Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan

Ayahs 21–30 of 120

21

يَٰقَوْمِ ٱدْخُلُوا۟ ٱلْأَرْضَ ٱلْمُقَدَّسَةَ ٱلَّتِى كَتَبَ ٱللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَرْتَدُّوا۟ عَلَىٰٓ أَدْبَارِكُمْ فَتَنقَلِبُوا۟ خَٰسِرِينَ

تو بھائیو! تم ارض مقدس (یعنی ملک شام) میں جسے خدا نے تمہارے لیے لکھ رکھا ہے چل داخل ہو اور (دیکھنا مقابلے کے وقت) پیٹھ نہ پھیر دینا ورنہ نقصان میں پڑ جاؤ گے

اللہ کا یہ طریقہ ہے کہ وہ اپنے پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے کسی گروہ کو چن لیتا ہے۔ اس گروہ کے اندر وہ اپنے پیغمبر اور اپنی کتاب بھیجتا ہے اور ا س کو مامور کرتا ہے کہ وہ اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائے۔ جس طرح وحی ایک خاص شخص پر اترتی ہے اسی طرح وحی کا حامل بھی ایک خاص گروہ کو بنایا جاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں یہ خاص حیثیت بنی اسرائیل کو حاصل تھی اور نبی آخر الزماں کے بعد امت محمدی اس خصوصی منصب پر مامور ہے۔

اللہ کو جس طرح یہ مطلوب ہے کہ کوئی قوم اس کے دین کی نمائندگی کرے۔ اسی طرح اس کو یہ بھی مطلوب هےکہ جو قوم اس کے دین کی نمائندہ ہو وہ دنیا میں باعزت اور سربلند ہو تاکہ لوگوں پر اس بات کا مظاہرہ ہوسکے کہ قیامت کے بعد جو نیا اور ابدی عالم بنے گا اس میں ہر قسم کی سرفرازیاں صرف اہل حق کو حاصل ہوں گی۔ باقی لوگ مغلوب کرکے خدا کی رحمتوں سے دور پھینک ديے جائیں گے۔ تاہم اس گروہ کو یہ دنیوی انعام یک طرفہ طورپر نہیں دیاجاتا۔ اس کے لیے اس کو استحقاق کے امتحان میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ اس کو عملی طورپر یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ پر اعتماد کرنے والا اور صبر کی حد تک اس کی مرضی پر قائم رہنے والا ہے۔

بنی اسرائیل جب تک اس معیار پر قائم رہے ان کو خدا نے ان کی حریف قوموں پر غالب کیا۔ حتی کہ ایک زمانہ تک وہ اپنے وقت کی مہذب دنیا میں سب سے زیادہ سربلند حیثیت رکھتے تھے۔ مگر حضرت موسیٰ تشریف لائے تو بنی اسرائیل پر زوال آچکا تھا۔ امتحان کے وقت ان کی اکثریت اعتماد علی اللہ اور صبر کا ثبوت دینے کے لیے تیار نہ ہوئی۔ حتی کہ ان کا ایک طبقہ اللہ اور اس کے رسول کے سامنے گستاخی کرنے لگا۔ ان کے دل میں اللہ سے بھی زیادہ دنیا کی طاقت ور قوموں کا ڈر سمایا ہوا تھا — جب خدا کا کوئی نمائندہ گروہ خدا کے کام کے لیے قربانی نہ دے تو گویاکہ وہ چاہتا ہے کہ خدا خود زمین پر اترے اور اپنے دین کا کام خود انجام دے، خواہ وہ بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں کی طرح اس بات کو زبان سے کہہ دے یا دوسرے لوگوں کی طرح زبان سے نہ کہے بلکہ صرف اپنے عمل سے اس کو ظاہر کرے۔

Al-Maaida 5:21Listen in Qur'an →
22

قَالُوا۟ يَٰمُوسَىٰٓ إِنَّ فِيهَا قَوْمًۭا جَبَّارِينَ وَإِنَّا لَن نَّدْخُلَهَا حَتَّىٰ يَخْرُجُوا۟ مِنْهَا فَإِن يَخْرُجُوا۟ مِنْهَا فَإِنَّا دَٰخِلُونَ

وہ کہنے لگے کہ موسیٰ! وہاں تو بڑے زبردست لوگ (رہتے) ہیں اور جب تک وہ اس سرزمین سے نکل نہ جائیں ہم وہاں جا نہیں سکتے ہاں اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو ہم جا داخل ہوں گے

اللہ کا یہ طریقہ ہے کہ وہ اپنے پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے کسی گروہ کو چن لیتا ہے۔ اس گروہ کے اندر وہ اپنے پیغمبر اور اپنی کتاب بھیجتا ہے اور ا س کو مامور کرتا ہے کہ وہ اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائے۔ جس طرح وحی ایک خاص شخص پر اترتی ہے اسی طرح وحی کا حامل بھی ایک خاص گروہ کو بنایا جاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں یہ خاص حیثیت بنی اسرائیل کو حاصل تھی اور نبی آخر الزماں کے بعد امت محمدی اس خصوصی منصب پر مامور ہے۔

