Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di

Ayahs 111–120 of 120

111

وَإِذْ أَوْحَيْتُ إِلَى ٱلْحَوَارِيِّۦنَ أَنْ ءَامِنُوا۟ بِى وَبِرَسُولِى قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا وَٱشْهَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ

اور جب میں نے حواریوں کی طرف حکم بھیجا کہ مجھ پر اور میرے پیغمبر پر ایمان لاؤ وہ کہنے لگے کہ (پروردگار) ہم ایمان لائے تو شاہد رہیو کہ ہم فرمانبردار ہیں

اور جب الہام کیا میں نے حواریوں کو یہ کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو کہا انھوں نے: ایمان لائے ہم اور گواہ رہ تو کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں (111) جب کہا حواریوں نے، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا طاقت رکھتا ہے تیرا رب یہ کہ نازل کرے ہم پر دسترخوان آسماں سے؟ کہا اس (عیسیٰ) نے ڈرو تم اللہ سے اگر ہو تم مومن(112) کہا انھوں نے چاہتے ہیں ہم یہ کہ کھائیں ہم اس میں سے اور مطمئن ہو جائیں ہمارے دل اور جان لیں ہم یہ کہ سچ کہا تونے ہم سےاور ہو جائیں ہم اس پر شہادت دینے والوں میں سے(113) کہا عیسیٰ ابن مریم نے، اے اللہ! اے ہمارے رب! نازل فرما ہم پر دسترخوان آسمان سے، کہ بن جائے وہ عید ہمارے پہلوں اور ہمارے بعد والوں کے لیےاور نشانی تیری طرف سےاور رزق دے ہمیں اور تو بہترین رزق دینے والا ہے(114) فرمایا اللہ نے: بے شک میں نازل کروں گا وہ تم پر، پھر جو شخص کفر کرے گا بعد اس کے تم میں سے تو بالضرور میں عذاب دوں گا اس کو ایسا کہ نہیں عذاب دوں گا میں ویسا کسی اور کو، جہانوں میں سے (115)اور جب کہے گا اللہ: اے عیسیٰ ابن مریم! کیا کہا تھا تونے لوگوں کو کہ بنا لو مجھے اور میری ماں کو دو معبود سوائے اللہ کے؟ تو کہے گا وہ (عیسیٰ) پاک ہے تو، نہیں لائق تھا میرے کہ کہوں میں وہ بات جس کا نہیں مجھے حق۔ اگر ہوں میں کہ کہی ہے میں نے یہ بات تو یقینا جانتا ہے تو اس کو تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور نہیں جانتا میں جو تیرے دل میں ہے۔ بلاشبہ توہی خوب جاننے والا ہے غیبوں کا(116) نہیں کہا تھا میں نے ان سے مگر وہی کہ حکم دیا تھا تونے مجھے اس کا، یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی اور تھا میں ان پر نگران جب تک رہا میں ان میں ، پھر جب اٹھا لیا تونے مجھے تو تھا تو ہی نگہبان ان پراور تو ہر ایک چیز پر مطلع ہے(117) اگر عذاب دے تو ان کو تو بے شک وہ بندے ہیں تیرےاور اگر بخش دے ان کو تو بلاشبہ توہی ہے غالب حکمت والا(118) فرمائے گا اللہ! یہ دن ہے کہ نفع دے گا سچوں کو ان کا سچ، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے لیے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور راضی ہوئے وہ اس سے، یہی ہے کامیابی بڑی (119)اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان میں ہےاور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(120)

[120-111] یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القاء کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انھوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ’’ہم ایمان لائے، گواہ رہیے کہ ہم مسلمان ہیں ‘‘ پس انھوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے مراد انصار ہیں جیسا کہ جناب مسیح نے حواریوں سے فرمایا تھا ﴿ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾(آل عمران: 3؍52)’’اللہ کی راہ میں میرا مددگار کون ہے‘‘ حواریوں نے عرض کیا ’’ہم اللہ کے مددگار ہیں ۔‘‘﴿اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ هَلۡ يَسۡتَطِيۡعُ رَبُّكَ اَنۡ يُّنَزِّلَ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’جب حواریوں نے کہا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے کہ وہ ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتارے؟‘‘ یعنی ایسا دستر خوان جس پر کھانا لگا ہوا ہو۔۔۔ یہ مطالبہ اس بنا پر نہیں تھا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت میں کوئی شک تھا۔ بلکہ یہ درخواست تھی جو عرض اور ادب کے …

Al-Maaida 5:111Listen in Qur'an →
112

إِذْ قَالَ ٱلْحَوَارِيُّونَ يَٰعِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ هَلْ يَسْتَطِيعُ رَبُّكَ أَن يُنَزِّلَ عَلَيْنَا مَآئِدَةًۭ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ ۖ قَالَ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

(وہ قصہ بھی یاد کرو) جب حواریوں نے کہا کہ اے عیسیٰ بن مریم! کیا تمہارا پروردگار ایسا کر سکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے (طعام کا) خوان نازل کرے؟ انہوں نے کہا کہ اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا سے ڈرو

