Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 21–30 of 120

21

يَٰقَوْمِ ٱدْخُلُوا۟ ٱلْأَرْضَ ٱلْمُقَدَّسَةَ ٱلَّتِى كَتَبَ ٱللَّهُ لَكُمْ وَلَا تَرْتَدُّوا۟ عَلَىٰٓ أَدْبَارِكُمْ فَتَنقَلِبُوا۟ خَٰسِرِينَ

تو بھائیو! تم ارض مقدس (یعنی ملک شام) میں جسے خدا نے تمہارے لیے لکھ رکھا ہے چل داخل ہو اور (دیکھنا مقابلے کے وقت) پیٹھ نہ پھیر دینا ورنہ نقصان میں پڑ جاؤ گے

اس پہلی آیت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا جو قول نقل فرمایا گیا ہے۔ یہ تمہید تھی اس حکم کے بیان کرنے کی جو اگلی آیت میں اس طرح ارشاد ہوا ہے۔ (آیت) يٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِيْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ یعنی اے میری قوم تم اس مقدس زمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ نے تمہارے حصہ میں لکھ رکھی ہے۔ - ارض مقدسہ سے کونسی زمین مراد ہے ؟- ارض مقدسہ سے کونسی زمین مراد ہے ؟ اس میں مفسرین کے اقوال بظاہر متعارض ہیں۔ بعض نے فرمایا کہ بیت المقدس مراد ہے۔ بعض نے شہر قدس اور ایلیا کو ارض مقدسہ کا مصداق بتلایا ہے۔ بعض نے شہر اریحا کو جو نہر اردن اور بیت المقدس کے درمیان دنیا کا قدیم ترین شہر تھا اور آج تک موجود ہے۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں اس کی عظمت و وسعت کے عجیب و غریب حالات نقل کئے جاتے ہیں۔- بعض روایات میں ہے کہ اس شہر کے ایک ہزار حصے (وارڈ) تھے۔ ہر حصہ میں ایک ایک ہزار باغ تھے۔ اور بعض روایات میں ہے کہ ارض مقدسہ سے مراد دمشق، فلسطین اور بعض کے نزدیک اردن ہے۔ اور حضرت قتادہ نے فرمایا کہ ملک شام پورا ارض مقدس ہے۔ کعب احبار نے فرمایا کہ میں نے اللہ کی کتاب (غالباً تورات) میں دیکھا ہے کہ ملک شام پوری زمین میں اللہ کا خاص خزانہ ہے۔ اور اس میں اللہ کے مخصوص مقبول بندے ہیں۔ اس زمین کو مقدس اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ انبیاء (علیہم السلام) کا وطن اور مستقر رہا ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ ایک روز حضرت ابراہیم (علیہ السلام) لبنان کے پہاڑ پر چڑھے۔ - اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے ابراہیم یہاں سے آپ نظر ڈالو، جہاں تک آپ کی نظر پہنچے گی ہم نے اس کو ارض مقدس بنادیا۔ یہ سب روایات تفسیر ابن کثیر اور تفسیر مظہری سے نقل کی گئی ہیں۔ اور صاف بات یہ ہے کہ ان اقوال میں تعارض کچھ نہیں۔ پورا ملک شام آخری روایات کے مطابق ارض مقدس ہے۔ بیان کرنے میں بعض حضرات نے ملک شام کے کسی حصہ کو بیان کردیا۔ کسی نے پورے کو۔

Al-Maaida 5:21Listen in Qur'an →
22

قَالُوا۟ يَٰمُوسَىٰٓ إِنَّ فِيهَا قَوْمًۭا جَبَّارِينَ وَإِنَّا لَن نَّدْخُلَهَا حَتَّىٰ يَخْرُجُوا۟ مِنْهَا فَإِن يَخْرُجُوا۟ مِنْهَا فَإِنَّا دَٰخِلُونَ

وہ کہنے لگے کہ موسیٰ! وہاں تو بڑے زبردست لوگ (رہتے) ہیں اور جب تک وہ اس سرزمین سے نکل نہ جائیں ہم وہاں جا نہیں سکتے ہاں اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو ہم جا داخل ہوں گے