اللہ کو جس طرح یہ مطلوب ہے کہ کوئی قوم اس کے دین کی نمائندگی کرے۔ اسی طرح اس کو یہ بھی مطلوب هےکہ جو قوم اس کے دین کی نمائندہ ہو وہ دنیا میں باعزت اور سربلند ہو تاکہ لوگوں پر اس بات کا مظاہرہ ہوسکے کہ قیامت کے بعد جو نیا اور ابدی عالم بنے گا اس میں ہر قسم کی سرفرازیاں صرف اہل حق کو حاصل ہوں گی۔ باقی لوگ مغلوب کرکے خدا کی رحمتوں سے دور پھینک ديے جائیں گے۔ تاہم اس گروہ کو یہ دنیوی انعام یک طرفہ طورپر نہیں دیاجاتا۔ اس کے لیے اس کو استحقاق کے امتحان میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ اس کو عملی طورپر یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ پر اعتماد کرنے والا اور صبر کی حد تک اس کی مرضی پر قائم رہنے والا ہے۔

بنی اسرائیل جب تک اس معیار پر قائم رہے ان کو خدا نے ان کی حریف قوموں پر غالب کیا۔ حتی کہ ایک زمانہ تک وہ اپنے وقت کی مہذب دنیا میں سب سے زیادہ سربلند حیثیت رکھتے تھے۔ مگر حضرت موسیٰ تشریف لائے تو بنی اسرائیل پر زوال آچکا تھا۔ امتحان کے وقت ان کی اکثریت اعتماد علی اللہ اور صبر کا ثبوت دینے کے لیے تیار نہ ہوئی۔ حتی کہ ان کا ایک طبقہ اللہ اور اس کے رسول کے سامنے گستاخی کرنے لگا۔ ان کے دل میں اللہ سے بھی زیادہ دنیا کی طاقت ور قوموں کا ڈر سمایا ہوا تھا — جب خدا کا کوئی نمائندہ گروہ خدا کے کام کے لیے قربانی نہ دے تو گویاکہ وہ چاہتا ہے کہ خدا خود زمین پر اترے اور اپنے دین کا کام خود انجام دے، خواہ وہ بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں کی طرح اس بات کو زبان سے کہہ دے یا دوسرے لوگوں کی طرح زبان سے نہ کہے بلکہ صرف اپنے عمل سے اس کو ظاہر کرے۔

Al-Maaida 5:22Listen in Qur'an →
23

قَالَ رَجُلَانِ مِنَ ٱلَّذِينَ يَخَافُونَ أَنْعَمَ ٱللَّهُ عَلَيْهِمَا ٱدْخُلُوا۟ عَلَيْهِمُ ٱلْبَابَ فَإِذَا دَخَلْتُمُوهُ فَإِنَّكُمْ غَٰلِبُونَ ۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَتَوَكَّلُوٓا۟ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

جو لوگ (خدا سے) ڈرتے تھے ان میں سے دو شخص جن پر خدا کی عنایت تھی کہنے لگے کہ ان لوگوں پر دروازے کے رستے سے حملہ کردو جب تم دروازے میں داخل ہو گئے تو فتح تمہارے ہے اور خدا ہی پر بھروسہ رکھو بشرطیکہ صاحبِ ایمان ہو

اللہ کا یہ طریقہ ہے کہ وہ اپنے پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے کسی گروہ کو چن لیتا ہے۔ اس گروہ کے اندر وہ اپنے پیغمبر اور اپنی کتاب بھیجتا ہے اور ا س کو مامور کرتا ہے کہ وہ اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائے۔ جس طرح وحی ایک خاص شخص پر اترتی ہے اسی طرح وحی کا حامل بھی ایک خاص گروہ کو بنایا جاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں یہ خاص حیثیت بنی اسرائیل کو حاصل تھی اور نبی آخر الزماں کے بعد امت محمدی اس خصوصی منصب پر مامور ہے۔

اللہ کو جس طرح یہ مطلوب ہے کہ کوئی قوم اس کے دین کی نمائندگی کرے۔ اسی طرح اس کو یہ بھی مطلوب هےکہ جو قوم اس کے دین کی نمائندہ ہو وہ دنیا میں باعزت اور سربلند ہو تاکہ لوگوں پر اس بات کا مظاہرہ ہوسکے کہ قیامت کے بعد جو نیا اور ابدی عالم بنے گا اس میں ہر قسم کی سرفرازیاں صرف اہل حق کو حاصل ہوں گی۔ باقی لوگ مغلوب کرکے خدا کی رحمتوں سے دور پھینک ديے جائیں گے۔ تاہم اس گروہ کو یہ دنیوی انعام یک طرفہ طورپر نہیں دیاجاتا۔ اس کے لیے اس کو استحقاق کے امتحان میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ اس کو عملی طورپر یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ پر اعتماد کرنے والا اور صبر کی حد تک اس کی مرضی پر قائم رہنے والا ہے۔

