يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ هَمَّ قَوْمٌ أَن يَبْسُطُوٓا۟ إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ فَكَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنكُمْ ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُؤْمِنُونَ
اے ایمان والو! خدا نے جو تم پر احسان کیا ہے اس کو یاد کرو۔ جب ایک جماعت نے ارادہ کیا کہ تم پر دست درازی کریں تو اس نے ان کے ہاتھ روک دیئے اور خدا سے ڈرتے رہوں اور مومنو کو خدا ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ ۔۔۔۔ عمومی انعامات کے بعد اب خصوصی انعام کا ذکر ہے۔ (رازی) - اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ يَّبْسُطُوْٓا اِلَيْكُمْ اَيْدِيَهُمْ ۔۔ : جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ وہ نجد کی طرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جنگ میں ساتھ تھے، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس لوٹے تو وہ بھی واپس لوٹے۔ دوپہر کے آرام کا وقت ایسی وادی میں آیا جہاں بہت سے خاردار درخت تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اتر پڑے اور لوگ درختوں کے سائے کے لیے درختوں (کی تلاش) میں بکھر گئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک کیکر کے درخت کے نیچے اترے اور اپنی تلوار اس کے ساتھ لٹکا دی۔ جابر (رض) کہتے ہیں کہ ہم تھوڑی دیر ہی سوئے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں بلایا، ہم آپ کے پاس آئے تو آپ کے پاس ایک بدوی بیٹھا ہوا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اس نے میری تلوار سونت لی، جب کہ میں سویا ہوا تھا، میں جاگ پڑا تو اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار تھی، مجھ سے کہنے لگا، تمہیں مجھ سے کون بچائے گا ؟ میں نے کہا، اللہ تو دیکھو یہ بیٹھا ہے۔ “ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے کچھ نہیں کہا۔ [ بخاری، المغازی، باب غزوۃ ذات الرقاع : ٤١٣٥ ]- ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ایک دیت کے سلسلے میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ کے ایک یہودی قبیلے بنو نضیر کے ہاں تشریف لے گئے، انھوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو ایک دیوار کے سائے میں بٹھایا اور آپس میں پروگرام بنایا کہ ان کے اوپر چکی کا پاٹ گرا دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خبردار کردیا اور آپ وہاں سے اٹھ گئے۔ (ابن کثیر) ممکن ہے قرآن نے اس ایک آیت میں ان متعدد واقعات کی طرف اشارہ فرمایا ہو اور یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک آیت ایک واقعہ کے متعلق نازل ہوتی ہے، پھر یاددہانی کے لیے دوسرے واقعہ میں اس کی طرف اشارہ کردیا جاتا ہے۔ ( المنار، قرطبی)