يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱذْكُرُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ هَمَّ قَوْمٌ أَن يَبْسُطُوٓا۟ إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ فَكَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنكُمْ ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ ۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُؤْمِنُونَ
اے ایمان والو! خدا نے جو تم پر احسان کیا ہے اس کو یاد کرو۔ جب ایک جماعت نے ارادہ کیا کہ تم پر دست درازی کریں تو اس نے ان کے ہاتھ روک دیئے اور خدا سے ڈرتے رہوں اور مومنو کو خدا ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے
خلاصہ تفسیر - اے ایمان والو اللہ تعالیٰ کے انعام کو یاد کرو جو تم پر ہوا ہے، جب کہ ایک قوم (یعنی کفار قریش ابتدائے اسلام میں جب کہ مسلمان ضعیف تھے) اس فکر میں تھے کہ تم پر (اس طرح) دست درازی کریں (کہ تمہارا خاتمہ ہی کردیں) سو اللہ تعالیٰ نے ان کا قابو تم پر (اس قدر) نہ چلنے دیا (اور آخر میں تم کو غالب کردیا۔ پس اس نعمت کو یاد کرو) اور (احکام کے امتثال میں) اللہ تعالیٰ سے ڈرو (کہ اس نعمت کا یہ شکریہ ہے) اور (آئندہ بھی) اہل ایمان کو حق تعالیٰ پر اعتماد رکھنا چاہیے (جس نے پہلے تمہارے سب کام بنائے ہیں آئندہ بھی آخرت تک امید رکھو اتقوا اللہ میں خوف دلایا اور امر بالتوکل میں امید اور یہی دو عمل معین امتثال ہیں) اور اللہ تعالیٰ نے (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واسطے سے) بنی اسرائیل سے (بھی) عہد لیا تھا (جس کا بیان عنقریب آتا ہے) اور (ان عہود کی تاکید کے لئے) ہم نے ان میں سے (موافق عدد ان کے قبائل کے) بارہ سردار مقرر کئے (کہ ہر ہر قبیلہ پر ایک ایک سردار رہے جو اپنے ماتحتوں پر ہمیشہ ایفاء عہود کی تاکید رکھے) اور (مزید تاکید عہد کے لئے ان سے) اللہ تعالیٰ نے یوں (بھی) فرمایا دیا کہ میں تمہارے پاس ہوں (تمہارے برے بھلے کی سب مجھ کو خبر رہے گی، مطلب یہ ہے کہ عہد لیا پھر اس کی تاکید در تاکید فرمائی اور اس عہد کا خلاصہ مضمون یہ تھا کہ) اگر تم نماز کی پابندی رکھو گے اور زکوٰة ادا کرتے رہو گے اور میرے سب رسولوں پر (جو آئندہ بھی نئے نئے آتے رہیں گے) ایمان لاتے رہو گے اور (دشمنوں کے مقابلہ میں) ان کی مدد کرتے رہو گے اور (علاوہ زکوٰة کے اور مصارف خیر میں بھی صرف کرکے) اللہ تعالیٰ کو اچھے طور پر (یعنی اخلاص کے ساتھ) قرض دیتے رہو گے تو میں ضرور تمہارے گناہ تم سے دور کر دوں گا اور ضرور تم کو (بہشت کے) ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے (محلات کے) نیچے نہریں جاری ہوں گی اور جو شخص اس (عہد و پیمان لینے) کے بعد بھی کفر کرے گا تو وہ بیشک راہ راست سے دور جا پڑا۔- معارف و مسائل - سورة مائدہ کی ساتویں آیت جو پہلے گزر چکی ہے، اس میں حق تعالیٰ نے مسلمانوں سے ایک عہد و میثاق لینے اور ان کے ماننے اور تسلیم کرلینے کا ذکر فرمایا ہے۔ واذکروا نعمة اللّٰہ علیکم ومیثاقہ تا واتقوا اللّٰہ۔ یہ میثاق خدا اور رسول کی اطاعت اور احکام شرعیہ کے اتباع کا میثاق ہے۔ جس کا اصطلاحی عنوان کلمہ لا اللّٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ ہے۔ اور ہر کلمہ گو مسلمان اس میثاق کا پابند ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں میثاق کی بعض اہم دفعات یعنی خاص خاص احکام شرعیہ کا بیان فرمایا ہے جس میں دوست دشمن سب کے لئے عدل و انصاف اور رواداری کی تعلیم دی گئی ہے۔ یہ میثاق خود بھی اللہ تعالیٰ کا ایک بڑا انعام ہے، اسی لئے اس کو اذکرو نعمۃ اللہ سے شروع کیا گیا ہے۔- آیت مذکورہ کو پھر اسی جملہ اذکروا نعمت اللّٰہ علیکم سے شروع کرکے یہ بتلانا منظور ہے کہ مسلمانوں نے اپنے اس عہد و میثاق کی پابندی کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا و آخرت میں قوت و بلندی اور درجات عالیہ عطاء فرمائے اور دشمنوں کے ہر مقابلہ میں ان کی امداد فرمائی۔ دشمنوں کا قابو ان پر نہ چلنے دیا۔- اس آیت میں خاص طور پر اس کا ذکر ہے کہ دشمنوں نے بارہا رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کے مٹا دینے اور قتل و غارت کردینے کے منصوبے بنائے اور تیاریاں کیں، مگر اللہ تعالیٰ نے سب کو خائب و خاسر کردیا۔ ارشاد ہے کہ ” ایک قوم اس فکر میں تھی کہ تم پر دست درازی کرے، مگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ہاتھ تم سے روک دیئے “۔- مجموعی حیثیت سے تو ایسے واقعات تاریخ اسلام میں بیشمار ہیں کہ کفار کے منصوبے فضل خداوندی سے خاک میں مل گئے۔ لیکن بعض خاص خاص اہم واقعات بھی ہیں جن کو حضرات مفسرین نے اس آیت کا مصداق قرار دیا ہے۔ مثلاً مسند الرزاق میں حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ …