Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb

Ayahs 111–120 of 120

111

وَإِذْ أَوْحَيْتُ إِلَى ٱلْحَوَارِيِّۦنَ أَنْ ءَامِنُوا۟ بِى وَبِرَسُولِى قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا وَٱشْهَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ

اور جب میں نے حواریوں کی طرف حکم بھیجا کہ مجھ پر اور میرے پیغمبر پر ایمان لاؤ وہ کہنے لگے کہ (پروردگار) ہم ایمان لائے تو شاہد رہیو کہ ہم فرمانبردار ہیں

(آیت) ” نمبر 109 تا 111۔

یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ پر ہونے والی انعامات کی یاد دہانی ہے ۔ یہ کہ روح القدس کے ذریعہ ان کی امداد کی گئی ۔ یہ کہ گہوارے کے اندر انہیں لوگوں کے ساتھ بات کرنے کی قدرت دی گئی اور اس طرح انہوں نے اپنی ماں کو تہمتوں سے بری الذمہ قرار دیا ۔ کیونکہ ان کی بےمثال ولادت کی وجہ سے لوگوں کے ذہنوں میں بیشمار شبہات پیدا ہوگئے تھے اور پھر بڑے ہو کر بھی ان سے ہم کلام ہوئے اور انہیں دعوت الی اللہ دی ۔ دعوت اسلامی میں بھی حضرت جبرائیل ان کی تائید کرتے رہے اور آپ کو کتاب کی تعلیم دیتے رہے ۔ جب وہ اس جہان پر اترے تھے تو ان کے پاس کوئی علم نہ تھا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں لکھنا سکھایا ‘ انہیں معاملات کے اندر فیصلے کرنے کی حکمت عطا کی ۔ اللہ نے انہیں تورات کا علم بھی عطا کیا ‘ جو بنی اسرائیل کے پاس موجود تھی ۔ انجیل کا علم بھی دیا جو ان پر نازل ہوئی اور اس نے بھی تورات کی تصدیق کی ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انکو ایسے خارق العادات معجزات دیئے جن کا صدور اذن الہی کے سوا ممکن نہ تھا ۔ دیکھئے کہ وہ کیچڑ پرندہ بناتے ہیں اور پھر یہ اذن الہی سے ہوتا ہے کہ آپ اس کے منہ میں پھونکتے ہیں اور وہ زندہ ہوجاتا ہے ۔ ہمیں ان معجزات کی ماہیت کا پتہ نہیں ہے ‘ اس لئے کہ ہم تو آج تک یہ نہیں جان سکے کہ حیات کی حقیقت کیا ہے ؟ اور یہ حیات زندہ چیزوں کے اندر کس طرح پھیل جاتی ہے ۔ اب دیکھئے مادر زاد اندھا آتا ہے اور اللہ کے حکم سے اسے بینائی ملتی ہے جبکہ آج تک اطباء اس بات کو پا نہیں سکے کہ مادر زاد اندھے کو بینائی کس طرح مل گئی ۔ لیکن اللہ جس نے بینائی کا اصل نظام پیدا کیا وہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ کسی کو از سر نو بینائی دے دے ۔ مرض کا علاج آپ بغیر کسی دوائی کے کرتے تھے ۔ دوا تو ایک وسیلہ ہے جب کا اثر بھی اللہ کے اذن سے ہوتا ہے لیکن اللہ کے حکم سے وسیلہ بدل بھی سکتا ہے ‘ اور اللہ بلاوسیلہ براہ راست بھی ایک حقیقت کو وجود میں لا سکتا ہے ۔ اللہ اپنے حکم سے مردے کو زندہ کرسکتا ہے ‘ وہ زندگی بخشنے والا ہے ۔ وہ دوبارہ بھی زندہ کرسکتا ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہ یاد دہانی کراتے ہیں کہ وہ دلائل وبینات اور خوارق ومعجزات لے کر بنی اسرائیل کے پاس آئے اور انہوں نے پھر بھی آپ کو جھٹلایا اور انہوں نے یہ پروپیگنڈا کیا کہ یہ معجزات واضح سحر ہے ۔ اس لئے کہ وہ ان معجزات کے وقوع کا انکار تو کر نہ سکتے تھے ۔ ہزاروں انسانوں نے ان معجزات کو دیکھا ہوا تھا ۔ یہ لوگ محض عناد اور غرور کی وجہ سے ان معجزات کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ تھے ۔ پھر انہوں نے آپ کو قتل کرنا چاہا تو اللہ نے آپ کو بچایا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یاد دلاتے ہیں کہ ایسے مشکل حالات میں حواریوں نے جرات کی اور وہ ایمان لائے اور شہادت دی اور صحیح مسلمان بن گئے اور اللہ کو گواہ ٹھہرایا کہ وہ سرتسلیم خم کرنے والے ہیں ۔

(آیت) ” وَإِذْ أَوْحَیْْتُ إِلَی الْحَوَارِیِّیْنَ أَنْ آمِنُواْ بِیْ وَبِرَسُولِیْ قَالُوَاْ آمَنَّا وَاشْہَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ (111)

” اور جب میں نے حواریوں کو اشارہ کیا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ تب انہوں نے کہا ” ہم ایمان لائے اور گواہ روہ کہ ہم مسلم ہیں۔ یہ ہیں وہ انعامات جو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) پر کیے اور یہ ان کے لئے شواہد وبینات تھے لیکن ان کے متبعین کی اکثریت کے لئے یہ گمراہی اور ضلالت کا باعث بن گئے اور ان کی وجہ سے انہوں نے عظیم گمراہیاں گھڑ لیں اور دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے عالم بالا کے اس منظر میں اس کی جواب طلبی کرتے ہیں ‘ اس منظر میں انبیاء ورسل موجود ہیں اور تمام دنیا کے لوگ بھی حاضر ہیں ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تمام قوم بھی موجود ہے ۔ ان کے سامنے یہ حقائق پیش کئے جاتے …

Al-Maaida 5:111Listen in Qur'an →
112

إِذْ قَالَ ٱلْحَوَارِيُّونَ يَٰعِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ هَلْ يَسْتَطِيعُ رَبُّكَ أَن يُنَزِّلَ عَلَيْنَا مَآئِدَةًۭ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ ۖ قَالَ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

(وہ قصہ بھی یاد کرو) جب حواریوں نے کہا کہ اے عیسیٰ بن مریم! کیا تمہارا پروردگار ایسا کر سکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے (طعام کا) خوان نازل کرے؟ انہوں نے کہا کہ اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا سے ڈرو

(آیت) ” نمبر 112 تا 115۔

اس گفتگو سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کا مزاج کیسا تھا اور ان میں سے مخلص لوگ کس مزاج کے تھے یعنی آپ کے حواری ۔ ان حواریوں اور ہمارے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ اجمعین کے درمیان بہت بڑا فرق تھا ۔ ان حواریوں کے دلوں میں اللہ نے بطور الہام ایمان کا القاء کردیا تھا ۔ وہ ایمان لائے اور انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے ایمان پر گواہ ٹھہرایا ۔ ان حقائق کے ساتھ ساتھ اب دیکھئے کہ اس الہام اور معجزات کے دیکھے ہوئے وہ پھر ایک نئے معجزے کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ ان کے دل مطمئن ہوجائیں اور وہ جان لیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سچے ہیں اور اب وہ عیسیٰ کے بعد اس دعوت کو پھیلائیں گے ۔

