Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 11–20 of 120

11

يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ هَمَّ قَوْمٌ أَن يَبْسُطُوٓا۟ إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ فَكَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنكُمْ ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُؤْمِنُونَ

اے ایمان والو! خدا نے جو تم پر احسان کیا ہے اس کو یاد کرو۔ جب ایک جماعت نے ارادہ کیا کہ تم پر دست درازی کریں تو اس نے ان کے ہاتھ روک دیئے اور خدا سے ڈرتے رہوں اور مومنو کو خدا ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یاد کرو نعمت اللہ کی (جو ہوئی) تم پر، جب ارادہ کیا تھا ایک قوم نے کہ دراز کریں تمھاری طرف اپنے ہاتھ تو روک دیے اس نے ان کے ہاتھ تم سےاور ڈرو اللہ سے اور اوپر اللہ ہی کے پس چاہیے کہ توکل کریں ایمان والے(11)

[11] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے اپنی عظیم نعمتوں کا ذکر کرتا ہے اور انھیں ترغیب دیتا ہے کہ وہ بھی دل و زبان سے ان نعمتوں کا ذکر کیا کریں ۔ جس طرح وہ اپنے دشمنوں کے قتل، ان کے مال کو مال غنیمت بنانے، ان کے شہروں کو فتح کرنے اور ان کے غلام بنانے کو اللہ تعالیٰ کی نعمت قرار دیتے ہیں اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا بھی اعتراف کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمھارے ساتھ لڑنے سے روکا اور ان کی سازشوں اور چالوں کو جو ان کے سینوں میں تھیں ، انھی پر لوٹا دیا۔ اس لیے کہ دشمنوں نے ایک سازش تیار کی اور ان کا گمان تھا کہ وہ اسے بروئے کار لانے میں کامیاب ہوں گے۔ لیکن جب وہ مومنوں کے خلاف اس سازش میں کامیاب نہیں ہوئے تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے مومن بندوں کی مدد ہے۔ اس لیے ان کو چاہیے کہ وہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں ، اس کی عبادت اور اس کا ذکر کریں ۔ کافر، منافقین اور باغیوں میں سے جن لوگوں نے بھی اہل ایمان کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کیا، یہ آیت کریمہ ان سب کو شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کے شر سے محفوظ رکھا۔پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حکم دیا کہ وہ اپنے دشمنوں پر فتح حاصل کرنے اور دیگر تمام امور میں اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں ، اس لیے فرمایا:﴿وَعَلَى اللّٰهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔‘‘ یعنی وہ اپنے دینی اور دنیاوی مصالح کے حصول میں اللہ تعالیٰ ہی پر توکل اور اعتماد کریں ، اپنی قوت اور طاقت پر بھروسہ نہ کریں اور اپنے محبوب امور کے حصول میں صرف اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں اور بندے کے ایمان کے مطابق ہی، اس کا اللہ پر توکل ہوتا ہے اور یہ دل کے ان واجبات میں سے ہے جن پر اتفاق ہے۔

Al-Maaida 5:11Listen in Qur'an →
12

۞ وَلَقَدْ أَخَذَ ٱللَّهُ مِيثَٰقَ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ ٱثْنَىْ عَشَرَ نَقِيبًۭا ۖ وَقَالَ ٱللَّهُ إِنِّى مَعَكُمْ ۖ لَئِنْ أَقَمْتُمُ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَيْتُمُ ٱلزَّكَوٰةَ وَءَامَنتُم بِرُسُلِى وَعَزَّرْتُمُوهُمْ وَأَقْرَضْتُمُ ٱللَّهَ قَرْضًا حَسَنًۭا لَّأُكَفِّرَنَّ عَنكُمْ سَيِّـَٔاتِكُمْ وَلَأُدْخِلَنَّكُمْ جَنَّٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ ۚ فَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ مِنكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ

اور خدا نے بنی اسرائیل سے اقرار لیا اور ان میں ہم نے بارہ سردار مقرر کئے پھر خدا نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں اگر تم نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے رہو گے اور میرے پیغمبروں پر ایمان لاؤ گے اور ان کی مدد کرو گے اور خدا کو قرض حسنہ دو گے تو میں تم سے تمہارے گناہ دور کر دوں گا اور تم کو بہشتوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں پھر جس نے اس کے بعد تم میں سے کفر کیا وہ سیدھے رستے سے بھٹک گیا

اور البتہ تحقیق لیا اللہ نے عہد بنی اسرائیل سے اور مقرر کیے ہم نے ان میں سے بارہ سردار اور کہا اللہ نے، بے شک میں تمھارے ساتھ ہوں ، ، البتہ اگر قائم رکھو گے تم نماز اور ادا کرو گے زکاۃ اور ایمان لاؤ گے ساتھ میرے رسولوں کے اور تقویت پہنچاؤ گے ان کو اور قرض دو گے تم اللہ کو قرض حسن تو ضرور دور کر دوں گا میں تم سے تمھاری برائیاں اور ضرور داخل کروں گا تمھیں ایسے باغوں میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، پس جس نے کفر کیا بعد اس کے تم میں سے تو تحقیق بھٹک گیا وہ سیدھی راہ سے(12) پس بہ سبب ان کے توڑنے کے اپنے عہد کو، لعنت کی ہم نے ان پر اور کر دیا ہم نے ان کے دلوں کو سخت، بدل ڈالتے ہیں وہ باتوں کو ان کی جگہوں سے اور بھول گئے وہ ایک حصہ اس چیز سے کہ نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے اور ہمیشہ مطلع ہوتے رہتے ہیں آپ خیانت پر ان کی مگر تھوڑے لوگ ان میں سے، پس معاف کر دیں آپ ان کو اور درگزر کریں ، بے شک اللہ پسند کرتا ہے احسان کرنے والوں کو(13)

