب قابیل ہابیل سے) کہنے لگا کہ میں تجھے قتل کروں گا اس نے کہا کہ خدا پرہیزگاروں ہی کی (نیاز) قبول فرمایا کرتا ہے

اور تلاوت کریں آپ ان پر خبرآدم کے دو بیٹوں کی ساتھ حق کے، جب دونوں نے قربانی کی (ایک) ایک قربانی تو مقبول ہوئی ان میں سے ایک کی اور نہ مقبول ہوئی دوسرے کی، اس نے کہا میں ضرور تجھے قتل کردوں گا، (پہلے نے) کہا، بس قبول کرتا ہے اللہ پرہیزگاروں ہی سے(27) ، البتہ اگر دراز کرے گا تو میری طرف اپنا ہاتھ تاکہ قتل کرے تو مجھے تو میں نہیں دراز کروں گا اپنا ہاتھ تیری طرف کہ قتل کروں میں تجھے، بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ رب العالمین سے(28) بے شک میں ارادہ کرتا ہوں کہ لوٹے تو ساتھ میرے گناہ اور اپنے گناہ کے، پس ہو جائے تو دوزخیوں سےاور یہی بدلہ ہے ظالموں کا(29) پس آسان کر دیا اس کے لیے اس کے نفس نے قتل کرنے کو اپنے بھائی کے تو اس نے قتل کر دیا اسے اور ہوگیا وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے(30) پھر بھیجا اللہ نے ایک کوا، وہ کھودتا تھا زمین کوتاکہ دکھلائے وہ اسے کہ کیسے چھپائے وہ لاش اپنے بھائی کی، اس نے کہا، ہائے افسوس! کیا میں عاجز ہوں اس سے بھی کہ ہوں مثل اس کوے کی کہ چھپا دیتا لاش اپنے بھائی کی، پس ہو گیا وہ پچھتانے والوں میں سے(31)

[27] یعنی لوگوں کے سامنے قصہ بیان کر اور ان کو اس جھگڑے کے بارے میں بتا جو آدمu کے دو بیٹوں کے درمیان ہوا تھا۔ یہ اس طرح تلاوت کرے کہ اصحاب اعتبار اسے جھوٹا نہیں بلکہ سچا اور اسے کھیل تماشہ نہیں بلکہ ایک انتہائی سنجیدہ واقعہ گردانیں ۔ اور ظاہر بات یہ ہے کہ آدم کے ’’دو بیٹوں ‘‘ سے مراد صلبی بیٹے ہیں جیسا کہ آیت کریمہ کا ظاہر اور اس کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے اور یہی جمہور مفسرین کا قول ہے۔یعنی ان دونوں بیٹوں کا قصہ بیان کر جبکہ انھوں نے تقرب کے لیے قربانی کی جس نے انھیں ذکر کردہ حالت تک پہنچایا۔ ﴿ اِذۡ قَرَّبَا قُرۡبَانًا ﴾ ’’جب ان دونوں نے قربانی پیش کی۔‘‘ یعنی دونوں میں سے ہر ایک نے اپنے مال میں سے اللہ تعالیٰ کے تقرب کی خاطر کچھ قربانی پیش کی ﴿ فَتُقُبِّلَ مِنۡ اَحَدِهِمَا وَلَمۡ يُتَقَبَّلۡ مِنَ الۡاٰخَرِ ﴾’’پس ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہو گئی اور دوسرے کی نامقبول‘‘ ان میں سے جس کی قربانی قبول نہ ہوئی اسے آسمان سے کسی خبر کے ذریعے سے معلوم ہوا یا سابقہ امتوں میں عادت الٰہی کے مطابق قربانی کے قبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ آسمان سے آگ نازل ہو کر قربانی کو جلا ڈالتی تھی۔﴿ قَالَ ﴾ وہ بیٹا جس کی قربانی قبول نہ ہوئی تھی حسد اور تعدی کی بنا پر دوسرے بیٹے سے بولا: ﴿ لَاَقۡتُلَنَّكَ ﴾ ’’میں تجھے قتل کر کے رہوں گا۔‘‘ دوسرے بیٹے نے نہایت نرمی سے اس سے کہا: ﴿ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’اللہ صرف متقیوں کی قربانی قبول فرماتا ہے‘‘ اس میں میرا کون سا گناہ اور کون سا جرم ہے جو تجھ پر میرے قتل کو واجب کرتا ہے۔ سوائے اس کے کہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں جس سے ڈرنا مجھ پر، تجھ پر اور ہر ایک پر فرض ہے۔ اس آیت کریمہ میں ’’متقین‘‘ کی تفسیر میں صحیح ترین قول یہ ہے کہ یہاں اس سے مراد ہے عمل میں اللہ تعالیٰ کی خاطر تقویٰ اختیار کرنے والے یعنی ان کا عمل خالص اللہ تعالیٰ کے لیے اور رسول اللہﷺ کی اتباع میں ہو۔

