Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Tafheem ul Quran by Abul A'la Maududi

Ayahs 1–10 of 120

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

1

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَوْفُوا۟ بِٱلْعُقُودِ ۚ أُحِلَّتْ لَكُم بَهِيمَةُ ٱلْأَنْعَٰمِ إِلَّا مَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ غَيْرَ مُحِلِّى ٱلصَّيْدِ وَأَنتُمْ حُرُمٌ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيدُ

اے ایمان والو! اپنے اقراروں کو پورا کرو۔ تمہارے لیے چارپائے جانور (جو چرنے والے ہیں) حلال کر دیئے گئے ہیں۔ بجز ان کے جو تمہیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں مگر احرام (حج) میں شکار کو حلال نہ جاننا۔ خدا جیسا چاہتا ہے حکم دیتا ہے

سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :1

یعنی ان حدود اور قیود کی پابندی کرو جو اس سورۃ میں تم پر عائد کی جا رہی ہیں ، اور جو بالعموم خدا کی شریعت میں تم پر عائد کی گئی ہیں ۔ اس مختصر سے تمہیدی جملہ کے بعد ہی اس بندشوں کا بیان شروع ہو جاتا ہے جن کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے ۔

سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :2

”اَنعام“ ( مویشی ) کا لفظ عربی زبان میں اونٹ ، گائے ، بھیڑ اور بکری پر بولا جاتا ہے ۔ اور ”بہیمہ“ کا اطلاق ہر چرنے والے چوپائے پر ہوتا ہے ۔ اگر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہوتا کہ انعام تمہارے لیے حلال کیے گئے ، تو اس سے صرف وہی چار جانور حلال ہوتے جنہیں عربی میں”انعام “ کہتے ہیں ۔ لیکن حکم ان الفاظ میں دیا گیا ہے کہ”مویشی کی قسم کے چرندہ چوپائے تم پر حلال کیے گئے “ ۔ اس سے حکم وسیع ہو جاتا ہے اور وہ سب چرندہ جانور اس کےدائرے میں آجاتے ہیں جو مویشی کی نوعیت کے ہوں ۔ یعنی جو کچلیاں نہ رکھتے ہوں ، حیوانی غذا کے بجائے نباتی غذا کھاتے ہوں ، اور دوسری حیوانی خصوصیات میں اَنعامِ عرب سے مماثلت رکھتے ہوں ۔ نیز اس سے اشارۃً یہ بات بھی مترشح ہوتی ہے کہ وہ چوپائے جو مویشیوں کے بر عکس کچلیاں رکھتے ہوں اور دوسرے جانوروں کو مار کر کھاتے ہوں ، حلال نہیں ہیں ۔ اسی اشارے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کر کے حدیث میں صاف حکم دے دیا کہ درندے حرام ہیں ۔ اسی طرح حضور نے ان پرندوں کو بھی حرام قرار دیا ہے جن کے پنجے ہوتے ہیں اور جو دوسرے جانوروں کا شکار کرکے کھاتے ہیں یا مردار خور ہوتے ہیں ۔ ابن عباس کی روایت ہے کہ نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن کل ذی ناب من السباع و کل ذی مخلب من الطیر ۔ دوسرے متعدد صحابہ سے بھی اس کی تائید میں روایات منقول ہیں ۔

سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :3

”احرام“ اس فقیرانہ لباس کو کہتے ہیں جو زیارت کعبہ کے لیے پہنا جاتا ہے ۔ کعبہ کے گرد کئی کئی منزل کے فاصلہ پر ایک حد مقرر کر دی گئی ہے جس سے آگے بڑھنے کی کسی زائر کو اجازت نہیں جب تک کہ وہ اپنا معمولی لباس اتار کر احرام کا لباس نہ پہن لے ۔ اس لباس میں صرف ایک تہمت ہوتا ہے اور ایک چادر جو اوپر سے اوڑھی جاتی ہے ۔ اسے احرام اس لیے کہتے ہیں کہ اسے باندھنے کے بعد آدمی پر بہت سی وہ چیزیں حرام ہو جاتی ہیں جو معمولی حالات میں حلال ہیں ، مثلاً حجامت ، خوشبو کا استعمال ، ہر قسم کی زینت و آرائش اور قضا شہوت وغیرہ ۔ انہی پابندیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کسی جاندار کو ہلاک نہ کیا جائے ، نہ شکار کیا جائے اور نہ کسی کو شکار کا پتہ دیا جائے ۔

سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :4

یعنی اللہ حاکم مطلق ہے ، اسے پورا اختیار ہے کہ جو چاہے حکم دے ۔ بندوں کو اس کے احکام میں چون و چرا کرنے کا کوئی حق نہیں ۔ اگر چہ اس کے تمام احکام حکمت و مصلحت پر مبنی ہیں ، لیکن بندہ مسلم اس کے حکم کی اطاعت اس حیثیت سے نہیں کرتا کہ وہ اسے مناسب پاتا ہے یا مبنی بر مصلحت سمجھتا ہے ، بلکہ صرف اس بنا پر کرتا ہے کہ یہ مالک کا حکم ہے ۔ جو چیز اس نے حرام کر دی ہے وہ صرف اس لیے حرام ہے کہ اس نے حرام کی ہے ، اور اسی طرح جو اس نے حلال کر دی ہے وہ بھی کسی دوسری بنیاد پر نہیں بلکہ صر ف اس بنیاد پر حلال ہے کہ جو خدا ان ساری چیزوں کا مالک ہے ، وہ اپنے غلاموں کو اس چیز کے استعمال کی اجازت دیتا ہے ۔ لہٰذا قرآن پورے زور کے ساتھ یہ اصول قائم کرتا ہے کہ اشیاء کی حرمت و حلت کے لیے مالک کی اجازت و عدم اجازت کے سوا کسی اور بنیاد کی قطعاً ضرورت نہیں ، اور اسی طرح بندے کے لیے کسی کام کے جائز ہونے یا نہ ہونے کا مدار بھی اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ خدا جس کو جائز رکھے وہ جائز ہے اور جسے ناجائز قرار دے وہ ناجائز ۔

2

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تُحِلُّوا۟ شَعَٰٓئِرَ ٱللَّهِ وَلَا ٱلشَّهْرَ ٱلْحَرَامَ وَلَا ٱلْهَدْىَ وَلَا ٱلْقَلَٰٓئِدَ وَلَآ ءَآمِّينَ ٱلْبَيْتَ ٱلْحَرَامَ يَبْتَغُونَ فَضْلًۭا مِّن رَّبِّهِمْ وَرِضْوَٰنًۭا ۚ وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَٱصْطَادُوا۟ ۚ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَـَٔانُ قَوْمٍ أَن صَدُّوكُمْ عَنِ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ أَن تَعْتَدُوا۟ ۘ وَتَعَاوَنُوا۟ عَلَى ٱلْبِرِّ وَٱلتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا۟ عَلَى ٱلْإِثْمِ وَٱلْعُدْوَٰنِ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ

مومنو! خدا کے نام کی چیزوں کی بےحرمتی نہ کرنا اور نہ ادب کے مہینے کی اور نہ قربانی کے جانوروں کی اور نہ ان جانوروں کی (جو خدا کی نذر کر دیئے گئے ہوں اور) جن کے گلوں میں پٹے بندھے ہوں اور نہ ان لوگوں کی جو عزت کے گھر (یعنی بیت الله) کو جا رہے ہوں (اور) اپنے پروردگار کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلبگار ہوں اور جب احرام اتار دو تو (پھر اختیار ہے کہ) شکار کرو اور لوگوں کی دشمنی اس وجہ سے کہ انہوں نے تم کو عزت والی مسجد سے روکا تھا تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم ان پر زیادتی کرنے لگو اور (دیکھو) نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں مدد نہ کیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کا عذاب سخت ہے

سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :5

ہر وہ چیز جو کسی مسلک یا عقیدے یا طرز فکر و عمل یا کسی نظام کی نمائندگی کرتی ہو وہ اس کا ”شعار“ کہلائے گی ، کیونکہ وہ اس کے لیے علامت یا نشانی کا کام دیتی ہے ۔ سرکاری جھنڈے ، فوج اور پولیس وغیرہ کے یونیفارم ، سکے ، نوٹ اور اسٹامپ حکومتوں کے شعائر ہیں اور وہ اپنے محکوموں سے ، بلکہ جن جن پر ان کا زور چلے ، سب سے ان کے احترام کا مطالبہ کرتی ہیں ۔ گرجا اور قربان گاہ اور صلیب مسیحیت کے شعائر ہیں ۔ چوٹی اور زنار اور مندر برہمنیت کے شعائر ہیں ۔ کیس اور کڑا اور کرپان وغیرہ سکھ مذہب کے شعائر ہیں ۔ ہتھوڑا اور درانتی اشتراکیت کا شعار ہیں ۔ سواستیکا آریہ نسل پرستی کا شعار ہے ۔ یہ سب مسلک اپنے اپنے پیرووں سے اپنے ان شعائر کے احترام کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ اگر کوئی شخص کسی نظام کے شعائر میں سے کسی شعار کی توہین کرتا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ دراصل اس نظام کے خلاف دشمنی رکھتا ہے ، اور اگر وہ توہین کرنے والا خود اسی نظام سے تعلق رکھتا ہو تو اس کا یہ فعل اپنے نظام سے ارتداد اور بغاوت کا ہم معنی ہے ۔

