Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani

Ayahs 1–10 of 120

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَوْفُوا۟ بِٱلْعُقُودِ ۚ أُحِلَّتْ لَكُم بَهِيمَةُ ٱلْأَنْعَٰمِ إِلَّا مَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ غَيْرَ مُحِلِّى ٱلصَّيْدِ وَأَنتُمْ حُرُمٌ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيدُ

اے ایمان والو! اپنے اقراروں کو پورا کرو۔ تمہارے لیے چارپائے جانور (جو چرنے والے ہیں) حلال کر دیئے گئے ہیں۔ بجز ان کے جو تمہیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں مگر احرام (حج) میں شکار کو حلال نہ جاننا۔ خدا جیسا چاہتا ہے حکم دیتا ہے

[١] ایفائے عہد :۔ قرآن میں کئی مقامات پر یہ صراحت موجود ہے کہ یہود کی بدعہدیوں اور عہد شکنیوں کے باعث ان پر کئی ایسی چیزیں حرام کردی گئی تھیں جو پہلے ان کے لیے حلال تھیں لہذا اس سورة میں حلت و حرمت کے احکام بیان کرنے سے پیشتر بطور تمہید اپنے معاہدات کو پورا کرنے کی تاکید کی جا رہی ہے خواہ یہ عہد اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے ہوں یا لوگوں سے، بیع و شرا سے متعلق ہوں یا نکاح اور منگنی وغیرہ سے، اپنوں سے تعلق رکھتے ہوں یا غیر مسلموں سے، صلح سے متعلق ہوں یا جنگ سے غرض ہر طرح کے معاہدات کو پورا کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ عہد کو پورا نہ کرنا نفاق کی علامت ہے جیسا کہ پہلے اس ضمن میں صحیح احادیث درج کی جا چکی ہیں۔- [٢] حلال اور حرام جانور :۔ انعام سے اہل عرب کے ہاں اونٹ، گائے اور بھیڑ بکری وغیرہ مراد لیے جاتے ہیں اور بہیمہ وہ جانور ہیں جن کا گزارا گھاس پات پر ہوتا ہو۔ اس طرح اس قبیل میں وہ جانور بھی شامل ہوجاتے ہیں جو نباتاتی غذاؤں پر پرورش پاتے ہوں اور عرب کے علاوہ دوسرے ممالک میں پائے جاتے ہوں مثلاً گائے کے ساتھ نیل گائے، بھینس اور بکری کے ساتھ ہرن اور بارہ سنگھا وغیرہ بھی حلال ہوں گے اور جو جانور حیوانی غذا پر پرورش پاتے ہیں بالفاظ دیگر جو جانور گوشت خور ہیں وہ سب حرام ہیں جنہیں عام زبان میں درندے کہا جاتا ہے چناچہ سیدنا ثعلبہ (رض) فرماتے ہیں کہ آپ نے ہمیں ہر کچلی والے درندے کے کھانے سے منع فرمایا (بخاری۔ کتاب الصید والذبائح۔ باب اکل کل ذی ناب من السباع۔ مسلم۔ کتاب الصید والذبائح۔ باب تحریم اکل ذی ناب) نیز آپ نے ہر شکاری پرندے کو حرام قرار دیا جو اپنے پنجوں سے شکار کرتا ہے (حوالہ ایضاً )- [٣] یعنی اس سورة کی تیسری آیت میں بیان ہوں گے۔- [٤] احرام کیا ہے ؟ احرام اس فقیرانہ لباس کو کہتے ہیں جو حج اور عمرہ کرنے والے اپنے میقات سے باندھتے ہیں اور یہ مردوں کے لیے صرف ایک تہبند اور ایک چادر پر مشتمل ہوتا ہے۔ اور عورتوں کے لیے ان کا عام لباس ہی احرام کا بھی لباس ہوتا ہے۔ احرام کی حالت میں انہیں کوئی چیز چہرہ پر نہ ڈالنا چاہیے۔ احرام کی حالت میں چند پابندیاں ضروری ہیں مثلاً وہ خوشبو یا زیب وزینت کی چیزیں استعمال نہیں کرسکتا۔ نہ ہی اپنی بیوی سے صحبت کرسکتا ہے۔- محرم کو شکار کی ممانعت :۔ انہی پابندیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ نہ تو خود شکار کرسکتا ہے اور نہ ہی دوسرے کو شکار کرنے میں مدد دے سکتا ہے البتہ شکار کردہ جانور سے کچھ کھا لینے میں کوئی حرج نہیں۔ چناچہ سیدنا ابو قتادہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم (حدیبیہ کے سال) آپ کے ہمراہ روانہ ہوئے اور اپنے چند ساتھیوں سمیت جو احرام باندھے تھے، پیچھے رہ گئے لیکن ابو قتادہ نے احرام نہیں باندھا تھا۔ ان احرام باندھے ہوئے ہمراہیوں نے ایک گورخر دیکھا جس پر ابو قتادہ کی نظر نہ پڑی۔ انہوں نے بھی ابو قتادہ کو شکار کے متعلق کچھ نہ بتلایا، یہاں تک کہ ابو قتادہ کی خود اس شکار پر نظر پڑگئی۔ وہ اپنے گھوڑے پر جس کا نام جرادہ تھا سوار ہوئے اور اپنے ساتھیوں سے کہا، ذرا میرا کوڑا مجھے پکڑا دو ۔ لیکن انہوں نے انکار کردیا۔ آخر ابو قتادہ نے خود اتر کر اپنا کوڑا لیا اور اس گورخر پر حملہ کیا اور اس کو زخمی کر کے اسے گرا دیا۔ پھر ابو قتادہ نے اس شکار میں سے خود بھی کھایا اور ان ساتھیوں نے بھی کھایا جو احرام باندھے ہوئے تھے۔ پھر جب یہ لوگ آپ سے جا کر ملے اور ان سے قصہ بیان کیا تو آپ نے پوچھا، کیا اس شکار کا کچھ گوشت باقی ہے ؟ ابو قتادہ نے کہا ہاں۔ ایک ران ہے۔ چناچہ آپ نے وہ ران لے لی اور اس میں سے گوشت کھایا۔ (بخاری کتاب الجہاد۔ باب اسم الفرس والحمار) پھر جس طرح احرام کی حالت میں شکار کرنا حرام ہے اسی طرح حرم مکہ میں بھی شکار کرنا حرام اور ممنوع ہے فرق صرف یہ ہے کہ حرم مکہ میں کسی وقت بھی شکار نہیں کیا جاسکتا خواہ کوئی احرام کی …

