Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani

Ayahs 11–20 of 120

11

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ هَمَّ قَوْمٌ أَن يَبْسُطُوٓا۟ إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ فَكَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنكُمْ ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُؤْمِنُونَ

اے ایمان والو! خدا نے جو تم پر احسان کیا ہے اس کو یاد کرو۔ جب ایک جماعت نے ارادہ کیا کہ تم پر دست درازی کریں تو اس نے ان کے ہاتھ روک دیئے اور خدا سے ڈرتے رہوں اور مومنو کو خدا ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے

[٣٢] پہلا احسان تو مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ انہیں اسلام کی توفیق بخشی اور اسلام کی بدولت ان کی قبائلی عصبیتوں کا خاتمہ ہوا، لڑائیاں ختم ہوئیں اور آپس میں تم بھائیوں کی طرح زندگی گزارنے لگے دوسرا بڑا احسان یہ تھا کہ حدیبیہ کے مقام پر کافر یہ چاہتے تھے کہ تم پر حملہ آور ہو کر تمہیں صفحہ ہستی سے ناپید کردیں۔ لیکن اللہ نے ایسے حالات پیدا کردیئے کہ وہ اپنا ارادہ پورا نہ کرسکے۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے۔- ١۔ حدیبیہ کے دن جنگ روکنا اللہ کا احسان تھا۔ سیدنا انس فرماتے ہیں کہ اہل مکہ کے اسی (٨٠) آدمی مسلح ہو کر تنعیم پہاڑ کی جانب سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر حملہ آور ہوئے۔ وہ یہ چاہتے تھے کہ آپ اور آپ کے اصحاب غافل ہوں تو حملہ کردیں۔ آپ نے انہیں پکڑ کر قید کرلیا پھر انہیں چھوڑ دیا تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (مسلم۔ کتاب الجہاد۔ باب ھوالذی کف ایدیکم عنھم)- ٢۔ سیدنا سلمہ بن اکوع کہتے ہیں کہ میرے چچا عامر نے قبیلہ عبلات کے ایک مکرز نامی شخص کو، جو ایک جھول پڑے ہوئے گھوڑے پر سوار اور ستر مشرکوں کا ساتھی تھا گھیر کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے آئے۔ آپ نے ان مشرکوں کی طرف دیکھا پھر فرمایا انہیں چھوڑ دو (عہد نامہ حدیبیہ کی بدعہدی کے) گناہ کی ابتدا بھی انہوں نے کی اور تکرار بھی انہی سے ہوئی۔ اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (مسلم۔ کتاب الجہاد۔ باب غزوہ ذی قرد)- اگرچہ مندرجہ بالا احادیث سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت صلح حدیبیہ یا اسی کے گرد و پیش حالات کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ تاہم دور نبوی میں کئی بار ایسے مواقع پیش آتے رہے کہ کبھی کفار مکہ نے جنگ کے ذریعہ اور کبھی یہودیوں نے سازشوں کے ذریعہ اسلام کو ختم کردینے کی کوششیں کیں۔ پھر کبھی تو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ مسلمانوں کو دشمنوں کی سازشوں سے مطلع فرما دیا۔ اور کبھی حالات ایسے پیدا کردیئے کہ کافروں کو حملہ آور ہونے کی جرأت ہی نہ ہوسکی۔

Al-Maaida 5:11Listen in Qur'an →
12

۞ وَلَقَدْ أَخَذَ ٱللَّهُ مِيثَٰقَ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ ٱثْنَىْ عَشَرَ نَقِيبًۭا ۖ وَقَالَ ٱللَّهُ إِنِّى مَعَكُمْ ۖ لَئِنْ أَقَمْتُمُ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَيْتُمُ ٱلزَّكَوٰةَ وَءَامَنتُم بِرُسُلِى وَعَزَّرْتُمُوهُمْ وَأَقْرَضْتُمُ ٱللَّهَ قَرْضًا حَسَنًۭا لَّأُكَفِّرَنَّ عَنكُمْ سَيِّـَٔاتِكُمْ وَلَأُدْخِلَنَّكُمْ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ ۚ فَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ مِنكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ

اور خدا نے بنی اسرائیل سے اقرار لیا اور ان میں ہم نے بارہ سردار مقرر کئے پھر خدا نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں اگر تم نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے رہو گے اور میرے پیغمبروں پر ایمان لاؤ گے اور ان کی مدد کرو گے اور خدا کو قرض حسنہ دو گے تو میں تم سے تمہارے گناہ دور کر دوں گا اور تم کو بہشتوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں پھر جس نے اس کے بعد تم میں سے کفر کیا وہ سیدھے رستے سے بھٹک گیا