قَالُوْا يٰمُوْسٰٓى اس سے پہلے آیت میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو بذریعہ موسیٰ (علیہ السلام) قوم عمالقہ سے جہاد کرکے ملک شام فتح کرنے کا حکم دیا تھا۔ اور ساتھ ہی یہ خوشخبری بھی دی تھی کہ ملک شام کی زمین اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے لکھ دی ہے۔ اس لئے کہ فتح یقینی ہے۔- اس آیت متذکرہ میں اس کا بیان ہے کہ اس کے باوجود بنی اسرائیل نے اپنی معروف سرکشی اور کج طبعی کی وجہ سے اس حکم کو بھی تسلیم نہ کیا۔ بلکہ موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اے موسیٰ اس ملک پر تو بڑے زبردست قوی لوگوں کا قبضہ ہے۔ ہم تو اس زمین میں اس وقت تک داخل نہ ہوں گے جب تک وہ لوگ وہاں قابض ہیں۔ ہاں وہ کہیں اور چلے جاویں تو بیشک ہم وہاں جاسکتے ہیں۔- واقعہ اس کا جو ائمہ تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس اور عکرمہ اور علی بن ابی طلحہ وغیرہ سے منقول ہے یہ ہے کہ اس وقت ملک شام اور بیت المقدس پر قوم عمالقہ کا قبضہ تھا جو قوم عاد کی کوئی شاخ اور بڑے ڈیل ڈول اور ہیبت ناک قدوقامت کے لوگ تھے۔ جن سے جہاد کرکے بیت المقدس فتح کرنے کا حکم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کو ملا تھا۔ - حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حکم خدا وندی کی تعمیل کے لئے اپنی قوم بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر ملک شام کی طرف روانہ ہوئے۔ جانا بیت المقدس پر تھا۔ جب نہر اردن سے پار ہو کر دنیا کے قدیم ترین شہر اریحا پر پہنچے، تو یہاں قیام فرمایا۔ اور بنی اسرائیل کے انتظام کے لئے بارہ سرداروں کا انتخاب کرنا قرآن کریم کی پچھلی آیات میں بیان ہوچکا ہے۔ ان سرداروں کو آگے بھیجا تاکہ وہ ان لوگوں کے حالات اور محاذ جنگ کی کیفیات معلوم کرکے آئیں جو بیت المقدس پر قابض ہیں اور جن سے جہاد کرنے کا حکم ملا ہے۔ یہ حضرات بیت المقدس پہنچے تو شہر سے باہر ہی قوم عمالقہ کا کوئی آدمی مل گیا۔ اور وہ اکیلا ان سب کو گرفتار کرکے لے گیا۔ اور اپنے بادشاہ کے سامنے پیش کیا کہ یہ لوگ ہم سے جنگ کرنے کے قصد سے آئے ہیں۔ شاہی دربار میں مشورہ ہوا کہ ان سب کو قتل کردیا جائے یا کوئی دوسری سزا دی جائے۔ بالآخر رائے اس پر ٹھہری کہ ان کو آزاد کردیں تاکہ یہ اپنی قوم میں جا کر عمالقہ کی قوت و شوکت کے ایسے عینی گواہ ثابت ہوں کہ کبھی ان کی طرف رخ کرنے کا خیال بھی دل میں نہ لائیں۔- اس موقع پر اکثر کتب تفسیر میں اسرائیلی روایات کی لمبی چوڑی کہانیاں درج ہیں جن میں اس ملنے والے شخص کا نام عوج بن عنیق بتلایا ہے۔ اور اس کی بےپناہ قدوقامت اور قوت و طاقت کو ایسی مبالغہ آمیزی کے ساتھ بیان کیا ہے کہ کسی سمجھ دار آدمی کو اس کا نقل کرنا بھی بھاری ہے۔- امام تفسیر ابن کثیر نے فرمایا کہ عوج بن عنق کے جو قصے ان اسرائیلی روایات میں مذکور ہیں نہ عقل ان کو قبول کرسکتی ہے اور نہ شرع میں ان کا کوئی جواز ہے۔ بلکہ یہ سب کذب و افترا ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ قوم عمالقہ کے لوگ چونکہ قوم عاد کے بقایا ہیں جن کے ہیبت ناک قدوقامت کا خود قرآن کریم نے ذکر فرمایا ہے۔ اس قوم کا ڈیل ڈول اور قوت و طاقت ضرب المثل تھی۔ ان کا ایک آدمی قوم بنی اسرائیل کے بارہ آدمیوں کو گرفتار کرکے لے جانے پر قادر ہوگیا۔ - بہرحال بنی اسرائیل کے بارہ سردار عمالقہ کی قید سے رہا ہو کر اپنی قوم کے پاس مقام اریحا پر پہنچے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اس عیجب و غریب قوم اور اس کی ناقابل قیاس قوت و شوکت کا ذکر کیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قلب پر تو ان سب باتوں کا ذرہ برابر بھی اثر نہ ہوا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی فتح و کامیابی کی بشارت سنا دی تھی۔ - بقول اکبر - مجھ کو بےدل کر دے ایسا کون ہے - یاد مجھ کو انتم الاعلون ہے - حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو ان کی قوت و شوکت کا حال سن کر اپنی جگہ کوہ استقامت بنے ہوئے اقدام جہاد کی فکر میں لگے رہے۔ مگر خطرہ یہ ہوگیا کہ بنی اسرائیل کو اگر حریف مقابل کی اس بےپناہ طاقت کا علم ہوگیا تو …