اور جب الہام کیا میں نے حواریوں کو یہ کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو کہا انھوں نے: ایمان لائے ہم اور گواہ رہ تو کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں (111) جب کہا حواریوں نے، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا طاقت رکھتا ہے تیرا رب یہ کہ نازل کرے ہم پر دسترخوان آسماں سے؟ کہا اس (عیسیٰ) نے ڈرو تم اللہ سے اگر ہو تم مومن(112) کہا انھوں نے چاہتے ہیں ہم یہ کہ کھائیں ہم اس میں سے اور مطمئن ہو جائیں ہمارے دل اور جان لیں ہم یہ کہ سچ کہا تونے ہم سےاور ہو جائیں ہم اس پر شہادت دینے والوں میں سے(113) کہا عیسیٰ ابن مریم نے، اے اللہ! اے ہمارے رب! نازل فرما ہم پر دسترخوان آسمان سے، کہ بن جائے وہ عید ہمارے پہلوں اور ہمارے بعد والوں کے لیےاور نشانی تیری طرف سےاور رزق دے ہمیں اور تو بہترین رزق دینے والا ہے(114) فرمایا اللہ نے: بے شک میں نازل کروں گا وہ تم پر، پھر جو شخص کفر کرے گا بعد اس کے تم میں سے تو بالضرور میں عذاب دوں گا اس کو ایسا کہ نہیں عذاب دوں گا میں ویسا کسی اور کو، جہانوں میں سے (115)اور جب کہے گا اللہ: اے عیسیٰ ابن مریم! کیا کہا تھا تونے لوگوں کو کہ بنا لو مجھے اور میری ماں کو دو معبود سوائے اللہ کے؟ تو کہے گا وہ (عیسیٰ) پاک ہے تو، نہیں لائق تھا میرے کہ کہوں میں وہ بات جس کا نہیں مجھے حق۔ اگر ہوں میں کہ کہی ہے میں نے یہ بات تو یقینا جانتا ہے تو اس کو تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور نہیں جانتا میں جو تیرے دل میں ہے۔ بلاشبہ توہی خوب جاننے والا ہے غیبوں کا(116) نہیں کہا تھا میں نے ان سے مگر وہی کہ حکم دیا تھا تونے مجھے اس کا، یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی اور تھا میں ان پر نگران جب تک رہا میں ان میں ، پھر جب اٹھا لیا تونے مجھے تو تھا تو ہی نگہبان ان پراور تو ہر ایک چیز پر مطلع ہے(117) اگر عذاب دے تو ان کو تو بے شک وہ بندے ہیں تیرےاور اگر بخش دے ان کو تو بلاشبہ توہی ہے غالب حکمت والا(118) فرمائے گا اللہ! یہ دن ہے کہ نفع دے گا سچوں کو ان کا سچ، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے لیے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور راضی ہوئے وہ اس سے، یہی ہے کامیابی بڑی (119)اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان میں ہےاور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(120)

[120-111] یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القاء کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انھوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ’’ہم ایمان لائے، گواہ رہیے کہ ہم مسلمان ہیں ‘‘ پس انھوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے مراد انصار ہیں جیسا کہ جناب مسیح نے حواریوں سے فرمایا تھا ﴿ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾(آل عمران: 3؍52)’’اللہ کی راہ میں میرا مددگار کون ہے‘‘ حواریوں نے عرض کیا ’’ہم اللہ کے مددگار ہیں ۔‘‘﴿اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ هَلۡ يَسۡتَطِيۡعُ رَبُّكَ اَنۡ يُّنَزِّلَ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’جب حواریوں نے کہا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے کہ وہ ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتارے؟‘‘ یعنی ایسا دستر خوان جس پر کھانا لگا ہوا ہو۔۔۔ یہ مطالبہ اس بنا پر نہیں تھا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت میں کوئی شک تھا۔ بلکہ یہ درخواست تھی جو عرض اور ادب کے …

Al-Maaida 5:112Listen in Qur'an →
113

قَالُوا۟ نُرِيدُ أَن نَّأْكُلَ مِنْهَا وَتَطْمَئِنَّ قُلُوبُنَا وَنَعْلَمَ أَن قَدْ صَدَقْتَنَا وَنَكُونَ عَلَيْهَا مِنَ ٱلشَّٰهِدِينَ

وہ بولے کہ ہماری یہ خواہش ہے کہ ہم اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل تسلی پائیں اور ہم جان لیں کہ تم نے ہم سے سچ کہا ہے اور ہم اس (خوان کے نزول) پر گواہ رہیں

اور جب الہام کیا میں نے حواریوں کو یہ کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو کہا انھوں نے: ایمان لائے ہم اور گواہ رہ تو کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں (111) جب کہا حواریوں نے، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا طاقت رکھتا ہے تیرا رب یہ کہ نازل کرے ہم پر دسترخوان آسماں سے؟ کہا اس (عیسیٰ) نے ڈرو تم اللہ سے اگر ہو تم مومن(112) کہا انھوں نے چاہتے ہیں ہم یہ کہ کھائیں ہم اس میں سے اور مطمئن ہو جائیں ہمارے دل اور جان لیں ہم یہ کہ سچ کہا تونے ہم سےاور ہو جائیں ہم اس پر شہادت دینے والوں میں سے(113) کہا عیسیٰ ابن مریم نے، اے اللہ! اے ہمارے رب! نازل فرما ہم پر دسترخوان آسمان سے، کہ بن جائے وہ عید ہمارے پہلوں اور ہمارے بعد والوں کے لیےاور نشانی تیری طرف سےاور رزق دے ہمیں اور تو بہترین رزق دینے والا ہے(114) فرمایا اللہ نے: بے شک میں نازل کروں گا وہ تم پر، پھر جو شخص کفر کرے گا بعد اس کے تم میں سے تو بالضرور میں عذاب دوں گا اس کو ایسا کہ نہیں عذاب دوں گا میں ویسا کسی اور کو، جہانوں میں سے (115)اور جب کہے گا اللہ: اے عیسیٰ ابن مریم! کیا کہا تھا تونے لوگوں کو کہ بنا لو مجھے اور میری ماں کو دو معبود سوائے اللہ کے؟ تو کہے گا وہ (عیسیٰ) پاک ہے تو، نہیں لائق تھا میرے کہ کہوں میں وہ بات جس کا نہیں مجھے حق۔ اگر ہوں میں کہ کہی ہے میں نے یہ بات تو یقینا جانتا ہے تو اس کو تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور نہیں جانتا میں جو تیرے دل میں ہے۔ بلاشبہ توہی خوب جاننے والا ہے غیبوں کا(116) نہیں کہا تھا میں نے ان سے مگر وہی کہ حکم دیا تھا تونے مجھے اس کا، یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی اور تھا میں ان پر نگران جب تک رہا میں ان میں ، پھر جب اٹھا لیا تونے مجھے تو تھا تو ہی نگہبان ان پراور تو ہر ایک چیز پر مطلع ہے(117) اگر عذاب دے تو ان کو تو بے شک وہ بندے ہیں تیرےاور اگر بخش دے ان کو تو بلاشبہ توہی ہے غالب حکمت والا(118) فرمائے گا اللہ! یہ دن ہے کہ نفع دے گا سچوں کو ان کا سچ، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے لیے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور راضی ہوئے وہ اس سے، یہی ہے کامیابی بڑی (119)اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان میں ہےاور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(120)

[120-111] یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القاء کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انھوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ’’ہم ایمان لائے، گواہ رہیے کہ ہم مسلمان ہیں ‘‘ پس انھوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے مراد انصار ہیں جیسا کہ جناب مسیح نے حواریوں سے فرمایا تھا ﴿ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾(آل عمران: 3؍52)’’اللہ کی راہ میں میرا مددگار کون ہے‘‘ حواریوں نے عرض کیا ’’ہم اللہ کے مددگار ہیں ۔‘‘﴿اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ هَلۡ يَسۡتَطِيۡعُ رَبُّكَ اَنۡ يُّنَزِّلَ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’جب حواریوں نے کہا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے کہ وہ ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتارے؟‘‘ یعنی ایسا دستر خوان جس پر کھانا لگا ہوا ہو۔۔۔ یہ مطالبہ اس بنا پر نہیں تھا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت میں کوئی شک تھا۔ بلکہ یہ درخواست تھی جو عرض اور ادب کے …

Al-Maaida 5:113Listen in Qur'an →
114

قَالَ عِيسَى ٱبْنُ مَرْيَمَ ٱللَّهُمَّ رَبَّنَآ أَنزِلْ عَلَيْنَا مَآئِدَةًۭ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ تَكُونُ لَنَا عِيدًۭا لِّأَوَّلِنَا وَءَاخِرِنَا وَءَايَةًۭ مِّنكَ ۖ وَٱرْزُقْنَا وَأَنتَ خَيْرُ ٱلرَّٰزِقِينَ

(تب) عیسیٰ بن مریم نے دعا کی کہ اے ہمارے پروردگار! ہم پر آسمان سے خوان نازل فرما کہ ہمارے لیے (وہ دن) عید قرار پائے یعنی ہمارے اگلوں اور پچھلوں (سب) کے لیے اور وہ تیری طرف سے نشانی ہو اور ہمیں رزق دے تو بہتر رزق دینے والا ہے

اور جب الہام کیا میں نے حواریوں کو یہ کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو کہا انھوں نے: ایمان لائے ہم اور گواہ رہ تو کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں (111) جب کہا حواریوں نے، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا طاقت رکھتا ہے تیرا رب یہ کہ نازل کرے ہم پر دسترخوان آسماں سے؟ کہا اس (عیسیٰ) نے ڈرو تم اللہ سے اگر ہو تم مومن(112) کہا انھوں نے چاہتے ہیں ہم یہ کہ کھائیں ہم اس میں سے اور مطمئن ہو جائیں ہمارے دل اور جان لیں ہم یہ کہ سچ کہا تونے ہم سےاور ہو جائیں ہم اس پر شہادت دینے والوں میں سے(113) کہا عیسیٰ ابن مریم نے، اے اللہ! اے ہمارے رب! نازل فرما ہم پر دسترخوان آسمان سے، کہ بن جائے وہ عید ہمارے پہلوں اور ہمارے بعد والوں کے لیےاور نشانی تیری طرف سےاور رزق دے ہمیں اور تو بہترین رزق دینے والا ہے(114) فرمایا اللہ نے: بے شک میں نازل کروں گا وہ تم پر، پھر جو شخص کفر کرے گا بعد اس کے تم میں سے تو بالضرور میں عذاب دوں گا اس کو ایسا کہ نہیں عذاب دوں گا میں ویسا کسی اور کو، جہانوں میں سے (115)اور جب کہے گا اللہ: اے عیسیٰ ابن مریم! کیا کہا تھا تونے لوگوں کو کہ بنا لو مجھے اور میری ماں کو دو معبود سوائے اللہ کے؟ تو کہے گا وہ (عیسیٰ) پاک ہے تو، نہیں لائق تھا میرے کہ کہوں میں وہ بات جس کا نہیں مجھے حق۔ اگر ہوں میں کہ کہی ہے میں نے یہ بات تو یقینا جانتا ہے تو اس کو تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور نہیں جانتا میں جو تیرے دل میں ہے۔ بلاشبہ توہی خوب جاننے والا ہے غیبوں کا(116) نہیں کہا تھا میں نے ان سے مگر وہی کہ حکم دیا تھا تونے مجھے اس کا، یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی اور تھا میں ان پر نگران جب تک رہا میں ان میں ، پھر جب اٹھا لیا تونے مجھے تو تھا تو ہی نگہبان ان پراور تو ہر ایک چیز پر مطلع ہے(117) اگر عذاب دے تو ان کو تو بے شک وہ بندے ہیں تیرےاور اگر بخش دے ان کو تو بلاشبہ توہی ہے غالب حکمت والا(118) فرمائے گا اللہ! یہ دن ہے کہ نفع دے گا سچوں کو ان کا سچ، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے لیے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور راضی ہوئے وہ اس سے، یہی ہے کامیابی بڑی (119)اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان میں ہےاور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(120)