اصحاب محمد ﷺ کا حال یہ ہے کہ اسلام لانے کے بعد وہ آپ سے کوئی ایک معجزہ بھی طلب نہیں کرتے ۔ جونہی ان کے دلوں میں ایمان داخل ہوا اور وہ مطمئن ہوگئے ۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کی اور اس تصدیق پر انہوں نے کسی برہان و دلیل کا مطالبہ نہیں کیا انہوں نے حقانیت رسول کی شہادت صرف قرآن کو پڑھ کر دے دی ۔

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کے حورایوں کے درمیان یہ ایک عظیم فرق ہے ۔ وہ ایک سطح پر ہیں اور یہ دوسری سطح پر ہیں ۔ لیکن یہ بھی مسلمان ہیں اور وہ بھی مسلمان ہیں ۔ یہ بھی اللہ کے ہاں برگزیدہ ہیں اور وہ بھی برگزیدہ ہیں لیکن جس طرح اللہ نے چاہ دونوں کی سطح میں بہت ہی فرق رکھا بہت بڑا فرق ۔

” کھانے کے اس خوان کا ذکر قرآن میں ہوا ہے لیکن نصاری کے لٹریچر میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے ۔ نہ ان اناجیل میں اس کا ذکر ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لکھی گئیں اگرچہ بہت بعد میں لکھی گئیں ۔ اس قدر طویل عرصے میں نہیں کہا جاسکتا کہ ان کے اندر واقعات کی صحیح رپورٹنگ کی گئی ہوگی ۔ نیز ان اناجیل کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض علماء نے ان روایات کو نقل کیا ہے اور ان میں انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی سیرت کے واقعات نقل کئے ہیں ۔ اس لئے یہ روایات اس کلام پر مشتمل نہیں جو اللہ نے اتارا تھا اور اس کا نام انجیل رکھا تھا ۔

البتہ ان اناجیل میں اس خوان کے قصے کو دوسرے انداز میں نقل کیا ہے ” متی کی انجیل کے اصحاح 15 کے آخر میں آتا ہے ۔ یسوع نے اپنے شاگردوں کو بلایا اور کہا مجھے سب کے بارے میں اندیشہ ہے کیونکہ ان کے لئے صرف تین دن ہیں جو میرے ساتھ چلیں گے اور ان کے پاس خوراک بھی نہیں ہے ۔ اور میں یہ بھی نہیں کرسکتا کہ انہیں روزے کی حالت میں واپس کروں کیونکہ راستے میں ان کے پریشانی ہوگی ۔ ان میں سے اس کے تلامذہ نے کہا ہماری تعداد زیادہ ہے اور ہم کہاں سے کھانا پاسکتے ہیں ۔ ان سے یسوع نے کہا تمہارے پاس کس قدر روٹیاں ہیں ۔ انہوں نے کہا : سات روٹیاں اور کچھ چھوٹی مچھلیاں ۔ آپ نے سب سے کہا کہ وہ زمین پر سہارا لے کر بیٹھ جائیں ۔ آپ نے روٹی اور مچھلیاں لیں ۔ شکر ادا کیا اور انہیں توڑا ۔ انہوں نے یہ روٹیاں شاگردوں کو دیں اور انہوں نے سب کو کھلائی اور سب سیر ہوگئے اور جب روٹیاں اٹھائیں تو سات تھال بھرے ہوئے تھے اور کھانے والے چار ہزار تھے جن میں عورتوں اور بچوں کا شمار نہ کیا گیا تھا ‘ ایسی ہی روایات دوسری اناجیل میں بھی آئی ہیں ۔

بعض تابعین کا خیال ہے کہ یہ مائدہ نہیں اترا ۔ مجاہد اور حسن اس طرف گئے ہیں ‘ کیونکہ جب حواریوں نے یہ سنا ” میں اتارنے والا ہوں لیکن اس کے بعد جس نے کفران نعمت کیا تو اسے میں ایسی سزا دوں گا جیسی تمام جہان والوں میں کسی کو نہ دی گئی تھی ۔ “ تو وہ ڈر گئے اور انہوں نے اپنا یہ مطالبہ واپس لے لیا تھا ۔

علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں ” لیث نے بذریعہ ابن سلیم مجاہد سے یہ روایت کی ہے کہ یہ ایک مثال تھی جو اللہ نے یہاں بیان کی ورنہ کوئی طعام اترا نہیں تھا ۔ “ ابن جریر نے حارث ‘ قاسم ‘ حجاج ابن جریج کے ذریعہ مجاہد سے یہ …

Al-Maaida 5:112Listen in Qur'an →
113

قَالُوا۟ نُرِيدُ أَن نَّأْكُلَ مِنْهَا وَتَطْمَئِنَّ قُلُوبُنَا وَنَعْلَمَ أَن قَدْ صَدَقْتَنَا وَنَكُونَ عَلَيْهَا مِنَ ٱلشَّٰهِدِينَ

وہ بولے کہ ہماری یہ خواہش ہے کہ ہم اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل تسلی پائیں اور ہم جان لیں کہ تم نے ہم سے سچ کہا ہے اور ہم اس (خوان کے نزول) پر گواہ رہیں

(آیت) ” نمبر 112 تا 115۔

اس گفتگو سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کا مزاج کیسا تھا اور ان میں سے مخلص لوگ کس مزاج کے تھے یعنی آپ کے حواری ۔ ان حواریوں اور ہمارے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ اجمعین کے درمیان بہت بڑا فرق تھا ۔ ان حواریوں کے دلوں میں اللہ نے بطور الہام ایمان کا القاء کردیا تھا ۔ وہ ایمان لائے اور انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے ایمان پر گواہ ٹھہرایا ۔ ان حقائق کے ساتھ ساتھ اب دیکھئے کہ اس الہام اور معجزات کے دیکھے ہوئے وہ پھر ایک نئے معجزے کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ ان کے دل مطمئن ہوجائیں اور وہ جان لیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سچے ہیں اور اب وہ عیسیٰ کے بعد اس دعوت کو پھیلائیں گے ۔

اصحاب محمد ﷺ کا حال یہ ہے کہ اسلام لانے کے بعد وہ آپ سے کوئی ایک معجزہ بھی طلب نہیں کرتے ۔ جونہی ان کے دلوں میں ایمان داخل ہوا اور وہ مطمئن ہوگئے ۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کی اور اس تصدیق پر انہوں نے کسی برہان و دلیل کا مطالبہ نہیں کیا انہوں نے حقانیت رسول کی شہادت صرف قرآن کو پڑھ کر دے دی ۔