2

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تُحِلُّوا۟ شَعَٰٓئِرَ ٱللَّهِ وَلَا ٱلشَّهْرَ ٱلْحَرَامَ وَلَا ٱلْهَدْىَ وَلَا ٱلْقَلَٰٓئِدَ وَلَآ ءَآمِّينَ ٱلْبَيْتَ ٱلْحَرَامَ يَبْتَغُونَ فَضْلًۭا مِّن رَّبِّهِمْ وَرِضْوَٰنًۭا ۚ وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَٱصْطَادُوا۟ ۚ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَـَٔانُ قَوْمٍ أَن صَدُّوكُمْ عَنِ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ أَن تَعْتَدُوا۟ ۘ وَتَعَاوَنُوا۟ عَلَى ٱلْبِرِّ وَٱلتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا۟ عَلَى ٱلْإِثْمِ وَٱلْعُدْوَٰنِ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

مومنو! خدا کے نام کی چیزوں کی بےحرمتی نہ کرنا اور نہ ادب کے مہینے کی اور نہ قربانی کے جانوروں کی اور نہ ان جانوروں کی (جو خدا کی نذر کر دیئے گئے ہوں اور) جن کے گلوں میں پٹے بندھے ہوں اور نہ ان لوگوں کی جو عزت کے گھر (یعنی بیت الله) کو جا رہے ہوں (اور) اپنے پروردگار کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلبگار ہوں اور جب احرام اتار دو تو (پھر اختیار ہے کہ) شکار کرو اور لوگوں کی دشمنی اس وجہ سے کہ انہوں نے تم کو عزت والی مسجد سے روکا تھا تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم ان پر زیادتی کرنے لگو اور (دیکھو) نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں مدد نہ کیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کا عذاب سخت ہے

[٦] شعائر کا مفہوم :۔ شعائر، شعیرہ کی جمع ہے۔ یعنی امتیازی علامت۔ ہر مذہب اور ہر نظام کی امتیازی علامات کو شعائر کہا جاتا ہے۔ مثلاً اذان نماز باجماعت اور مساجد مسلمانوں کے، گرجا اور صلیب عیسائیوں کے، تلک، زنار، چوٹی اور مندر ہندوؤں کے کیس۔ کڑا اور کرپان سکھوں کے۔ ہتھوڑا اور درانتی اشتراکیت کے اور سرکاری جھنڈے، قومی ترانے، فوج اور پولیس کے یونیفارم وغیرہ حکومتوں کے امتیازی نشان ہوتے ہیں۔ جن کا احترام ضروری سمجھا جاتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے بھی کئی شعائر ہیں۔- [٧] حرمت کے مہینے :۔ اللہ تعالیٰ کے شعائر بیشمار ہیں جن میں سے چند ایک کے نام اس آیت میں آگئے ہیں۔ ان کی توہین یا بےحرمتی سے انسان گنہگار ہوجاتا ہے۔ ان میں سے سرفہرست حرمت والے مہینہ کا ذکر فرمایا۔ حرمت والے مہینے چار ہیں۔ ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب۔ اور ان کی حرمت کا مطلب یہ ہے کہ ان مہینوں میں اہل عرب لوٹ مار اور لڑائی وغیرہ سے باز رہتے تھے۔ دور جاہلیت میں پورے عرب میں قبائلی نظام رائج تھا اور یہ قبیلے آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے تھے انہوں نے آپس میں یہ طے کیا ہوا تھا کہ ان مہینوں میں کوئی قبیلہ کسی دوسرے قبیلہ پر چڑھ کر نہ آئے گا۔ دوسرے عرب قبائل ایک دوسرے کو بھی لوٹا کرتے تھے اور تجارتی قافلوں کو بھی۔ ان حرمت والے مہینوں میں وہ اس کام سے بھی باز رہتے تھے اور ان چار مہینوں میں سے ذیقعدہ، ذی الحجہ اور محرم کو حرمت والے مہینے قرار دینے کی وجہ یہ تھی کہ ان ایام میں لوگ دور دور سے حج کرنے آتے تھے اور پھر واپس جاتے تھے اور رجب حرمت والا مہینہ قرار دینے کی وجہ یہ تھی کہ اس مہینہ میں لوگ بیت اللہ کے لیے نذرانے لایا کرتے تھے اور متولیان کعبہ یہ نذرانے وصول کیا کرتے تھے۔ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو یہ سب کچھ کعبہ شریف کے اعزاز کی وجہ سے تھا اور متولیان کعبہ، کعبہ کی وجہ سے کئی قسم کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی فائدے اٹھا رہے تھے اور قریش مکہ کے قافلے تو سارا سال ہی بےخوف و خطر سفر کرسکتے تھے۔ ان کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر دیکھتا بھی نہ تھا۔- اللہ کے شعائر :۔ یہ سب کچھ چونکہ کعبہ کے اعزاز کی وجہ سے تھا اسی لیے اسلام نے اس جاہلی دستور کو بحال رکھا اور اس لیے بھی کہ یہ ایک باہمی معاہدہ امن تھا جسے اسلام پسند کرتا ہے۔ اسلام میں جب زکوٰۃ فرض ہوئی تو اس کی وصولی کے لیے عمال کو ماہ رجب میں روانہ کیا جایا کرتا تھا۔ اس کی وجہ بھی غالباً یہ ہو کہ اس مہینہ میں لوگ کعبہ کے لیے نذرانہ دینے کے پہلے سے عادی تھے۔ دوسرے نمبر پر ہدی کا ذکر فرمایا یعنی وہ قربانی کے جانور جو قربانی کے لیے کعبہ بھیجے جائیں اور تیسرے نمبر پر قلائد کا ذکر فرمایا۔ یہ سب چیزیں اللہ کے شعائر ہیں قلائد سے مراد وہ پٹے ہیں جو کعبہ بھیجے جانے والے قربانی کے جانوروں کے گلے میں ڈال دیئے جاتے تھے ان کے علاوہ تمام مناسک حج بھی شعائر اللہ میں داخل ہیں۔ ان میں سے بالخصوص قربانی کے جانوروں کے ذکر کی مناسبت سے یہاں چند احادیث درج کی جاتی ہیں۔- ١۔ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قربانی کے اونٹوں کے پٹے بٹے پھر آپ نے وہ پٹے اونٹوں کے گلے میں ڈال دیئے اور ان کے کوہانوں سے خون نکالا۔ پھر انہیں بیت اللہ روانہ کردیا۔ (بخاری۔ کتاب المناسک۔ من اشعر وقلد بذی الحلیفۃ ثم احرم۔ مسلم۔ کتاب الحج۔ باب استحباب بعث الھدی الی الحرم )- ٢۔ سیدنا زویب (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم میرے ساتھ قربانی کے اونٹ بھیجتے اور فرماتے اگر ان میں سے کوئی اونٹ چل نہ سکے اور اس کے مرنے کا خطرہ ہو تو اسے ذبح کردو پھر اپنی جوتی اس کے خون میں آلودہ کر کے اس کے پہلو میں مارو۔ پھر اسے نہ تم کھاؤ اور نہ تمہارا کوئی ساتھی کھائے (مسلم۔ کتاب الحج۔ باب مایفعل بالہدی اذاعطب فی الطریق) اور ترمذی میں یہ اضافہ ہے کہ دوسرے لوگ ایسے ذبح شدہ قربانی کے …