[28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دیتے ہوئے بیان فرمایا کہ دوسرا بیٹا اسے قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ نہ ابتدا میں اور نہ اپنی مدافعت میں ۔ اس لیے اس نے کہا ﴿ لَىِٕنۢۡ بَسَطۡتَّ اِلَيَّ يَدَكَ لِتَقۡتُلَنِيۡ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ يَّدِيَ اِلَيۡكَ لِاَقۡتُلَكَ ﴾ ’’اگر تو ہاتھ چلائے گا مجھ پر تاکہ تو مجھے مارے تو میں اپنا ہاتھ تیری طرف نہیں چلاؤں گا کہ تجھے ماروں ‘‘ اور میرا یہ رویہ میری بزدلی یا میرے عجز کی وجہ سے نہیں یہ تو صرف اس وجہ سے ہے کہ ﴿ اِنِّي ۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا گناہ کا اقدام نہیں کر سکتا، خاص طور پر کبیرہ گناہ …

Al-Maaida 5:27Listen in Qur'an →
28

لَئِنۢ بَسَطتَ إِلَىَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِى مَآ أَنَا۠ بِبَاسِطٍۢ يَدِىَ إِلَيْكَ لِأَقْتُلَكَ ۖ إِنِّىٓ أَخَافُ ٱللَّهَ رَبَّ ٱلْعَٰلَمِينَ

اور اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے مجھ پر ہاتھ چلائے گا تو میں تجھ کو قتل کرنے کے لئے تجھ پر ہاتھ نہیں چلاؤں گا مجھے تو خدائے رب العالمین سے ڈر لگتا ہے

اور تلاوت کریں آپ ان پر خبرآدم کے دو بیٹوں کی ساتھ حق کے، جب دونوں نے قربانی کی (ایک) ایک قربانی تو مقبول ہوئی ان میں سے ایک کی اور نہ مقبول ہوئی دوسرے کی، اس نے کہا میں ضرور تجھے قتل کردوں گا، (پہلے نے) کہا، بس قبول کرتا ہے اللہ پرہیزگاروں ہی سے(27) ، البتہ اگر دراز کرے گا تو میری طرف اپنا ہاتھ تاکہ قتل کرے تو مجھے تو میں نہیں دراز کروں گا اپنا ہاتھ تیری طرف کہ قتل کروں میں تجھے، بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ رب العالمین سے(28) بے شک میں ارادہ کرتا ہوں کہ لوٹے تو ساتھ میرے گناہ اور اپنے گناہ کے، پس ہو جائے تو دوزخیوں سےاور یہی بدلہ ہے ظالموں کا(29) پس آسان کر دیا اس کے لیے اس کے نفس نے قتل کرنے کو اپنے بھائی کے تو اس نے قتل کر دیا اسے اور ہوگیا وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے(30) پھر بھیجا اللہ نے ایک کوا، وہ کھودتا تھا زمین کوتاکہ دکھلائے وہ اسے کہ کیسے چھپائے وہ لاش اپنے بھائی کی، اس نے کہا، ہائے افسوس! کیا میں عاجز ہوں اس سے بھی کہ ہوں مثل اس کوے کی کہ چھپا دیتا لاش اپنے بھائی کی، پس ہو گیا وہ پچھتانے والوں میں سے(31)