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کے حورایوں کے درمیان یہ ایک عظیم فرق ہے ۔ وہ ایک سطح پر ہیں اور یہ دوسری سطح پر ہیں ۔ لیکن یہ بھی مسلمان ہیں اور وہ بھی مسلمان ہیں ۔ یہ بھی اللہ کے ہاں برگزیدہ ہیں اور وہ بھی برگزیدہ ہیں لیکن جس طرح اللہ نے چاہ دونوں کی سطح میں بہت ہی فرق رکھا بہت بڑا فرق ۔

” کھانے کے اس خوان کا ذکر قرآن میں ہوا ہے لیکن نصاری کے لٹریچر میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے ۔ نہ ان اناجیل میں اس کا ذکر ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لکھی گئیں اگرچہ بہت بعد میں لکھی گئیں ۔ اس قدر طویل عرصے میں نہیں کہا جاسکتا کہ ان کے اندر واقعات کی صحیح رپورٹنگ کی گئی ہوگی ۔ نیز ان اناجیل کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض علماء نے ان روایات کو نقل کیا ہے اور ان میں انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی سیرت کے واقعات نقل کئے ہیں ۔ اس لئے یہ روایات اس کلام پر مشتمل نہیں جو اللہ نے اتارا تھا اور اس کا نام انجیل رکھا تھا ۔

البتہ ان اناجیل میں اس خوان کے قصے کو دوسرے انداز میں نقل کیا ہے ” متی کی انجیل کے اصحاح 15 کے آخر میں آتا ہے ۔ یسوع نے اپنے شاگردوں کو بلایا اور کہا مجھے سب کے بارے میں اندیشہ ہے کیونکہ ان کے لئے صرف تین دن ہیں جو میرے ساتھ چلیں گے اور ان کے پاس خوراک بھی نہیں ہے ۔ اور میں یہ بھی نہیں کرسکتا کہ انہیں روزے کی حالت میں واپس کروں کیونکہ راستے میں ان کے پریشانی ہوگی ۔ ان میں سے اس کے تلامذہ نے کہا ہماری تعداد زیادہ ہے اور ہم کہاں سے کھانا پاسکتے ہیں ۔ ان سے یسوع نے کہا تمہارے پاس کس قدر روٹیاں ہیں ۔ انہوں نے کہا : سات روٹیاں اور کچھ چھوٹی مچھلیاں ۔ آپ نے سب سے کہا کہ وہ زمین پر سہارا لے کر بیٹھ جائیں ۔ آپ نے روٹی اور مچھلیاں لیں ۔ شکر ادا کیا اور انہیں توڑا ۔ انہوں نے یہ روٹیاں شاگردوں کو دیں اور انہوں نے سب کو کھلائی اور سب سیر ہوگئے اور جب روٹیاں اٹھائیں تو سات تھال بھرے ہوئے تھے اور کھانے والے چار ہزار تھے جن میں عورتوں اور بچوں کا شمار نہ کیا گیا تھا ‘ ایسی ہی روایات دوسری اناجیل میں بھی آئی ہیں ۔

بعض تابعین کا خیال ہے کہ یہ مائدہ نہیں اترا ۔ مجاہد اور حسن اس طرف گئے ہیں ‘ کیونکہ جب حواریوں نے یہ سنا ” میں اتارنے والا ہوں لیکن اس کے بعد جس نے کفران نعمت کیا تو اسے میں ایسی سزا دوں گا جیسی تمام جہان والوں میں کسی کو نہ دی گئی تھی ۔ “ تو وہ ڈر گئے اور انہوں نے اپنا یہ مطالبہ واپس لے لیا تھا ۔

علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں ” لیث نے بذریعہ ابن سلیم مجاہد سے یہ روایت کی ہے کہ یہ ایک مثال تھی جو اللہ نے یہاں بیان کی ورنہ کوئی طعام اترا نہیں تھا ۔ “ ابن جریر نے حارث ‘ قاسم ‘ حجاج ابن جریج کے ذریعہ مجاہد سے یہ …

Al-Maaida 5:113Listen in Qur'an →
114

قَالَ عِيسَى ٱبْنُ مَرْيَمَ ٱللَّهُمَّ رَبَّنَآ أَنزِلْ عَلَيْنَا مَآئِدَةًۭ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ تَكُونُ لَنَا عِيدًۭا لِّأَوَّلِنَا وَءَاخِرِنَا وَءَايَةًۭ مِّنكَ ۖ وَٱرْزُقْنَا وَأَنتَ خَيْرُ ٱلرَّٰزِقِينَ

(تب) عیسیٰ بن مریم نے دعا کی کہ اے ہمارے پروردگار! ہم پر آسمان سے خوان نازل فرما کہ ہمارے لیے (وہ دن) عید قرار پائے یعنی ہمارے اگلوں اور پچھلوں (سب) کے لیے اور وہ تیری طرف سے نشانی ہو اور ہمیں رزق دے تو بہتر رزق دینے والا ہے

(آیت) ” نمبر 112 تا 115۔

اس گفتگو سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کا مزاج کیسا تھا اور ان میں سے مخلص لوگ کس مزاج کے تھے یعنی آپ کے حواری ۔ ان حواریوں اور ہمارے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ اجمعین کے درمیان بہت بڑا فرق تھا ۔ ان حواریوں کے دلوں میں اللہ نے بطور الہام ایمان کا القاء کردیا تھا ۔ وہ ایمان لائے اور انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے ایمان پر گواہ ٹھہرایا ۔ ان حقائق کے ساتھ ساتھ اب دیکھئے کہ اس الہام اور معجزات کے دیکھے ہوئے وہ پھر ایک نئے معجزے کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ ان کے دل مطمئن ہوجائیں اور وہ جان لیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سچے ہیں اور اب وہ عیسیٰ کے بعد اس دعوت کو پھیلائیں گے ۔

اصحاب محمد ﷺ کا حال یہ ہے کہ اسلام لانے کے بعد وہ آپ سے کوئی ایک معجزہ بھی طلب نہیں کرتے ۔ جونہی ان کے دلوں میں ایمان داخل ہوا اور وہ مطمئن ہوگئے ۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کی اور اس تصدیق پر انہوں نے کسی برہان و دلیل کا مطالبہ نہیں کیا انہوں نے حقانیت رسول کی شہادت صرف قرآن کو پڑھ کر دے دی ۔

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کے حورایوں کے درمیان یہ ایک عظیم فرق ہے ۔ وہ ایک سطح پر ہیں اور یہ دوسری سطح پر ہیں ۔ لیکن یہ بھی مسلمان ہیں اور وہ بھی مسلمان ہیں ۔ یہ بھی اللہ کے ہاں برگزیدہ ہیں اور وہ بھی برگزیدہ ہیں لیکن جس طرح اللہ نے چاہ دونوں کی سطح میں بہت ہی فرق رکھا بہت بڑا فرق ۔