3

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ ٱلْمَيْتَةُ وَٱلدَّمُ وَلَحْمُ ٱلْخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ لِغَيْرِ ٱللَّهِ بِهِۦ وَٱلْمُنْخَنِقَةُ وَٱلْمَوْقُوذَةُ وَٱلْمُتَرَدِّيَةُ وَٱلنَّطِيحَةُ وَمَآ أَكَلَ ٱلسَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَى ٱلنُّصُبِ وَأَن تَسْتَقْسِمُوا۟ بِٱلْأَزْلَٰمِ ۚ ذَٰلِكُمْ فِسْقٌ ۗ ٱلْيَوْمَ يَئِسَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَٱخْشَوْنِ ۚ ٱلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِى وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلْإِسْلَٰمَ دِينًۭا ۚ فَمَنِ ٱضْطُرَّ فِى مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍۢ لِّإِثْمٍۢ ۙ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

تم پر مرا ہوا جانور اور (بہتا) لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے اور جو جانور گلا گھٹ کر مر جائے اور جو چوٹ لگ کر مر جائے اور جو گر کر مر جائے اور جو سینگ لگ کر مر جائے یہ سب حرام ہیں اور وہ جانور بھی جس کو درندے پھاڑ کھائیں۔ مگر جس کو تم (مرنے سے پہلے) ذبح کرلو اور وہ جانور بھی جو تھان پر ذبح کیا جائے اور یہ بھی کہ پاسوں سے قسمت معلوم کرو یہ سب گناہ (کے کام) ہیں آج کافر تمہارے دین سے ناامید ہو گئے ہیں تو ان سے مت ڈرو اور مجھی سے ڈرتے رہو (اور) آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا ہاں جو شخص بھوک میں ناچار ہو جائے (بشرطیکہ) گناہ کی طرف مائل نہ ہو تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

[١١] حلت وحرمت کی علت :۔ حلت و حرمت کے قانون میں شریعت نے صرف اس بات کو ملحوظ نہیں رکھا کہ حرام چیزوں کے طبی لحاظ سے جسم انسانی پر کیا مفید یا مضر اثرات پڑتے ہیں۔ اگر ایسی بات ہوتی تو سب سے پہلے سنکھیا اور دوسرے زہروں کا نام لیا جاتا، بلکہ زیادہ تر اس بات کو ملحوظ رکھا گیا ہے کہ ان حرام اشیاء کے انسان کے اخلاق پر کیسے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور طہارت اور پاکیزگی سے ان کا کس قدر تعلق ہے نیز ایسی تمام چیزیں بھی حرام قرار دی گئیں جنہیں نیت کی گندگی اور عقیدہ کی خباثت حلال سے حرام بنا دیتی ہے۔ لہذا یہ ضروری نہیں کہ جو چیز اللہ نے حرام کی ہے اس کی حکمت بہرحال انسان کی سمجھ میں آجائے۔- [١٢] اس آیت میں جن حرام کردہ چیزوں کا ذکر ہے۔ ان میں سے پہلی چار چیزوں کا ذکر پہلے سورة بقرہ کی آیت نمبر ١٧٣ میں آچکا ہے اس کا حاشیہ ملاحظہ فرما لیا جائے۔- [١٣] چونکہ خون حرام ہے اس لیے موت کی ہر وہ صورت جس میں خون جسم سے نکل نہ سکے وہ بدرجہ اولیٰ حرام ہوئی۔ ایسی ہی چار صورتوں کا یہاں ذکر ہوا ہے۔ پہلی صورت اختناق یا گلا گھونٹ کر مرنے کی ہے پھر اسی کی آگے کئی صورتیں ہیں جیسے کوئی گلا دبا کر یا مروڑ کر مار ڈالے۔ یا اسی رسی کا پھندا لگ جائے یا گردن کسی درخت کی شاخوں میں پھنس جائے اور جانور مرجائے۔ دوسری صورت چوٹ یا ضرب سے مرنے کی ہے۔ یہ چوٹ کسی پتھر وغیرہ کی بھی ہوسکتی ہے اور لاٹھی وغیرہ کی بھی۔ تیسری صورت گر کر مرنا ہے خواہ کسی پہاڑی یا درخت سے گر کر مرجائے یا کسی کھڈ یا کنوئیں یا ندی نالے میں گر کر مرجائے۔ اور چوتھی صورت یہ ہے کہ سینگ دار جانور اپنے سینگوں سے لڑیں اور ان میں سے کوئی مرجائے ایسے سب مردار حرام ہیں۔- [١٤] شکار کے احکام :۔ عدی (رض) بن حاتم کہتے ہیں کہ میں نے آپ سے پوچھا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر میں بسم اللہ پڑھ کر سکھایا ہوا کتا شکار پر چھوڑوں اور وہ میرے لیے شکار روکے تو آپ نے فرمایا وہ تم کھا سکتے ہو۔ میں نے کہا اگر کتے نے اسے مار ڈالا ہو مگر کھایا نہ ہو تو ؟ آپ نے فرمایا کھا سکتے ہو۔ اور اگر تمہارے کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا بھی ہو اور شکار مرچکا ہو تو مت کھاؤ۔ کیونکہ تمہیں علم نہیں کہ کس کتے نے اسے مارا ہے۔ پھر میں نے پوچھا اگر شکار چوڑائی میں لگنے والی کسی چیز سے مرجائے تو ؟ آپ نے فرمایا۔ اگر پھٹ جائے یعنی خون نکل آئے تو کھا سکتے ہیں ورنہ نہیں۔ نیز آپ نے (ایک دوسری روایت کے مطابق) فرمایا۔ اگر بسم اللہ پڑھ کر سکھائے ہوئے کتے نے شکار سے خود بھی کچھ کھالیا ہو تو پھر مت کھاؤ کیونکہ اس کتے نے یہ شکار اپنے لیے کیا تھا تمہارے لیے نہیں۔ (مسلم۔ کتاب الصید والذبائح۔ باب الصید بالکلاب المعلمۃ) - [١٥] ایسا مقام جسکی نسبت عوام میں مشہور ہو کہ وہاں جا کر قربانی دینے سے یا ایسی نذر ماننے سے انسانوں کی فلاں تکلیف رفع ہوجاتی ہے یا اسے فلاں فائدہ پہنچتا ہے اور لوگ اسے مقدس سمجھتے ہوں خواہ وہاں کوئی بت موجود ہو یا نہ ہو۔ اور اگر کسی درخت یا کسی پتھر سے ایسے ہی فوائد منسوب کیے گئے ہوں تو وہ بھی اسی حکم میں داخل ہوگا چناچہ درج ذیل حدیث اسکی پوری وضاحت کرتی ہے۔- آستانے کی تعریف اور ان پر قربانی کا حکم :۔ سیدنا ثابت بن ضحاک فرماتے ہیں کہ دور نبوی میں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ بوانہ کے مقام پر ایک اونٹ قربانی کرے گا پھر وہ آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا۔ میں نے بوانہ کے مقام پر ایک اونٹ ذبح کرنے کی منت مانی تھی۔ آپ نے پوچھا کیا وہاں دور جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تھا جس کی عبادت کی جاتی رہی ہو۔ لوگوں نے کہا نہیں پھر آپ نے پوچھا کیا وہاں مشرکوں کی عیدوں میں سے کوئی عید (میلہ، عرس) تو نہیں لگتا تھا ؟ لوگوں نے کہا نہیں تب آپ نے اس شخص سے کہا، اپنی نذر پوری کرو۔ البتہ اللہ کی نافرمانی میں نذر پوری کرنا …