[12] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے بنی اسرائیل سے بہت موکد اور بھاری عہد لیا، پھر اس میثاق اور عہد کا وصف بیان فرمایا اور بتایا کہ اگر وہ اس عہد کو پورا کریں گے تو ان کو کیا اجر ملے گا اور اگر وہ اس عہد کو پورا نہیں کریں گے تو ان کو کیا سزا ملے گی، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ انھوں نے اس عہد کو پورا نہیں کیا اور یہ بھی بتایا کہ ان کو اس کی پاداش میں کیا سزا ملی۔ ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذَ اللّٰهُ مِيۡثَاقَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’اور اللہ نے بنی اسرائیل سے اقرار لیا۔‘‘ یعنی اللہ نے بنی اسرائیل سے مضبوط اور موکد عہد لیا ﴿وَبَعَثۡنَا مِنۡهُمُ اثۡنَيۡ عَشَرَ نَقِيۡبًا﴾ ہم نے ان کے بارہ سردار مقرر کر دیے جو ان کے معاملات کی دیکھ بھال کرتے تھے اور جن باتوں کا انھیں حکم دیا جاتا تھا اس کی تعمیل کرنے پر انھیں آمادہ کرتے تھے۔ ﴿وَقَالَ اللّٰهُ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان نقیبوں (سرداروں ) سے فرمایا جنھوں نے ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھایا تھا ﴿ااِنِّيۡ مَعَكُمۡ﴾ ’’میں تمھارے ساتھ ہوں ‘‘ یعنی میری اعانت و نصرت تمھارے ساتھ ہے۔ کیونکہ مدد ہمیشہ ذمہ داری کے بوجھ کے مطابق ہوتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جن پر عہد لیا تھا۔ ﴿لَىِٕنۡ اَقَمۡتُمُ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اگر تم نماز پڑھتے رہو گے۔‘‘ یعنی اگر تم نماز کو اس کے ظاہری اور باطنی لوازم کے ساتھ قائم کرو اور پھر اس پر دوام اختیار کرو گے ﴿وَاٰتَيۡتُمُ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور زکاۃ دیتے رہو گے۔‘‘ یعنی مستحق لوگوں کو زکٰوۃ دو گے ﴿وَاٰمَنۡتُمۡ بِرُسُلِيۡ ﴾ ’’اور میرے پیغمبروں پر ایمان لاؤ گے۔‘‘ تمام انبیاء و رسل پر ایمان لاؤ گے، جن میں سب سے افضل اور سب سے اکمل جناب محمد مصطفیﷺ ہیں ﴿وَعَزَّرۡتُمُوۡهُمۡ ﴾ ’’اور ان کی مدد کروگے۔‘‘ یعنی اگر تم انبیاء کی تعظیم اور ان کی اطاعت اور ان کا احترام کرو گے جو تم پر واجب ہے ﴿وَاَقۡرَضۡتُمُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا ﴾ ’’اور تم اللہ کو قرض حسن دو گے‘‘ یعنی صدقہ دو گے اور بھلائی کرو گے جس کا مصدر صدق و اخلاص اور کسب حلال ہو۔جب تم مذکورہ بالا تمام امور قائم کر لو گے ﴿لَّاُكَفِّرَنَّ عَنۡكُمۡ سَيِّاٰتِكُمۡ وَلَاُدۡخِلَنَّـكُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾’’تو میں تم سے تمھاری برائیاں دور کر دوں گا اور تمھیں ان باغات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی‘‘ اس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے جنت میں اپنی نعمتوں اور محبوب امور کے حصول اور گناہوں کی تکفیر اور اس پر مرتب ہونے والی سزا کو دور کر کے ناپسندیدہ امور کے دور ہٹنے کو یکجا بیان فرمایا۔﴿فَمَنۡ كَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِكَ ﴾ ’’پھر جس نے اس کے بعد کفر کیا۔‘‘ یعنی جو کوئی اس عہد و میثاق کے بعد جسے ایمان اور ثواب کی ترغیب کے ذریعے سے موکد کیا گیا ہے۔ کفر کا رویہ اختیار …

Al-Maaida 5:12Listen in Qur'an →
13

فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَٰقَهُمْ لَعَنَّٰهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَٰسِيَةًۭ ۖ يُحَرِّفُونَ ٱلْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِۦ ۙ وَنَسُوا۟ حَظًّۭا مِّمَّا ذُكِّرُوا۟ بِهِۦ ۚ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلَىٰ خَآئِنَةٍۢ مِّنْهُمْ إِلَّا قَلِيلًۭا مِّنْهُمْ ۖ فَٱعْفُ عَنْهُمْ وَٱصْفَحْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُحْسِنِينَ

تو ان لوگوں کے عہد توڑ دینے کے سبب ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت کر دیا یہ لوگ کلمات (کتاب) کو اپنے مقامات سے بدل دیتے ہیں اور جن باتوں کی ان کو نصیحت کی گئی تھی ان کا بھی ایک حصہ فراموش کر بیٹھے اور تھوڑے آدمیوں کے سوا ہمیشہ تم ان کی (ایک نہ ایک) خیانت کی خبر پاتے رہتے ہو تو ان کی خطائیں معاف کردو اور (ان سے) درگزر کرو کہ خدا احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

اور البتہ تحقیق لیا اللہ نے عہد بنی اسرائیل سے اور مقرر کیے ہم نے ان میں سے بارہ سردار اور کہا اللہ نے، بے شک میں تمھارے ساتھ ہوں ، ، البتہ اگر قائم رکھو گے تم نماز اور ادا کرو گے زکاۃ اور ایمان لاؤ گے ساتھ میرے رسولوں کے اور تقویت پہنچاؤ گے ان کو اور قرض دو گے تم اللہ کو قرض حسن تو ضرور دور کر دوں گا میں تم سے تمھاری برائیاں اور ضرور داخل کروں گا تمھیں ایسے باغوں میں کہ چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں ، پس جس نے کفر کیا بعد اس کے تم میں سے تو تحقیق بھٹک گیا وہ سیدھی راہ سے(12) پس بہ سبب ان کے توڑنے کے اپنے عہد کو، لعنت کی ہم نے ان پر اور کر دیا ہم نے ان کے دلوں کو سخت، بدل ڈالتے ہیں وہ باتوں کو ان کی جگہوں سے اور بھول گئے وہ ایک حصہ اس چیز سے کہ نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے اور ہمیشہ مطلع ہوتے رہتے ہیں آپ خیانت پر ان کی مگر تھوڑے لوگ ان میں سے، پس معاف کر دیں آپ ان کو اور درگزر کریں ، بے شک اللہ پسند کرتا ہے احسان کرنے والوں کو(13)

