Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi

Ayahs 111–120 of 120

111

وَإِذْ أَوْحَيْتُ إِلَى ٱلْحَوَارِيِّۦنَ أَنْ ءَامِنُوا۟ بِى وَبِرَسُولِى قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا وَٱشْهَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ

اور جب میں نے حواریوں کی طرف حکم بھیجا کہ مجھ پر اور میرے پیغمبر پر ایمان لاؤ وہ کہنے لگے کہ (پروردگار) ہم ایمان لائے تو شاہد رہیو کہ ہم فرمانبردار ہیں

وَاِذْ اَوْحَيْتُ اِلَى الْحَوَارِيّٖنَ ۔۔ : یہ بھی اللہ تعالیٰ کا عیسیٰ (علیہ السلام) پر احسان تھا کہ حواریوں کو ان کا مخلص ساتھی اور مددگار بنادیا۔ حواری کے قریب قریب وہی معنی ہیں جو ہمارے ہاں انصار کے ہیں۔ یہاں ” اوحینا “ کا معنی انبیاء والی وحی نہیں بلکہ الہام ہے، جو غیر انبیاء کو بھی ہوتا ہے اور اس پر بھی وحی کا لفظ بول دیا جاتا ہے، جیسے فرمایا : (وَاَوْحَيْنَآ اِلٰٓى اُمِّ مُوْسٰٓى) [ القصص : ٧ ] ” اور ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف وحی کی۔ “ حالانکہ قرآن مجید میں صاف آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مردوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا (کوئی عورت نبی نہیں ہوئی) ۔ دیکھیے سورة انبیاء (٧) اسی طرح فرمایا : (وَاَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ ) [ النحل : ٦٨ ] ” اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی فرمائی۔ “

Al-Maaida 5:111Listen in Qur'an →
112

إِذْ قَالَ ٱلْحَوَارِيُّونَ يَٰعِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ هَلْ يَسْتَطِيعُ رَبُّكَ أَن يُنَزِّلَ عَلَيْنَا مَآئِدَةًۭ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ ۖ قَالَ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

(وہ قصہ بھی یاد کرو) جب حواریوں نے کہا کہ اے عیسیٰ بن مریم! کیا تمہارا پروردگار ایسا کر سکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے (طعام کا) خوان نازل کرے؟ انہوں نے کہا کہ اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا سے ڈرو

اِذْ قَالَ الْحَوَارِيُّوْنَ ۔۔ : حواری اللہ اور رسول پر ایمان رکھتے تھے، جیسا کہ اوپر کی آیت میں مذکور ہے، اس لیے ان کا یہ سوال اللہ کی قدرت پر شک و شبہ کے طور پر نہ تھا، بلکہ دلی اطمینان حاصل کرنے کے لیے تھا، جیسا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے مردوں کو زندہ کرنے کے متعلق سوال کیا تھا۔ (ابن کثیر) اور یہ الفاظ کہ کیا تیرا رب یہ کرسکتا ہے، ان کا مطلب یہ نہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے باہر ہے، بلکہ مطلب یہ پوچھنا تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف تو نہیں، یا اس میں کوئی مانع تو نہیں ؟ ” مائدہ “ وہ بڑا تھال جس پر کھانا رکھا ہو۔ اب اس تھال اور کھانے دونوں پر مائدہ کا لفظ بولا جاتا ہے۔ (راغب) - قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ ۔۔ : کیونکہ ایسے معجزات معین کر کے طلب کرنا حکم چلانے اور سرکشی کرنے کا معنی رکھتا ہے، اس لیے اللہ سے ڈرو اور ایسا سوال نہ کرو۔ (کبیر) شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” ڈرو اللہ سے “ یعنی بندے کو چاہیے کہ اللہ کو نہ آزمائے کہ میرا کہا مانتا ہے یا نہیں، اگرچہ مالک بہت زیادہ مہربانی کرے۔ “ (موضح) ایک مطلب یہ ہے کہ اپنے اندر تقویٰ پیدا کرو اور اسے مائدہ حاصل کرنے کا ذریعہ بناؤ، جیسے فرمایا : ( وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا، وَّيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۭ ) [ الطلاق : ٢، ٣ ] ” اور جو اللہ سے ڈرے گا وہ اس کے لیے نکلنے کا کوئی راستہ بنا دے گا اور اسے رزق دے گا جہاں سے وہ گمان نہیں کرتا۔ “ (ابن کثیر)