[٣٣] بنی اسرائیل کے بارہ نقیب اور ان کی ذمہ داریاں :۔ نقیب کے معنی ہیں نگرانی اور تفتیش کرنے والا۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں موجود تھے۔ بنی اسرائیل نے جب موسیٰ (علیہ السلام) سے پانی کا مطالبہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ فلاں پتھر پر اپنا عصا مارو تو بارہ چشمے پھوٹ پڑیں گے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا اور ہر قبیلہ نے اپنا اپنا چشمہ یا پانی پینے کی جگہ پہچان لی اور اس پر قابض ہوگیا۔ انہیں بارہ قبائل میں سے ہر قبیلہ سے ایک ایک نقیب مقرر کیا گیا۔ جس کا کام یہ تھا کہ وہ لوگوں کے اخلاق و کردار کی نگرانی کرے اور انہیں بےدینی اور بداخلاقی سے بچانے کی کوشش کرتا رہے۔- [٣٤] اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ معیت چار باتوں سے مشروط تھا۔ (١) بنی اسرائیل نماز کو قائم کرتے رہیں (٢) زکوٰۃ ادا کرتے رہیں (٣) بعد میں جو رسول مبعوث ہوں ان پر ایمان بھی لائیں اور ان کی جان اور مال سے مدد بھی کریں اور (٤) لوگوں کو قرضہ حسنہ دیتے رہیں۔ گویا جو ذمہ داری ان نقیبوں پر ڈالی گئی تھی ان میں سے مذکورہ چار کام سب سے اہم تھے اور ان سے عہد یہ تھا کہ اگر وہ ذمہ داری پوری کرتے رہیں گے تو یقینا اللہ ان کے ساتھ ہوگا اور ان کی ہر معاملہ میں مدد فرمائے گا۔- [٣٥] برائیاں دور کرنے کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جو شخص نیکی کے مذکورہ بالا بڑے بڑے کاموں میں لگا رہے اس کا ذہن برائیوں کی طرف منتقل ہوتا ہی نہیں اور وہ برائیوں سے بچا رہتا ہے اور برائیاں اس سے دور رہتی ہیں۔ دوسرے یہ کہ اگر ان سے کچھ برائیاں سرزد ہو بھی جائیں تو وہ ایسی بڑی نیکیوں کے تلے دب جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ ان پر گرفت ہی نہیں فرماتے۔- [٣٦] سیدھی راہ اور اس کی صفات :۔ سواء السبیل سے مراد وہ راہ ہے جو متوازن، معتدل اور افراط وتفریط سے پاک ہو۔ کیونکہ یہ راہ اس علیم و حکیم ہستی کی بتلائی ہوئی ہے جو تمام حقائق سے پوری طرح واقف ہے اور سب انسان اس کی نظروں میں یکساں ہیں۔ یہ کسی انسان کی بتائی ہوئی راہ نہیں۔ جس پر اس کے اپنے جذبات، وطن اور قوم کی محبت یا دوسری معاشی اور معاشرتی عوامل اثر انداز ہوجاتے ہیں اور وہ ایسی معتدل، متوازن اور افراط وتفریط سے پاک راہ کا سراغ لگا بھی نہیں سکتا۔ یہ اللہ کی خاص مہربانی ہے کہ اس نے خود ہی انسانون کو یہ راہ بتلا دی جس سے انہیں اس دنیا میں بھی اس راستہ کی تلاش کے لیے کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوتی اور آخرت میں بھی وہ کامرانیوں سے ہمکنار ہوجائے گا۔

Al-Maaida 5:12Listen in Qur'an →
13

فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَٰقَهُمْ لَعَنَّٰهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَٰسِيَةًۭ ۖ يُحَرِّفُونَ ٱلْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِۦ ۙ وَنَسُوا۟ حَظًّۭا مِّمَّا ذُكِّرُوا۟ بِهِۦ ۚ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلَىٰ خَآئِنَةٍۢ مِّنْهُمْ إِلَّا قَلِيلًۭا مِّنْهُمْ ۖ فَٱعْفُ عَنْهُمْ وَٱصْفَحْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُحْسِنِينَ

تو ان لوگوں کے عہد توڑ دینے کے سبب ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت کر دیا یہ لوگ کلمات (کتاب) کو اپنے مقامات سے بدل دیتے ہیں اور جن باتوں کی ان کو نصیحت کی گئی تھی ان کا بھی ایک حصہ فراموش کر بیٹھے اور تھوڑے آدمیوں کے سوا ہمیشہ تم ان کی (ایک نہ ایک) خیانت کی خبر پاتے رہتے ہو تو ان کی خطائیں معاف کردو اور (ان سے) درگزر کرو کہ خدا احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

[٣٧] بنی اسرائیل کی اپنے عہد کی ایک ایک شق کی خلاف ورزی :۔ بنی اسرائیل نے اپنے اس مضبوط عہد کی چنداں پروا نہ کی۔ قیام صلٰوۃ اور ایتائے زکوٰۃ میں غفلت برتی۔ زکوٰۃ کے بجائے بخل کی راہ اختیار کی اور قرضہ حسنہ دینے کی بجائے سود خوری اور حرام خوری شروع کردی۔ اللہ کے رسولوں پر ایمان لانا تو درکنار، جی بھر کر ان کی مخالفت کی اور بعض انبیاء کو ناحق قتل بھی کرتے رہے غرض یہ کہ اس عہد کی ایک ایک شق کو توڑنے میں کوئی کمی نہ چھوڑی جس کے عوض ہم نے ان پر لعنت کی اور انہیں اپنی رحمت سے دور کردیا اور دوسری سزا یہ دی کہ ان کے دل سخت بنا دیئے جس کی وجہ سے ایک تو راہ حق قبول کرنے سے قاصر ہوگئے دوسرے آپس میں الفت و موانست کے جذبات کے بجائے ان میں خود غرضی، سنگدلی اور باہمی منافرت نے راہ پا لی۔- [٣٨] ان دونوں سزاؤں کے مزید نتائج یہ نکلے کہ ان لوگوں نے کتاب اللہ میں تحریف شروع کردی۔ فلسفیانہ موشگافیاں اور خود غرضانہ تاویلات کے ذریعہ کتاب کی اکثر آیات کا مفہوم ہی بدل ڈالا اور اسے کچھ کا کچھ بنادیا اور دوسرا نتیجہ یہ نکلا کہ انہیں کہا تو یہ گیا تھا کہ وہ کتاب اللہ سے نصیحت اور عبرت حاصل کریں۔ یہ بات تو انہوں نے یکسر چھوڑ ہی دی اور اسکے بجائے اپنا سارا زور الفاظ کی گتھیوں کو سلجھانے میں صرف کرنے لگے اور ایسا مطلب اخذ کرنا شروع کیا جو انکی خواہش کے مطابق ہو (نیز دیکھئے سورة نساء کا حاشیہ نمبر ٧٧۔ ا)- [٣٩] یہ چند آدمی عبداللہ بن سلام اور انہی کا سا راست باز ذہن رکھنے والے کچھ ساتھی تھے۔ ان کے علاوہ جتنے بھی یہودی تھے سب سازشیقسم کے لوگ، بدعہد اور خائن تھے اور موقع بہ موقع مسلمانوں کو ان کی سازشوں، کرتوتوں، بدعہدیوں اور خیانتوں کا از خود ہی پتا چلتا رہتا تھا۔ پھر چونکہ یہودیوں کی اکثریت ایسے ہی بدعہد اور خائن قسم کے لوگوں پر مشتمل تھی لہذا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ آپ ان کی ہر قابل گرفت بات سے دل گرفتہ ہوں گے تو آپ کو یہ ایک الگ پریشانی لاحق ہوجائے گی لہذا ان کی باتوں کو درخور اعتناء سمجھنا چھوڑ دیجئے اور جن جن خیانتوں پر آپ مطلع ہوتے رہتے ہیں ان سے محاسبہ نہ کیجئے۔ اللہ خود ان سے نمٹ لے گا۔ آپ درگرز اور احسان کی راہ اختیار کیجئے۔ کیونکہ یہی راہ اللہ کو پسند ہے۔

Al-Maaida 5:13Listen in Qur'an →
14

وَمِنَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّا نَصَٰرَىٰٓ أَخَذْنَا مِيثَٰقَهُمْ فَنَسُوا۟ حَظًّۭا مِّمَّا ذُكِّرُوا۟ بِهِۦ فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ ٱلْعَدَاوَةَ وَٱلْبَغْضَآءَ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ ۚ وَسَوْفَ يُنَبِّئُهُمُ ٱللَّهُ بِمَا كَانُوا۟ يَصْنَعُونَ

