يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَوْفُوا۟ بِٱلْعُقُودِ ۚ أُحِلَّتْ لَكُم بَهِيمَةُ ٱلْأَنْعَٰمِ إِلَّا مَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ غَيْرَ مُحِلِّى ٱلصَّيْدِ وَأَنتُمْ حُرُمٌ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيدُ
اے ایمان والو! اپنے اقراروں کو پورا کرو۔ تمہارے لیے چارپائے جانور (جو چرنے والے ہیں) حلال کر دیئے گئے ہیں۔ بجز ان کے جو تمہیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں مگر احرام (حج) میں شکار کو حلال نہ جاننا۔ خدا جیسا چاہتا ہے حکم دیتا ہے
(آیت) ” نمبر 1۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ بندشوں کی پوری پابندی کرو) ۔ زندگی کے بسر کرنے کے لئے کچھ ضوابط کی ضرورت ہوتی ہے ۔ خود انسان اور اس کے نفس کے درمیان جو تعلق ہے اسکے لئے بھی کچھ اصول اور ضوابط ہوتے ہیں۔ پھر ایک انسان اور انسان کے درمیان تعلق کے کچھ اصول ہوتے ہیں اور پھر انسان اور تمام دوسری زندہ مخلوق اور غیر زندہ اشیاء کے درمیان بھی تعلق کے ضابطے ہوتے ہیں ۔ لوگوں میں سے رشتہ داروں سے تعلقات ‘ غیر رشتہ داروں اور دور کے لوگوں کے ساتھ تعلقات ‘ خاندان اور قوم کے لوگوں کے ساتھ تعلقات ‘ جماعت کے ساتھ تعلقات اور پھر پوری امت کے ساتھ ایک فرد کا تعلق ‘ دشمنوں کے ساتھ تعلق ‘ دوستوں کے ساتھ تعلق ‘ دنیا کی ان زندہ جیروں کے ساتھ تعلق جنہیں اللہ نے انسان کے قابو میں رکھا ہے اور ان کے ساتھ تعلق جو بےتعلق جو بےقابو ہیں اور اس وسیع و عریض کائنات کی تمام اشیاء کے ساتھ انسان کے تعلق کے اصول و ضوابط اسلامی نظام زندگی کے اندر پورے کے پورے موجود ہیں ۔ پھر انسان کی زندگی کا ربط اپنے رب کے ساتھ ‘ اپنے آقا کے ساتھ تو ایک ایسا تعلق ہے جو زندگی کی بنیادی قدر ہے ۔ یہ تمام امور اس نظام کے اندر مقرر اور منضبط ہیں ۔
اسلامی نظام ان تمام ضوابط اور تعلقات کو انسانی زندگی کے اندر عملا ثابت کرتا ہے ۔ وہ ان تعلقات کو قائم کرتا ہے ‘ ان کے لئے حدود قیود متعین کرتا ہے اور ان کی پوری پوری وضاحت کرتا ہے ۔ اور یہ تمام رابطے رب ذوالجلال کے عنوان سے ہوتے ہیں ۔ وہ ان تمام رابطوں کے احترام کی ضمانت دیتا ہے ۔ ان کی بےحرمتی اور ان کے ساتھ مذاق کرنے کی اجازت نہیں دیتا ۔ ان روابط کے بارے میں اسلامی نظام یہ صورت حال برداشت نہیں کرتا کہ انہیں بدلتی ہوئی خواہشات نفسانیہ کے حوالے کر دے یا ان اغراض ومقاصد کے نابع کر دے جن کا تعلق کسی ایک فرد کی خواہش اور سوچ سے ہو ۔ یا کوئی جماعت ان اغراض اور خواہشات میں دلچسپی رکھتی ہو یا اقوام عالم میں سے کسی قوم میں یہ اغراض پائی جاتی ہوں یا تاریخ انسانی کی نسلوں میں سے کوئی نسل ان میں دلچسپی رکھتی ہو اور ان اسباب کی وجہ سے انہیں توڑ دینا چاہتی ہو۔ ان تمام روابط ہی میں انسان کی مصلحت ہے بشرطیکہ ان روابط کو اللہ اور رسول نے لوگوں کے لئے وضع کیا ہو ‘ اگرچہ کوئی فرد ‘ کوئی جماعت ‘ کوئی قوم یا کوئی نسل یہ سمجھتی ہو کہ ان میں انسانوں کی مصلحت نہیں ہے اس لئے کہ اللہ خوب جانتا ہے ۔
اور لوگوں کا علم محدود ہے ۔ جو فیصلہ اللہ کرتا ہے وہ بہتر ہے اس سے جو خود لوگ کرتے ہیں ۔ اللہ میاں کے ادب واحترام کا پہلا زینہ یہ ہے کہ انسان اپنے ذاتی اندازے کو اللہ کی تقدیر کے مقابلے میں نہ لائے اور یہ سمجھے کہ بہتر وہی ہے جو اللہ نے قرار دیا ۔ اور جو اللہ نے قرار دیا ‘ اس کے آگے سرتسلیم خم کر دے ‘ نہایت ہی رضامندی ‘ نہایت ہی وثوق اور پورے اطمینان کے ساتھ ۔
یہ تمام ضوابط جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا ‘ ان کی تعبیر اللہ تعالیٰ لفظ ” العقود “ سے فرماتے ہیں اور اہل ایمان کو حکم دیتے ہیں کہ وہ ان عقود کی پوری پوری پابندی کریں ۔ اللہ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ بندشوں اور عقود کی پابندی کرو اور اس کے بعد پھر حلال و حرام کا بیان شروع کردیا ۔ کھانے پینے میں سے محرمات کو بیان کردیا ۔ نکاح میں جو محرمات ہیں ان کو بیان کردیا اور ان کے بعد دوسرے شرع احکام اور عبادات کے طریقوں کی تفصیلات بیان کیں ۔ اس کے والا صحیح عقائد ونظریات کی تشریح بھی کی گئی ۔ بندگی اور عبادت کے طریقے بھی بیان ہوئے اور اللہ کی حاکمیت کی تفصیلات بھی دی گئیں ۔
پھر امت مسلمہ اور دوسری امم کے درمیان تعلقات کی نوعیت کا تذکرہ بھی ہوا اور احکام بھی ذکر ہوئے ۔ امت مسلمہ کا فریضہ ہے کہ وہ شہادت حق ادا کرے ۔ دنیا میں انصاف قائم کرے ۔ پوری انسانیت کی نگرانی کرے ‘ اس لئے کہ اس کی کتاب بھی تمام کتب پر حاوی اور نگہبان ہے ۔ اور پھر …