Al-Maaida 5:112Listen in Qur'an →
113

قَالُوا۟ نُرِيدُ أَن نَّأْكُلَ مِنْهَا وَتَطْمَئِنَّ قُلُوبُنَا وَنَعْلَمَ أَن قَدْ صَدَقْتَنَا وَنَكُونَ عَلَيْهَا مِنَ ٱلشَّٰهِدِينَ

وہ بولے کہ ہماری یہ خواہش ہے کہ ہم اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل تسلی پائیں اور ہم جان لیں کہ تم نے ہم سے سچ کہا ہے اور ہم اس (خوان کے نزول) پر گواہ رہیں

قَالُوْا نُرِيْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا : یعنی ہم یہ معجزہ ایمان لانے کی شرط کے طور پر نہیں مانگ رہے، جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) سے بنی اسرائیل نے کہا تھا : ( لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ ) [ البقرۃ : ٥٥ ] ” ہم ہرگز تیرا یقین نہیں کریں گے یہاں تک کہ ہم اللہ کو کھلم کھلا دیکھ لیں۔ “ بلکہ چند امور کے پیش نظر طلب کر رہے ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ ہم بھوکے ہیں یا برکت کے لیے کچھ کھانا چاہتے ہیں۔ - وَتَطْمَىِٕنَّ قُلُوْبُنَا : یعنی ہمیں اس بات کا اطمینان ہوجائے ( جو ایمان کا اعلیٰ درجہ ہے) اور ہم عین الیقین کے درجے کا علم حاصل کرلیں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور بنی اسرائیل کے سامنے آپ کے سچا رسول ہونے کی گواہی دے سکیں۔

Al-Maaida 5:113Listen in Qur'an →
114

قَالَ عِيسَى ٱبْنُ مَرْيَمَ ٱللَّهُمَّ رَبَّنَآ أَنزِلْ عَلَيْنَا مَآئِدَةًۭ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ تَكُونُ لَنَا عِيدًۭا لِّأَوَّلِنَا وَءَاخِرِنَا وَءَايَةًۭ مِّنكَ ۖ وَٱرْزُقْنَا وَأَنتَ خَيْرُ ٱلرَّٰزِقِينَ

(تب) عیسیٰ بن مریم نے دعا کی کہ اے ہمارے پروردگار! ہم پر آسمان سے خوان نازل فرما کہ ہمارے لیے (وہ دن) عید قرار پائے یعنی ہمارے اگلوں اور پچھلوں (سب) کے لیے اور وہ تیری طرف سے نشانی ہو اور ہمیں رزق دے تو بہتر رزق دینے والا ہے

قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَآ۔۔ : یہ انتہا درجے کی عاجزی کے ساتھ دعا ہے کہ ” اللھم “ ( اے اللہ ) کے ساتھ ” ربنا “ ( اے ہمارے پالنے والے ) بھی ملایا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نہ اللہ تھے، نہ اللہ کے بیٹے، نہ اللہ کے اختیار رکھنے والے، ان کے حواری بھی ان میں سے کسی چیز کے قائل نہ تھے، ورنہ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) سے دعا کیوں کرواتے اور عیسیٰ (علیہ السلام) بھی اتنی عاجزی کے ساتھ دعا کیوں کرتے، بلکہ ان کے حواری خود ان سے مائدہ کا مطالبہ کرتے اور وہ خود ہی پورا کردیتے۔- تَكُوْنُ لَنَا عِيْدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا : علماء نے اس سے استدلال کیا ہے کہ وہ دسترخوان اتوار کے دن اترا، کیونکہ وہ نصرانیوں کی عید ہے، سبت یہودیوں کی، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عید کا دن جمعہ تھا مگر یہودیوں اور نصرانیوں نے اصل دن میں اختلاف کیا اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرمان پر کسی چون و چرا کے بغیر جمعہ کو تسلیم کرلیا۔ [ دیکھیے مسلم، الجمعۃ، باب ھدایۃ ھذہ الأمۃ۔۔ : ٨٥٦ ] لفظ عید ” عَادَ یَعُوْدُ “ سے ہے، یعنی ایسی خوشی جو بار بار لوٹ کر آئے، یہ سالانہ بھی ہوسکتی ہے اور ہفتہ وار بھی۔ مسلمانوں کی دو عیدیں سالانہ ہیں اور ایک ہر ساتویں دن عید جمعہ ہے۔ ان کے علاوہ کوئی عید قرآن و سنت سے ثابت نہیں، مثلاً عید میلاد یا عید غدیر وغیرہ، یہ سب خود ساختہ اور بدعت ہیں۔ - وَاٰيَةً مِّنْكَ ۚ: یعنی تیری توحید اور تیرے نبی کی رسالت کے حق ہونے پر دلیل قائم ہو۔ (کبیر) - وَاَنْتَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ : کیونکہ حقیقت میں تو ہی روزی دینے والا ہے، تیرے سوا ایک بھی روزی پیدا کرنے والا نہیں، سب تیرا دیا ہوا ہی کھاتے، یا کسی دوسرے کو دیتے ہیں۔

Al-Maaida 5:114Listen in Qur'an →
115

قَالَ ٱللَّهُ إِنِّى مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ ۖ فَمَن يَكْفُرْ بَعْدُ مِنكُمْ فَإِنِّىٓ أُعَذِّبُهُۥ عَذَابًۭا لَّآ أُعَذِّبُهُۥٓ أَحَدًۭا مِّنَ ٱلْعَٰلَمِينَ

خدا نے فرمایا میں تم پر ضرور خوان نازل فرماؤں گا لیکن جو اس کے بعد تم میں سے کفر کرے گا اسے ایسا عذاب دوں گا کہ اہل عالم میں کسی کو ایسا عذاب نہ دوں گا