اور جو لوگ (اپنے تئیں) کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ہم نے ان سے بھی عہد لیا تھا مگر انہوں نے بھی اس نصیحت کا جو ان کو کی گئی تھی ایک حصہ فراموش کر دیا تو ہم نے ان کے باہم قیامت تک کے لیے دشمنی اور کینہ ڈال دیا اور جو کچھ وہ کرتے رہے خدا عنقریب ان کو اس سے آگاہ کرے گا

[٤٠] نصاریٰ سے بھی اسی قسم کا پختہ عہد لیا گیا تھا تو انہوں نے بھی وہی کچھ کیا جو یہود نے کیا تھا۔ انہوں نے بھی کتاب اللہ سے ہدایت حاصل کرنا چھوڑ دیا اور فلسفیانہ اور راہبانہ قسم کی موشگافیوں میں لگ گئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ کئی فرقوں میں بٹ گئے اور ایک دوسرے کی تکفیر کرنے لگے اور مستقل طور پر ان میں منافرت اور دشمنی کا بیج پرورش پانے لگا۔ پھر اسی پر ہی معاملہ ختم نہ ہوا بلکہ نصاریٰ اور یہود میں مستقل طور پر عداوت اور دشمنی چل نکلی۔ اور جہاں کہیں نصاریٰ کی حکومت قائم ہوئی تو انہوں نے یہودیوں پر جی بھر کر ظلم ڈھائے اور ان کی یہ دشمنی تاقیامت جاری رہے گی۔ کیونکہ ان کی کتابوں میں تحریف ہوچکی ہے۔ اور کوئی ایسی الہامی متفق علیہ چیز ان کے ہاں موجود ہی نہیں رہی جس کی بنیاد پر کسی وقت ان کے اتحاد کی بنیاد اٹھائی جاسکے۔

Al-Maaida 5:14Listen in Qur'an →
15

يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًۭا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ ٱلْكِتَٰبِ وَيَعْفُوا۟ عَن كَثِيرٍۢ ۚ قَدْ جَآءَكُم مِّنَ ٱللَّهِ نُورٌۭ وَكِتَٰبٌۭ مُّبِينٌۭ

اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے

[٤١] اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب نے بیشمار آیات کی یا تو تاویل کر ڈالی تھی یا پھر انہیں لوگوں سے چھپایا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایسی آیات کا علم عطا کیا ہوا تھا۔ پھر ان میں بہت سی آیات ایسی تھیں جن کا آپ نے یہود سے ذکر ہی نہیں کیا۔ کیونکہ انہیں بتانے کی کوئی حقیقی ضرورت نہیں تھی اور جن آیات کا ذکر کیا وہ بھی بہت تھیں تھوڑی نہیں تھیں جن کا بتانا دین حق کے قیام کے لیے ناگزیر تھا۔ جیسا کہ انہوں نے رجم کی آیت کو چھپانے کی کوشش کی تھی اور یہ بات درج ذیل حدیث سے صاف واضح ہے۔- یہود کا آیات اللہ کو چھپانا :۔ ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ آپ کے پاس ایک یہودی مرد اور عورت کو لایا گیا جنہوں نے زنا کیا تھا۔ آپ نے یہود سے پوچھا تم اپنی کتاب میں اس کا کیا حکم پاتے ہو ؟ وہ کہنے لگے ہمارے علماء ایسے لوگوں کا منہ کالا کر کے گدھے پر سوار کرتے اور گشت کراتے ہیں عبداللہ بن سلام نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے علماء کو تورات سمیت بلائیے۔ جب تورات لائی گئی تو ان میں سے ایک نے رجم کی آیت پر ہاتھ رکھ کر آگے پیچھے سے پڑھنا شروع کردیا۔ عبداللہ بن سلام نے اسے کہا اپنا ہاتھ تو اٹھاؤ، اس نے ہاتھ اٹھایا تو اس کے نیچے سے رجم کی آیت نکلی۔ چناچہ آپ نے انہیں رجم کا حکم دے دیا اور وہ سنگسار کیے گئے۔ (بخاری۔ کتاب المحاربین۔ باب الرجم بالبلاط۔ مسلم۔ کتاب الحدود۔ باب رجم الیہود اہل الذمۃ فی الزنیٰ ) یا جیسے وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے متعلق سب آیات کو چھپا جاتے تھے۔- [٤٢] اگرچہ اس آیت میں بعض علماء نے نور سے مراد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات با برکات بھی لی ہے تاہم اکثر مفسرین نور کو کتاب مبین ہی کی صفت قرار دیتے ہیں اور واؤ کو عطف مغائرت کے بجائے عطف تفسیری سمجھتے ہیں اور اسکی وجہ درج ذیل ہیں۔- ١۔ اس آیت کی ابتدا میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر پہلے ہی آچکا ہے۔ یہ آیت یوں شروع ہوتی ہے۔ (يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ ڛ قَدْ جَاۗءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّكِتٰبٌ مُّبِيْنٌ 15؀ۙ ) 5 ۔ المآئدہ :15)- ٢۔ اگر نور اور کتاب مبین دو الگ الگ چیزیں ہوتیں تو بعد والی آیت میں (یَھْدِی بِہِ اللّٰہُ ) کے بجائے (یَھْدِیْ بِھِمَا اللّٰہُ ) آنا چاہیے تھا۔- ٣۔ قرآن میں قرآن اور دوسری آسمانی کتابوں کو ہی بہت سے مقامات پر نور کہا گیا ہے مثلاً- ١۔ (وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ نُوْرًا مُّبِيْنًا ١٧٤۔ ) 4 ۔ النسآء :174) اور ہم نے تمہاری طرف نور مبین نازل کیا (قرآن کے لیے)- ٢۔ ( اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِيْهَا هُدًى وَّنُوْرٌ 44؀) 5 ۔ المآئدہ :44) ہم نے ہی تورات اتاری جس میں ہدایت اور نور تھا (تورات کے لیے)- ٣۔ (وَاٰتَيْنٰهُ الْاِنْجِيْلَ فِيْهِ هُدًى وَّنُوْرٌ 46؀ۭ ) 5 ۔ المآئدہ :46) اور ہم نے (سیدنا عیسیٰ ) کو انجیل عطا کی جس میں ہدایت اور نور تھا (انجیل کے لیے)- ٤۔ (مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِيْ جَاۗءَ بِهٖ مُوْسٰي نُوْرًا وَّهُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِيْسَ تُبْدُوْنَهَا وَتُخْفُوْنَ كَثِيْرًا 91؀) 6 ۔ الانعام :91) وہ کتاب کس نے اتاری تھی جو موسیٰ لائے تھے جو لوگوں کے لیے نور اور ہدایت تھی (تورات کے لیے)- ٥۔ ( وَاتَّبَعُوْا النُّوْرَ الَّذِیْ اَنْزَلَ مَعَہُ ) (٧ : ١٥٧) اور اس نور کی پیروی کی جسے ہم نے آپ کے ساتھ اتارا ہے (قرآن کے لیے)- ٦۔ (وَلٰکِنْ جَعَلْنٰہُ نُوْرًا نَّھْدِیْ بِہِ مَنْ نَشَاءُ ) (٤٢ : ٥٢) لیکن ہم نے اس کو نور بنایا جس سے ہم جسے چاہیں ہدایت دیتے ہیں (قرآن کے لیے)- ٧۔ (فَامَنِوُاْ باللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ …

Al-Maaida 5:15Listen in Qur'an →
16

يَهْدِى بِهِ ٱللَّهُ مَنِ ٱتَّبَعَ رِضْوَٰنَهُۥ سُبُلَ ٱلسَّلَٰمِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ بِإِذْنِهِۦ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ

جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے

[٤٣] قرآن سے گمراہی کیسے ؟ یعنی قرآن کے ذریعے اللہ تعالیٰ لوگوں کو غلط انداز فکر، غلط رجحانات اور غلط نظریات سے محفوظ رکھتا ہے اور انہیں صراط مستقیم کی روشنی کی طرف لے آتا ہے بشرطیکہ انسان قلب سلیم اور عقل صحیح کے ساتھ قرآن سے رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کرے اور جو شخص اپنے پہلے سے قائم کردہ غلط نظریات و عقائد قرآن سے کشید کرنے کی کوشش کرے یا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں قرآن سے دلائل طلب کرنے کی کوشش کرے تو ایسا شخص اسی قرآن سے گمراہ بھی ہوجاتا ہے۔- [٤٤] روشنی کا لفظ تو بطور واحد استعمال فرمایا اور اندھیروں کا لفظ بطور جمع۔ کیونکہ گمراہیوں اور ضلالتوں کی اقسام بیشمار ہیں جبکہ ہدایت کی راہ صرف ایک ہی ہوسکتی ہے۔ قرآن اللہ کے اذن سے اسی ہدایت کی راہ دکھاتا ہے اور مشعل راہ کا کام دیتا ہے۔

