Muslim99Muslim99
← Tafsir library

5. Al-Maaida

The Table · Medinan · 120 ayahs

سُورَةُ المَائـِدَةِ

Reading Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi

Ayahs 111–120 of 120

111

وَإِذْ أَوْحَيْتُ إِلَى ٱلْحَوَارِيِّۦنَ أَنْ ءَامِنُوا۟ بِى وَبِرَسُولِى قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا وَٱشْهَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ

اور جب میں نے حواریوں کی طرف حکم بھیجا کہ مجھ پر اور میرے پیغمبر پر ایمان لاؤ وہ کہنے لگے کہ (پروردگار) ہم ایمان لائے تو شاہد رہیو کہ ہم فرمانبردار ہیں

خلاصہ تفسیر - اور جب کہ میں نے حواریین کو (انجیل میں تمہاری زبانی) حکم دیا کہ تم مجھ پر اور میرے رسول (عیسیٰ علیہ السلام) پر ایمان لاؤ انہوں نے (جواب میں تم سے) کہا کہ ہم (خدا اور رسول یعنی آپ پر) ایمان لائے اور آپ شاہد رہئے کہ ہم (خدا کے اور آپ کے) پورے فرمانبردار ہیں، وہ وقت یاد رکھنے کے قابل ہے جب کہ حواریین نے (حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے) عرض کیا کہ اے عیسیٰ ابن مریم (علیہم السلام) کیا آپ کے رب ایسا کرسکتے ہیں (یعنی کوئی امر مثل خلاف حکمت ہونے وغیرہ کے اس سے مانع تو نہیں) کہ ہم پر آسمان سے کچھ کھانا (پکا پکایا) نازل فرمادیں آپ نے فرمایا کہ خدا سے ڈرو اگر تم ایمان دار ہو (مطلب یہ کہ تم تو ایمان دار ہو اس لئے خدا سے ڈرو اور معجزات کی فرمائش سے کہ بےضرورت ہونے کی وجہ سے خلاف ادب ہے بچو) وہ بولے کہ (ہمارا مقصود بےضرورت فرمائش کرنا نہیں ہے، بلکہ ایک مصلحت سے اس کی درخواست کرتے ہیں وہ یہ کہ) ہم (ایک تو) یہ چاہتے ہیں کہ (برکت حاصل کرنے کو) اس میں سے کھائیں اور (دوسرے یہ چاہتے ہیں کہ) ہمارے دلوں کو (ایمان پر) پورا اطمینان ہوجاوے اور (مطلب اطمینان کا یہ ہے کہ) ہمارا یقین اور بڑھ جاوے کہ آپ نے (دعویٰ رسالت میں) ہم سے سچ بولا ہے (کیونکہ جس قدر دلائل بڑھتے جاتے ہیں دعوے کا یقین بڑھتا جاتا ہے) اور (تیسرے یہ چاہتے ہیں کہ) ہم (ان لوگوں کے سامنے جنہوں نے یہ معجزہ نہیں دیکھا) گواہی دینے والوں میں سے ہوجاویں (کہ ہم نے ایسا معجزہ دیکھا ہے تاکہ ان کے سامنے اثبات رسالت کرسکیں، اور ان کی ہدایت کا یہ ذریعہ بن جاوے) عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) نے (جب دیکھا کہ اس درخواست میں ان کی غرض صحیح ہے تو حقیقتاً اللہ تعالیٰ سے) دعا کی کہ اے اللہ ہمارے پروردگار ہم پر آسمان سے کھانا نازل فرمائیے کہ وہ (مائدہ) ہمارے لئے یعنی ہم میں جو اوّل (یعنی موجودہ زمانہ میں) ہیں اور جو بعد (کے زمانہ میں آنے والے) ہیں، سب کے لئے ایک خوشی کی بات ہوجاوے (حاضرین کی خوشی تو کھانے سے اور درخواست قبول ہونے سے اور بعد والوں کی خوشی اپنے سلف پر انعام ہونے سے، اور یہ غایت تو خاص ہے مؤمنین کے ساتھ) اور (میری پیغمبری پر) آپ کی طرف سے ایک نشان ہوجائے، (کہ مؤمنین کا یقین بڑھ جاوے اور منکرین حاضرین یا غائبین پر حجت ہوجاوے اور یہ مقصد مؤمنین وغیرہ سب کے لئے عام ہے) اور آپ ہم کو (وہ مائدہ) عطا فرمائیے، اور آپ سب عطا کرنے والوں سے اچھے ہیں (کیونکہ سب کا دینا اپنے نفع کے لئے اور آپ کا دینا مخلوق کے نفع کے لئے ہے، اس لئے ہم اپنے منافع کو پیش کرکے آپ سے مائدہ کی درخواست کرتے ہیں) حق تعالیٰ نے (جواب میں) ارشاد فرمایا کہ (آپ لوگوں سے کہہ دیجئے کہ) میں وہ کھانا (آسمان سے) تم لوگوں پر نازل کرنے والا ہوں پھر جو شخص تم میں سے اس کے بعد (اس کی) ناحق شناسی کرے گا (یعنی اس کے حقوق واجبہ عقلاً و نقلاً ادا نہ کرے گا) تو میں اس کو ایسی سزا دوں گا کہ وہ سزا (اس وقت کے) جہان والوں میں سے کسی کو نہ دوں گا