Al-Maaida 5:22Listen in Qur'an →
23

قَالَ رَجُلَانِ مِنَ ٱلَّذِينَ يَخَافُونَ أَنْعَمَ ٱللَّهُ عَلَيْهِمَا ٱدْخُلُوا۟ عَلَيْهِمُ ٱلْبَابَ فَإِذَا دَخَلْتُمُوهُ فَإِنَّكُمْ غَٰلِبُونَ ۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَتَوَكَّلُوٓا۟ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

جو لوگ (خدا سے) ڈرتے تھے ان میں سے دو شخص جن پر خدا کی عنایت تھی کہنے لگے کہ ان لوگوں پر دروازے کے رستے سے حملہ کردو جب تم دروازے میں داخل ہو گئے تو فتح تمہارے ہے اور خدا ہی پر بھروسہ رکھو بشرطیکہ صاحبِ ایمان ہو

قرآن کریم نے اس جگہ ان دونوں بزرگوں کی دو صفتیں خاص طور پر ذکر فرمائی ہیں۔ ایک الَّذِيْنَ يَخَافُوْنَ یعنی یہ لوگ جو ڈرتے ہیں۔ اس میں یہ ذکر نہیں فرمایا کہ کس سے ڈرتے ہیں۔ اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ ڈرنے کے لائق سارے عالم میں صرف ایک ہی ذات ہے۔ یعنی اللہ جل شانہ کیونکہ ساری کائنات اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اس کی مشیت و اذن کے بغیر کوئی نہ کسی کو ادنیٰ نفع پہنچا سکتا ہے نہ ادنیٰ نقصان اور جب ڈرنے کے لائق ایک ہی ذات ہے اور وہ متعین ہے تو پھر اس کے تعین کی ضرورت نہ رہی۔- دوسری صفت ان بزرگوں کی قرآن کریم نے یہ بتلائی کہ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمَا یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر انعام فرمایا، اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس شخص میں جہاں کوئی خوبی اور بھلائی ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کا انعام و عطا ہے۔ ورنہ ان بارہ سرداروں میں قوی ظاہرہ ہاتھ، پاؤ ں، آنکھ، کان اور قوائے ظاہرہ و باطنہ اور عقل و ہوش اور پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی صحبت و معیت یہ ساری ہی چیزیں سبھی کو حاصل تھیں۔ اس کے باوجود اور سب پھسل گئے اور یہی دو اپنی جگہ جمے رہے تو معلوم ہوا کہ اصل ہدایت انسان کے قوائے ظاہرہ و باطنہ اس کی سعی و عمل کے تابع نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا انعام ہے۔ البتہ اس انعام کے لئے سعی و عمل شرط ضرور ہے۔- اس سے معلوم ہوا کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے عقل و ہوش اور دانائی و ہوشیاری عطا فرمائی ہو وہ اپنی ان طاقتوں پر ناز نہ کرے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی سے رشد و ہدایت طلب کرے عارف رومی نے خوب فرمایا ہے - فہم و خاطر تیز کردن نیست راہ - جز شکستہ می نگیر و فضل شاہ - خلاصہ کلام یہ ہے کہ ان دونوں بزرگوں نے اپنی برادری کو یہ نصیحت فرمائی کہ عمالقہ کی ظاہری قوت و شوکت سے نہ گھبرائیں۔ اللہ پر توکل کرکے بیت المقدس کے دروازہ تک چلے چلیں تو فتح اور غلبہ ان کا ہے۔ ان بزرگوں کا یہ فیصلہ کہ دروازہ تک پہنچنے کے بعد ان کو غلبہ ضرور حاصل ہوجائے گا اور دشمن شکست کھا کر بھاگ جائے گا۔ ہوسکتا ہے کہ قوم عمالقہ کے جائزہ لینے کی بنا پر ہو کہ وہ لوگ بڑے ڈیل ڈول اور طاقت و قوت کے باوجود دل کے کچے ہیں۔ جب حملہ کی خبر پائیں گے تو ٹھہر نہ سکیں گے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ فرمان الہٰی جو بطور بشارت فتح موسیٰ (علیہ السلام) سے سن چکے تھے۔ اس پر یقین کامل ہونے کی وجہ سے یہ فرمایا ہو۔