بنی اسرائیل جب تک اس معیار پر قائم رہے ان کو خدا نے ان کی حریف قوموں پر غالب کیا۔ حتی کہ ایک زمانہ تک وہ اپنے وقت کی مہذب دنیا میں سب سے زیادہ سربلند حیثیت رکھتے تھے۔ مگر حضرت موسیٰ تشریف لائے تو بنی اسرائیل پر زوال آچکا تھا۔ امتحان کے وقت ان کی اکثریت اعتماد علی اللہ اور صبر کا ثبوت دینے کے لیے تیار نہ ہوئی۔ حتی کہ ان کا ایک طبقہ اللہ اور اس کے رسول کے سامنے گستاخی کرنے لگا۔ ان کے دل میں اللہ سے بھی زیادہ دنیا کی طاقت ور قوموں کا ڈر سمایا ہوا تھا — جب خدا کا کوئی نمائندہ گروہ خدا کے کام کے لیے قربانی نہ دے تو گویاکہ وہ چاہتا ہے کہ خدا خود زمین پر اترے اور اپنے دین کا کام خود انجام دے، خواہ وہ بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں کی طرح اس بات کو زبان سے کہہ دے یا دوسرے لوگوں کی طرح زبان سے نہ کہے بلکہ صرف اپنے عمل سے اس کو ظاہر کرے۔

Al-Maaida 5:23Listen in Qur'an →
24

قَالُوا۟ يَٰمُوسَىٰٓ إِنَّا لَن نَّدْخُلَهَآ أَبَدًۭا مَّا دَامُوا۟ فِيهَا ۖ فَٱذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَٰتِلَآ إِنَّا هَٰهُنَا قَٰعِدُونَ

وہ بولے کہ موسیٰ! جب تک وہ لوگ وہاں ہیں ہم کبھی وہاں نہیں جا سکتے (اگر لڑنا ہی ضرور ہے) تو تم اور تمہارا خدا جاؤ اور لڑو ہم یہیں بیٹھے رہیں گے

اللہ کا یہ طریقہ ہے کہ وہ اپنے پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے کسی گروہ کو چن لیتا ہے۔ اس گروہ کے اندر وہ اپنے پیغمبر اور اپنی کتاب بھیجتا ہے اور ا س کو مامور کرتا ہے کہ وہ اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائے۔ جس طرح وحی ایک خاص شخص پر اترتی ہے اسی طرح وحی کا حامل بھی ایک خاص گروہ کو بنایا جاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں یہ خاص حیثیت بنی اسرائیل کو حاصل تھی اور نبی آخر الزماں کے بعد امت محمدی اس خصوصی منصب پر مامور ہے۔

اللہ کو جس طرح یہ مطلوب ہے کہ کوئی قوم اس کے دین کی نمائندگی کرے۔ اسی طرح اس کو یہ بھی مطلوب هےکہ جو قوم اس کے دین کی نمائندہ ہو وہ دنیا میں باعزت اور سربلند ہو تاکہ لوگوں پر اس بات کا مظاہرہ ہوسکے کہ قیامت کے بعد جو نیا اور ابدی عالم بنے گا اس میں ہر قسم کی سرفرازیاں صرف اہل حق کو حاصل ہوں گی۔ باقی لوگ مغلوب کرکے خدا کی رحمتوں سے دور پھینک ديے جائیں گے۔ تاہم اس گروہ کو یہ دنیوی انعام یک طرفہ طورپر نہیں دیاجاتا۔ اس کے لیے اس کو استحقاق کے امتحان میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ اس کو عملی طورپر یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ پر اعتماد کرنے والا اور صبر کی حد تک اس کی مرضی پر قائم رہنے والا ہے۔

بنی اسرائیل جب تک اس معیار پر قائم رہے ان کو خدا نے ان کی حریف قوموں پر غالب کیا۔ حتی کہ ایک زمانہ تک وہ اپنے وقت کی مہذب دنیا میں سب سے زیادہ سربلند حیثیت رکھتے تھے۔ مگر حضرت موسیٰ تشریف لائے تو بنی اسرائیل پر زوال آچکا تھا۔ امتحان کے وقت ان کی اکثریت اعتماد علی اللہ اور صبر کا ثبوت دینے کے لیے تیار نہ ہوئی۔ حتی کہ ان کا ایک طبقہ اللہ اور اس کے رسول کے سامنے گستاخی کرنے لگا۔ ان کے دل میں اللہ سے بھی زیادہ دنیا کی طاقت ور قوموں کا ڈر سمایا ہوا تھا — جب خدا کا کوئی نمائندہ گروہ خدا کے کام کے لیے قربانی نہ دے تو گویاکہ وہ چاہتا ہے کہ خدا خود زمین پر اترے اور اپنے دین کا کام خود انجام دے، خواہ وہ بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں کی طرح اس بات کو زبان سے کہہ دے یا دوسرے لوگوں کی طرح زبان سے نہ کہے بلکہ صرف اپنے عمل سے اس کو ظاہر کرے۔

Al-Maaida 5:24Listen in Qur'an →
25

قَالَ رَبِّ إِنِّى لَآ أَمْلِكُ إِلَّا نَفْسِى وَأَخِى ۖ فَٱفْرُقْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ ٱلْقَوْمِ ٱلْفَٰسِقِينَ

موسیٰ نے (خدا سے) التجا کی کہ پروردگار میں اپنے اور اپنے بھائی کے سوا اور کسی پر اختیار نہیں رکھتا تو ہم میں اور ان نافرمان لوگوں میں جدائی کردے