Al-Maaida 5:16Listen in Qur'an →
17

لَّقَدْ كَفَرَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْمَسِيحُ ٱبْنُ مَرْيَمَ ۚ قُلْ فَمَن يَمْلِكُ مِنَ ٱللَّهِ شَيْـًٔا إِنْ أَرَادَ أَن يُهْلِكَ ٱلْمَسِيحَ ٱبْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُۥ وَمَن فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًۭا ۗ وَلِلَّهِ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ ۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ

جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ عیسیٰ بن مریم خدا ہیں وہ بےشک کافر ہیں (ان سے) کہہ دو کہ اگر خدا عیسیٰ بن مریم کو اور ان کی والدہ کو اور جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کو ہلاک کرنا چاہے تو اس کے آگے کس کی پیش چل سکتی ہے؟ اور آسمان اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب پر خدا ہی کی بادشاہی ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

[٤٥] نصاریٰ کا قول کہ عیسیٰ ہی عین اللہ ہے اور اس کا رد :۔ یہ کافر لوگ عیسائی یا نصاریٰ ہیں جنہوں نے عیسیٰ کی بشریت میں الوہیت کو ضم کرنے کی کوشش کی۔ یہ انداز فکر چونکہ سراسر گمراہی اور شرک پر مبنی تھا۔ اس لیے گمراہی کی کئی راہیں پیدا ہوگئیں۔ ایک فرقے نے الوہیت کے پہلو کو نمایاں کیا تو کہا کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ کے جسم میں حلول کر گیا لہذا وہ اللہ تعالیٰ کا عین ہے یا عین اللہ تعالیٰ ہے اور جنہوں نے بشریت کے پہلو کو نمایاں کیا انہوں نے کہا کہ عیسیٰ عین اللہ تو نہیں البتہ ابن اللہ ضرور ہیں۔ اور جنہوں نے درمیانی تیسری گمراہی کی راہ اختیار کی انہوں نے کہا کہ اللہ ایک نہیں بلکہ تین ہیں اور تینوں ہی ازلی ابدی ہیں۔ ایک اللہ دوسرے عیسیٰ (علیہ السلام) اور تیسرے روح القدس پھر یہ تین مل کر بھی ایک الہ بنتا ہے۔ پھر مدتوں بعد سیدہ مریم کو بھی الوہیت میں شریک سمجھا جانے لگا (وغیرہ من الخرافات )- [٤٢] عیسائی حضرات عیسیٰ (علیہ السلام) اور سیدہ مریم دونوں کو الوہیت میں شریک بناتے ہیں جبکہ سیدنا عیسیٰ اپنے آپ کو (بقول نصاریٰ ) صلیب پر چڑھنے سے اور سیدہ مریم یہود کی تہمت سے اپنے آپ کو بچا نہ سکے تو پھر ان کی الوہیت کیسی تھی ؟ اور اگر اللہ ان دونوں کو اور ان کے علاوہ جتنے بھی انسان اس زمین پر موجود ہیں سب کو آن کی آن میں نیست و نابود کر دے تو کوئی ہے جو اس کا ہاتھ پکڑ سکے ؟ کیونکہ ان تمام چیزوں کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے اور مالک بھی وہی ہے۔ اور مالک کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنی ملکیت کی چیز میں جیسے چاہے تصرف کرے۔- [٤٧] یعنی اس نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر باپ کے پیدا کیا اور حوا کو ماں کے بغیر اور سیدنا آدم کی وساطت سے پیدا کیا اور سیدنا آدم کو ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا کیا اور چوتھی اور سب سے عام شکل یہ ہے کہ وہ مرد اور عورت کے ملاپ سے پیدا کرتا ہے اور وہ ہر طرح سے پیدا کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔- [٤٨] یہود و نصاری کا یہ قول کہ ہم اللہ کے بیٹے اور چہیتے ہیں :۔ یعنی وہ سزا جو انہیں اس دنیا میں ہی مل رہی ہے اگر وہ فی الواقع اللہ کے محبوب ہیں تو یہ سزا اور رسوائی کیوں ہو رہی ہے۔ سابقہ ادوار میں دو دفعہ تمہیں تباہ و برباد کیا گیا اور آج تمہاری کیا حالت ہے ؟ کیا کوئی اپنے محبوب یا پیاروں کو بھی سزا دیتا اور رسوا کرتا ہے ؟ اس سے یہ معلوم ہوا کہ ان کا یہ دعویٰ بالکل باطل اور بےبنیاد ہے۔ دوسرا دعویٰ ان کا یہ تھا کہ ہم انبیاء کی اولاد ہیں اس لحاظ سے اللہ کے محبوب ہیں اور اخروی عذاب ہمیں نہیں ہوگا۔ اس دعویٰ کی تردید اللہ نے یوں فرمائی کہ اگر تم اپنے اس دعویٰ میں سچے ہو تو پھر تو تمہیں جلد از جلد مرنے کی آرزو کرنی چاہیے جس سے معلوم ہوا کہ صرف انسان کے اعمال ہی اس کی نجات اخروی کا ذریعہ بن سکتے ہیں حسب و نسب وہاں کچھ کام نہ آسکے گا۔- خ قیامت کے دن حسب ونسب کچھ کام نہ آئے گا :۔ چناچہ سیدنا ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جس شخص کو اس کے عمل نے پیچھے کردیا اس کا نسب اسے آگے نہ کرسکے گا (مسلم کتاب الذکر۔ باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن اور جب سورة شعراء کی آیت (وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ ٢١٤؀ۙ ) 26 ۔ الشعراء :214) نازل ہوئی تو آپ نے اپنے رشتہ داروں کو بلایا اور ان کے نام لے لے کر کہا مثلاً اے عباس بن عبدالمطلب میں تیرے کچھ کام نہ آسکوں گا۔ اے صفیہ ( رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پھوپھی) میں آپ کے کچھ کام نہ آسکوں گا۔ اے فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے مال میں سے جو تم چاہو مجھ سے (دنیا میں) طلب کرلو۔ میں تمہارے کسی کام نہ آسکوں گا۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر سورة شعرائ۔ مسلم کتاب الایمان۔ باب۔ وانذر عشیر تک الاقربین )

