يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَوْفُوا۟ بِٱلْعُقُودِ ۚ أُحِلَّتْ لَكُم بَهِيمَةُ ٱلْأَنْعَٰمِ إِلَّا مَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ غَيْرَ مُحِلِّى ٱلصَّيْدِ وَأَنتُمْ حُرُمٌ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيدُ
اے ایمان والو! اپنے اقراروں کو پورا کرو۔ تمہارے لیے چارپائے جانور (جو چرنے والے ہیں) حلال کر دیئے گئے ہیں۔ بجز ان کے جو تمہیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں مگر احرام (حج) میں شکار کو حلال نہ جاننا۔ خدا جیسا چاہتا ہے حکم دیتا ہے
سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :1
یعنی ان حدود اور قیود کی پابندی کرو جو اس سورۃ میں تم پر عائد کی جا رہی ہیں ، اور جو بالعموم خدا کی شریعت میں تم پر عائد کی گئی ہیں ۔ اس مختصر سے تمہیدی جملہ کے بعد ہی اس بندشوں کا بیان شروع ہو جاتا ہے جن کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے ۔
سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :2
”اَنعام“ ( مویشی ) کا لفظ عربی زبان میں اونٹ ، گائے ، بھیڑ اور بکری پر بولا جاتا ہے ۔ اور ”بہیمہ“ کا اطلاق ہر چرنے والے چوپائے پر ہوتا ہے ۔ اگر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہوتا کہ انعام تمہارے لیے حلال کیے گئے ، تو اس سے صرف وہی چار جانور حلال ہوتے جنہیں عربی میں”انعام “ کہتے ہیں ۔ لیکن حکم ان الفاظ میں دیا گیا ہے کہ”مویشی کی قسم کے چرندہ چوپائے تم پر حلال کیے گئے “ ۔ اس سے حکم وسیع ہو جاتا ہے اور وہ سب چرندہ جانور اس کےدائرے میں آجاتے ہیں جو مویشی کی نوعیت کے ہوں ۔ یعنی جو کچلیاں نہ رکھتے ہوں ، حیوانی غذا کے بجائے نباتی غذا کھاتے ہوں ، اور دوسری حیوانی خصوصیات میں اَنعامِ عرب سے مماثلت رکھتے ہوں ۔ نیز اس سے اشارۃً یہ بات بھی مترشح ہوتی ہے کہ وہ چوپائے جو مویشیوں کے بر عکس کچلیاں رکھتے ہوں اور دوسرے جانوروں کو مار کر کھاتے ہوں ، حلال نہیں ہیں ۔ اسی اشارے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کر کے حدیث میں صاف حکم دے دیا کہ درندے حرام ہیں ۔ اسی طرح حضور نے ان پرندوں کو بھی حرام قرار دیا ہے جن کے پنجے ہوتے ہیں اور جو دوسرے جانوروں کا شکار کرکے کھاتے ہیں یا مردار خور ہوتے ہیں ۔ ابن عباس کی روایت ہے کہ نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن کل ذی ناب من السباع و کل ذی مخلب من الطیر ۔ دوسرے متعدد صحابہ سے بھی اس کی تائید میں روایات منقول ہیں ۔
سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :3
”احرام“ اس فقیرانہ لباس کو کہتے ہیں جو زیارت کعبہ کے لیے پہنا جاتا ہے ۔ کعبہ کے گرد کئی کئی منزل کے فاصلہ پر ایک حد مقرر کر دی گئی ہے جس سے آگے بڑھنے کی کسی زائر کو اجازت نہیں جب تک کہ وہ اپنا معمولی لباس اتار کر احرام کا لباس نہ پہن لے ۔ اس لباس میں صرف ایک تہمت ہوتا ہے اور ایک چادر جو اوپر سے اوڑھی جاتی ہے ۔ اسے احرام اس لیے کہتے ہیں کہ اسے باندھنے کے بعد آدمی پر بہت سی وہ چیزیں حرام ہو جاتی ہیں جو معمولی حالات میں حلال ہیں ، مثلاً حجامت ، خوشبو کا استعمال ، ہر قسم کی زینت و آرائش اور قضا شہوت وغیرہ ۔ انہی پابندیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کسی جاندار کو ہلاک نہ کیا جائے ، نہ شکار کیا جائے اور نہ کسی کو شکار کا پتہ دیا جائے ۔
سورة الْمَآىِٕدَة حاشیہ نمبر :4
یعنی اللہ حاکم مطلق ہے ، اسے پورا اختیار ہے کہ جو چاہے حکم دے ۔ بندوں کو اس کے احکام میں چون و چرا کرنے کا کوئی حق نہیں ۔ اگر چہ اس کے تمام احکام حکمت و مصلحت پر مبنی ہیں ، لیکن بندہ مسلم اس کے حکم کی اطاعت اس حیثیت سے نہیں کرتا کہ وہ اسے مناسب پاتا ہے یا مبنی بر مصلحت سمجھتا ہے ، بلکہ صرف اس بنا پر کرتا ہے کہ یہ مالک کا حکم ہے ۔ جو چیز اس نے حرام کر دی ہے وہ صرف اس لیے حرام ہے کہ اس نے حرام کی ہے ، اور اسی طرح جو اس نے حلال کر دی ہے وہ بھی کسی دوسری بنیاد پر نہیں بلکہ صر ف اس بنیاد پر حلال ہے کہ جو خدا ان ساری چیزوں کا مالک ہے ، وہ اپنے غلاموں کو اس چیز کے استعمال کی اجازت دیتا ہے ۔ لہٰذا قرآن پورے زور کے ساتھ یہ اصول قائم کرتا ہے کہ اشیاء کی حرمت و حلت کے لیے مالک کی اجازت و عدم اجازت کے سوا کسی اور بنیاد کی قطعاً ضرورت نہیں ، اور اسی طرح بندے کے لیے کسی کام کے جائز ہونے یا نہ ہونے کا مدار بھی اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ خدا جس کو جائز رکھے وہ جائز ہے اور جسے ناجائز قرار دے وہ ناجائز ۔