Al-Maaida 5:23Listen in Qur'an →
24

قَالُوا۟ يَٰمُوسَىٰٓ إِنَّا لَن نَّدْخُلَهَآ أَبَدًۭا مَّا دَامُوا۟ فِيهَا ۖ فَٱذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَٰتِلَآ إِنَّا هَٰهُنَا قَٰعِدُونَ

وہ بولے کہ موسیٰ! جب تک وہ لوگ وہاں ہیں ہم کبھی وہاں نہیں جا سکتے (اگر لڑنا ہی ضرور ہے) تو تم اور تمہارا خدا جاؤ اور لڑو ہم یہیں بیٹھے رہیں گے

مگر بنی اسرائیل نے جب اپنے پیغمبر موسیٰ (علیہ السلام) کی بات نہ سنی تو ان دونوں بزرگوں کی کیا سنتے۔ پھر وہی جواب اور زیادہ بھونڈے انداز سے دیا کہ فاذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ھٰهُنَا قٰعِدُوْنَ ۔ یعنی آپ اور آپ کے اللہ میاں ہی جاکر ان سے مقابلہ کرلیں۔ ہم تو یہیں بیٹھے رہیں گے۔ بنی اسرائیل کا یہ کلمہ اگر استہزاء کے طور پر ہوتا تو صریح کفر تھا اور اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ان کے ساتھ رہنا۔ ان کے لئے میدان تیہ میں دعائیں کرنا۔ جس کا ذکر اگلی آیت میں آرہا ہے۔ اس کا امکان نہ تھا۔ - اس لئے ائمہ مفسرین نے اس کلمہ کا مطلب یہ قرار دیا کہ آپ جائیے اور ان سے مقابلہ کیجئے۔ آپ کا رب آپ کی مدد کرے گا۔ ہم تو مدد کرنے سے قاصر ہیں۔ اس معنے کے اعتبار سے یہ کلمہ کفر کی حد سے نکل گیا۔ اگرچہ یہ جو اب نہایت بھونڈا اور دل آزار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بنی اسرائیل کا یہ کلمہ ضرب المثل بن گیا۔ - غزوہ بدر میں نہتے اور بھوکے مسلمانوں کے مقابلہ پر ایک ہزار مسلح نوجوانوں کا لشکر آکھڑا ہوا۔ اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دیکھ کر اپنے رب سے دعائیں فرمانے لگے۔ تو حضرت مقداد بن اسود صحابی آگے بڑھے اور عرض کیا یا رسول اللہ خدا کی قسم ہے ہم ہرگز وہ بات نہ کہیں گے جو موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہی تھی کہ فاذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ھٰهُنَا قٰعِدُوْنَ بلکہ ہم آپ کے دائیں اور بائیں سے اور سامنے سے اور پیچھے سے مدافعت کریں گے۔ آپ بےفکر ہو کر مقابلہ کی تیاری فرمائیں۔ - رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ سن کر بےحد مسرور ہوئے اور صحابہ کرام میں بھی جوش جہاد کی ایک نئی لہر پیدا ہوگئی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ مقداد بن اسود کے اس کارنامہ پر مجھے بڑ ارشک ہے۔ کاش یہ سعادت مجھے بھی حاصل ہوتی۔ - خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے ایسے نازک موقع پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کو را جواب دے کر اپنے سب عہد و میثاق توڑ ڈالے۔