Al-Maaida 5:111Listen in Qur'an →
112

إِذْ قَالَ ٱلْحَوَارِيُّونَ يَٰعِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ هَلْ يَسْتَطِيعُ رَبُّكَ أَن يُنَزِّلَ عَلَيْنَا مَآئِدَةًۭ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ ۖ قَالَ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

(وہ قصہ بھی یاد کرو) جب حواریوں نے کہا کہ اے عیسیٰ بن مریم! کیا تمہارا پروردگار ایسا کر سکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے (طعام کا) خوان نازل کرے؟ انہوں نے کہا کہ اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا سے ڈرو

معارف و مسائل - مومن کو معجزات کا مطالعہ نہیں کرنا چاہئے - (قولہ تعالی) قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤ ْمِنِيْنَ جب حواریوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) سے آسمان سے مائدہ کے اترنے کا مطالبہ کیا تو آپ نے جواب میں فرمایا کہ اگر تم ایمان دار ہو تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، اس سے معلوم ہوا کہ ایمان دار بندہ کو لائق نہیں کہ وہ اس قسم کی فرمائشیں کرکے خدا کو آزمائے، اور اس سے خرق عادت کی چیزوں کا مطالبہ کرے، بلکہ اس کو چاہئے کہ روزی وغیرہ کو انہی ذرائع سے طلب کرے جو قدرت نے مقرر کر رکھے ہیں۔

Al-Maaida 5:112Listen in Qur'an →
113

قَالُوا۟ نُرِيدُ أَن نَّأْكُلَ مِنْهَا وَتَطْمَئِنَّ قُلُوبُنَا وَنَعْلَمَ أَن قَدْ صَدَقْتَنَا وَنَكُونَ عَلَيْهَا مِنَ ٱلشَّٰهِدِينَ

وہ بولے کہ ہماری یہ خواہش ہے کہ ہم اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل تسلی پائیں اور ہم جان لیں کہ تم نے ہم سے سچ کہا ہے اور ہم اس (خوان کے نزول) پر گواہ رہیں

Explained together with ayah 112

Al-Maaida 5:113Listen in Qur'an →
114

قَالَ عِيسَى ٱبْنُ مَرْيَمَ ٱللَّهُمَّ رَبَّنَآ أَنزِلْ عَلَيْنَا مَآئِدَةًۭ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ تَكُونُ لَنَا عِيدًۭا لِّأَوَّلِنَا وَءَاخِرِنَا وَءَايَةًۭ مِّنكَ ۖ وَٱرْزُقْنَا وَأَنتَ خَيْرُ ٱلرَّٰزِقِينَ