”شعائراللہ“ سے مراد وہ تمام علامات یا نشانیاں ہیں جو شرک و کفر اور دہریت کے بالمقابل خالص خدا پرستی کے مسلک کی نمائندگی کرتی ہوں ۔ ایسی علامات جہاں جس مسلک اور جس نظام میں بھی پائی جائیں مسلمان ان کے احترام پر مامور ہیں ، بشرطیکہ ان کا نفسیاتی پس منظر خالص خدا پرستانہ ہو ، کسی مشرکانہ یا کافرانہ تخیل کی آلودگی سے انہیں ناپاک نہ کر دیا گیا ہو ۔ کوئی شخص خواہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو ، اگر اپنے عقیدہ و عمل میں خدائے واحد کی بندگی و عبادت کا کوئی جزء رکھتا ہے ، تو اس جزء کی حد تک مسلمان اس سے موافقت کریں گے اور ان شعائر کا بھی پورا احترام کریں گے جو اس کے مذہب میں خالص خدا پرستی کی علامت ہوں ۔ اس چیز میں ہمارے اور اس کے درمیان نزاع نہیں بلکہ موافقت ہے ۔ نزاع اگر ہے تو اس امر میں نہیں کہ وہ خدا کی بندگی کیوں کرتا ہے ، بلکہ اس امر میں ہے کہ وہ خدا کی بندگی کے ساتھ دوسری بندگیوں کی آمیزش کیوں کرتا ہے ۔

یاد رکھنا چاہیے کہ شعائر اللہ کے احترام کا یہ حکم اس زمانہ میں دیا گیا تھا جبکہ مسلمانوں اور مشرکین عرب کے درمیان جنگ برپا تھی ، مکہ پر مشرکین قابض تھے ، عرب کے ہر حصے سے مشرک قبائل کے لوگ حج و زیارت کے لیے کعبہ کی طرف جاتے تھے اور بہت سے قبیلوں کے راستے مسلمانوں کی زد میں تھے ۔ اس وقت حکم دیا گیا کہ یہ لوگ مشرک ہی سہی ، تمہارے اور ان کے درمیان جنگ ہی سہی ، مگر جب یہ خدا کے گھر کی طرف جاتے ہیں تو انہیں نہ چھیڑو ، حج کے مہینوں میں ان پر حملہ نہ کرو ، خدا کے دربار میں نذر کرنے کے لیے جانور یہ لیے جارہے ہوں ان پر ہاتھ نہ ڈالو ، کیونکہ ان کے بگڑے ہوئے مذہب میں خدا پرستی کا جتنا حصہ باقی ہے وہ بجائے خود احترام کا مستحق ہے نہ کہ بے احترامی کا ۔

سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :6

”شعائر اللہ “ کے احترام کا عام حکم دینے کے بعد چند شعائر کا نام لے کر ان کے احترام کا خاص طور پر حکم دیا گیا کیونکہ اس وقت جنگی حالات کی وجہ سے یہ اندیشہ پیدا ہوگیا تھا کہ جنگ کے جوش میں کہیں مسلمانوں کے ہاتھوں ان کی توہین نہ ہو جائے ۔ ان چند شعائر کو نام بنام بیان کرنے سے یہ مقصود نہیں ہے کہ صرف یہی احترام کے مستحق ہیں ۔

سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :7

احرام بھی من جملہ شعائر اللہ ہے ، اور اس کی پابندیوں میں سے کسی پابندی کو توڑنا اس کی بے حرمتی کرنا ہے ۔ اس لیے شعائر اللہ ہی کے سلسلہ میں اس کا ذکر بھی کر دیا گیا کہ جب تک تم احرام بند ہو ، شکار کرنا خداپرستی کے شعائر میں سے ایک شعار کی توہین کرنا ہے ۔ البتہ جب شرعی قاعدہ کے مطابق احرام کی حد ختم ہو جائے تو …

3

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ ٱلْمَيْتَةُ وَٱلدَّمُ وَلَحْمُ ٱلْخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ لِغَيْرِ ٱللَّهِ بِهِۦ وَٱلْمُنْخَنِقَةُ وَٱلْمَوْقُوذَةُ وَٱلْمُتَرَدِّيَةُ وَٱلنَّطِيحَةُ وَمَآ أَكَلَ ٱلسَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَى ٱلنُّصُبِ وَأَن تَسْتَقْسِمُوا۟ بِٱلْأَزْلَٰمِ ۚ ذَٰلِكُمْ فِسْقٌ ۗ ٱلْيَوْمَ يَئِسَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَٱخْشَوْنِ ۚ ٱلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِى وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلْإِسْلَٰمَ دِينًۭا ۚ فَمَنِ ٱضْطُرَّ فِى مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍۢ لِّإِثْمٍۢ ۙ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ

تم پر مرا ہوا جانور اور (بہتا) لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے اور جو جانور گلا گھٹ کر مر جائے اور جو چوٹ لگ کر مر جائے اور جو گر کر مر جائے اور جو سینگ لگ کر مر جائے یہ سب حرام ہیں اور وہ جانور بھی جس کو درندے پھاڑ کھائیں۔ مگر جس کو تم (مرنے سے پہلے) ذبح کرلو اور وہ جانور بھی جو تھان پر ذبح کیا جائے اور یہ بھی کہ پاسوں سے قسمت معلوم کرو یہ سب گناہ (کے کام) ہیں آج کافر تمہارے دین سے ناامید ہو گئے ہیں تو ان سے مت ڈرو اور مجھی سے ڈرتے رہو (اور) آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا ہاں جو شخص بھوک میں ناچار ہو جائے (بشرطیکہ) گناہ کی طرف مائل نہ ہو تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :9

یعنی وہ جانور جو طبعی موت مر گیا ہو ۔

سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :10

یعنی جس کو ذبح کرتے وقت خدا کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو ، یا جس کو ذبح کرنے سے پہلے یہ نیت کی گئی ہو کہ یہ فلاں بزرگ یا فلاں دیوی یا دیوتا کی نذر ہے ۔ ( ملاحظہ ہو سورہ بقرہ ، حاشیہ نمبر ۱۷۱ ) ۔

سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :11

یعنی جو جانور مذکورہ بالا حوادث میں سے کسی حادثے کا شکار ہوجانے کے باوجود مرا نہ ہو بلکہ کچھ آثار زندگی اس میں پائےجاتے ہوں ، اس کو اگر ذبح کر لیا جائے تو اسے کھایا جا سکتا ہے ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حلال جانور کا گوشت صرف ذبح کرنے سے حلال ہوتا ہے ، کوئی دوسرا طریقہ اس کو ہلاک کر نے کا صحیح نہیں ہے ۔ یہ ”ذبح“ اور ”ذکاۃ“ اسلام کے اصطلاحی لفظ ہیں ۔ ان سے مراد حلق کا اتنا حصہ کاٹ دینا ہے جس سے جسم کا خون اچھی طرح خارج ہو جائے ۔ جھٹکا کرنے یا گلا گھونٹنے یا کسی اور تدبیر سے جانور کو ہلاک کرنے کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ خون کا بیشتر حصہ جسم کے اندر ہی رک کر رہ جاتا ہے اور وہ جگہ جگہ جم کر گوشت کے ساتھ چمٹ جاتا ہے ۔ ۔ بر عکس اس کے ذبح کرنے کی صورت میں دماغ کے ساتھ جسم کا تعلق دیر تک باقی رہتا ہے جس کی وجہ سے رگ رگ کا خون کھنچ کر باہر آجاتا ہے اور اس طرح پورے جسم کا گوشت خون سے صاف ہوجاتا ہے ۔ خون کے متعلق ابھی اوپر ہی یہ بات گزر چکی ہے کہ وہ حرام ہے ، لہٰذا گوشت کے پاک اور حلال ہونے کے لیے ضروری ہے کہ خون اس سے جدا ہو جائے ۔

سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :12

اصل میں لفظ” نُصُب“ استعمال ہوا ہے ۔ اس سے مراد وہ سب مقامات ہیں جن کو غیر اللہ کی نذر و نیاز چڑھانے کے لیے لوگوں نے مخصوص کر رکھا ہو ، خواہ وہاں کوئی پتھر یا لکڑی کی مورت ہو یا نہ ہو ۔ ہماری زبان میں اس کا ہم معنی لفظ آستانہ یا استھان ہے جو کسی بزرگ یا دیوتا سے ، یا کسی خاص مشرکانہ اعتقاد سے وابستہ ہو ۔

سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :13

اس مقام پر یہ بات خوب سمجھ لینی چاہیے کہ کھانے پینے کی چیزوں میں حرام و حلال کی جو قیود شریعت کی طرف سے عائد کی جاتی ہیں ان کی اصل بنیاد ان اشیاء کے طبی فوائد یا نقصانات نہیں ہوتے ، بلکہ ان کے اخلاقی فوائد و نقصانات ہوتے ہیں ۔ جہاں تک طبیعی امور کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو انسان کی اپنی سعی و جستجو اور کاوش و تحقیق پر چھوڑ دیا ہے ۔ یہ دریافت کرنا انسان کا اپنا کام ہے کہ مادی اشیاء میں سے کیا چیزیں اس کے جسم کو غزائے صالح بہم پہنچانے والی ہیں اور کیا چیزیں تغذیہ کے لیے غیر مفید ہیں یا نقصان دہ ہیں ۔ شریعت ان امور میں اس کی رہنمائی کی ذمہ داری اپنے سر نہیں لیتی ۔ اگر یہ کام اس نے اپنے ذمہ لیا ہوتا تو سب سے پہلے سنکھیا کو حرام کیا ہوتا ۔ لیکن آپ دیکھتے ہی ہیں کہ قرآن و حدیث میں اس کا ، یا ان دوسرے مفردات و مرکبات کا ، جو انسان کے لیے سخت مہلک ہیں ، سرے سے کوئی ذکر ہی نہیں ہے ۔ شریعت غذا کے معاملہ میں جس چیز پر روشنی ڈالتی ہے وہ دراصل اس کا یہ پہلو ہے کہ کس غذا کا انسان کے اخلاق پر کیا اثر ہوتا ہے ، اور کونسی غذائیں طہارت نفس کے لحاظ سے کیسی ہیں ، اور غذا حاصل کرنے کے طریقوں میں سے کون سے طریقے اعتقادی و نظری حیثیت سے صحیح یا غلط ہیں ۔ چونکہ اس کی تحقیق کرنا انسان کے بس میں نہیں ہے ، اور اسے دریافت کرنے کے ذرائع انسان کو میسر ہی نہیں ہیں ، اور اسی بنا پر انسان نے اکثر ان امور میں غلطیاں کی ہیں ، اس لیے شریعت صرف انہی امور میں ، اس کی رہنمائی کرتی ہے ۔ جن چیزوں کو اس نے حرام کیا ہے انہیں اس وجہ سے حرام کیا ہے کہ یا تو اخلاق پر ان کا برا اثر پڑتا ہے ، یا وہ طہارت کے خلاف ہیں ، یا ان کا تعلق کسی …

4

يَسْـَٔلُونَكَ مَاذَآ أُحِلَّ لَهُمْ ۖ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ ٱلطَّيِّبَٰتُ ۙ وَمَا عَلَّمْتُم مِّنَ ٱلْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ تُعَلِّمُونَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَكُمُ ٱللَّهُ ۖ فَكُلُوا۟ مِمَّآ أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَٱذْكُرُوا۟ ٱسْمَ ٱللَّهِ عَلَيْهِ ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ

تم سے پوچھتے ہیں کہ کون کون سی چیزیں ان کے لیے حلال ہیں (ان سے) کہہ دو کہ سب پاکیزہ چیزیں تم کو حلال ہیں اور وہ (شکار) بھی حلال ہے جو تمہارے لیے ان شکاری جانوروں نے پکڑا ہو جن کو تم نے سدھا رکھا ہو اور جس (طریق) سے خدا نے تمہیں (شکار کرنا) سکھایا ہے (اس طریق سے) تم نے ان کو سکھایا ہو تو جو شکار وہ تمہارے لئے پکڑ رکھیں اس کو کھا لیا کرو اور (شکاری جانوروں کو چھوڑتے وقت) خدا کا نام لے لیا کرو اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بےشک خدا جلد حساب لینے والا ہے

سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :18

اس جواب میں ایک لطیف نکتہ پوشیدہ ہے ۔ مذہبی طرز خیال کے لوگ اکثر اس ذہنیت کے شکار ہو تے رہے ہیں کہ دنیا کی ہر چیز کو حرام سمجھتے ہیں جب تک کہ صراحت کے ساتھ کسی چیز کو حلال نہ قرار دیا جائے ۔ اس ذہنیت کی وجہ سے لوگوں پر وہمی پن اور قانونیت کا تسلط ہو جاتا ہے ۔ وہ زندگی کے ہر شعبہ میں حلال اشیاء اور جائز کاموں کی فہرست مانگتے ہیں اور ہر کام اور ہر چیز کو اس شبہ کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں کہ کہیں وہ ممنوع تو نہیں ۔ یہاں قرآن اسی ذہنیت کی اصلاح کرتا ہے ۔ پوچھنے والوں کا مقصد یہ تھا کہ انہیں تمام حلال چیزوں کی تفصیل بتائی جائے تاکہ ان کے سوا ہر چیز کو وہ حرام سمجھیں ۔ جواب میں قرآن نے حرام چیزوں کی تفصیل بتائی اور اس کے بعد یہ عام ہدایت دے کر چھوڑ دیا کہ ساری پاک چیزیں حلال ہیں ۔ اس طرح قدیم مذہبی نظریہ بالکل الٹ گیا ۔ قدیم نظریہ یہ تھا کہ سب کچھ حرام ہےبجز اس کے جسے حلال ٹھیرایا جائے ۔ قرآن نے اس کے برعکس یہ اصول مقرر کیا کہ سب کچھ حلال ہے بجز اس کے جس کی حرمت کی تصریح کر دی جائے ۔ یہ ایک بہت بڑی اصلاح تھی جس نے انسانی زندگی کو بندشوں سے آزاد کر کے دنیا کی وسعتوں کا دروازہ اس کے لیے کھول دیا ۔ پہلے حلت کے ایک چھوٹے سے دائرے کے سوا ساری دنیا اس کے لیے حرام تھی ۔ اب حرمت کے ایک مختصر سے دائرے کو مستثنیٰ کر کے ساری دنیا اس کے لیے حلال ہو گئی ۔

