يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَسْـَٔلُوا۟ عَنْ أَشْيَآءَ إِن تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ وَإِن تَسْـَٔلُوا۟ عَنْهَا حِينَ يُنَزَّلُ ٱلْقُرْءَانُ تُبْدَ لَكُمْ عَفَا ٱللَّهُ عَنْهَا ۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌۭ
مومنو! ایسی چیزوں کے بارے میں مت سوال کرو کہ اگر (ان کی حقیقتیں) تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں بری لگیں اور اگر قرآن کے نازل ہونے کے ایام میں ایسی باتیں پوچھو گے تو تم پر ظاہر بھی کر دی جائیں گی (اب تو) خدا نے ایسی باتوں (کے پوچھنے) سے درگزر فرمایا ہے اور خدا بخشنے والا بردبار ہے
خلاصہ تفسیر - اے ایمان والو ایسی (فضول) باتیں مت پوچھو (جن میں احتمال ہو کہ) اگر تم سے ظاہر کردی جاویں تو تمہاری ناگواری کا سبب ہو (یعنی یہ احتمال ہو کہ جواب تمہاری منشاء کے خلاف آیا تو تمہیں ناگوار ہوگا) اور (جن میں یہ احتمال ہو کہ) اگر تم زمانہ نزول قرآن (اور وحی) میں ان باتوں کو پوچھو تو تم سے ظاہر کردی جاویں (یعنی سوال کرنے میں تو یہ دوسرا احتمال ہو کہ جواب مل جائے اور جواب ملنے میں وہ پہلا احتمال ہو کہ ناگوار گذرے، اور یہ دونوں احتمال جو مجموعی طور پر علّت نہی سوال کی ہیں واقعی ہیں پس ایسا سوال ممنوع ہے، خیر) سوالات گذشتہ (جو اس وقت تک کرچکے ہو وہ تو) اللہ تعالیٰ نے معاف کردیئے، (مگر آئندہ مت کرنا) اور اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والے ہیں (اس لئے گذشتہ سوالات معاف کردیئے اور) بڑے حلم والے ہی (اس لئے اگر آئندہ کے خلاف ورزی پر دنیا میں سزا نہ دے تو دھوکہ میں مت پڑجانا کہ آگے بھی کوئی عذاب و سزا نہ ہوگی) ایسی باتیں تم سے پہلے (زمانہ میں) اور (امتوں کے) لوگوں نے بھی (اپنے پیغمبروں سے) پوچھی تھیں پھر (ان کو جواب ملا تو) ان باتوں کا حق نہ بجالائے (یعنی ان جوابوں میں جو متعلق احکام کے تھے ان کے موافق عمل نہ کیا، اور جو متعلق واقعات کے تھے ان سے متاثر نہ ہوئے، پس کہیں تم کو بھی ایسی ہی نوبت نہ پیش آئے، اس لئے بہتری اسی میں ہے کہ ایسے سوالات چھوڑ دو ) اللہ تعالیٰ نے نہ بحیرہ کو مشروع کیا ہے اور نہ سائبہ کو اور نہ وصیلہ کو اور نہ حامی کو لیکن جو لوگ کافر ہیں وہ (ان رسوم کے باب میں) اللہ تعالیٰ پر جھوٹ لگاتے ہیں (کہ خدا تعالیٰ ان اعمال سے خوش ہیں) اور اکثر کافر (دین کی) عقل نہیں رکھتے اور (اس سے کام نہیں لیتے بلکہ محض اپنے بڑوں کی دیکھا دیکھی ایسی جہالتیں کرتے ہیں) ۔- معارف و مسائل - بے ضرورت سوال کرنے کی ممانعت - ان آیات میں اس بات پر تنبیہ کی گئی ہے کہ بعض لوگوں کو احکام الٓہیہ میں بلاضرورت تدقیق اور بال کی کھال نکالنے کا شوق ہوتا ہے، اور جو احکام نہیں دیئے گئے ان کے متعلق بغیر کسی داعیہ ضرورت کے سوالات کیا کرتے ہیں، اس آیت میں ان کو یہ ہدایت دی گئی کہ وہ ایسے سوالات نہ کریں جن کے نتیجہ میں ان پر کوئی مشقت پڑجائے یا ان کو خفیہ رازوں کے اظہار سے رسوائی ہو۔ - شان نزول - ان آیات کا شان نزول مسلم کی روایت کے مطابق یہ ہے کہ جب حج کی فرضیت نازل ہوئی تو اقرع بن حابس (رض) نے سوال کیا کہ کیا ہر سال ہمارے ذمہ حج فرض ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے سوال کا جواب نہ دیا، تو مکرر سوال کیا، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر بھی سکوت فرمایا، انہوں نے تیسری مرتبہ پھر سوال کیا، تو اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عتاب کے ساتھ تنبیہ فرمائی کہ اگر میں تمہارے جواب میں یہ کہہ دیتا کہ ہاں ہر سال حج فرض ہے تو ایسا ہی ہوجاتا اور پھر تم اس کو پورا نہ کرسکتے، اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ جن چیزوں کے متعلق میں تمہیں کوئی حکم نہ دوں ان کو اسی طرح رہنے دو ، ان میں کھود کرید کر کے سوالات نہ کرو، تم سے پہلے بعض امتیں اسی کثرت سوال کے ذریعہ ہلاک ہوچکی ہیں، کہ جو چیزیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرض نہیں کی تھیں سوال کر کر کے ان کو فرض کرا لیا، اور پھر اس کی خلاف ورزی میں مبتلا ہوگئے، تمہارا وظیفہ یہ ہونا چاہئے کہ جس کام کا میں حکم دوں اس کو مقدور بھر پورا کرو اور جس چیز سے منع کردوں اس کو چھوڑ دو (مراد یہ ہے کہ جن چیزوں سے سکوت کیا جائے ان کے متعلق کھود کرید نہ کرو) ۔ - آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد نبوت اور سلسلہ وحی ختم ہے - اس آیت میں ایک ضمنی جملہ یہ بھی ارشاد فرمایا گیا کہ وَاِنْ تَسْــــَٔـلُوْا عَنْهَا حِيْنَ يُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ ۭعَفَا اللّٰهُ عَنْهَا ۭ، یعنی نزول قرآن کے زمانہ میں …