[27] یعنی لوگوں کے سامنے قصہ بیان کر اور ان کو اس جھگڑے کے بارے میں بتا جو آدمu کے دو بیٹوں کے درمیان ہوا تھا۔ یہ اس طرح تلاوت کرے کہ اصحاب اعتبار اسے جھوٹا نہیں بلکہ سچا اور اسے کھیل تماشہ نہیں بلکہ ایک انتہائی سنجیدہ واقعہ گردانیں ۔ اور ظاہر بات یہ ہے کہ آدم کے ’’دو بیٹوں ‘‘ سے مراد صلبی بیٹے ہیں جیسا کہ آیت کریمہ کا ظاہر اور اس کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے اور یہی جمہور مفسرین کا قول ہے۔یعنی ان دونوں بیٹوں کا قصہ بیان کر جبکہ انھوں نے تقرب کے لیے قربانی کی جس نے انھیں ذکر کردہ حالت تک پہنچایا۔ ﴿ اِذۡ قَرَّبَا قُرۡبَانًا ﴾ ’’جب ان دونوں نے قربانی پیش کی۔‘‘ یعنی دونوں میں سے ہر ایک نے اپنے مال میں سے اللہ تعالیٰ کے تقرب کی خاطر کچھ قربانی پیش کی ﴿ فَتُقُبِّلَ مِنۡ اَحَدِهِمَا وَلَمۡ يُتَقَبَّلۡ مِنَ الۡاٰخَرِ ﴾’’پس ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہو گئی اور دوسرے کی نامقبول‘‘ ان میں سے جس کی قربانی قبول نہ ہوئی اسے آسمان سے کسی خبر کے ذریعے سے معلوم ہوا یا سابقہ امتوں میں عادت الٰہی کے مطابق قربانی کے قبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ آسمان سے آگ نازل ہو کر قربانی کو جلا ڈالتی تھی۔﴿ قَالَ ﴾ وہ بیٹا جس کی قربانی قبول نہ ہوئی تھی حسد اور تعدی کی بنا پر دوسرے بیٹے سے بولا: ﴿ لَاَقۡتُلَنَّكَ ﴾ ’’میں تجھے قتل کر کے رہوں گا۔‘‘ دوسرے بیٹے نے نہایت نرمی سے اس سے کہا: ﴿ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’اللہ صرف متقیوں کی قربانی قبول فرماتا ہے‘‘ اس میں میرا کون سا گناہ اور کون سا جرم ہے جو تجھ پر میرے قتل کو واجب کرتا ہے۔ سوائے اس کے کہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں جس سے ڈرنا مجھ پر، تجھ پر اور ہر ایک پر فرض ہے۔ اس آیت کریمہ میں ’’متقین‘‘ کی تفسیر میں صحیح ترین قول یہ ہے کہ یہاں اس سے مراد ہے عمل میں اللہ تعالیٰ کی خاطر تقویٰ اختیار کرنے والے یعنی ان کا عمل خالص اللہ تعالیٰ کے لیے اور رسول اللہﷺ کی اتباع میں ہو۔

[28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دیتے ہوئے بیان فرمایا کہ دوسرا بیٹا اسے قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ نہ ابتدا میں اور نہ اپنی مدافعت میں ۔ اس لیے اس نے کہا ﴿ لَىِٕنۢۡ بَسَطۡتَّ اِلَيَّ يَدَكَ لِتَقۡتُلَنِيۡ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ يَّدِيَ اِلَيۡكَ لِاَقۡتُلَكَ ﴾ ’’اگر تو ہاتھ چلائے گا مجھ پر تاکہ تو مجھے مارے تو میں اپنا ہاتھ تیری طرف نہیں چلاؤں گا کہ تجھے ماروں ‘‘ اور میرا یہ رویہ میری بزدلی یا میرے عجز کی وجہ سے نہیں یہ تو صرف اس وجہ سے ہے کہ ﴿ اِنِّي ۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا گناہ کا اقدام نہیں کر سکتا، خاص طور پر کبیرہ گناہ …

Al-Maaida 5:28Listen in Qur'an →
29

إِنِّىٓ أُرِيدُ أَن تَبُوٓأَ بِإِثْمِى وَإِثْمِكَ فَتَكُونَ مِنْ أَصْحَٰبِ ٱلنَّارِ ۚ وَذَٰلِكَ جَزَٰٓؤُا۟ ٱلظَّٰلِمِينَ