[120-111] یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القاء کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انھوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ’’ہم ایمان لائے، گواہ رہیے کہ ہم مسلمان ہیں ‘‘ پس انھوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے مراد انصار ہیں جیسا کہ جناب مسیح نے حواریوں سے فرمایا تھا ﴿ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾(آل عمران: 3؍52)’’اللہ کی راہ میں میرا مددگار کون ہے‘‘ حواریوں نے عرض کیا ’’ہم اللہ کے مددگار ہیں ۔‘‘﴿اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ هَلۡ يَسۡتَطِيۡعُ رَبُّكَ اَنۡ يُّنَزِّلَ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’جب حواریوں نے کہا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے کہ وہ ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتارے؟‘‘ یعنی ایسا دستر خوان جس پر کھانا لگا ہوا ہو۔۔۔ یہ مطالبہ اس بنا پر نہیں تھا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت میں کوئی شک تھا۔ بلکہ یہ درخواست تھی جو عرض اور ادب کے …

Al-Maaida 5:114Listen in Qur'an →
115

قَالَ ٱللَّهُ إِنِّى مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ ۖ فَمَن يَكْفُرْ بَعْدُ مِنكُمْ فَإِنِّىٓ أُعَذِّبُهُۥ عَذَابًۭا لَّآ أُعَذِّبُهُۥٓ أَحَدًۭا مِّنَ ٱلْعَٰلَمِينَ

خدا نے فرمایا میں تم پر ضرور خوان نازل فرماؤں گا لیکن جو اس کے بعد تم میں سے کفر کرے گا اسے ایسا عذاب دوں گا کہ اہل عالم میں کسی کو ایسا عذاب نہ دوں گا

اور جب الہام کیا میں نے حواریوں کو یہ کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو کہا انھوں نے: ایمان لائے ہم اور گواہ رہ تو کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں (111) جب کہا حواریوں نے، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا طاقت رکھتا ہے تیرا رب یہ کہ نازل کرے ہم پر دسترخوان آسماں سے؟ کہا اس (عیسیٰ) نے ڈرو تم اللہ سے اگر ہو تم مومن(112) کہا انھوں نے چاہتے ہیں ہم یہ کہ کھائیں ہم اس میں سے اور مطمئن ہو جائیں ہمارے دل اور جان لیں ہم یہ کہ سچ کہا تونے ہم سےاور ہو جائیں ہم اس پر شہادت دینے والوں میں سے(113) کہا عیسیٰ ابن مریم نے، اے اللہ! اے ہمارے رب! نازل فرما ہم پر دسترخوان آسمان سے، کہ بن جائے وہ عید ہمارے پہلوں اور ہمارے بعد والوں کے لیےاور نشانی تیری طرف سےاور رزق دے ہمیں اور تو بہترین رزق دینے والا ہے(114) فرمایا اللہ نے: بے شک میں نازل کروں گا وہ تم پر، پھر جو شخص کفر کرے گا بعد اس کے تم میں سے تو بالضرور میں عذاب دوں گا اس کو ایسا کہ نہیں عذاب دوں گا میں ویسا کسی اور کو، جہانوں میں سے (115)اور جب کہے گا اللہ: اے عیسیٰ ابن مریم! کیا کہا تھا تونے لوگوں کو کہ بنا لو مجھے اور میری ماں کو دو معبود سوائے اللہ کے؟ تو کہے گا وہ (عیسیٰ) پاک ہے تو، نہیں لائق تھا میرے کہ کہوں میں وہ بات جس کا نہیں مجھے حق۔ اگر ہوں میں کہ کہی ہے میں نے یہ بات تو یقینا جانتا ہے تو اس کو تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور نہیں جانتا میں جو تیرے دل میں ہے۔ بلاشبہ توہی خوب جاننے والا ہے غیبوں کا(116) نہیں کہا تھا میں نے ان سے مگر وہی کہ حکم دیا تھا تونے مجھے اس کا، یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی اور تھا میں ان پر نگران جب تک رہا میں ان میں ، پھر جب اٹھا لیا تونے مجھے تو تھا تو ہی نگہبان ان پراور تو ہر ایک چیز پر مطلع ہے(117) اگر عذاب دے تو ان کو تو بے شک وہ بندے ہیں تیرےاور اگر بخش دے ان کو تو بلاشبہ توہی ہے غالب حکمت والا(118) فرمائے گا اللہ! یہ دن ہے کہ نفع دے گا سچوں کو ان کا سچ، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے لیے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور راضی ہوئے وہ اس سے، یہی ہے کامیابی بڑی (119)اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان میں ہےاور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(120)

[120-111] یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القاء کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انھوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ’’ہم ایمان لائے، گواہ رہیے کہ ہم مسلمان ہیں ‘‘ پس انھوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے مراد انصار ہیں جیسا کہ جناب مسیح نے حواریوں سے فرمایا تھا ﴿ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾(آل عمران: 3؍52)’’اللہ کی راہ میں میرا مددگار کون ہے‘‘ حواریوں نے عرض کیا ’’ہم اللہ کے مددگار ہیں ۔‘‘﴿اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ هَلۡ يَسۡتَطِيۡعُ رَبُّكَ اَنۡ يُّنَزِّلَ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’جب حواریوں نے کہا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے کہ وہ ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتارے؟‘‘ یعنی ایسا دستر خوان جس پر کھانا لگا ہوا ہو۔۔۔ یہ مطالبہ اس بنا پر نہیں تھا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت میں کوئی شک تھا۔ بلکہ یہ درخواست تھی جو عرض اور ادب کے …

Al-Maaida 5:115Listen in Qur'an →
116

وَإِذْ قَالَ ٱللَّهُ يَٰعِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ ءَأَنتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ ٱتَّخِذُونِى وَأُمِّىَ إِلَٰهَيْنِ مِن دُونِ ٱللَّهِ ۖ قَالَ سُبْحَٰنَكَ مَا يَكُونُ لِىٓ أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِى بِحَقٍّ ۚ إِن كُنتُ قُلْتُهُۥ فَقَدْ عَلِمْتَهُۥ ۚ تَعْلَمُ مَا فِى نَفْسِى وَلَآ أَعْلَمُ مَا فِى نَفْسِكَ ۚ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّٰمُ ٱلْغُيُوبِ