4

يَسْـَٔلُونَكَ مَاذَآ أُحِلَّ لَهُمْ ۖ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ ٱلطَّيِّبَٰتُ ۙ وَمَا عَلَّمْتُم مِّنَ ٱلْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ ٱللَّهُ ۖ فَكُلُوا۟ مِمَّآ أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَٱذْكُرُوا۟ ٱسْمَ ٱللَّهِ عَلَيْهِ ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ

تم سے پوچھتے ہیں کہ کون کون سی چیزیں ان کے لیے حلال ہیں (ان سے) کہہ دو کہ سب پاکیزہ چیزیں تم کو حلال ہیں اور وہ (شکار) بھی حلال ہے جو تمہارے لیے ان شکاری جانوروں نے پکڑا ہو جن کو تم نے سدھا رکھا ہو اور جس (طریق) سے خدا نے تمہیں (شکار کرنا) سکھایا ہے (اس طریق سے) تم نے ان کو سکھایا ہو تو جو شکار وہ تمہارے لئے پکڑ رکھیں اس کو کھا لیا کرو اور (شکاری جانوروں کو چھوڑتے وقت) خدا کا نام لے لیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بےشک خدا جلد حساب لینے والا ہے

[٢٢] ہر چیز کی اصل اباحت ہے :۔ اس آیت میں کھانے پینے کی اشیاء کی حلت و حرمت کے متعلق ایک عظیم الشان اصول دیا گیا ہے جسے فقہی زبان میں یوں ادا کیا جاتا ہے کہ ہر چیز کی اصل اباحت ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ کھانے پینے کی تمام اشیاء دو شرطوں کے ساتھ تمہارے لیے حلال ہیں ایک یہ کہ وہ چیز پاکیزہ اور صاف ستھری ہو گندی باسی۔ سڑی ہوئی اور بدبودار نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ اس کے متعلق شریعت میں یہ صراحت نہ ہو کہ وہ حرام ہے اس طرح حرام اشیاء کا دائرہ بہت محدود ہوجاتا ہے اور حلال اشیاء کا دائرہ بہت وسیع ہوجاتا ہے۔ جبکہ اس آیت کے نزول سے پہلے عموماً یہی سمجھا جاتا تھا کہ حلال صرف وہ چیز ہوسکتی ہے جس کے متعلق شریعت میں واضح ثبوت موجود ہو۔ جیسا کہ اس آیت میں مسلمانوں کے یہی سوال کرنے سے بھی ظاہر ہوتا ہے اس آیت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے سابقہ نظریہ کو بدل کر اور حلال اشیاء کا دائرہ وسیع کر کے مسلمانوں پر احسان عظیم فرمایا ہے۔- [٢٣] شکار کے متعلق احکام :۔ شکاری جانوروں میں پرندے بھی شامل ہیں جیسے باز اور شکرا وغیرہ۔ یعنی کتا، چیتا، باز، شکرا جسے بھی یہ بات سکھائی گئی ہو کہ وہ شکار کو اپنے مالک کے لیے روک رکھے گا۔ خود اس میں سے کچھ نہ کھائے گا۔ اس آیت کی تشریح کے لیے درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے۔- ١۔ آپ نے فرمایا جب تم اپنے سدھائے ہوئے کتوں کو چھوڑو اور ان پر اللہ کا نام لو تو ان کا کیا ہوا شکار کھالو۔ (مسلم۔ کتاب الصید والذبائح۔ باب الصید۔ باب الصید بالکلاب المعلمۃ والرمی )- ٢۔ آپ نے فرمایا جب تم اپنا تیر چھوڑو تو بسم اللہ کہہ لو۔ (مسلم۔ ایضاً )- ٣۔ آپ نے فرمایا جب تم تیر چھوڑو اور شکار غائب ہوجائے تو جب ملے اسے کھا سکتے ہو بشرطیکہ سڑ نہ جائے۔ (مسلم۔ کتاب الصید والذبائح، باب اذاغاب عنہ الصید ثم وجدہ)- ٤۔ آپ نے فرمایا اگر تم شکار پر تیر چھوڑو۔ پھر اس شکار کو ایک یا دو دن کے بعد پاؤ۔ پھر دیکھو کہ اس پر تمہارے تیر کے علاوہ کوئی اور نشان نہیں تو اسے کھا سکتے ہو۔ اور اگر وہ شکار پانی میں گرپڑا ہو تو اسے مت کھاؤ۔ (بخاری۔ کتاب الذبائح والصید۔ باب الصید اذا غاب عنہ یومین اوثلاثہ)- ٥۔ سیدنا عبداللہ بن مغفل کہتے ہیں کہ آپ نے کنکری (پھینک کر شکار کرنے) سے منع فرمایا اور فرمایا کہ اس کے ذریعہ شکار نہ کیا جائے۔ (بخاری۔ کتاب الذبائح والصید۔ باب الخذف والبندقۃ۔ مسلم۔ کتاب الصید والذبائح۔ باب اباحۃ مایستعان بہ علی الاصطیاد)- ٦۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں احسان کرنا فرض کردیا ہے لہذا جب تم کسی جاندار کو مارو یا ذبح کرو تو احسن طریقہ سے مارو (یعنی اپنی چھری وغیرہ کو خوب تیز کرلو۔ تاکہ اس مذبوحہ جانور کو کم سے کم تکلیف ہو) (مسلم۔ کتاب الصید والذبائح۔ باب الامر باحسان الذبح والقتل )