” کھانے کے اس خوان کا ذکر قرآن میں ہوا ہے لیکن نصاری کے لٹریچر میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے ۔ نہ ان اناجیل میں اس کا ذکر ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لکھی گئیں اگرچہ بہت بعد میں لکھی گئیں ۔ اس قدر طویل عرصے میں نہیں کہا جاسکتا کہ ان کے اندر واقعات کی صحیح رپورٹنگ کی گئی ہوگی ۔ نیز ان اناجیل کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض علماء نے ان روایات کو نقل کیا ہے اور ان میں انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی سیرت کے واقعات نقل کئے ہیں ۔ اس لئے یہ روایات اس کلام پر مشتمل نہیں جو اللہ نے اتارا تھا اور اس کا نام انجیل رکھا تھا ۔

البتہ ان اناجیل میں اس خوان کے قصے کو دوسرے انداز میں نقل کیا ہے ” متی کی انجیل کے اصحاح 15 کے آخر میں آتا ہے ۔ یسوع نے اپنے شاگردوں کو بلایا اور کہا مجھے سب کے بارے میں اندیشہ ہے کیونکہ ان کے لئے صرف تین دن ہیں جو میرے ساتھ چلیں گے اور ان کے پاس خوراک بھی نہیں ہے ۔ اور میں یہ بھی نہیں کرسکتا کہ انہیں روزے کی حالت میں واپس کروں کیونکہ راستے میں ان کے پریشانی ہوگی ۔ ان میں سے اس کے تلامذہ نے کہا ہماری تعداد زیادہ ہے اور ہم کہاں سے کھانا پاسکتے ہیں ۔ ان سے یسوع نے کہا تمہارے پاس کس قدر روٹیاں ہیں ۔ انہوں نے کہا : سات روٹیاں اور کچھ چھوٹی مچھلیاں ۔ آپ نے سب سے کہا کہ وہ زمین پر سہارا لے کر بیٹھ جائیں ۔ آپ نے روٹی اور مچھلیاں لیں ۔ شکر ادا کیا اور انہیں توڑا ۔ انہوں نے یہ روٹیاں شاگردوں کو دیں اور انہوں نے سب کو کھلائی اور سب سیر ہوگئے اور جب روٹیاں اٹھائیں تو سات تھال بھرے ہوئے تھے اور کھانے والے چار ہزار تھے جن میں عورتوں اور بچوں کا شمار نہ کیا گیا تھا ‘ ایسی ہی روایات دوسری اناجیل میں بھی آئی ہیں ۔

بعض تابعین کا خیال ہے کہ یہ مائدہ نہیں اترا ۔ مجاہد اور حسن اس طرف گئے ہیں ‘ کیونکہ جب حواریوں نے یہ سنا ” میں اتارنے والا ہوں لیکن اس کے بعد جس نے کفران نعمت کیا تو اسے میں ایسی سزا دوں گا جیسی تمام جہان والوں میں کسی کو نہ دی گئی تھی ۔ “ تو وہ ڈر گئے اور انہوں نے اپنا یہ مطالبہ واپس لے لیا تھا ۔

علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں ” لیث نے بذریعہ ابن سلیم مجاہد سے یہ روایت کی ہے کہ یہ ایک مثال تھی جو اللہ نے یہاں بیان کی ورنہ کوئی طعام اترا نہیں تھا ۔ “ ابن جریر نے حارث ‘ قاسم ‘ حجاج ابن جریج کے ذریعہ مجاہد سے یہ …

Al-Maaida 5:114Listen in Qur'an →
115

قَالَ ٱللَّهُ إِنِّى مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ ۖ فَمَن يَكْفُرْ بَعْدُ مِنكُمْ فَإِنِّىٓ أُعَذِّبُهُۥ عَذَابًۭا لَّآ أُعَذِّبُهُۥٓ أَحَدًۭا مِّنَ ٱلْعَٰلَمِينَ

خدا نے فرمایا میں تم پر ضرور خوان نازل فرماؤں گا لیکن جو اس کے بعد تم میں سے کفر کرے گا اسے ایسا عذاب دوں گا کہ اہل عالم میں کسی کو ایسا عذاب نہ دوں گا

(آیت) ” نمبر 112 تا 115۔

اس گفتگو سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کا مزاج کیسا تھا اور ان میں سے مخلص لوگ کس مزاج کے تھے یعنی آپ کے حواری ۔ ان حواریوں اور ہمارے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ اجمعین کے درمیان بہت بڑا فرق تھا ۔ ان حواریوں کے دلوں میں اللہ نے بطور الہام ایمان کا القاء کردیا تھا ۔ وہ ایمان لائے اور انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے ایمان پر گواہ ٹھہرایا ۔ ان حقائق کے ساتھ ساتھ اب دیکھئے کہ اس الہام اور معجزات کے دیکھے ہوئے وہ پھر ایک نئے معجزے کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ ان کے دل مطمئن ہوجائیں اور وہ جان لیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سچے ہیں اور اب وہ عیسیٰ کے بعد اس دعوت کو پھیلائیں گے ۔

اصحاب محمد ﷺ کا حال یہ ہے کہ اسلام لانے کے بعد وہ آپ سے کوئی ایک معجزہ بھی طلب نہیں کرتے ۔ جونہی ان کے دلوں میں ایمان داخل ہوا اور وہ مطمئن ہوگئے ۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کی اور اس تصدیق پر انہوں نے کسی برہان و دلیل کا مطالبہ نہیں کیا انہوں نے حقانیت رسول کی شہادت صرف قرآن کو پڑھ کر دے دی ۔

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کے حورایوں کے درمیان یہ ایک عظیم فرق ہے ۔ وہ ایک سطح پر ہیں اور یہ دوسری سطح پر ہیں ۔ لیکن یہ بھی مسلمان ہیں اور وہ بھی مسلمان ہیں ۔ یہ بھی اللہ کے ہاں برگزیدہ ہیں اور وہ بھی برگزیدہ ہیں لیکن جس طرح اللہ نے چاہ دونوں کی سطح میں بہت ہی فرق رکھا بہت بڑا فرق ۔

” کھانے کے اس خوان کا ذکر قرآن میں ہوا ہے لیکن نصاری کے لٹریچر میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے ۔ نہ ان اناجیل میں اس کا ذکر ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لکھی گئیں اگرچہ بہت بعد میں لکھی گئیں ۔ اس قدر طویل عرصے میں نہیں کہا جاسکتا کہ ان کے اندر واقعات کی صحیح رپورٹنگ کی گئی ہوگی ۔ نیز ان اناجیل کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض علماء نے ان روایات کو نقل کیا ہے اور ان میں انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی سیرت کے واقعات نقل کئے ہیں ۔ اس لئے یہ روایات اس کلام پر مشتمل نہیں جو اللہ نے اتارا تھا اور اس کا نام انجیل رکھا تھا ۔