[12] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے بنی اسرائیل سے بہت موکد اور بھاری عہد لیا، پھر اس میثاق اور عہد کا وصف بیان فرمایا اور بتایا کہ اگر وہ اس عہد کو پورا کریں گے تو ان کو کیا اجر ملے گا اور اگر وہ اس عہد کو پورا نہیں کریں گے تو ان کو کیا سزا ملے گی، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ انھوں نے اس عہد کو پورا نہیں کیا اور یہ بھی بتایا کہ ان کو اس کی پاداش میں کیا سزا ملی۔ ﴿ وَلَقَدۡ اَخَذَ اللّٰهُ مِيۡثَاقَ بَنِيۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ﴾ ’’اور اللہ نے بنی اسرائیل سے اقرار لیا۔‘‘ یعنی اللہ نے بنی اسرائیل سے مضبوط اور موکد عہد لیا ﴿وَبَعَثۡنَا مِنۡهُمُ اثۡنَيۡ عَشَرَ نَقِيۡبًا﴾ ہم نے ان کے بارہ سردار مقرر کر دیے جو ان کے معاملات کی دیکھ بھال کرتے تھے اور جن باتوں کا انھیں حکم دیا جاتا تھا اس کی تعمیل کرنے پر انھیں آمادہ کرتے تھے۔ ﴿وَقَالَ اللّٰهُ ﴾ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان نقیبوں (سرداروں ) سے فرمایا جنھوں نے ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھایا تھا ﴿ااِنِّيۡ مَعَكُمۡ﴾ ’’میں تمھارے ساتھ ہوں ‘‘ یعنی میری اعانت و نصرت تمھارے ساتھ ہے۔ کیونکہ مدد ہمیشہ ذمہ داری کے بوجھ کے مطابق ہوتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جن پر عہد لیا تھا۔ ﴿لَىِٕنۡ اَقَمۡتُمُ الصَّلٰوةَ ﴾ ’’اگر تم نماز پڑھتے رہو گے۔‘‘ یعنی اگر تم نماز کو اس کے ظاہری اور باطنی لوازم کے ساتھ قائم کرو اور پھر اس پر دوام اختیار کرو گے ﴿وَاٰتَيۡتُمُ الزَّكٰوةَ ﴾ ’’اور زکاۃ دیتے رہو گے۔‘‘ یعنی مستحق لوگوں کو زکٰوۃ دو گے ﴿وَاٰمَنۡتُمۡ بِرُسُلِيۡ ﴾ ’’اور میرے پیغمبروں پر ایمان لاؤ گے۔‘‘ تمام انبیاء و رسل پر ایمان لاؤ گے، جن میں سب سے افضل اور سب سے اکمل جناب محمد مصطفیﷺ ہیں ﴿وَعَزَّرۡتُمُوۡهُمۡ ﴾ ’’اور ان کی مدد کروگے۔‘‘ یعنی اگر تم انبیاء کی تعظیم اور ان کی اطاعت اور ان کا احترام کرو گے جو تم پر واجب ہے ﴿وَاَقۡرَضۡتُمُ اللّٰهَ قَرۡضًا حَسَنًا ﴾ ’’اور تم اللہ کو قرض حسن دو گے‘‘ یعنی صدقہ دو گے اور بھلائی کرو گے جس کا مصدر صدق و اخلاص اور کسب حلال ہو۔جب تم مذکورہ بالا تمام امور قائم کر لو گے ﴿لَّاُكَفِّرَنَّ عَنۡكُمۡ سَيِّاٰتِكُمۡ وَلَاُدۡخِلَنَّـكُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ﴾’’تو میں تم سے تمھاری برائیاں دور کر دوں گا اور تمھیں ان باغات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی‘‘ اس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے جنت میں اپنی نعمتوں اور محبوب امور کے حصول اور گناہوں کی تکفیر اور اس پر مرتب ہونے والی سزا کو دور کر کے ناپسندیدہ امور کے دور ہٹنے کو یکجا بیان فرمایا۔﴿فَمَنۡ كَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِكَ ﴾ ’’پھر جس نے اس کے بعد کفر کیا۔‘‘ یعنی جو کوئی اس عہد و میثاق کے بعد جسے ایمان اور ثواب کی ترغیب کے ذریعے سے موکد کیا گیا ہے۔ کفر کا رویہ اختیار …

Al-Maaida 5:13Listen in Qur'an →
14

وَمِنَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّا نَصَٰرَىٰٓ أَخَذْنَا مِيثَٰقَهُمْ فَنَسُوا۟ حَظًّۭا مِّمَّا ذُكِّرُوا۟ بِهِۦ فَأَغْرَيْنَا بَيْنَهُمُ ٱلْعَدَاوَةَ وَٱلْبَغْضَآءَ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ ۚ وَسَوْفَ يُنَبِّئُهُمُ ٱللَّهُ بِمَا كَانُوا۟ يَصْنَعُونَ

اور جو لوگ (اپنے تئیں) کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں ہم نے ان سے بھی عہد لیا تھا مگر انہوں نے بھی اس نصیحت کا جو ان کو کی گئی تھی ایک حصہ فراموش کر دیا تو ہم نے ان کے باہم قیامت تک کے لیے دشمنی اور کینہ ڈال دیا اور جو کچھ وہ کرتے رہے خدا عنقریب ان کو اس سے آگاہ کرے گا

اور ان لوگوں سے جنھوں نے کہا، بے شک ہم نصاریٰ ہیں ، لیا ہم نے عہد ان سے، پس بھول گئے وہ ایک حصہ اس چیز سے کہ نصیحت کیے گئے تھے وہ ساتھ اس کے تو ڈال دی ہم نے ان کے درمیان دشمنی اور بغض روز قیامت تک اور عنقریب خبر دے گا ان کو اللہ ساتھ اس چیز کے جو تھے وہ کرتے(14)

[14] یعنی جس طرح ہم نے یہود سے عہد لیا اسی طرح ہم نے نصاریٰ سے بھی عہد لیا ﴿وَمِنَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّا نَصٰرٰۤى ﴾ ’’اور جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم نصاری ہیں ۔‘‘ یعنی جو کہتے ہیں کہ ہم حضرت عیسیٰu کے مددگار ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ، اس کے انبیاء و رسل اور ان پر نازل شدہ کتابوں پر ایمان لا کر اپنے آپ کو پاک کیا اور پھر عہد کو توڑ دیا ﴿فَنَسُوۡا حَظًّا مِّؔمَّؔا ذُكِّرُوۡا بِهٖ ﴾ ’’پھر بھول گئے وہ نفع اٹھانا اس نصیحت سے جو ان کو کی گئی تھی‘‘ یعنی وہ نسیان علمی اور نسیان عملی کا شکار ہو گئے ﴿ فَاَغۡرَيۡنَا بَيۡنَهُمُ الۡعَدَاوَةَ وَالۡبَغۡضَآءَؔ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’پس ہم نے لگا دی آپس میں ان کی دشمنی اور کینہ، قیامت کے دن تک‘‘ یعنی ہم نے انھیں ایک دوسرے پر مسلط کر دیا، ان کے درمیان شر و فساد اور کینہ نے جنم لیا جو قیامت تک کے لیے ایک دوسرے کے خلاف بغض اور عداوت کا باعث ہے اور یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کا مشاہدہ کیاجا سکتا ہے کیونکہ نصاریٰ ہمیشہ سے ایک دوسرے کے ساتھ بغض، مخالفت اور عداوت رکھتے چلے آ رہے ہیں ﴿وَسَوۡفَ يُنَبِّئُهُمُ اللّٰهُ بِمَا كَانُوۡا يَصۡنَعُوۡنَ﴾ ’’اور عنقریب اللہ ان کو خبر دے گا، جو کچھ وہ کرتے تھے‘‘ اور انھیں ان کی کارستانیوں پر عذاب دے گا۔