5

ٱلْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ ٱلطَّيِّبَٰتُ ۖ وَطَعَامُ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ حِلٌّۭ لَّكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّۭ لَّهُمْ ۖ وَٱلْمُحْصَنَٰتُ مِنَ ٱلْمُؤْمِنَٰتِ وَٱلْمُحْصَنَٰتُ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ مِن قَبْلِكُمْ إِذَآ ءَاتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَٰفِحِينَ وَلَا مُتَّخِذِىٓ أَخْدَانٍۢ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِٱلْإِيمَٰنِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُۥ وَهُوَ فِى ٱلْءَاخِرَةِ مِنَ ٱلْخَٰسِرِينَ

آج تمہارے لیے سب پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں اور اہل کتاب کا کھانا بھی تم کو حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کو حلال ہے اور پاک دامن مومن عورتیں اور پاک دامن اہل کتاب عورتیں بھی (حلال ہیں) جبکہ ان کا مہر دے دو۔ اور ان سے عفت قائم رکھنی مقصود ہو نہ کھلی بدکاری کرنی اور نہ چھپی دوستی کرنی اور جو شخص ایمان سے منکر ہوا اس کے عمل ضائع ہو گئے اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا

[٢٤] اہل کتاب کا کھانا کن شرائط کے تحت حلال ہے ؟:۔ اہل کتاب کا کھانا انہی شرائط کے تحت حلال ہے جو اوپر مذکور ہو چکیں۔ یعنی ذبیحہ پر اللہ کا نام لیا گیا ہو، چیز پاکیزہ ہو اور ان کے دسترخوان پر کوئی حرام چیز مثلاً شراب یا سور کا گوشت وغیرہ نہ ہو۔ اور اگر ان کے دسترخوان پر ایسی اشیاء رہتی ہوں تو ان کے ساتھ کھانا تو درکنار ان کے برتن استعمال کرنا بھی جائز نہیں تاآنکہ انہیں خوب دھو کر پاک صاف کرلیا جائے اور یہ استعمال مجبوراً ہو۔ رہے غیر اہل کتاب تو نہ ان کا ذبیحہ کھانا جائز ہے اور نہ ان کے ساتھ کھانا کھانا جائز ہے۔ نیز جو جانور ذبح نہ کیے جائیں بلکہ آرے سے ان کا گلا کاٹ کر الگ کردیا جائے یا کسی اور طریقہ سے انہیں مارا جائے۔ یا ذبح کے وقت اللہ کا نام نہ لیا جائے تو ایسے جانور کا گوشت کھانا جائز نہیں ہے۔ علاوہ ازیں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ دور نبوی میں یہودیوں اور عیسائیوں کا کم از کم اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان ضرور تھا مگر آج کل اہل مغرب جن میں سے اکثر اپنے آپ کو عیسائی کہلاتے ہیں۔ یہ لوگ نیچری اور دہریہ قسم کے ہوتے ہیں یا دین سے بیزار ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا کھانا کیسے مسلمانوں کے لیے جائز سمجھا جاسکتا ہے کیونکہ ان میں اور غیر اہل کتاب میں موجودہ دور میں کوئی فرق نہیں ہے۔- [٢٥] کتابیہ عورت کا نکاح :۔ کتابیہ عورتوں سے نکاح کی شرائط وہی ہیں جو مسلمان عورتوں کے لیے ہیں۔ یعنی نکاح کا مقصد محض شہوت رانی نہ ہو بلکہ مستقل بنیادوں پر ہو اور اس نکاح کا باقاعدہ اعلان ہو اور ان کے حق مہر انہیں ادا کردیئے جائیں۔ مگر کتابیہ عورت سے نکاح صرف اس صورت میں جائز ہوگا جب کسی فتنہ کا خطرہ نہ ہو۔ مثلاً ایک شخص اگر کسی خوبصورت کتابیہ عورت سے نکاح کے بعد اس کے دین کی طرف مائل ہوجائے تو ایسی صورت میں نکاح ہرگز جائز نہ ہوگا جیسا کہ اس آیت کے آخر میں الفاظ (وَمَنْ يَّكْفُرْ بالْاِيْمَانِ ۝ۧ) 5 ۔ المآئدہ :5) سے ظاہر ہوتا ہے اس خطرہ کے پیش نظر حتی الامکان کتابیہ عورتوں سے نکاح سے بچنا ہی بہتر ہے۔ اور اگر ایسی اضطراری حالت ہو کہ نکاح نہ کرنے سے فتنہ میں پڑنے کا اندیشہ ہو تو پھر نکاح کرلینے میں کوئی حرج نہیں۔