(تب) عیسیٰ بن مریم نے دعا کی کہ اے ہمارے پروردگار! ہم پر آسمان سے خوان نازل فرما کہ ہمارے لیے (وہ دن) عید قرار پائے یعنی ہمارے اگلوں اور پچھلوں (سب) کے لیے اور وہ تیری طرف سے نشانی ہو اور ہمیں رزق دے تو بہتر رزق دینے والا ہے

جب نعمت غیر معمولی بڑی ہو تو ناشکری کا وبال بھی بڑا ہوتا ہے - (قولہ تعالی) فَاِنِّىْٓ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّآ اُعَذِّبُهٗٓ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جب نعمت غیر معمولی اور نرالی ہوگی تو اس کی شکر گزاری کی تاکید بھی معمولی سے بہت بڑھ کر ہونی چاہئے، اور ناشکری پر عذاب بھی غیر معمولی اور نرالا آئے گا۔- مائدہ آسمان سے نازل ہوا تھا یا نہیں ؟ اس بارے میں مفسرین حضرات کا اختلاف ہے جمہور نزول کے قائل ہیں، چناچہ ترمذی کی حدیث میں عمار بن یاسر (رض) سے منقول ہے کہ مائدہ آسمان سے نازل ہوا، اس میں روٹی اور گوشت تھا، اور اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ ان لوگوں نے (یعنی بعض نے) خیانت کی، اور اگلے دن کے لئے اٹھا کر رکھا، پس بندر اور خنزیر کی صورت میں مسخ ہوئے (نعوذ باللہ من غضب اللہ)- اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس میں سے کھاتے بھی تھے، جیسا ناکل میں ان کی یہ غرض بھی مذکور ہے، البتہ آگے کے لئے رکھ لینا ممنوع تھا۔ (بیان القرآن)

Al-Maaida 5:114Listen in Qur'an →
115

قَالَ ٱللَّهُ إِنِّى مُنَزِّلُهَا عَلَيْكُمْ ۖ فَمَن يَكْفُرْ بَعْدُ مِنكُمْ فَإِنِّىٓ أُعَذِّبُهُۥ عَذَابًۭا لَّآ أُعَذِّبُهُۥٓ أَحَدًۭا مِّنَ ٱلْعَٰلَمِينَ

خدا نے فرمایا میں تم پر ضرور خوان نازل فرماؤں گا لیکن جو اس کے بعد تم میں سے کفر کرے گا اسے ایسا عذاب دوں گا کہ اہل عالم میں کسی کو ایسا عذاب نہ دوں گا

Explained together with ayah 114

Al-Maaida 5:115Listen in Qur'an →
116

وَإِذْ قَالَ ٱللَّهُ يَٰعِيسَى ٱبْنَ مَرْيَمَ ءَأَنتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ ٱتَّخِذُونِى وَأُمِّىَ إِلَٰهَيْنِ مِن دُونِ ٱللَّهِ ۖ قَالَ سُبْحَٰنَكَ مَا يَكُونُ لِىٓ أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِى بِحَقٍّ ۚ إِن كُنتُ قُلْتُهُۥ فَقَدْ عَلِمْتَهُۥ ۚ تَعْلَمُ مَا فِى نَفْسِى وَلَآ أَعْلَمُ مَا فِى نَفْسِكَ ۚ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّٰمُ ٱلْغُيُوبِ

اور (اس وقت کو بھی یاد رکھو) جب خدا فرمائے گا کہ اے عیسیٰ بن مریم! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا مجھے اور میری والدہ کو معبود مقرر کرو؟ وہ کہیں گے کہ تو پاک ہے مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں اگر میں نے ایسا کہا ہوگا تو تجھ کو معلوم ہوگا (کیونکہ) جو بات میرے دل میں ہے تو اسے جانتا ہے اور جو تیرے ضمیر میں ہے اسے میں نہیں جانتا بےشک تو علاّم الغیوب ہے