Al-Maaida 5:14Listen in Qur'an →
15

يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًۭا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ ٱلْكِتَٰبِ وَيَعْفُوا۟ عَن كَثِيرٍۢ ۚ قَدْ جَآءَكُم مِّنَ ٱللَّهِ نُورٌۭ وَكِتَٰبٌۭ مُّبِينٌۭ

اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے

اے اہل کتاب! تحقیق آیا ہے تمھارے پاس ہمارا رسول، وہ بیان کرتا ہے تمھارے لیے بہ کثرت ان چیزوں سے کہ تھے تم چھپاتے کتاب میں سے اور درگزر کرتا ہے بہت سی باتوں سے۔ تحقیق آگئی تمھارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی اور کتاب واضح(15) دکھاتا ہے ساتھ اس کے اللہ اس شخص کو کہ پیروی کرتا ہے وہ اس کی رضامندی کی، راہیں سلامتی کی اور نکالتا ہے ان کو اندھیروں سے طرف روشنی کی اپنے حکم سے اور راہنمائی کرتا ہے ان کی، طرف سیدھی راہ کی(16)

[15] جب اللہ تعالیٰ نے اس عہد اور میثاق کا ذکر کیا جو اس نے اہل کتاب، یعنی یہود و نصاریٰ سے لیا تھا مگر تھوڑے سے لوگوں کے سوا سب نے اس عہد کو توڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کو حکم دیا کہ وہ محمد مصطفیﷺ پر ایمان لائیں اور آپ کی نبوت پر ایک قطعی دلیل کے ذریعے سے استدلال کیا۔ اور وہ یہ کہ آپﷺ ان کے سامنے وہ چیزیں بیان کرتے ہیں جو وہ عام لوگوں سے چھپاتے ہیں حتیٰ کہ خود اپنے عوام سے بھی چھپاتے ہیں ، پس جب یہی لوگ علم کے بارے میں عوام کا مرجع تھے اور علم کے خواہش مند کے لیے ان کے بغیر علم حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں تھا تو ان حالات میں رسول اللہﷺ کا قرآن کریم کے ساتھ مبعوث ہونا اور ان تمام امورکو کھول کھول کر بیان کر دینا جو وہ چھپاتے تھے، دراں حالیکہ آپ ان پڑھ تھے اور لکھ پڑھ نہیں سکتے تھے، آپﷺ کی رسالت کی سب سے بڑی دلیل ہے، مثلاً: ان کی کتابوں میں جناب محمدﷺ کی صفات اور بشارتیں موجود تھیں ۔ اسی طرح آیت رجم کو، (جسے وہ چھپاتے تھے)رسول اللہﷺ نے بیان فرمایا۔﴿وَيَعۡفُوۡا عَنۡ كَثِيۡرٍ﴾ ’’اور درگزر کرتا ہے وہ بہت سی چیزوں سے‘‘ یعنی آپﷺ نے بہت سی ایسی باتوں کو بیان نہیں فرمایا جن کو بیان کرنا حکمت کا تقاضا نہیں تھا ﴿قَدۡ جَآءَؔكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ نُوۡرٌؔ ﴾ ’’تحقیق آ گیا تمھارے پاس اللہ کی طرف سے نور‘‘ اس نور سے مراد قرآن کریم ہے جس سے جہالت کی تاریکیوں اور گمراہی کے اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے ﴿وَّكِتٰبٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’اور روشن کتاب۔‘‘ مخلوق اپنے دین و دنیا کے جن امور کی محتاج ہے اس کتاب نے ان کو واضح کر دیا ہے ، مثلاً: اللہ تعالیٰ، اس کے اسماء و صفات اور افعال کا علم، احکام شرعی اور احکام جزائی کا علم۔

[16] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ کون ہے جو اس قرآن سے رہنمائی حاصل کرتا ہے اور وہ کون سا سبب ہے جو بندہ اس راہنمائی کے حصول کے لیے اختیار کرتا ہے۔ ﴿يَّهۡدِيۡ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضۡوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ﴾’’اللہ اس کے ذریعے سے ہدایت دیتا ہے، اس کو جو اس کی رضامندی کی پیروی کرتا ہے، سلامتی کے راستوں کی‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کی رضا کا حریص ہوتا ہے اور پھر اس کے حصول کی کوشش کرتا ہے اور اس کا قصد و ارادہ بھی صحیح ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ سلامتی کے راستوں کی طرف اس کی راہنمائی کرتا ہے۔ جو اسے عذاب سے بچا کر سلامتی کے گھر پہنچا دیتا ہے۔ یہاں سلامتی کے گھر سے مراد حق کا اجمالی اور تفصیلی علم اور اس پر عمل کرنا ہے۔﴿وَيُخۡرِجُهُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ ﴾ ’’اور ان کو تاریکیوں سے نکالتا ہے‘‘ یعنی کفر، بدعت، معصیت، جہالت اور غفلت کی تاریکیوں سے ﴿اِلَى النُّوۡرِ ﴾ ’’روشنی کی طرف‘‘ ایمان، سنت، اطاعت، علم اور ذکر الٰہی کی روشنی۔ یہ تمام امور اللہ تعالیٰ کی مشیت سے راہ ہدایت ہیں ۔ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہیں چاہتا نہیں ہوتا ﴿وَيَهۡدِيۡهِمۡ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ﴾ ’’اور سیدھے راستے کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے۔‘‘

Al-Maaida 5:15Listen in Qur'an →
16

يَهْدِى بِهِ ٱللَّهُ مَنِ ٱتَّبَعَ رِضْوَٰنَهُۥ سُبُلَ ٱلسَّلَٰمِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ بِإِذْنِهِۦ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ

جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے

اے اہل کتاب! تحقیق آیا ہے تمھارے پاس ہمارا رسول، وہ بیان کرتا ہے تمھارے لیے بہ کثرت ان چیزوں سے کہ تھے تم چھپاتے کتاب میں سے اور درگزر کرتا ہے بہت سی باتوں سے۔ تحقیق آگئی تمھارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی اور کتاب واضح(15) دکھاتا ہے ساتھ اس کے اللہ اس شخص کو کہ پیروی کرتا ہے وہ اس کی رضامندی کی، راہیں سلامتی کی اور نکالتا ہے ان کو اندھیروں سے طرف روشنی کی اپنے حکم سے اور راہنمائی کرتا ہے ان کی، طرف سیدھی راہ کی(16)

[15] جب اللہ تعالیٰ نے اس عہد اور میثاق کا ذکر کیا جو اس نے اہل کتاب، یعنی یہود و نصاریٰ سے لیا تھا مگر تھوڑے سے لوگوں کے سوا سب نے اس عہد کو توڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کو حکم دیا کہ وہ محمد مصطفیﷺ پر ایمان لائیں اور آپ کی نبوت پر ایک قطعی دلیل کے ذریعے سے استدلال کیا۔ اور وہ یہ کہ آپﷺ ان کے سامنے وہ چیزیں بیان کرتے ہیں جو وہ عام لوگوں سے چھپاتے ہیں حتیٰ کہ خود اپنے عوام سے بھی چھپاتے ہیں ، پس جب یہی لوگ علم کے بارے میں عوام کا مرجع تھے اور علم کے خواہش مند کے لیے ان کے بغیر علم حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں تھا تو ان حالات میں رسول اللہﷺ کا قرآن کریم کے ساتھ مبعوث ہونا اور ان تمام امورکو کھول کھول کر بیان کر دینا جو وہ چھپاتے تھے، دراں حالیکہ آپ ان پڑھ تھے اور لکھ پڑھ نہیں سکتے تھے، آپﷺ کی رسالت کی سب سے بڑی دلیل ہے، مثلاً: ان کی کتابوں میں جناب محمدﷺ کی صفات اور بشارتیں موجود تھیں ۔ اسی طرح آیت رجم کو، (جسے وہ چھپاتے تھے)رسول اللہﷺ نے بیان فرمایا۔﴿وَيَعۡفُوۡا عَنۡ كَثِيۡرٍ﴾ ’’اور درگزر کرتا ہے وہ بہت سی چیزوں سے‘‘ یعنی آپﷺ نے بہت سی ایسی باتوں کو بیان نہیں فرمایا جن کو بیان کرنا حکمت کا تقاضا نہیں تھا ﴿قَدۡ جَآءَؔكُمۡ مِّنَ اللّٰهِ نُوۡرٌؔ ﴾ ’’تحقیق آ گیا تمھارے پاس اللہ کی طرف سے نور‘‘ اس نور سے مراد قرآن کریم ہے جس سے جہالت کی تاریکیوں اور گمراہی کے اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے ﴿وَّكِتٰبٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’اور روشن کتاب۔‘‘ مخلوق اپنے دین و دنیا کے جن امور کی محتاج ہے اس کتاب نے ان کو واضح کر دیا ہے ، مثلاً: اللہ تعالیٰ، اس کے اسماء و صفات اور افعال کا علم، احکام شرعی اور احکام جزائی کا علم۔

[16] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ کون ہے جو اس قرآن سے رہنمائی حاصل کرتا ہے اور وہ کون سا سبب ہے جو بندہ اس راہنمائی کے حصول کے لیے اختیار کرتا ہے۔ ﴿يَّهۡدِيۡ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضۡوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ﴾’’اللہ اس کے ذریعے سے ہدایت دیتا ہے، اس کو جو اس کی رضامندی کی پیروی کرتا ہے، سلامتی کے راستوں کی‘‘ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کی رضا کا حریص ہوتا ہے اور پھر اس کے حصول کی کوشش کرتا ہے اور اس کا قصد و ارادہ بھی صحیح ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ سلامتی کے راستوں کی طرف اس کی راہنمائی کرتا ہے۔ جو اسے عذاب سے بچا کر سلامتی کے گھر پہنچا دیتا ہے۔ یہاں سلامتی کے گھر سے مراد حق کا اجمالی اور تفصیلی علم اور اس پر عمل کرنا ہے۔﴿وَيُخۡرِجُهُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ ﴾ ’’اور ان کو تاریکیوں سے نکالتا ہے‘‘ یعنی کفر، بدعت، معصیت، جہالت اور غفلت کی تاریکیوں سے ﴿اِلَى النُّوۡرِ ﴾ ’’روشنی کی طرف‘‘ ایمان، سنت، اطاعت، علم اور ذکر الٰہی کی روشنی۔ یہ تمام امور اللہ تعالیٰ کی مشیت سے راہ ہدایت ہیں ۔ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو وہ نہیں چاہتا نہیں ہوتا ﴿وَيَهۡدِيۡهِمۡ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ﴾ ’’اور سیدھے راستے کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے۔‘‘

Al-Maaida 5:16Listen in Qur'an →
17

لَّقَدْ كَفَرَ ٱلَّذِينَ قَالُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْمَسِيحُ ٱبْنُ مَرْيَمَ ۚ قُلْ فَمَن يَمْلِكُ مِنَ ٱللَّهِ شَيْـًٔا إِنْ أَرَادَ أَن يُهْلِكَ ٱلْمَسِيحَ ٱبْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُۥ وَمَن فِى ٱلْأَرْضِ جَمِيعًۭا ۗ وَلِلَّهِ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ ۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ

جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ عیسیٰ بن مریم خدا ہیں وہ بےشک کافر ہیں (ان سے) کہہ دو کہ اگر خدا عیسیٰ بن مریم کو اور ان کی والدہ کو اور جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کو ہلاک کرنا چاہے تو اس کے آگے کس کی پیش چل سکتی ہے؟ اور آسمان اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب پر خدا ہی کی بادشاہی ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

البتہ تحقیق کفر کیا ان لوگوں نے جنھوں نے کہا: بے شک اللہ تو وہی مسیح ابن مریم ہے۔ کہہ دیجیے: پس کون اختیار رکھتا ہے اللہ کے آگے کچھ بھی، اگر وہ ارادہ کر لے ہلاک کرنے کا مسیح ابن مریم اور ان کی ماں کو اور ان کو جو زمین میں ہیں سارے؟ اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(17) اور کہا یہود نے اور نصاریٰ نے ہم بیٹے ہیں اللہ کے اور اس کے پیارے، کہہ دیجیے: پس کیوں عذاب کرتا ہے وہ تمھیں تمھارے گناہوں کی وجہ سےبلکہ تم بھی انسان ہی ہو ان میں سے جن کو اس نے پیدا کیا وہ بخشتا ہے جس کو چاہتا ہے اور عذاب کرتا ہے جس کو چاہتا ہےاور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور اسی کی طرف ہے پھر کر جانا(18)