اور (اس وقت کو بھی یاد رکھو) جب خدا فرمائے گا کہ اے عیسیٰ بن مریم! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا مجھے اور میری والدہ کو معبود مقرر کرو؟ وہ کہیں گے کہ تو پاک ہے مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں اگر میں نے ایسا کہا ہوگا تو تجھ کو معلوم ہوگا (کیونکہ) جو بات میرے دل میں ہے تو اسے جانتا ہے اور جو تیرے ضمیر میں ہے اسے میں نہیں جانتا بےشک تو علاّم الغیوب ہے

اور جب الہام کیا میں نے حواریوں کو یہ کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو کہا انھوں نے: ایمان لائے ہم اور گواہ رہ تو کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں (111) جب کہا حواریوں نے، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا طاقت رکھتا ہے تیرا رب یہ کہ نازل کرے ہم پر دسترخوان آسماں سے؟ کہا اس (عیسیٰ) نے ڈرو تم اللہ سے اگر ہو تم مومن(112) کہا انھوں نے چاہتے ہیں ہم یہ کہ کھائیں ہم اس میں سے اور مطمئن ہو جائیں ہمارے دل اور جان لیں ہم یہ کہ سچ کہا تونے ہم سےاور ہو جائیں ہم اس پر شہادت دینے والوں میں سے(113) کہا عیسیٰ ابن مریم نے، اے اللہ! اے ہمارے رب! نازل فرما ہم پر دسترخوان آسمان سے، کہ بن جائے وہ عید ہمارے پہلوں اور ہمارے بعد والوں کے لیےاور نشانی تیری طرف سےاور رزق دے ہمیں اور تو بہترین رزق دینے والا ہے(114) فرمایا اللہ نے: بے شک میں نازل کروں گا وہ تم پر، پھر جو شخص کفر کرے گا بعد اس کے تم میں سے تو بالضرور میں عذاب دوں گا اس کو ایسا کہ نہیں عذاب دوں گا میں ویسا کسی اور کو، جہانوں میں سے (115)اور جب کہے گا اللہ: اے عیسیٰ ابن مریم! کیا کہا تھا تونے لوگوں کو کہ بنا لو مجھے اور میری ماں کو دو معبود سوائے اللہ کے؟ تو کہے گا وہ (عیسیٰ) پاک ہے تو، نہیں لائق تھا میرے کہ کہوں میں وہ بات جس کا نہیں مجھے حق۔ اگر ہوں میں کہ کہی ہے میں نے یہ بات تو یقینا جانتا ہے تو اس کو تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور نہیں جانتا میں جو تیرے دل میں ہے۔ بلاشبہ توہی خوب جاننے والا ہے غیبوں کا(116) نہیں کہا تھا میں نے ان سے مگر وہی کہ حکم دیا تھا تونے مجھے اس کا، یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی اور تھا میں ان پر نگران جب تک رہا میں ان میں ، پھر جب اٹھا لیا تونے مجھے تو تھا تو ہی نگہبان ان پراور تو ہر ایک چیز پر مطلع ہے(117) اگر عذاب دے تو ان کو تو بے شک وہ بندے ہیں تیرےاور اگر بخش دے ان کو تو بلاشبہ توہی ہے غالب حکمت والا(118) فرمائے گا اللہ! یہ دن ہے کہ نفع دے گا سچوں کو ان کا سچ، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے لیے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور راضی ہوئے وہ اس سے، یہی ہے کامیابی بڑی (119)اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان میں ہےاور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(120)

[120-111] یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القاء کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انھوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ’’ہم ایمان لائے، گواہ رہیے کہ ہم مسلمان ہیں ‘‘ پس انھوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے مراد انصار ہیں جیسا کہ جناب مسیح نے حواریوں سے فرمایا تھا ﴿ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾(آل عمران: 3؍52)’’اللہ کی راہ میں میرا مددگار کون ہے‘‘ حواریوں نے عرض کیا ’’ہم اللہ کے مددگار ہیں ۔‘‘﴿اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ هَلۡ يَسۡتَطِيۡعُ رَبُّكَ اَنۡ يُّنَزِّلَ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’جب حواریوں نے کہا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے کہ وہ ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتارے؟‘‘ یعنی ایسا دستر خوان جس پر کھانا لگا ہوا ہو۔۔۔ یہ مطالبہ اس بنا پر نہیں تھا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت میں کوئی شک تھا۔ بلکہ یہ درخواست تھی جو عرض اور ادب کے …

Al-Maaida 5:116Listen in Qur'an →
117

مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَآ أَمَرْتَنِى بِهِۦٓ أَنِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ رَبِّى وَرَبَّكُمْ ۚ وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًۭا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ ۖ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى كُنتَ أَنتَ ٱلرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنتَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ شَهِيدٌ

میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تو نے مجھے حکم دیا ہے وہ یہ کہ تم خدا کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا پروردگار ہے اور جب تک میں ان میں رہا ان (کے حالات) کی خبر رکھتا رہا جب تو نے مجھے دنیا سے اٹھا لیا تو تو ان کا نگران تھا اور تو ہر چیز سے خبردار ہے