خلاصہ تفسیر - اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جبکہ اللہ تعالیٰ (قیامت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے کفار نصاریٰ کے سنانے کے لئے) فرمائیں گے کہ اے عیسیٰ ابن مریم (ان لوگوں میں جن کا عقیدہ تثلیث کا تھا، یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم (علیہما السلام) کو شریک الوہیت مانتے تھے تو) کیا تم نے ان لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ مجھ کو (یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کو) اور میری ماں (حضرت مریم علیہما السلام) کو بھی علاوہ خدا کے معبود قرار دے دو تو عیسیٰ (علیہ السلام) عرض کریں گے کہ (توبہ توبہ) میں تو (خود اپنے عقیدہ میں) آپ کو (شریک سے) منزّہ سمجھتا ہوں (جیسا کہ آپ واقع میں بھی منزّہ (پاک) ہیں ایسی حالت میں) مجھ کو کسی طرح زیبا نہ تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کے کہنے کا مجھ کو کوئی حق نہیں (نہ باعتبار اپنے عقیدے کے کہ میں موحّد یعنی ایک خدا کا قائل ہوں اور نہ باعتبار پیغامِ الٓہی پہنچانے کے کہ مجھ کو ایسا کوئی پیغام نہیں دیا گیا تھا، اور دلیل میری اس نہ کہنے کی یہ ہے کہ) اگر میں نے (واقع میں) کہا ہوگا تو آپ کو اس کا (یقینا) علم ہوگا (مگر جب آپ کے علم میں بھی میں نے نہیں کہا تو واقع میں بھی نہیں کہا اور کہنے کی صورت میں آپ کو اس کا علم ہونا اس لئے ضروری ہے کہ) آپ تو میرے دل کے اندر کی بات بھی جانتے ہیں (تو جو زبان سے کہتا اس کا علم تو کیوں نہ ہوتا) اور میں (تو مثل دیگر مخلوقات کے اتنا عاجز ہوں کہ) آپ کے علم میں جو کچھ ہے اس کو (بدون آپ کے بتلائے ہوئے) نہیں جانتا (جیسے دیگر مخلوقات کا بھی یہی حال ہے پس) تمام غیبوں کے جاننے والے آپ ہی ہیں (سو جب اپنا اس قدر عجز اور آپ کا کمال مجھ کو معلوم ہے تو الوہیت میں شرکت کا دعویٰ کیسے کرسکتا ہوں، یہاں تک تو اس بات کے کہنے کی نفی ہوئی، آگے اس کی نقیض کے کہنے کا اثبات ہے کہ) میں نے تو ان سے (اور کچھ نہیں کہا، صرف وہی بات) جو آپ نے مجھ سے کہنے کو فرمایا تھا کہ تم اللہ تعالیٰ کی بندگی اختیار کرو جو میرا بھی رب ہے، اور تمہارا بھی رب ہے، اور (یہاں تک تو عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی حالت کے متعلق عرض کیا، آگے ان لوگوں کی حالت کے متعلق عرض کرتے ہیں کیونکہ ءَاَنْتَ قُلْتَ للنَّاسِ اتَّخِذُوْنِيْ میں گو تصریحاً تو سوال اس کا ہے کہ آپ نے ایسا کلمہ کہا ہے یا نہیں، لیکن اشارةً اس کا بھی سوال معلوم ہوتا ہے کہ یہ عقیدہ تثلیث کہاں سے پیدا ہوا پس عیسیٰ (علیہ السلام) اس باب میں یوں عرض کریں گے کہ) میں ان (کی حالت) پر مطلع رہا جب تک ان میں (موجود) رہا (سو اس وقت تک کا حال تو میں نے مشاہدہ کیا ہے اس کے متعلق بیان کرسکتا ہوں) پھر جب آپ نے مجھ کو اٹھا لیا (یعنی اوّل بار میں تو زندہ آسمان کی طرف اور دوسری بار میں وفات کے طور پر) تو (اس وقت صرف) آپ ان (کے احوال) پر مطلع رہے (اس وقت مجھ کو خبر نہیں کہ ان کی گمراہی کا سبب کیا ہوا اور کیونکر ہوا) اور آپ ہر چیز کی پوری خبر رکھتے ہیں (یہاں تک تو اپنا اور ان کا معاملہ عرض کیا آگے ان کے اور حق تعالیٰ کے معاملات کے متعلق عرض کرتے ہیں کہ) اگر آپ ان کو (اس عقیدہ پر) سزا دیں تو (جب بھی آپ مختار ہیں، کیونکہ) یہ آپ کے بندے ہیں (اور آپ ان کے مالک، اور مالک کو حق ہے کہ بندوں کو ان کے جرائم پر سزا دے) اور اگر آپ ان کو معاف فرما دیں تو (جب بھی آپ مختار ہیں کیونکہ) آپ زبردست (قدرت والے) ہیں (تو معافی پر بھی قادر ہیں اور) حکمت والے (بھی) ہیں (تو آپ کی معافی بھی حکمت کے موافق ہوگی، اس لئے اس میں بھی کوئی برائی نہیں ہوسکتی، مطلب یہ ہے کہ دونوں حال میں آپ مختار ہیں میں کچھ دخل نہیں دیتا)- (غرض عیسیٰ (علیہ السلام) نے معروض اوّل سُبْحٰنَكَ الخ میں اپنی تبرّی ان اہل تثلیث کے عقیدے سے اور اس کی تعلیم سے، دوسری عرض وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ الخ میں اپنی تبرّی ان کے اس عقیدہ کے مفصل سبب جاننے تک سے، اور عرض …