Al-Maaida 5:24Listen in Qur'an →
25

قَالَ رَبِّ إِنِّى لَآ أَمْلِكُ إِلَّا نَفْسِى وَأَخِى ۖ فَٱفْرُقْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ ٱلْقَوْمِ ٱلْفَٰسِقِينَ

موسیٰ نے (خدا سے) التجا کی کہ پروردگار میں اپنے اور اپنے بھائی کے سوا اور کسی پر اختیار نہیں رکھتا تو ہم میں اور ان نافرمان لوگوں میں جدائی کردے

قوم کی انتہائی بےوفائی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا انتہائی عزم و استقلال - قَالَ رَبِّ اِنِّىْ لَآ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِيْ وَاَخِيْ- قوم بنی اسرائیل کے سابقہ حالات و واقعات اور ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معاملات کا جائزہ لینے والا اگر سرسری طور پر بھی اس کو سامنے رکھے کہ جو قوم بنی اسرائیل صدیوں سے فرعون کی غلامی میں طرح طرح کی ذلتیں اور عذاب برداشت کر رہی تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیم اور ان کی برکت سے ان کو خدائے عزوجل نے کہاں سے کہاں پہنچایا۔ ان کی آنکھوں کے سامنے اللہ جل شانہ کی قدرت کاملہ کے کیسے کیسے مظاہر آئے۔ فرعون اور قوم فرعون کو حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کے ہاتھوں اپنے قائم کئے ہوئے دربار میں شکست فاش ہوئی۔ جن ساحروں پر ان کا بھروسہ تھا۔ وہی اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) کا دم بھرنے لگے۔ پھر اس خدائی کا دعویٰ کرنے والا فرعون اور شاہی محلات میں بسنے والے آل فرعون سے خدائے عزوجل کی قدرت قاہرہ نے کس طرح تمام محلات و مکانات اور ان کے سازوسامان کو بیک وقت خالی کرا لیا۔ اور کس طرح بنی اسرائیل کی آنکھوں کے سامنے اسے غرق دریا کردیا۔ اور کس طرح معجزانہ طور پر بنی اسرائیل کو دریا سے پار کردیا۔ اور کس طرح وہ دولت جس پر فرعون یہ کہہ کر فخر کیا کرتا تھا۔ الیس ملک مصر وھذہ الانھر تجری من تحتی۔ اللہ تعالیٰ نے پورا ملک اور اس کی پوری ملک بغیر کسی قتل و قتال کے بنی اسرائیل کو عطا فرما دی۔ - ان تمام واقعات میں اللہ جل شانہ کی قدرت قاہرہ کے مظاہر اس قوم کے سامنے آئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس قوم کو اول غفلت و جہالت سے پھر فرعون کی غلامی سے نجات دلانے میں کیا کیا روح فرسا مصائب برداشت کیں، ان سب چیزوں کو بعد جب اسی قوم کو خدائی امدا و انعامات کے وعدوں کے ساتھ ملک شام پر جہاد کرنے کا حکم ملا تو ان لوگوں نے اپنی اس دناءت کا اظہار کیا اور کہنے لگے : فَاذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ھٰهُنَا قٰعِدُوْنَ ۔ دنیا کا بڑے سے بڑا مصلح دل پر ہاتھ رکھ کر دیکھے کہ ان حالات اور اس کے بعد قوم کی ان حرکات کا اس پر کیا اثر ہوگا۔ مگر یہاں تو اللہ تعالیٰ کے اولو العزم رسول ہیں، کہ کوہ استقامت بنے ہوئے اپنی دھن میں لگے ہیں۔ - قوم کی مسلسل عہد شکنی اور وعدہ فراموشی سے عاجز آکر اپنے رب کے سامنے صرف اتنا عرض کرتے ہیں : اِنِّىْ لَآ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِيْ وَاَخِيْ یعنی مجھے تو اپنی جان اور اپنے بھائی کے سوا کسی پر اختیار نہیں۔ قوم عمالقہ پر جہاد کی مہم کو کس طرح سر کیا جائے۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے قوم بنی اسرائیل میں سے کم از کم دو سردار یوشع بن نون اور کالب بن یوقنا جنہوں نے پوری طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اتباع کا ثبوت دیا تھا اور قوم کو سمجھانے اور صحیح راستہ پر لانے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مسلسل کوشش کی تھی۔ اس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کا بھی ذکر نہیں کیا۔ بلکہ صرف اپنا اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا۔ اس کا سبب وہی قوم بنی اسرائیل کی عہد شکنی اور نافرمانی تھی کہ صرف حضرت ہارون (علیہ السلام) بوجہ نبی و پیغمبر ہونے کے معصوم تھے۔ اور ان کا طریق حق پر قائم رہنا یقینی تھا۔ باقی یہ دونوں سردار معصوم بھی نہ تھے۔ اس انتہائی غم و غصہ کے عالم میں صرف اس کا ذکر کیا جس کا حق پر قائم رہنا یقینی تھا۔ اس اظہار کے ساتھ کہ مجھے اپنی جان اور اپنے بھائی کے سوا کسی پر اختیار نہیں۔- حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ دعا فرمائی : فَافْرُقْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ یعنی ہم دونوں اور ہماری قوم کے درمیان آپ ہی فیصلہ فرما دیجئے۔ اس دعا کا حاصل حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کی تفسیر کے مطابق یہ تھا کہ یہ لوگ جس سزا کے مستحق …

Al-Maaida 5:25Listen in Qur'an →
26

قَالَ فَإِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ ۛ أَرْبَعِينَ سَنَةًۭ ۛ يَتِيهُونَ فِى ٱلْأَرْضِ ۚ فَلَا تَأْسَ عَلَى ٱلْقَوْمِ ٱلْفَٰسِقِينَ

خدا نے فرمایا کہ وہ ملک ان پر چالیس برس تک کے لیے حرام کر دیا گیا (کہ وہاں جانے نہ پائیں گے اور جنگل کی) زمین میں سرگرداں پھرتے رہیں گے تو ان نافرمان لوگوں کے حال پر افسوس نہ کرو

Explained together with ayah 25

Al-Maaida 5:26Listen in Qur'an →
27

۞ وَٱتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ٱبْنَىْ ءَادَمَ بِٱلْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًۭا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ ٱلْءَاخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّكَ ۖ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ ٱللَّهُ مِنَ ٱلْمُتَّقِينَ

اور (اے محمد) ان کو آدم کے دو بیٹوں (ہابیل اور قابیل) کے حالات (جو بالکل) سچے (ہیں) پڑھ کر سنا دو کہ جب ان دونوں نے خدا (کی جناب میں) کچھ نیازیں چڑھائیں تو ایک کی نیاز تو قبول ہو گئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی (تب قابیل ہابیل سے) کہنے لگا کہ میں تجھے قتل کروں گا اس نے کہا کہ خدا پرہیزگاروں ہی کی (نیاز) قبول فرمایا کرتا ہے