اور جب الہام کیا میں نے حواریوں کو یہ کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو کہا انھوں نے: ایمان لائے ہم اور گواہ رہ تو کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں (111) جب کہا حواریوں نے، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا طاقت رکھتا ہے تیرا رب یہ کہ نازل کرے ہم پر دسترخوان آسماں سے؟ کہا اس (عیسیٰ) نے ڈرو تم اللہ سے اگر ہو تم مومن(112) کہا انھوں نے چاہتے ہیں ہم یہ کہ کھائیں ہم اس میں سے اور مطمئن ہو جائیں ہمارے دل اور جان لیں ہم یہ کہ سچ کہا تونے ہم سےاور ہو جائیں ہم اس پر شہادت دینے والوں میں سے(113) کہا عیسیٰ ابن مریم نے، اے اللہ! اے ہمارے رب! نازل فرما ہم پر دسترخوان آسمان سے، کہ بن جائے وہ عید ہمارے پہلوں اور ہمارے بعد والوں کے لیےاور نشانی تیری طرف سےاور رزق دے ہمیں اور تو بہترین رزق دینے والا ہے(114) فرمایا اللہ نے: بے شک میں نازل کروں گا وہ تم پر، پھر جو شخص کفر کرے گا بعد اس کے تم میں سے تو بالضرور میں عذاب دوں گا اس کو ایسا کہ نہیں عذاب دوں گا میں ویسا کسی اور کو، جہانوں میں سے (115)اور جب کہے گا اللہ: اے عیسیٰ ابن مریم! کیا کہا تھا تونے لوگوں کو کہ بنا لو مجھے اور میری ماں کو دو معبود سوائے اللہ کے؟ تو کہے گا وہ (عیسیٰ) پاک ہے تو، نہیں لائق تھا میرے کہ کہوں میں وہ بات جس کا نہیں مجھے حق۔ اگر ہوں میں کہ کہی ہے میں نے یہ بات تو یقینا جانتا ہے تو اس کو تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور نہیں جانتا میں جو تیرے دل میں ہے۔ بلاشبہ توہی خوب جاننے والا ہے غیبوں کا(116) نہیں کہا تھا میں نے ان سے مگر وہی کہ حکم دیا تھا تونے مجھے اس کا، یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی اور تھا میں ان پر نگران جب تک رہا میں ان میں ، پھر جب اٹھا لیا تونے مجھے تو تھا تو ہی نگہبان ان پراور تو ہر ایک چیز پر مطلع ہے(117) اگر عذاب دے تو ان کو تو بے شک وہ بندے ہیں تیرےاور اگر بخش دے ان کو تو بلاشبہ توہی ہے غالب حکمت والا(118) فرمائے گا اللہ! یہ دن ہے کہ نفع دے گا سچوں کو ان کا سچ، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے لیے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور راضی ہوئے وہ اس سے، یہی ہے کامیابی بڑی (119)اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان میں ہےاور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(120)

[120-111] یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القاء کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انھوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ’’ہم ایمان لائے، گواہ رہیے کہ ہم مسلمان ہیں ‘‘ پس انھوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے مراد انصار ہیں جیسا کہ جناب مسیح نے حواریوں سے فرمایا تھا ﴿ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾(آل عمران: 3؍52)’’اللہ کی راہ میں میرا مددگار کون ہے‘‘ حواریوں نے عرض کیا ’’ہم اللہ کے مددگار ہیں ۔‘‘﴿اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ هَلۡ يَسۡتَطِيۡعُ رَبُّكَ اَنۡ يُّنَزِّلَ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’جب حواریوں نے کہا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے کہ وہ ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتارے؟‘‘ یعنی ایسا دستر خوان جس پر کھانا لگا ہوا ہو۔۔۔ یہ مطالبہ اس بنا پر نہیں تھا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت میں کوئی شک تھا۔ بلکہ یہ درخواست تھی جو عرض اور ادب کے …

Al-Maaida 5:117Listen in Qur'an →
118

إِن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۖ وَإِن تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ

اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر بخش دے تو (تیری مہربانی ہے) بےشک تو غالب اور حکمت والا ہے

اور جب الہام کیا میں نے حواریوں کو یہ کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو کہا انھوں نے: ایمان لائے ہم اور گواہ رہ تو کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں (111) جب کہا حواریوں نے، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا طاقت رکھتا ہے تیرا رب یہ کہ نازل کرے ہم پر دسترخوان آسماں سے؟ کہا اس (عیسیٰ) نے ڈرو تم اللہ سے اگر ہو تم مومن(112) کہا انھوں نے چاہتے ہیں ہم یہ کہ کھائیں ہم اس میں سے اور مطمئن ہو جائیں ہمارے دل اور جان لیں ہم یہ کہ سچ کہا تونے ہم سےاور ہو جائیں ہم اس پر شہادت دینے والوں میں سے(113) کہا عیسیٰ ابن مریم نے، اے اللہ! اے ہمارے رب! نازل فرما ہم پر دسترخوان آسمان سے، کہ بن جائے وہ عید ہمارے پہلوں اور ہمارے بعد والوں کے لیےاور نشانی تیری طرف سےاور رزق دے ہمیں اور تو بہترین رزق دینے والا ہے(114) فرمایا اللہ نے: بے شک میں نازل کروں گا وہ تم پر، پھر جو شخص کفر کرے گا بعد اس کے تم میں سے تو بالضرور میں عذاب دوں گا اس کو ایسا کہ نہیں عذاب دوں گا میں ویسا کسی اور کو، جہانوں میں سے (115)اور جب کہے گا اللہ: اے عیسیٰ ابن مریم! کیا کہا تھا تونے لوگوں کو کہ بنا لو مجھے اور میری ماں کو دو معبود سوائے اللہ کے؟ تو کہے گا وہ (عیسیٰ) پاک ہے تو، نہیں لائق تھا میرے کہ کہوں میں وہ بات جس کا نہیں مجھے حق۔ اگر ہوں میں کہ کہی ہے میں نے یہ بات تو یقینا جانتا ہے تو اس کو تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور نہیں جانتا میں جو تیرے دل میں ہے۔ بلاشبہ توہی خوب جاننے والا ہے غیبوں کا(116) نہیں کہا تھا میں نے ان سے مگر وہی کہ حکم دیا تھا تونے مجھے اس کا، یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی اور تھا میں ان پر نگران جب تک رہا میں ان میں ، پھر جب اٹھا لیا تونے مجھے تو تھا تو ہی نگہبان ان پراور تو ہر ایک چیز پر مطلع ہے(117) اگر عذاب دے تو ان کو تو بے شک وہ بندے ہیں تیرےاور اگر بخش دے ان کو تو بلاشبہ توہی ہے غالب حکمت والا(118) فرمائے گا اللہ! یہ دن ہے کہ نفع دے گا سچوں کو ان کا سچ، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے لیے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور راضی ہوئے وہ اس سے، یہی ہے کامیابی بڑی (119)اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان میں ہےاور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(120)