Al-Maaida 5:116Listen in Qur'an →
117

مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَآ أَمَرْتَنِى بِهِۦٓ أَنِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ رَبِّى وَرَبَّكُمْ ۚ وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًۭا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ ۖ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى كُنتَ أَنتَ ٱلرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنتَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ شَهِيدٌ

میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تو نے مجھے حکم دیا ہے وہ یہ کہ تم خدا کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا پروردگار ہے اور جب تک میں ان میں رہا ان (کے حالات) کی خبر رکھتا رہا جب تو نے مجھے دنیا سے اٹھا لیا تو تو ان کا نگران تھا اور تو ہر چیز سے خبردار ہے

Explained together with ayah 116

Al-Maaida 5:117Listen in Qur'an →
118

إِن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۖ وَإِن تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ

اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر بخش دے تو (تیری مہربانی ہے) بےشک تو غالب اور حکمت والا ہے

قولہ تعالیٰ اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ یعنی آپ اپنے بندوں پر ظلم اور بیجا سختی نہیں کرسکتے، اس لئے اگر ان کو سزا دیں گے تو عین عدل و حکمت پر مبنی ہوگی، اور فرض کیجئے معاف کردیں تو یہ معافی بھی ازراہ عجز نہ ہوگی، کیونکہ آپ عزیز (زبردست اور غالب) ہیں، اس لئے کوئی مجرم آپ کے قبضہ قدرت سے نکل کر بھاگ نہیں سکتا، کہ اس پر آپ قابو نہ پاسکیں، اور چونکہ حکیم (حکمت والے) ہیں، اس لئے یہ بھی ممکن نہیں کہ کسی مجرم کو یونہی بےموقع چھوڑ دیں، بہر حال جو فیصلہ آپ ان مجرمین کے حق میں کریں گے وہ بالکل حکیمانہ اور قادرانہ ہوگا۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) کا یہ کلام چونکہ محشر میں ہوگا جہاں کفار کے حق میں کوئی شفاعت اور استدعاء رحم وغیرہ نہیں ہو سکتی، اس لئے حضرت مسیح نے ” عزیر حکیم “ کی جگہ ” غفور رحیم “ وغیرہ صفات کو اختیار نہیں فرمایا، برخلاف اس کے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دنیا میں اپنے پروردگار سے عرض کیا تھا، (آیت) رب انھن اضللن ، (اے پروردگار ان بتوں نے بہت سے آدمیوں کو گمراہ کردیا تو جو ان میں سے میرے تابع ہوا وہ میرا آدمی ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو پھر تو غفور رحیم ہے) یعنی ابھی موقع ہے کہ تو اپنی رحمت سے آئندہ ان کو توبہ اور رجوع الی الحق کی توفیق دے کر پچھلے گناہوں کو معاف فرما دے (فوائد عثمانی) - ابن کثیر رحمة اللہ علیہ نے بروایت ابوذر (رض) نقل کیا ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک مرتبہ پوری رات ایک ہی آیت پڑھتے رہے، اور وہ آیت اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ ، ہے پھر جب صبح ہوئی تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ یہی آیت پڑھتے رہے، رکوع اسی سے اور سجدے اسی سے کرتے رہے، یہاں تک کہ صبح ہوگئی، تو فرمایا کہ میں نے اپنے پروردگار سے اپنے واسطے شفاعت کی درخواست کی تو مجھے عطا فرمائی، اور وہ انشاء اللہ تعالیٰ ملنے والی ہے، ایسے شخص کے واسطے جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کیا ہو۔ - دوسری روایت میں آتا ہے کہ آپ نے مذکورہ آیت پڑھ کر آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے اور کہا اللھم امتی یعنی میرے پاک پروردگار میری امت کی طرف نظر رحمت فرما، اور آپ رونے لگے، اس پر اللہ تعالیٰ نے بذریعہ جبرئیل امین رونے کی وجہ دریافت فرمائی، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبرئیل امین کو اپنے مذکورہ قول سے آگاہ کیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل سے فرمایا کہ پھر جاؤ اور (حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہہ دو کہ ہم عنقریب تیری امت کے بارے میں تم کو رضا مند کردیں گے، اور تم کو ناخوش نہ کریں گے۔

Al-Maaida 5:118Listen in Qur'an →
119

قَالَ ٱللَّهُ هَٰذَا يَوْمُ يَنفَعُ ٱلصَّٰدِقِينَ صِدْقُهُمْ ۚ لَهُمْ جَنَّٰتٌۭ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًۭا ۚ رَّضِىَ ٱللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا۟ عَنْهُ ۚ ذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ

خدا فرمائے گا کہ آج وہ دن ہے کہ راست بازوں کو ان کی سچائی ہی فائدہ دے گی ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ابدالآباد ان میں بستے رہیں گے خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں یہ بڑی کامیابی ہے