حلال کے لیے ”پاک“ کی قید اس لیے لگائی کہ ناپاک چیزوں کو اس اباحت کی دلیل سے حلال ٹھیرانے کی کوشش نہ کی جائے ۔ اب رہا یہ سوال کہ اشیاء کے ”پاک“ ہونے کا تعین کس طرح ہو گا ، تو اس کا جواب یہ ہے کہ جو چیزیں اصول شرع میں سے کسی اصل کے ماتحت ناپاک قرار پائیں ، یا جن چیزوں سے ذوق سلیم کراہت کرے ، یا جنہیں مہذب انسان نے بالعموم اپنے فطری احساس نظافت کے خلاف پایا ہو ، ان کے ماسوا سب کچھ پاک ہے ۔

سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :19

شکاری جانوروں سے مراد کتے ، چیتے ، باز ، شکرے اور تمام وہ درندے اور پرندے ہیں جن سے انسان شکار کی خدمت لیتا ہے ۔ سدھائے ہوئے جانور کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ جس کا شکار کرتا ہے اسے عام درندوں کی طرح پھاڑ نہیں کھاتا بلکہ اپنے مالک کے لیے پکڑ رکھتا ہے ۔ اسی وجہ سے عام درندوں کا پھاڑا ہوا جانور حرام ہے اور سدھائے ہوئے درندوں کا شکار حلال ۔

اس مسئلہ میں فقہاء کے درمیان کچھ اختلاف ہے ۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ اگر شکاری جانور نے ، خواہ وہ درندہ ہو یا پرندہ شکار میں سے کچھ کھا لیا تو وہ حرام ہو گا کیونکہ اس کا کھا لینا یہ معنی رکھتا ہے کہ اس نے شکار کو مالک کے لیے نہیں بلکہ اپنے لیے پکڑا ۔ یہی مسلک امام شافعی کا ہے ۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ اگر اس نے شکار میں سے کچھ کھالیا ہو تب بھی وہ حرام نہیں ہوتا ، حتٰی کہ اگر ایک تہائی حصہ بھی وہ کھا لے تو بقیہ دوتہائی حلال ہے ، اور اس معاملے میں درندے اور پرندے کے درمیان کچھ فرق نہیں ۔ یہ مسلک امام مالک کا ہے ۔ تیسرا گروہ کہتا ہے کہ شکاری درندے نے اگر شکار میں سے کھا لیا ہو تو وہ حرام ہو گا ، لیکن اگر شکاری پرندے نے کھایا ہو تو حرام نہ ہوگا ۔ کیونکہ شکاری درندے کو ایسی تعلیم دی جا سکتی ہے کہ وہ شکار کو مالک کے لیے پکڑ رکھے اور اس میں سے کچھ نہ کھائے ، لیکن تجربہ سے ثابت ہے کہ شکاری پرندہ ایسی تعلیم قبول نہیں کرتا ۔ یہ مسلک امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کا ہے ۔ اس کے برعکس حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ شکاری پرندے کا شکار سرے سے جائز ہی نہیں ہے ، کیونکہ اسے تعلیم سے یہ بات سکھائی نہیں جا سکتی کہ شکار کو خود نہ کھائے بلکہ مالک کے لیے پکڑ رکھے ۔

سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :20

یعنی شکاری جانور کو شکار پر چھوڑتے وقت بسم اللہ کہو …

5

ٱلْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ ٱلطَّيِّبَٰتُ ۖ وَطَعَامُ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ حِلٌّۭ لَّكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّۭ لَّهُمْ ۖ وَٱلْمُحْصَنَٰتُ مِنَ ٱلْمُؤْمِنَٰتِ وَٱلْمُحْصَنَٰتُ مِنَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ مِن قَبْلِكُمْ إِذَآ ءَاتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَٰفِحِينَ وَلَا مُتَّخِذِىٓ أَخْدَانٍۢ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِٱلْإِيمَٰنِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُۥ وَهُوَ فِى ٱلْءَاخِرَةِ مِنَ ٱلْخَٰسِرِينَ

آج تمہارے لیے سب پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں اور اہل کتاب کا کھانا بھی تم کو حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کو حلال ہے اور پاک دامن مومن عورتیں اور پاک دامن اہل کتاب عورتیں بھی (حلال ہیں) جبکہ ان کا مہر دے دو۔ اور ان سے عفت قائم رکھنی مقصود ہو نہ کھلی بدکاری کرنی اور نہ چھپی دوستی کرنی اور جو شخص ایمان سے منکر ہوا اس کے عمل ضائع ہو گئے اور وہ آخرت میں نقصان پانے والوں میں ہوگا

سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :21

اہل کتاب کے کھانے میں ان کا ذبیحہ بھی شامل ہے ۔ ہمارے لیے ان کا اور ان کے لیے ہمارا کھانا حلال ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے اور ان کے درمیان کھانے پینے میں کوئی رکاوٹ اور کوئی چھوت چھات نہیں ہے ۔ ہم ان کے ساتھ کھا سکتے ہیں اور وہ ہمارے ساتھ ۔ لیکن یہ عام اجازت دینے سے پہلے اس فقرے کا اعادہ فرما دیا گیا ہے کہ ”تمہارے لیے پاک چیزیں حلال کر دی گئی ہیں“ ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اہل کتاب اگر پاکی و طہارت کے ان قوانین کی پابندی نہ کریں جو شریعت کے نقطہ نظر سے ضروری ہیں ، یا اگر ان کے کھانے میں حرام چیزیں شامل ہوں تو اس سے پرہیز کرنا چاہیے ۔ مثلاً اگر وہ خدا کا نام لیے بغیر کسی جانور کو ذبح کریں ، یا اس پر خدا کے سوا کسی اور کا نام لیں ، تو اسے کھانا ہمارے لیے جائز نہیں ۔ اسی طرح اگر ان کے دسترخوان پر شراب یا سور یا کوئی اور حرام چیز ہو تو ہم ان کے ساتھ شریک نہیں ہو سکتے ۔

اہل کتاب کے سوا دوسرے غیر مسلموں کا بھی یہی حکم ہے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ ذبیحہ اہل کتاب ہی کا جائز ہے جبکہ انہوں نے خدا کا نام اس پر لیا ہو ، رہے غیر اہل کتاب ، تو ان کے ہلاک کیے ہوئے جانور کو ہم نہیں کھا سکتے ۔

سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :22

اس سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں ۔ نکاح کی اجازت صرف انہی کی عورتوں سے دی گئی ہے اور اس کے ساتھ شرط یہ لگا دی گئی ہے کہ وہ محصنات ( محفوظ عورتیں ) ہوں ۔ اس حکم کی تفصیلات میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہوا ہے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ یہاں اہل کتاب سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو اسلامی حکومت کی رعایا ہوں ۔ رہے دارالحرب اور دارالکفر کے یہود و نصاریٰ ، تو ان کی عورتوں سے نکاح کرنا درست نہیں ۔ حنفیہ اس سے تھوڑا اختلاف کرتے ہیں ۔ ان کے نزدیک بیرونی ممالک کے اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کرنا حرام تو نہیں ہے مگر مکروہ ضرور ہے ۔ بخلاف اس کے سعید بن المُسَیِّب رضی اللہ عنہ اور حَسَن بصری رحمہ اللہ اس کے قائل ہیں کہ آیت اپنے حکم میں عام ہے لہٰذا ذمی اور غیر ذمی میں فرق کرنے کی ضرورت نہیں ۔ پھر محصنات کے مفہوم میں بھی فقہاء کے درمیان اختلاف ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نزدیک اس سے مراد پاک دامن ، عصمت مآب عورتیں ہیں اور اس بنا پر وہ اہل کتاب کی آزاد منش عورتوں کو اس اجازت سے خارج قرار دیتے ہیں ۔ یہی رائے حسن رحمہ اللہ ، شَعبِی رحمہ اللہ اور ابراہیم نَخعَی رحمہ اللہ کی ہے ۔ اور حنفیہ نے بھی اسی کو پسند کیا ہے ۔ بخلاف اس کے امام شافعی رحمہ اللہ کی رائے یہ ہے کہ یہاں یہ لفظ لونڈیوں کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے ، یعنی اس سے مراد اہل کتاب کی وہ عورتیں ہیں جو لونڈیاں نہ ہوں ۔

سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :23

اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کی اجازت دینے کے بعد یہ فقرہ اس لیے تنبیہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جو شخص اس اجازت سے فائدہ اٹھائے وہ اپنے ایمان و اخلاق سے ہوشیار رہے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کافر بیوی کے عشق میں مبتلا ہو کر یا اس کے عقائد اور اعمال سے متاثر ہو کر وہ اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے ، یا اخلاق و معاشرت میں ایسی روش پر چل پڑے جو ایمان کے منافی ہو ۔

6

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا قُمْتُمْ إِلَى ٱلصَّلَوٰةِ فَٱغْسِلُوا۟ وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى ٱلْمَرَافِقِ وَٱمْسَحُوا۟ بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى ٱلْكَعْبَيْنِ ۚ وَإِن كُنتُمْ جُنُبًۭا فَٱطَّهَّرُوا۟ ۚ وَإِن كُنتُم مَّرْضَىٰٓ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَآءَ أَحَدٌۭ مِّنكُم مِّنَ ٱلْغَآئِطِ أَوْ لَٰمَسْتُمُ ٱلنِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوا۟ مَآءًۭ فَتَيَمَّمُوا۟ صَعِيدًۭا طَيِّبًۭا فَٱمْسَحُوا۟ بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْهُ ۚ مَا يُرِيدُ ٱللَّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُم مِّنْ حَرَجٍۢ وَلَٰكِن يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُۥ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