قَال اللّٰهُ اِنِّىْ مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ ۚ ۔۔ : علماء کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ وہ دسترخوان اترا یا نہیں، اکثر علماء کا خیال ہے کہ وہ اترا، شوکانی، ابن جریر اور بہت سے علماء نے اسی کو صحیح کہا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا تاکید کے ساتھ فرمانا : (اِنِّىْ مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ ۚ )” یقیناً میں اسے تم پر اتارنے والا ہوں۔ “ یہ دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اتارا۔ جامع ترمذی میں عمار بن یاسر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” مائدہ آسمان سے گوشت روٹی کی صورت میں اترا اور انھیں حکم دیا گیا کہ وہ نہ خیانت کریں اور نہ کل کے لیے ذخیرہ کریں، مگر انھوں نے خیانت کی اور ذخیرہ کیا اور کل کے لیے اٹھا رکھا تو انھیں بندروں اور خنزیروں کی شکل میں بدل دیا گیا۔ “ [ ترمذی، تفسیر القرآن، باب و من سورة المائدۃ : ٣٠٦١ ] اگر یہ حدیث صحیح ہوتی تو کسی کو اختلاف کی مجال ہی نہ تھی، مگر شیخ ناصر الدین البانی (رض) نے اس کے حدیث رسول ہونے یا عمار بن یاسر (رض) کا قول ہونے، دونوں باتوں کو ضعیف کہا ہے۔ اس کے برعکس دوسرے علماء کا کہنا ہے کہ بعد کے الفاظ : (فَمَنْ يَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّىْٓ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّآ اُعَذِّبُهٗٓ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ ) یہ الفاظ سن کر وہ ڈر گئے اور انھوں نے دعا کا مطالبہ واپس لے لیا۔ یہ قول مجاہد اور حسن بصری کا ہے، ان کی سندوں کو ابن کثیر نے صحیح کہا ہے، مگر یہ بھی تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں کا قول ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ بات بھی ثابت نہیں۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ مائدہ اترا تھا، وہ اس کا ایک قرینہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ اس سے پہلی آیات میں اللہ نے مسیح (علیہ السلام) پر اپنے احسان شمار کیے ہیں، ان کے ساتھ اس واقعہ کو بھی بطور احسان ذکر فرمایا ہے اور آخر میں ان سے سوال کیا ہے کہ کیا تم نے میرے اتنے احسانات کے باوجود لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا معبود بنا لینا، اس لیے مائدہ کا اترنا بھی ایک احسان تھا۔ دوسرے حضرات کہہ سکتے ہیں کہ مائدہ نہ اتار کر انھیں امتحان سے بچا لینا بھی ایک احسان ہی تھا۔ بہرحال قرآن مجید کے الفاظ دونوں صورتوں کا احتمال رکھتے ہیں اور اصل حقیقت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ - شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” شاید عیسیٰ (علیہ السلام) کی اس دعا کا اثر ہے کہ اس کی امت میں مال کی آسودگی ہمیشہ رہی اور جو کوئی ان میں نا شکری کرے تو شاید آخرت میں سب سے زیادہ عذاب پائے۔ “ مگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری کے بعد عیسیٰ (علیہ السلام) کا امتی وہی ہے جو اسلام قبول کرلے، دوسرے لوگوں کا اپنے آپ کو مسیح (علیہ السلام) کا امتی کہلانا سینہ زوری ہے، کیونکہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے واضح طور پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کا حکم دیا ہے۔ اب تمام دنیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی کی امت ہے، خواہ وہ امت اجابت ہو یا امت دعوت۔ رہا دنیا کا مال تو وہ کبھی کسی کے پاس زیادہ ہوتا ہے، کبھی کسی کے پاس، اس کا ایمان و کفر کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاۗءِ وَهٰٓؤُلَاۗءِ مِنْ عَطَاۗءِ رَبِّكَ ۭ ) [ بنی إسرائیل : ٢٠ ] ” ہم ہر ایک کی مدد کرتے ہیں، ان کی اور ان کی بھی، تیرے رب کی بخشش سے۔ “ اور فرمایا : (ۭ وَتِلْكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُھَا بَيْنَ النَّاسِ ۚ ) [ آل عمران : ١٤٠ ] ” اور یہ تو دن ہیں، ہم انھیں لوگوں کے درمیان باری باری بدلتے رہتے ہیں۔ “

Al-Maaida 5:115Listen in Qur'an →
116

وَإِذْ قَالَ ٱللَّهُ يَٰعِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ ءَأَنتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ ٱتَّخِذُونِى وَأُمِّىَ إِلَٰهَيْنِ مِن دُونِ ٱللَّهِ ۖ قَالَ سُبْحَٰنَكَ مَا يَكُونُ لِىٓ أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِى بِحَقٍّ ۚ إِن كُنتُ قُلْتُهُۥ فَقَدْ عَلِمْتَهُۥ ۚ تَعْلَمُ مَا فِى نَفْسِى وَلَآ أَعْلَمُ مَا فِى نَفْسِكَ ۚ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّٰمُ ٱلْغُيُوبِ

اور (اس وقت کو بھی یاد رکھو) جب خدا فرمائے گا کہ اے عیسیٰ بن مریم! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا مجھے اور میری والدہ کو معبود مقرر کرو؟ وہ کہیں گے کہ تو پاک ہے مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں اگر میں نے ایسا کہا ہوگا تو تجھ کو معلوم ہوگا (کیونکہ) جو بات میرے دل میں ہے تو اسے جانتا ہے اور جو تیرے ضمیر میں ہے اسے میں نہیں جانتا بےشک تو علاّم الغیوب ہے