میں چاہتا ہوں کہ تو میرے گناہ میں بھی ماخوذ ہو اور اپنے گناہ میں بھی پھر (زمرہ) اہل دوزخ میں ہو اور ظالموں کی یہی سزا ہے

اور تلاوت کریں آپ ان پر خبرآدم کے دو بیٹوں کی ساتھ حق کے، جب دونوں نے قربانی کی (ایک) ایک قربانی تو مقبول ہوئی ان میں سے ایک کی اور نہ مقبول ہوئی دوسرے کی، اس نے کہا میں ضرور تجھے قتل کردوں گا، (پہلے نے) کہا، بس قبول کرتا ہے اللہ پرہیزگاروں ہی سے(27) ، البتہ اگر دراز کرے گا تو میری طرف اپنا ہاتھ تاکہ قتل کرے تو مجھے تو میں نہیں دراز کروں گا اپنا ہاتھ تیری طرف کہ قتل کروں میں تجھے، بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ رب العالمین سے(28) بے شک میں ارادہ کرتا ہوں کہ لوٹے تو ساتھ میرے گناہ اور اپنے گناہ کے، پس ہو جائے تو دوزخیوں سےاور یہی بدلہ ہے ظالموں کا(29) پس آسان کر دیا اس کے لیے اس کے نفس نے قتل کرنے کو اپنے بھائی کے تو اس نے قتل کر دیا اسے اور ہوگیا وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے(30) پھر بھیجا اللہ نے ایک کوا، وہ کھودتا تھا زمین کوتاکہ دکھلائے وہ اسے کہ کیسے چھپائے وہ لاش اپنے بھائی کی، اس نے کہا، ہائے افسوس! کیا میں عاجز ہوں اس سے بھی کہ ہوں مثل اس کوے کی کہ چھپا دیتا لاش اپنے بھائی کی، پس ہو گیا وہ پچھتانے والوں میں سے(31)

[27] یعنی لوگوں کے سامنے قصہ بیان کر اور ان کو اس جھگڑے کے بارے میں بتا جو آدمu کے دو بیٹوں کے درمیان ہوا تھا۔ یہ اس طرح تلاوت کرے کہ اصحاب اعتبار اسے جھوٹا نہیں بلکہ سچا اور اسے کھیل تماشہ نہیں بلکہ ایک انتہائی سنجیدہ واقعہ گردانیں ۔ اور ظاہر بات یہ ہے کہ آدم کے ’’دو بیٹوں ‘‘ سے مراد صلبی بیٹے ہیں جیسا کہ آیت کریمہ کا ظاہر اور اس کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے اور یہی جمہور مفسرین کا قول ہے۔یعنی ان دونوں بیٹوں کا قصہ بیان کر جبکہ انھوں نے تقرب کے لیے قربانی کی جس نے انھیں ذکر کردہ حالت تک پہنچایا۔ ﴿ اِذۡ قَرَّبَا قُرۡبَانًا ﴾ ’’جب ان دونوں نے قربانی پیش کی۔‘‘ یعنی دونوں میں سے ہر ایک نے اپنے مال میں سے اللہ تعالیٰ کے تقرب کی خاطر کچھ قربانی پیش کی ﴿ فَتُقُبِّلَ مِنۡ اَحَدِهِمَا وَلَمۡ يُتَقَبَّلۡ مِنَ الۡاٰخَرِ ﴾’’پس ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہو گئی اور دوسرے کی نامقبول‘‘ ان میں سے جس کی قربانی قبول نہ ہوئی اسے آسمان سے کسی خبر کے ذریعے سے معلوم ہوا یا سابقہ امتوں میں عادت الٰہی کے مطابق قربانی کے قبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ آسمان سے آگ نازل ہو کر قربانی کو جلا ڈالتی تھی۔﴿ قَالَ ﴾ وہ بیٹا جس کی قربانی قبول نہ ہوئی تھی حسد اور تعدی کی بنا پر دوسرے بیٹے سے بولا: ﴿ لَاَقۡتُلَنَّكَ ﴾ ’’میں تجھے قتل کر کے رہوں گا۔‘‘ دوسرے بیٹے نے نہایت نرمی سے اس سے کہا: ﴿ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’اللہ صرف متقیوں کی قربانی قبول فرماتا ہے‘‘ اس میں میرا کون سا گناہ اور کون سا جرم ہے جو تجھ پر میرے قتل کو واجب کرتا ہے۔ سوائے اس کے کہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں جس سے ڈرنا مجھ پر، تجھ پر اور ہر ایک پر فرض ہے۔ اس آیت کریمہ میں ’’متقین‘‘ کی تفسیر میں صحیح ترین قول یہ ہے کہ یہاں اس سے مراد ہے عمل میں اللہ تعالیٰ کی خاطر تقویٰ اختیار کرنے والے یعنی ان کا عمل خالص اللہ تعالیٰ کے لیے اور رسول اللہﷺ کی اتباع میں ہو۔