البتہ ان اناجیل میں اس خوان کے قصے کو دوسرے انداز میں نقل کیا ہے ” متی کی انجیل کے اصحاح 15 کے آخر میں آتا ہے ۔ یسوع نے اپنے شاگردوں کو بلایا اور کہا مجھے سب کے بارے میں اندیشہ ہے کیونکہ ان کے لئے صرف تین دن ہیں جو میرے ساتھ چلیں گے اور ان کے پاس خوراک بھی نہیں ہے ۔ اور میں یہ بھی نہیں کرسکتا کہ انہیں روزے کی حالت میں واپس کروں کیونکہ راستے میں ان کے پریشانی ہوگی ۔ ان میں سے اس کے تلامذہ نے کہا ہماری تعداد زیادہ ہے اور ہم کہاں سے کھانا پاسکتے ہیں ۔ ان سے یسوع نے کہا تمہارے پاس کس قدر روٹیاں ہیں ۔ انہوں نے کہا : سات روٹیاں اور کچھ چھوٹی مچھلیاں ۔ آپ نے سب سے کہا کہ وہ زمین پر سہارا لے کر بیٹھ جائیں ۔ آپ نے روٹی اور مچھلیاں لیں ۔ شکر ادا کیا اور انہیں توڑا ۔ انہوں نے یہ روٹیاں شاگردوں کو دیں اور انہوں نے سب کو کھلائی اور سب سیر ہوگئے اور جب روٹیاں اٹھائیں تو سات تھال بھرے ہوئے تھے اور کھانے والے چار ہزار تھے جن میں عورتوں اور بچوں کا شمار نہ کیا گیا تھا ‘ ایسی ہی روایات دوسری اناجیل میں بھی آئی ہیں ۔

بعض تابعین کا خیال ہے کہ یہ مائدہ نہیں اترا ۔ مجاہد اور حسن اس طرف گئے ہیں ‘ کیونکہ جب حواریوں نے یہ سنا ” میں اتارنے والا ہوں لیکن اس کے بعد جس نے کفران نعمت کیا تو اسے میں ایسی سزا دوں گا جیسی تمام جہان والوں میں کسی کو نہ دی گئی تھی ۔ “ تو وہ ڈر گئے اور انہوں نے اپنا یہ مطالبہ واپس لے لیا تھا ۔

علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں ” لیث نے بذریعہ ابن سلیم مجاہد سے یہ روایت کی ہے کہ یہ ایک مثال تھی جو اللہ نے یہاں بیان کی ورنہ کوئی طعام اترا نہیں تھا ۔ “ ابن جریر نے حارث ‘ قاسم ‘ حجاج ابن جریج کے ذریعہ مجاہد سے یہ …

Al-Maaida 5:115Listen in Qur'an →
116

وَإِذْ قَالَ ٱللَّهُ يَٰعِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ ءَأَنتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ ٱتَّخِذُونِى وَأُمِّىَ إِلَٰهَيْنِ مِن دُونِ ٱللَّهِ ۖ قَالَ سُبْحَٰنَكَ مَا يَكُونُ لِىٓ أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِى بِحَقٍّ ۚ إِن كُنتُ قُلْتُهُۥ فَقَدْ عَلِمْتَهُۥ ۚ تَعْلَمُ مَا فِى نَفْسِى وَلَآ أَعْلَمُ مَا فِى نَفْسِكَ ۚ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّٰمُ ٱلْغُيُوبِ

اور (اس وقت کو بھی یاد رکھو) جب خدا فرمائے گا کہ اے عیسیٰ بن مریم! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا مجھے اور میری والدہ کو معبود مقرر کرو؟ وہ کہیں گے کہ تو پاک ہے مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں اگر میں نے ایسا کہا ہوگا تو تجھ کو معلوم ہوگا (کیونکہ) جو بات میرے دل میں ہے تو اسے جانتا ہے اور جو تیرے ضمیر میں ہے اسے میں نہیں جانتا بےشک تو علاّم الغیوب ہے

(آیت) ” نمبر 116 تا 118۔

اللہ تعالیٰ تو خوب جانتے تھے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) لوگوں کے سامنے کن عقائد کی تبلیغ کرتے رہے ہیں ۔ لیکن اس خوفناک دن میں یہ عظیم جواب طلبی اور پھر ایسے شخص سے جو ذمہ دار بھی نہیں ہے ‘ اس لئے کہ گئی کہ اس صالح بندے اور ان کی والدہ کو جو لوگ الہ تصور کرتے تھے ‘ ان کا یہ پورا موقف اچھی طرح واضح ہوجائے اور وہ خوب شرمندہ ہو۔

یہ اس قدر عظیم جسارت ہے کہ کوئی عام اور معقول انسان اس قسم کا کوئی دعوی نہیں کرسکتا کہ وہ خود الہ ہے ۔ جبکہ وہ جانتا ہو کہ وہ بندہ ہے ۔ ایک رسول اس قسم کا دعوی کب کرسکتا ہے اور پھر اولوالعزم رسولوں میں سے ایک رسول ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جیسا رسول ۔ حالانکہ اللہ نے رسالت سے پہلے اور رسالت کے بعد اسے معجزات اور مقامات عطا کئے تھے اور ان پر عظیم انعامات کئے تھے اور اعزاز بخشے تھے ۔ ایسے رسول کب ایسا دعوی کرسکتے ہیں ۔ ایک صالح اور راہ راست پر گامزن رسول ۔

یہی وجہ ہے کہ حضرت کی طرف سے نہایت ہی خشوع و خضوع کے ساتھ عاجزانہ جواب آتا ہے ۔ نہایت ہی حمد وثنا کے ساتھ (آیت) ” سُبْحَانَکَ مَا یَکُونُ لِیْ أَنْ أَقُولَ مَا لَیْْسَ لِیْ بِحَقٍّ (5 : 116) ” سبحان اللہ ‘ میرا یہ کام نہ تھا کہ وہ بات کہتا جس کے کہنے کا مجھے حق نہ تھا ۔ “ اس طرح حضرت جلدی سے جواب دے دیتے ہیں کہ میں نے مطلقا یہ بات نہیں کہی ۔

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی برات پر اللہ کو گواہ ٹھہراتے ہیں اور اپنی عاجزی دکھاتے ہوئے اللہ کے خصائص الوہیت اور بندے کے شایان عبودیت کے افعال بتاتے ہیں ۔

(آیت) ” إِن کُنتُ قُلْتُہُ فَقَدْ عَلِمْتَہُ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَلاَ أَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِکَ إِنَّکَ أَنتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ (116)

” اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی تو آپ کو ضرور علم ہوتا آپ جانتے ہیں جو کچھ میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو کچھ آپ کے دل میں ہے ‘ آپ تو ساری پوشیدہ حقیقتوں کے عالم ہیں “۔

اس قدر تسبیح اور پاکی بیان کرنے کے بعد اب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یہ جرات کرتے ہیں کہ وہ کوئی مثبت بات کریں اور یہ کہیں کہ انہوں نے ہر گز نہیں ایسی کوئی بات نہیں کہی ہے ۔ بلکہ انہوں نے تو یہ کہا ہے کہ وہ اللہ کے بندے ہیں اور تم بھی سب صرف اللہ ہی کی بندگی کرو۔