6

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا قُمْتُمْ إِلَى ٱلصَّلَوٰةِ فَٱغْسِلُوا۟ وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى ٱلْمَرَافِقِ وَٱمْسَحُوا۟ بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى ٱلْكَعْبَيْنِ ۚ وَإِن كُنتُمْ جُنُبًۭا فَٱطَّهَّرُوا۟ ۚ وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰٓ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَآءَ أَحَدٌۭ مِّنكُم مِّنَ ٱلْغَآئِطِ أَوْ لَٰمَسْتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوا۟ مَآءًۭ فَتَيَمَّمُوا۟ صَعِيدًۭا طَيِّبًۭا فَٱمْسَحُوا۟ بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْهُ ۚ مَا يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَجٍۢ وَلَٰكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُۥ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

مومنو! جب تم نماز پڑھنے کا قصد کیا کرو تم منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھو لیا کرو اور سر کا مسح کر لیا کرو اور ٹخنوں تک پاؤں (دھو لیا کرو) اور اگر نہانے کی حاجت ہو تو (نہا کر) پاک ہو جایا کرو اور اگر بیمار ہو یا سفر میں ہو یا کوئی تم میں سے بیت الخلا سے ہو کر آیا ہو یا تم عورتوں سے ہم بستر ہوئے ہو اور تمہیں پانی نہ مل سکے تو پاک مٹی لو اور اس سے منہ اور ہاتھوں کا مسح (یعنی تیمم) کر لو۔ خدا تم پر کسی طرح کی تنگی نہیں کرنا چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کرے تاکہ تم شکر کرو

[٢٦] حلت وحرمت کے احکام سے مقصود نفس کی طہارت تھا۔ اب جسم کی طہارت کے احکام بیان ہو رہے ہیں۔ اس آیت میں وضو، تیمم اور غسل جنابت کا ذکر آیا ہے۔ تیمم اور غسل جنابت کے متعلق احادیث تو پہلے سورة نساء کی آیت نمبر ٣۔ ٤ کے تحت درج کی جا چکی ہیں وہاں سے دیکھ لی جائیں اور وضو اور طہارت کے متعلق احادیث یہاں درج کی جا رہی ہیں :- ١۔ ایک دفعہ سیدنا عثمان (رض) نے پانی کا برتن منگوایا۔ پھر پہلے اپنی ہتھیلیوں پر تین بار پانی ڈال کر انہیں دھویا پھر داہنا ہاتھ برتن میں ڈالا، پھر کلی کی، پھر ناک جھاڑی، پھر تین بار اپنا منہ دھویا، پھر دونوں ہاتھ کہنیوں تک تین بار دھوئے، پھر ایک ہی بار سر کا مسح کیا، پھر دونوں پاؤں ٹخنوں تک تین بار دھوئے پھر کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو کوئی میرے اس وضو کی طرح وضو کرے پھر (تحیۃ الوضوء کی) دو رکعتیں اس طرح ادا کرے کہ اس کے دل میں کوئی دنیوی خیال نہ ہو اس کے پہلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔ (بخاری۔ کتاب الوضوئ۔ باب الوضوء ثلثا ثلثا )- ٢۔ سیدنا انس فرماتے ہیں کہ آپ جب بیت الخلاء میں جاتے تو کہتے اللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ اے اللہ میں بھوتوں اور بھتنیوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ (بخاری۔ کتاب الوضوئ۔ باب مایقول عندالخلائ)- ٣۔ ابو ایوب انصاری کہتے ہیں کہ آن سیدنا نے فرمایا تم میں سے جب کوئی قضائے حاجت یعنی پاخانہ کرنے کے لیے آئے تو قبلہ کی طرف نہ منہ کرے نہ پیٹھ بلکہ مشرق کی طرف یا مغرب کی طرف منہ کرو۔ (بخاری۔ کتاب الوضوء باب۔ استقبال القبلۃ لغائط او بول )- ٤۔ سیدنا ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ آپ مدینہ کے کسی باغ پر سے گزرے وہاں دو آدمیوں کی آواز سنی جنہیں ان کی قبروں میں عذاب ہو رہا تھا۔ آپ نے فرمایا انہیں کسی بڑے گناہ میں عذاب نہیں ہو رہا۔ پھر فرمایا ان میں سے ایک تو اپنے پیشاب سے احتیاط نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغلی کھاتا پھرتا تھا۔ پھر آپ نے ایک ہری ٹہنی منگوائی۔ اس کے دو ٹکڑے کر کے ہر قبر پر ایک حصہ گاڑ دیا۔ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ فرمایا جب تک یہ سوکھیں نہیں شاید ان کے عذاب میں کچھ کمی ہو۔ (بخاری۔ کتاب الوضوئ۔ باب من الکبائر ان لایستترمن بولہ)- ٥۔ سیدنا ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا تم میں سے کوئی کھڑے پانی میں جو جاری نہ ہو پیشاب نہ کرے پھر اس میں نہائے۔ (بخاری۔ کتاب الوضو۔ باب البول فی الماء الدائم)- ٦۔ سیدنا ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے آپ کو یہ کہتے سنا ہے کہ جس شخص کو حدث ہو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی جب تک وضو نہ کرلے۔ حضرموت کے ایک آدمی نے مجھ سے پوچھا ابوہریرہ حدث کیا ہوتا ہے ؟ میں نے کہا پھسکی یا پاد (بخاری۔ کتاب الوضوئ۔ باب لاتقبل الصلٰوۃ بغیر طہور)- ٧۔ سیدنا انس فرماتے ہیں کہ آپ ایک صاع پانی سے پانچ مد تک پانی سے غسل کرلیا کرتے اور ایک مد پانی سے وضو کرلیا کرتے۔ (بخاری۔ کتاب الوضوئ۔ باب الوضوء بالمد)- ٨۔ سیدنا علی فرماتے ہیں کہ میری مذی بہت نکلتی تھی میں نے آپ سے یہ مسئلہ پوچھنے میں شرم محسوس کی اور مقداد بن اسود سے کہا، تم پوچھ دو ۔ مقداد نے آپ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا اس میں وضو ہے۔ بخاری کتاب الوضوئ۔ باب من لم یرالوضوء الا من المخرجین القبل والدبر۔ نیز کتاب العلم۔ باب من استحیا۔۔ )- ٩۔ سیدنا عمر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے وضو کیا اور اپنے قدم پر ناخن بھر جگہ (خشک) چھوڑ دی۔ آپ نے دیکھا تو اسے فرمایا واپس جاؤ اور اچھی طرح وضو کرو۔ چناچہ وہ شخص واپس ہوا۔ پھر (وضو کر کے) نماز پڑھی (مسلم۔ کتاب الطہارۃ۔ باب وجوب استیعاب جمیع اجزاء محل الطہارۃ)- ١٠۔ سیدنا عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں نبی اکرم سے پیچھے رہ گئے۔ آپ نے ہمیں اس حال میں …