بنی اسرائیل جب حضرت موسیٰ کی قیادت میں مصرسے نکل کر صحرائے سینا میں پہنچے تو اس زمانہ میں شام و فلسطین کے علاقہ میں ایک ظالم قوم (عمالقہ) کی حکومت تھی۔ اللہ نے بنی اسرائیل سے کہا کہ یہ ظالم لوگ اپنی عمر پوری کر چکے ہیں۔ تم ان کے ملک میں داخل ہوجاؤ، تم کو خدا کی مدد حاصل ہوگی اور تم معمولی مقابلہ کے بعد ان کے اوپر قبضہ پالو گے۔ مگر بنی اسرائیل پر اس قوم کی ایسی ہیبت طاری تھی کہ وہ ان کے ملک میں داخل ہونے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ اللہ سے زیادہ انسانوں سے ڈرتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ کی نظر میں ان کی کوئی قیمت نہ رہی۔ اللہ نے ان کے بارے میں فیصلہ کردیا کہ وہ چالیس سال (1440-1400 ق م) تک فاران اور شرق اردن کے درمیان صحرا میں بھٹکتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ 20 سال سے لے کر اوپر کی عمر تک کے سارے لوگ ختم ہوجائیں گے۔ اس دوران ان كي ايك نئی نسل نئے حالات میں پرورش پاکر اٹھے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ 40 سال کی صحرائی زندگی میں ان کے تمام بڑی عمر والے مرکر ختم ہوگئے۔ اس کے بعد ان کی نئی نسل نے یوشع بن نون کی قیادت میں شام وفلسطین کو فتح کیا۔ یہ یوشع بن نون ان دو صالح اسرائیلیوں میں سے ایک ہیں، جنھوں نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ تم اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے عمالقہ کے ملک میں داخل ہوجاؤ۔

بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے کہا تھا کہ اگر ہم اس ملک پر حملہ کریں تو ہم کو شکست ہوگی اور اس کے بعد ’’ہمارے بچے لوٹ کا مال ٹھہریں گے‘‘۔ مگر یہی بچے بڑے ہو کر عمالقہ کے ملک میں داخل ہوئے اور اس پر قبضہ کیا۔بچوںمیں یہ طاقت اس لیے پیدا ہوئی کہ انھوں نے لمبی مدت تک صحرائی زندگی کی مشقتوں کو برداشت کیا تھا۔ بچوں کے باپ جن پُر خطر حالات کو اپنے بچوں کے حق میں موت سمجھتے تھے انھیں پُر خطر حالات کے اندر داخل ہونے میں ان کے بچوں کی زندگی کا راز چھپا ہوا تھا۔

موافق حالات میں جینا بظاہر بہت اچھا معلوم ہوتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ آدمی کے اندر تمام بہترین اوصاف اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب کہ اس کو حالات کا مقابلہ کرکے زندہ رہنا پڑے۔ مصر میں بنی اسرائیل صدیوں تک عافیت کی زندگی گزارتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ایک مُردہ قوم بن گئے۔ مگر خروج کے بعد ان کو جو صحرائی زندگی حاصل ہوئی اس میں زندگی ان کے لیے سراپا چیلنج تھی۔ ان حالات میں جو لوگ بچپن سے جوانی کی عمر کو پہنچے وہ قدرتی طورپر بالکل دوسری قسم کے لوگ تھے۔ صحرائی حالات نے ان کے اندر سادگی، ہمت، جفاکشی اور حقیقت پسندی پیدا کردی تھی۔ اور یہی وہ اوصاف ہیں، جو کسی قوم کو زندہ قوم بناتے ہیں — کوئی قوم اگر حالات کے نتیجہ میں مردہ قوم بن جائے تو اس کو دوبارہ زندہ قوم بنانے کے لیے غیر معمولی حالات میں ڈال دیا جاتا ہے۔

Al-Maaida 5:25Listen in Qur'an →
26

قَالَ فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ ۛ أَرْبَعِينَ سَنَةًۭ ۛ يَتِيهُونَ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ فَلَا تَأْسَ عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْفَٰسِقِينَ

خدا نے فرمایا کہ وہ ملک ان پر چالیس برس تک کے لیے حرام کر دیا گیا (کہ وہاں جانے نہ پائیں گے اور جنگل کی) زمین میں سرگرداں پھرتے رہیں گے تو ان نافرمان لوگوں کے حال پر افسوس نہ کرو

بنی اسرائیل جب حضرت موسیٰ کی قیادت میں مصرسے نکل کر صحرائے سینا میں پہنچے تو اس زمانہ میں شام و فلسطین کے علاقہ میں ایک ظالم قوم (عمالقہ) کی حکومت تھی۔ اللہ نے بنی اسرائیل سے کہا کہ یہ ظالم لوگ اپنی عمر پوری کر چکے ہیں۔ تم ان کے ملک میں داخل ہوجاؤ، تم کو خدا کی مدد حاصل ہوگی اور تم معمولی مقابلہ کے بعد ان کے اوپر قبضہ پالو گے۔ مگر بنی اسرائیل پر اس قوم کی ایسی ہیبت طاری تھی کہ وہ ان کے ملک میں داخل ہونے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ اللہ سے زیادہ انسانوں سے ڈرتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ کی نظر میں ان کی کوئی قیمت نہ رہی۔ اللہ نے ان کے بارے میں فیصلہ کردیا کہ وہ چالیس سال (1440-1400 ق م) تک فاران اور شرق اردن کے درمیان صحرا میں بھٹکتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ 20 سال سے لے کر اوپر کی عمر تک کے سارے لوگ ختم ہوجائیں گے۔ اس دوران ان كي ايك نئی نسل نئے حالات میں پرورش پاکر اٹھے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ 40 سال کی صحرائی زندگی میں ان کے تمام بڑی عمر والے مرکر ختم ہوگئے۔ اس کے بعد ان کی نئی نسل نے یوشع بن نون کی قیادت میں شام وفلسطین کو فتح کیا۔ یہ یوشع بن نون ان دو صالح اسرائیلیوں میں سے ایک ہیں، جنھوں نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ تم اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے عمالقہ کے ملک میں داخل ہوجاؤ۔

بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے کہا تھا کہ اگر ہم اس ملک پر حملہ کریں تو ہم کو شکست ہوگی اور اس کے بعد ’’ہمارے بچے لوٹ کا مال ٹھہریں گے‘‘۔ مگر یہی بچے بڑے ہو کر عمالقہ کے ملک میں داخل ہوئے اور اس پر قبضہ کیا۔بچوںمیں یہ طاقت اس لیے پیدا ہوئی کہ انھوں نے لمبی مدت تک صحرائی زندگی کی مشقتوں کو برداشت کیا تھا۔ بچوں کے باپ جن پُر خطر حالات کو اپنے بچوں کے حق میں موت سمجھتے تھے انھیں پُر خطر حالات کے اندر داخل ہونے میں ان کے بچوں کی زندگی کا راز چھپا ہوا تھا۔

موافق حالات میں جینا بظاہر بہت اچھا معلوم ہوتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ آدمی کے اندر تمام بہترین اوصاف اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب کہ اس کو حالات کا مقابلہ کرکے زندہ رہنا پڑے۔ مصر میں بنی اسرائیل صدیوں تک عافیت کی زندگی گزارتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ایک مُردہ قوم بن گئے۔ مگر خروج کے بعد ان کو جو صحرائی زندگی حاصل ہوئی اس میں زندگی ان کے لیے سراپا چیلنج تھی۔ ان حالات میں جو لوگ بچپن سے جوانی کی عمر کو پہنچے وہ قدرتی طورپر بالکل دوسری قسم کے لوگ تھے۔ صحرائی حالات نے ان کے اندر سادگی، ہمت، جفاکشی اور حقیقت پسندی پیدا کردی تھی۔ اور یہی وہ اوصاف ہیں، جو کسی قوم کو زندہ قوم بناتے ہیں — کوئی قوم اگر حالات کے نتیجہ میں مردہ قوم بن جائے تو اس کو دوبارہ زندہ قوم بنانے کے لیے غیر معمولی حالات میں ڈال دیا جاتا ہے۔

Al-Maaida 5:26Listen in Qur'an →
27

۞ وَٱتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ٱبْنَىْ ءَادَمَ بِٱلْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًۭا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ ٱلْءَاخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّكَ ۖ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ ٱللَّهُ مِنَ ٱلْمُتَّقِينَ

اور (اے محمد) ان کو آدم کے دو بیٹوں (ہابیل اور قابیل) کے حالات (جو بالکل) سچے (ہیں) پڑھ کر سنا دو کہ جب ان دونوں نے خدا (کی جناب میں) کچھ نیازیں چڑھائیں تو ایک کی نیاز تو قبول ہو گئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی (تب قابیل ہابیل سے) کہنے لگا کہ میں تجھے قتل کروں گا اس نے کہا کہ خدا پرہیزگاروں ہی کی (نیاز) قبول فرمایا کرتا ہے

اللہ کے لیے جو عمل کیا جائے اس کا اصل بدلہ تو آخرت میں ملتا ہے، تاہم بعض اوقات دنیا میں بھی ایسے واقعات ظاہر ہوتے ہیں جو بتاتے ہیں کہ آدمی کا عمل خدا کے یہاں مقبول ہوا یا نہیں۔ آدم کے بیٹوں میں سے قابیل اور ہابیل کے ساتھ بھی ایسی ہی صورت پیش آئی۔ قابیل کسان تھا اور ہابیل بھیڑ بکریوں کا کام کرتا تھا، ہابیل نے اپنی محنت کی کمائی اللہ کے لیے دی۔ وہ اللہ کے یہاں مقبول ہوئی اور اس کی برکت اس کی زندگی اور اس کے کام میں ظاہر ہوئی۔ قابیل نے بھی اپنی زراعت میں سے کچھ اللہ کے ليے پیش کیا مگر وہ قبول نہ ہوا ا ور وہ خدا کی برکت پانے سے محروم رہا۔ یہ دیکھ کر قابیل کے دل میں اپنے چھوٹے بھائی ہابیل کے لیے حسد پیدا ہوگیا۔ یہ حسد اتنا بڑھا کہ اس نے ہابیل سے کہا کہ میں تم کو جان سے مار ڈالوں گا۔ ہابیل نے کہا کہ تمھاری قربانی قبول نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ تمھارے دل میں خدا کا خوف نہیں۔ تم کو میرے پیچھے پڑنے کے بجائے اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔ مگر حسد اور بغض کی آگ جب کسی کے اندر بھڑکتی ہے تو وہ اس کو اس قابل نہیں رکھتی کہ وہ اپنی غلطیوں کا جائزہ لے۔ وہ بس ایک ہی بات جانتا ہے— جس طرح بھی ہو اپنے مفروضہ حریف کا خاتمہ کردے۔