(آیت) ” مَا قُلْتُ لَہُمْ إِلاَّ مَا أَمَرْتَنِیْ بِہِ أَنِ اعْبُدُواْ اللّہَ رَبِّیْ وَرَبَّکُمْ (5 : 117)

” میں نے ان سے اس کے سوا کچھ نہیں کہا جس کا آپ نے حکم دیا تھا ‘ یہ کہ اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی۔ “ اور آپ (علیہ السلام) یہ فرماتے ہیں کہ میں تو ان پر نگران صرف اس وقت تک کے لئے تھا جب میں ان کے سامنے تھا ۔ لیکن اپنی وفات کے بعد میں نگران نہ تھا ۔ قرآن کی ظاہری آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو وفات دی اور پھر اپنی طرف اٹھا لیا جب کہ بعض آثار میں یہ آتا ہے کہ آپ اللہ کے ہاں زندہ ہیں ۔ میرے خیال میں دونوں قسم کے نصوص میں کوئی تعارض نہیں ہے ۔ یہ بھی درست ہے کہ زمین کی زندگی سے ان کا قطع تعلق ہوگیا ہو اور انہیں اٹھا لیا گیا ہو اور یہ بھی درست ہے کہ انہیں زندہ حالت میں اٹھا لیا گیا ہو کیونکہ شہداء بھی تو اللہ کے ہاں زندہ ہوتے ہیں اگرچہ دنیا سے ان کی زندگی کٹ جاتی ہے اگرچہ شہداء کی زندگی کی نوعیت کا ہمیں تفصیلی علم نہیں ہے ۔ یہی صورت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ میری وفات کے بعد مجھے علم نہ تھا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں ؟

(آیت) ” وَکُنتُ عَلَیْْہِمْ شَہِیْداً مَّا دُمْتُ فِیْہِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْْتَنِیْ کُنتَ أَنتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْْہِمْ وَأَنتَ عَلَی کُلِّ شَیْْء ٍ شَہِیْدٌ(117)

” میں اسی وقت تک ان کا نگران تھا جب تک کہ میں ان کے درمیان تھا ۔ جب آپ نے مجھے واپس بلا لیا تو آپ ان پر نگران …

Al-Maaida 5:116Listen in Qur'an →
117

مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَآ أَمَرْتَنِى بِهِۦٓ أَنِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ رَبِّى وَرَبَّكُمْ ۚ وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًۭا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ ۖ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى كُنتَ أَنتَ ٱلرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنتَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ شَهِيدٌ

میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تو نے مجھے حکم دیا ہے وہ یہ کہ تم خدا کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا پروردگار ہے اور جب تک میں ان میں رہا ان (کے حالات) کی خبر رکھتا رہا جب تو نے مجھے دنیا سے اٹھا لیا تو تو ان کا نگران تھا اور تو ہر چیز سے خبردار ہے

(آیت) ” نمبر 116 تا 118۔

اللہ تعالیٰ تو خوب جانتے تھے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) لوگوں کے سامنے کن عقائد کی تبلیغ کرتے رہے ہیں ۔ لیکن اس خوفناک دن میں یہ عظیم جواب طلبی اور پھر ایسے شخص سے جو ذمہ دار بھی نہیں ہے ‘ اس لئے کہ گئی کہ اس صالح بندے اور ان کی والدہ کو جو لوگ الہ تصور کرتے تھے ‘ ان کا یہ پورا موقف اچھی طرح واضح ہوجائے اور وہ خوب شرمندہ ہو۔

یہ اس قدر عظیم جسارت ہے کہ کوئی عام اور معقول انسان اس قسم کا کوئی دعوی نہیں کرسکتا کہ وہ خود الہ ہے ۔ جبکہ وہ جانتا ہو کہ وہ بندہ ہے ۔ ایک رسول اس قسم کا دعوی کب کرسکتا ہے اور پھر اولوالعزم رسولوں میں سے ایک رسول ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جیسا رسول ۔ حالانکہ اللہ نے رسالت سے پہلے اور رسالت کے بعد اسے معجزات اور مقامات عطا کئے تھے اور ان پر عظیم انعامات کئے تھے اور اعزاز بخشے تھے ۔ ایسے رسول کب ایسا دعوی کرسکتے ہیں ۔ ایک صالح اور راہ راست پر گامزن رسول ۔

یہی وجہ ہے کہ حضرت کی طرف سے نہایت ہی خشوع و خضوع کے ساتھ عاجزانہ جواب آتا ہے ۔ نہایت ہی حمد وثنا کے ساتھ (آیت) ” سُبْحَانَکَ مَا یَکُونُ لِیْ أَنْ أَقُولَ مَا لَیْْسَ لِیْ بِحَقٍّ (5 : 116) ” سبحان اللہ ‘ میرا یہ کام نہ تھا کہ وہ بات کہتا جس کے کہنے کا مجھے حق نہ تھا ۔ “ اس طرح حضرت جلدی سے جواب دے دیتے ہیں کہ میں نے مطلقا یہ بات نہیں کہی ۔

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی برات پر اللہ کو گواہ ٹھہراتے ہیں اور اپنی عاجزی دکھاتے ہوئے اللہ کے خصائص الوہیت اور بندے کے شایان عبودیت کے افعال بتاتے ہیں ۔

(آیت) ” إِن کُنتُ قُلْتُہُ فَقَدْ عَلِمْتَہُ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَلاَ أَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِکَ إِنَّکَ أَنتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ (116)

” اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی تو آپ کو ضرور علم ہوتا آپ جانتے ہیں جو کچھ میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو کچھ آپ کے دل میں ہے ‘ آپ تو ساری پوشیدہ حقیقتوں کے عالم ہیں “۔

اس قدر تسبیح اور پاکی بیان کرنے کے بعد اب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یہ جرات کرتے ہیں کہ وہ کوئی مثبت بات کریں اور یہ کہیں کہ انہوں نے ہر گز نہیں ایسی کوئی بات نہیں کہی ہے ۔ بلکہ انہوں نے تو یہ کہا ہے کہ وہ اللہ کے بندے ہیں اور تم بھی سب صرف اللہ ہی کی بندگی کرو۔

(آیت) ” مَا قُلْتُ لَہُمْ إِلاَّ مَا أَمَرْتَنِیْ بِہِ أَنِ اعْبُدُواْ اللّہَ رَبِّیْ وَرَبَّکُمْ (5 : 117)