خلاصہ تفسیر - اور (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان اہل کتاب کو (حضرت) آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کا (یعنی ہابیل و قابیل کا) قصہ صحیح طور پر پڑھ کر سنائیے (تاکہ ان کو انتساب بالصٰلحین کا گھمنڈ جاتا رہے، جس کا نحن ابناء اللہ میں اظہار ہو رہا ہے، اور وہ قصہ اس وقت ہوا تھا) جب کہ دونوں نے (اللہ تعالیٰ کے نام کی) ایک ایک نیاز پیش کی اور ان میں سے ایک کی (یعنی ہابیل کی) تو مقبول ہوگئی اور دوسرے کی (یعنی قابیل کی) مقبول نہ ہوئی (کیونکہ جس معاملہ کے فیصلہ کے لئے یہ نیاز چڑھائی گئی تھی اس میں ہابیل حق پر تھا، اس لئے اس کی نیاز قبول ہوگئی اور قابیل حق پر نہ تھا اس کی قبول نہ ہوئی، ورنہ پھر فیصلہ نہ ہوتا، بلکہ اور خلط و اشتباہ ہوجاتا جب) وہ دوسرا (یعنی قابیل اس میں بھی ہارا تو جھلا کر) کہنے لگا کہ میں تجھ کو ضرور قتل کروں گا، اس ایک نے (یعنی ہابیل نے) جواب دیا (کہ تیرا ہارنا تو تیری ہی ناحق پرستی کی وجہ سے ہے میری کیا خطا، کیونکہ) خدا تعالیٰ متقیوں ہی کا عمل قبول کرتے ہیں (میں نے تو تقویٰ اختیار کیا اور خدا کے حکم پر رہا، خدائے تعالیٰ نے میری نیاز قبول کی، تو نے تقویٰ چھوڑ دیا اور خدا کے حکم سے منہ موڑا تیری نیاز قبول نہیں کی، سو اس میں تیری خطا ہے یا میری انصاف کر، لیکن اگر پھر بھی تیرا یہی ارادہ ہے تو تو جان، میں نے تو پختہ قصد کرلیا ہے) اگر تو مجھ پر میرے قتل کرنے کے لئے دست درازی کرے تو تب بھی میں تجھ پر تیرے قتل کرنے کے لئے ہرگز دست درازی کرنے والا نہیں (کیونکہ) میں تو خدائے پروردگار عالم سے ڈرتا ہوں (کہ باوجود یہ کہ تیرے جواز قتل کا بظاہر ایک سبب موجود ہے، یعنی یہ کہ تو مجھ کو قتل کرنا چاہتا ہے، مگر اس وجہ سے کہ یہ جواز اب تک کسی نص جزئی سے مجھ کو محقق نہیں ہوا، اس لئے اس کے ارتکاب کو احتیاط کے خلاف سمجھتا ہوں، اور اس شبہ کی وجہ سے خدا سے ڈرتا ہوں، اور یہ ہمت تجھی کو ہے کہ باوجود یہ کہ میرے جواز قتل کا کوئی امر مقتضی نہیں بلکہ مانع موجود ہے لیکن پھر بھی خدا سے نہیں ڈرتا) میں یوں چاہتا ہوں کہ (مجھ سے کوئی گناہ کا کام نہ ہو گو تو مجھ پر کتنا ہی ظلم کیوں نہ کرے جس سے کہ) تو میرے گناہ اور اپنے گناہ سب اپنے سر رکھ لے، پھر تو دوزخیوں میں شامل ہوجاوے اور یہی سزا ہوتی ہے ظلم کرنے والوں کی سو (یوں تو پہلے ہی سے قتل کا ارادہ کرچکا تھا یہ جو سنا کہ مدافعت بھی نہ کرے گا، چاہئے تو تھا کہ گداختہ ہوجاتا مگر بےفکر ہو کر اور بھی) اس کے جی نے اس کو اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کردیا (پھر) آخر اس کو قتل ہی کر ڈالا جس سے (کمبخت) بڑے نقصان اٹھانے والوں میں شامل ہوگیا (دنیا میں تو یہ نقصان کہ اپنا قوت بازو اور راحت روح گم کر بیٹھا، اور آخرت میں یہ نقصان کہ سخت عذاب میں مبتلا ہوگا۔ اب جب قتل سے فارغ ہوا تو اب حیران ہے کہ لاش کو کیا کروں جس سے یہ راز پوشیدہ رہے کچھ سمجھ میں نہ آیا تو) پھر (آخر) اللہ تعالیٰ نے ایک کوّا (وہاں) بھیجا کہ وہ (چونچ اور پنجوں سے) زمین کو کھودتا تھا (اور کھود کر ایک دوسرے کوّے کو کہ وہ مرا ہوا تھا اس گڑھے میں دھکیل کر اس پر مٹی ڈالتا تھا) تاکہ وہ (کوا) اس (قابیل) کو تعلیم کردے کہ اپنے بھائی (ہابیل) کی لاش کو کس طریقہ سے چھپاوے (قابیل یہ واقعہ دیکھ کر اپنے جی میں بڑا ذلیل ہوا کہ مجھ کو کوّے کے برابر بھی فہم نہیں، اور غایت حسرت سے) کہنے لگا کہ افسوس میری حالت پر کیا میں اس سے بھی گیا گزرا کہ اس کوّے ہی کے برابر ہوتا اور اپنے بھائی کی لاش کو چھپا دیتا (سو اس بدحالی پر) بڑا شرمندہ ہوا، اسی (واقعہ کی) وجہ سے (جس سے قتل ناحق کے مفاسد ثابت ہوتے ہیں) ہم نے (تمام مکلّفین پر عموماً اور) بنی اسرائیل پر (خصوصاً ) یہ (حکم) لکھ دیا (یعنی مقرر کردیا) کہ (قتل ناحق اتنا بڑا گناہ ہے کہ) جو شخص کسی شخص کو بلامعاوضہ دوسرے شخص کے (جو ناحق مقتول ہوا ہو) …