[17] اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ سے عہد لینے اور ان کے نقض عہد کا ذکر کرنے کے بعد ان کے اقوال قبیحہ کا ذکر فرمایا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نصاریٰ کے قول کا ذکر فرمایا اور یہ بات نصاریٰ سے پہلے کسی نے نہیں کہی۔ وہ کہتے ہیں کہ مسیح ابن مریم ہی اللہ ہے۔ اور ان کے شبہ کا سبب یہ ہے کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے، بنابریں یہ اعتقاد باطل ان کے اندر در آیا۔ حالانکہ جناب حوا کی تخلیق اس کی نظیر ہے جن کو بغیر ماں کے پیدا کیا گیا اور اس لحاظ سے جناب آدم تو الوہیت کے سب سے زیادہ مستحق ہیں جو باپ اور ماں دونوں کے بغیر پیدا ہوئے۔ کیا انھوں نے آدمu اور جناب حوا کے بارے میں اسی طرح الوہیت کا دعویٰ کیا ہے جس طرح انھوں نے مسیحu کے بارے میں کیا؟ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ان کا حضرت مسیح کی الوہیت کا دعوی بغیر کسی برہان کے خواہش نفس کی پیروی ہے۔پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح عقلی دلائل سے ان کے اس قول باطل کا رد کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ فَمَنۡ يَّمۡلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔـا اِنۡ اَرَادَ اَنۡ يُّهۡلِكَ الۡمَسِيۡحَ ابۡنَ مَرۡيَمَ وَاُمَّهٗ وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا﴾ ’’فرما دیجیے، پس کس کا بس چل سکتا ہے اللہ کے آگے کچھ بھی، اگر وہ چاہے کہ ہلاک کر دے مسیح ابن مریم کو، اس کی ماں کو اور تمام اہل زمین کو‘‘ چونکہ اگر اللہ تعالیٰ ان مذکور لوگوں کو ہلاک کرنا چاہے تو ان کے پاس اپنے آپ کو بچانے کی قدرت اور طاقت نہیں۔ اس لیے یہ اس ہستی کی الوہیت کے بطلان کی دلیل ہے جو اپنے آپ کو ہلاکت سے نہیں بچا سکتی اور نہ چھڑا سکتی ہے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی وحدانیت کی ایک دلیل یہ بھی ہے ﴿لِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’ کہ زمین و آسمان کی بادشاہت اسی کی ہے۔‘‘ پس وہ ان میں تکوینی ، شرعی اور جزائی احکام کے ذریعے سے تصرف کرتا ہے وہ سب مملوک ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی تدبیر کرتا ہے۔ کیا مملوک اور بندۂ محتاج کے لائق ہے کہ وہ الٰہ بن جائے جو ہر لحاظ سے بے نیاز ہو؟.... یہ سب سے بڑا محال ہے۔عیسیٰu کا بغیر باپ کے متولد ہونا کوئی انہونی اور تعجب خیز بات نہیں ﴿ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ﴾ ’’وہ (اللہ) جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔‘‘ چاہے تو ماں اور باپ کے ذریعے سے پیدا کرے، جیسا کہ تمام بنی آدم کی تخلیق ہوئی ہے۔ چاہے تو بغیر ماں کے، صرف باپ سے پیدا کرے جیسے حضرت حوا کا معاملہ ہے۔ چاہے تو کسی کو بغیر باپ کے، ماں سے پیدا کرے، جیسے حضرت عیسیٰu کی تخلیق ہوئی اور چاہے تو ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا کرے، جیسے حضرت آدم کی پیدائش ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت نافذہ سے اپنی مخلوق کو الگ الگ انداز سے پیدا فرمایا جس کے سامنے کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں ۔ بنابریں فرمایا :﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

[18] یہود و نصاریٰ کے دعاوی میں سے۔ جبکہ ان کے تمام دعوے باطل ہیں ۔ ایک دعویٰ یہ ہے کہ وہ یہ کہتے ہوئے اپنے …

Al-Maaida 5:17Listen in Qur'an →
18

وَقَالَتِ ٱلْيَهُودُ وَٱلنَّصَٰرَىٰ نَحْنُ أَبْنَٰٓؤُا۟ ٱللَّهِ وَأَحِبَّٰٓؤُهُۥ ۚ قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُم بِذُنُوبِكُم ۖ بَلْ أَنتُم بَشَرٌۭ مِّمَّنْ خَلَقَ ۚ يَغْفِرُ لِمَن يَشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ ۚ وَلِلَّهِ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ وَإِلَيْهِ ٱلْمَصِيرُ

اور یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں کہو کہ پھر وہ تمہاری بداعمالیوں کے سبب تمھیں عذاب کیوں دیتا ہے (نہیں) بلکہ تم اس کی مخلوقات میں (دوسروں کی طرح کے) انسان ہو وہ جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب دے اور آسمان زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب پر خدا ہی کی حکومت ہے اور (سب کو) اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

البتہ تحقیق کفر کیا ان لوگوں نے جنھوں نے کہا: بے شک اللہ تو وہی مسیح ابن مریم ہے۔ کہہ دیجیے: پس کون اختیار رکھتا ہے اللہ کے آگے کچھ بھی، اگر وہ ارادہ کر لے ہلاک کرنے کا مسیح ابن مریم اور ان کی ماں کو اور ان کو جو زمین میں ہیں سارے؟ اور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(17) اور کہا یہود نے اور نصاریٰ نے ہم بیٹے ہیں اللہ کے اور اس کے پیارے، کہہ دیجیے: پس کیوں عذاب کرتا ہے وہ تمھیں تمھارے گناہوں کی وجہ سےبلکہ تم بھی انسان ہی ہو ان میں سے جن کو اس نے پیدا کیا وہ بخشتا ہے جس کو چاہتا ہے اور عذاب کرتا ہے جس کو چاہتا ہےاور اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور اسی کی طرف ہے پھر کر جانا(18)