ربط آیات - اوپر دونوں رکوع میں قیامت کے دن اعمال و احوال کا حساب و کتاب اور سوال و جواب کا ذکر ہے، اب آگے اس تفتیش و محاسبہ کا نتیجہ ذکر کیا جاتا ہے۔- خلاصہ تفسیر - (ان تمام مکالمات مذکورہ کے بعد) اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے کہ یہ (قیامت کا دن) وہ دن ہے کہ جو لوگ (دنیا میں باعتبار عقائد و اعمال اور اقوال کے) سچے تھے (کہ وہ سچا ہونا اب ظاہر ہو رہا ہے، جن میں انبیاء جن سے خطاب ہو رہا ہے اور مومنین جن کے ایمان کی انبیاء و ملائکہ سب شہادت دیں گے، سب داخل ہیں، اور اس میں اشارہ تصدیق رسل و تصدیق عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف بھی ان مخاطبات میں ہوگیا، غرض یہ سب حضرات جو دنیا میں سچے تھے) ان کا سچا ہونا (آج) ان کے کام آوے گا (اور وہ کام آنا یہ ہے کہ) ان کو (جنت کے) باغ (رہنے کو) ملیں گے جن کے (محلات کے) نیچے نہریں جاری ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ کو رہیں گے (اور یہ نعمتیں ان کو کیوں نہ ملیں کیونکہ) اللہ تعالیٰ ان سے راضی اور خوش اور یہ اللہ تعالیٰ سے راضی اور خوش ہیں (اور جو شخص راضی ومرضی ہو اس کو ایسی ہی نعمتیں ملتی ہیں) یہ (جو کچھ مذکور ہوا) بڑی بھاری کامیابی ہے (کہ دنیا کی کوئی کامیابی اس کے برابر نہیں ہوسکتی) ۔- ربط آیات - اب سورت ختم ہونے کو ہے۔ پوری سورت میں کچھ اصولی اور فروعی احکام بیان ہوئے ہیں، اس لئے آخر میں یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ پوری کائنات کا مالک ہے، اس لئے اسے یہ احکام دینے کا حق ہے۔ اور بندوں کو یہ احکام پوری طرح ماننے چاہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتے ہیں وہ نافرمانی کی صورت میں سزا اور فرماں برداری کی صورت میں انعام دینے پر قادر ہیں۔ چناچہ فرمایا گیا اللہ ہی کی ہے سلطنت آسمانوں کی اور زمین کی، اور ان چیزوں کی جو ان (آسمانوں اور زمین) میں موجود ہیں، اور وہ ہر شے پر پوری قدرت رکھتے ہیں۔- معارف و مسائل - فائدہ :- قَال اللّٰهُ هٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصّٰدِقِيْنَ ، عام طور پر واقع کے مطابق قول کو صدق اور خلاف واقع کو کذب سمجھا جاتا ہے، لیکن قرآن و سنت سے معلوم ہوتا ہے کہ صدق و کذب عام ہے یعنی قول اور عمل دونوں کو شامل ہے، چناچہ اس حدیث میں خلاف واقع عمل کو کذب کہا گیا ہے، من تحلی بما لم یعط کان کلابس ثوبی زور۔ (مشکوۃ) ، ” یعنی اگر کوئی اپنے آپ کو ایسے زیور سے آراستہ کرے جو اس کو نہیں دیا گیا، یعنی کسی ایسی صفت یا عمل کا دعویٰ کرے جو اس میں نہیں ہے تو گویا اس نے جھوٹ کے دو کپڑے پہنے۔- ایک دوسری حدیث میں علانیہ اور تنہائی میں اچھی طرح نماز پڑھنے والے کو سچا بندہ کہا گیا ہے، ارشاد ہے :- ان العبد اذا صلی فی العلانیہ الخ۔- (ترجمہ) ” یعنی جو آدمی علانیہ اچھی طرح نماز پڑہتا ہے اور وہ تنہائی میں بھی اسی طرح ادا کرتا ہے تو ایسے آدمی کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ میرا سچ مچ بندہ ہے “۔- رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ ، یعنی اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے، ایک حدیث میں آتا ہے کہ جنت ملنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ بڑی نعمت یہ ہے کہ میں تم سے راضی ہوا اب کبھی تم پر ناراض نہ ہوں گا۔- ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ یعنی یہی بڑی کامیابی ہے، ظاہر ہے کہ اس سے بڑھ کر اور کیا کامیابی ہوگی کہ مالک و خالق جل جلالہ راضی ہیں۔- فللّٰہ الحمد اولہ واخرہ،

Al-Maaida 5:119Listen in Qur'an →
120

لِلَّهِ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا فِيهِنَّ ۚ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۢ

آسمان اور زمین اور جو کچھ ان (دونوں) میں ہے سب پر خدا ہی کی بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

Explained together with ayah 119

Al-Maaida 5:120Listen in Qur'an →

Commentary: Maarif-ul-Quran by Mufti Muhammad Shafi. Qur'an text and translation via AlQuran Cloud.