[120-111] یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القاء کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انھوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ’’ہم ایمان لائے، گواہ رہیے کہ ہم مسلمان ہیں ‘‘ پس انھوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے مراد انصار ہیں جیسا کہ جناب مسیح نے حواریوں سے فرمایا تھا ﴿ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾(آل عمران: 3؍52)’’اللہ کی راہ میں میرا مددگار کون ہے‘‘ حواریوں نے عرض کیا ’’ہم اللہ کے مددگار ہیں ۔‘‘﴿اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ هَلۡ يَسۡتَطِيۡعُ رَبُّكَ اَنۡ يُّنَزِّلَ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’جب حواریوں نے کہا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے کہ وہ ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتارے؟‘‘ یعنی ایسا دستر خوان جس پر کھانا لگا ہوا ہو۔۔۔ یہ مطالبہ اس بنا پر نہیں تھا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت میں کوئی شک تھا۔ بلکہ یہ درخواست تھی جو عرض اور ادب کے …

Al-Maaida 5:118Listen in Qur'an →
119

قَالَ ٱللَّهُ هَٰذَا يَوْمُ يَنفَعُ ٱلصَّٰدِقِينَ صِدْقُهُمْ ۚ لَهُمْ جَنَّٰتٌۭ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًۭا ۚ رَّضِىَ ٱللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا۟ عَنْهُ ۚ ذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ

خدا فرمائے گا کہ آج وہ دن ہے کہ راست بازوں کو ان کی سچائی ہی فائدہ دے گی ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ابدالآباد ان میں بستے رہیں گے خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں یہ بڑی کامیابی ہے

اور جب الہام کیا میں نے حواریوں کو یہ کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو کہا انھوں نے: ایمان لائے ہم اور گواہ رہ تو کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں (111) جب کہا حواریوں نے، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا طاقت رکھتا ہے تیرا رب یہ کہ نازل کرے ہم پر دسترخوان آسماں سے؟ کہا اس (عیسیٰ) نے ڈرو تم اللہ سے اگر ہو تم مومن(112) کہا انھوں نے چاہتے ہیں ہم یہ کہ کھائیں ہم اس میں سے اور مطمئن ہو جائیں ہمارے دل اور جان لیں ہم یہ کہ سچ کہا تونے ہم سےاور ہو جائیں ہم اس پر شہادت دینے والوں میں سے(113) کہا عیسیٰ ابن مریم نے، اے اللہ! اے ہمارے رب! نازل فرما ہم پر دسترخوان آسمان سے، کہ بن جائے وہ عید ہمارے پہلوں اور ہمارے بعد والوں کے لیےاور نشانی تیری طرف سےاور رزق دے ہمیں اور تو بہترین رزق دینے والا ہے(114) فرمایا اللہ نے: بے شک میں نازل کروں گا وہ تم پر، پھر جو شخص کفر کرے گا بعد اس کے تم میں سے تو بالضرور میں عذاب دوں گا اس کو ایسا کہ نہیں عذاب دوں گا میں ویسا کسی اور کو، جہانوں میں سے (115)اور جب کہے گا اللہ: اے عیسیٰ ابن مریم! کیا کہا تھا تونے لوگوں کو کہ بنا لو مجھے اور میری ماں کو دو معبود سوائے اللہ کے؟ تو کہے گا وہ (عیسیٰ) پاک ہے تو، نہیں لائق تھا میرے کہ کہوں میں وہ بات جس کا نہیں مجھے حق۔ اگر ہوں میں کہ کہی ہے میں نے یہ بات تو یقینا جانتا ہے تو اس کو تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور نہیں جانتا میں جو تیرے دل میں ہے۔ بلاشبہ توہی خوب جاننے والا ہے غیبوں کا(116) نہیں کہا تھا میں نے ان سے مگر وہی کہ حکم دیا تھا تونے مجھے اس کا، یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی اور تھا میں ان پر نگران جب تک رہا میں ان میں ، پھر جب اٹھا لیا تونے مجھے تو تھا تو ہی نگہبان ان پراور تو ہر ایک چیز پر مطلع ہے(117) اگر عذاب دے تو ان کو تو بے شک وہ بندے ہیں تیرےاور اگر بخش دے ان کو تو بلاشبہ توہی ہے غالب حکمت والا(118) فرمائے گا اللہ! یہ دن ہے کہ نفع دے گا سچوں کو ان کا سچ، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے لیے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور راضی ہوئے وہ اس سے، یہی ہے کامیابی بڑی (119)اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان میں ہےاور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(120)

[120-111] یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القاء کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انھوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ’’ہم ایمان لائے، گواہ رہیے کہ ہم مسلمان ہیں ‘‘ پس انھوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے مراد انصار ہیں جیسا کہ جناب مسیح نے حواریوں سے فرمایا تھا ﴿ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾(آل عمران: 3؍52)’’اللہ کی راہ میں میرا مددگار کون ہے‘‘ حواریوں نے عرض کیا ’’ہم اللہ کے مددگار ہیں ۔‘‘﴿اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ هَلۡ يَسۡتَطِيۡعُ رَبُّكَ اَنۡ يُّنَزِّلَ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’جب حواریوں نے کہا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے کہ وہ ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتارے؟‘‘ یعنی ایسا دستر خوان جس پر کھانا لگا ہوا ہو۔۔۔ یہ مطالبہ اس بنا پر نہیں تھا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت میں کوئی شک تھا۔ بلکہ یہ درخواست تھی جو عرض اور ادب کے …