[17] اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ سے عہد لینے اور ان کے نقض عہد کا ذکر کرنے کے بعد ان کے اقوال قبیحہ کا ذکر فرمایا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نصاریٰ کے قول کا ذکر فرمایا اور یہ بات نصاریٰ سے پہلے کسی نے نہیں کہی۔ وہ کہتے ہیں کہ مسیح ابن مریم ہی اللہ ہے۔ اور ان کے شبہ کا سبب یہ ہے کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے، بنابریں یہ اعتقاد باطل ان کے اندر در آیا۔ حالانکہ جناب حوا کی تخلیق اس کی نظیر ہے جن کو بغیر ماں کے پیدا کیا گیا اور اس لحاظ سے جناب آدم تو الوہیت کے سب سے زیادہ مستحق ہیں جو باپ اور ماں دونوں کے بغیر پیدا ہوئے۔ کیا انھوں نے آدمu اور جناب حوا کے بارے میں اسی طرح الوہیت کا دعویٰ کیا ہے جس طرح انھوں نے مسیحu کے بارے میں کیا؟ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ان کا حضرت مسیح کی الوہیت کا دعوی بغیر کسی برہان کے خواہش نفس کی پیروی ہے۔پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح عقلی دلائل سے ان کے اس قول باطل کا رد کیا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿قُلۡ فَمَنۡ يَّمۡلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَيۡـًٔـا اِنۡ اَرَادَ اَنۡ يُّهۡلِكَ الۡمَسِيۡحَ ابۡنَ مَرۡيَمَ وَاُمَّهٗ وَمَنۡ فِي الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا﴾ ’’فرما دیجیے، پس کس کا بس چل سکتا ہے اللہ کے آگے کچھ بھی، اگر وہ چاہے کہ ہلاک کر دے مسیح ابن مریم کو، اس کی ماں کو اور تمام اہل زمین کو‘‘ چونکہ اگر اللہ تعالیٰ ان مذکور لوگوں کو ہلاک کرنا چاہے تو ان کے پاس اپنے آپ کو بچانے کی قدرت اور طاقت نہیں۔ اس لیے یہ اس ہستی کی الوہیت کے بطلان کی دلیل ہے جو اپنے آپ کو ہلاکت سے نہیں بچا سکتی اور نہ چھڑا سکتی ہے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی وحدانیت کی ایک دلیل یہ بھی ہے ﴿لِلّٰهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا﴾ ’’ کہ زمین و آسمان کی بادشاہت اسی کی ہے۔‘‘ پس وہ ان میں تکوینی ، شرعی اور جزائی احکام کے ذریعے سے تصرف کرتا ہے وہ سب مملوک ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی تدبیر کرتا ہے۔ کیا مملوک اور بندۂ محتاج کے لائق ہے کہ وہ الٰہ بن جائے جو ہر لحاظ سے بے نیاز ہو؟.... یہ سب سے بڑا محال ہے۔عیسیٰu کا بغیر باپ کے متولد ہونا کوئی انہونی اور تعجب خیز بات نہیں ﴿ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ﴾ ’’وہ (اللہ) جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔‘‘ چاہے تو ماں اور باپ کے ذریعے سے پیدا کرے، جیسا کہ تمام بنی آدم کی تخلیق ہوئی ہے۔ چاہے تو بغیر ماں کے، صرف باپ سے پیدا کرے جیسے حضرت حوا کا معاملہ ہے۔ چاہے تو کسی کو بغیر باپ کے، ماں سے پیدا کرے، جیسے حضرت عیسیٰu کی تخلیق ہوئی اور چاہے تو ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا کرے، جیسے حضرت آدم کی پیدائش ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت نافذہ سے اپنی مخلوق کو الگ الگ انداز سے پیدا فرمایا جس کے سامنے کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں ۔ بنابریں فرمایا :﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

[18] یہود و نصاریٰ کے دعاوی میں سے۔ جبکہ ان کے تمام دعوے باطل ہیں ۔ ایک دعویٰ یہ ہے کہ وہ یہ کہتے ہوئے اپنے …

Al-Maaida 5:18Listen in Qur'an →
19

يَٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلَىٰ فَتْرَةٍۢ مِّنَ ٱلرُّسُلِ أَن تَقُولُوا۟ مَا جَآءَنَا مِنۢ بَشِيرٍۢ وَلَا نَذِيرٍۢ ۖ فَقَدْ جَآءَكُم بَشِيرٌۭ وَنَذِيرٌۭ ۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ

اے اہلِ کتاب پیغمبروں کے آنے کا سلسلہ جو (ایک عرصے تک) منقطع رہا تو (اب) تمہارے پاس ہمارے پیغمبر آ گئے ہیں جو تم سے (ہمارے احکام) بیان کرتے ہیں تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی خوشخبری یا ڈر سنانے والا نہیں آیا سو (اب) تمہارے پاس خوشخبری اور ڈر سنانے والے آ گئے ہیں اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

اے اہل کتاب! تحقیق آیا تمھارے پاس ہمارا رسول، بیان کرتا ہے وہ تمھارے لیے، پیچھے موقوف ہو جانے رسولوں کے کہیں تم نہ کہو کہ نہیں آیا ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے والا اور نہ ڈرانے والا، پس تحقیق آگیا تمھارے پاس خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے(19)

[19] اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو کتاب عطا کر کے ان پر احسان فرمایا اور اس سبب سے انھیں دعوت دی کہ وہ اس کے رسول محمد مصطفیﷺ پر ایمان لائیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے ان کی طرف رسول بھیجا ﴿عَلٰى فَتۡرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ ﴾ ’’رسولوں کے مبعوث ہونے کا سلسلہ منقطع رہنے کے بعد‘‘ اور ان کی شدید احتیاج کی بنا پر۔ یہ چیز اس بات کی داعی ہے کہ آپﷺ پر ایمان لایا جائے اور ان کے سامنے تمام مطالب الہیہ اور احکام شرعیہ بیان کیے جائیں ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس طرح ان پر حجت پوری کر دی تاکہ وہ یہ نہ کہیں ﴿مَا جَآءَنَا مِنۢۡ بَشِيۡرٍ وَّلَا نَذِيۡرٍ﴾ ’’کہ ہمارے پاس کوئی خوش خبری دینے والا آیا نہ کوئی ڈرانے والا‘‘ ﴿فَقَدۡ جَآءَؔكُمۡ بَشِيۡرٌ وَّنَذِيۡرٌ﴾’’پس تحقیق تمھارے پاس خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا آگیا‘‘ جو دنیوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری دیتا ہے اور ان اعمال سے آگاہ کرتا ہے جو اس ثواب کے حصول کے موجب ہیں ، نیز ان اعمال کو بجا لانے والوں کی صفات بیان کرتا ہے اور دنیوی اور اخروی عذاب اور ان اعمال سے ڈراتا ہے جو اس عذاب کا باعث بنتے ہیں اور ان اعمال کا ارتکاب کرنے والوں کی صفات سے آگاہ کرتا ہے۔﴿وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ﴾ ’’اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ تمام اشیاء نے اس کی قدرت کاملہ کے سامنے اطاعت سے سرتسلیم خم کر رکھا ہے کسی کو اس کی نافرمانی کی مجال نہیں ۔ یہ اس کی قدرت کاملہ ہی ہے کہ اس نے رسول مبعوث فرمائے، کتابیں نازل کیں جو ان رسولوں کی اطاعت کرتا ہے، اسے ثواب عطا کرتا ہے اور جو ان کی نافرمانی کرتا ہے انھیں عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔

Al-Maaida 5:19Listen in Qur'an →
20

وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِۦ يَٰقَوْمِ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَةَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنۢبِيَآءَ وَجَعَلَكُم مُّلُوكًۭا وَءَاتَىٰكُم مَّا لَمْ يُؤْتِ أَحَدًۭا مِّنَ ٱلْعَٰلَمِينَ

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ بھائیو تم پر خدا نے جو احسان کئے ہیں ان کو یاد کرو کہ اس نے تم میں پیغمبر پیدا کیے اور تمہیں بادشاہ بنایا اور تم کو اتنا کچھ عنایت کیا کہ اہل عالم میں سے کسی کو نہیں دیا

اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم سے، اے میری قوم! یاد کرو نعمت اللہ کی (جو ہوئی) تم پر، جب اس نے بنائے تمھارے اندر نبی اور بنایا تم کو بادشاہ اور دیا تم کو وہ جو نہیں دیا اس نے کسی کو جہانوں میں سے(20) اے میری قوم! داخل ہو تم! زمین مقدس میں ، جو لکھ دی ہے اللہ نے تمھارے لیے اور نہ پھرو تم اپنی پیٹھوں پر، تب پلٹو گے تم نقصان اٹھانے والے بن کر(21) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک اس میں ایک قوم ہے بڑی زور آور اور ہم ہرگز نہ جائیں گے اس میں یہاں تک کہ نکل جائیں وہ اس میں سے، پس اگر نکل جائیں وہ اس میں سے تو ہم ضرور داخل ہو جائیں گے(22) کہا دو آدمیوں نے ان میں سے جو کہ ڈرتے تھے (اللہ سے) انعام کیا تھا اللہ نے ان پر، داخل ہو جاؤ تم ان پر دروازے میں سے، پس جب داخل ہو گے تم اس میں سے تو تم ہی غالب ہو گے اور اوپر اللہ ہی کے، پس بھروسہ کرو تم، اگر ہو تم مومن(23) انھوں نے کہا: اے موسیٰ! بے شک ہم تو ہرگز نہ جائیں گے اس میں کبھی بھی جب تک وہ موجود ہیں اس میں ، پس جا تو اور تیرا رب اور لڑو تم دونوں ، تحقیق ہم تو یہیں بیٹھے ہیں (24)(موسیٰ) نے کہا: اے رب! بے شک میں نہیں اختیار رکھتا مگر اپنی جان کا اور اپنے بھائی کا، پس تو تفریق کر دے ہمارے درمیان اور درمیان نافرمان قوم کے(25) فرمایا (اللہ نے) پس وہ زمین حرام کر دی گئی ہے ان پر چالیس برس تک، سرگرداں پھریں گے وہ زمین میں ، پس نہ غم کھا تو اوپر نافرمان قوم کے(26)

[20] اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰu اور ان کی قوم کو فرعون اور اس کی قوم کی غلامی سے نجات دلا کر ان پر احسان فرمایا ،چنانچہ موسیٰu اور ان کی قوم نے اپنے وطن بیت المقدس واپس جانے کا قصد کیا اور وہ بیت المقدس کے قریب پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دشمن کے خلاف جہاد فرض کر دیا تاکہ وہ ان سے اپنے علاقے خالی کروائیں ۔ موسیٰu نے ان کو وعظ و تذکیر کی تاکہ وہ جہاد کے عزم پر قائم رہیں ۔حضرت موسیٰu نے فرمایا:﴿اذۡكُرُوۡا نِعۡمَةَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ ﴾ ’’تم پر اللہ نے جو احسان کیے ہیں انھیں یاد کرو۔‘‘ یعنی اپنے دل اور زبان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو۔ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر اس کی محبت کا باعث بنتا ہے اور عبادت کے لیے نشاط پیدا کرتا ہے ﴿اِذۡ جَعَلَ فِيۡكُمۡ اَنۢۡبِيَآءَؔ ﴾ ’’جب پیدا کیے اس نے تمھارے اندر نبی‘‘ جو تمھیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں اور تمھیں ہلاکت سے ڈراتے ہیں اور تمھیں ابدی سعادت کے حصول پر آمادہ کرتے ہیں اور تمھیں وہ کچھ سکھاتے ہیں جو تم نہیں جانتے ﴿وَجَعَلَكُمۡ مُّلُوۡكًا﴾’’اور تم کو بادشاہ بنایا‘‘ تم اپنے معاملات کے خود مالک تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں دشمن کی غلامی سے نجات دلائی اور تم اپنے معاملات کے خود مالک بن گئے اور تمھارے لیے اپنے دین کو قائم کرنا ممکن ہو گیا۔﴿وَّاٰتٰىكُمۡ ﴾ ’’اور تم کو عنایت کیا۔‘‘ یعنی تمھیں دینی اور دنیاوی نعمتیں عطا کیں ﴿مَّا لَمۡ يُؤۡتِ اَحَدًا مِّنَ الۡعٰلَمِيۡنَ﴾ ’’جو اس نے جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیں ‘‘ کیونکہ وہ اس زمانے میں منتخب قوم تھی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ باعزت تھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں عطا کیں جو کسی اور کو عطا نہیں کیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں یاد دلائیں جو ایمان، اس کے ثبات،جہاد پر ان کی ثابت قدمی اور جہاد کے لیے آگے بڑھنے کی موجب ہیں ۔

[21] بنابریں فرمایا: ﴿يٰقَوۡمِ ادۡخُلُوا الۡاَرۡضَ الۡمُقَدَّسَةَ ﴾ ’’اے میری قوم! ارض مقدسہ میں داخل ہو جاؤ‘‘ یعنی سرزمین پاک میں ﴿الَّتِيۡ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمۡ﴾ ’’جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دی ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایسی خبر سے آگاہ فرمایا کہ اگر وہ مومن اور اللہ تعالیٰ کی خبر کی تصدیق کرنے والے ہوتے تو یقینا ان کے دل اس خبر سے مطمئن ہو جاتے کہ اللہ تعالیٰ نے ارض مقدس میں ان کا داخل ہونا اور اپنے دشمن پر فتح حاصل …

Al-Maaida 5:20Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.