ہابیل نے قابیل سے کہا کہ تم خواہ میرے قتل کے لیے ہاتھ بڑھاؤ، میں تمھارے قتل کے لیے ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان اور مسلمان کی باہمی لڑائی کو اللہ نے سراسر حرام قرار دیا ہے۔ حتی کہ اگر ایک مسلمان اپنے دوسرے بھائی کے قتل کے درپے ہوجائے تو اس وقت بھی عزیمت یہ ہے کہ دوسرا بھائی اپنے بھائی کے خون کو اپنے لیے حلال نہ کرے۔ وہ اپنی طرف سے جارحانہ اقدام نہ کركے باہمی ٹکراؤ کو پہلے ہی مرحلہ میں ختم کردے۔ اس کے برعکس، اگر وہ بھی جواب میں جارحیت کرنے لگے تو مسلم معاشرہ کے اندر عمل اور رد عمل کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ لیکن حملہ آور اگر غیر مسلم ہو تو اس وقت ایسا کرنا درست نہیں۔ اسی طرح جب دینی دشمنوں کی طرف سے جارحیت کی جائے تو مسلم اور غیر مسلم کا فرق كيے بغیر ایسے لوگوں سے بھر پور مقابلہ کیا جائے گا۔

دو مسلمان جب ایک دوسرے کی بربادی کے درپے ہوں تو گناہ دونوں کے درمیان تقسیم ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر ایسا ہو کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی بربادی کی کارروائیاں کرے اور دوسرا مسلمان صبر اور دعا میں مشغول ہو تو پہلا شخص نہ صرف اپنے گناہ کا بوجھ اٹھاتا ہے بلکہ دوسرے شخص کے اس ممکن گناہ کا بوجھ بھی اس کے اوپر ڈال دیاجاتا ہے، جو صبر اور دعا کے طریقہ پر نہ چلنے کی صورت میں وہ کرتا۔

Al-Maaida 5:27Listen in Qur'an →
28

لَئِنۢ بَسَطتَ إِلَىَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِى مَآ أَنَا۠ بِبَاسِطٍۢ يَدِىَ إِلَيْكَ لِأَقْتُلَكَ ۖ إِنِّىٓ أَخَافُ ٱللَّهَ رَبَّ ٱلْعَٰلَمِينَ

اور اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے مجھ پر ہاتھ چلائے گا تو میں تجھ کو قتل کرنے کے لئے تجھ پر ہاتھ نہیں چلاؤں گا مجھے تو خدائے رب العالمین سے ڈر لگتا ہے

اللہ کے لیے جو عمل کیا جائے اس کا اصل بدلہ تو آخرت میں ملتا ہے، تاہم بعض اوقات دنیا میں بھی ایسے واقعات ظاہر ہوتے ہیں جو بتاتے ہیں کہ آدمی کا عمل خدا کے یہاں مقبول ہوا یا نہیں۔ آدم کے بیٹوں میں سے قابیل اور ہابیل کے ساتھ بھی ایسی ہی صورت پیش آئی۔ قابیل کسان تھا اور ہابیل بھیڑ بکریوں کا کام کرتا تھا، ہابیل نے اپنی محنت کی کمائی اللہ کے لیے دی۔ وہ اللہ کے یہاں مقبول ہوئی اور اس کی برکت اس کی زندگی اور اس کے کام میں ظاہر ہوئی۔ قابیل نے بھی اپنی زراعت میں سے کچھ اللہ کے ليے پیش کیا مگر وہ قبول نہ ہوا ا ور وہ خدا کی برکت پانے سے محروم رہا۔ یہ دیکھ کر قابیل کے دل میں اپنے چھوٹے بھائی ہابیل کے لیے حسد پیدا ہوگیا۔ یہ حسد اتنا بڑھا کہ اس نے ہابیل سے کہا کہ میں تم کو جان سے مار ڈالوں گا۔ ہابیل نے کہا کہ تمھاری قربانی قبول نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ تمھارے دل میں خدا کا خوف نہیں۔ تم کو میرے پیچھے پڑنے کے بجائے اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔ مگر حسد اور بغض کی آگ جب کسی کے اندر بھڑکتی ہے تو وہ اس کو اس قابل نہیں رکھتی کہ وہ اپنی غلطیوں کا جائزہ لے۔ وہ بس ایک ہی بات جانتا ہے— جس طرح بھی ہو اپنے مفروضہ حریف کا خاتمہ کردے۔