[28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دیتے ہوئے بیان فرمایا کہ دوسرا بیٹا اسے قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ نہ ابتدا میں اور نہ اپنی مدافعت میں ۔ اس لیے اس نے کہا ﴿ لَىِٕنۢۡ بَسَطۡتَّ اِلَيَّ يَدَكَ لِتَقۡتُلَنِيۡ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ يَّدِيَ اِلَيۡكَ لِاَقۡتُلَكَ ﴾ ’’اگر تو ہاتھ چلائے گا مجھ پر تاکہ تو مجھے مارے تو میں اپنا ہاتھ تیری طرف نہیں چلاؤں گا کہ تجھے ماروں ‘‘ اور میرا یہ رویہ میری بزدلی یا میرے عجز کی وجہ سے نہیں یہ تو صرف اس وجہ سے ہے کہ ﴿ اِنِّي ۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا گناہ کا اقدام نہیں کر سکتا، خاص طور پر کبیرہ گناہ …

Al-Maaida 5:29Listen in Qur'an →
30

فَطَوَّعَتْ لَهُۥ نَفْسُهُۥ قَتْلَ أَخِيهِ فَقَتَلَهُۥ فَأَصْبَحَ مِنَ ٱلْخَٰسِرِينَ

مگر اس کے نفس نے اس کو بھائی کے قتل ہی کی ترغیب دی تو اس نے اسے قتل کر دیا اور خسارہ اٹھانے والوں میں ہو گیا

اور تلاوت کریں آپ ان پر خبرآدم کے دو بیٹوں کی ساتھ حق کے، جب دونوں نے قربانی کی (ایک) ایک قربانی تو مقبول ہوئی ان میں سے ایک کی اور نہ مقبول ہوئی دوسرے کی، اس نے کہا میں ضرور تجھے قتل کردوں گا، (پہلے نے) کہا، بس قبول کرتا ہے اللہ پرہیزگاروں ہی سے(27) ، البتہ اگر دراز کرے گا تو میری طرف اپنا ہاتھ تاکہ قتل کرے تو مجھے تو میں نہیں دراز کروں گا اپنا ہاتھ تیری طرف کہ قتل کروں میں تجھے، بے شک میں ڈرتا ہوں اللہ رب العالمین سے(28) بے شک میں ارادہ کرتا ہوں کہ لوٹے تو ساتھ میرے گناہ اور اپنے گناہ کے، پس ہو جائے تو دوزخیوں سےاور یہی بدلہ ہے ظالموں کا(29) پس آسان کر دیا اس کے لیے اس کے نفس نے قتل کرنے کو اپنے بھائی کے تو اس نے قتل کر دیا اسے اور ہوگیا وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے(30) پھر بھیجا اللہ نے ایک کوا، وہ کھودتا تھا زمین کوتاکہ دکھلائے وہ اسے کہ کیسے چھپائے وہ لاش اپنے بھائی کی، اس نے کہا، ہائے افسوس! کیا میں عاجز ہوں اس سے بھی کہ ہوں مثل اس کوے کی کہ چھپا دیتا لاش اپنے بھائی کی، پس ہو گیا وہ پچھتانے والوں میں سے(31)