مومنو! جب تم نماز پڑھنے کا قصد کیا کرو تم منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھو لیا کرو اور سر کا مسح کر لیا کرو اور ٹخنوں تک پاؤں (دھو لیا کرو) اور اگر نہانے کی حاجت ہو تو (نہا کر) پاک ہو جایا کرو اور اگر بیمار ہو یا سفر میں ہو یا کوئی تم میں سے بیت الخلا سے ہو کر آیا ہو یا تم عورتوں سے ہم بستر ہوئے ہو اور تمہیں پانی نہ مل سکے تو پاک مٹی لو اور اس سے منہ اور ہاتھوں کا مسح (یعنی تیمم) کر لو۔ خدا تم پر کسی طرح کی تنگی نہیں کرنا چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کرے تاکہ تم شکر کرو

سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :24

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کی جو تشریح فرمائی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ منہ دھونے میں کلی کرنا اور ناک صاف کرنا بھی شامل ہے ، بغیر اس کے منہ کے غسل کی تکمیل نہیں ہوتی ۔ اور کان چونکہ سر کا ایک حصہ ہیں اس لیے سر کے مسح میں کانوں کے اندرونی و بیرونی حصوں کا مسح بھی شامل ہے ۔ نیز وضو شروع کرنے سے پہلے ہاتھ دھو لینے چاہییں تاکہ جن ہاتھوں سے آدمی وضو کر رہا ہو وہ خود پہلے پاک ہو جائیں ۔

سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :25

جنابت خواہ مباشرت سے لاحق ہوئی ہو یا خواب میں مادہ منویہ خارج ہونے کی وجہ سے ، دونوں صورتوں میں غسل واجب ہے ۔ اس حالت میں غسل کے بغیر نماز پڑھنا یا قرآن کو ہاتھ لگانا جائز نہیں ۔ ( مزید تفصیلات کے لیےملاحظہ ہو سورہ نساء ، حواشی نمبر ٦۷ ، ٦۸ و ٦۹ ) ۔

سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :26

تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورہ نساء حاشیہ نمبر ٦۹ و ۷۰ ۔

سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :27

جس طرح پاکیزگی نفس ایک نعمت ہے اسی طرح پاکیزگی جسم بھی ایک نعمت ہے ۔ انسان پر اللہ کی نعمت اسی وقت مکمل ہو سکتی ہے جبکہ نفس و جسم دونوں کی طہارت و پاکیزگی کے لئے پوری ہدایت اسے مل جائے ۔

7

وَٱذْكُرُوا۟ نِعْمَةَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمِيثَٰقَهُ ٱلَّذِى وَاثَقَكُم بِهِۦٓ إِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ

اور خدا نے جو تم پر احسان کئے ہیں ان کو یاد کرو اور اس عہد کو بھی جس کا تم سے قول لیا تھا (یعنی) جب تم نے کہا تھا کہ ہم نے (خدا کا حکم) سن لیا اور قبول کیا۔ اور الله سے ڈرو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا دلوں کی باتوں (تک) سے واقف ہے

سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :28

یعنی یہ نعمت کہ زندگی کی شاہراہ مستقیم تمہارے لیے روشن کر دی اور دنیا کی ہدایت و رہنمائی کی منصب پر تمہیں سرفراز کیا ۔

8

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ كُونُوا۟ قَوَّٰمِينَ لِلَّهِ شُهَدَآءَ بِٱلْقِسْطِ ۖ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَـَٔانُ قَوْمٍ عَلَىٰٓ أَلَّا تَعْدِلُوا۟ ۚ ٱعْدِلُوا۟ هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرٌۢ بِمَا تَعْمَلُونَ

اے ایمان والوں! خدا کے لیے انصاف کی گواہی دینے کے لیے کھڑے ہو جایا کرو۔ اور لوگوں کی دشمنی تم کو اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ انصاف چھوڑ دو۔ انصاف کیا کرو کہ یہی پرہیزگاری کی بات ہے اور خدا سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے

سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :29

ملاحظہ ہو سورہ نساء ، حاشیہ نمبر ۱٦٤ و ۱٦۵ ۔

9

وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ ۙ لَهُم مَّغْفِرَةٌۭ وَأَجْرٌ عَظِيمٌۭ

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے خدا نے وعدہ فرمایا ہے کہ ان کے لیے بخشش اور اجر عظیم ہے

Explained together with ayah 8

10

وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَآ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلْجَحِيمِ

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ جہنمی ہیں

Explained together with ayah 8

Al-Maaida 5:10Listen in Qur'an →

Commentary: Tafheem ul Quran by Abul A'la Maududi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.