” میں نے ان سے اس کے سوا کچھ نہیں کہا جس کا آپ نے حکم دیا تھا ‘ یہ کہ اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی۔ “ اور آپ (علیہ السلام) یہ فرماتے ہیں کہ میں تو ان پر نگران صرف اس وقت تک کے لئے تھا جب میں ان کے سامنے تھا ۔ لیکن اپنی وفات کے بعد میں نگران نہ تھا ۔ قرآن کی ظاہری آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو وفات دی اور پھر اپنی طرف اٹھا لیا جب کہ بعض آثار میں یہ آتا ہے کہ آپ اللہ کے ہاں زندہ ہیں ۔ میرے خیال میں دونوں قسم کے نصوص میں کوئی تعارض نہیں ہے ۔ یہ بھی درست ہے کہ زمین کی زندگی سے ان کا قطع تعلق ہوگیا ہو اور انہیں اٹھا لیا گیا ہو اور یہ بھی درست ہے کہ انہیں زندہ حالت میں اٹھا لیا گیا ہو کیونکہ شہداء بھی تو اللہ کے ہاں زندہ ہوتے ہیں اگرچہ دنیا سے ان کی زندگی کٹ جاتی ہے اگرچہ شہداء کی زندگی کی نوعیت کا ہمیں تفصیلی علم نہیں ہے ۔ یہی صورت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ میری وفات کے بعد مجھے علم نہ تھا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں ؟

(آیت) ” وَکُنتُ عَلَیْْہِمْ شَہِیْداً مَّا دُمْتُ فِیْہِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْْتَنِیْ کُنتَ أَنتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْْہِمْ وَأَنتَ عَلَی کُلِّ شَیْْء ٍ شَہِیْدٌ(117)

” میں اسی وقت تک ان کا نگران تھا جب تک کہ میں ان کے درمیان تھا ۔ جب آپ نے مجھے واپس بلا لیا تو آپ ان پر نگران …

Al-Maaida 5:117Listen in Qur'an →
118

إِن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۖ وَإِن تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ

اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر بخش دے تو (تیری مہربانی ہے) بےشک تو غالب اور حکمت والا ہے

(آیت) ” نمبر 116 تا 118۔

اللہ تعالیٰ تو خوب جانتے تھے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) لوگوں کے سامنے کن عقائد کی تبلیغ کرتے رہے ہیں ۔ لیکن اس خوفناک دن میں یہ عظیم جواب طلبی اور پھر ایسے شخص سے جو ذمہ دار بھی نہیں ہے ‘ اس لئے کہ گئی کہ اس صالح بندے اور ان کی والدہ کو جو لوگ الہ تصور کرتے تھے ‘ ان کا یہ پورا موقف اچھی طرح واضح ہوجائے اور وہ خوب شرمندہ ہو۔

یہ اس قدر عظیم جسارت ہے کہ کوئی عام اور معقول انسان اس قسم کا کوئی دعوی نہیں کرسکتا کہ وہ خود الہ ہے ۔ جبکہ وہ جانتا ہو کہ وہ بندہ ہے ۔ ایک رسول اس قسم کا دعوی کب کرسکتا ہے اور پھر اولوالعزم رسولوں میں سے ایک رسول ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جیسا رسول ۔ حالانکہ اللہ نے رسالت سے پہلے اور رسالت کے بعد اسے معجزات اور مقامات عطا کئے تھے اور ان پر عظیم انعامات کئے تھے اور اعزاز بخشے تھے ۔ ایسے رسول کب ایسا دعوی کرسکتے ہیں ۔ ایک صالح اور راہ راست پر گامزن رسول ۔

یہی وجہ ہے کہ حضرت کی طرف سے نہایت ہی خشوع و خضوع کے ساتھ عاجزانہ جواب آتا ہے ۔ نہایت ہی حمد وثنا کے ساتھ (آیت) ” سُبْحَانَکَ مَا یَکُونُ لِیْ أَنْ أَقُولَ مَا لَیْْسَ لِیْ بِحَقٍّ (5 : 116) ” سبحان اللہ ‘ میرا یہ کام نہ تھا کہ وہ بات کہتا جس کے کہنے کا مجھے حق نہ تھا ۔ “ اس طرح حضرت جلدی سے جواب دے دیتے ہیں کہ میں نے مطلقا یہ بات نہیں کہی ۔

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی برات پر اللہ کو گواہ ٹھہراتے ہیں اور اپنی عاجزی دکھاتے ہوئے اللہ کے خصائص الوہیت اور بندے کے شایان عبودیت کے افعال بتاتے ہیں ۔

(آیت) ” إِن کُنتُ قُلْتُہُ فَقَدْ عَلِمْتَہُ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَلاَ أَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِکَ إِنَّکَ أَنتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ (116)

” اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی تو آپ کو ضرور علم ہوتا آپ جانتے ہیں جو کچھ میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو کچھ آپ کے دل میں ہے ‘ آپ تو ساری پوشیدہ حقیقتوں کے عالم ہیں “۔

اس قدر تسبیح اور پاکی بیان کرنے کے بعد اب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یہ جرات کرتے ہیں کہ وہ کوئی مثبت بات کریں اور یہ کہیں کہ انہوں نے ہر گز نہیں ایسی کوئی بات نہیں کہی ہے ۔ بلکہ انہوں نے تو یہ کہا ہے کہ وہ اللہ کے بندے ہیں اور تم بھی سب صرف اللہ ہی کی بندگی کرو۔

(آیت) ” مَا قُلْتُ لَہُمْ إِلاَّ مَا أَمَرْتَنِیْ بِہِ أَنِ اعْبُدُواْ اللّہَ رَبِّیْ وَرَبَّکُمْ (5 : 117)

” میں نے ان سے اس کے سوا کچھ نہیں کہا جس کا آپ نے حکم دیا تھا ‘ یہ کہ اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی۔ “ اور آپ (علیہ السلام) یہ فرماتے ہیں کہ میں تو ان پر نگران صرف اس وقت تک کے لئے تھا جب میں ان کے سامنے تھا ۔ لیکن اپنی وفات کے بعد میں نگران نہ تھا ۔ قرآن کی ظاہری آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو وفات دی اور پھر اپنی طرف اٹھا لیا جب کہ بعض آثار میں یہ آتا ہے کہ آپ اللہ کے ہاں زندہ ہیں ۔ میرے خیال میں دونوں قسم کے نصوص میں کوئی تعارض نہیں ہے ۔ یہ بھی درست ہے کہ زمین کی زندگی سے ان کا قطع تعلق ہوگیا ہو اور انہیں اٹھا لیا گیا ہو اور یہ بھی درست ہے کہ انہیں زندہ حالت میں اٹھا لیا گیا ہو کیونکہ شہداء بھی تو اللہ کے ہاں زندہ ہوتے ہیں اگرچہ دنیا سے ان کی زندگی کٹ جاتی ہے اگرچہ شہداء کی زندگی کی نوعیت کا ہمیں تفصیلی علم نہیں ہے ۔ یہی صورت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ میری وفات کے بعد مجھے علم نہ تھا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں ؟

(آیت) ” وَکُنتُ عَلَیْْہِمْ شَہِیْداً مَّا دُمْتُ فِیْہِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْْتَنِیْ کُنتَ أَنتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْْہِمْ وَأَنتَ عَلَی کُلِّ شَیْْء ٍ شَہِیْدٌ(117)

” میں اسی وقت تک ان کا نگران تھا جب تک کہ میں ان کے درمیان تھا ۔ جب آپ نے مجھے واپس بلا لیا تو آپ ان پر نگران …