ہابیل نے قابیل سے کہا کہ تم خواہ میرے قتل کے لیے ہاتھ بڑھاؤ، میں تمھارے قتل کے لیے ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان اور مسلمان کی باہمی لڑائی کو اللہ نے سراسر حرام قرار دیا ہے۔ حتی کہ اگر ایک مسلمان اپنے دوسرے بھائی کے قتل کے درپے ہوجائے تو اس وقت بھی عزیمت یہ ہے کہ دوسرا بھائی اپنے بھائی کے خون کو اپنے لیے حلال نہ کرے۔ وہ اپنی طرف سے جارحانہ اقدام نہ کركے باہمی ٹکراؤ کو پہلے ہی مرحلہ میں ختم کردے۔ اس کے برعکس، اگر وہ بھی جواب میں جارحیت کرنے لگے تو مسلم معاشرہ کے اندر عمل اور رد عمل کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ لیکن حملہ آور اگر غیر مسلم ہو تو اس وقت ایسا کرنا درست نہیں۔ اسی طرح جب دینی دشمنوں کی طرف سے جارحیت کی جائے تو مسلم اور غیر مسلم کا فرق كيے بغیر ایسے لوگوں سے بھر پور مقابلہ کیا جائے گا۔

دو مسلمان جب ایک دوسرے کی بربادی کے درپے ہوں تو گناہ دونوں کے درمیان تقسیم ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر ایسا ہو کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی بربادی کی کارروائیاں کرے اور دوسرا مسلمان صبر اور دعا میں مشغول ہو تو پہلا شخص نہ صرف اپنے گناہ کا بوجھ اٹھاتا ہے بلکہ دوسرے شخص کے اس ممکن گناہ کا بوجھ بھی اس کے اوپر ڈال دیاجاتا ہے، جو صبر اور دعا کے طریقہ پر نہ چلنے کی صورت میں وہ کرتا۔

Al-Maaida 5:28Listen in Qur'an →
29

إِنِّىٓ أُرِيدُ أَن تَبُوٓأَ بِإِثْمِى وَإِثْمِكَ فَتَكُونَ مِنْ أَصْحَٰبِ ٱلنَّارِ ۚ وَذَٰلِكَ جَزَٰٓؤُا۟ ٱلظَّٰلِمِينَ

میں چاہتا ہوں کہ تو میرے گناہ میں بھی ماخوذ ہو اور اپنے گناہ میں بھی پھر (زمرہ) اہل دوزخ میں ہو اور ظالموں کی یہی سزا ہے

اللہ کے لیے جو عمل کیا جائے اس کا اصل بدلہ تو آخرت میں ملتا ہے، تاہم بعض اوقات دنیا میں بھی ایسے واقعات ظاہر ہوتے ہیں جو بتاتے ہیں کہ آدمی کا عمل خدا کے یہاں مقبول ہوا یا نہیں۔ آدم کے بیٹوں میں سے قابیل اور ہابیل کے ساتھ بھی ایسی ہی صورت پیش آئی۔ قابیل کسان تھا اور ہابیل بھیڑ بکریوں کا کام کرتا تھا، ہابیل نے اپنی محنت کی کمائی اللہ کے لیے دی۔ وہ اللہ کے یہاں مقبول ہوئی اور اس کی برکت اس کی زندگی اور اس کے کام میں ظاہر ہوئی۔ قابیل نے بھی اپنی زراعت میں سے کچھ اللہ کے ليے پیش کیا مگر وہ قبول نہ ہوا ا ور وہ خدا کی برکت پانے سے محروم رہا۔ یہ دیکھ کر قابیل کے دل میں اپنے چھوٹے بھائی ہابیل کے لیے حسد پیدا ہوگیا۔ یہ حسد اتنا بڑھا کہ اس نے ہابیل سے کہا کہ میں تم کو جان سے مار ڈالوں گا۔ ہابیل نے کہا کہ تمھاری قربانی قبول نہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ تمھارے دل میں خدا کا خوف نہیں۔ تم کو میرے پیچھے پڑنے کے بجائے اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔ مگر حسد اور بغض کی آگ جب کسی کے اندر بھڑکتی ہے تو وہ اس کو اس قابل نہیں رکھتی کہ وہ اپنی غلطیوں کا جائزہ لے۔ وہ بس ایک ہی بات جانتا ہے— جس طرح بھی ہو اپنے مفروضہ حریف کا خاتمہ کردے۔

ہابیل نے قابیل سے کہا کہ تم خواہ میرے قتل کے لیے ہاتھ بڑھاؤ، میں تمھارے قتل کے لیے ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان اور مسلمان کی باہمی لڑائی کو اللہ نے سراسر حرام قرار دیا ہے۔ حتی کہ اگر ایک مسلمان اپنے دوسرے بھائی کے قتل کے درپے ہوجائے تو اس وقت بھی عزیمت یہ ہے کہ دوسرا بھائی اپنے بھائی کے خون کو اپنے لیے حلال نہ کرے۔ وہ اپنی طرف سے جارحانہ اقدام نہ کركے باہمی ٹکراؤ کو پہلے ہی مرحلہ میں ختم کردے۔ اس کے برعکس، اگر وہ بھی جواب میں جارحیت کرنے لگے تو مسلم معاشرہ کے اندر عمل اور رد عمل کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ لیکن حملہ آور اگر غیر مسلم ہو تو اس وقت ایسا کرنا درست نہیں۔ اسی طرح جب دینی دشمنوں کی طرف سے جارحیت کی جائے تو مسلم اور غیر مسلم کا فرق كيے بغیر ایسے لوگوں سے بھر پور مقابلہ کیا جائے گا۔