7

وَٱذْكُرُوا۟ نِعْمَةَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمِيثَٰقَهُ ٱلَّذِى وَاثَقَكُم بِهِۦٓ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ

اور خدا نے جو تم پر احسان کئے ہیں ان کو یاد کرو اور اس عہد کو بھی جس کا تم سے قول لیا تھا (یعنی) جب تم نے کہا تھا کہ ہم نے (خدا کا حکم) سن لیا اور قبول کیا۔ اور الله سے ڈرو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا دلوں کی باتوں (تک) سے واقف ہے

[٢٩] یعنی تم ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ قبائلی عصبیتوں نے تمہیں عداوتوں اور لڑائیوں میں پھنسا کر تمہاری زندگی تم پر حرام کردی تھی اور تم ان حالات سے نجات کی راہ سوچتے تھے مگر ایسی کوئی راہ تمہیں نظر نہیں آتی تھی۔ پھر اللہ نے تم پر پے در پے کئی احسانات کیے۔ تمہیں اسلام کی توفیق بخشی پھر اسی اسلام کی وجہ سے تمہاری دیرینہ اور مسلسل عداوتوں کا خاتمہ کر کے تمہیں ایک دوسرے کا مونس و غمخوار اور بھائی بھائی بنادیا۔- [٣٠] بیعت عقبہ کا عہد :۔ یعنی وہ پختہ عہد جو تم نے عقبہ کی رات کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا تھا کہ ہم ہر حال میں آپ کی فرمانبرداری کریں گے واضح رہے کہ آپ نے بیعت عقبہ کے بعد بھی جس شخص سے بیعت لی اسی عہد پر بیعت لی۔ اور خلفائے راشدین بھی اسی عہد پر مسلمانوں سے بیعت لیتے رہے۔ امیر کی اطاعت سے ہی جماعت کا نظم و نسق اور امت میں اتحاد قائم رہ سکتا ہے اسی لیے حضور نے امیر کی اطاعت کی بہت تاکید فرمائی ہے۔ تفصیل کے لیے سورة نساء کی آیت ٥٩ کا حاشیہ نمبر ٩١ ملاحظہ فرمایا جائے۔ بیعت عقبہ کے عہد اور اس کے پس منظر کو ہم ذرا تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔- ١٠ نبوی میں ابو طالب کی وفات ہوگئی۔ پھر اس کے چند ہی دن بعد آپ کی ہمدرد اور غمگسار بیوی سیدہ خدیجۃ الکبریٰ بھی وفات پا گئیں گھر کی دنیا میں سیدہ خدیجۃ الکبریٰ آپ کا سہارا تھیں اور باہر کی دنیا میں ابو طالب۔ چند دنوں کے وقفہ سے یہ دونوں سہارے چھن گئے۔ گویا آپ پر غم و الم ٹوٹ پڑا۔ اسی وجہ سے اس سال کا نام ہی عام الحزن پڑگیا۔- ابو طالب کی وفات کے بعد مشرکین مکہ کے حوصلے بڑھ گئے۔ اور وہ مسلمانوں پر مزید تشدد کی تجویز سوچنے لگے اور یہ بھی کہ اب پیغمبر اسلام کو ٹھکانے لگانے کا بہترین موقع میسر آگیا ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت تو پہلے ہی حبشہ کی طرف ہجرت کرچکی تھی اور جو باقی تھے ان کی اب زندگی بھی خطرہ میں تھی۔ ان حالات میں آپ نے مناسب سمجھا کہ اب مکہ سے باہر کسی مقام پر تبلیغ کے لیے مرکز بنانا چاہیے۔ اور اس مقصد کے لیے آپ نے مکہ کے جڑواں شہر طائف کا انتخاب کیا جو ایک زرخیز اور شاداب علاقہ تھا۔ اہل مکہ کے رئیسوں کی وہاں جائیدادیں بھی تھیں اور رشتے ناطے کے علاوہ تجارتی تعلقات بھی تھے۔ آپ نے اپنے غلام زید بن حارثہ کو اپنے ہمراہ لیا اور طائف کی طرف روانہ ہوگئے۔ راستہ میں جہاں موقع میسر آتا تبلیغ کرتے جاتے تاآنکہ بیس دن کی پیدل مسافت کے بعد آپ طائف پہنچ گئے۔- طائف میں بنو ثقیف آباد تھے اور تین بھائی مسعود، حبیب اور عبد یا لیل اس شہر کے سردار اور رؤسائے مکہ کے ہمسر تھے۔ آپ نے انہیں اللہ کا پیغام سنایا اور اسلام کی دعوت دی۔ وہ اہل مکہ سے گونا گوں تعلقات کی بنا پر پہلے سے ہی مکہ اور اہل مکہ کے حالات سے واقف تھے چناچہ انہوں نے بھی قریش مکہ ہی کی روش اختیار کی اور نہ صرف یہ کہ آپ کی دعوت کو ٹھکرا دیا بلکہ بڑی بدتمیزی سے پیش آئے اور گستاخانہ جواب دیئے۔ ایک بھائی نے کہا : اگر واقعی تمہیں اللہ نے بھیجا ہے تو بس پھر وہ کعبہ کا غلاف نچوانا چاہتا ہے۔ دوسرے نے کہا : کیا اللہ میاں کو رسالت کے لیے تیرے سوا کوئی مناسب آدمی نہ مل سکا۔ تیسرا بولا : اللہ کی قسم میں تجھ سے بات نہیں کروں گا۔ کیونکہ اگر تم واقعی اللہ کے رسول ہو تو پھر آپ کو جواب دینا خلاف ہے اور اگر تم (نعوذ باللہ) جھوٹے ہو تو پھر اس قابل نہیں کہ تم سے بات کی جائے۔- آپ نے نہایت بردباری سے انہیں جواب دیا کہ اگر تم مجھے رسول ماننے کو تیار نہیں تو کم از کم میری راہ میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔ چناچہ آپ نے دوسرے لوگوں کو دعوت دینا اور وعظ و نصیحت شروع کردی۔ ان بدبختوں نے اپنے غلاموں، خادموں اور شہر کے اوباش لڑکوں کو آپ کے پیچھے بھیج دیا کہ وہ آپ کو طائف سے باہر نکال دیں۔ چناچہ ان اوباشوں کا غول آپ کے پیچھے لگ گیا۔ جہاں آپ وعظ کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ لوگ آپ کو …