Al-Maaida 5:119Listen in Qur'an →
120

لِلَّهِ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا فِيهِنَّ ۚ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۢ

آسمان اور زمین اور جو کچھ ان (دونوں) میں ہے سب پر خدا ہی کی بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

اور جب الہام کیا میں نے حواریوں کو یہ کہ ایمان لاؤ مجھ پر اور میرے رسول پر تو کہا انھوں نے: ایمان لائے ہم اور گواہ رہ تو کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں (111) جب کہا حواریوں نے، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا طاقت رکھتا ہے تیرا رب یہ کہ نازل کرے ہم پر دسترخوان آسماں سے؟ کہا اس (عیسیٰ) نے ڈرو تم اللہ سے اگر ہو تم مومن(112) کہا انھوں نے چاہتے ہیں ہم یہ کہ کھائیں ہم اس میں سے اور مطمئن ہو جائیں ہمارے دل اور جان لیں ہم یہ کہ سچ کہا تونے ہم سےاور ہو جائیں ہم اس پر شہادت دینے والوں میں سے(113) کہا عیسیٰ ابن مریم نے، اے اللہ! اے ہمارے رب! نازل فرما ہم پر دسترخوان آسمان سے، کہ بن جائے وہ عید ہمارے پہلوں اور ہمارے بعد والوں کے لیےاور نشانی تیری طرف سےاور رزق دے ہمیں اور تو بہترین رزق دینے والا ہے(114) فرمایا اللہ نے: بے شک میں نازل کروں گا وہ تم پر، پھر جو شخص کفر کرے گا بعد اس کے تم میں سے تو بالضرور میں عذاب دوں گا اس کو ایسا کہ نہیں عذاب دوں گا میں ویسا کسی اور کو، جہانوں میں سے (115)اور جب کہے گا اللہ: اے عیسیٰ ابن مریم! کیا کہا تھا تونے لوگوں کو کہ بنا لو مجھے اور میری ماں کو دو معبود سوائے اللہ کے؟ تو کہے گا وہ (عیسیٰ) پاک ہے تو، نہیں لائق تھا میرے کہ کہوں میں وہ بات جس کا نہیں مجھے حق۔ اگر ہوں میں کہ کہی ہے میں نے یہ بات تو یقینا جانتا ہے تو اس کو تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور نہیں جانتا میں جو تیرے دل میں ہے۔ بلاشبہ توہی خوب جاننے والا ہے غیبوں کا(116) نہیں کہا تھا میں نے ان سے مگر وہی کہ حکم دیا تھا تونے مجھے اس کا، یہ کہ عبادت کرو تم اللہ کی، میرے رب اور اپنے رب کی اور تھا میں ان پر نگران جب تک رہا میں ان میں ، پھر جب اٹھا لیا تونے مجھے تو تھا تو ہی نگہبان ان پراور تو ہر ایک چیز پر مطلع ہے(117) اگر عذاب دے تو ان کو تو بے شک وہ بندے ہیں تیرےاور اگر بخش دے ان کو تو بلاشبہ توہی ہے غالب حکمت والا(118) فرمائے گا اللہ! یہ دن ہے کہ نفع دے گا سچوں کو ان کا سچ، ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ بہتی ہیں ان کے لیے نہریں ، ہمیشہ رہیں گے وہ ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور راضی ہوئے وہ اس سے، یہی ہے کامیابی بڑی (119)اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی اور جو کچھ ان میں ہےاور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے(120)

[120-111] یعنی میری اس نعمت کو یاد رکھیے جس سے میں نے تجھ کو نوازا اور تجھ کو انصار و اعوان اور متبعین مہیا کیے۔ پس میں نے حواریوں کی طرف وحی کی، یعنی ان کو الہام کیا اور میں نے ان کے دلوں میں القاء کیا کہ وہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لائیں یا تیری زبان پر میں نے ان کی طرف وحی کی یعنی میں نے ان کو اس وحی کے ذریعے سے حکم دیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے پاس آئی۔ انھوں نے اس وحی پر لبیک کہا، اس کی اطاعت کی اور کہا ’’ہم ایمان لائے، گواہ رہیے کہ ہم مسلمان ہیں ‘‘ پس انھوں نے ظاہری اسلام، اعمال صالحہ اور باطنی ایمان کو جو مومن کو نفاق اور ضعف ایمان کے دائرے سے خارج کرتا ہے، جمع کیا۔ حواریوں سے مراد انصار ہیں جیسا کہ جناب مسیح نے حواریوں سے فرمایا تھا ﴿ مَنۡ اَنۡصَارِيۡۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰهِ ﴾(آل عمران: 3؍52)’’اللہ کی راہ میں میرا مددگار کون ہے‘‘ حواریوں نے عرض کیا ’’ہم اللہ کے مددگار ہیں ۔‘‘﴿اِذۡ قَالَ الۡحَوَارِيُّوۡنَ يٰعِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ هَلۡ يَسۡتَطِيۡعُ رَبُّكَ اَنۡ يُّنَزِّلَ عَلَيۡنَا مَآىِٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ ﴾ ’’جب حواریوں نے کہا، اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تیرا رب طاقت رکھتا ہے کہ وہ ہم پر آسمان سے بھرا ہوا خوان اتارے؟‘‘ یعنی ایسا دستر خوان جس پر کھانا لگا ہوا ہو۔۔۔ یہ مطالبہ اس بنا پر نہیں تھا کہ انھیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت میں کوئی شک تھا۔ بلکہ یہ درخواست تھی جو عرض اور ادب کے …

Al-Maaida 5:120Listen in Qur'an →

Commentary: Tafsir As-Sa'di by 'Abd al-Rahman al-Sa'di. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.