دو مسلمان جب ایک دوسرے کی بربادی کے درپے ہوں تو گناہ دونوں کے درمیان تقسیم ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر ایسا ہو کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی بربادی کی کارروائیاں کرے اور دوسرا مسلمان صبر اور دعا میں مشغول ہو تو پہلا شخص نہ صرف اپنے گناہ کا بوجھ اٹھاتا ہے بلکہ دوسرے شخص کے اس ممکن گناہ کا بوجھ بھی اس کے اوپر ڈال دیاجاتا ہے، جو صبر اور دعا کے طریقہ پر نہ چلنے کی صورت میں وہ کرتا۔

Al-Maaida 5:29Listen in Qur'an →
30

فَطَوَّعَتْ لَهُۥ نَفْسُهُۥ قَتْلَ أَخِيهِ فَقَتَلَهُۥ فَأَصْبَحَ مِنَ ٱلْخَٰسِرِينَ

مگر اس کے نفس نے اس کو بھائی کے قتل ہی کی ترغیب دی تو اس نے اسے قتل کر دیا اور خسارہ اٹھانے والوں میں ہو گیا

دنیا میں جو کچھ کسی کو ملتا ہے خدا کی طرف سے ملتا ہے۔ اس لیے کسی کو اچھے حال میں دیکھ کر جلنا اور اس کے نقصان کے درپے ہونا گویا خدا کے منصوبہ کو باطل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ ایسا آدمی اگٰرچه موجودہ امتحان کی دنیا میں ایک حد تک عمل کرنے کا موقع پاتا ہے۔ مگر خدا کی نظر میں وہ بدترین مجرم ہے۔ ہابیل نے اپنے بڑے بھائی کو اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی۔ اس کے بعد اس کے دل میں جھجھک پیدا ہوئی۔ اس کو محسوس ہوا کہ وہ واقعی بلا سبب اپنے بھائی کو مار ڈالنا چاہتا ہے۔ مگر اس کا حسد کا جذبہ ٹھنڈا نہ ہوسکا۔ اس نے اپنے ذہن میں ایسے عذرات گھڑ لیے جو اس کے لیے اپنے بھائی کے قتل کو جائز ثابت کرسکیں۔ اس کی اندرونی کش مکش نے بالآخر خود ساختہ توجیہات میں اپنے لیے تسکین تلاش کرلی اور اس نے اپنے بھائی کو مار ڈالا — ضمیر کی آواز خدا کی آواز ہے۔ ضمیر کے اندر کسی عمل کے بارے میں سوال پیدا ہونا آدمی کا امتحان کے میدان میں کھڑا ہونا ہے۔ اگر آدمی اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہے تو وہ کامیاب ہوا۔ اور اگر اس نے جھوٹے الفاظ کا سہارا لے کر ضمیر کی آواز کو دبا دیا تو وہ ناکام ہوگیا۔

حدیث میں ہے کہ زیادتی اور قطع رحم ایسے گناہ ہیں کہ ان کی سزا اسی موجودہ دنیا سے شروع ہوجاتی ہے (مَا مِنْ ذَنْبٍ أَحْرَى أَنْ يُعَجِّلَ اللهُ لِصَاحِبِهِ الْعُقُوبَةَ مَعَ مَا يُؤَخَّرُ لَهُ فِي الْآخِرَةِ، مِنْ بَغْيٍ، أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ )مسند احمد، حديث نمبر 20374۔ قابیل نے اپنے بھائی کے ساتھ جو ناحق ظلم کیا تھا اس کی سزا نہ صرف اس كو آخرت میں ملے گي بلکہ اسی دنیا سے اس کا انجام شروع ہوگیا۔ مجاہد اور جبیر تابعی سے منقول ہے کہ قتل کے بعد قابیل کا یہ حال ہوا کہ اس کی پنڈلی اس کی ران سے چپک گئی۔ وہ بے یارو مددگار زمین پر پڑا رہتا، یہاں تک کہ اسی حال میں ذلّت اور تکلیف کے ساتھ مرگیا (ابن کثیر)

قابیل کو کوّے کے ذریعہ یہ تعلیم دی گئی کہ وہ لاش کو زمین کے نیچے دفن کردے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ انسان فطرت کے راستے کو جاننے کے معاملہ میں جانور سے بھی زیادہ کم عقل ہے۔ اس کے باوجود اگر وہ اپنے جذبات کے پیچھے چلتا ہے تو اس سے زیادہ ظالم اور کوئی نہیں۔ نیز اس میں اس حقیقت کی طرف بھی لطیف اشارہ ہے کہ جرم سے پہلے اگر آدمی جرم کے ارادہ کو اپنے سینے میں دفن کردے تو اس کو شرمندگی نہ اٹھانا پڑے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ دل کے احساس کو دل کے اندر دبائے، اس کو دل سے باہر آکر واقعہ نہ بننے دے۔ برے احساس کو دل کے باہر نکالنے سے پہلے تو صرف احساس کو دفن کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اگر اس نے ا س کو باہر نکالا تو پھر ایک زندہ انسان کی ’’لاش‘‘ کو دفن کرنے کا مسئلہ اس کے لیے پیدا ہوجائے گا جو دفن ہو کر بھی خدا کے یہاں دفن نہیں ہوتا۔

Al-Maaida 5:30Listen in Qur'an →

Commentary: Tazkirul Quran by Maulana Wahiduddin Khan. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.