8

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ كُونُوا۟ قَوَّٰمِينَ لِلَّهِ شُهَدَآءَ بِٱلْقِسْطِ ۖ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَـَٔانُ قَوْمٍ عَلَىٰٓ أَلَّا تَعْدِلُوا۟ ۚ ٱعْدِلُوا۟ هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرٌۢ بِمَا تَعْمَلُونَ

اے ایمان والوں! خدا کے لیے انصاف کی گواہی دینے کے لیے کھڑے ہو جایا کرو۔ اور لوگوں کی دشمنی تم کو اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ انصاف چھوڑ دو۔ انصاف کیا کرو کہ یہی پرہیزگاری کی بات ہے اور خدا سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے

[٣١] دشمن قوم پر بھی گواہی میں انصاف :۔ پہلے سورة نساء کی آیت نمبر ١٣٥ میں اس سے ملتا جلتا مضمون گزر چکا ہے کہ تم اللہ کی خاطر انصاف پر قائم رہتے ہوئے گواہی دیا کرو خواہ یہ گواہی تمہارے اپنے خلاف جا رہی ہو یا تمہارے والدین اوراقرباء کے خلاف جا رہی ہو۔ یہاں اس آیت میں یہ سمجھایا جا رہا ہے کہ تم سابقہ دشمنیوں اور قبائلی عصبیتوں سے بالکل بےنیاز ہو کر انصاف کی گواہی دیا کرو۔ کسی شخص کی یا کسی قوم کی دشمنی تمہاری گواہی پر یا تمہارے عدل و انصاف پر ہرگز اثر انداز نہ ہونی چاہیے اس کی واضح مثال تو اس انصاری کا واقعہ ہے جس نے کسی مسلمان کی ایک زرہ چرا لی اور ایک یہودی کے پاس امانت رکھ آیا تھا (یہ واقعہ سورة نساء کی آیت نمبر ١٠٧ کے تحت بیان ہوچکا ہے) مالک یہ مقدمہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عدالت میں لے گیا چور (جو حقیقتاً منافق تھا) کی سوچ ہی یہی تھی کہ میں چونکہ مسلمان ہوں اس لیے یہودی کے مقابلہ میں یقینا آپ میری حمایت کریں گے۔ پھر اس چور اور اس کے خاندان والوں نے اسی قبائلی عصبیت کی بنا پر اس کا ساتھ دیا اور قسمیں بھی کھائیں کہ ہم اس چوری کے قصہ میں بالکل بےتعلق ہیں اور قریب تھا کہ آپ یہودی کے خلاف اور اس منافق کے حق میں فیصلہ بھی دیتے کہ اللہ نے بذریعہ وحی آپ کو حقیقی صورت سے مطلع فرما دیا۔ اس آیت میں تمام مسلمانوں کو ایک جامع ہدایت دی گئی ہے کہ جس شخص کے حق میں تمہیں گواہی دینا پڑے، گواہی بالکل ٹھیک ٹھیک دیا کرو خواہ وہ تمہارا دوست ہو یا دشمن قوم سے تعلق رکھتا ہو۔ کیونکہ تم میں عدل و انصاف اور تقویٰ پیدا کرنے والے اسباب میں سے یہ ایک موثر ترین سبب ہے اور تمہیں شہادت دیتے وقت ہر لمحہ یہ ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ جو کچھ تم کہو گے اللہ سن رہا ہے اور جو کچھ کرو گے اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔ اور بعض مفسرین نے (كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ لِلّٰهِ شُهَدَاۗءَ ۝) 5 ۔ المآئدہ :8) کا یہ مطلب لیا ہے کہ اللہ کے دین کو قائم کرنے والے بن جاؤ۔ یعنی تم پر یہ فریضہ عائد کیا گیا ہے کہ تم تمام اقوام عالم کو اپنے قول سے بھی اور فعل سے توحید اور احکام اخلاق کی تعلیم دینے کے ذمہ دار بن جاؤ۔ جیسا کہ صحابہ کرام نے اس پر عمل کر کے دکھایا اسی ذمہ داری کو تمہیں بحال رکھنا چاہیے اور آگے بڑھانا چاہیے اور اس سلسلہ میں تمہیں عدل و انصاف کے تقاضوں کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے۔

9

وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ ۙ لَهُم مَّغْفِرَةٌۭ وَأَجْرٌ عَظِيمٌۭ

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے خدا نے وعدہ فرمایا ہے کہ ان کے لیے بخشش اور اجر عظیم ہے

[٣١۔ الف ] اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دو طرح کے اعمال کا ذکر فرمایا۔ ایک ایمان کا، دوسرے اعمال صالحہ کا اور دو طرح کا ہی وعدہ فرمایا ایک مغفرت کا اور دوسرے اجر عظیم کا۔ جس سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور اس کے ساتھ کبھی کسی کو شریک نہیں کیا۔ ان کی بھی مغفرت ہوجائے گی رہا اجر عظیم تو وہ صرف ان لوگوں کو ملے گا جو ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ بھی بجا لاتے رہے ہوں گے۔

10

وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَآ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلْجَحِيمِ

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ جہنمی ہیں

Explained together with ayah 9

Al-Maaida 5:10Listen in Qur'an →

Commentary: Taiseer ul Quran by Abdul Rehman Kilani. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.