Al-Maaida 5:17Listen in Qur'an →
18

وَقَالَتِ ٱلْيَهُودُ وَٱلنَّصَٰرَىٰ نَحْنُ أَبْنَٰٓؤُا۟ ٱللَّهِ وَأَحِبَّٰٓؤُهُۥ ۚ قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُم بِذُنُوبِكُم ۖ بَلْ أَنتُم بَشَرٌۭ مِّمَّنْ خَلَقَ ۚ يَغْفِرُ لِمَن يَشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ ۚ وَلِلَّهِ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ وَإِلَيْهِ ٱلْمَصِيرُ

اور یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں کہو کہ پھر وہ تمہاری بداعمالیوں کے سبب تمھیں عذاب کیوں دیتا ہے (نہیں) بلکہ تم اس کی مخلوقات میں (دوسروں کی طرح کے) انسان ہو وہ جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب دے اور آسمان زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب پر خدا ہی کی حکومت ہے اور (سب کو) اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

[٤٩] یعنی تم کوئی بالاتر مخلوق نہیں بلکہ عام انسانوں کی طرح ہی ہو۔ تمہاری بھی اللہ کے حضور ویسے ہی باز پرس ہوگی جیسے دوسرے لوگوں کی ہوگی پھر اللہ جسے چاہے گا معاف کر دے گا اور جسے چاہے گا اس کے گناہوں کے عوض اسے دھر لے گا اور جو کچھ وہ کرے وہ مختار کل ہے۔ کیونکہ وہ کائنات کی ہر چیز کا مالک ہے کوئی چیز اس کے آگے دم نہیں مار سکتی اور اس کے حضور سب کو پیش ہونا پڑے گا اور یہ ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی مفر نہیں۔

Al-Maaida 5:18Listen in Qur'an →
19

يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلَىٰ فَتْرَةٍۢ مِّنَ ٱلرُّسُلِ أَن تَقُولُوا۟ مَا جَآءَنَا مِنۢ بَشِيرٍۢ وَلَا نَذِيرٍۢ ۖ فَقَدْ جَآءَكُم بَشِيرٌۭ وَنَذِيرٌۭ ۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ

اے اہلِ کتاب پیغمبروں کے آنے کا سلسلہ جو (ایک عرصے تک) منقطع رہا تو (اب) تمہارے پاس ہمارے پیغمبر آ گئے ہیں جو تم سے (ہمارے احکام) بیان کرتے ہیں تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی خوشخبری یا ڈر سنانے والا نہیں آیا سو (اب) تمہارے پاس خوشخبری اور ڈر سنانے والے آ گئے ہیں اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