[27] یعنی لوگوں کے سامنے قصہ بیان کر اور ان کو اس جھگڑے کے بارے میں بتا جو آدمu کے دو بیٹوں کے درمیان ہوا تھا۔ یہ اس طرح تلاوت کرے کہ اصحاب اعتبار اسے جھوٹا نہیں بلکہ سچا اور اسے کھیل تماشہ نہیں بلکہ ایک انتہائی سنجیدہ واقعہ گردانیں ۔ اور ظاہر بات یہ ہے کہ آدم کے ’’دو بیٹوں ‘‘ سے مراد صلبی بیٹے ہیں جیسا کہ آیت کریمہ کا ظاہر اور اس کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے اور یہی جمہور مفسرین کا قول ہے۔یعنی ان دونوں بیٹوں کا قصہ بیان کر جبکہ انھوں نے تقرب کے لیے قربانی کی جس نے انھیں ذکر کردہ حالت تک پہنچایا۔ ﴿ اِذۡ قَرَّبَا قُرۡبَانًا ﴾ ’’جب ان دونوں نے قربانی پیش کی۔‘‘ یعنی دونوں میں سے ہر ایک نے اپنے مال میں سے اللہ تعالیٰ کے تقرب کی خاطر کچھ قربانی پیش کی ﴿ فَتُقُبِّلَ مِنۡ اَحَدِهِمَا وَلَمۡ يُتَقَبَّلۡ مِنَ الۡاٰخَرِ ﴾’’پس ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہو گئی اور دوسرے کی نامقبول‘‘ ان میں سے جس کی قربانی قبول نہ ہوئی اسے آسمان سے کسی خبر کے ذریعے سے معلوم ہوا یا سابقہ امتوں میں عادت الٰہی کے مطابق قربانی کے قبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ آسمان سے آگ نازل ہو کر قربانی کو جلا ڈالتی تھی۔﴿ قَالَ ﴾ وہ بیٹا جس کی قربانی قبول نہ ہوئی تھی حسد اور تعدی کی بنا پر دوسرے بیٹے سے بولا: ﴿ لَاَقۡتُلَنَّكَ ﴾ ’’میں تجھے قتل کر کے رہوں گا۔‘‘ دوسرے بیٹے نے نہایت نرمی سے اس سے کہا: ﴿ اِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الۡمُتَّقِيۡنَ ﴾ ’’اللہ صرف متقیوں کی قربانی قبول فرماتا ہے‘‘ اس میں میرا کون سا گناہ اور کون سا جرم ہے جو تجھ پر میرے قتل کو واجب کرتا ہے۔ سوائے اس کے کہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں جس سے ڈرنا مجھ پر، تجھ پر اور ہر ایک پر فرض ہے۔ اس آیت کریمہ میں ’’متقین‘‘ کی تفسیر میں صحیح ترین قول یہ ہے کہ یہاں اس سے مراد ہے عمل میں اللہ تعالیٰ کی خاطر تقویٰ اختیار کرنے والے یعنی ان کا عمل خالص اللہ تعالیٰ کے لیے اور رسول اللہﷺ کی اتباع میں ہو۔

[28] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دیتے ہوئے بیان فرمایا کہ دوسرا بیٹا اسے قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ نہ ابتدا میں اور نہ اپنی مدافعت میں ۔ اس لیے اس نے کہا ﴿ لَىِٕنۢۡ بَسَطۡتَّ اِلَيَّ يَدَكَ لِتَقۡتُلَنِيۡ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ يَّدِيَ اِلَيۡكَ لِاَقۡتُلَكَ ﴾ ’’اگر تو ہاتھ چلائے گا مجھ پر تاکہ تو مجھے مارے تو میں اپنا ہاتھ تیری طرف نہیں چلاؤں گا کہ تجھے ماروں ‘‘ اور میرا یہ رویہ میری بزدلی یا میرے عجز کی وجہ سے نہیں یہ تو صرف اس وجہ سے ہے کہ ﴿ اِنِّي ۡۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں ‘‘ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا گناہ کا اقدام نہیں کر سکتا، خاص طور پر کبیرہ گناہ …

Al-Maaida 5:30Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.