Al-Maaida 5:27Listen in Qur'an →
28

لَئِنۢ بَسَطتَ إِلَىَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِى مَآ أَنَا۠ بِبَاسِطٍۢ يَدِىَ إِلَيْكَ لِأَقْتُلَكَ ۖ إِنِّىٓ أَخَافُ ٱللَّهَ رَبَّ ٱلْعَٰلَمِينَ

اور اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے مجھ پر ہاتھ چلائے گا تو میں تجھ کو قتل کرنے کے لئے تجھ پر ہاتھ نہیں چلاؤں گا مجھے تو خدائے رب العالمین سے ڈر لگتا ہے

Explained together with ayah 27

Al-Maaida 5:28Listen in Qur'an →
29

إِنِّىٓ أُرِيدُ أَن تَبُوٓأَ بِإِثْمِى وَإِثْمِكَ فَتَكُونَ مِنْ أَصْحَٰبِ ٱلنَّارِ ۚ وَذَٰلِكَ جَزَٰٓؤُا۟ ٱلظَّٰلِمِينَ

میں چاہتا ہوں کہ تو میرے گناہ میں بھی ماخوذ ہو اور اپنے گناہ میں بھی پھر (زمرہ) اہل دوزخ میں ہو اور ظالموں کی یہی سزا ہے

Explained together with ayah 27

Al-Maaida 5:29Listen in Qur'an →
30

فَطَوَّعَتْ لَهُۥ نَفْسُهُۥ قَتْلَ أَخِيهِ فَقَتَلَهُۥ فَأَصْبَحَ مِنَ ٱلْخَٰسِرِينَ

مگر اس کے نفس نے اس کو بھائی کے قتل ہی کی ترغیب دی تو اس نے اسے قتل کر دیا اور خسارہ اٹھانے والوں میں ہو گیا

Explained together with ayah 27

Al-Maaida 5:30Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.