وَاِذْ قَال اللّٰهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ ۔۔ : اس کا تعلق اوپر کی آیت : (اِذْ قَال اللّٰهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِيْ ) کے ساتھ ہے، گویا پہلے بطور تمہید عیسیٰ (علیہ السلام) پر اپنے انعامات شمار کیے اور اب اصل مقصد شروع ہو رہا ہے۔ یہ سوال قیامت کے دن ہوگا، کیونکہ آگے چل کر آ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : (هٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصّٰدِقِيْنَ ) اس خطاب سے مقصود عیسیٰ (علیہ السلام) کو ڈانٹنا نہیں ہوگا، بلکہ ان کو ڈانٹنا مقصود ہوگا جنھوں نے مسیح (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کو معبود بنا لیا۔ تاکہ وہ جان لیں کہ انھوں نے جس مسیح اور اس کی ماں کو معبود اور حاجت روا بنایا وہ تو خود اللہ کی بارگاہ میں جواب دہ ہوں گے اور امت کے شرک کی وجہ سے ان سے باز پرس ہوگی۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ نصرانیوں نے مسیح (علیہ السلام) کے ساتھ ان کی والدہ کو بھی معبود بنا لیا، تیسری یہ کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ بھی ” ِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ “ ( اللہ کے سوا) ہیں، صرف پتھر یا لکڑی یا کسی دھات کے بنے ہوئے بت ہی ” ِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ “ نہیں، جنھیں پکارنے سے آدمی مشرک ہوجاتا ہے، جیسا کہ آج کل کے قبر پرست لوگوں کو یہ کہہ کر گمراہ کرتے ہیں کہ انبیاء و اولیاء ” مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ “ نہیں، ان سے مرادیں مانگنا اور فریاد کرنا جائز ہے، یہ بات سراسر غلط ہے، کیونکہ ” ِمِنْ دُوْنِ اللّٰهِ “ میں مسیح (علیہ السلام) ، ان کی والدہ ماجدہ اور تمام انبیاء و صلحاء شامل ہیں، ان میں سے کسی کو حاجت روا، مشکل کشا اور خدائی اختیارات کا مالک سمجھنا صاف شرک اکبر ہے، جس کی اللہ تعالیٰ کے ہاں معافی ہے ہی نہیں۔ - سُبْحٰنَكَ : تو ہر شریک سے پاک ہے، پھر میں اور میری والدہ تیرے شریک کیسے ہوسکتے ہیں۔ - مَا يَكُوْنُ لِيْٓ اَنْ اَقُوْلَ ۔۔ : یعنی میں تو تیرے بندوں میں سے ایک بندہ ہوں، پھر بندے کی کیا مجال کہ اپنے آقا کے مقابلے میں خدائی کا دعویٰ کرے۔ - اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ ۭ: یعنی بالفرض میں نے ایسی کوئی بات کہی بھی ہو تو تجھے ضرور اس کا علم ہوگا، کیونکہ تجھ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ - تَعْلَمُ مَا فِيْ نَفْسِيْ ۔۔ : جب تو میرے دل کی بات جانتا ہے تو زبان سے نکالی ہوئی کیوں نہ جانے گا ؟ اس آیت سے اللہ تعالیٰ کے لیے نفس ثابت ہوتا ہے۔- اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ : تیرے سوا کسی کو علم غیب نہیں، جس بندے کے پاس جو بھی علم ہے وہ سب تیرا ہی عطا کردہ ہے، کسی اور کا علم تیرے علم کے مقابلے میں اتنی حیثیت بھی نہیں رکھتا جتنی سمندر کے مقابلے میں پانی کا ایک قطرہ اور جسے اتنا ہی علم ہو جو اسے بتایا گیا ہے وہ عالم الغیب نہیں، عالم الغیب تو وہ ہے جو کسی کے بتائے بغیر سب کچھ جانتا ہے اور وہ فقط تیری ذات پاک ہی ہے۔

Al-Maaida 5:116Listen in Qur'an →
117

مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَآ أَمَرْتَنِى بِهِۦٓ أَنِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ رَبِّى وَرَبَّكُمْ ۚ وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًۭا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ ۖ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى كُنتَ أَنتَ ٱلرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنتَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ شَهِيدٌ

میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تو نے مجھے حکم دیا ہے وہ یہ کہ تم خدا کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا پروردگار ہے اور جب تک میں ان میں رہا ان (کے حالات) کی خبر رکھتا رہا جب تو نے مجھے دنیا سے اٹھا لیا تو تو ان کا نگران تھا اور تو ہر چیز سے خبردار ہے

اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ ۔۔ : یعنی صرف اللہ ہی کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا رب ہے۔ - فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي : اس آیت سے قادیانی استدلال کرتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) فوت ہوچکے ہیں، یہ نہیں دیکھتے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) یہ بیان قیامت کے دن دیں گے جب وہ زمین پر آنے کے بعد اپنی عمر پوری کر کے فوت ہوچکے ہوں گے۔ اگر اصرار کیا جائے کہ ” تَوَفَّيْتَنِي “ سے مراد پہلا وقت ہے، جب انھیں آسمان پر اٹھایا گیا تھا تو معلوم ہونا چاہیے کہ لفظ وفات قرآن پاک میں تین معنی میں آیا ہے، ایک موت، جیسے : (اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا) [ الزمر : ٤٢ ] ” اللہ جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے۔ “ دوسرے نیند، جیسے : (وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ ) [ الأنعام : ٦٠ ] ” اور وہی ہے جو تمہیں رات کو قبض کرلیتا ہے۔ “ تیسرے جسم سمیت اٹھا کرلے جانا، جیسے یہاں ہے اور سورة آل عمران (٥٥) اور سورة نساء (١٥٨) میں ہے۔ - كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ ۭ۔۔ : یعنی میں تو اس وقت تک کے ان کے ظاہری اعمال کی شہادت دے سکتا ہوں جب تک میں ان کے اندر موجود تھا، جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو پھر تو ہی ان پر نگران تھا اور تو ہر چیز پر شہید ہے، یعنی ان میں میری موجودگی کے وقت بھی تو ہی شہید تھا اور میرے الگ ہونے کے بعد بھی تو ہی شہید ہے۔ شہید اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ہے۔ شہادت دیکھنے، سننے اور جاننے کے معنی میں بھی ہوسکتی ہے اور کلام کے ساتھ شہادت دینے کے معنی میں بھی۔ (کبیر) مگر دوسروں کے حق میں مطلق شہید یا شاہد کا لفظ (جب کہ کوئی خاص قرینہ نہ ہو) تو کلام کے ساتھ شہادت کے معنی ہی میں استعمال ہوتا ہے۔ اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ ہر چیز اور ہر شخص کی ہر وقت خبر رکھنے والا ایک اللہ ہی ہے۔ عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” قیامت کے دن میری امت کے کچھ آدمیوں کو لایا جائے گا تو انھیں بائیں طرف کردیا جائے گا، میں کہوں گا : ” یہ تو میرے ساتھی ہیں۔ “ تو کہا جائے گا : ” تو نہیں جانتا کہ انھوں نے تیرے بعد کیا نیا کام شروع کردیا تھا۔ “ تب میں بھی اسی طرح کہوں گا جیسے اللہ کے نیک بندے ( عیسیٰ (علیہ السلام ) کہیں گے : (وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ ۚ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ ۭواَنْتَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ) پھر کہا جائے گا کہ جب سے آپ ان سے جدا ہوئے یہ اپنی ایڑیوں پر پھرنے والے (مرتد) ہی رہے۔ “ [ بخاری، التفسیر، باب : ( وکنت - علیہم۔۔ ) : ٤٦٢٥ ]

Al-Maaida 5:117Listen in Qur'an →
118

إِن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۖ وَإِن تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ

اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر بخش دے تو (تیری مہربانی ہے) بےشک تو غالب اور حکمت والا ہے

اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۚ۔۔ : اس آیت کے مطابق عیسیٰ (علیہ السلام) نہایت حکیمانہ طریقے سے ان کی سفارش کریں گے۔ پہلے اللہ کی کبریائی بیان کرتے ہوئے کہیں گے کہ اگر تو انھیں عذاب دے گا تو یہ تیرے بندے ہی ہیں، نہ دم مار سکتے ہیں نہ بھاگ کر کہیں جاسکتے ہیں اور اگر تو انھیں معاف ہی فرما دے تو تو ہر کام پر غالب ہے اور تیرا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔ ابوذر (رض) فرماتے ہیں : ” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک مرتبہ ساری رات صبح تک (نماز میں) اسی آیت کو بار بار پڑھتے رہے۔ “ [ نسائی، الافتتاح، باب تردید الآیۃ : ١٠١١ ]

Al-Maaida 5:118Listen in Qur'an →
119

قَالَ ٱللَّهُ هَٰذَا يَوْمُ يَنفَعُ ٱلصَّٰدِقِينَ صِدْقُهُمْ ۚ لَهُمْ جَنَّٰتٌۭ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًۭا ۚ رَّضِىَ ٱللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا۟ عَنْهُ ۚ ذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ

خدا فرمائے گا کہ آج وہ دن ہے کہ راست بازوں کو ان کی سچائی ہی فائدہ دے گی ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ابدالآباد ان میں بستے رہیں گے خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں یہ بڑی کامیابی ہے

قَال اللّٰهُ هٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصّٰدِقِيْنَ صِدْقُهُمْ ۭ: سب سے بڑا ظلم اور جھوٹ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانا اور کفر کرنا ہے اور سب سے بڑا سچ اور انصاف اللہ تعالیٰ کی توحید اور ایمان ہے، یعنی اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ یہ وہ دن ہے کہ سچوں کو ان کا سچ نفع دے گا۔ یعنی مشرکین کی معافی اور بخشش کی کوئی صورت نہ ہوگی، البتہ توحید والوں کو ان کی توحید ضرور نفع پہنچائے گی، خواہ کتنے گناہ گار ہوں۔ چناچہ ابوذر (رض) بیان فرماتے ہیں کہ ایک رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح تک اس آیت کو نماز میں پڑھتے رہے : (اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۚ وَاِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ) [ المائدۃ : ١١٨ ] ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے صبح کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ آپ اس آیت کو ساری رات پڑھتے رہے، یہاں تک کہ اپنے رکوع اور سجدے میں بھی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اس آیت کو بار بار پڑھ کر میں نے اللہ تعالیٰ سے شفاعت کی التجا کی تھی اور اللہ تعالیٰ نے میری التجا قبول کرلی ہے، میری امت میں سے جو شخص بغیر شرک کی حالت میں مرے گا اس کو میری شفاعت نصیب ہوگی۔ “ [ أحمد : ٥؍١٤٩، ح : ٢١٣٨٦ ] ” الصّٰدِقِيْن “ کے لیے مزید دیکھیے سورة بقرہ (١٧٧) ، سورة زمر (٣٣) اور سورة حجرات (١٥) ۔ - ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْم : اس کے مقابلے میں دنیا کی بڑی سے بڑی کامیابی بھی کوئی وقعت نہیں رکھتی۔

Al-Maaida 5:119Listen in Qur'an →
120

لِلَّهِ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا فِيهِنَّ ۚ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۢ

آسمان اور زمین اور جو کچھ ان (دونوں) میں ہے سب پر خدا ہی کی بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

سورت کے آخر میں نصاریٰ کی تردید کے سلسلہ میں یہ خاتمہ نہایت مناسب ہے، یعنی اکیلا وہی زمین و آسمان کی تمام چیزوں کا (جن میں انسان بھی ہیں) بادشاہ ہے اور یہ حق بھی اسی کا ہے کہ اس کی بندگی کی جائے، عیسیٰ (علیہ السلام) ہوں یا ان کی والدہ یا روح القدس، سب اس کے بندے ہیں، جو کسی طرح معبود ہونے میں اس کے شریک قرار نہیں دیے جاسکتے۔

Al-Maaida 5:120Listen in Qur'an →

Commentary: Tafseer al Quran by Abdul Salam Bhatvi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.