Al-Maaida 5:118Listen in Qur'an →
119

قَالَ ٱللَّهُ هَٰذَا يَوْمُ يَنفَعُ ٱلصَّٰدِقِينَ صِدْقُهُمْ ۚ لَهُمْ جَنَّٰتٌۭ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًۭا ۚ رَّضِىَ ٱللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا۟ عَنْهُ ۚ ذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ

خدا فرمائے گا کہ آج وہ دن ہے کہ راست بازوں کو ان کی سچائی ہی فائدہ دے گی ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ابدالآباد ان میں بستے رہیں گے خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں یہ بڑی کامیابی ہے

(آیت) ” نمبر 119۔

” یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کو ان کی سچائی نفع دیتی ہے “ یہ اللہ کی بات ہے اور جھوٹوں کی اس شرمندگی پر یہ خوب تصرہ ہے ۔ انہوں نے یہ افتراء باندھا اور یہ افتراء بھی اولوا لعزم رسولوں میں ایک معزز رسول پر باندھا ۔ اور مسئلہ الوہیت اور بندگی میں یہ افتراء باندھا جس کی اساس پر یہ پوری کائنات قائم ہے اور جس کی اساس پر دنیا میں سچائی قائم ہے اور تمام مخلوقات قائم ہے ۔

” یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کیلئے ان کی سچائی مفید ہوگی ۔ “ اس عظیم منظر اور شاہی دربار کے سوال و جواب کے آخر میں یہ رب العالمین کا فیصلہ ہے ۔ تمام جہان کے لوگوں کی موجودگی میں اس منظر کے مکالے کے یہ آخری الفاظ ہیں اور کس قدر فیصلہ کن الفاظ ہیں اور اس کے بعد پھر سچوں کے انجام کی ایک جھلکی بھی دکھائی دیتی ہے ۔

(آیت) ” لَہُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا أَبَداً رَّضِیَ اللّہُ عَنْہُمْ وَرَضُواْ عَنْہُ ذَلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ (119)

” ان کے لئے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ‘ یہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ‘ اللہ ان سے راضی ہو اور وہ اللہ سے ‘ یہی بڑی کامیابی ہے ۔ “

درجوں کے بعد بلند درجے ‘ پھر ان میں دائمی زندگی اور پھر اللہ کی رضا مندی یقینا یہ بڑی کامیابی ۔ “

ہم نے یہ منظر دیکھا اور یہ منظر قرآن کریم نے اپنے مخصوص انداز اور اسلوب میں پیش کیا ۔ اس منظر کا آخری مکالمہ بھی ہم نے سنا ۔ ہم نے گویا اس منظر دیکھا اپنی آنکھوں کے ساتھ اور سنا اپنے کانوں کے ساتھ۔ قرآن کریم کے انداز تصویر کشی کے مطابق بات کا طریقہ یہ نہیں اختیار کیا جاتا ہے کہ ایسا ہوگا بلکہ عملا منظر پیش کردیا جاتا ہے ۔ انسان کو اس منظر موعودہ کا انتظار نہیں کرنا پڑتا ۔ قرآن کریم محض خشک عبارت ہی پیش نہیں کرتا جسے صرف پڑھا جائے بلکہ وہ متحرک اور مجسم اور شخص مناظر پیش کرتا ہے جس میں انسان چلتے پھرتے نظر آتے ہیں اور مکالمے ہوتے ہوئے اس طرح نظر آتے ہیں جس طرح اسکرین پر ۔

ہماری سوچ اور ہمارے تصور کے مطابق تو یہ ایک منظر ہوگا جو واقع ہوگا ‘ البتہ اللہ کے علم کے مطابق تو وہ وہ چکا اس لئے کہ اللہ کا علم زمان ومکان کے حدود وقیود سے آزاد ہے ۔ زمان ومکان کا تصور تو انسان کے محدود علم کے لئے ہے ۔ ہمارا علم محدود اور فانی ہے ۔

اس سبق کے آخر میں اور اس عظیم افتراء کے بیان کے خاتمے پر جس سے بڑا افتراء کسی رسول کے کسی پیروکار نے نہیں باندھا ۔ حضرت مسیح کے پیروکاروں کی اس عظیم غلط فہمی کے بیان کے آخر میں جس میں انہوں نے اس افتراء سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور ان افتراء پر دازی کرنے والوں کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیا ۔ اس کے بارے میں اس سوال و جواب اور اس سوال و جواب کے لئے قائم کئے گئے اس عظیم دربار کے خاتمے پر اب یہ بتایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس قسم کے افتراؤں سے پاک ہے اور زمین وآسمانوں پر صرف اسی کی حکومت اور اس کی حکومت بےحد وبے قید ہے ۔

Al-Maaida 5:119Listen in Qur'an →
120

لِلَّهِ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا فِيهِنَّ ۚ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۢ

آسمان اور زمین اور جو کچھ ان (دونوں) میں ہے سب پر خدا ہی کی بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

(آیت) ” 120۔

یہ ایک ایسا اختتامی تبصرہ ہے جو اس عظیم مسئلے کی بحث کے خاتمے کے لئے موزوں اور مناسب ہے ۔ نیز اس عظیم منظر سے جو تاثر ملتا ہے اس کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے ۔ یہاں اللہ وحدہ الہ ہے اور وہی قادر مطلق ہے ۔ اس کے سامنے تمام رسول سرتسلیم خم کرتے ہیں اور سب رسول آخری فیصلہ اللہ کے سپرد کرتے ہیں اس میں حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) بھی اپنا فیصلہ اللہ کے سپرد کرتے ہیں ۔ جس کے ہاتھ میں زمین وآسماں کی حکومت ہے ۔

اور یہ آخری تبصرہ اس پوری سورت کے مضمون کی طرف اشارہ ہے ۔ اس سورة کا مرکزی موضوع ” الدین “ ہے اور دین اور دینداری کا اظہار اللہ کی شریعت کی اطاعت میں ہوتا ہے ۔ صرف اللہ کے قوانین و ضوابط اخذ کرنا اور صرف اسی کے مطابق فیصلے کرنا اس لئے کہ وہی بادشاہ ہے جس کے سوا کوئی بادشاہ نہیں ہے ۔ زمین و آسمان کے درمیان جس قدر چیزیں بھی ہیں وہ اس کی مملوک ہیں اور یہ مالک اور بادشاہ یہ آرڈنینس جاری فرماتا ہے ۔ (آیت) ” ومن لم یحکم بما انز اللہ فاولئک ھم الکافرون “ ” اور جو شخص اس قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتا جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہ کافر ہے ۔ “ یہی ایک مسئلہ ہے اور یہ اللہ کی حاکمیت کا مسئلہ ہے ۔ یہ عقیدہ توحید کا مسئلہ ہے ۔ اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا مسئلہ ہے ‘ جس کے بعد ہی مکمل توحید وجود میں آتی ہے اور صرف اللہ الہ وحاکم قرار پاتا ہے ۔

Al-Maaida 5:120Listen in Qur'an →

Commentary: Fi Zilal al-Qur'an by Sayyid Qutb. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.