[٥] اہل کتاب کو نبی آخر الزمان کا انتظار :۔ بنی اسرائیل میں بیک وقت ایک ہی زمانہ میں متعدد انبیاء مبعوث ہوتے رہے۔ دینی قیادت بھی انہیں کے پاس ہوتیتھی اور دنیوی قیادت بھی۔ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد انبیاء کی بعثت کا سلسلہ بند ہوا اور مسلسل چھ سو سال تک بند رہا۔ اس کے بعد نبی آخر الزمان مبعوث ہوئے یہود اس نبی کے انتظار میں رہا کرتے اور مشرکین سے کہا کرتے کہ جب نبی آخر الزماں آئے گا تو ہم اس کے جھنڈے تلے جمع ہو کر تم پر فتح حاصل کریں گے۔ مگر جب نبی آخر الزمان تشریف لائے تو یہود نے انہیں دی ہوئی بشارات کے مطابق ٹھیک طرح پہچان لیا۔ پھر صرف اس بنا پر آپ کی نبوت کا انکار کردیا کہ آپ بنی سرائیل میں سے نہ تھے۔ انہی یہود کو اللہ تعالیٰ مخاطب کر کے فرما رہے ہیں کہ جس بشیر و نذیر کا تمہیں انتظار تھا وہ آچکا۔ اب تمہارے پاس کچھ عذر باقی نہیں رہ گیا۔ لہذا اگر اب تم اس سے انکار کر رہے ہو تو خوب سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس جرم کفر کی سزا دینے پر پوری طرح قادر ہے۔ یہود کی طرح نصاریٰ کو بھی نبی آخر الزماں کا انتظار تھا اور ان کا یہ خیال تھا کہ وہ نبی ہم میں سے ہوگا اور ہم اس کے ساتھ مل کر یہود سے بدلہ لیں گے۔ پھر جب ان کی یہ آرزو پوری نہ ہوسکی تو ان میں سے بھی اکثر نبی آخر الزماں کے مخالف ہوگئے۔

Al-Maaida 5:19Listen in Qur'an →
20

وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِۦ يَٰقَوْمِ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَةَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنۢبِيَآءَ وَجَعَلَكُم مُّلُوكًۭا وَءَاتَىٰكُم مَّا لَمْ يُؤْتِ أَحَدًۭا مِّنَ ٱلْعَٰلَمِينَ

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ بھائیو تم پر خدا نے جو احسان کئے ہیں ان کو یاد کرو کہ اس نے تم میں پیغمبر پیدا کیے اور تمہیں بادشاہ بنایا اور تم کو اتنا کچھ عنایت کیا کہ اہل عالم میں سے کسی کو نہیں دیا

[٥١] بنی اسرائیل کے انبیاء جو بادشاہ بھی تھے :۔ بنی اسرائیل مصر میں نہایت ذلت سے غلامانہ زندگی بسر کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا یوسف (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا تو انہیں عظیم سلطنت بھی عطا فرمائی تھی۔ مصر اور اس کے گرد و نواح کے ممالک میں آپ ہی کی فرمانروائی تھی اس زمانہ میں بنی اسرائیل کو عزت سے زندگی بسر کرنا نصیب ہوئی اور دینی اور دنیوی قیادت سب کچھ ان کے ہاتھ میں تھا، لیکن بعد میں اپنی نافرمانیوں کی بنا پر وہ عزت ان سے چھین لی گئی تاآنکہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) جس وقت مبعوث ہوئے تو بنی اسرائیل مصر میں لاکھوں کی تعداد میں ہونے کے باوجود فرعون کے تحت محکومانہ اور نہایت ذلت کی زندگی گزار رہے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) آئے تو انہوں نے بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے نجات دلائی۔ اس دور میں بنی اسرائیل کے یہ غلامانہ ذہنیت رکھنے والے لوگ حاکم قوم کی دیکھا دیکھی گؤ سالہ پرستی میں مبتلا ہوچکے تھے۔ خدائے واحد کی پرستش کا تصور ہی ان کے ذہنوں سے نکل چکا تھا اور غضب یہ کہ ان کے دلوں میں بچھڑے کی پرستش اور اس دین سے محبت یوں گھر کرچکی تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ سے ہونا چاہیے تھی بلکہ اس سے بھی بڑھ کر تھی اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ قصور بھی معاف کردیا۔ پھر ان میں سیدنا داؤد اور سیدنا سلیمان مبعوث کیے جنہیں اللہ تعالیٰ نے بادشاہی بھی عطا کی تھی۔

Al-Maaida 5:20Listen in Qur'an →

Commentary: Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.